Lambiyan Ne Rahwan Ishq Diya by Mirha Khan NovelR50479 Lambiyan Ne Rahwan Ishq Diya Episode 19
No Download Link
Rate this Novel
Lambiyan Ne Rahwan Ishq Diya Episode 19
Lambiyan Ne Rahwan Ishq Diya by Mirha Khan
اہم۔۔ بابا سائیں آپ سے کچھ بات کرنا چاہتا ہوں!! ماہ بیر گلا کھنکار کر ان کے کمرے میں آیا۔۔ وه ساری رات سکون سے سو نہیں پایا تھا۔۔ بہت سوچ بچار کے بعد اس نے ایک فیصلہ لیا تھا اسی سلسلے میں وه ان سے بات کرنا چاہتا تھا۔۔
آؤ!! سب خیریت؟ وه اسکا سنجیدگی سے بھرپور انداز دیکھتے ہوئے بولے۔۔ وه کمرے میں رکھے ٹو سٹر صوفے پر براجمان ہوتا بولا۔۔ “بابا سائیں آپ نے مشی کے لیے ایک فیصلہ لیا اور ہم نے آپ کے فیصلے کا احترام کیا تھا۔۔ افسوس ہے کہ ہمارا فیصلہ غلط ثابت ہوا اور مشی کی زندگی پر گہرا اثر چھوڑ گیا ہے۔۔ کس طرح کے حالات سے گزری ہے وه آپ باخوبی واقف ہیں۔۔”
عبدالله شاہ بھی سنجیده ہوئے۔۔ تم کہنا کیا چاہتے ہو کھل کر کہو!! وه اسے تمہید باندھتے دیکھ کر گویا ہوا۔۔
“بابا سائیں میں نے ایک بھائی ہونے کی حیثیت سے اسکے لیے ایک فیصلہ کیا ہے میں چاہتا ہوں اب اسکی شادی ہوجائے۔۔ یوں تنہا رہ کر وه ذہنی دباؤ کا شکار ہی رہے گی” وه خاموش ہوتا ان کا ردعمل دیکھنے لگا۔۔
“کہو میں سن رہا ہوں” انہوں نے اسے بات جاری رکھنے کا کہا۔۔
یوسف کا انتخاب کیا ہے میں نے!! اس نے جیسے ان کے سر پر بم پھوڑا تھا۔۔ وه بےيقینی سے اسے دیکھنے لگے۔۔ یہ کیا کہہ رہے ہو تم ہوش میں تو ہو؟ انہوں نے حتی الامکان خود پر قابو پاتے لہجے کو دهیما رکھا۔۔ “اس لڑکے سے شادی کر دیں ہم جس کی وجہ سے اتنا تماشہ ہوا تھا اور وه ہماری ذات سے بھی نہیں کیوں بھول رہے ہو!!”
بابا سائیں اس سب میں یوسف کا کوئی قصور نہیں تھا یہ بات آپ جان لیں۔۔ میں اپنے طور معاملے کی تصدیق کرچکا ہوں اور رہی بات ذات پات کی تو ذات میں کر کے دیکھ لیا نہ کیا حاصل ہوا بے عزتی ، ذلت ، رسوائی؟ آپ ہر چیز کو بھول کر سوچیں اور خود بتائیں کہ یوسف کیا ہر لحاظ سے بہترین انتخاب نہیں؟ اسکے کردار کی گواہی میں دیتا ہوں آپ کو اور جس طرح وه ہم سب کی حفاظت کے لیے اپنی جان کی پروا بھی نہیں کرتا کیا وه شوہر کی حیثیت سے مشی کو گزند پہنچنے دے گا؟ آپ جانتے ہیں ہمارے کتنے دشمن ہیں۔۔ کیا کوئی اور اسکی یوں حفاظت کر پائے گا۔۔؟ چلیں آپ صرف مشی کی خوشی کا ہی سوچ لیں کیا اسے اپنی مرضی سے زندگی گزارنے کا حق نہیں؟ کیا اسکا خوشیوں پر حق نہیں؟ دیکھیں کتنی گم صم رہنے لگی ہے۔۔ میں اسکی خوشیوں کو اب خود ساختہ ذات پات کے چکروں کی بھینٹ نہیں چڑھنے دوں گا!!
وه تلخی سے بولا تھا۔۔ آخر کیوں ہمارے معاشرے میں عورت ذات کو اسکی پسند سے شادی کرنے کی اجازت نہیں ہے۔۔
عبداللّه شاہ خاموش ہوئے تھے۔۔ اسکے پختہ دلائل کے آگے وه لاجواب ہوگئے۔۔ کمرے میں چند پل تو خاموشی چھائی رہی بس دو نفوس کے سانس لینے کی دهیمی آواز آ رہی تھی۔۔
ٹھیک ہے تمہیں جیسے مناسب لگے۔۔!! وه ناراضگی بھرے لہجے میں بولے تو ماہ بیر اٹھ کر ان کے پاس آیا۔۔ بابا سائیں یقین کریں یہ بہترین فیصلہ ہے!! انشااللہ آپ کو کوئی شکایت نہیں ہوگی اس سے۔۔ اسکے متانت سے کہنے پر وه محض سر ہلا گئے۔۔
عارفہ ابھی ابھی مشائم کو مطلع کر کے گئی تھیں۔۔ وہ سن سی بیٹھی رہ گئی۔۔ آنکھوں میں بےيقینی ہی بےيقینی تھی۔۔ جب شدت سے مانگی گئی دعائیں قبولیت کا شرف حاصل کرتی ہیں تو انسان ایسے ہی بےیقین ہوتا ہے۔۔ وه کتنا تڑپی تھی کتنی دعائیں مانگی تھیں اس نے یوسف کا ساتھ پانے کی۔۔
اسکے دل کی دھڑکن سوا ہوئی تھی۔۔ وه اٹھ کھڑی ہوئی۔۔ اس نے گہری سانس لیتے خود کو باور کروایا کہ جو اس نے سنا وه خواب نہیں بلکہ حقیقت ہے۔۔ یہ سوچتے ہی اس کے تصور میں یوسف کا عکس ابھرا۔۔
مستقبل کے حسین خواب آنکھوں میں سجاتے وه شرما گئی۔۔ اسکے گالوں پر گلال بکھرا تھا۔۔ تراشیدہ خوبصورت لبوں پر شرمگیں مسكان اٹھلانے لگی تھی۔۔ حیا اور حسن کا ایسا حسین امتزاج۔۔ اسکی بڑی بڑی بھوری آنکھوں کی بجهی جوت پھر سے جلنے لگی تھی۔۔
تو اب آپ میرے۔۔۔۔!! وه اس سے آگے سوچ نہ سکی۔۔ دل دھونکنی کی مانند چلنے لگا تھا۔۔ دھڑکنوں کا رقص اسے پاگل کرنے لگا تھا۔۔ اس ستمگر کے خیال سے ہی پگلی کی کیا حالت ہوگئی تھی۔۔
وه شرما کر کبرڈ کے پاس آئی۔۔ نفیس سا انگوری رنگ کا فراک چوڑی پاجامہ نکال کر وه غسل خانے میں تازہ دم ہو کر باہر آئی اور دوپٹے کا حجاب لے کر جائے نماز بچھاتی شکرانے کے نفل ادا کرنے لگی۔۔
بےشک ہر خوشی کے موقع پر پہلے اپنے پروردگار کا شکر ادا کرنا چاہیے۔۔ وه بھی اپنے رب کے حضور سجده کررہی تھی اسکا دل بارگاہ الٰہی میں شکرگزاری سے جھک رہا تھا۔۔ بے شک اسے نوازا گیا تھا۔۔
صالح جھرنے کے پاس اونچائی پر بڑے سے پتھر پر بیٹھا بلا مقصد پانی میں کنکڑیاں پهینکنے لگا تھا۔۔ دور سامنے شفاف پانی کی آبشار گر رہی تھی۔۔ ارد گرد بے انتہا دلکش منظر تھا جو دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا۔۔ دلکش پہاڑوں اور جا بجا درختوں سے گھری نہر قدرت کا عظیم شاہکار تھی۔۔
وه ماہ بیر کاانتظار کررہا تھا۔۔ کچھ دیر مزید انتظار کرنے کے بعد ماہ بیر آتا دکھائی دیا۔۔ صالح اٹھ کر اس سے بغل گیر ہوا۔۔ سائیں حویلی بلا لیا ہوتا!! وه دوبارہ پتھر پر بیٹھتا بولا۔۔
ماہ بیر بھی اس کے سامنے کچھ فاصلے پر پڑے بڑے سے پتھر پر بیٹھ گیا۔۔ “دل چاہ رہا تھا کسی پرفضا مقام پر جانے کا۔۔ اس لیے یہاں چلا آیا۔۔” وه تازہ ٹھنڈی ہوا میں سانس لیتا ہوا بولا۔۔
میں کچھ مصروف تھا لیکن تم سے بھی ضروری بات کرنی تھی اس لیے وقت نکال کر آ گیا۔۔ وه صالح کو دیکھتا سنجیدگی سے بولا۔۔
کیا بات ؟ سب ٹھیک ہے؟ وه مغرور آنکھیں اٹھاتا خود بھی سنجیده ہوا تھا۔۔
ہمم!! ماہ بیر نے ہنکارہ بھرا۔۔ “تمہیں یاد ہے تمہیں اور مشی کو لے کر کچھ بات ہوئی تھی حویلی میں!! ” وه جانچتی نظروں سے اسے دیکھتا ہوا بولا جو اس ذکر پر چونکا تھا۔۔
جی یاد ہے!! اس کے ماتھے پر لكیر نمایاں ہوئی تھی۔۔
آج میں تم سے کچھ مانگوں تو دو گے؟ ماہ بیر نے سادگی سے پوچھا۔۔
صالح کی چھٹی حس اسے خبردار کرہی تھی لیکن۔۔ اس نے ذہن میں سر اٹھاتی سوچوں کو جھٹکا۔۔ شاہ سائیں کے لیے کچھ بھی!!
“آپ کے لیے میری جان بھی حاضر ہے سائیں” وه صدق دل سے بولا۔۔
“مشی سے شادی کرلو!!” ماہ بیر امید سے اسے دیکھنے لگا۔۔ صالح خاموش کا خاموش رہ گیا۔۔
کچھ دیر بعد اس نے کہنا شروع کیا “یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں آپ جانتے ہیں ایسا ممکن نہیں ہے ہماری اور آپ کی ذات میں بڑا فرق ہے اور بڑے سا۔۔۔۔” ماہ بیر کو اپنے سامنے ہاتھ جوڑتے دیکھ کر وه اپنی جگہ سن رہ گیا۔۔
یہ کیا کررہے ہیں آپ!! وه پلک جهپکنے میں اس تک آیا۔۔ “ایسا کر کے مجھے میری نظروں میں مت گرائیں”۔۔ وه اسکے ہاتھ تھامتا سر جھکا کر لب بھینچ گیا۔۔
آپ اپنے یوسف کو حکم دیا کریں بس!! میں اماں کو بتا دوں گا۔۔
فرط مسرت سے ماہ بیر کی آنکھوں میں ہلکی سی نمی چمکی۔۔ اس نے اٹھ کر صالح کو زور سے گلے لگایا۔۔ بہت بہت شکریہ یار!!
صالح نے اندر کی بے چینی کو نظرانداز کرتے اسکے گرد بازو حائل کیے۔۔ تھوڑی دیر بعد وه دونوں اونچے نیچے پتھریلے راستے پر خوش گپیاں کرتے واپس جا رہے تھے۔۔
اماں میں شادی کررہا ہوں!! صالح نے کھانا کھاتے ہوئے انجم کے سر پر بم پھوڑا۔۔ آئے ہائے دیکھا میں کہتی تھی کسی کلموہی کے پیچھے لگا ہے تُو بیرا غرق ہو اسکا۔۔ مجھے بتایا تک نہیں اور شادی بھی کر آیا۔۔ انجم ماتھا پیٹتے واویلا کرنے لگیں۔۔
صالح کے حلق میں نوالہ اٹک گیا۔۔ اس نے جلدی سے پانی کا گلاس پکڑا اور غٹا غٹ پی گیا۔۔ “اماں بات تو سن لو پوری” وه خفگی سے بولا۔۔
میں نے شادی کی نہیں ہے بلکہ کرنے والا ہوں اور جس سے ہونی ہے نہ آپ کو پتہ چلے تو۔۔۔۔ وه سر جھٹکتا بات ادھوری چھوڑ کر کھانا کھانے لگا۔۔
انجم اسکے پاس چارپائی پر آ کر بیٹھ گئیں۔۔ “بتاتا کیوں نہیں اب کس سے کررہا ہے شادی ماں کو بتانا تک گوارا نہیں کیا۔۔” وه تڑخ کر بولیں تو صالح نے ہاتھ میں پکڑا نوالہ واپس رکھ دیا اور چہرے کے زاویے بگاڑ کر اٹھ کھڑا ہوا۔۔
“سکون سے کھانا بھی حرام ہوگیا ہے اب” اسکی بات پر انجم کو پتنگے لگ گئے۔۔
جا جا مجھ پر کیسے بگڑ رہا ہے بیوی آ جائے گی تو پھر دیکھوں گی تجھے کیسے زن مرید بنتا ہے!!
استغفراللّه!! یہ سب نے مجھے سمجھ کیا رکھا ہے؟ وه ماتھے پر بل ڈالے بڑبڑایا۔۔
سن لیں دیہان سے اب شاہ سائیں کی بہن سے شادی ہونے جارہی ہے میری۔۔ وه آئیں گے تاریخ پکی کرنے۔۔ انکی معلومات میں اضافہ کرتا وه جا چکا تھا۔۔
ہیں ؟ شاہ سائیں کی بہن۔۔۔۔۔ مطلب ۔۔۔۔۔۔۔ انہوں نے آنکھیں پوری کھولتے منہ پر ہاتھ رکھا۔۔ مطلب بڑے سائیں کی بیٹی!! وہ فرط مسرت سے بولیں۔۔
صالح بات سن!! خوشی سنبهلتے نہ سنبھل رہی تھی۔۔ آخر کو یہ کوئی چھوٹی بات تھوڑی تھی۔۔ وه جلدی سے پیروں میں چپل ڈالتے اسے پکارتیں اسکے پیچھے چلی گئیں۔۔
اس نے آخری بار نیچے جا کر جائزہ لیا۔۔ سب ملازم دوپہر کا کھانا کھانے جا چکے تھے۔۔ راستہ صاف دیکھ کر وہ کچن میں آئی۔۔ اورهان اس وقت سو رہا تھا۔۔ اسے یہ موقع بلکل مناسب لگا۔۔
اس نے کچن سے چاقو پکڑا اور دوپٹے کے نیچے چھپاتی جلدی جلدی سیڑھیاں چڑھتی اوپر آئی۔۔ اس نے وہیں کھڑے نیچے جھانک کر دیکھا۔۔ مطمئن ہو کر وه اورهان کے کمرے کے سامنے آئی۔۔
اس نے دھیرے دهیرے دروازه کھولا۔۔ وه بغیر چاپ پیدا کئے اندر آئی اور اسی خاموشی سے دروازه بند کر دیا۔۔ کمرے کے وسط میں ماسٹر بیڈ پر وه چت لیٹا سو رہا تھا۔۔ اس نے ایک ہاتھ سر کے نیچے رکھا ہوا تھا جس سے اس کے بازو کے پھولے ہوئے مسلز اور نماياں ہورہے تھے۔۔
وه اس پر نظریں مركوز کیے ہوئے آگے بڑھی تو قالین کے اٹھے ہوئے حصے میں اسکا پیر اٹکا۔۔ وه گرتے گرتے بچی تھی۔۔ اس نے منہ پر ہاتھ رکھتے بے ساختہ نکلنے والی چیخ کا گلا گھونٹا تھا۔۔
تیز دھڑکتے دل سے وه خود کو پرسکون کرتی آگے بڑھی اور بیڈ سے دو قدم کے فاصلے پر رک گئی۔۔ اسکی آنکھیں نفرت سے جل رہی تھیں۔۔ اس نے چاقو والا ہاتھ باہر نکالا۔۔ دماغ نے نفی کی۔۔
پہلے چیک کرلوں کہ وه گہری نیند سورہا ہے یا نہیں!! دل میں سوچتی وه بیڈ کے بلکل پاس آ گئی۔۔ اس نے جھک کر اورهان کے چہرے کے آگے ہاتھ ہلایا۔۔ اس سب میں اسکا چہرہ اورهان کے چہرے کے قریب آ گیا تھا۔۔ چاقو والا ہاتھ پیچھے کمر کے ساتھ لگائے اس نے دوسرا ہاتھ دو تین بار اسکے چہرے کے آگے ہلایا۔۔
وه پیچھے ہٹنے ہی لگی تھی کہ اورهان نے آنکھیں کھول دیں۔۔ نیم وا آنکھوں سے وه اسے اپنے اوپر جھکا ہوا دیکھنے لگا جو آنکھیں بڑی کیے اپنی جگہ فریز ہوئی تھی۔۔ اس نے سیكنڈ کی دیر کئے بغیر چاقو نیچے پھینک دیا جو قالین پر گر گیا۔۔
اورهان ابھی مکمل بیدار نہیں ہوا تھا۔۔ نیند کی کیفیت میں اس نے اینارا کی کمر میں ہاتھ ڈالتے اسے اپنے اوپر گرا لیا اور کروٹ بدل کر آنكهیں موند گیا۔۔ اسکی گرم سانسیں اینارا کے چہرے پر پڑتیں اسے وحشت میں مبتلا کررہی تھیں۔۔ پہلی بار مردانہ لمس محسوس کرتے اسکی دھڑکنیں بےترتیب ہوئی تھیں۔۔
اورهان کی سانسیں بھاری ہوگئیں جس سے اسے اندازہ ہوا وه پھر سے سو چکا ہے۔۔ اس نے اپنی پوری طاقت لگا کر اس چٹان جیسے وجود کو پیچھے ہٹایا اور جلدی سے بیڈ سے نیچے اتر کر چاقو اٹھا کر بغیر پیچھے دیکھے کمرے سے باہر دوڑی تھی۔۔
وه تو اسکی سانسیں بند کرنے آئی تھی لیکن اس کی خود کی سانسیں بند ہونے والی تھیں۔۔ کانپتے ہاتھوں سے کچن میں چاقو رکھتے وه دل کی لمحہ بہ لمحہ تیز ہوتی دھڑکنوں پر پریشان ہوتی اپنے کمرے میں چلی گئی۔۔
چھچھ۔۔۔چھوڑ۔۔۔و مجھے ۔۔۔ میرے ۔۔۔پاس ۔۔۔۔ مت ۔۔۔ نیند میں بڑبڑاتی وه پسینے میں مکمل شرابور تھی ۔۔ اسکی سانسیں تیز چل رہی تھیں اور رنگ زرد ہورہا تھا۔۔
وه آنکھیں کھولتی جھٹکے سے اٹھی۔۔ اسکی آنکھوں میں خوف صاف نمایاں تھا۔۔ اس نے اپنے بازو کو رگڑا۔۔ پھر وه دیوانہ وار اپنی گردن اور چہرے کو ہاتھ سے رگڑنے لگی۔۔
روتی ہوئی وه اٹھی اور باتھروم میں جا کر اپنے جسم کو اسکے كراہیت آمیز لمس سے پاک کرنے کے لیے شاور کھول کر اس کے نیچے کھڑی ہوگئی۔۔ پانی اسکے چہرے سے ہوتا اسے مکمل بھگونے لگا تھا۔۔
آخر خوابوں کے یہ آسیب کب میرا پیچھا چھوڑیں گے۔۔ کاش میری یادداشت چلی جائے۔۔ وه بے بسی سے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔۔ چند پل وه یونہی کھڑی رہی۔۔ جب حواس درست ہوئے تو وه باہر آئی اور الماری سے کپڑے نکال کر دوبارہ باتھروم میں گھس گئی۔۔
اب جب وہ باہر آئی تو اسکا چہرہ سپاٹ تھا۔۔ واپس بیڈ پر آ کر وه چت لیٹ گئی اور نیند نہ آنے کے باوجود آنکھیں موند گئی۔۔
سر آپ مجھے کہاں لے آئے ہیں؟ وه آنکھوں پر بندهی پٹی کو انگلیوں سے چھوتی اورهان کے ساتھ چل رہی تھی جو اسکا ہاتھ تھامے ایک ٹاپ کلاس ریسٹرانٹ میں داخل ہوا۔۔ اس نے سارا رسٹرانٹ خالی کروایا تھا۔۔
اندر دیواروں پر سرخ غباروں کی بہت اچھی ڈیکوریشن کی گئی تھی سنٹر میں ایک ٹیبل کے اطراف میں دو كرسیاں رکھی تھیں۔۔ ٹیبل پر گلاب کے پھولوں کا دل بنا ہوا تھا اور چند گلاب ایک طرف دھرے ہوئے تھے۔۔
اینارا کے نتھنوں سے گلاب کے پھولوں کی خوشبو ٹکرائی۔۔ وه اس وقت سرخ رنگ کے لانگ فراک میں ملبوس دوپٹہ گلے میں ڈالے ہوئے تھی۔۔ اورهان اسے ایک سرپرائز کا کہتا اپنے ساتھ لایا تھا۔۔ وه مکمل بلیک تھری پیس میں ملبوس بےحد وجیہہ لگ رہا تھا۔۔ اینارا کو کچھ کچھ اندازه تھا کہ وه اسے پسند کرنے لگا ہے لیکن آج وه اسے کس لیے یہاں لایا تھا وه سمجھنے میں ناکام رہی۔۔
اس نے احتیاطًا اپنے پرس میں چھوٹا چاقو رکھ لیا تھا۔۔ اب وه مر کر بھی کسی پر اعتبار کرنے کی قائل نہیں تھی۔۔
اورهان نے اسکی آنکھوں سے پٹی اتاری تو وه حیرت سے ٹکر ٹکر چاروں جانب دیکھنے لگی۔۔ یہ سب۔۔۔۔۔ اس نے کہنا چاہا لیکن اورهان نے لبوں پر انگلی رکھ کر اسے خاموش کروا دیا۔۔
اس کا ہاتھ تھامے وه ٹیبل تک آیا اور چیئر گهسیٹ کر کھڑا ہوگیا۔۔ اینارا سمجھ کر آگے بڑھی اور بیٹھ گئی۔۔ اورهان بھی اس کے مقابل بیٹھ گیا۔۔
پہلے ڈنر کر لیں۔۔!!
اس نے بیرے کو اشارہ کیا جو اس کے انتظار میں ہی کھڑا تھا۔۔ بیرے نے جلدی جلدی کھانا لگا دیا۔۔ وه دونوں خاموشی سے کھانا کھانے لگے۔۔ اس دوران وه بار بار اورهان کو ٹٹولتی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔۔
