Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Lambiyan Ne Rahwan Ishq Diya Episode 11

Lambiyan Ne Rahwan Ishq Diya by Mirha Khan

سرد ٹھٹھرتی رات میں وه کھلے آسمان تلے بچھی چارپائی پر بازوؤں کا تکیہ بنائے چت لیٹا تھا۔۔ شرٹ سے بے نیاز وه جیسے اس وقت پتهر کا ہوا تھا جسے کسی چیز کی پرواہ نہیں تھی۔۔ وه جب سے آیا تھا خاموش تھا۔۔ انجم بول بول کر تھکتی تلملاتی جا چکی تھیں۔۔ آخر ان کی بات کا اسے اثر کہاں ہونا تھا۔۔

وه دوبارہ باہر آئیں اور اسے چادر تهما گئیں۔۔ اتنی ٹھنڈ میں وه بغیر قمیض کے کھلے آسمان تلے لیٹا تھا کچھ بھی ہو ماں تھیں وه اس لیے اسکے لئے فکرمند تھیں کہ کہیں بیمار نہ ہو جائے۔۔ ایک ہی تو اولاد تھی ان کی وه بھی رب نے چن کر دی تھی۔۔

ان کے جانے کے بعد اس نے چادر پیروں کی طرف پھینک دی۔۔ اور پھر سے چت لیٹ گیا۔۔ بازو سر کے نیچے رکھنے سے پھولے مسلز اور نماياں ہوئے تھے۔۔ کسرتی سینہ ٹھنڈ سے سرخ ہوا تھا۔۔

ماتھے پر لا پرواہ انداز میں بکھرے سیاہ سلكی گھنے بال جو ہلکی سرد ہوا سے اڑتے اور پھر اسکی پیشانی کو بوسہ دینے لگتے۔۔ ماتھے کے بل ہنوز قائم تھے۔۔ عنابی لب سختی سے آپس میں پیوست تھے۔۔

اس کی سیاہ سرد نگاہیں آسمان پر تیزی سے آگے جاتے گهپ سیاہ بادلوں پر مركوز تھیں۔۔ جبکہ ذہن میں ماہ بیر کی باتیں گردش کررہی تھیں۔۔

اس نے کنپٹی مسلی۔۔ اس نے ایسا کیوں کہا میرے بارے میں؟ جبکہ ہمارے درمیان ایسا کچھ نہیں ہے!!! اسے سوچ کر ہی عجیب لگا تھا۔۔

اس کی سیاہ سرد آنکھوں میں سرخی نمایاں ہوئی۔۔ آپ نے اچھا نہیں کیا بی بی بہت غلط کیا!! وه خیالات میں اس سے مخاطب ہوتا جبڑے بھینچے اٹھ بیٹھا۔۔

اس نے پیر نیچے اتار کر چپل پہنی اور وہیں کچھ فاصلے پر ٹہلنے لگا۔۔ محض ٹراؤزر زیب تن کیے وه رات کے اس پہر جب سب سو چکے تھے تنہا سرد فضا میں ٹہل رہا تھا۔۔ ہوا کے تهپیرے اس کے جسم پر پڑتے اس پتھر وجود کو ٹھٹھرا دینے کی کوشش میں ہلکان نظر آتے تھے۔۔

شاہ سائیں آپ تو جانتے تھے مجھے کئی برسوں کا ساتھ ہے ہمارا۔۔ آپ تو اپنے یوسف کی رگ رگ سے واقف تھے پھر کیوں کر آپ نے اتنی بڑی بات کہہ دی۔۔ اس کا دل وه سب یاد کرتے پھر سے چھلنی ہوا تھا۔۔

لیلائی شب بدلیوں کو اپنی بانہوں میں چھپاتی اپنی گهنیری معشوقی زلفیں کھولنے لگی تھی۔۔ وه پھر سے جا کر چارپائی پر لیٹ کر کروٹ پر کروٹ بدلنے لگا کیونکہ نیند تو اب اسے آنی نہیں تھی۔۔۔

ہاہاہاہا!!!! شراب کی بوتل ہاتھ میں تھامے وه قہقہے پر قہقہہ لگا رہا تھا۔۔ اسکی آنکھوں میں سر مستی تھی۔۔ ویل ڈن رانا ،،، ویل ڈن !!! اس نے اپنے آپ کو شاباشی دی۔۔

ہاہاہا کیسا بے وقوف بنایا تمہیں “میر اورهان صمید” تم دونوں کو آپس میں لڑوا دیا۔۔ اسے کہتے ہیں “چالباز کھلاڑی۔۔” اسکی آنکھیں چمکی تھیں۔۔

اب میں آرام سے بیٹھ کر تم دونوں کا تماشہ دیکھوں گا۔۔ میر ۔۔۔ اورهان ۔۔۔دی گریٹ !! وه پھر سے قہقہہ لگا گیا۔۔ تم کبھی جان ہی نہ پاؤ گے کہ تمہاری بہن کے ساتھ ہوا کیا ہے اور کیا کس نے ہے۔۔

شاطر پن سے مسکرا کر وه لہک لہک کر گاتا شراب کی بوتل منہ سے لگا گیا۔۔

وه کچن کا کام نبٹا کر ابھی ابھی فارغ ہوئی تھی۔۔ ہاتھ دھو کر دوپٹے سے پونچھ کر وه عادتاً پرانده جهلاتی ہوئی صحن میں آئی اور چاروں جانب کا جائزہ لیتی کمروں کی طرف جاتی راہداری پر آئی۔۔ ابھی وه آگے جاتی کہ مشائم کے کمرے کا دروازه کھلا۔۔

نرم و نازک گلابی ہاتھ باہر آیا اور اسے کھینچتا اندر لے گیا۔۔ نگہت نے دہل کر دل کے مقام پر ہاتھ رکھا۔۔۔

مشی بی بی یہ کیا تھا؟ آج تو آپ نے مجھے سیدھا اوپر پہنچا دینا تھا وہ بھی بغیر ٹکٹ کے۔۔

وه دروازه بند کرتی مشائم کو دیکھتی نان اسٹاپ شروع ہوگئی۔۔ مشائم پلٹی تو اسکی بھیگی آنکھوں کو دیکھ کر اس کے دل کو دھکا لگا۔۔

آپ رو کیوں رہی ہیں جی؟ مجھے سچ سچ بتائیں سب ٹھیک ہے نہ؟؟ وه تفكر سے اسے دیکھتے بولی۔۔۔

مشائم خاموشی سے اسے دیکھنے لگی۔۔ دفعتاً اسکی انکھوں سے آنسو قطرہ قطرہ گرنے لگے۔۔ میری مدد کردو پلیز!! وه روتی ہوئی اسکے سامنے ہاتھ جوڑ گئی۔۔۔

نگہت تو جیسے ہکا بكا رہ گئی۔۔۔یہ۔یہ کیا کررہی ہیں آپ ؟ادھر آئیں۔۔ بیٹھیں ۔۔۔ وه اسے لئے بیڈ پر بیٹھ گئی۔۔

“بی بی مجھے نہیں پتہ کہ ہوا کیا ہے لیکن آپ مجھ پر اعتبار کر سکتی ہیں۔۔” وه سچائی سے اسکی آنکھوں میں دیکھ کر بولی۔۔۔

کیا وه اس پر اعتبار کر سکتی تھی۔۔؟ دل نے اثبات میں جواب دیا تھا۔۔ مشائم نے مختصراً اسے سب بتا دیا۔۔

نگہت پہلے تو دنگ رہ گئی۔۔ پھر اس کے ہونٹ مسکراہٹ میں ڈھلے۔۔ “ہائے سچی مجھے تو یقین نہیں آ رہا آپ اور وه کھڑوس!!” اسکی بتیسی نکلی۔۔۔

“آہستہ بولو کوئی سن لے گا۔۔” مشائم نے اسے سرزنش کی تو وه زبان دانت تلے دبا گئی۔۔

“ساری ساری!!!”

پچھلے تین دنوں میں پہلی بار مشائم کے چہرے پر ہلکی سی مسكان نے چھب دکھلائی۔۔ “سوری” ہوتا ہے نگہت۔۔!!

وہی وہی ۔۔ نگہت نے لا پرواہی سے ہاتھ جھٹکا۔۔ اچھا بی بی اب مجھے یہ بتائیں میں آپ کی مدد کس طرح کر سکتی ہوں۔۔۔ وه سنجیدگی سے بولی۔۔

آج اپنی مشی بی بی کے لئے وه کچھ بھی کرنے کو تیار تھی آخر کو ان کا حق ہے ایسے کیسے زبردستی کر سکتے ہیں بڑے سائیں ان کے ساتھ اور ماہ بیر سائیں ہونہہ!!

کتنے سوہنے لگتے تھے مجھے آپ اب سے آپ پر سے میرا “كرس” ختم ۔۔ فینیسسسسس!!

“مجھے یوسف سے ملوا دو کسی طرح بھی۔۔۔” وه آس بھری آنکھوں سے اسے دیکھتی بولی۔۔

پہلے تو نگہت منع کرنے لگی کہ یہ خطرناک کام تھا کسی کو بھی بھنک لگ جاتی تو دونوں کا کیا حال ہوتا لیکن پھر اسے اپنی طرف امید سے دیکھتے پا کر جی کڑا کر کے بولی۔۔

“یہ بھی کوئی بات ہے ملوا دیتی ہوں” حالانکہ اندر سے وه خود ڈر رہی تھی۔۔ اسکی بات پر مشائم خوشی سے اس کے ہاتھ تھام گئی۔۔۔

تھینک یو!! لیکن تم ملواؤ گی کیسے مجھے وہ حویلی میں نظر نہیں آیا دو تین دن سے۔۔ اسے نئی فکر نے آن گھیرا۔۔

جی بی بی دیکھا تو میں نے بھی نہیں ایسا کبھی ہوا تو نہیں کہ وه کھڑوس یہاں نہ آئے ضرور کچھ ہوا ہے۔۔ وه بھی سوچ میں پڑ گئی۔۔۔

آئیڈیا!! نگہت کے اچھل کر کہنے پر وه بھی ڈر کر اچھل پڑی۔۔۔ اس نے جلدی سے دروازے کی چٹخنی چڑھائی۔۔۔

ہاں بتاؤ۔۔۔!!! وه غور سے اسکی بات سننے لگی۔۔

اگر وه یہاں نہیں آیا تو مطلب وه اپنے گھر ہوگا مطلب گاؤں میں۔۔ اندازہ لگا رہی ہوں ۔۔ ہو سکتا ہے وه ہمیں گھر نہ ملے لیکن رسک تو لینا ہے۔۔ وه کہتے کہتے اسے امکانی صورتحال بتا کر رکی۔۔

مشائم محض سر ہلا گئی۔۔ اس نے بے چارگی سے اسے دیکھا۔۔۔

کوئی بات نہیں مشی بی بی اگر وه اپنے چاچے مامے کے گھر بھی ہوا تو اسے وہاں سے اغوا کر لیں گے۔۔ نگہت کے شرارت سے کہنے پر وه ہلکا سا مسکرائی۔۔

یہ ہوئی نہ بات!! اب آگے سنیں۔۔ اہم مسلہ یہ ہے کہ ہم یہاں سے نکلیں کیسے اور وه بھی کم از کم دو سے تین گھنٹوں کے لئے۔۔ ایسے تو شک ہو جانا سب کو۔۔

اسکی بات بھی ٹھیک تھی۔۔ مشائم اٹھ کر بے چینی سے چکر کاٹنے لگی۔۔ ایک خیال آنے پر وه سرعت سے اسکی طرف آئی۔۔

“میں سر درد کا کہہ کر کچھ گھنٹوں کے لئے دروازه بند کر کے سونے کا بہانہ کر سکتی ہوں۔۔ ہم اس کھڑکی سے نکل جائیں گے۔۔ اور یہیں سے واپس آ جائیں گے۔۔” وه کھڑکی سے باہر جھانک کر بولی۔۔

اسے فلحال کے لئے فرسٹ فلور پر شفٹ کر دیا گیا تھا۔۔ دوسرا فلور مہمانوں کے لئے تھا۔۔ اس لئے اسے یہ آسانی ہوئی کہ وه کھڑکی پھلانگ کر باہر لان میں جا سکتی تھی اور وہاں سے پچھلی جانب سے باہر نکل جاتی۔۔ اسکا یہ آئیڈیا نگہت کو پسند آیا۔۔

جی ٹھیک ہے میں ابھی بڑی بی بی اور باقی ملازموں کو کہہ آتی ہوں تا کہ کوئی ہماری غیر موجودگی میں یہاں نہ آئے۔۔

وه باہر گئی تو اس نے دیوار گیر الماری سے چادر نکالی۔۔ عبایا وه اس لئے نہیں پہننا چاہتی تھی کہ کوئی اسے پہچان نہ لے۔۔

کچھ دیر بعد ہی نگہت کی واپسی ہو گئی۔۔ اس نے جلدی سے دروازه بند کیا۔۔۔ “چلیں مشی بی بی ۔۔!! جتنا جلدی ہو نکل جاتے ہیں۔۔ ابھی بڑے شاہ سائیں اور چھوٹے شاہ سائیں حویلی میں موجود نہیں ہیں۔۔۔ شام کو نکاح کے وقت آئیں گے۔۔ ان کے آنے سے پہلے ہی واپس آ جانا چاہیے۔۔

وه نقاب سے چہرہ ڈھانپتی مشائم کو دیکھتی بولی تو وه سر ہلا گئی۔۔ نگہت کھڑکی پر چڑھی اور لان میں کود گئی۔۔ اس نے پیچھے دیکھ کر مشائم کو انگوٹھا دکھایا۔۔ وہ سیدھی ہوئی ہی تھی کہ اسکا سانس اٹک گیا۔۔

سامنے ایک ملازم بتیسی نکالے کھڑا تھا۔۔

اس کی تیوری چڑھی۔۔ “بد تمیز الو کے پٹھے کیا شودوں کی طرح مجھے تاڑ رہے ہو!!”

اسکی آواز پر وه کھڑکی پر چڑھتی چڑھتی ہڑبڑا کر پیچھے ہو گئی۔۔

کہاں کی تیاری ہے بلو رانی!!

تجھ سے مطلب تو اپنی گینڈے جیسی شکل لے کر نکل یہاں سے۔۔ مجھ معصوم کو چھیڑتا ہے شاہ سائیں کو تیری شکایت لگاؤں گی میں۔۔ کوجے کہیں کے !! اسکی دهمكی پر وه ہڑبڑا کر وہاں سے کھسک گیا۔۔

آجائیں مشی بی بی۔۔ وه سرگوشی میں بولی۔۔

وہ کھڑکی سے باہر کودی اور دونوں احتیاط سے ارد گرد دیکھتیں پچھلی جانب سے باہر نکل آئیں۔۔ مشائم کا دل خوف سے تیز تیز دھڑک رہا تھا۔۔ نگہت اسے لئے سڑک تک آئی اور ایک رکشہ روک کر دونوں اس میں بیٹھ گئیں۔۔۔ تقریباً ڈیڑھ گھنٹے میں وہ وہاں پہنچ گئیں۔۔

رکشے والے کو پیسے دے کر وہ اونچے نیچے راستوں پر چلنے لگیں۔۔۔ وہاں سے وه کھیتوں میں اتر آئیں۔۔ نگہت کو اس کے محلے کا علم تھا لیکن گھر کا نہیں پتہ تھا۔۔ اب اتنی خبر تو ہوتی ہی ہے ملازموں کو۔۔

وه پوچھتے گچھتے ایک گھر کے سامنے آ ٹھہریں جس کا لکڑی کا دروازه ذرا سا کھلا ہوا تھا۔۔ لگ تو یہی رہا ہے اندر چل کر دیکھتے ہیں۔۔ وه مشائم کو دیکھتی اندر چلی آئی۔۔

اس کے پیچھے وه بھی گھبرائی گھبرائی سی اندر آئی۔۔ دروازه بند کر کے وه کھلے سے صحن میں چلی آئیں۔۔

کوئی ہے؟ پورے گھر میں سناٹا پا کر وه کمروں کی قطار کو دیکھ کر بولی۔۔

چند سیکنڈ بعد ہی ایک کمرے کا دروازه کھلا تھا۔۔ سلیو لیس ٹی شرٹ ٹراؤزر میں وه بکھرے بالوں اور رف سے حلیے میں باہر نکلا تھا۔۔

نگہت کو سامنے پا کر اسکی آنکھوں میں تحیر در آیا۔۔ نگہت سے ہوتی اسکی نگاہ پیچھے چادر میں کھڑی لڑکی پر پڑی۔۔ وہ اسے ایک سیکنڈ میں پہچان گیا۔۔ اس کی سیاہ آنکھیں اس پر ٹک گئیں جن کی سرد مہری بڑھی تھی۔۔

مشائم جو اسے پہلی بار اس حلیے میں یک ٹک دیکھی جا رہی تھی اسکی نظریں خود پر پا کر ہڑبڑا کر پلکوں کی جھالر گرا گئی۔۔

کیوں آئی ہو یہاں؟ وه نگہت کو غصے سے گھور کر بولا۔۔

“وه نہ مشی بی بی نے بات کرنی ہی آپ سے۔۔” اسکی بات پر اس نے ایک سرد نظر اس پر ڈالی۔۔

مجھے کوئی بات نہیں کرنی ان سے جاؤ یہاں سے ۔۔۔ وه سرد لہجے میں کہتا پلٹا کہ وه تیزی سے اسکی طرف آئی۔۔

پلیز ایک بار بات کرنا چاہتی ہوں آپ سے اتنی دور سے سب سے چھپ کر آئی ہوں اتنے بے رحم نہ بنیں!!! وه ڈبڈبائی آنکھوں سے اسے دیکھ کر بولی تو وه لب بھینچ گیا۔۔

کہیں!!! وه لٹھ مار انداز میں بولا۔۔

“یہاں نہیں علیحدگی میں۔۔” وه منمنائی۔۔

صالح نے گردن موڑ کر نگہت کو دیکھا۔۔

“ہاں جی کر لیں کر لیں بات میں کب کچھ کہہ رہی ہوں” وه اسے معنی خیز انداز میں دیکھتی بتیسی نکال کر بولی تو صالح کا چہرہ غصے سے سرخ پڑ گیا۔۔

“تم اپنا منہ نہ تڑوا لینا مجھ سے” وه ہر لحاظ بالائے طاق رکھتا ہوا بولا۔۔

“ایوی ٹوٹ جائے گا میرا منہ فری میں نہیں آیا۔۔ ہنہ !!” تنک کر کہتی وه دندناتی ہوئی کچھ دور پڑی چارپائی پر جا کر بیٹھ گئی۔۔۔

صالح نے پھر سے مشائم کو کڑے تیوروں سے دیکھا اور دروازه کھول کر کمرے میں چلا گیا۔۔ اندر جا کر اس نے دروازه بند نہیں کیا تھا۔۔ وه دھڑکتے دل سے اس کے پیچھے کمرے میں آئی۔۔

صالح نے اسکے اندر آتے ہی دروازه بند کردیا۔۔ وه ڈر کر پیچھے ہٹی۔۔ وه سینے پر بازو باندھ کر نقاب سے جھانکتی اسکی بھوری آنکھوں میں دیکھنے لگا۔۔

کیا ہوا ڈر کیوں رہی ہیں اب آپ خود ہی تو “علیحدگی” میں بات کرنے کی خواہش مند تھیں۔۔ وه سپاٹ لہجے میں بولا۔۔۔

وه سر جھکائے ہاتھوں کی انگلیاں مسلنے لگی۔۔ “وه وه” ۔۔۔۔ اسکی آواز جیسے حلق میں اٹک گئی تھی۔۔ کس طرح دھڑلے سے وه اس سے ملنے چلی آئی تھی اور اب اس کے سامنے اسکی بولتی بند ہوگئی تھی۔۔

اس نے سر اٹھا کر اپنے سامنے کھڑے چھ فٹ سے نکلتے مرد کو دیکھا۔۔ بےبسی کے احساس سے آنسو اسکی آنکھوں سے گرنے لگے۔۔ آخر وه سمجھتا کیوں نہیں تھا۔۔

جبکہ وه خاموشی سے اسکی بھوری آنکھوں سے آنسو گرتے دیکھ رہا تھا۔۔

مم۔۔ میں ۔۔۔۔۔ آپ ۔۔سے پیار ۔۔ کرتی ہوں !! اسکا کہنا ہی تھا کہ وہ جبڑے بھینچے جھٹکے سے اسکے بازو میں اپنی سخت انگلیاں گاڑتے اسے خود سے قریب کر گیا۔۔

شرم آنی چاہیے آپ کو!! وه اس کے منہ پر گرجا تھا۔۔ مقابل نے اسکی گرفت پر تڑپ کر اسے دیکھا جو اس وقت بے حس بنا ہوا تھا۔۔

“کیا کہا آپ نے شاہ سائیں سے کہ میں نے آپ کو گمراہ کیا؟ وه درشتگی سے بولا تو وه بے اختیار نفی میں سر ہلانے لگی۔۔

مم ۔۔ میں نے نہیں ۔۔۔۔

چپ!! وه داڑھا تو وه ہچکیوں سے رونے لگی۔۔

وه کوفت سے اسکے آنسو دیکھتا اسے دور دهكیل گیا۔۔ وه سہمی کھڑی ہچکیوں سے رو رہی تھی۔۔

میں۔۔ اس سے شاددی ۔۔نہیں کرنا۔۔ چاہتی ۔۔ مجھ ۔۔سے نکاح۔۔ کر لیں اللّه کے واسطے ۔۔ مجھے اپنا لیں!! وه اسکے سامنے ہاتھ جوڑ کر بلکنے لگی۔۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ محبت سب سے پہلے عزت نفس کو ختم کرتی ہے۔۔ وہ بھی اس وقت اپنی انا، اپنا وقار، اپنی عزت نفس بھلائے اس سے اسکے ساتھ کی بھیک مانگ رہی تھی۔۔

وه اسے ہاتھ جوڑے دیکھ کر ساکت ہوا تھا۔۔ آنکھوں میں کرچیاں سی چبھنے لگیں۔۔ “آپ غلط راہ پر چل نکلی ہیں جس کا انجام صرف تباہی ہے۔۔ آپ نے اپنی بے وقوفی سے اپنے اور میرے لیے مشکلات کھڑی کردی ہیں ۔۔ شاہ سائیں کی آنکھوں میں جو اعتباری میں نے دیکھی ہے اسکی وجہ صرف اور صرف آپ ہیں۔۔ اور اس کے لیے میں آپ کو کبھی معاف نہیں کروں گا۔۔”

وه اسکے برابر دیوار پر ہاتھ مارتا سرخ آنکھوں سے اسے دیکھتا داڑھا تھا۔۔

وه خوف سے آنکھیں میچ گئی۔۔ ایسا لگتا تھا کہ رفتہ رفتہ جسم سے جان نکل رہی ہے۔۔

صالح پتر دروازه کیوں بند کیا ہے تو نے؟ انجم کی آواز پر وه بے اختیار کراہا۔۔ اس نے سلگتی نظروں سے اسے دیکھا۔۔

چپ آواز نہ آئے آپ کی اب!! اس کے منہ پر ہاتھ رکھتا وه اسے سخت نظروں سے دیکھتا وه اسے بازو سے پکڑ کر دروازے کے پاس لے آیا۔۔

اس نے دروازه کھولا تو وه دروازے کے پیچھے چھپ گئی۔۔

“تھوڑی دیر ہوگئی مجھے ۔۔ خالہ مل گئی تھی راستے میں۔۔ یہ کپڑے دھوپ میں پڑے پڑے سوکھ رہے تھے اتار ہی لیتا تُو لیکن تجھے کیا ہوش ارد گرد کا پتہ نہیں کس حجن کے خیالوں میں کھویا رہتا ہے۔۔” وه اندر آ کر کپڑے پلنگ پر رکھتے ہوئے اپنے دیهان میں بولتی جا رہی تھیں۔۔

وه جلدی سے پیچھے ہوتا اس کے آگے کھڑا ہوگیا۔۔ انجم کی بات وه کھانسنے لگا تھا۔۔

دھڑکتے دل سے اسکی چوڑی پشت کو دیکھتی وہ لب بھینچے سوچنے لگی۔۔ اگر ان کو پتہ چل جائے کہ وه حجن یہیں ہے تو!! وه بے دیہانی میں سوچتی ذرا آگے ہوئی تو اسکا چہرہ صالح کی پشت کو چھو گیا۔۔ دونوں کو جیسے کرنٹ لگا تھا۔۔

انجم رخ موڑے اسکے کپڑے تہہ کرنے لگیں تھیں۔۔ صالح نے موقع غنیمت جانا اور جلدی سے اسے باہر نکالا۔۔ پھر وه دروازے کے بیچ و بیچ کھڑا ہوگیا۔۔ وه انجم کے سامنے اپنی ذات کو ہر گز مشکوک نہیں بنانا چاہتا تھا۔۔ ورنہ وه اسے ایسے ایسے

اس کے دروازے میں کھڑے ہونے کے ساتھ ہی وه بھاگتی ہوئی صحن میں آئی تو چارپائی کے نیچے چھپی نگہت باہر نکلی۔۔۔ اسے کڑے تیوروں سے گھورتی وه اس کا ہاتھ تھام کر جلدی سے باہر نکل گئی۔۔

باہر آ کر جلدی سے سڑک کی طرف جاتے وه غصے سے نگہت کو ڈانٹنے لگی۔۔ “بتا نہیں سکتی تھی تم اگر ہم پکڑے جاتے تو؟”

اس کی ڈانٹ پر وه منمنا کر رہ گئی۔۔۔ “مجھے خود نہیں پتہ چلا جلدی سے میں وہیں چھپ گئی نہیں تو میری چھترول ہوجانی تھی۔۔” وه جھرجھری لے کر رہ گئی۔۔۔

مشی بیٹا کافی وقت ہوگیا ہے اٹھ جاؤ شام ہونے لگی ہے۔۔ للّہ عارفہ اس کا دروازه کھٹکھٹانے لگیں۔۔ چند پل انتظار کے بعد بھی دروازه نہ کھلا تو وه تفكر سے کمرے کی چابی لینے کے لئے پلٹی ہی تھیں کہ زور سے دروازه کھلا۔۔ وه واپس پلٹیں۔۔

مشائم دروازه کھولے متورم آنکھوں سے انہیں دیکھ رہی تھی۔۔ “فکر نہ کریں بھاگ نہیں گئی میں اور نہ مزید خاک ڈالوں گی آپ کے سروں میں۔۔” تلخی سے کہہ کر وه کمرے کا دروازه پورا کھولتی اندر چلی گئی۔۔

انہوں نے دکھی نظروں سے اسے دیکھا تھا۔۔ آخر یہ لڑکی سمجھتی کیوں نہیں۔۔۔ہم اس کے دشمن تھوڑی ہیں۔۔۔!!!