393.4K
34

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Ek Hai Aafat) Last Episode Pt.1

“ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟”۔۔
نازلی کچھ دیر بعد نارمل ہوتی صدمے سے بولی۔۔۔
“بیٹا جی آج جو آپ نے حرکت کی ہے نا اس کے بعد یہ ضروری تھا۔۔ کیا جواب دیتے ہم لوگوں کو۔۔ سو ہمیں یہ کرنا پڑھا ۔۔ اللہ آپکو یہاں خوش رکھے۔۔ ہم کل آپکو لینے آئیں گے”۔۔
بریرہ سنجیدگی سے بولی تو نازلی صدمے سے اسے دیکھنے لگی۔۔
“بیٹا بھابھی کو بھائ کمرے میں لے جاو اور اسے کپڑے دو یہ ویٹرز کے کپڑے واپس کرنے ہیں”۔۔
ریا مشی سے بولی تو مشی سر ہلا کے نازلی کو امان کے کمرے میں لے گئ۔۔ بریرہ لوگ بھی اجازت لے کے چلے گئے۔۔ دروازے میں کھڑے ضرار نے مشی اور نازلی ہو تب تک دیکھا جب تک وہ دونوں کمرے میں نہیں پہنچی۔۔ انکے اندھر جاتے ہی اسنے او کی شیپ میں لب گول کیئے اور امان کو دیکھ کے مسکراہٹ چھپائ جو تمام لوگوں کے ساتھ وہی بیٹھ گیا تھا۔۔
پھر کچھ یاد آنے پہ وہ موبائل جیب سے نکالتا اپنے کمرے میں چلا گیا۔۔۔
💖💖💖💖💖💖💖💖
رات دس بجے جب امان کمرے میں آیا تو نازلی لہنگا پہنے بیڈ پہ بیٹھی تھی چہرے پہ گونگھٹ ڈلا ہوا تھا۔۔ امان کو لگا تھا اب تک کمرے کی حالت بگڑھ چکی ہوگی مگر یہاں اتنا سکون دیکھ کے امان کو حیرت ہوئ۔۔
وہ پہلے اسی کشمکش میں دروازے پہ ہی کھڑا رہا ۔۔ نازلی سمٹی ہوئ بیڈ کے بیچ میں بیٹھی تھی اور دوپٹہ تھوڑی تک لٹکا ہوا تھا۔۔۔
“اے اٹھو چینج کرلو”۔۔
امان تھوڑا آگے آکے اختیاط سے بولا کے کہی آگے سے تھپڑ ہی نا دے مارے۔۔
مگر نازلی نے کوئ حرکت نا کی تو امان حیرت سے بیڈ پہ بیٹھا اور اس کشمکش میں اسکا دوپٹہ چہرے سے ہٹایا کہ زندہ بھی ہے یا نہیں۔۔
“آہہہہہہہہ”۔۔
دوپٹہ ہٹاتے ہی امان نے زوردار چینخ ماری اور بیڈ سے اٹھنے لگا مگر ضرار نے اسکا بازو پکڑ لیا 😂۔۔
“کیا ہوا سرتاج اور ٹھیک تو ہے نا”
امان کی حالت دیکھ کے ضرار ہنسی دبائے فکرمندانہ انداز میں بولا تو امان نے گھور کے اسے دیکھا اور ہاتھ چھوڑا کے دور کھڑا ہوگیا۔۔
“کیا ہوا سرتاج آپ نے ہی سبکو کہا تھا کہ میری بیگم کا چہرہ کوئ نا دیکھے جب تک میں گھونگھٹ نا اٹھا لوں”۔۔
ضرار نے فل ایکٹنگ کرتے ہوئے وہ بات دہرائ جو مارکی میں کی تھی امان نے لوگوں سے یہ راز چھپانے کے لیئے۔۔
“دفعہ ہو نکل یہاں سے اس سے پہلے کے میں تیرا قیمہ بنا دوں”۔۔
اسکی اوور ایکٹنگ پہ امان
جل بھن کے بولا تو ضرار نے اپنی ہنسی دبائ۔
“مانا کہ میں اس شادی کے لیئے تیار نا تھی مگر اسکا مطلب یہ تو نہیں کے شادی کے پہلے روز ہی آپ مجھے یو بےعزت کرکے کمرے سے نکال دیں”۔۔
ضرار فل عورتوں کی طرح بولتے دوپٹے سے نا آنے والے آنسو صاف کرتے بولا تو امان نے اسے گردن سے پکڑا اور اسکی ہائے ہائے کی پرواہ کیئے بغیر کمرے سے باہر نکال کے دروازہ لاک کر دیا😂۔
باہر آتے ہی ضرار نے قہقہہ لگایا تب ہی دوسری طرف سے مشی عیشی اور نازلی ہنستی ہوئ اسکے پاس آئ جو کھڑکی سے ان دونوں کو دیکھ رہیں تھیں۔۔ شام میں ہی ان لوگوں کی ٹیم بن چکی تھی اور تینوں مانتے تھے کہ نازلی کے ساتھ برا ہوا سو اب یہ لوگ مل کے امان کو مزہ چکھانا چاہتے تھے۔۔ اور ضرار اس لیئے بھی انکے ساتھ تھا کہ اسے بھی امان سے اپنا بدلا لینا تھا😂۔۔۔
ابھی تو بچارہ امان آنے والے دنوں سے بےخبر تھا کہ ہونے کیا والا ہے۔۔۔😜۔۔
💖💖💖💖💖💖💖💖
ظالم شوہر نے شادی کی پہلی رات ہی بیوی کو دھکے مار کے کمرے سے باہر نکال دیا😢۔۔
صبح امان فریش ہوکے روم میں آیا تو اسے حنان کا میسج ملا کہ کیا تم نے سٹیٹس دیکھے۔۔ امان نے کہا نہیں تب ہی رپلائے آیا دیکھو۔۔۔
امان نے تجسس سے واٹس ایپ کھولا تو میسجز کا انبار لگا تھا۔۔ اسنے میسجز کھولنے سے پہلے ۔۔ سٹیٹس دیکھنے شروع کیئے جس میں شروع کے سٹیٹس کچھ دوستوں کے تھے اسکے بعد ضرار کا سٹیٹس تھا جس میں رات والے واقع ہی ویڈیو سٹیٹس لگی تھی😂 جو تقریبأ رات بارہ بجے لگائ گئ تھی۔۔ یعنی اب تک پورے خاندان کو خبر ہو چکی تھی۔۔۔ اس نے غصے سے مٹھیاں بینچی اگلا سٹیٹس مشی کا تھا وہ بھی اسی کیپشن کے ساتھ لگایا گیا تھا۔۔ اس سے اگلا عیشی کا وہ بھی وہی سٹیٹس تھا😂۔۔
یعنی یہ ان سبکا پلان تھا امان غصے سے موبائل بیڈ پہ پھینکتا باہر آیا جہاں سب ناشتہ کر رہے تھے۔۔
“آہہ پاس مت آنا ورنہ پچھتاو گے”۔۔
امان کو باہر آتا دیکھ کے ضرار جلدی سے اٹھا اور گھوم کے ٹیبل کی دوسری طرف کھڑا ہوتا وارن کرنے والے انداز میں بولا تب ہی عیشی مشی اور نازلی بھی امان کو غصے میں دیکھ کے ضرار کے پاس آن کھڑی ہوئ اور ضرار کی بات پہ زور زور سے سر ہلانے لگی۔۔
“ی یہ دیکھو تمھاری ویڈیو فیس بک میں میری آئ ڈی پہ ہے اور یہ دیکھو میری انگلی پوسٹ اوپشن پہ اگر تم نے ایک قدم بڑھایا تو میں اس اوپشن کو دبا دوں گا اور موبائل لاک کر دوں گا سوچو پوری دنیا دیکھےگی کے
پاکستان کے مشہور کریکٹر امان شاہ نے کیا کیا”۔۔
ہاتھ اونچا کرکے ضرار دھمکی دینے والے انداز میں بولا تو امان نے واقع ویڈیو اوپشن پہ لگی دیکھ کے دانت پیسے۔۔ جبکہ باقی سب ہنسی چھپائے ان دونوں کو دیکھ رہے تھے۔۔ اور عیشی مشی نازلی تو ضرار کی ذہانت پہ عش عش کر اٹھی تھی😂۔۔۔
“کیا چاہتے ہو تم؟”۔۔
امان زور سے آنکھیں میچے اپنا غصہ کنٹرول کرکے بولا تو ضرار نے گردن اکڑائ۔۔
“ہمم یہ ہوئ نا بات۔۔ چلو اب سب کے سامنے اسکی معافی مانگو جو کل تم نے میرے ساتھ کیا اور سب کے سامنے وعدہ کرو کے اب تم ہمیں کچھ نہیں کہو گے”۔۔
ضرار سکون سے بولا تو امان نے اسے ایسے دیکھا جیسے کچا چبا جائے گا۔۔
“کس بات کی معافی؟”۔۔
عارب نا سمجھی سے ضرار کو دیکھتے بولا تو عیشی مشی اور نازلی نے ہنسی دبائ کیونکہ ضرار انہیں بتا چکا تھا جو کچھ کل اسکے ساتھ ہوا۔۔۔
“کل جو دولہن اس نے سب کے سامنے پیش کی تھی وہ میں ہی تھی۔۔ سب کے سامنے بڑھے وعدے کر رہا تھا اور رات کو کمرے سے نکال دیا”۔۔
ضرار دکھی عورت کی ایکٹنگ کرتے بولا تو سب نے کھلے منہ سے پہلے اسے دیکھا پھر امان کو جو چہرے پہ ہاتھ رکھے ادھر ادھر دیکھ رہا تھا۔۔ اس نے کل سے یہ بات چھپائ ہوئ تھی سب سے۔۔ اور پھر امان کی حالت دیکھ کے سب نے زور دار قہقہہ لگایا جس میں نازلی بھی شامل تھی امان نے گھور کے اسے دیکھا جو اس سب کی زمہدار تھی۔۔
“اوکے سوری”۔۔
امان اتنی آسانی سے معافی مانگ کے ناممکن ۔۔ سب ابھی بھی حیران تھے کہ اس نے اتنی آسانی سے معافی مانگ کیسے لی۔۔ پھر باقی شرطیں بھی منوا کر عیشی مشی نازلی تینوں یونی چلی گئ اور انھیں چھوڑنے ضرار گیا تھا۔۔
امان بھی حنان کے ساتھ ایک انٹر ویو کے لیئے چلا گیا۔
💖💖💖💖💖💖💖💖
“اففف عجیب آدمی ٹاول بھی بلیک۔۔ توبہ ہے بھئ کوئ چیز جو اس کمرے میں نارمل انسانوں والی ہو”۔۔
نازلی یونی سے واپس آئ تو رشی نے اسے امان کے کمرے میں بھیج دیا اور کچھ شاپنگ بیگز بھی پکڑائے جن میں نازلی کے لئیے کپڑے جوتے اور کچھ ضرورت کی چیزیں تھیں۔۔ جب وہ کمرے میں آئ تو حیران رہ گئ ۔۔ بلیک بیڈ شیٹ بلیک صوفہ بلیک پردے۔۔ یہاں تک کے ٹاول بھی بلیک تھا۔ امان کی استمعال کی چیزوں میں زیادہ بلیک ہی تھی جیسے کے ہیئر برش پرفیوم کی بوتلیں ۔۔ گھڑیاں ۔۔ الماری کھولتے ہی آدھے سے زیادہ کپڑے بھی بلیک ہی تھےاور جوتے بھی۔۔ نازلی پورے کمرے میں بلیک بلیک دیکھ کے تنگ آئ۔۔ تو رشی کے پاس گئ اور اس سے نئ بیڈ شیٹ اور پردے مانگے۔۔ گھر کے سٹور سے رشی نے اسے کچھ بیڈ شیٹس اور پردے دکھائے۔۔ تب ہی عیشی مشی اسکی ہیلپ کے لیئے آگئ تو رشی انہیں کام میں لگا کے خود چلی گئ۔۔ نازلی نے سب سے پہلے سلور کلر کے پردے نکالے اور سلور کلر کی ہی بیڈ شیٹ لی ۔۔۔ پھر تینوں کمرے میں آئ اور سارے بلیک پردے اور بیڈ شیٹ ہٹا کے سلور کلر میں لگائ۔۔ پھر دیواروں کے کریکٹرز کی پکچرز وغیرہ اتار کے سٹور میں پھینکی۔۔ کچھ دیکوریشن پیسز رکھے صوفے کا کور بھی کریم کلر میں بدل دیا۔۔ اور شیشے سے ساری پرفیومز اور ہیئر سپرے اٹھا کے الماری کے ایک خانے میں پھینکی۔۔ اس پہ کچھ امان کی چیزیں چھوڑی باقی سب نازلی نے اپنی چیزیں رکھ دی۔۔ بیڈ سائیڈ ٹیبل لیمپ بھی بلیک سے بلو کلر میں بدل گئے۔۔ تین پارٹس کی الماری میں سے دو میں نازلی نے اپنے کپڑے سجائے اور جوتے جیولری وغیرہ رکھی۔۔ جبکہ ایک خانے میں امان کی چیزیں ایسے گھسائ کے دروازہ بھی مشکل سے بند ہوا۔۔ پورے کمرے کا حلیہ بدل کے اور تینوں شدید تھک گئ۔۔ تب ہی منو اگئ اور تینوں کو حلیہ بدلنے کا کہا۔۔ عیشی مشی کمرے میں چلی گئ تو نازلی نے بھی شاور لیا اور کپڑے بدلے۔۔ پورے کمرے کا نقشہ بدل گیا تھا۔ بیڈ کی جگہ بدل گئ۔۔ صوفہ اپنی جگہ سے ہٹ کے کھڑکی کے پاس پہنچ گیا۔اور تین چار دیکوریشن پیسز کا اضافہ بھی ہوگیا تھا۔۔ باہر آکے بال سیٹ کرتے نازلی کا ہاتھ لگا اور پرفیوم کی بوتل نیچے گر کے ٹوٹ گئ۔۔ نازلی نے جلدی سے کانچ اٹھائے اور جگہ صاف کی مگر خوشبو بہت تیز تھی۔۔ کانچ باسکٹ میں پھینک کے وہ ہاتھ دھونے گئ تو اسکی نظر امان کے کالے ٹاول پہ پڑھی تو وہ جھنجلا کے بولی ۔۔اور امان کا ٹاول بھی ہٹانے لگی مگر پھر ذہن میں ایک
خیال آیا اور ٹاول کو غور سے دیکھتی ہو مسکرائ ۔۔
“اب آئے گا مزہ”۔۔
خود سے ہی بات کرتی وہ باہر نکلی اور کچن میں آئ جہاں منو چائے بنا رہی تھی اور سنیکس بھی بنائے تھے۔۔
“منو آپی کالی مرچ ہے کیا؟”۔۔
نازلی نے تھوڑا جھجھکتے ہوئے پوچھا تو منو نے اسکو دیکھے کے سر ہاں میں ہلایا ۔۔
“مگر کیا کرو گی اسکا؟”۔۔
کالی مرچ کا ڈبہ نازلی کو دیتے منو نے پوچھا۔۔
“وہ ایکچوئلی میں سنیکس پہ ڈال کے کھاتی ہوں”۔۔
نازلی مسکراتے ہوئے بولی تو منو نے سر ہلایا اور دوبارہ چائے کو دیکھنے لگی۔۔
“اہ میرا موبائل روم میں رہ گیا میں ابھی آئ”۔۔
منو کو کام میں مصروف دیکھ کے نازلی نے مٹھی بھر کے ڈبے سے مرچیں نکالی جو پاؤڈر میں تھی۔۔ پھر جلدی سے بولی اور مرچ کا ڈبہ سنیکس کے پاس رکھ کے کمرے میں چلی گئ۔۔
کمرے میں آتے ہی اندھر سے دروازہ بند کیا اور واشروم میں گئ ۔۔ پھر امان کا ٹاول لے کے ہاتھ میں پکڑی کالی مرچیں اس پہ ڈالی اور ہاتھ سے پورے ٹاول پہ پھیلا دی۔۔ جو نظر نہیں آ رہی تھی۔😂۔۔
مسکراتے ہوئے ٹاول واپس اپنی جگہ پہ رکھا اور ہاتھ دھو کے گردن اکڑائے کمرے سے باہر آگئ۔۔۔
💖💖💖💖💖💖💖💖
امان شام کے وقت گھر آیا اور تھکا ہارا سا کمرے کی طرف بڑھا مگر دروازہ کھولتے ہی اسے زوردار جھٹکا۔ لگا
“ماما یہ میری کمرے کا حلیہ کس نے بدلا”۔۔
وہی دروازے میں کھڑے وہ اونچی آواز میں بولا۔۔
“میں نے چینج کیا ہے۔۔ وہ آنٹی کہتی ہیں اب یہ میرا بھی کمرہ ہے میں جیسے چاہوں اسکو بدل سکتی ہوں”۔۔
اس سے پہلے کے رشی کوئ جواب دیتی نازلی معصومیت سے بولی تو رشی اسکی بات سن کے مسکرائ۔۔
“آنٹی آج کے بعد امان کے سارے کام میں خود کروں گی جیسے منو آپی حنان بھائ کے سارے کام خود کرتی ہیں”۔۔
اس سے پہلے کے امان کچھ بولتا نازلی فورأسے بولی تو رشی نے مسکرا کے سر ہلایا جبکہ امان حیرت سے نازلی کو دیکھ رہا تھا جو مسکرا رہی تھی اور دور کھڑی عیشی مشی اسے زبردست ایکٹنگ پہ تھم اپ کیا😂۔۔
امان غصے سے اندھر چلا گیا تو نازلی بھی اسکے پیچھے گئ۔۔ رشی مسکراتے ہوئے کچن میں چلی گئ۔۔
“اب آئے گا مزہ”۔۔
عیشی مشی تالی بجا کے بولی اور چھت کی طرف بھاگی جہاں ضرار انکا انتظار کر رہا تھا۔۔۔
💖💖💖💖💖💖💖💖
“یہ یہ میرے کپڑے کہاں ہے؟”۔۔
امان غصے سے کمرے میں آیا اور الماری کھولی مگر کپڑے نہیں ملے دوسرا حصہ کھولا اس میں بھی نازلی کے کپڑے اسکا منہ چڑا رہے تھے۔۔
وہ چلا کے بولا تو نازلی نے مسکراتے ہوئے تیسرے حصے کی طرف اشارہ کیا ۔۔ امان نے جیسے ہی دروازہ کھولا سارے کپڑے اسکے پاوں میں آکے گرے۔۔ اس نے غصے سے نازلی کو دیکھا تو وہ مسکرانے لگی۔۔ امان نے ایک شرٹ اور جینز اٹھائ اور اسے گھورتا ہوا واشروم میں چلا گیا نازلی نے اسکو دروازہ بند کرتے دیکھا تو جلدی سے اسکے کپڑے دوبارہ ایسے ہی اندھر بند کرکے چھت پہ بھاگ گئ😂۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاور کے بعد امان چینج کیئے باہر آیا اور ہاتھ میں لیا ٹاول سر اور منہ پہ مارا۔۔ جیسے ہی ٹاول پیچھے کیا آنکھوں میں اور چہرے گردن پہ شدید جلن ہوئ۔۔ آنکھیں بند ہوتے ہی وہ گرتے پڑتے واشروم میں واپس بھاگ اور منہ پہ چھینٹے مارنے شروع کر دیئے۔۔ تقریبأ دس منٹ بعد جب آنکھیں کچھ کھلنے کے قابل ہوئ تو اس نے شیشہ دیکھا پورا منہ سرخ ہوا تھا اور آنکھیں بھی سرخ انگارے جیسی ہوئ تھی۔۔ اسنے باہر آکے ٹاول اٹھایا اور ناک کے قریب لے جاکے سونگنا چاہا تو زوردار چھینک ماری۔۔ اسکے بعد تو چھینکوں کا ایسا سلسلہ شروع ہوا کے وہ اچھو اچھو کرکے پاگل ہوگیا😂۔۔ جب کچھ سنبھلا تو غصے سے باہر آیا اور اونچی اونچی آواز میں نازلی کو بلانے لگا۔۔ اسکے باہر آتے ہی دروازے کے پیچھے چھپی عیشی مشی بھاگ کے کمرے میں گئ اور اسکا ٹاول اٹھا کے وہاں نیا ٹاول رکھا جو نیم سا گیلا تھا😂۔۔
“ارے بیٹا کیا ہوا؟”۔۔
اسکو چلاتے دیکھ کے تمام خواتین کچن سے باہر آئ اور پریشانی سے پوچھا تب ہی نازلی بھی وہاں آگئ اور اسکے پیچھے عیشی مشی بھی جنہوں نے اسے آنکھ سے اشارہ کیا۔ تو نازلی پرسکون ہوئ اور امان کے سامنے ایسے کھڑی ہوگئ جیسے اسکے غصے میں بولنے سے ڈر گئ ہو😂۔۔۔
“یہ آپ مجھ سے پوچھ رہی ہیں۔۔ اپنی اس بہو سے پوچھیں نا جس نے آتے ہی زندگی عذاب کردی میری۔۔ یہ یہ دیکھے میرا چہرہ اور پوچھیں اس سے کے کیا لگایا ہے اس نے میرے ٹاول پہ”
امان غصے سے بولا تو نازلی نے جھکا سر اٹھا کے روتی صورت بنائے سر نفی میں ہلایا۔۔
“میں کیوں کچھ لگاوں گی آنٹی میں نے کچھ نہیں کیا”۔۔
نازلی پریشانی سے بولی تو تمام خواتین امان کو دیکھنے لگی۔۔
“اچھا تم نے کچھ نہیں کیا آپ لوگ آئیں میرے ساتھ ابھی دیکھاتا ہوں آپ لوگوں کو”۔۔
امان سبکو ساتھ لیئے کمرے میں آیا تو عیشی مشی نے نازلی کو آنکھ ماری اور تینوں انکے پیچھے کمرے میں آئ ۔۔
“یہ دیکھیں اس پہ کیا لگا ہے”۔۔
امان غصے سے نازلی کو دیکھتا ٹاول رشی کی طرف بڑھا کے بولا ۔۔تو رشی نے ٹاول لے کے سونگھا پھر ہاتھ لگا کے بھی چیک کیا مگر وہ بالکل ٹھیک تھا۔۔
“یہ تو صحیح ہے”۔۔
رشی امان کو گھورتے ہوئے بولی تو امان نے الجھ کے اسکے ہاتھ سے ٹاول لیا اور دوبارہ چیک کیا۔۔وہ واقع نارمل تھا۔۔اسنے نازلی کی طرف دیکھا جو سر جھکائے آنسو صاف کر رہی تھی۔۔
“آپ آپ میرے کپڑے دیکھیں اس نے کیا کیا “۔۔
امان الماری کی طرف اشارہ کرکے بولا تو رشی اسکو گھورتے الماری کی طرف بڑھی ۔۔ اور تینوں حصے باری باری کھولے۔۔ مگر سب میں کپڑے ترتیب سے پڑھے تھے۔۔ یہ دیکھ کے امان نے دوبارہ حیرانی سے نازلی کو دیکھا جو ابھی تک سر جھکائے کھڑی تھی۔۔
“شرم آنی چاہیئے تمھیں امان۔۔ مجھے لگا تھا تم بہت اچھے ہو اور سمجھتے ہو مگر تم تو باپ سے بھی دو ہاتھ آگے نکلے۔۔ ایک دن ہوا ہے تمھاری شادی کو اور تم ایسا سلوک کر رہے ہو بیوی کے ساتھ۔۔ مجھے شرم آرہی ہے تمھیں اپنا بیٹا کہتے ہوئے۔۔ارے ابھی تو وہ بچی یہاں کا کچھ جانتی بھی نہیں پھر بھی تمھاری ساری زمہداری لینے کو تیار ہے۔۔ بجائے اسکو سمجھنے کے تم یہ سب کر رہے ہو۔۔ شیم آن یو “۔۔
رشی غصے سے بولی تو امان سر جھکا گیا۔۔ باقی سب بھی اسکو افسوس سے دیکھتی ہوئ باہر چلی گئ۔۔ رشی عیشی مشی کے جاتے ہی نازلی نے دروازہ بند کیا تو امان نے سر اٹھا کے اسے دیکھا جو دونوں ہاتھ سینے پہ باندھے اسے دیکھ کے مسکرا رہی تھی۔۔
“مسٹر امان تمھیں کیا لگا تھا تم رخصتی مانگو گے اور میں خاموشی سے سب مان لوں گی۔۔ میں نے بھی تمھاری زندگی عذاب نا کی نا تو میرا نام بھی نازلی نہیں۔۔ اب مردوں کی طرح سامنا کرو ممی ڈیڈی کرتے آنٹی کے پیچھے نا چھپو “۔۔
نازلی طنزیہ مسکراتے ہوئے بولی تو امان سکتے میں اسے دیکھنے لگا۔۔تب ہی نازلی نے ہننن کی اور کمرے سے باہر چلی گئ۔۔۔ جبکہ امان سر دونوں ہاتھوں میں تھام کے بیڈ پہ بیٹھ گیا😂۔۔۔
💖💖💖💖💖💖💖💖
دن ایسے ہی گزرتے گئے۔۔ نازلی نے ضرار عیشی مشی کے پلانز پہ عمل کرتے امان کی زندگی صحیح معانی میں عذاب بنا دی تھی۔۔
وہ بچارہ تو رخصتی کرا کے واقع پچھتا رہا تھا کبھی کھانوں میں نمک تیز کبھی چائے میں چینی۔۔ کبھی رات سوتے ہی پنکھا بند ہوجاتا تو کبھی ہیئر برش سے پاؤڈر نکلتا۔۔۔ وہ تو صحیح معانی میں تنگ آچکا تھا۔۔ اور اب تو کسی کو بتا بھی نہیں سکتا تھا کیونکہ مردانگی کا سوال تھا😂۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“میں بتا ڑی ہوں عیشی ہم سب مڑے گے اسکے پلان پہ عمل کا کڑو ۔۔۔
انکے نکاح کو ایک ماہ ہونے کو تھا اس سارے عرصے میں عیشی ہمدان سے بھی ناراض تھی اس نے بہت بار منانے کی کوشش کی مگر عیشی نے اسکی بات نا سنی۔۔۔ ابھی رات کے گیارہ بج رہے تھے وہ چاروں چھت پہ موجود تھے۔۔ ضرار اپنے کام میں مصروف تھا جبکہ یہ تینوں بیٹھی چپس کھا رہی تھی جب ضرار کو ساتھ والے گھر کے چھت کے کونے میں بھی پٹاخے لگاتے دیکھ کے مشی عیشی سے بولی تو ضرار نے گھور کے اسے دیکھا۔۔۔
“شرم کرو لڑکی شوہر ہوں میں تمھارا۔۔ شوہر کے بارے میں کوئ ایسے بات کرتا ہے کیا؟”۔۔
اسکے توتلے پن کو اگنور کرکے ضرار اسکو مصنوعی ڈانٹتے ہوئے بولا تو نازلی اور عیشی نے ہنسی روکی۔۔ کیونکہ ضرار ہمیشہ مشی کو یاد کراتا کہ وہ اسکا شوہر ہے مگر مشی ہمیشہ ایسے ہی کرتی۔۔
“شوڑ ہاہاہاہاہاہا شوڑ تو دیکھو کھٹا بھاڑ نکلا چوہا “
مشی منہ میں چپس رکھتے تالی بجاتی ہنس کے بولی تو عیشی اور نازلی نے قہقہہ لگایا۔۔
“ہاں تو خود کو دیکھا ہے۔۔ خراب چقندر کہی کی۔۔ ہکلی”۔۔
ضرار خفت مٹانے کے لیئے بولا مگر اسے پتا تب چلا جب مشی دونوں ہاتھوں سے اسکے بال پکڑے زور زور سے ہلانے لگی۔۔
“میڑے کو ہکلی بولا۔۔ ٹوٹے ٹڑک کی شکل والے میڑے کو ہکلی بولا”۔۔
مشی سخت غصے میں بولتے ہوئے اسکا سر ادھر ادھر گھومانے لگی تو ضرار نے ہائے ہائے کرتے خود ہو چھڑانے کی کوشش کی تب ہی اسکی حالت دیکھ کے عیشی اور نازلی نے مشی کو بڑھی مشکل سے پیچھے کیا۔۔ تب ہی بارہ بجے کا الارم ہوا۔۔ اور آتش بازی شروع ہوگئ جس پہ ضرار نے بارہ بجے کا ٹائمر لگایا تھا۔۔ چودہ اگست شروع ہو چکی تھی۔۔ شروع میں تو چاروں خود ہی ڈر ہے اچھل گئے۔۔ آواز اندھر گئ تو سب گھر والے بھاگے بھاگے چھت پہ آئے جہاں وہ چاروں کھڑے آسمان پہ بکھری سبز اور سفید روشنی سے پاکستان زندہ باد کی پکچرز بنا رہے تھے۔۔ سب گھر والوں کو دیکھتے ہی چاروں دانت دکھا کر مسکرانے لگے تو سب نے انہیں گھورا۔۔۔عیشی نے ہاتھ میں پکڑا پااااا والا باجا رشی کے کان کے پاس بجایا جس سے وہ بچاری گرتے گرتے بچی اور غصے سے اسکے ہاتھ سے باجا کھینچ لیا۔۔ عیشی لیتی رہی مگر واپس نا ملا۔۔ سب نے انکی بےعزتی کی اور آہستہ آہستہ نیچے چلے گئے۔۔
“کہا تھا نا ابھی مت بجانا اب میں نہیں دوں گی”۔۔
سب کے جاتے ہی عیشی مشی کا باجا اٹھانے لگی تو وہ آنکھیں دکھا کے بولی اور نیچے چلی گئ۔۔ اسکے پیچھے ہی ضرار نازلی بھی چلے گئے تو عیشی بھی اگلا پلان سوچے نیچے چلی گئ تھی۔۔ اسے ایک بار پھر ہمدان ہی یاد آیا تھا۔۔وہی تھا جو اسکی مدد کر سکتا تھا😜۔۔۔
💖💖💖💖💖💖💖💖
“کیا آپ فری ہیں؟”۔۔
ہمدان جیسے ہی بک شلیف سے ایک بک اٹھا کے واپس مڑا عیشی کو پیچھے کھڑا دیکھ کے حیران ہوا۔۔کیونکہ کتنے ہی دنوں سے عیشی اس سے بات نہیں کر رہی تھی۔۔ اور آج خود بات کرنے آئ ۔۔وہ بھی اتنے میٹھے لہجے میں ۔۔
“آ ہاں ہاں عیشی میں فری ہوں آو بیٹھو “۔۔
اپنی حیرت چھپاتے وہ مسکرا کے بولا پھر بک واپس رکھ کے عیشی کو پاس صوفے پہ بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے بولا۔۔اور خود بھی صوفے کے ساتھ پڑھے میز کے کونے پہ بیٹھ گیا۔۔
“کیا بات ہے عیشی کچھ کہنا ہے کیا؟ “۔۔
عیشی جب خاموشی سے بیٹھ گئ۔۔تو کچھ دیر ہمدان نے اسکے بولنے کا انتظار کیا مگر جب وہ نا بولی تو خود ہی پوچھ لیا۔۔
“جی دانی بھا۔۔ میرا مطلب آ”۔۔
عیشی کو کچھ سمجھ نا آیا کہ کیا بولے۔۔ پہلی دفعہ اپنے نام پہ عیشی کو ایسے اٹکتے دیکھ کے ہمدان مسکرانے لگا۔۔
“کوئ بات نہیں ہو جاتا ہے۔۔آخر بچپن سے ایسے بول رہی ہو۔۔خیر چھوڑو اسکو تم بات بتاو کیا بات کرنی ہے؟”۔۔
اسکو مسلسل انگلیاں مڑوڑتے دیکھ کے ہمدان نے اسے رلیکس کیا اور ازلی نرم لہجے میں بولا۔۔
اسکے ایسے بولنے سے عیشی کو کچھ حوصلہ ملا۔۔
“مجھے آپ سے ایک چیز مانگنی تھی کیا آپ لا کر دیں گے مجھے؟”۔۔
عیشی معصوم شکل بنا کے بہت آس سے بولی۔۔ اسکا ایسے کہنا ہمدان کی دھڑکن بڑھا گیا۔۔ وہ اسے نا کہہ سکا کہ عیشی کی چھوٹی سے چھوٹی خواہش وہ پوری کرنا اپنا فرض سمجھتا ہے۔۔ اگر وہ جان بھی مانگے تو ہمدان ہنس کے دے دے گا۔۔
“کیا پہلے کبھی ایسا ہوا کہ میں نے تمھاری خواہش نا پوری کی ہو۔۔۔ ہمارا رشتہ ضرور بدلہ ہے۔۔مگر اس سے تمھارا مقام مزید بڑھ گیا ہے میرے دل میں”۔۔
ہمدان جذب کے عالم میں بولا۔۔ تو عیشی نے سر جھکا کے لب کاٹتے ہنسی روکی۔۔جبکہ ہمدان سمجھا اسکی آفت شرما گئ ہے😂۔۔
“مطلب میں کچھ بھی مانگو آپ لا دیں گے”۔۔
عیشی نے دوبارا سوال کیا۔۔۔ ہمدان سے آج کوئ خوشی کا مطلب پوچھتا تو وہ بے اختیار کہہ اٹھتا ۔۔ اس ظالم آفت کے منہ سے آپ سننا ۔۔۔ جیسے وہ بات کر رہی تھی ہمدان کو لگا وہ کوئ ناممکن چیز بھی مانگے گی تو وہ لا دے گا۔۔۔
“تم مانگو تو”۔۔
عیشی مسلسل ہمدان کا صبر آزما رہی تھی ۔۔
“وہ نا دانی بھا۔۔۔ وہ میرا مطلب کہ۔۔ آپ نا مجھے ایک چیز لا دیں۔۔ میں آپکے سوا کسی سے نہیں مانگ سکتی”
عیشی کی ایسی تقریر پر ہمدان کا دل بلیوں اچھل پڑھا😂۔۔۔
“تم کہہ کہ تو دیکھو عیشی “
ہمدان تھوڑا اسکے سامنے جھکا اور اسکے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کے جذب کے عالم میں بولا۔۔
“وہ وہ نا”
عیشی قدرے شرماتی ہوئ بولی۔۔تو ہمدان کا رواں رواں کان بن گئے۔۔کہ یہاں عیشی خواہش کرے وہاں وہ پوری کردے۔۔
“ہاں بولو”۔۔
ہمدان اسے حوصلہ دیتے ہوئے بولا۔۔ جبکہ اسکا دل فل سپیڈ سے دھڑک رہا تھا۔۔
“مجھے نا یوم آزادی کے لیئے باجا چاہیئے۔۔
میرا باجا چھوٹی بہن نے لے لیا۔۔اور کوئ مجھے بازار سے لا کے دینے کے لیئے تیار نہیں ۔۔😢۔۔ مجھے بھی باجا چاہیئے۔۔ پاں پاااااااااں والا۔”
عیشی کی بات پوری ہوئ تو ہمدان کا دل کیا اپنا سر دیوار میں مار لے۔۔۔ اسنے سوچ بھی کیسے لیا عیشی بدل سکتی ہے😂۔۔ سارے خوبصورت ماحول کا ستیاناس ہو گیا۔۔۔ ہمدان سنجیدگی سے عیشی کا منہ دیکھ رہا تھا جبکہ عیشی بہت امید سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔ اس وقت ہمدان کے دل کی حالت وہ ہی جانتا تھا😂😂۔۔۔
💖💖💖💖💖💖💖💖
جاری ہے۔۔۔۔