Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Lambiyan Ne Rahwan Ishq Diya Episode 17

Lambiyan Ne Rahwan Ishq Diya by Mirha Khan

اس کی چھٹی حس نے خطرے کا سگنل دیا۔۔ سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں اس نے ماہ بیر کو دیکھا جو مسکرا کر ایک بوڑھے شخص سے مل رہا تھا۔۔

مقابل شخص کو بھی شاید خطرے کا احساس ہوا تھا۔۔ اس نے پھرتی سے جیب سے چھپا ہوا ریوالور نکالا۔۔ اور سیكنڈ کے ہزارویں حصے میں ماہ بیر پر تان ٹریگر دبا دیا۔۔

صالح چیخا تھا۔۔ اس نے خوف سے ماہ بیر کو دیکھتے اسے اپنی اوڑھ کھینچا تھا۔۔ اسکے دل نے شدت سے خواہش کی کہ کاش وقت یہیں رک جائے۔۔ دل کے مقام پر لگنے والی گو***لی صالح کے بروقت کھینچنے پر ماہ بیر کا بازو چیرتی چلی گئی۔۔

سفید قمیض فوراً سرخ ہوئی تھی۔۔ ماہ بیر آنکھیں میچے بے اختیار کراہا۔۔ صالح نے اسکی ڈھال بنتے پھرتی سے کمر کی پچھلی جانب پینٹ کی پاکٹ میں رکھا پسٹل نکالا اور مجمع چیر کر بھاگتے ہوئے اس شخص کی کمر کا نشانہ لیا۔۔

اسکی گولی ٹھیک نشانے پر لگتی مقابل کو موقع پر ہی ہلاک کر گئی۔۔ لوگوں میں بھگدر مچ گئی۔۔ گولیوں کی آوازوں سے لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔۔

جبار گاڑی نکالو جلدی!!! وه جیب سے رومال نکالتا ماہ بیر کے بازو پر زور سے باندھتا شور کے باعث زور سے داڑھا تھا۔۔ ماہبیر نے درد کی شدت سے زور سے ہونٹ بھینچے تھے۔۔ جبار بجلی کی سی تیزی سے بھاگتا گاڑی لے آیا۔۔ گارڈز کی مدد سے صالح نے ماہ بیر کو گاڑی میں بٹھایا اور خود ڈرائیونگ سیٹ سنبهالتا فل سپیڈ سے گاڑی دوڑانے لگا۔۔

دوسرے نقاب پوش نے اپنے بھائی کی لاش کے پاس آتے نفرت سے ان کی پشت کو دیکھا تھا۔۔ تم اسکا بدلہ ضرور چکاؤ گے صالح یوسف!!! وه اپنے بھائی کی بے جان آنکھوں کو بند کرتا آگ اگلتے لہجے میں پھنکارا تھا۔۔

ہسپتال کے کاریڈور میں چکر لگاتا وه موبائل پر کسی سے بات کررہا تھا۔۔ اس نے ہسپتال آتے ہی عبدالله شاہ کو کال کر کے صورتحال کے بارے میں مطلع کر دیا تھا۔۔ وه شہر سے باہر تھے۔۔ اور کچھ دیر میں پہنچنے والے تھے۔۔ فون کے زریعے وه یوسف سے رابطے میں تھے تا کہ ماہ بیر کی حالت کے بارے میں آگاہ رہیں۔۔

وه موبائل پاكٹ میں رکھتا دیوار کے ساتھ نصب بنچ پر بیٹھ کر کنپٹی دبانے لگا۔۔ یہ کوئی چھوٹی بات تو نہیں تھی ۔۔ غصے کی شدت سے اسکی گردن کی رگیں پھول گئیں۔۔

ماہ بیر کہاں ہے؟ کیسا ہے وه!!! عارفہ چادر سے نقاب کئے تیزی سے اس تک آئی تھیں۔۔ نقاب سے جھانکتی انکی آنکھیں نم تھیں۔۔

صالح نے سر اٹھایا تو سامنے انہیں پا کر اٹھ کھڑا ہوا۔۔ ساتھ ہی اسکی نگاہ ان کے پیچھے کھڑی مشائم پر پڑی جو سیاہ عبائے میں نقاب کئے اسکے دیکھنے پر نظروں کا زاویہ موڑ گئی تھی۔۔

ڈاکٹر نے گو***لی نکال کر پٹی کردی ہے۔۔ شکر ہے زیادہ خون نہیں نکلا۔۔ ابھی وه انجیکشن کے زیر اثر سو رہے ہیں۔۔ آپ پریشان نہ ہوں۔۔ ایک دو دن تک چھٹی مل جائے گی۔۔” وه سر جھکا کر دھیمے لہجے میں بولا تھا۔۔

بیٹا کیا ہم مل سکتے ہیں اس سے میرا دل ہول رہا ہے جب تک میں اپنے ماہ بیر کو دیکھ نہیں لیتی مجھے سکون نہیں آئے گا!! وه بے چینی سے بولیں تو وه سر ہلاتا انہیں ایک کمرے میں لے آیا۔۔۔

ان کے اندر جانے کے بعد وه دروازه بند کرتا دیوار سے کمر ٹکا کر کھڑا ہوگیا۔۔ اندر دیکھو تو عارفہ ماہ بیر کا ماتھا چوم کر منہ پر ہاتھ رکھے رونے لگی تھیں۔۔ میرا بچہ!! کیا حالت ہو گئی ہے میرے بچے کی۔۔ مشائم بھی ضبط کھوتی اسکا ہاتھ پکڑ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تھی۔۔

بھائی اٹھیں نہ میں نہیں ناراض اب آپ سے۔۔ بہت پیار کرتی ہوں میں آپ سے ۔۔ ٹھیک ہوجائیں آپ۔۔ اب کبھی آپ سے ناراض نہیں ہوں گی میں پرامس!! وه اس کا ہاتھ پیشانی سے لگاتی روتے ہوئے بولتی جارہی تھی۔۔

ہاں وه ناراض تھی اس سے لیکن بہت محبت کرتی تھی اس سے۔۔ اسے اس حالت میں دیکھ کر اسکا دل بے حد دکھ رہا تھا۔۔

باہر صالح نے اسکے رونے کی آواز سن کر آنکھیں کھولی تھیں۔۔ وه روئے یا ہنسے مجھے کیا!! سر جھٹک کر وه جیب سے دواؤں کی پرچی نکالتا مطلوبہ دوائیاں لینے کے لیے ہسپتال سے منسلک میڈیکل سٹور چلا گیا۔۔

چہرے کو سیاہ نقاب سے ڈھکے وه محتاط انداز میں چلتی ہوئی پی سی او میں داخل ہوئی۔۔ ٹیلی فون کا ریسیور اٹھا کر اس نے ایک نمبر ڈائیل کیا اور دوسری جانب سے کال اٹھائے جانے کا انتظار کرنے لگی ۔۔۔

جب دوسری جانب سے کال اٹھا لی گئی تو اس کی آنکھوں کی سردمہری مزید بڑھ گئی۔۔ دوسری جانب موجود اورہان نے موبائل کان سے لگایا۔۔۔

کون بول رہا ہے ؟؟ دوسری جانب سے مسلسل خاموشی پاکر وہ کوفت سے بولا۔۔ کون ؟ اس نے پھر سے دہرایا۔۔۔

تمہاری موت !! مقابل کی سرد آواز پر اس نے فون کان سے ہٹا کر دوبارہ دیکھا تھا۔۔ کیا بکواس ہے یہ۔۔ وه غصے کی شدت سے گرجا تھا۔۔۔

بکواس نہیں حقیقت ہے یہ !! بہت اڑ لئے ہوا میں ۔۔۔ اب تمہارے گناہوں کے حساب کا وقت آ گیا ہے۔۔ مقابل کے سرد ٹھٹھرا دینے والے لہجے پر اس کی گردن میں گلٹی ابھری۔۔ کیسی نفرت کی

پھنکار تھی۔۔۔

خود کو نارمل کرتے اس نے کچھ سخت کہنے کے لئے منہ کھولا ہی تھا کہ دوسری جانب سے ٹھک سے ریسیور رکھ دیا گیا۔۔

فون رکھ کر وه پی سی او سے باہر نکلی۔۔ نقاب درست کرتی وه تیز تیز چلنے لگی۔۔ رکشہ رکوا کر وه اس میں بیٹھتی اسلام آباد ڈیفنس تک آئی۔۔ یہ لو بھائی!! دو سو کا نوٹ اسے تهما کر وه نقاب اتار کر اپنے آپ کو نارمل کرتی بنگلے کے گیٹ سے اندر آئی۔۔

لان میں رشید مالی کے ساتھ کھڑا گپ شپ لگا رہا تھا۔۔ وه بھی اسی طرف چلی آئی۔۔ کیا بات ہورہی تھی؟ ان دونوں کو خاموش ہوتے دیکھ کر وه پوچھنے لگی۔۔

رشید نے ارد گرد دیکھا آیا کہ کوئی اور ملازم تو نہیں وہاں۔۔ ہم صاحب کی بہن کے بارے میں بات کررہے تھے۔۔!! وه اینارا کو دیکھتا رازداری سے بولا تو وه چونک کر اسے دیکھنے لگی۔۔ کیوں کیا ہوا اسکی بہن کو؟؟

مالی نے رشید کو آنکھ سے اشارہ کیا۔۔ مالی بابا آپ بے فکر رہیں یہ کسی کو نہیں بتائے گی۔۔ رشید نے ان کو تسلی دی۔۔ اینارا پرتجسس نگاہوں سے کبھی رشید کو تو کبھی مالی بابا کو دیکھتی۔۔

پتہ ہے صاحب کی بہن اچانک غائب ہوگئی ہے۔۔ کچھ اتا پتہ نہیں۔۔ کچھ کہتے ہیں بھاگ گئی ہے ، کچھ کہتے انہوں نے رات کو اس گھر سے چیخوں کی آوازیں سنی تھیں۔۔ اب رب جانے حقیقت کیا ہے!! وه سرگوشی میں بولا۔۔

وه تو سناٹے میں رہ گئی۔۔ کیا واقعی مکافات عمل ہوتا ہے؟ بغیر کچھ کہے وه چپ چاپ اندر چلی آئی۔۔ بہت اچھا ہوا تمہارے ساتھ تم اسی قابل ہو!! تمہارے ساتھ اس سے بھی برا ہونا چاہیے اور یہ نیک کام میں اپنے ہاتھوں سے کروں گی!! وہ نفرت سے سوچتی کچن میں چلی آئی۔۔

اینارا یہ صاحب کو دے آؤ میں ذرا مصروف ہوں نہیں تو خود دے آتی!! ملازمہ جلدی جلدی کھانا تیار کرتی ہوئی بولی۔۔

لائیں!! وہ ٹرے تھامتی ہوئی باہر آئی جس میں فروٹس اور جوس کا گلاس رکھا تھا۔۔ وه سیڑھیاں چڑھتی اوپر آئی۔۔ اسکے کمرے کا دروازه ناک کر کے وه اندر آئی تو دیکھا کہ وه بیڈ پر نیم دراز انكهیں موندے پڑا تھا۔۔

سر!! وه ہلکی آواز میں بولی۔۔ اورهان ماتھے پر بل ڈالے اٹھ بیٹھا۔۔ آئندہ ناک کئے بغیر میرے کمرے میں نہ آنا!! وه اسے وارننگ دیتی نظروں سے دیکھنے لگا۔۔

سفید ٹی شرٹ اور بلیو جینز میں سرخ آنکھوں سے اسے دیکھتا وه اسے خوف میں مبتلا کر گیا سس۔۔سو۔ری!!! وه سر جھکا کر بولی اور چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی بیڈ پر اس کے سامنے ٹرے رکھ کر پیچھے ہٹی۔۔

اورهان کا دماغ گھوما۔۔ کیا تمہارے فرشتے فروٹس کاٹیں گے؟؟ وه غصے سے اسے گھور کر بولا تو کانپتے ہاتھوں سے آگے بڑھی اور پنجوں کے بل بیٹھ کر چھری تھامتی کانپتے ہاتھوں سے فروٹس کے ٹکرے کرنے لگی۔۔

اورهان بلا مقصد اسے دیکھنے لگا۔۔ گڑیا جیسی بڑی بڑی آنکھوں پر کانپتی گهنیری پلکیں، بھینچے ہوئے گلابی ہونٹ، سرخ و سپید رنگت۔۔ وه اسے بے ضرر اور معصوم لگی تھی۔۔

اس کی نظروں کے ارتكاز پر اینارا کا دیهان بھٹکا اور اس کی انگلی پر کٹ لگ گیا۔۔ سس !! وه چھری ٹرے میں گراتی انگلی کو دیکھ کر رونا شروع ہوگئی جس سے گہرا کٹ لگنے کے باعث خون نکلنے لگا تھا۔۔

اورهان کو سمجھ نہ آیا کیا کرے!! ایسی صورتحال سے کبھی اسکا سامنا جو نہیں ہوا تھا۔۔ ادھر دکھاؤ!! وه ہاتھ بڑھا کر بولا تو وه نہ میں سر ہلاتی روتی ہوئی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔

میں نے کہا دکھاؤ مجھے!! وه سختی سے بولتا اسکا ہاتھ تھام کر بیڈ پر بٹھا گیا۔۔ گہرا کٹ لگا ہے!! اسکے زخم کا معائنہ کرتا وه اٹھا اور الماری سے فرسٹ ایڈ باكس نکال کر اسکے سامنے بیٹھتا اسکا ہاتھ تھام کر کاٹن سے خون صاف کرنے لگا۔۔

اینارا نے ہاتھ کھینچنا چاہا۔۔ اب اگر تم نے ہاتھ ہلایا تو میں تمہارا پورا ہاتھ کاٹ دوں گا!! وه درشتگی سے بولا تو وہ سہم کر مزاحمت ترک کر گئی۔۔

بینڈایج کر کے وه اٹھا تو وه بھی جلدی سے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔ اورهان نے اسکی بھیگی آنکھوں کو دیکھا۔۔ مم میں کاٹ دیتی ہوں!! وہ گھبرا کر پیچھے ہٹی۔۔

کیا۔۔ ہاتھ؟؟ وه مسکراتی نظروں سے اسے دیکھ کر بولا۔۔

کیوں۔۔۔ کیوں کاٹوں میں اپنا ہاتھ؟؟ وه اپنا ہاتھ پیچھے چھپاتی خفگی سے بولی۔۔ اس کی اس قدر معصومیت پر وه یک ٹک اسے دیکھنے لگا۔۔ کیا آج کے دور میں ایسی معصوم لڑکیاں بھی پائی جاتی ہیں۔۔؟ گہری سانس لیتا وه پیچھے ہٹا۔۔

ایک بات پوچھوں؟ اسے اچھے موڈ میں دیکھ کر وه معصومیت سے آنکھیں پٹپٹاتی بولی۔۔ سب کی زبانی اس نے یہی سنا تھا کہ اورهان بہت بدمزاج ہے اور غصہ تو اس کی ناک پر ہر وقت سوار رہتا ہے۔۔ لیکن اگر وه اسکے ساتھ نرمی کا رویہ اختیار کررہا ہے تو اسے ضرور اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔۔

پوچھو!! وه پینٹ کی پاكٹ میں ہاتھ ڈال کر گویا ہوا۔۔

وو۔۔ وه مجھے بتایا تھا رشید نے کہ آپ کی بہن بھی ہے۔۔ اتنے ۔۔۔ دن ۔۔ سے۔۔۔ میں یہاں ہوں ۔۔۔لیکن وه تو نظر ۔۔۔۔

چپ!!! اسکی بات مکمل ہونے سے قبل وه گرجا تھا۔۔ارشما کے ذکر پر اسکی آنکھیں لال انگارہ ہوئی تھیں۔۔ اینارا ڈر کر پیچھے ہٹتی بھیگی آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی۔۔

مم ۔ معاف ۔۔ کر دیں ۔۔۔ میں ۔۔۔۔ اسے روتے دیکھ کر اورهان نے گہرے سانس لیتے خود پر قابو کیا۔۔ گلاس میں پانی ڈالتا وه ایک سانس میں حلق سے نیچے اتار گیا۔۔

بیٹھو!! اسے صوفے پر بیٹھنے کا اشارہ کرتے اس نے کہنا شروع کیا۔۔ اینارا وه پہلی انسان تھی جسے میر اورهان صمید نے دل کی باتیں شیئر کرنے کا اراده کیا تھا۔۔ اور ایسا اس نے کیوں کیا تھا یہ وه خود بھی نہیں جانتا تھا۔۔

جب سے ماہ بیر ہسپتال سے گھر آیا تھا عیادت کے لیے آنے والوں کا تانتا بندها رہتا تھا۔۔ وه سب کی اتنی محبّت پا کر بے حد مشکور ہوا تھا۔۔ اسکی مشی نے بھی اسے معاف کردیا تھا اور اب تو وه پہلے سے بھی زیادہ اسکی پروا کرنے لگی تھی۔۔

اب بھی وہ گرم دودھ لے کر آئی تھی۔۔ بھائی جان کوئی بہانہ نہیں چلے گا چلیں اٹھیں مجھے پتہ ہے آپ جاگ رہے ہیں!! اسے فوراً آنکھیں بند کرتے دیکھ کر وه آنکھیں چھوٹی کر کے بولی۔

ہاں بھائی تمہیں تو سب پتہ چل جاتا ہے!! وه منہ بنا کر اٹھتا ہوا بولا تو وه کھلکھلا دی۔۔ یہ لیں جلدی سے فینیش کر لیں۔۔!!

یار مشی اکتا گیا ہوں میں مجھے نہیں پینا کوئی دودھ وودھ!! وه منہ بناتا بلکل کوئی بچہ لگا۔۔ اس نے بغیر بازو کے سی گرین ٹی شرٹ پہن رکھی تھی جس سے اسکے کسرتی بازو نمایاں ہورہے تھے۔۔ بائیں بازو پر پٹی بندھی ہوئی تھی۔۔

اسے یوں منہ بناتے دیکھ کر مشائم نے پیار سے اسکے گال کھینچے تو وه ہنس پڑا۔۔ یہ لیں میں اپنے ہاتھوں سے پلاتی ہوں آپ کو!! وه اسکے نہ نہ کرنے کا باوجود دودھ کا گلاس اسکے منہ سے لگا گئی۔۔

ماہ بیر نے سرمئی آنکھوں میں خفگی لیے اسے دیکھا تو منہ چڑا کر خالی گلاس پکڑتی کمرے سے چلی گئی۔۔

اس کے جانے کے بعد وه مدهم سا مسکرا دیا۔۔ موبائل کی رنگ ٹون پر وه متوجہ ہوا۔۔ ہیلو!! اس نے موبائل کان سے لگایا۔۔ حویلی کے باہر کھڑے ہو ؟ یار جھجھک کیوں رہے ہو؟ آ جاؤ اندر ۔۔ ہاں کوئی نہیں ہے کمرے میں۔۔ آ جاؤ۔۔ موبائل بند کر کے بیڈ پر ڈالتا وه نیم دراز ہوگیا۔۔

السلام علیکم !! بھوری شلوار قمیض کے ساتھ سیاہ شال اوڑھے وه سلام کرتا ہوا اندر آیا۔۔ وعلیکم السلام !! آؤ آؤ۔۔ کیسے ہو؟ وه نرمی سے مسکرا کر بولا۔۔

مجھے کیا ہونا ہے شاہ سائیں آپ بتائیں کیسی طبیعت ہے آپ کی؟ وه اس کے پاس بیڈ پر براجمان ہو کر بولا۔۔

بس یار پهسا ہوا ہوں!! امی جان نے مجھے کمرے تک محدود کر دیا ہے۔۔ روز روز کے پھیکے کھانے کھا کر جی اکتا گیا ہے۔۔ وه افسوس بھری نظروں سے اسے دیکھتا کہنے لگا۔۔

صالح کے مسكرنے پر وه اسے گھورنے لگا۔۔ بڑی ہنسی آ رہی ہے تمہیں یوسف صاحب؟

نہیں تو میں کہاں ہنس رہا ہوں؟ صالح صاف انکار کر گیا۔۔ آگے ہوتے ہاتھ بڑھا کر اس نے اسکا بازو پکڑ کر دیکھا۔۔ پیچھے ہٹ کر وه سینے پر ہاتھ باندھتا ماہ بیر کو مسکراتی نظروں سے دیکھنے لگا۔۔

کوئی اور یوں اسے مسکراتے دیکھتا تو حیرت سے بے ہوش نہ ہو جاتا۔۔ یوسف صاحب کے ماتھے کے بل غائب ہوں ۔۔۔ ایسے موقع شاز و نادر ہی آتے تھے۔۔ وه بھی اکثر تب جب وه ماہ بیر کے ساتھ ہوتا تھا۔۔

کیا؟؟ اسے یوں اپنی طرف تکتے پا کر ماہ بیر مشکوک نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔۔

سائیں۔۔۔۔ آپ شادی کر لیں!! داڑھی پر ہاتھ پھیرتا وه غیرسنجیده لہجے میں بولا۔۔

میری شادی کا خیال کیوں کر آگیا تمہارے زرخیز دماغ میں؟ ماہ بیر کے پوچھنے پر وه سیدھا ہو کر بیٹھا۔۔

“دیکھیں نہ آپ کی شادی کی عمر بھی ہوگئی ہے۔۔ اور ایسے مواقع پر بیوی زیادہ بہتر طریقوں سے خدمت کرتی ہے” اسکی بات کا مطلب سمجھتے ماہ بیر زوردار قہقہہ لگا گیا۔۔ صالح بھی دھیما سا ہنس دیا۔۔

اچھا یہی مشورہ میں تمہیں بھی دیتا ہوں،، تم بھی کیوں نہیں شادی کر لیتے۔ جتنا تم شادی کے ذکر سے بھاگتے ہو دیکھنا بیوی کے آتے ہی کیسے زن مرید بنو گے!! وه جو ہنس رہا تھا ماہ بیر کی بات سن کر برا سا منہ بنا گیا۔۔

“استغفراللّه!!” آپ ایسی امید نہ رکھیں مجھ سے۔۔ توپوں کا رخ اپنی جانب دیکھ کر وه سٹپٹا کر اٹھ گیا۔۔ اس نے وہاں سے نکلنے میں ہی عافیت جانی نہیں تو ماہ بیر تو اسکی ٹانگ کھینچنے کے موقعے ڈھونڈتا تھا۔۔

اچھا اب آپ آرام کریں۔۔میں پھر آؤں گا!! وه اسکا كندها تھپتهپا کر اٹھا۔۔

ہمیشہ ایسے ہی بھاگ جاتے ہو شادی کے ذکر پر۔۔!! ماہ بیر ہنوز شرارتی مسکراہٹ سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔

اوکے خدا حافظ!! ہاتھ ماتھے تک لے جا کر وه باہر نکل آیا۔۔ باہر آتے ہی وه مشائم سے ٹکراتے ٹکراتے بچا۔۔

مشائم نے فورا سے چہرے کو ڈھانپا تھا لیکن پھر بھی صالح اسکی ایک جهلک دیکھ چکا تھا۔۔ دونوں سرعت سے مڑے اور مخالف راستے پر چل پڑے۔۔

مشائم نے دل کے مقام پر ہاتھ رکھتے اپنی دھڑکنوں کو شمار کرنے کی کوشش کی۔۔ اس کے وجود کی مہک اسے اب بھی اپنے گرد محسوس ہورہی تھی۔۔

دوسری جانب صالح بھی عجیب كیفيت میں مبتلا ہوگیا۔۔