Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Lambiyan Ne Rahwan Ishq Diya Episode 16

Lambiyan Ne Rahwan Ishq Diya by Mirha Khan

بالکنی کے کھلے دروازے سے سرد ٹھٹھرتی ہوا اندر داخل ہورہی تھی۔ وه بالکنی کے دروازے کے پاس زمین پر گھٹنوں میں سر دیے بیٹھی تھی۔ ٹھنڈ سے اسکے ہاتھ پیر سرخ پڑ گئے تھے۔ جسم اکڑنے لگا تھا لیکن وه ہر چیز سے بے نیاز اپنے دردِ دل کو محسوس کرتی آنکھیں موندے پڑی تھی۔۔

کمرے میں کسی شاعر کی پرسوز آواز گونج رہی تھی۔۔ غزل کے اشعار اس کے دل پر گہرا اثر چھوڑ رہے تھے۔۔ ہاں یہ غزل اسی کے لیے تو لکھی گئی تھی۔۔

اس نے سر اٹھایا۔۔ ملگجے حلیے میں بکھرے بالوں میں وه بے حد ٹوٹی بکھری لگ رہی تھی۔۔ اسکے چہرے پر اسکی سرخ انگارہ ہوتی آنکھیں نمایاں تھیں جو مسلسل رونے سے سوجھ گئی تھیں۔۔ ایسی ہزن لیے بھوری آنکھیں کہ جن میں ڈوب جانے کا دل چاہے۔۔ غزل کے اگلے بول پر وه تڑپ اٹھی تھی۔۔

یہ آگ آگ کا کھیل ہے۔۔!!!

اسے روز روز نہیں کھیلنا۔۔!!!

مجھے ورق ورق کھولنا۔۔!!!

پھر حرف حرف پر سوچنا۔۔!!!

یہ جفا جفا کے راستے۔۔!!!

اور وفا وفا کی مںزلیں۔۔!!!

مجھے ڈھونڈ ڈھونڈ کے ڈھونڈنا۔۔!!!

پھر چھوڑ چھوڑ کے چھوڑنا۔۔!!!

وه چہرہ چہرہ حجاب ہے۔۔!!!

میرے درد دل کا علاج ہے۔۔!!!

وه آہستہ سے اٹھی۔۔ کندهے پر لا پرواہ انداز میں پڑا اسکا دوپٹہ تن سے جدا ہوتا فرش پر گرا تھا۔۔ وه ٹرانس کی سی کیفیت میں چلتی ہوئی بیڈ پر آ بیٹھی۔۔

ہوا کے دوش پر بکھرے بالوں کی لٹیں اسکے گال سے ٹکراتیں کسی محبوب کی طرح بوسے دینے لگیں۔۔ اس نے اپنی پتلی آرٹسٹک انگلیوں سے آہستہ سے انہیں کان کے پیچھے اڑسا اور دراز کھول کر اس میں سے ایک پنسل اور سکیچ بک نكالی۔۔

مجھے شاخ شاخ سے توڑنا۔۔!!

پھر بیچ بیچ سے جوڑنا۔۔!!

یہ ادا ادا بھی کمال ہے۔۔!!

یہ سزا سزا بھی کمال ہے۔۔!!

یہ شام شام کے دهندلکے۔۔!!

اور قطرہ قطرہ سی بارشیں۔۔!!

مجھے پیاس پیاس میں ڈال کے۔۔!!

پھر دشت دشت میں چھوڑنا۔۔!!

خوبصورت ہاتھوں نے پنسل کو کورے کاغذ پر گهسیٹا تھا۔۔ آہستہ آہستہ ہاتھ کی حرکت میں تیزی آتی گئی اور لکیریں کسی کا خاکہ بنانے لگیں۔۔

محبوب کا عکس بنانے کے لیے ظاہری طور پر اسکا پاس ہونا ضروری نہیں۔۔ وه تو ہر پل تصور میں رہتا ہے۔۔ دل و دماغ پر قابض خیالات کی دنیا پر حکومت کرتا عاشق کو اپنا غلام بنا لیتا ہے۔۔

اسکا مکمل خاکہ بنا کر اس نے نم آنکھوں سے دیکھتے اسکی پیشانی پر نماياں ہوتی لکیروں پر انگلی پھیری۔۔ انگلی لگنے سے لکیریں ماند پڑی تھیں۔۔ اس نے پنسل کو دوبارہ کاغذ پر گهسیٹا۔۔

سانوں گھایل کر کے فِر خبر نہ لئی آ۔۔۔!!

تیرے عشق نچایا کر کے تھیا تھیا تھیا۔۔!!

اس نے منہ پر ہاتھ رکھتے اپنی سسكی روکی۔۔ “یہ محبوب جانے کیوں اوروں پر مہربان اور عاشق کے لیے پتھر دل ہوتے ہیں۔۔”

کمرے میں غزل کی آواز ہنوز گونج رہی تھی۔۔ وہ سکیچ بک اور پنسل واپس دراز میں رکھتی بیڈ پر چت لیٹ گئی۔۔ ویران نظروں سے کمرے کی چھت کو دیکھتی وه اس ستمگر کے بارے میں سوچنے لگی۔۔ اگر اسے جو کسی سے محبت ہوجائے اور وه اسے نہ ملے تو؟؟ پھر محسوس ہوتا ہے درد،، جب خود پر بیتے۔۔ دوسروں کے درد کو تو لوگ پاگل پن سمجھتے ہیں۔۔!!!

وه بے دردی سے آنسو پونچھتی وه آنکھیں موند گئی۔۔

ایک ہی شہر میں رہنا ہے مگر ملنا نہیں ہے۔۔۔!!!

دیکھ لیتے ہیں یہ ازیت بھی گوارا کر کے۔۔!!!

زیرِ لب بڑبڑاتی وه تلخی سے ہنس پڑی۔۔

بی جان آپ جاگ رہی ہیں؟؟ آٹے سے لتھرے ہاتھوں کو الجهن سے دیکھتے اس نے کمرے میں جھانکا۔۔ جواب نہ پا کر وه واپس باورچی خانے میں چلی آئی۔۔

رونی صورت بنا کر اس نے پرات میں رکھے آٹے کو دیکھا جو پتلا۔۔ پانی کی طرح ہورہا تھا۔۔ اس نے پہلی بار آٹا گوندھنے کی کوشش کی تھی۔۔ جو ناکام ہوئی تھی۔۔

ایسے کام کب کیے تھے اس نے لیکن اب اسے سمجھ آ گئی تھی کہ زندگی سدا پھولوں کی سیج نہیں رہتی۔۔!!

جیسے تیسے اس نے سوکھا آٹا ڈال ڈال کر آٹے کو ٹھیک کیا اور جس طرح ہوسکا گوندھ لیا۔۔ کچن میں سنک کے آگے کھڑے ہو کر ٹیپ کھول کر اس نے ہاتھ دھوئے اور پرات کو بھی دھو کر شلف پر سیدھا دیوار کے ساتھ رکھ دیا۔۔

رات کا کھانا وه کافی دیر پہلے کھا چکے تھے۔۔ بی جان سو چکی تھیں۔۔ اسکی آنکھوں سے نیند کوسوں دور تھی۔۔ وه برآمدے میں چلی آئی۔۔

سیڑھیوں پر بیٹھتی وه آسمان پر چمکتے چاند کو بے مقصد دیکھنے لگی۔۔ جب وہ بیٹھ بیٹھ کر تھک گئی تو واپس کمرے میں آ کر لیٹ گئی۔۔ لیٹے لیٹے جانے کب وه نیند کی وادیوں میں چلی گئی۔۔

اگلی صبح وه جلد ہی بیدار ہو گئی۔۔ الماری سے اس نے سیاہ شلوار قمیض نکالی اور فریش ہونے چلی گئی۔۔ تھوڑی دیر بعد وه بالوں کو سنوار کر کمرے سے باہر آئی۔۔

صبح بخیر بی جان!!! وه سنجیدگی سے بولتی کچن میں آئی جہاں بی جان ناشتہ بنا چکی تھیں۔۔ وه وہیں کھڑی جلدی جلدی ناشتہ کرنے لگی۔

ارے ارشما آرام سے بیٹھ کر ناشتہ کرو!! اسے عجلت میں دیکھ کر بی جان نے پیار سے اسے ڈپتا۔۔

نہیں بی جان مجھے جاب کے لیے پتہ کرنے جانا ہے!! اس نے آخری لقمہ لیا اور پانی پی کر جلدی سے باہر آئی۔۔ کمرے میں آ کر اس نے پلنگ پر پڑی سیاہ چادر اٹھائی اور اچھی طرح اوڑھ کر بیگ اور ایک فائل پکڑتی باہر آئی۔۔

فائل کھول کر اس نے سی وی اور دوسرے ڈاکومنٹس چیک کیے۔۔ بی جان کو گلے لگاتی وه جلدی آنے کا کہتی چلی گئی۔۔ بی جان ارے ارے ہی کرتی رہ گئیں۔۔

یا اللّه میری بیٹی کو اپنے امان میں رکھ!!! دل میں دعا کرتیں وه ناشتہ کے برتن سمیٹ کر کمرے میں چلی گئیں۔۔

سڑک پر پیدل چلتی وه آگے بڑھتی جا رہی تھی۔۔ یہ شہر اس کے لیے نیا تھا۔۔ اسے کسی جگہ کا کوئی علم نہ تھا۔۔ اس نے سوچا تھا کہ وه کسی نہ کسی فرم میں جاب کرلے گی۔۔

سڑک پر چلتی وه ساتھ ساتھ دوکانوں کے اوپر لگے بڑے بڑے بورڈز پر بھی نظر ڈال رہی تھی۔۔ اسے چلتے کافی وقت ہوگیا تھا۔۔ اس نے تھک کر واپسی کا اراده کیا ہی تھا کہ اسکی نظر ایک عمارت پر پڑی جہاں کراچی یونیورسٹی کا ٹیگ لگا ہوا تھا۔۔ ساتھ ہی ایک نوٹس دیوار پر چسپاں کیا گیا تھا جس میں لکھا تھا کہ كوالیفائیڈ سٹاف کی ضرورت ہے۔۔

اس کے دل میں امید جاگی۔۔ بیگ پر گرفت مظبوط کرتی وه خود کی ہمت بندهاتی گیٹ سے اندر آئی۔۔

یونیورسٹی میں معمول کی چہل پہل تھی۔۔ کچھ سٹوڈنٹس کیفے ٹیریا میں تھے جبکہ کچھ یونیورسٹی کی گراؤنڈ میں بیٹھے تھے۔۔ وه سیدھ میں چلتی گئی۔۔ اس نے پاس سے گزرتے ایک سٹوڈنٹ سے آفس کے بارے میں پوچھا اور اس کے بتائے گئے راستے پر چلتی ہوئی یونیورسٹی کی پچھلی سائیڈ پہنچ گئی۔۔

کیا بدتمیزی ہے یہ!!! وه سلگ گئی۔۔ تن فن کرتی وه واپس آئی اور اب کی بار کسی سے پوچھنے کی غلطی نہ کی۔۔ ارد گرد دیکھتی وه کمروں کے اوپر لگی تختیوں کو دیکھنے لگی۔۔

ڈین آفس کے سامنے آ کر وه رکی۔۔ گہری سانس لے کر وه ناک کرتی اندر آئی۔۔ ہیلو سر!!

وه چوکھٹ سے اندر آتی سنجیدگی سے بولی تو دفتری میز کے سامنے رکھی کرسی پر بیٹھے کوٹ سوٹ میں ملبوس ادھیر عمر شخص نے سر اٹھایا۔۔

یس۔۔ بیٹھیں!!! وه ہاتھ میں پکڑے پین کا ڈھکن بند کرتے کا پوری طرح اسکی طرف متوجہ ہوئے۔۔ جی کہیے!!!

ارشما ان کے مقابل کرسی پر بیٹھی۔۔ اس نے فائل سامنے میز پر رکھی اور پرس کرسی کے پاس زمین پر رکھتے ان کی طرف متوجہ ہوئی۔۔

میں یہاں جاب کے لیے اپلائے کرنا چاہتی ہوں!! وه سیدھا مدعے پر آئی۔۔

“سی وی دکھائیں اپنی” ڈین نے چشمہ درست کرتے ہاتھ آگے کیا تو اس نے فائل اٹھا کر ان کی طرف بڑھائی۔۔

ہمم ریکارڈ اچھا ہے آپ کا لیکن كوالیکیشن کم ہے آپ کی!!! وه سر اٹھا کر بولے۔۔

سر مجھے جاب کی بہت ضرورت ہے۔۔ میں آپ کو یقین دلاتی ہوں کہ آپ کو مجھ سے کوئی شکایت نہیں ہوگی!! وه انہیں دیکھتی متانت سے بولی۔۔

ڈین پر سوچ انداز میں اسے دیکھنے لگا۔۔ انگلش کیسی ہے آپ کی؟؟ فائل اسکی طرف بڑھا کر وه دونوں ہاتھ باہم پهنسا کر میز پر رکھتے بولے۔۔

“انگلش بہت اچھی ہے میری۔۔ میں نے اسلام آباد کے ٹاپ انسٹیٹیوٹ سے گریجوایشن کی ہے۔۔” اب کی بار وه پورے اعتماد سے بولی۔۔

“آآ۔۔ آپ ایسا کریں کل سے آ جائیں۔۔ ہم آپ کو تین دن کے ٹرائل پر رکھ لیتے ہیں۔۔ اگر آپ ہمارے كرائیٹیریا پر پوری اتریں تو آپ کو جاب مل جائے گی۔۔”

ان کا کہنا تھا کہ اس نے اطمینان کا سانس لیا۔۔ اوکے تھینک یو سو مچ!! میں کل سے جوائن کرتی ہوں۔۔ ونس اگین تھینک یو!! ان کا شکریہ ادا کرتی وه آفس سے باہر نکل گئی۔۔

واپسی پر پیدل جانے کے خیال کو جھٹک کر اس نے سڑک پر آتے رکشہ روکا اور اس میں بیٹھ کر واپس “پی آئی بی” کالونی آ گئی۔۔

اسلام علیکم بابا سائیں!!! ماہ بیر سلام کرتا کرسی كهسكا کر بیٹھ گیا۔۔

وعلیکم السلام !! کیسے ہو میرے شیر؟؟ عبدالله شاہ کھانا کھاتے ہوئے اس سے احوال دريافت کرنے لگے۔۔

اللّه کا کرم ہے۔۔ نگہت کھانا لگا دو جلدی!! انہیں جواب دے کر وه نگہت کو پکارنے لگا۔۔ مشائم تو اب کھانے پر نہیں آتی تھی اور عارفہ طبیعت ناسازی کے باعث کمرے میں ہی کھانا منگوا چکی تھیں اس لیے نگہت نے بس ایک فرد کے لیے میز پر کھانا لگایا تھا۔

جی لاتی ہوں شاہ سائیں!! نگہت اسے ٹیڑھی نظروں سے دیکھتی منہ بنا کر بولی۔۔ ہنہ!! اسے اپنا “كرس” بدلنے پر دکھ تھا بہت لیکن خیر۔۔۔

نگہت کھانا لگا لگا کر چلی گئی تو عبدالله شاہ اس سے دوبارہ مخاطب ہوئے۔۔ “ماہ بیر ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اب تمہیں گدی سنبهال لینی چاہیے!! ویسے بھی تم علاقے کے تمام امور دیکھتے ہو اب باقاعده تمھارے گدی نشین ہونے کا اعلان کر دینا چاہیے!!”

وه کھانے سے ہاتھ کھینچتے سنجیدگی سے گویا ہوئے۔۔

جیسا آپ کو ٹھیک لگے۔۔۔ وه اثبات میں سر ہلاتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔ چلتا ہوں مجھے کچھ کام ہے!! ان سے رخصت لیتا وه ہاتھ میں پہنی برینڈڈ گھڑی میں وقت دیکھتا ہوا ڈائینگ ہال سے باہر چلا گیا۔۔

وه دن بھی آ گیا جب ماہ بیر نے باقاعده طور پر خضدار کا گدی نشین بننا تھا۔۔ سفید كلف لگے سوٹ میں کندھوں پر سفید شال ڈالے وه نک سا تیار خوشبو میں نہایا ہوا اپنے کمرے میں کھڑا موبائل پر صالح سے محو گفتگو تھا۔۔

آج انہوں نے ایک جلسہ منعقد کیا گیا تھا جس میں شرکت کے لیے شہر کے بیشتر لوگوں نے آنا تھا۔۔ اکثریت اپنے نئے سردار کے لیے بہت خوش اور پرجوش تھی جبکہ کچھ ایسے بھی لوگ تھے جنہیں سلطان ماہ بیر شاہ کا سردار بنایا جانا ایک آنکھ نہ بھایا تھا۔۔

صالح سے بات کر کے اس نے موبائل سائیڈ ٹیبل پر رکھا اور آئینے کے سامنے آتے ایک آخری نظر اپنے سراپے پر ڈالی۔۔

سٹائلش سے گردن کو چھوتے بال جن کی ایک لٹ ماتھے پر گر رہی تھی۔۔ گهنی داڑھی مونچھیں اور سرمئی آنکھوں میں ایک خاص چمک۔۔ وه دهیما سا مسکرایا۔۔

واپس سائیڈ ٹیبل کے پاس آ کر موبائل اٹھاتا وه مشائم کے کمرے کی طرف گیا۔۔ ناک کر کے وه اندر داخل ہوا۔۔

وه جو چہرے پر بازو رکھے لیٹی تھی اسے کمرے میں دیکھ کر اٹھ کر بیٹھ گئی۔۔ اسے نظر انداز کرتی وه کمرے میں اس کے علاوہ ہر چیز کو دیکھنے لگی۔۔

مشی آج مجھے علاقے کا نیا سردار مقرر کیا جانا ہے۔۔ کیا اتنے اہم موقع پر بھی مجھ سے ناراض رہو گی؟؟ وہ نرمی سے اسے دیکھ کر پوچھنے لگا۔۔

مشائم نے اسکی بات کا جواب نہ دیا تو وه پهیکی مسکراہٹ سے اس دیکھتا اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر اٹھتا وہاں سے چلا گیا۔۔

اسکے جانے کے بعد مشائم کے تاثرات میں نرمی آئی۔۔ وه دل ہی دل میں اس کے لیے دعا گو ہوئی۔۔ حویلی سے باہر شور کی آوازیں اٹھنے لگیں تو وه بالکنی میں چلی آئی۔۔

اسکی پہلی نظر جس پر پڑی تھی اس نے جیسے اسکی سانس روک لی۔۔ گیٹ کے پاس وه سرمئی شرٹ سیاہ جینز میں شرٹ کے بازو عادتاً کہنیوں تک موڑے ماتھے پر بل ڈالے کسی سے بات کررہا تھا۔۔ اسکے چہرے پر عام حالات سے زیادہ سرخی نظر آ رہی تھی۔۔

کتنے دن بعد اس نے اس دشمنِ جاں کو دیکھا تھا۔۔ دید کی پیاسی آنکھیں دیوانہ وار صالح یوسف کو تکنے لگیں۔۔ اس نے پلک تک نہ جهپكی تھی کہیں وه اگلے ہی پل اسکی نگاہوں سے اوجهل نہ ہوجائے۔۔

مسلسل نظروں کے ارتكاز پر دفعتاً صالح نے بات روک کر نظریں اٹھائیں تو سیدھا اس جهلی کی آنکھوں سے ٹکرائیں جو اسکے عشق میں دیوانی ہوئی پڑی تھی۔۔ صالح کے چہرے کی سرد مہری کئی گنا بڑھ گئی۔۔ ماتھے پر پڑی شکنوں میں اضافہ ہوا تھا۔۔ وه چہرہ موڑتا مقابل سے بات کرتا وہاں سے نکلتا چلا گیا۔

دور بالکنی میں کھڑی مشائم نم آنکھوں سے اسے دیکھتی ہنس پڑی۔۔

چلے نہ زور عشق پہ

تھوڑا سا اور عشق پہ

کریں گے غور عشق پہ

یہ “درد” ہے یا ہے “دوا”

زیر لب یہ اشعار بولتی وه مسکرا کر بالکنی سے پیچھے ہٹ گئی۔۔

مجمع میں عجب سماں تھا۔ ہر طرف ڈھول پیٹے جارہے تھے۔۔ ڈھول کی تھاپ پر کچھ دیوانے بھنگڑا ڈال رہے تھے۔۔ آخر کو آج ان کے لیے بے حد خوشی کا دن تھا۔۔ ان کے دل پسند “ماہ بیر سائیں” آج سے ان کہ سردار بن گئے تھے۔۔ اس قدر مہربان شخص ان پر متعین ہو تو ان کا خوش ہونا تو بنتا تھا۔۔

بھیڑ سے کچھ فاصلے پر بنے سٹیج پر وه صالح کے ساتھ کھڑا تھا۔۔ اس کے بائیں جانب جبار اور دو گارڈز مزید کھڑے تھے۔۔ اس کے گلے میں پھولوں کے ہار تھے۔۔ بلا کے حسین چہرے پر دل آویز مسکراہٹ رقصاں تھی۔۔

اس نے ہاتھ بلند کیا تو مجمع میں خاموشی چھا گئی۔۔

میں ” سید سلطان ماہ بیر شا” ،، “سید محمد عبداللّه شاہ” کا اکوتا فرزند آج آپ سب کے سامنے کوئی بڑی بڑی تقریریں نہیں کروں گا۔۔ میرے بابا سائیں نے جس طرح ہمیشہ اپنے فرائض کو احسن طریقے سے انجام دیا اور اپنے رتبے کا پاس کیا میں بھی آج آپ سے یہ وعدہ کرتا ہوں کہ پہلے کی طرح علاقے میں “امن راج” قائم رہے گا اور آپ سب کو مجھ سے کبھی کوئی شکایت نہیں ہوگی۔۔ ہم سب مل کر اپنے علاقے کی خوشحالی اور بہتری کے لیے کام کریں گے اور ہمارے علاقے کو بری نظر سے دیکھنے والوں کو ہم سب کافی ہوں گے۔۔ حکمران اور رعایا کو مل کر ایک منظم نظام قائم کرنا ہوتا ہے۔۔ مجھے امید ہے آپ سب اچھے مقاصد کی تكمیل میں ضرور میرا ساتھ دیں گے۔۔”

اس کا کہنا تھا کہ مجمع میں زبردست شور اٹھا۔۔ حاضرین زور زور سے تالياں پیٹنے لگے۔۔ لوگوں کے بیچ ایک نوجوان غیر محسوس انداز میں تالیاں بجاتا ہوا آگے آیا۔۔

اس نے چہرے کو ڈهانپ رکھا تھا۔۔ اس نے گردن موڑ کر قدرے فاصلے پر موجود ایک شخص کو دیکھا جو اسی کی طرح چہرے پر رومال باندھے ہوئے تھا۔۔ دونوں کی آنکھوں سے نفرت جهلک رہی تھی۔۔

صالح، ماہ بیر کے برابر کھڑا فون کان سے لگائے ساتھ ساتھ مجمع پر بھی نظر ڈال رہا تھا۔۔ اسکی آنکھیں ایک شخص پر آ کر ٹھہریں ۔۔

اس کی چھٹی حس نے خطرے کا سگنل دیا۔۔ سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں اس نے ماہ بیر کو دیکھا جو مسکرا کر ایک بوڑھے شخص سے مل رہا تھا۔۔

مقابل شخص کو بھی شاید خطرے کا احساس ہوا تھا۔۔ اس نے پھرتی سے جیب سے چھپا ہوا ریوالور نکالا۔۔ اور سیكنڈ کے ہزارویں حصے میں ماہ بیر پر تان ٹریگر دبا دیا۔۔

صالح چیخا تھا۔۔ اس نے خوف سے ماہ بیر کو دیکھتے اسے اپنی اوڑھ کھینچا تھا۔۔ اسکے دل نے شدت سے خواہش کی کہ کاش وقت یہیں رک جائے۔۔ دل کے مقام پر لگنے والی گو***لی صالح کے بروقت کھینچنے پر ماہ بیر کا بازو چیرتی چلی گئی۔۔