Lambiyan Ne Rahwan Ishq Diya by Mirha Khan NovelR50479 Lambiyan Ne Rahwan Ishq Diya Episode 23
No Download Link
Rate this Novel
Lambiyan Ne Rahwan Ishq Diya Episode 23
Lambiyan Ne Rahwan Ishq Diya by Mirha Khan
ماہ بیر نے کنکھیوں سے اپنی آنسر شیٹ سے نظر ہٹا کر ایک رو چھوڑ کر اس سے اگلی رو میں بیٹھے صالح کو دیکھا جو بےچین نظر آتا تھا۔۔ ماہ بیر نے ٹیسٹ کر لیا تھا سو وه آرام سے چیئر سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔۔ اس نے مہرون چیک والی شرٹ اور بلیو جینز پہن رکھی تھی۔۔ شرٹ کے بازو کہنیوں تک موڑے مضبوط کلائی میں برانڈڈ گھڑی ڈالے، سرمئی دل میں اتر جانے والی آنکھوں اور گردن کو چھوتے بالوں میں وه بلا کا ہینڈسم لگ رہا تھا۔۔ داڑھی کچھ اور گهنی ہوئی تھی اور مونچھیں پہلے کی طرح ہی اطراف سے ذرا سی مڑتی تھیں۔۔
وه یونہی کلاس میں راؤنڈ لگاتی ارشما کا جائزہ لینے لگا۔۔ سیاہ کھجوری شلوار اور گھٹنوں تک آتی قمیض میں ملبوس پیروں میں سیاہ ہی کھسہ ڈالے وه سیاہ چادر سے خود کو ڈهانپے ہوئے تھی۔۔ سرخ و سفید دودھیا چہرا میک اپ سے پاک تھا۔۔ شہد رنگ آنکھوں میں ٹھنڈک اور بےزاری تھی۔۔ یوں لگتا تھا جیسے وه ہر چیز سے بیزار ہو!!!
معاً وه چکر لگاتے ہوئے رکی۔۔ اس نے ماہ بیر کو خود پر مسلسل ٹکی نظروں کو محسوس کر لیا تھا۔۔ اس نے ذرا سی گردن موڑی اور ماہ بیر کو گھورا۔۔ آج عجیب بات یہ ہوئی کہ ماہ بیر اس سے نظریں نہیں ہٹا سکا۔۔ وه یک ٹک اسکی آنکھوں میں دیکھے گیا۔۔ جیسے آنکھوں کے راستے اس کے اندر کے راز جان لے گا۔۔
ارشما کو بھی اس سے توقع نہیں تھی کہ وه یوں اسے ٹکٹکی باندھے دیکھے گا کیونکہ جب سے وه آیا تھا اس نے اس کا کردار اچھا ہی پایا تھا کیونکہ وه اور صالح دونوں اپنے کام سے کام رکھتے تھے اور آج تک اس نے انہیں کسی بھی لڑکی سے بات کرتے نہیں دیکھا تھا۔۔ اسے محسوس ہوا جیسے وه اسے کھوجنا چاہ رہا ہے اسکی ذات میں دلچسپی لے رہا ہے۔۔ وه فورا نظروں کا زاويہ بدل گئی۔۔ اسکی ذات ایک راز تھی اور وه کسی کو اجازت نہیں دیتی تھی کہ وه اسکی ذات کے پہلوؤں کو کھوج سکے۔۔
ارشما نے کلائی میں بندهی گھڑی میں ٹائم دیکھا۔۔ “پانچ منٹ رہ گئے ہیں کلاس ہری اپ!!!” وه ازلی سخت لہجے میں بولی تو صالح نے پریشانی سے کنپٹی مسلی۔۔ رات ارشما سے بات کرنے کے بعد آج کا ٹیسٹ تیار کرنا اس کے ذہن سے ہی نکل گیا تھا۔۔ یونیورسٹی آ کر جب ماہ بیر سے اسے پتہ چلا تو اس نے جلدی میں جتنا ہو سکا تیار کر لیا لیکن ٹیسٹ دیتے وقت اچانک سب کچھ اس کے دماغ سے نکل گیا تھا۔۔ اس نے آدھی شیٹ جیسے تیسے بھر دی تھی۔۔ اب وقت ختم ہوگیا تو وه ماتھے پر بل ڈال کر خود سے خفا سا چیئر سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔۔
ارشما نے شیٹس کلیکٹ کرنی شروع کردیں۔۔ سب شیٹس اکٹھی کر کے وه ڈائس کے پاس رکھی چیئر پر بیٹھ گئی۔۔۔
“کلاس شور نہیں ہونا چاہیے۔۔ آپ کو کچھ دیر تک شیٹس واپس مل جائیں گی۔۔ سو بی پریپیئر فار یور ریزلٹس”۔۔۔۔۔!!!
وه سخت نظر سب پر ڈالتی جلدی جلدی ٹیسٹ چیک کرنے لگی۔۔
صالح واپس ماہ بیر کے پاس آ کر بیٹھ گیا۔۔ اس کا موڈ سخت آف ہوگیا تھا۔۔ ماہ بیر نے نظروں ہی نظروں میں اس کے بگڑے تیوروں کی وجہ پوچھی تو اس نے دھیمی آواز میں اسے بتا دیا۔۔
اوہ!!! اب تو یہ کھڑوس ٹیچر نہیں چھوڑے گی تمہیں۔۔۔۔!!! ماہ بیر کے درست اندازے پر وه مزید خفا ہوا۔۔
قریباً دس منٹ بعد وه شیٹس سب کو واپس کرنے لگی۔۔ جن کے مارکس اچھے تھے انہیں ایپری-شی-ایٹ کیا جا رہا تھا جبکہ گندہ ٹیسٹ دینے والوں کی اس نے ایسی طبیعت صاف کی تھی کہ انہوں نے دوبارہ ایسا ٹیسٹ دینے سے توبہ کرلی تھی۔۔
وه ماہ بیر کے پاس آ کر رکی تو وه اٹھ کھڑا ہوا۔۔ ارشما نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔۔ اسکے سامنے وه بلکل بچی سی لگ رہی تھی۔۔ اسے سمجھ نہیں آئی وه ماہ بیر کو کیا کہے۔۔ اصل میں وه اسکی بدلی نظروں کی وجہ سے پزل ہوئی تھی پہلی بار۔۔ پتہ نہیں کیوں۔۔۔!!!
آپ کا ٹیسٹ بہت اچھا تھا۔۔ ویلڈن!!! سنجیدگی سے کہتی وه اگلی شیٹ دیکھنے لگی۔۔
صالح یوسف۔۔۔۔!!! اس نے پکارا تو وه ماتھے پر بل ڈالتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔ یوں جیسے اس نے اٹھ کر احسان کیا ہو۔۔ عجیب بندہ تھا غلطی بھی خود کی تھی اور تیور بھی مقابل کو دکھا رہا تھا۔۔
کلاس کی لڑکیاں دلچسپی سے اپنے سڑو کرش کو دیکھ رہی تھیں۔۔ اسکے ماتھے پر پڑے بلوں کی وه دیوانی ہوچکی تھیں۔۔ ایسا “راک اینڈ ہینڈسم” بندہ انہوں نے آج تک نہیں دیکھا تھا۔۔
ارشما نے ایک پل کو اسے دیکھا اور پھر لب بھینچ لیے۔۔ “آپ سے مجھے ایسے رزلٹ کی امید نہیں تھی۔۔ آپ کی پنیشمینٹ یہ ہے کہ آپ دس دفعہ یہ ٹیسٹ لکھیں گے لائبریری میں جا کر اور باقی سٹوڈنٹس سے لیٹ جائیں گے واپس۔۔ تا کہ آئندہ آپ ایسی لاپرواہی نہ دکھائیں!!!”
حتی الامکان خود پر قابو پاتی وه اسے وارن کر کے واپس ڈائس تک گئی اور فائلز اٹھا کر تیز قدم اٹھاتی کلاس سے باہر چلی گئی۔۔
کلاس ختم ہوگئی تھی۔۔ چھٹی کا وقت تھا۔۔ سب سٹوڈنٹس باری باری کلاس سے جانے لگے۔۔ ماہ بیر نے صالح کو دیکھا۔۔
تم کہتے ہو تو میں رک جاؤں؟؟ وه اٹھ کر بیگ کاندھے پر ڈال کر اسے دیکھتا کہنے لگا۔۔ صالح نے ہولے سے نفی میں سر ہلایا۔۔
تم جاؤ یار میں کچھ دیر تک آتا ہوں۔۔!!! وه بیزاری سے کہتا چیزیں سمیٹ کر بیگ میں ڈالتا ماہ بیر کے ساتھ کلاس سے باہر نکلا تو اسکی نظر ایک لڑکی پر پڑی جو مسکرا کر اسے دیکھ رہی تھی۔۔
اسکا حلق تک کڑوا ہوگیا۔۔ یہ لڑکیاں آخر کیا چیز ہیں؟؟ وه فورا نظروں کا رخ بدلتا بڑبڑایا تو ماہ بیر قہقہہ لگا گیا۔۔ اسکے دلکشی سے ہنسنے پر کئی لڑکیوں نے دل کو تھاما تھا۔۔
وه دونوں سب سے بےنیاز چلتے گراؤنڈ میں آئے۔۔ “اوکے میں لائبریری جاتا ہوں۔۔۔!!!” صالح کے کہنے پر ماہ بیر اسکا کندھا تھپتهپا کر پلٹ گیا۔۔
ایک ہاتھ سے کاندھے پر ڈالے بیگ کا سٹریپ تھامے دوسرا ہاتھ جینز کی پاكٹ میں ڈالے وه ایک انداز سے چلتا ہوا یونیورسٹی سے باہر آیا اور کار میں بیٹھتا بیگ دوسری سیٹ پر ڈال کر سٹارٹ کرنے لگا۔۔
اسکے جاتے ہی صالح نے لائبریری کا رخ کیا جہاں اکا دکا سٹوڈنٹس نظر آ رہے تھے۔۔ وه خاموشی سے چلتا اندر آیا اور ایک چیئر پر بیٹھ کر بیگ کھولتے نوٹ بک نكالی۔۔
اس کے بلکل سیدھ میں بیٹھی ایک لڑکی کا دل اچھل کر حلق میں آیا۔۔ صالح یوسف اسکے سامنے تھا۔۔ بلیک شرٹ بلیو جینز میں بازو کہنیوں تک فولڈ کیے بل زدہ پیشانی پر بکھرے بالوں میں وه اسکے سامنے تھا۔۔
وه جلدی سے اٹھی اور اسکے ساتھ آ کر بیٹھ گئی۔۔ صالح کا قلم چلاتا ہاتھ رکا۔۔
اس نے گردن موڑ کر دیکھا۔۔ “کہیں اور جا کر بیٹھو۔۔۔!!!” وه چہرہ دوبارہ نوٹ بک پر جھکا کر سختی سے بولا۔۔
“آ۔۔۔ میں بہت ٹائم سے آپ سے بات کرنا چاہتی تھی پلیز مجھ سے شادی کر لیں میں آپ سے بہت محبت کرتی ہوں۔۔۔!!!” وه آنکھیں موند کر جذب سے بولی۔۔
صالح یوں اچھل کر کھڑا ہوا جیسے اسے کسی بچھو نے ڈنک مار دیا ہو۔۔۔
“استغفراللّه!!!”
شرم کر لو کچھ ۔۔۔ “میں شادی شدہ ہوں۔۔۔”
سختی سے کہتا وه جلدی جلدی بیگ بند کر کے لائبریری سے نکل گیا۔۔ اسکی چوڑی پشت کو دیکھتی وه لڑکی گال کے گرد ہاتھ رکھتی ٹھنڈی آہ بھر کر رہ گئی۔۔
آخر یہ کھڑوس گرلز الرجک کیوں ہے۔۔۔؟؟ اور شادی شدہ بھی۔۔ پھر یاد آنے پر کہتی وه رونی صورت بنا گئی۔۔
ماہ بیر یونیورسٹی سے کچھ دور ہی پہنچا تھا کہ اسکے موبائل پر کال آنے لگی۔۔ اس نے گاڑی ایک سائیڈ پر کھڑی کرتے کال پِک کی اور بات کرنے لگا۔۔ پھر اس نے موبائل کان سے ہٹا کر سیٹ پر ڈال دیا ۔۔
وه کار سٹارٹ کرنے ہی لگا تھا کہ اسکے کان میں سیٹیوں کی آواز پڑی۔۔ اس نے غیر ارادتاً آواز کے تعاقب میں دیکھا تو۔۔۔۔۔
اس کی آنکھوں میں سرد تاثر نمایاں ہوا۔۔ سختی سے جبڑے بھینچے وه کار کا دروازه کھول کر باہر نکلا۔۔ لمبے لمبے ڈگ بھرتا وه ان دو موٹرسائیکل سواروں کی جانب بڑھا جو چادر اوڑھے کھڑی ایک لڑکی کا راستہ روکے اسے تنگ کررہے تھے۔۔
ارشما غصے سے انہیں کچھ کہہ رہی تھی جب تیز قدموں کی چاپ اسکے قریب آ کر رک گئی۔۔ اس نے ہونٹ بھینچ کر چہرہ گھمایا تو ماہ بیر اسکے قریب آ کر کھڑا ہوا تھا۔۔
اس نے آؤ دیکھا نہ تاؤ دونوں کو گھسیٹ کر بائیک سے نیچے اتارا اور پہ در پہ انہیں گھونسے مارنے لگا۔۔ اسکے چہرے پر غیض و غضب دیکھ کر وه سہم کر پیچھے ہٹی۔۔
ماہ بیر کے بال بکھر کر پیشانی پر آ گرے تھے۔۔ آنکھوں میں سرخی چھا گئی تھی۔۔ تم لوگوں کی ہمممت بھی کیسے ہوئی کسی لڑکی کو چھیڑنے کی۔۔۔؟؟ اس نے رکھ رکھ کر دو زناٹے دار تھپڑ ان کے منہ پر مارے۔۔۔
“معافی مانگو ان سے۔۔۔!!!” وه انھیں جھٹکے سے پیچھے دهكیل کر درشتگی سے بولا تو وه فوراً ہاتھ جوڑ کر ارشما سے معافی مانگنے لگے۔۔
“ہمیں معاف کردیں باجی آئندہ ایسی حرکت کبھی نہیں کریں گے ممی قسم۔۔۔!!!”
ارشما غصے سے انہیں دیکھ کر چہرہ پھیر گئی تو ماہ بیر پھر ان سے مخاطب ہوا۔۔ اسکی سرمئی آنکھوں میں غصے کی لالی نماياں تھی۔۔
“دفع ہوجاؤ یہاں سے اگر دوبارہ ایسی حرکت کرتے دیکھا میں نے تو اپنے علاقے کے کتوں کے آگے ڈال دوں گا!!!۔۔۔۔”
وه داڑھا تو لڑکے گدھے کے سر سے سینگ کی طرح غائب ہوئے۔۔ اس کی آخری بات پر ارشما نے چونک کر ماہ بیر کو دیکھا تھا۔۔
“آئیں میں آپ کو ڈراپ کر دوں۔۔۔!!!” بالوں میں ہاتھ پھیر کر پیشانی سے ہٹاتا وه ارشما کو نرمی سے دیکھ کر کہنے لگا۔۔
“تھینک یو آپ کی مدد کے لیے۔۔ میں خود چلی جاؤں گی۔۔!!”
وه سپاٹ لہجے میں پہلے اسکا شکریہ ادا کرتی اور پھر اسکی پیشکش پر انکار کرتی وه آگے بڑھ گئی۔۔
ماہ بیر نے سر جھٹکا اور واپس کار کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر اسے دیکھنے لگا جو رکشہ رکوا کر اس میں بیٹھ گئی تھی۔۔ رکشہ چلا تو وه بھی انگیشن میں چابی گھماتا اسکے پیچھے ہو لیا۔۔ کئی راستوں سے گزر کر رکشہ ایک کالونی میں داخل ہوا۔۔ ماہ بیر نے سامنے نظر آتے بورڈ پر نظر ڈالی جہاں “پیر الٰہی بخش” کالونی لکھا ہوا تھا۔۔
ارشما نے کچھ آگے جا کر رکشہ رکوایا اور تیز قدم اٹھاتی چوک سے آگے ایک گلی میں مڑ گئی۔۔ اسکے جانے کے بعد وه بھی اطمینان کا سانس لیتا گاڑی ری ورس کرتا واپسی کے لیے نکل گیا۔۔
وه لیٹے سے اٹھ بیٹھی۔۔۔ اسے کسی پل چین نہیں آ رہا تھا۔۔ پیروں میں چپل پہن کر وه دوپٹہ لاپرواہ انداز میں کاندھے پر ڈالتی باہر نکل آئی۔۔ ہر طرف ہو کا عالم تھا۔۔ ویرانی، خاموشی اور سردیوں کی یخ بستہ ہوائیں۔۔۔کالی اندھیری رات اسے بلکل اپنی زندگی کی طرح لگی۔۔
خاموش،،تنہا۔۔۔۔۔سیاہ !!!
اپنے اندر کی بے چینی سے پریشان ہوتی وه صحن میں چکر لگانے لگی۔۔ آخر کیوں وه اسکے ذہن سے نہیں نکل جاتا۔۔ کیوں بار بار اسکے اتفات اور اسکی خود کو تکتی نیلی آنکھیں اسکے سامنے آتی تھیں۔۔ اسکے ہونے سے بھی اینارا کو سکون نہیں ملتا تھا اور اسکے جانے نے اسے مزید بےسکون کردیا تھا۔۔ وه اسکی زندگی و دنیا سے نکل کر اسکے تصور کی دنیا میں مستقل بسیرا کر چکا تھا۔۔
اپنے اندر چھڑتی جنگ سے وه ہلکان ہوتی چھت کو جاتی سیڑھیوں پر بیٹھ گئی۔۔ آج کی رات نے اس پر احسان کیا تھا۔۔ اسے سمجھانے میں۔۔
تنہائی کے وه پل سونپتے میں جہاں انسان اپنے اندر کو سمجھنے کے قابل ہونے لگتا ہے۔۔ ایسی سرد رات میں اینارا عبدلمنان پر بھی ایک ہولناک انکشاف ہوا تھا۔۔
وه اپنی تمام تر نفرتوں کے بعد “میر اورهان صمید” سے ۔۔۔۔”عشق” کر بیٹھی تھی ۔۔۔
وه ساکت مجسمے کی طرح وہیں جم گئی۔۔ مدهم چلتی سانسیں اور بڑی نمناک آنکھوں سے تواتر سے بہتے آنسو اسکے زندہ انسان ہونے کا پتہ دے رہے تھے۔۔
یک دم وه جھکی تھی۔۔ گھٹنوں پر سر رکھے ٹانگوں کے گرد دونوں بازو پھیلاتے وه سسکنے لگی تھی۔۔ کیسا ظلم سا ظلم تھا جو اسکے ساتھ ہوا تھا۔۔ باپ بہن کے قاتل سے عشق ہوجانا سزائے موت سے بدتر تھا۔۔ کیونکہ اب وه پل پل مرنے والی تھی۔۔ ایک بار کا مرنا پل پل مرنے سے تو بہتر ہوتا ہے۔۔
رات کا کھانا کھا کر وه دونوں کھانے کے برتن سمیٹ رہے تھے۔۔
“آج تم دیر سے آئے تھے واپس فلیٹ جبکہ یونیورسٹی سے مجھ سے پہلے نکل گئے تھے۔۔؟”
صالح نے کچن سے باہر آ کر ماہ بیر کو ٹٹولتی نظروں سے دیکھتے پوچھا تو وه دوپہر کا منظر یاد کرتے سر جھٹک گیا۔۔
یار وه تمهاری ٹیچر ہے نہ۔۔۔۔؟؟؟ ماہ بیر صوفے پر آرام ده حالت میں بیٹھ کر اسے دوپہر کا واقعہ بتانے لگا۔۔
صالح نے آنکھیں سكیڑ کر اسے دیکھا۔۔ “خالی میری ٹیچر نہیں تمہاری بھی ہے وه الگ بات ہمارے سامنے گھروں کی بیل بجا کر بھاگ جانے والی بچی لگتی ہے!!!۔۔۔”
صالح نے کچھ اس طرح جل کر کہا کہ ماہ بیر کو شدید قسم کی ہنسی آئی۔۔
تم اتنا کیوں جل رہے ہو اسکے ذکر پر۔۔۔؟؟ وه صالح کے تاثرات سے محظوظ ہوتا پوچھنے لگا۔۔
صالح منہ کے زاویے بگاڑتا اسکے پاس صوفے کے بازو پر ٹک کر کہنے لگا۔۔
“انکی وجہ سے مجھے لائبریری جانا پڑا جہاں انتہائی بدتمیز لڑکیاں تھیں۔۔ توبہ ہے ان کو ذرا شرم نہیں آتی آخر لڑکوں کی بھی عزت ہوتی ہے کس طرح گھور گھور کر دیکھتی ہیں۔۔۔!!!
اسکا حلق تک کڑوا ہوگیا۔۔ اسکی بات سنتا ماہ بیر نان سٹاپ ہستا جارہا تھا۔۔
کس نے چھیڑا آج تمہیں۔۔۔؟؟
وہ آنکھوں کے کناروں سے نكلتا پانی صاف کرتا اسے تنگ کرنے لگا۔۔
“کیا ۔۔۔ تم بھی اڑا لو میرا مذاق۔۔۔ جب اپنا وقت آئے گا پھر پوچھوں گا۔۔!!! وه خفگی سے کہتا اپنے کمرے میں چلا گیا۔۔
ماہ بیر نے مسکرا کر سر جھٹکا۔۔ ٹیبل سے موبائل اٹھا کر وه اٹھ کھڑا ہوا اور عبدللہ شاہ کا نمبر ملاتے وہیں چکر لگاتے ہوئے انکے کال پک کرنے کا انتظار کرنے لگا۔۔
وه کمرے میں آ کر شاور لینے باتھ روم میں گھس گیا۔۔ گرے ٹراؤزر میں گلے میں تولیہ ڈالے وه تولیے کے کنارے سے چہرہ پونچھتے بہر نکلا تھا کہ اسکے موبائل کی رنگ ٹون بجی۔۔
وہ چلتا ہوا بیڈ تک آیا اور موبائل پکڑ کر دیکھا تو “بیوی كالنگ” لکھا نظر آ رہا تھا۔۔ اس نے کال کاٹ کر ڈائریکٹ ویڈیو کال کردی۔۔
مشائم کا چہرہ سامنے آنے پر وه یونہی اسے دیکھے گیا۔۔ سیاہ لباس میں نیٹ کا دوپٹہ پھیلا کر لیے بالوں کی چوٹی آگے ڈالے وه ہمیشہ کی طرح حسین لگ رہی تھی۔۔ چند لٹیں چوٹی سے نکل کر اسکے گال اور لبوں کو بوسہ دے رہی تھیں۔۔ صالح یہ منظر دیکھ کر ڈسٹرب ہوگیا۔۔
جبکہ دوسری جانب مشائم اسے دیکھتے ہی نظریں جھکا گئی تھی۔۔ کسرتی جسم پر پانی کی بوندیں پهسلتی نیچے گر رہی تھیں۔۔ گیلے بال ماتھے پر بکھرے ہوئے تھے۔۔ ہونٹوں پر بھی نمی تھی جبکہ پلکیں گیلی ہونے کی وجہ سے جڑتیں اور بھی نماياں ہونے لگیں تھیں۔۔
صالح نے اپنی داڑھی پر ہاتھ پھیرا۔۔ کیسی ہیں آپ۔۔؟؟ وه ہنوز مشائم کے لبوں کے کنارے سے آ کر ٹکراتی لٹ پر نظریں جمائے اس سے احوال دريافت کرنے لگا۔۔
مشائم نے جھکی نظریں اٹھائیں۔۔ وعلیکم السلام!!!بہت پیاری ہوں!!! وه آنکھیں گھما کر بولی۔۔
صالح یوسف۔۔۔؟؟ اور شرمنده ہو ۔۔؟ کبھی نہیں ۔۔۔!!! وه اثر لیے بغیر اسے دیکھنے لگا۔۔
“بولیے۔۔!!!” وه مشائم کی ناک میں چمکتی نوز پن پر نظریں جماتا بولا۔۔
مشائم نے آنکھیں سکیڑ کر اسے دیکھا “جو میں بولوں گی نہ وه آپ سن نہیں پائیں گے!!!۔۔” وه چوٹی کو جھٹک کر ایک ادا سے بولی۔۔
اسکی یہ ادا صالح یوسف کے دل پر نقش ہوگئی۔۔ “یہ کچھ زیادہ تیز نہیں ہوگئیں۔۔؟؟” وہ محض دل میں سوچ کر رہ گیا۔۔۔
“یہ بال ہٹائیں چہرے سے!!!۔۔۔” وه شدید ڈسٹرب ہوتا ہوا بولا۔۔
مشائم نے نا سمجھی سے اسے دیکھا۔۔ کیوں کیا ہوا۔۔؟؟
صالح نے ایک پل کو اسکی آنکھوں میں دیکھا۔۔ “آپ کے ہونٹوں کو چھوتی یہ لٹیں مجھے اپنی رقیب لگ رہی ہیں۔۔!!!”
وه گھمبیر لہجے میں بولتا اسے نظریں جھکانے پر مجبور کر گیا۔۔
لال گلال ہوتے گالوں سے اس نے لٹیں ہٹا کر کان کے پیچھے اڑسیں۔۔ وه ذرا سیدھی ہوئی تو اسکی پتلی خوبصورت سی گردن نماياں ہوئی جس نے صالح یوسف کو مزید امتحان میں ڈال دیا۔۔
اس نے گردن کی پشت پر ہاتھ پھیرتے سرعت سے نظروں کا رخ بدلا۔۔ وہ گہری سانس لیتا ڈریسنگ ٹیبل تک آیا اور موبائل وہاں ٹکا کر دور ہوتا تولیے سے بال پونچھنے لگا۔۔
مشائم چور نظروں سے اس کے كسرتی وجود کو دیکھنے لگی۔۔ اسکی نظریں خود پر پا کر وه گڑبڑا گئی۔۔
آآ۔۔۔۔ کیسی لگ رہی ہوں میں۔۔۔؟؟ وه جلدی سے بات بنانے کو بولی۔۔
صالح نے تولیہ دور پھینکتے اسے مسكراتی نظروں سے دیکھا۔۔
“یہ باتیں دور سے بتانے والی نہیں ہوتیں۔۔ کبھی پاس ہو کر فرصت سے بتاؤں گا۔۔۔ ابھی محض اتنا کہہ سکتا ہوں کہ میرا ایمان خراب کررہی ہیں آپ!!!”
وه اسے گہری نظروں سے دیکھتا گھمبیر آواز میں بولا۔۔
مشائم کا چہرہ کان کی لو تک سرخ پڑ گیا۔۔ اس نے سرعت سے نظریں اس پر سے ہٹاتے دل میں اپنے آپ کو کوسا۔۔ آخر کیوں اس نے یہ سوال پوچھا اس سے۔۔ خیر اب تو پوچھ لیا۔۔ وه سوچتے سوچتے چونکی۔۔
“آپ یونیورسٹی جاتے ہیں نہ تو۔۔۔وہاں تو لڑکیاں بھی ہوتی ہیں!!!” وه ایک دم سیدھی ہو کر بیٹھی۔۔
صالح اسکی بات کا مطلب سمجھتا محظوظ ہوا۔۔ وه لائٹ آف کرکے بیڈ پر ایک بازو سر کے نیچے رکھتے کروٹ کے بل لیٹ کر اس سے مخاطب ہوا۔۔
ہاں ہوتی ہیں لڑکیاں اور مجھ سے دوستی بھی کرنا چاہتی ہیں۔۔۔!!! وه مشائم کی نظروں کا رخ محسوس کرتا نچلا لب دانتوں میں دبا گیا۔۔
اسکے یوں لیٹنے سے اسکی گردن اور سینے کا کچھ حصہ مشائم کے سامنے تھا۔۔ وه بے خود سی اسے دیکھے گئی۔۔ اسکی نظریں صالح کی گردن میں ابھری ہڈی سے سفر کرتیں گهنی داڑھی اور چوڑی “جاء لائن” پر آ کر ٹھہریں۔۔
“سب ٹھیک ہے۔۔؟؟؟” صالح کی گھمبیر آواز پر وه چونکی۔۔ پھر اپنی بےخودی پر شرمندہ ہوتی وه خوامخواہ بالوں کو چھیڑنے لگی۔۔
“ہاں وه میں کہہ رہی تھی کہ کسی لڑکی سے بات کرنے کی ضرورت نہیں آپ کو اور دیکھنے کی بھی۔۔۔!!!” وه جل کر کوئلہ ہوتے بولی۔۔
اوہو۔۔۔!!! صالح کے افسوس بھرے انداز پر وه چونکی۔۔ پہلے کہنا تھا نہ آپ نے۔۔ اب تو۔۔۔!!!
وه اسکے رنگ بدلتے چہرے کو دیکھ کر محظوظ ہوتا مصنوعی سنجیدگی سے کہتا بات ادھوری چھوڑ گیا۔۔
مشائم نے بےچینی سے اسے دیکھا۔۔ اب کیا۔۔؟؟ وہ جلدی سے بولی۔۔
“یونیورسٹی میں ایک لڑکی ہے بہت پسند کرتی ہے مجھے شادی بھی کرنا چاہتی ہے مجھ سے۔۔ میرے منع کرنے کے باوجود وه میرے قریب آ گئی آج!!!”
کتنے قریب؟؟
مشائم نے بےچینی سے پوچھا۔۔
جتنے قریب آپ تھی مجھ سے جب آپ میرے اوپر گری تھی!!!
اسکی جیلسی محسوس کرتے وه لب کا کونہ دبا کر اسے دیکھنے لگا۔۔
مشائم کی سانس تھمی تھی۔۔
پھر؟؟ وه ماتھے پر بل ڈالے بولی۔۔
“پھر اس نے۔۔۔۔ وه کہتے کہتے رکا۔۔۔ اس نے کِس کیا مجھے یہاں۔۔!!!” صالح نے اپنے لبوں پر انگلی رکھی۔۔
اسکا کہنا ہی تھا کہ مشائم پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔۔۔ اسے یوں روتے دیکھ کر صالح کے ہاتھ پیر پھول گئے۔۔
“یار مذاق کررہا تھا میں!!”
وه فورا سے بولا۔۔ مشائم اسکی بات پر دیہان دیے بغیر روتی رہی۔۔
اگر ابھی کے ابھی چپ نہ ہوئی آپ تو میں ابھی اسی وقت واپسی کے لیے نکل جاؤں گا۔۔ اور وہاں پھر آپ کی خیر نہیں ہوگی یہ یاد رکھیں۔۔!!!
وه اسے وارن کرتے بولا تو مشائم چپ ہوتی آنسو پونچھنے لگی۔۔
“مجھے تو کبھی ایسے نہیں دیکھا آپ نے!!!” وه بھیگی آنکھوں سے اسے دیکھتی شکوہ کر گئی۔۔
صالح نے گہری نظر اس پر ڈالی۔۔ “اب یہ تو غلط کہہ رہی ہیں آپ۔۔ آپ ہی کو تو ایسی نظر سے دیکھا ہے بس” وه بھاری لہجے میں بولا۔۔۔
مشائم کو اس لمحے اس سے بہت حیا آئی۔۔ “اوکے میں سونے لگی ہوں!!! خدا حافظ۔۔۔!!!” مشائم جلدی سے بولی۔۔
اوکے خدا حافظ!! موبائل بند کر کے بیڈ پر پهینکتے وه چت لیٹتا بڑبڑایا۔۔ “میری نیندیں اڑا کر خود سونے لگی ہیں۔۔”
