Ek Hai Aafat Season 2 By Binte Hawa Readelle50339 (Ek Hai Aafat) Episode 11
Rate this Novel
(Ek Hai Aafat) Episode 11
“تم یہاں بیٹھے ہو میں تمھیں پورے گھر میں ڈھونڈ آیا “۔۔
گارڈن میں آتے ہی سیمنٹ کے بنے بینچ پہ خنان کے پاس بیٹھتے امان نے کہا۔۔
“کیا ہوا شکل کیوں اتری ہوئ ہے؟”۔۔
خنان کو مسلسل چپ دیکھ کے امان نے پوچھا۔۔
“کچھ نہیں”۔۔
خنان نے سر جھکائے آہستہ سے کہا تو امان نے اسے گھورا۔
“یہ سستے ہیروئین کی ایکٹنگ بند کر اور سیدھی طرح بتا کیا ہوا ہے”۔۔
امان نے کندھے سے پکڑ کے اپنی طرف موڑتے ہوئے کہا۔۔
“منو کا رشتہ آیا ہے”۔۔
خنان نے روتی شکل بنا کے کہا تو امان نے اسے حیرانی سے دیکھا پھر قہقہہ لگا کے ہنس پڑھا ۔۔
“یہاں میری جان پہ بنی ہے اور تو ہنس رہا ہے؟”۔۔
خنان نے گھور کے کہا تو امان منہ پہ ہاتھ رکھے اپنی ہنسی روکنے لگا ۔۔
“یہ تو ہونا ہی تھا۔۔ میں نے تو تمھیں کب کا کہا اسے بتا دے۔۔ تیرا ہی دل چاہ رہا تھا محبوب کی شادی کرانے کا اور پھر اسکی یاد میں ساری زندگی بیٹھ کے سوکھے پتے دیکھنے کا”۔۔
امان نے مذاق اڑاتے لہجے میں کہا تو خنان اٹھ کے جانے لگا۔۔
“اچھا یار بیٹھ جا یہ ناراض محبوبہ نا بنا کر”۔۔
امان نے پکڑ کے بٹھایا تو خنان نے اسے گھورا ۔۔
“جب تمھیں محبت ہوگی تب پوچھوں گا”۔۔
خنان نے روتی صورت بنے کہا تو امان نے دوبارا قہقہہ لگایا۔۔
“مجھے محبت ہوئ تو ڈائریکٹ جاکے اسے بتا دوں گا”
امان نے گردن اکڑا کے کہا۔۔
“اور اگر وہ نا مانی تو؟”۔۔
خنان نے آئ برو اچکائے دلچسپی سے پوچھا۔۔
“تو جاکے اسکی اماں کو کہوں گا”۔۔
امان نے دوبارا اسی انداز میں کہا تو خنان نے آنکھیں پھاڑے اسکو دیکھا۔۔
“مطلب تمھیں شرم نہیں آئے گی؟”۔۔
خنان نے صدمے سے پوچھا۔۔
“شرم کس بات کی “۔۔
امان نے ناک سے مکھی اڑاتے انداز میں کہا تو خنان کو مزید حیرت ہوئ۔۔
“شرم کرو مان اور کوئ نہیں ملا سیدھا لڑکی کی ماں ہی توبہ توبہ”۔۔
افسوس سے کہتے خنان نے کانوں کو ہاتھ لگایا تو اماں نے حیران ہوکے اسے دیکھا۔۔ مگر جب اسکی بات سمجھ آئ تو رکھ کے مکا خنان کی کمر پہ مارا جس سے خنان تڑپ اٹھا ۔۔۔
“ابے مراسی کہی کے اسکی ماں سے اس لڑکی کا رشتہ مانگوں گا”۔۔
امان نے جل کے کہا تو خنان نے قہقہہ لگایا۔۔
ایسی ہی تھی انکی دوستی پل میں ساری پریشانیاں اڑن چھو ہوجاتی تھی۔۔ اور خنان بھی اب رلیکس تھا کہ امان اسکی مدد ضرور کرے گا۔۔۔
مگر آنے والے وقت کے بارے میں کون جانتا ہے۔۔۔
💞💞💞💞💞💞
“عیشی مشی بس کرو یہ اچھلنا کودنا کچن میں منال چائے بنا رہی ہے چلو اسکی مدد کرو”۔۔
عیشی نے جب سے مشی کو ساری بات بتائ تھی وہ بھی رلیکس ہوگئ تھی۔۔ اور دوبارا اپنی ٹون میں واپس آچکی تھی۔۔۔ ابھی وہ دونوں قہقہہ لگاتی سیڑھیاں پھلانگ کے نیچے آرہی تھی جب رشی نے دونوں کو غصے سے گھور کے کہا۔۔۔
“ارے رشی آنی اسکی ضرورت نہیں میں بنا لائ ہوں چائے”۔۔
منال چائے کی ٹرے میز پہ رکھتی بولی تب ہی ضرار پکوڑے اور نمکو کی پلیٹ بھی اٹھا لایا اور میز پہ رکھی۔۔۔
منو سب کو چائے پکڑانے لگی۔۔ ضرار عیشی مشی بھی اپنی اپنی چائے لے کے صوفے پہ بیٹھ گئے ۔۔
“تم لوگ بھی کچھ سیکھ لو بڑھی ہوگئ ہو۔۔ یہی حرکتیں رہی تو کل کو سسرال جاکے ناک کٹواو گی”۔۔۔
رشی نے عیشی مشی کو دیکھ کے کہا تو دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا پھر شرارت سے مسکرانے لگی۔۔۔
“آپ کے سسرال نے بھی تو آپکو برداشت اوہ میرا مطلب سکھایا ہی ہے سب کچھھھھھ”۔۔
عیشی اپنی دھند میں بول رہی مگر رشی کی گھوری نوٹ کرکے فورأ لائن پہ آئ۔۔۔
“شادی کے بعد ایسی حرکتیں کی نا ساس تمھاری بالوں سے پکڑ کے گھر سے باہر نکالے گی”۔۔
رشی نے تپ کے کہا تو عیشی نے قہقہہ لگایا۔۔
“شادی ہاہاہاہاہاہا میری شادی ہاہاہاہاہاہا “۔۔۔
عیشی ہنس ہنس کے لوٹ پوٹ ہو رہی تھی نا چاہتے ہوئے بھی سب کی ہنسی نکل گئ۔۔ جسکو سب نے بڑھی مشکل سے کنٹرول کیا۔۔ جبکہ رشی عیشی کو گھور رہی تھی ۔۔
“مجھے نہیں کرنی شادی”۔۔
عیشی نے منہ بنا کے کہا تو سب نے اسے حیرانی سے دیکھا۔۔۔
“کیوں؟”۔۔
رشی نے سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا تو عیشی نے معصوم شکل بنائ۔۔
“شادی سے ڈر نہیں لگتا چھوٹی بہن اپنے جیسی اولاد سے ڈر لگتا ہے “۔۔
عیشی نے معصومیت سے کہا تو رشی منہ کھولے اسکی بات سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی جبکہ باقی سب نے زور دار قہقہہ لگایا۔۔۔
جب بات رشی کی سمجھ میں آئ اسکی منہ پھٹ بات پہ رشی نے جوتا اتار کے اسکو مارا مگر تب تک عیشی اندھر بند ہو چکی تھی۔۔ اور جوتا ٹھاہ کرکے دروازے پہ لگا۔۔۔
“گندی اولاد”۔۔
رشی نے غصے سے کہا تو سب نے ہنسی چھپائ۔۔ اور چائے پینے لگے۔۔۔۔
💞💞💞💞💞💞💞
“السلام علیکم”۔۔
ناشتے پہ عیشی مشی دونوں کالج کے لیئے تیار میز پہ آئ اور سبکو سلام کیا۔۔۔
“وعلیکم السلام۔۔ بھئ آج تو ہماری شہزادیوں کا کالج میں پہلا دن ہے “۔۔
سب نے سلام کا جواب دیا تو احرار صاحب نے مسکرا کے دونوں کے سر پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا ۔۔۔
“ہے تو پہلا مگر لگ رہا ہے یہی آخری بھی ہوگا جب کالج والوں کو معلوم ہوگا کہ غلط مخلوق کو ایڈمشن دے دیا ہے”۔۔
ضرار نے ناشتہ کرتے ہوئے شرارت سے کہا تو عیشی نے اسکے سر پہ رجسٹر مارا۔۔۔
“سمجھا لے اسے نانا ابو جب اسے اسکے کالج والے رکھ سکتے ہیں تو پھر کسی کو بھی رکھ سکتے ہیں “۔۔
عیشی نے تپے ہوئے لہجے میں احرار صاحب کو دیکھ کے کہا تو وہ مسکرانے لگے۔۔
“اچھا لڑو مت ناشتہ کرو آج تم لوگوں کا کالج میں پہلا دن ہے ایسے صبح صبح لڑ کے نہیں جاتے”۔۔
زری نے دونوں کے آگے ناشتہ رکھتے ہوئے کہا۔۔
“ہم نہیں لڑتے آنی یہ ضڑاڑ کو آڑام نہیں ہے صبح صبح “۔۔
مشی منہ میں نوالہ لے کے بولی تو سبکا قہقہہ بلند ہواجبکہ بچارا ضرار سر پکڑ کے بیٹھ گیا۔۔
“تمھیں کتنی باڑ کہا ہے مشی میڑے نام کا پیچھا چھوڑ دو لاہوڑی آتما”۔۔
ضرار نے اسی کے انداز میں کہا تو مشی نے اسے گھورا۔۔
“اچھا اچھا بس ناشتہ کرو سب”۔۔
اس سے پہلے کے وہ دوبارا شروع ہوتے عازب نے سبکو خاموش کرایا۔۔
“دانی بھائ کہاں ہے؟”۔۔
عیشی نے جوس کا گلاس جلدی سے ختم کرتے ہوئے آس پاس نظر دوڑاتے ہوئے پوچھا۔۔۔
“وہ تو آج صبح صبح یونی چلا گیا تھا”۔۔
ہماہ نے چائے میز پہ رکھتے ہوئے بتایا۔۔
“کیا مطلب چلے گئے ۔۔ ہمیں چھوڑ کے۔۔ وہ کیسے بھول سکتے ہیں آج ہمارا کالج میں پہلا دن ہے۔۔ اور انہوں نے ہمیں لے کے جانا تھا”۔۔۔
عیشی نے غصے سے کہا۔تو کچن میں سے جوس لاتی زری نے غور سے اسے دیکھا۔۔ کل رات سے وہ ہمدان کا بدلا بدلا رویہ بھی نوٹ کر رہی تھی۔۔۔
“کوئ بات نہیں بیٹا آپکو میں چھوڑ دوں گا”۔۔
شازیب نے اسے پیار سے گلے لگاتے ہوئے کہا۔۔
“نہیں آپ دانی بھائ کو کال کریں وہی لے کے جائے گے بس”۔۔
عیشی نے سر نفی میں ہلاتے ضدی انداز میں کہا۔۔۔
“اس میں کیا ہے بھائ کو کوئ کام ہوگا تو چلے گئے۔۔ ایسا کرتے ہیں تم دونوں کو میں چھوڑ دیتا ہوں۔۔ چاچو کی گاڑی پہ ۔۔اور خنان میں بائیک پہ منو کو چھوڑ دے گا”۔۔
امان نے عارب کو دیکھ کے کہا۔۔کیونکہ عارب منو کو اسکے کالج چھوڑتا تھا۔۔ آج عارب کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی ۔۔تو اسے امان کا
آئیڈیا پسند آیا۔۔ جبکہ منو اور خنان نے بیک وقت آنکھیں پھاڑ کے امان کو دیکھا۔۔۔
“صحیح ہے “۔۔
عارب گاڑی کی چابی امان کو دیتا بولا تو منو نے ساکت نظروں سے باپ کو دیکھا۔۔ اور خنان نے امان کو۔۔ خنان کے دیکھتے ہی امان نے بائیں آنکھ دبائ اور اپنے بائیک کی چابی خنان کو پکڑائ۔۔
“چلو”۔۔
امان کھڑا ہوتا بولا تو عیشی نے غصے سے اپنا بیگ اٹھایا اس وقت اسکا دل چاہ رہا تھا ہمدان کا قیمہ بنا دے۔۔۔ مشی بھی ناشتہ ختم کرتی اٹھ گئ۔۔۔
“ابھی سے ہی شادی شدہ والے ہوگئے ہیں دیکھتی ہوں بچوں اب کرو ذرا اس ڈائن سے شادی”۔۔
عیشی دل ہی دل میں ہمدان کو خوب کوستی آکے گاڑی میں بیٹھی ۔۔۔
“دیکھ آج بول دینا اگر آج بھی نا بولا تو مجھ سے کوئ نہیں بچا سکے گا”۔۔
خنان اور امان دونوں اگھٹے باہر آئے جب امان نے ایک نظر منو کو دیکھ کے خنان کے کان میں کہا۔۔ اور خنان نے روتی صورت بنا نے امان کو دیکھا پھر بائیک کی طرف گیا جہاں منو اسکا انتظار کر رہی تھی۔۔ امان نے اسکی شکل دیکھ کے ہنسی دبائ۔۔ پھر گاڑی میں بیٹھ گیا ۔۔
گاڑی روڈ پہ لاتے ہی عیشی مشی کی فرمائشیں شروع ہوئ تو امان نے دونوں کو گھورا ۔۔۔
“اسی وجہ سے میں آپکے ساتھ نہیں آتی۔۔ ہر وقت گھورتے رہتے ہیں “۔۔۔
عیشی نے امان کو دیکھ کے ناراض لہجے میں کہا ۔۔ پھر گاڑی سے باہر دیکھنے لگی۔۔ تو امان نے ہنسی دبائ اور ڈرائیونگ کرنے لگا۔۔۔
💞💞💞💞💞💞
“وہ مجھے تم سے کچھ کہنا تھا”۔۔۔
بائیک روڈ پہ لاتے ہی خنان نے گلہ تر کرتے ہوئے بہت ہمت سے کہا۔۔۔ جبکہ دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔۔۔
“جی”۔۔
منال نے آہستہ سے کہا جبکہ اسکا حال بھی کچھ مختلف نا تھا۔۔۔
“وہ میں”۔۔
خنان ابھی بولنے کی کوشش ہی کر رہا تھا جب اسکا موبائل بجا۔۔۔
“اچھا کچھ دیر میں پہنچتا ہوں”۔۔۔
فون سنتے ہی خنان نے کہا اور کال کاٹ دی۔۔۔
“کیا کہنا تھا آپ نے”۔۔
منو نے کال بند کرنے کے کچھ دیر بعد پوچھا۔۔
“وہ میں نے کہنا تھا کہ اگر واپسی پہ بھی چاچو کی طبیعت ٹھیک نا ہوئ تو مجھے کال کر دینا میں آجاوں گا لینے”۔۔۔
خنان کے کالج کے پاس اسے چھوڑتے کہا۔۔۔ تو منو نے سر ہلایا۔۔ خنان نے مسکرا کے اسے دیکھا اور بائیک واپس موڑ لی۔۔ دور جانے تک منو نے اسے دکھ سے دیکھا پھر کالج کے اندھر چلی گئ۔۔۔
💞💞💞💞💞💞
“چلو اترو”۔۔۔
عیشی مشی کے کالج کے پاس پہنچ کے گاڑی روکتے ہی امان نے کہا۔۔۔
“ایسے کیسے اتریں اندھر گاڑی لے کے جائیں اور ہمیں چھوڑ کے آئیں”۔۔۔
عیشی نے منہ اسکی جانب موڑ کے کہا تو امان نے حیران ہوکے اسے دیکھا۔۔
“کیوں یہاں کیا مسلہ ہے؟”۔۔۔
امان نے پوچھا۔۔۔
“دیکھے صاف سی بات ہے آپ ہمیں یہاں لائیں خود جبکہ لانا ہمیں دانی بھائ نے تھا۔۔ اور ان کے ساتھ طے ہوا تھا وہ ہمیں کالج کے اندھر چھوڑ کے آئیں گے ساتھ ساتھ کالج کے کلرک روم سے ہمیں کالج کارڈ بھی لے کے دے گے۔۔ اب جب آپ لائیں ہیں تو آپ چھوڑ کے آئیں۔۔۔”
عیشی نے آنکھیں گھوماتے ہوئے کہا تو امان نے افسوس سے اسے دیکھا پھر گاڑی کا دروازہ کھولا۔۔۔
“ارے ارے رکیں گاڑی اندھر لے کے جائیں”۔۔۔
اسکو باہر نکلتا دیکھ کے عیشی نے جلدی سے روکا اور دوبارا بولی۔۔۔
“کیوں “۔۔
امان نے اسی کے انداز میں کہا۔۔۔
“آج ہمارا فرسٹ ڈے ہے ایسے چل کے گیں تو سب ہمیں غریب سمجھے گے آخر ہماری بھی کوئ عزت ہے”۔۔۔
عیشی نے گردن اکڑا کے کہا تو امان نے پوری آنکھیں کھول کے اس عزت والی کو دیکھا😂۔۔۔ پھر ہار مانتے ہوئے گاڑی سٹارٹ کی اور کالج کے اندھر لے گیا۔۔۔
“اب یہاں اترو گی۔۔ یا کلاس میں چھوڑ کے آوں؟”۔۔
کالج کے اندھر لاتے ہی امان نے تڑخ کے کہا تو عیشی منہ بناتی نیچے اتری۔۔ اسکے پیچھے مشی بھی اتر گئ۔۔۔ عیشی امان کی طرف آئ اور دروازہ کھول کے اسے باہر آنے کا کہا۔۔۔
“کیوں؟”۔۔۔
امان نے سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا ۔۔۔
“افففف مان بھائ ایک تو آپ سوال بہت کرتے ہیں۔۔ بتایا تو ہے کالج کارڈ لے کے دینے ہیں ۔۔۔ اور جلدی میں میں نے اور مشی نے پاکٹ منی بھی نہیں لی وہ بھی دیں جلدی”۔۔۔
عیشی ماتھے پہ ہاتھ مارتی بولی تو امان نے سر افسوس میں ہلایا اور گاڑی سے باہر نکلا۔۔۔ تو آس پاس سے گزرتی لڑکیوں نے اس ہینڈسم سے لڑکے کو دیکھا۔۔۔
“اففف عیشی کیا ہمارا بھائ ایلین ہے جو یہ سب گھور رہی ہیں؟ “۔۔
مشی نے عیشی کے کان میں کہا تو عیشی نے ایک نظر خود سے دو قدم آگے چلتے بھائ کو فخر سے دیکھا۔۔ پھر آس پاس سے گزرتی لڑکیوں کو گھور کے دیکھ کے مکا دیکھایا۔جس سے سب تتر بتر ہوگئ😂۔۔۔۔
“یہ لو اور کچھ؟ “۔۔
انکیں کارڈ لے کے انکو پکڑاتے امان نے سنجیدہ لہجے میں پوچھا۔۔۔
“نہیں میلا کیوٹ بھائ بش”۔۔
کارڈ لیتے ہی عیشی نے پیار سے کہا تو امان نے گھور کے اس دادی اماں کو دیکھا۔۔ جو ہنستے ہوئے مشی کا ہاتھ پکڑ کے کلاس رومز کی طرف چلی گئ۔۔ تو امان بھی سر نفی میں ہلاتا واپس مڑا ۔۔۔
“آہہہہہہ”
کوریڈور سے مڑتے ہی امان کی کسی سے زور دار ٹکر ہوئ جو زمین پہ گر چکی تھی۔۔۔
“یہ کیا اللہ نے تمھیں دنیا میں اس لیئے بھیجا ہے کہ معصوم بچیوں کو گراتے پھرو موٹے دیو”۔۔
زمین پہ بیٹھی لڑکی نے اپنی عینک صحیح کرتے غصے سے کہا تو امان نے پاس لگے آئینے میں حیرت سے خود کو دیکھا جو بالکل سمارٹ تھا۔۔۔
“میڈم آپکی عینک کی ڈیٹ ایکسپائر ہوگئ ہے ۔۔ چینج کرواو “۔۔
امان نے تڑخ کے کہا تو وہ لڑکی تن فن کرتی اٹھ کھڑی ہوئ۔۔
“ڈیٹ تو تمھاری میں ایکسپائر کرتی ہوں۔۔ جو لڑکیوں کو گھورنے میں اتنا مگن ہے کہ سامنے سے آتی اتنی بڑھی لڑکی نظر نہیں آئ”۔۔۔
دونوں ہاتھ کمر پہ رکھے وہ لڑاکا طیارے کی طرح گرجی ۔۔۔
“اوہ میڈم میں اتنا فارغ نہیں ہوں جو یہ کام کروں۔۔۔ اور ہر ایکس وائے زی خود ہی آکے ٹکراتی ہے”۔۔
امان نے غصے سے کہا ۔۔
“اوہ مسٹر ایکس وائے زی ہوگے تم خود۔۔ تمھاری بیوی۔۔۔ تمھارے بچے۔۔ تمھاری سات نسلیں اچھا نا میرا نام نازلی ہے آئ سمجھ”۔۔۔
لڑکی جو شروع ہوئ تو بریک لگانا بھول گئ۔۔ جبکہ امان منہ کھولے اسکو دیکھ رہا تھا۔۔۔
“اب سمجھ آیا انکو یہاں ایڈمشن کیسے ملا یہ کالج ہے ہی ان جیسی بچاری ایبنارمل عوام کے لیئے ہے۔”۔۔۔
امان نے کالج کو دیکھتے ہوئے کہا تو نازلی نے حیرانی سے اسکو خود سے باتیں کرتے دیکھا۔۔۔
“دیکھیں میڈم آپ نازلی ہو یا نزلی غلطی آپکی تھی میری نہیں “۔۔
امان نے بات ختم کرتے کہا تو نازلی نے زور سے پاوں پٹخا۔۔۔
” تم ہوگے یہ اول فول”۔۔
وہ ناک چڑا کے بولی ۔۔ تو امان نے اسکی نقل اتاری اور آگے بڑا ۔۔
“آہہہہہہ”۔۔۔
اس سے پہلے امان آگے بڑتا نازلی نے اپنا بیگ اسکے پاوں سے اٹکایا تو وہ منہ کے بل گرا اور مڑ کے غصے سے نازلی کو دیکھا۔۔۔
“مجھے بھی ایسے ہی لگی تھی۔۔۔ اور نازلی سے پنگا اس ناٹ چنگا “۔۔۔
نازلی آنکھیں دیکھا کے بولی اور آگے بڑھ گئ۔۔۔ جبکہ امان غصے اور حیرانی سے اسے جاتا دیکھتا رہا۔
“سائیکو “۔۔۔
غصے سے کہتا وہ اٹھ کے گاڑی کی طرف بڑا اور شکر کیا کسی نے دیکھا نہیں😂
💞💞💞💞💞💞💞
جاری ہے۔۔۔۔۔
