Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Lambiyan Ne Rahwan Ishq Diya Episode 27

Lambiyan Ne Rahwan Ishq Diya by Mirha Khan

یہ کیا کررہے ہو؟؟

وه ابھی ابھی یونیورسٹی سے آئی تھی۔۔ گھر کے گرد جهمگھٹا دیکھ کر وه تیز تیز چلتی آئی۔۔ سامنے مالک مکان کو سارا سامان گھر کے سامنے پھینکتے دیکھ کر اس کا دماغ گھوما تھا۔۔۔

مالک مکان رکا اور ایک تند نظر اس پر ڈالی۔۔

“وہی کررہا ہوں جو بہت پہلے کر دینا چاہیے تھا مجھے تو تیرے لچھن شروع سے ہی اچھے نہیں لگتے تھے۔۔ اب تو حد ہی پار کردی۔۔ بی بی یہ شریفوں کا محلہ ہے یہاں تم جیسوں کی کوئی جگہ نہیں!!!”

ان کا سارا مختصر سامان وہ گھر کے بلکل سامنے پھینک چکا تھا۔۔

لوگ انہیں دیکھ دیکھ کر چہ مگوئیاں کررہے تھے۔۔

ارشما نے پریشانی سے ماتھے پر پھوٹتا پسینہ صاف کیا۔۔ بی جان؟ اسے سرعت سے خیال آیا تو اس نے ارد گرد نظر دوڑائی۔۔

وه اسے لوگوں کے بیچ کھڑیں روتی ہوئیں نظر آ گئیں۔۔ دیکھیں میری بات سنیں آپ کا جو بھی مسلہ ہے وه ہم سلجها لیں گے آپ ایسے کیسے بغیر انفارم کئے ہمیں نکال سکتے ہیں یہاں سے؟؟

اس نے حتی الامکان آواز کو دهیما رکھا ورنہ دل تو کررہا تھا اس جاہل شخص کا سر پھاڑ دے۔۔

اس نے بی جان کو آنکھوں ہی آنکھوں میں تسلی دی۔۔۔

“بس بی بی میں نے کسی اور کو دے دیا ہے یہ مکان کرائے پر جاؤ جاؤ میرا سر نہ کھاؤ!!!۔۔”

وه بدلحاظی سے کہتا مکان کو تالا لگا کر منہ میں بڑبڑاتا وہاں سے نکل گیا۔۔

اسکے جانے کے لوگوں کا رش بھی چھٹتا گیا۔۔ کوئی بھی ان کی مدد کے لیے آگے نہیں بڑھا تھا۔۔ بی جان سر تھام کر مکان کی تھڑی پر بیٹھ گئیں۔۔

ارشما نے لب سختی سے بھینچے اور نیچے جھک کر زمین پر گرا سامان سمیٹنے لگی۔۔ زندگی سے ہوئے شکووں میں ایک اور شکوے کا اضافہ ہوچکا تھا۔۔

وه سامان سمیٹ کر بی جان کے پاس جا کر کھڑی ہوگئی۔۔ وه پرشکوہ نظروں سے آسمان کو دیکھنے لگی جہاں شام کا اندھیرا پھیلنے لگا تھا۔۔

ایک آنسو اسکی آنکھ سے ٹپکا تھا۔۔ اس نے بےدردی سے اسے ہاتھ کی پشت سے صاف کر دیا۔۔

“اب کیا کروں میں اتنی جلدی کرائے پر گھر بھی نہیں ملے گا۔۔۔ میری قسمت ہی ایسی ہے جس کے ساتھ بھی رہوں اس پر بھی میری بری قسمت کا سایہ پڑ جاتا ہے آخر کیوں بچ گئی تھی میں کاش تب ہی مر گئی ہوتی۔۔۔”

وه تلخی سے سوچنے لگی۔۔

“بی جان آپ یہیں ركیں میں آتی ہوں!!!۔۔۔”

بجھے لہجے میں ان سے کہتی وه قدم گهسیٹتی ہوئی گلی کا کونہ عبور کر گئی۔۔

سڑک پر آ کر وه ایک ساتھ بنی دکانوں کی جانب بڑھی۔۔ وہاں کھڑے مرد عجیب نظروں سے اسے گھور رہے تھے۔۔ وه دل میں کڑھتی ایک دکان کے سامنے آ کر رکی۔۔

“بھائی وه یہاں قریبی کوئی کرائے کا گھر مل سکتا ہے آج ہی؟ وه اصل میں ہم نئے ہیں یہاں ہمیں گھر کی فوری ضرورت ہے!!!۔۔۔”

اسے سمجھ نہ آئی کیسے بات کرے سو جو منہ میں آیا بول گئی۔۔

دکاندار پان تھوک کر اسے دیکھ کر ہسنے لگا۔۔

“ہاں مل سکتا ہے نہ میرے گھر آ جاؤ خوب عیش کرواؤں گا۔۔”

اسکے دیکھا دیکھی باقی مرد بھی ہاتھ پر ہاتھ مار کر ہنس دیے۔۔

ارشما کو ان سے شدید كراہیت محسوس ہوئی۔۔ وه ایک سخت نظر ان پر ڈال کر واپس پلٹ گئی۔۔

بی جان نے اسے آتے دیکھ کر آنکھوں ہی آنکھوں میں پوچھا تو وه مایوسی سے نفی میں سر ہلا گئی۔۔ رات ہوگئی تھی۔۔ آسمان پر چمکتا چاند دیکھ کر اس کا شدت سے رونے کا دل چاہا۔۔

“یہاں ہر شخص کی زندگی چاند کی طرح روشن ہے جبکہ میری تو اسکے برعکس بلکل اندهیر ہے۔۔ کیوں اللّه تعالیٰ میرے ساتھ ہی کیوں ایسا ہوتا ہے کیا میں آپ کی بندی نہیں ہوں؟؟۔۔۔”

یہ سب سوچتے وه بھول گئی کہ اندھیری رات کے بعد روشن صبح ہے۔۔

وه بیگ گود میں دھرے بیٹھی تھی کہ اسکی گرفت ڈھیلی پڑی اور بیگ نیچے جا گرا۔۔

آدھی زپ کھلی ہونے کی وجہ سے کچھ چیزیں باہر نکل آئیں۔۔ وه کوفت سے چیزیں اٹھانے کو نیچے جھکی کہ ایک کارڈ پر اسکی نظر پڑی۔۔

اسکے ذہن میں جهماکا ہوا۔۔ اس نے کانپتے ہاتھوں سے کارڈ پکڑا۔۔ دل میں ایک امید بندهی تھی۔۔

کپكپاتے ہاتھوں سے اس نے کارڈ سے دیکھ کر نمبر ڈائل کیا اور کان سے لگایا۔۔ بی جان سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگیں تو اس نے ہاتھ اٹھا کر ایک منٹ رکنے کا اشارہ کیا۔۔ “ہیلو!! ماہ بیر بات کررہے ہیں؟؟”

وه دھڑکتے دل سے بولی..

ہوں۔۔۔ جی ۔۔۔ نہیں کچھ بھی ٹھیک نہیں ہے۔۔۔”

کہتے ہوئے اسکے گلے میں آنسوؤں کا گولہ اٹکا۔۔

“آپ آ جائیں جلدی پلیز!!!”

اوکے میں ویٹ کررہی ہوں۔۔۔۔

اس نے کال کاٹ دی۔۔ بی جان کو کچھ پوچھنے کی ضرورت پیش نہ آئی وه اسکی بات سے سمجھ گئی تھیں۔۔ کچھ ہی دیر بعد ماہ بیر ان کے سامنے تھا۔۔

آپ ٹھیک ہیں؟؟

اسکا کہنا ہی تھا کہ ارشما نفی میں سر ہلا گئی۔۔ اسکی آنکھوں میں نمی چمکی۔۔

“مالک مکان نے ہمیں گھر سے نکال دیا!!!۔۔۔”

وه ضبط کی آخری انتہا پر تھی۔۔ قریب تھا کہ وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگتی۔۔

ماہ بیر نے لب بھینچے تھے۔۔

“آپ میرے ساتھ چلیں میرا فلیٹ ہے آپ ابھی چلیں پھر دیکھتے ہیں کیا کرنا ہے” آئیں پلیز۔۔۔!!!

ماہ بیر نے بی جا کے آگے ہاتھ بڑھایا تو وه آنکھیں پونچھتیں اسکا ہاتھ تھام کر اٹھ کھڑی ہوئیں۔۔۔

ان دونوں کو تکلیف میں دیکھ کر ماہ بیر نے جبڑے بھینچ کر خود سے عہد کیا تھا کہ وه اس مالک مکان کا ایسا حشر کرے گا کہ وه دوبارہ کبھی کسی کے ساتھ ایسا سلوک کرنے کی ہمت نہیں کر سکے گا۔۔

ماہ بیر کی پیروی میں ارشما آگے بڑھی۔۔ ماہ بیر نے کار کا دروازه کھولا تو وه اور بی جان پچھلی سیٹوں پر بیٹھ گئیں۔۔

ماہ بیر نے واپس جا کر ان کا سامان اٹھایا اور گاڑی کی ڈگی میں رکھ کر ڈرائیونگ سیٹ پر آ کر بیٹھا۔۔

اس نے بیک ویو مرر میں ارشما کو دیکھا جو ونڈو سے باہر دیکھ رہی تھی۔۔

اس کی آنکھوں سے آنسو توتر سے گرتے جا رہے تھے۔۔

ماہ بیر نے موبائل آن کر کے میسج ٹائپ کیا اور اسکے نمبر پر بھیج کر گاڑی سٹارٹ کرنے لگا۔۔

بیپ کی آواز پر ارشما نے موبائل ان لاک کرتے میسج آن کیا۔۔ لکھا تھا

“پلیز ڈونٹ کرائے آپ نکچڑی ہی اچھی لگتی ہیں!!!۔۔”

ارشما نے بھیگی پلکیں اٹھا کر دیکھا تو وه بیک ویو مرر میں اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔

نظریں دوبارہ باہر کی طرف ٹکاتے اس نے آنسو پونچھ ڈالے۔۔ چند منٹوں کی ڈرائیو کے بعد وه ایک بلڈنگ کے سامنے رکے۔۔ ماہ بیر انہیں لیے لفٹ کی طرف بڑھا اور چوتھے فلور پر آتے ہی وه لفٹ سے باہر نکل آئے۔۔

اس نے اپنے فلیٹ کے سامنے آتے چابی لگا کر دروازه کھولا اور پیچھے ہٹ کر انہیں راستہ دیا۔۔

بی جان کے پیچھے ارشما چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی اندر آئی۔۔ ماہ بیر نے اندر آ کر دروازه بند کیا اور سامان ایک طرف رکھتے انہیں ایک كمره دکھایا جو اس کے اور صالح کے استعمال میں نہیں تھا۔۔

کمرے میں ضرورت کی ہر چیز موجود تھی۔۔ اتنا خوبصورت فلیٹ دیکھ کر ارشما کی آنکھوں میں ایک پل کو ستائش نماياں ہوئی تھی۔۔

ماہ بیر انہیں چھوڑ کر کچن میں آیا۔۔ اس نے فریج چیک کی۔۔ کولڈ ڈرنکس نکال کر اس نے موبائل پر کھانا آرڈر کیا اور گلاس میں کولڈ ڈرنک ڈالتا ان کے کمرے کے سامنے رکا۔۔ اس نے باہر رکتے دروازه ناک کیا تو بی جان کی آواز آئی

“آ جاؤ بیٹا!!!”

وه اندر آیا اور انہیں کولڈ ڈرنک تهما کر دوسرا گلاس بیڈ سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا۔۔

ارشما ابھی واش روم میں تھی۔

۔ “میں نے کھانا آرڈر کر دیا ہے پلیز تكلف مت کیجئے گا فریش ہو کر باہر ا جائیں اس کے بعد مجھے آپ سے ضروری بات کرنی ہے!!!۔۔”

وه نرم لہجے میں کہتا باہر چلا گیا۔۔ ارشما باہر نکلی اور دوپٹے سے منہ صاف کر کے بی جان کے برابر آ بیٹھی۔۔

بی جان نے گلاس اسکی طرف بڑھایا تو وه چپ چاپ منہ سے لگا گئی۔۔۔ پیاس سے حلق سوکھ رہا تھا۔۔

“آپ سے کچھ کہا ماہ بیر نے؟؟؟۔۔۔”

وه سر جھکا کر بجھے لہجے میں بولی۔۔

بی جان نے نفی میں سر ہلایا۔۔

“بہت نیک سیرت بچہ ہے۔۔ میں نے اسکے ماتھے پر ایک شکن تک نہیں دیکھی۔۔ ابھی کہہ کر گیا ہے کچھ دیر تک کھانا آ جائے گا تكلف مت کیجئے گا!!!۔۔۔”

ارشما کو بہت شرمندگی محسوس ہورہی تھی۔۔۔اس نے کب سوچا تھا کہ ایسا وقت بھی دیکھنے کو ملے گا۔۔

ماہ بیر کھانے کے لیے بلانے آیا تو وه باہر چل پڑے۔۔ خاموشی سے کھانا کھایا گیا۔۔

ماہ بیر بس ان کا ساتھ دینے کو تھوڑا بہت کھاتا رہا۔۔ کھانے سے فارغ ہو کر ارشما چپ چاپ اٹھ کر کمرے میں چلی گئی۔۔

بی جان نے ماہ بیر کو دیکھا وه برتن اٹھا کر کچن میں رکھ آیا اور انہیں ساتھ لیے لاؤنج میں آیا۔۔

“آپ پلیز مجھے ساری بات بتائیں مجھ پر اعتبار کر سکتی ہیں آپ!!!۔۔۔”

وه ان کے مقابل بیٹھتا ان کا ہاتھ تھام کر بولا۔۔

بی جان کی آنکھیں نم ہوئیں۔۔

“ہم کرائے کے مکان میں رہ رہے ہیں کافی وقت سے۔۔ مالک مکان بہت بدتمیز تھا ہر دوسرے دن آ جاتا تھا۔۔ ارشما کے یونیورسٹی میں بند ہونے کی خبر جانے کیسے اس تک پہنچ گئی اس نے بغیر ہماری بات سنے ہمیں ذلیل کر کے نکال دیا۔۔”

وه منہ پر ہاتھ رکھتے رونے لگی تھیں۔۔

ماہ بیر نے سختی سے لب بھینچے تھے۔۔

“آپ دونوں اکیلی رہتی ہیں میرا مطلب اور کوئی نہیں؟؟؟۔۔۔”

ماہ بیر کے پوچھنے پر بی جان نے نفی میں سر ہلایا۔۔

ماہ بیر نے گہری سانس لے کر انہیں دیکھا۔۔

“میں کل تک اسی بلڈنگ میں فلیٹ دلوا دوں گا آپ کو آپ دکھی مت ہوں انشااللہ سب ٹھیک ہوجائے گا!!!۔۔۔”

بی جان نے آنسو پونچھتے اسے دیکھا۔۔

“نہیں بیٹا کتنے احسان کرو گے ہم پر ہمیں اچھا نہیں لگے گا تم بس ہمیں کہیں کرائے پر دو کمروں کا مکان دلوا دو تمہاری بڑی مہربانی ہوگی!!!۔۔۔”

ماہ بیر نے نفی میں سر ہلایا۔۔

“کیسی باتیں کررہی ہیں آپ؟؟؟ میں کوئی احسان نہیں کررہا آپ پر یہ میرا فرض ہے اور وه تو میری ٹیچر بھی ہیں میری غیرت یہ گوارا نہیں کرتی کہ آپ کو یوں جانے دوں۔۔ پلیز مجھے آپ کی مدد کرنے دیں میں ان سے بھی بات کر لوں گا!!!۔۔۔”

اسکے اسرار کے آگے بی جان خاموش ہوگئیں۔۔

وه کھنکارہ ۔۔ یہی صحیح موقع تھا جب وه بات کر سکتا تھا اس نے الفاظ تولتے بی جان کو دیکھا۔۔

“میں ایک بات کرنا چاہتا ہوں!!!۔۔۔”

بولو بیٹا کیا بات ہے؟؟؟

بی جان نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔۔

” میں ارشما کو اپنانا چاہتا ہوں پسند کرتا ہوں میں انہیں!!!۔۔۔”

وه سر جھکا کر بولا۔۔

بی جان نے ڈبڈبائی آنکھوں سے اسے دیکھا۔۔

“اسکی حقیقت جاننے کے بعد کوئی بھی اسے اپنانا نہیں چاہے گا!!!۔۔۔”

ان کی بات پر ماہ بیر نے ناسمجھی سے اسے دیکھا۔۔

“میں سمجھا نہیں کھل کر کہیں!!!۔۔۔”

بی جان کی آنکھوں میں تکلیف نمایاں ہوئی۔۔ “اسکا ری***پ ہوا تھا!!!۔۔۔۔”

ماہ بیر نے بےيقینی سے انہیں دیکھا۔۔ اسکی ذات زلزلوں کی زد میں آ گئی۔۔

چند لمحوں کے لیے وه کچھ بول نہیں پایا۔۔

بی جان نے روتے ہوئے اسے ایک ایک حرف کہہ سنايا۔۔

ماہ بیر کی آنکھیں تکلیف سے سرخ ہوئی تھیں۔۔ وه نازک جان کتنا کچھ سہہ چکی تھی۔۔

“میں پھر بھی انہیں اپنانا چاہتا ہوں!!!۔۔۔” وه مظبوط لہجے میں بولتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔ آپ ان سے بات کر کے مجھے بتا دیجئے گا۔۔!!

دروازے کی اوٹ سے سب کچھ سنتی وہ لب بھینچ گئی۔۔ اس نے ایک سرد نظر ماہ بیر پر ڈالی اور وہاں سے ہٹ گئی۔۔

_________________________

خیر سے جاؤ اور اپنے ساس سسر کو میرا سلام دینا!!!

صالح اور مشائم آج دعوت پر حویلی جا رہے تھے۔۔ مشائم سیاہ ٹشو کے خوبصورت كیپری فراک میں ملبوس سیدھا صالح یوسف کے دل میں اتر رہی تھی۔۔

انجم کی بات سنتا وہ سر ہلا کر باہر نکلا تو مشائم بھی انجم سے مل کر چہرہ نقاب سے ڈھانپتی اسکے پیچھے دروازے سے باہر نکل گئی۔۔

صالح نے اسکی طرف کا دروازہ کھولا تو وہ احتیاط سے بیٹھی۔۔ اس نے بلیک ہائی ہیل پہن رکھی تھی جس کی وجہ سے وہ ڈر ڈر کر چلتی باہر آئی تھی۔۔

صالح نے جیپ سٹارٹ کرتے اس کے پیروں پر نظر ڈالی۔۔ صاف ستھرے خوبصورت پیر سیاہ ہیل میں اور بھی اجلے لگ رہے تھے۔۔

“اگر چلا نہیں جا رہا تھا تو مت پہنتیں ایسا جوتا اگر گر جاتیں تو؟؟؟۔۔۔”

وہ ایک نظر اسکے نقاب سے چھپے چہرے پر ڈالتا سیدھ میں دیکھتا ڈرائیو کرنے لگا۔۔

مشائم نے آنکھیں سكیڑ کر اسے دیکھا۔۔

“مجھے یہی ہیل پہننی تھی اس لیے پہن لی اور گرنے کا مجھے کوئی خوف نہیں۔۔ گر گئی تو آپ تھام لیں گے!!!۔۔۔” ایک انداز سے کہہ کر وہ باہر تیزی سے گزرتی سڑک پر نگاہیں جما گئی۔۔

صالح اس کے اعتماد پر عش عش کر اٹھا۔۔

کیسا یقین تھا۔۔ اسکے موبائل پر ضروری کال آنے لگی تو اس نے جیپ ایک طرف کھڑی کر دی۔۔

“ضروری کال ہے میں پانچ منٹ تک آتا ہوں آپ یہیں رہیے گا!!!۔۔۔”

مشائم کو دیکھ کر کہتا وہ کال اٹینڈ کرتا کچھ دور جا کر اسکی طرف پشت کئے کھڑا ہوگیا۔۔

مشائم بور ہوتی یونہی ادھر ادھر نظریں گھمانے لگی۔۔ پانچ منٹ گزر گئے لیکن وہ واپس نہ آیا۔۔

دفعتاً مشائم کی آنکھوں کے سامنے سے سفید رنگ کی ایک انتہائی خوبصورت تتلی گزری۔۔

وہ جلدی سے جیپ سے نیچے اتری۔۔ تتلی کچھ آگے جھاڑیوں کی طرف چلی گئی تو وہ بھی بنا سوچے جھاڑیوں میں گھس گئی۔۔۔

صالح واپس آیا تو اسے نہ پا کر اسکا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا۔۔ وہ شدید پریشانی کاشکار ہوا۔۔ “مشائم۔۔؟؟؟ کہاں ہیں آپ؟؟؟۔۔۔”

اسکی پکار پر وہ فوری طور پر جھاڑیوں سے باہر آئی۔۔

“جی کیا ہوا؟؟؟۔۔۔”

وہ اسکے مقابل آتے ہوئے بولی۔۔ اسکے اتنے آرام سے پوچھنے پر صالح کا دماغ گھوما۔۔

اسکا سکون برباد کر کے وہ کتنے آرام سے پوچھ رہی تھی کہ کیا ہوا؟؟

“کہاں گئی تھیں آپ۔۔ کہہ کر گیا تھا نہ کہ ہلنا نہیں یہاں سے؟؟ ایک بار کی بات سمجھ نہیں آتی آپ کو؟؟؟۔۔۔”

وہ اسکے بازو سختی سے پکڑتا غصے سے بولا۔۔۔

اسکے ماتھے کے بل اور آنکھوں میں غصہ دیکھ کر مشائم کی آنکھوں میں نمی چمکی۔۔ دفعتاً اس نے غصے سے ناک پھلائی اور اسکی جانب سے پیٹھ موڑ کر کھڑی ہوگئی۔۔۔ صالح نے دانت پیسے۔۔

“آپ سے کچھ کہہ رہا ہوں میں!!!۔۔۔”

اس نے مشائم کا بازو پکڑ کر اسکا رخ اپنی جانب کیا تو مشائم نے اپنے بازو پر رکھے اسکے ہاتھ پر تھپڑ مارا۔۔

“غصہ ہی کرتے بس مجھ پر ،،، پیار تو کبھی کیا نہیں!!!۔۔۔” وہ خفگی سے کہتی نظریں گھما گئی۔۔

اس انتہائی الزام پر صالح یوسف ہقا بقا رہ گیا۔۔

“تو وہ کیا تھا جو کل ہوا تھا؟؟۔۔۔”

وہ بھی تیکھی نظروں سے اسے ہونٹوں کو دیکھتا بولا۔۔ اسکی بات اور نظروں کے ارتكاز پر مشائم سٹپٹا کر تن فن کرتی گاڑی کے بونٹ پر چڑھ کر بیٹھ گئی۔۔

صالح نے ناسمجھی سے اسکی حرکت کو دیکھا۔۔ اب یہاں کیوں بیٹھ گئی ہیں آپ؟؟ کیا جانا نہیں؟؟

وہ اسکے مقابل آتا بلیک شرٹ کے بازو کہنیوں تک موڑتا بولا۔۔

پہلے “سوری بولیں!!!۔۔۔”

وہ اسے اگنور کرتی نظریں گھما کر بولی۔۔

“میں؟؟ صالح یوسف؟؟ آپ سے معافی مانگوں بھلا کس لیے؟؟۔۔۔”

وہ بونٹ پر اسکے ارد گرد دونوں بازو رکھ کر جهكتا اسکی آنکھوں میں دیکھتا چہرے سے نقاب ہٹا گیا۔۔

اسکی اس حرکت پر مشائم نے گهبرا کر تھوک نگلا۔۔

“مجھے ڈانٹا آپ نے !! اس لیے۔۔۔”

وہ جی کڑا کر کے اس کی آنکھوں میں دیکھتی بولی لیکن اسکی بولتی نظروں میں زیادہ دیر نہ دیکھ پائی اور لجا کر آنکھوں پر پلکوں کی جھالڑ گرا گئی۔۔

یہ منظر دیکھتا صالح یوسف اسکی اس ادا پر گهایل ہوا تھا۔۔۔

” آپ کی ادائیں بہت جان لیوا ہیں!!”

وہ اسکی لرزتی پلکیں دیکھتا محظوظ ہو کر بولتا لب کا کونہ دانتوں میں دبا گیا۔۔

اوکے تو آپ ایسے نہیں مانیں گی؟؟

وہ اسے خاموش دیکھ کر گہری سانس لے کر بولا تو مشائم سر جھکائے ہی نفی میں ہلا گئی۔۔

صالح نے بونٹ پر آگے کی جانب مزید جھکتے اسکے لبوں کو دیکھا اور درميانی فاصلہ ختم کرتا نرمی سے اسکے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے۔۔

مشائم نے گھبرا کر آنکھیں میچ لیں۔۔ چند پل اسکے ہونٹوں کی نرمی محسوس کرنے کے بعد وہ اسکے کان کی جانب جھکا۔۔

“میرا سوری کرنے کا یہی انداز ہے،،، امید ہے آپ کو پسند آیا ہوگا!!!۔۔۔”

کچھ دیر پہلے کی شیرنی کو چوہیا بنتے دیکھ کر وہ دهیما سا ہنس دیا۔۔

“چلیں اب؟؟ یا روڈ پر رومینس کرنے کا موڈ بن رہا آپ کا؟ ویسے آئیڈیا اچھا ہے کیوں نہ۔۔۔!!!”

وہ اسکا حد سے سرخ پڑتا چہرہ دیکھ کر بات ادھوری چھوڑ گیا۔۔

مشائم جلدی سے بونٹ سے نیچے اتری اور اس سے نظریں ملائے بغیر اپنی جگہ جا کر بیٹھ گئی۔۔

صالح دلکشی سے مسکرا کر ڈرائیونگ سیٹ پر آ بیٹھا اور تیز سپیڈ پر دوڑانے لگا۔۔ مشائم نے ڈر کر آنکھیں موندیں۔۔ “میرا بازو حاضر ہے!!!۔۔۔”

صالح مسکراہٹ دبا کر بولا تو اس نے دانت کچکچا کر ڈبڈبائی آنکھوں سے اپنے سڑو ڈھیٹ مزاجی خدا کو دیکھا اور زوردار مکا اسکے سینے پر مارا۔۔

“اف میں تو مر گیا!!!۔۔۔”

صالح سینے پر ہاتھ رکھتا ایک ادا سے بولا۔۔۔

“میں امی جان کو بتاؤں گی آپ مجھے تنگ کرتے ہیں!!!” اس نے وارن کیا۔۔

صالح نے ناک سے مكهی اڑانے والے انداز میں اسے دیکھا۔۔ “وہ کہیں گی صالح پتر روز تنگ کیا کر ایسے تا کہ جلدی مجھے خوشخبری ملے!!!۔۔۔”

اپنی بات کے نتیجے میں مشائم کی رونی صورت دیکھ کر وہ قہقہہ لگا گیا۔۔۔

اگر نگہت اسے یوں دیکھ لیتی تو يقیناً حیرت کے مارے بےہوش ہوجاتی۔۔

اشہد ان لا الا اللہ

و اشہد ان محمدﷺ عبدہ و رسول

حی اعلی الصلوۃ

حی اعلی الفلاح

الصلوۃ خیر من النوم

آنسو اس کی پلکوں کی باڑ توڑ کر شفاف موتیوں کی مانند گر رہے تھے۔۔ دونوں گال آنسوؤں سے بھیگ چکے تھے۔۔ وه ناف پر ہاتھ باندھے دل کو چھو جانے والی آواز میں فجر کی اذان دے رہا تھا۔۔

اس کے لب کانپے تھے۔۔ اس نے مائیک سے پیچھے ہٹتے ہچکی لی۔۔ نیم اندھیرے میں مسجد کےصحن میں کھلے آسمان تلے کھڑا وه اذان دے رہا تھا۔۔ اسکی آواز میں ایسا سوز ایسا درد تھا کہ اذان کو سننے والا ہر شخص رو رہا تھا۔۔

امام مسجد نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا تو وه گہری گیلی سانس کھینچ کر دوبارہ مائیک کے آگے آیا۔۔

اللّه اک۔۔۔ وه پھر اٹکا تھا۔۔ اللّه اکبر !!!!

لا الا الا اللّه!!!!

اذان دے کر وه نظریں جھکائے پلٹا اور صحن میں لگے نلکے کے سامنے پنجوں کے بل بیٹھ کر منہ پر پانی کے چھینٹے مارنے لگا۔۔ گہری سانس کھینچ کر کھڑا ہوتا وه ایک کمرے سے صفیں لا کر صحن میں بچھانے لگا۔۔

اورهان بیٹا؟؟؟

نماز کے بعد و ہ مسجد سے باہر نکلنے لگا تو امام مسجد کی آواز پر ٹھہرا۔۔

“جی!!!۔۔” وہ پلٹ کر ان تک آیا۔۔

“آج رات قرآن خوانی ہوگی مسجد میں تم ضرور آنا۔۔ میں تمھارے لیے خصوصی دعا کرواؤں گا کہ اللّه تمہاری تمام پریشانیاں اور تکلیفیں دور کرے!!!”

امام مسجد نے شفقت سے اسکے سر پر ہاتھ رکھا۔۔

اس نوجوان سے انہیں عجیب قسم کا لگاؤ ہوگیا تھا۔۔ اس دن جب وہ نوافل پڑھنے کے لیے اٹھے تھے تو مسجد کے احاطے میں انھوں نے اورهان کو بےسدھ پڑا ہوا پایا۔۔

وہ شدید زخمی تھا۔۔ انہوں نے “کون ہے کہاں سے آیا ہے” جیسی سوچوں کو ذہن میں لائے بغیر فوری طور پر اسکا علاج کروایا تھا۔۔

اللّه نے جس کی جتنی زندگی لکھ دی ہے وہ پوری کرنے کے بعد ہی لقمۂ اجل بنتا ہے۔۔

امام صاحب کے زریعے اسکی جان بچا کر اسے نئی زنگی دی گئی تھی۔۔ اسکے ٹھیک ہونے کے بعد امام صاحب نے ایک بار اس سے پوچھا تھا کہ وہ کون ہے؟؟

تو جواباً وہ عجیب سے انداز میں ہنسا تھا۔۔ یہ وہ پہلی اور آخری ہنسی تھی جو امام مسجد نے اسکے چہرے پر دیکھی تھی۔۔

وہ تب سے مدرسے میں قیام کر رہا تھا۔۔ مسجد میں پہروں بیٹھا اپنے خالی ہاتھوں کو دیکھتا رہتا اور روتا جاتا۔۔

ایک دن امام صاحب نے پوچھ ہی لیا کہ تم اپنے ہاتھوں کو کیوں دیکھتے رہتے ہو؟ تو وہ چند پل خاموش رہا پھر اس نے کہنا شروع کیا۔۔۔

دیکھتا ہوں میرے ہاتھ کتنے خالی ہیں کوئی بھی عمل تو نہیں میرے پاس۔۔ افسوس میں نے زندگی کے اتنے سال ضائع کردیے دنیا کی رنگینیوں میں کھو کر۔۔ مجھے۔۔۔۔ دنیا نے دھوکے میں ڈال دیا تھا۔۔ اب سوچتا ہوں اگر یونہی خالی ہاتھ مر جاتا تو۔۔۔۔ کیسے سامنا کرتا بروز قیامت اللّه کا اس کے رسول کا جو ہم جیسی امت کے لیے آنسو بہاتے رہے۔۔ میں گمراہ رہا افسوس میں گمراہ رہا۔۔۔

وہ سسکنے لگا تھا۔۔۔ اس دن امام صاحب بھی روئے تھے اس کے ساتھ۔۔

اللہ نے اپنا محبوب بندہ بھیجا تھا ان کے پاس اصلاح کے لیے۔۔

کوئی بھی کام بےسبب نہیں ہوتا۔۔ اللّه پاک تکلیف سے گزارتے ہیں اپنے بندے کو تا کہ اسے اپنے قریب کر سکیں۔۔ ایسی مہربان محبّت بھلا کوئی کر سکتا ہے؟؟

___________________

اورهان نے اثبات میں سر ہلایا۔۔

“جی آ جاؤں گا۔۔”

وہ جوتا پہن کر مسجد سے باہر آیا اور چند قدموں کے فاصلے پر بنے مدرسے کے دروازے سے اندر آیا۔۔

اپنے مخصوص کمرے میں جا کر وہ قرآن پاک چوم کر آنکھوں سے لگاتا خشوع و خضوع سے اسکی تلاوت میں مشغول ہوگیا۔۔

اسے احساس ہوا جیسے کمرے میں کوئی داخل ہوا ہے۔۔ وہ جانتا تھا کون ہوگا۔۔

اس نے زمین پر نگاہ ڈالی۔۔ ایک لمبا سا سایہ وہاں آ کر ٹھہرا تھا۔۔ نگاہ اٹھائی گئی تو کسی انسان کا نام و نشان تک نہ تھا۔۔

پھر یوں لگا جیسے وہ سایہ گھٹنوں کے بل بیٹھا تھا جیسے قرآن پاک اور اس کلام پاک کے پڑھنے والے کو تعظیم دے رہا ہو۔۔

اورهان نے دوبارہ نظریں قرآن پاک پر مرکوز کرلیں۔۔ وہ سایہ نہیں تھا محض اسکا ہمراز تھا اس کا ساتھی جس کی موجودگی کا وہ عادی ہو چکا تھا۔۔۔

وہ چھوٹے سے گھر کا دروازه کھول کر باہر نکلی تھی۔۔ دھوپ آنکھوں میں پڑی تو وہ آنکھیں سکیڑ کر ہاتھ میں پكڑے پلاسٹک بیگ پر گرفت ٹھیک کرتی ہموار قدم اٹھاتی آگے بڑھنے لگی۔۔

وہ لوگوں کی باتوں سے تنگ آ کر اپنا گھر بیچ کر جب سے اس چھوٹی سی بستی میں آ ٹھہرے تھے تب سے شائستہ گزر بسر کر لیے سلائی کڑھائی کرنے لگی تھیں۔۔

اینارا کا کسی قریبی سکول میں پڑھانے کا ارادہ تھا۔۔ وہ سوچ رہی تھی آج کل میں جا کر پتہ کرے۔۔

ابھی وہ سلائی کیے ہوئے کپڑے واپس دینے جا رہی تھی کیونکہ جن خاتون نے یہ کپڑے انہیں سلائی کے لیے دیے تھے انکی ایک ٹانگ نہیں تھی وہ لاٹھی کے سہارے چلتی تھیں۔۔ اس لیے شائستہ نے کہا کہ خود جا کر دے آؤ۔۔

وہ تنگ سی گلی کا دہانہ عبور کر کے ایک کھلے سے گلے میں نکل آئی۔۔۔ اس نے قدموں کی رفتار تیز کی تھی۔۔ نیچے دیکھ کر چلتی وہ دفعتاً کسی سے ٹکرا گئی۔۔

اس نے جھکا سر اٹھایا تو مقابل نے فوراً معذرت کی۔۔

” معاف کیجئے گا!!!۔۔۔”

البتہ مقابل نے نظریں نہ اٹھائیں۔۔۔

معذرت کر کے وہ نظریں جھکائے ہی ایک دوسری طرف سے نکل گیا۔۔۔

اینارا دنگ سی کھڑی رہ گئی۔۔ اس نے بےیقین نظروں سے پلٹ کر دیکھا۔

“اورهان؟؟؟”

اسکے لبوں نے بےآواز حرکت کی۔۔۔

“نہیں!!!۔۔۔” اس نے چلتے ہوئے نفی میں سر ہلایا۔۔

“ضرور مجھے کوئی غلط فہمی ہوئی ہے وہ اورهان نہیں ہوسکتا۔۔۔وہ تو مر چکا ہے!!!۔۔”

اس نے بار بار اسکے خیال کو ذہن سے جھٹکنا چاہا لیکن وہ کسی آسیب کی طرح اس سے چمٹ گیا تھا۔۔

“تم میرا پیچھا کیوں نہیں چھوڑ دیتے کیوں نہیں نکلتے میرے ذہن سے ؟؟ زندگی عذاب بنا دی ہے میرے لیے!!!۔۔۔”

وہ دبی دبی آواز میں چلائی تھی۔۔

ایک راہگزر نے پلٹ کر اسے دیکھا تھا۔۔ وہ سب سے لاپرواہ خود سے جنگ کرتی ایسے دهاگے کی طرح الجھتی جا رہی تھی جسے سلجھانا چاہیں تو وہ مزید الجھ جاتا

ہے!!!