393.4K
34

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Ek Hai Aafat) Episode 19

شاہ ہاوس**۔۔
منو اور حنان کی منگنی کو پندرہ دن گزر گئے تھے۔۔ اس دوران منو حنان کے سامنے آنے سے بھی شرماتی تھی جو کہ عیشی مشی دیکھ کے حیران تھی۔۔ اب گھر میں ہمدان کی منگنی کو لے کے سب بڑھے میٹنگ میں مصروف رہتے تھے۔۔ جبکہ عیشی کو لگتا تھا کہ سارہ آنے والی ہے😜۔۔
“ہمدان بیٹا “۔۔
“ارے ماما وہاں کیوں کھڑی ہیں آپ اندھر آئے نا”۔۔
صبح صبح ناشتے کے بعد عیشی مشی کالج چلی گئ اور حنان امان بھی کلب پریکٹس کرنے چلے گئے۔۔ تو زری کچن رشی اور ہماہ کے حوالے کرکے ہمدان کے کمرے میں آئ جہاں وہ لیپ ٹاپ پہ کچھ کام کرنے میں مصروف تھا۔۔
زری نے دروازہ نوک کرکے ہمدان کو بلایا تو ہمدان نے لیپ ٹاپ سے سر اٹھا کے دروازے کی طرف دیکھا پھر مسکرا کے لیپ ٹاپ سائیڈ پہ رکھتا بولا۔۔
زری اندھر آئ تو ہمدان نے بیڈ پہ بیٹھنے کی جگہ دی پھر اسکا ہاتھ چوم کے گود میں سر رکھ کے لیٹ گیا۔تو زری مسکرانے لگی اور آہستہ آہستہ اپنا ہاتھ ہمدان کے بالوں پہ پھیرنے لگی۔۔ہمدان نے سکون سے آنکھیں بند کرلی۔۔
“دانی بچے بات کرنی تھی تم سے؟”۔۔
کچھ دیر بعد ہاتھ روک کے زری بولی تو ہمدان نے آنکھیں کھول کے ماں کا چہرہ دیکھا اور پھر پوچھا کیا بات۔۔
“دیکھو بیٹا تم نے مجھے بتایا کہ حانی اور منو پسند کرتے ہیں تو میں دونوں کا نام آئے بغیر انکی منگنی کرانے میں تمھاری مدد کروں جو میں نے کی۔ اب تم بڑھے ہو اور سب چاہتے ہیں تمھاری بھی منگنی کردی جائے۔۔ اگر تمھیں کوئ پسند ہے تو بتاو”۔۔
زری تفصیل سے بولی تو ہمدان اٹھ کے بیٹھ گیا اور سنجیدگی سے ماں کو دیکھنے لگا۔۔ ایک پل کو عیشی کا چہرہ اسکی آنکھوں کے سامنے گھوم گیا۔۔ مگر اگلے پل یہ سوچ کہ دل دکھا کہ عیشی کسی اور کو پسند کرنے لگی ہے۔۔ اور ہمدان اتنا سیلفش نہیں ہو سکتا کہ اپنی خوشی کی خاطر اسکی خوشی مار دے۔۔
“آہم نہیں ماما آپ جہاں کرنا چاہیں کردے مجھے کوئ اعتراض نہیں”۔۔
ہمدان مسکرا کے بولا تو زری نے غور سے اسکے چہرے کی طرف دیکھا۔۔
“کیا تم عیشی کو پسند نہیں کرتے؟”۔۔
زری نے برائے راست سوال کیا تو ہمدان گڑبڑھا گیا اور ادھر ادھر دیکھنے لگا۔۔
“ماما وہ کسی اور کو لائیک کرتی ہے شاید سو آپ اس بات کو یہی ختم کردیں پلیز”۔۔
ہمدان منت سے بولا تو زری کچھ دیر اسکی طرف دیکھتی رہی پھر اسکے سر پہ بوسہ دے
کے خوش رہنے کی دعا دیتی باہر نکل گئ۔۔
ہمدان نے گہرا سانس لیا اور دوبارہ لیپ ٹاپ پہ لگ گیا۔۔۔
💞💞💞💞💞💞💞💞
“شاہ جلدی کردیں کال آرہی ہے”۔۔
رشی کپڑے طے کرکے الماری میں رکھ رہی تھی جب شازیب کا موبائل تیسری بار بجا تو رشی کپڑے چھوڑ کے واشروم کے دروازے کے پاس آکے بولی۔۔ شازیب ابھی ابھی دوپہر کو واپس آیا تھا اور زیادہ گرمی ہونے کی وجہ سے شاور لینے چلا گیا۔۔ تب سے اسکا موبائل بج بج کے پاگل ہو رہا تھا۔۔۔
“اففف شاہ “۔۔
موبائل بج بج کے بند ہوا تو رشی دوبارہ اپنے کام میں لگ گئ مگر تب ہی چوتھی بار کال آنے لگی تو رشی کپڑے صوفے پہ رکھتی کوفت سے بولی اور بیڈ کے پاس آئ جہاں موبائل کا سپیکر گلہ پھاڑ پھاڑ کے بج رہا تھا۔۔
موبائل اٹھاتے ہی رشی نے آنکھیں چھوٹی کرکے سکرین کو دیکھا۔۔ مگر اگلے ہی لمحے اسکا پارہ ہائ ہوگیا ۔۔کیونکہ سکرین پہ simi calling…. لکھا آرہا تھا😜۔۔
رشی نے زور سے موبائل بیڈ پہ پھینکا اور کمرے میں چکر کاٹنے لگی۔۔
“آہہہہ”۔۔
شاہ جیسے ہی شاور لے کے باہر نکلا رشی نے صوفے پہ پڑھے کشن اس پہ برسانے شروع کر دئیے۔۔ اس اچانک افتاد کے لیئے وہ تیار نا تھا سو ادھر ادھر ہوکے اپنا بچاو کرنے لگا جب ایک کشن سیدھا جاکے ناک پہ لگا وہ شاہ دونوں ہاتھ ناک پہ رکھے چینخا۔۔
“کیا ہوگیا ہے کچھ بتاو گی بھی”۔۔
جب صوفے سے کشن ختم ہوئے اور رشی بیڈ کی جانب بڑھی تو شاہ نے فورأ راستہ روک کے پوچھا۔۔
“ابھی بتاتی ہوں شرم تو آتی نہیں ہے تمھیں تین جوان بچوں کے باپ ہوگئے ہو مگر۔۔ حرکتیں چیک کرو اپنی توبہ توبہ”۔۔
رشی دونوں ہاتھ کمر پہ رکھ کے چینخ کے بولی تو بچارہ شاہ حیرانی سے ادھر ادھر دیکھنے لگا کہ اب کیا کر دیا اسنے😂۔۔
“ہوا کیا ہے”۔۔
رشی نے جب بیڈ سے تکیہ اٹھا کے مارا تو اسکو کیچ کرتے شاہ جھنجھلا کے بولا۔۔
“یہ بھی مجھ سے پوچھ رہے ہو کہ ہوا کیا ہے۔۔ جیسے تمھیں تو پتا ہی نہیں ہے اتنے بھی نھنھے کاکے نا بنو”۔۔
رشی الماری سے بیگ نکالتے ہوئے بولی تو شاہ گھبرا گیا۔۔
تب ہی دروازہ کھول کے اندھر آتا امان بھی رک کے اپنے نمونے ماں باپ کو دیکھنے لگا۔۔ جو آج جیت کے آنے کی خوشخبری سب سے پہلے اپنی ماں کو سنانا چاہتا تھا اور میڈل بھی دیکھانا چاہتا تھا۔۔
“یہ کیا کر رہی ہو رشی کہاں جا رہی ہو تم۔۔ دیکھوں ایسا مت کرو مجھے بتاو تو” ۔
رشی کو الماری سے کپڑے نکالتے دیکھ کے شاہ پریشانی سے بولا اسکی آواز سن
کے عیشی مشی بھی وہاں اگئ جو ابھی ابھی کالج سے واپس آئ تھی۔۔
“ہائےےے دیکھو عیشی ماما پاپا لڑھ رہے ہیں”۔۔
دروازے پہ کھڑے ہوکے مشی نے خوشی سے عیشی کے کان میں کہا۔۔
“ہاو کیوٹ مزے کا ہے بس ہم لیٹ ہوگئے”۔۔
عیشی بھی فرش پہ پڑھے کشن دیکھ کے بولی تو امان نے گھور کے دونوں کو دیکھا۔۔
“میں کہی نہیں جا رہی بلکہ تم جاو گے یہاں سے یہ گھر نکاح نامے پہ میرے نام ہے اور پکڑو اپنی چیزیں چلو نکلو اب”۔۔
رشی الماری سے شازیب کے سارے کپڑے نکال کے بیگ میں پٹختے ہوئے بولی تو شاہ نے آنکھیں پھاڑ کے اسے دیکھا۔۔ تب ہی رشی اسکے پرفیومز اور باقی چیزیں بیگ میں پٹخ کے بولی۔۔ اور عیشی مشی مزید تجسس سے دیکھنے لگی۔۔
“یار ماما کیا ہوگیا ہے بتائیں بھی سارا محلہ آپ دونوں کو سن رہا ہے”۔۔
باپ کو بت بنا دیکھ کے امان بیزاری سے بولا تو رشی نے دروازے میں کھڑے اپنے تینوں بچوں کو دیکھا ۔۔ پھر گھسیٹ کے بیگ دروازے سے باہر رکھا۔۔ اور سبکو کمرے سے نکال کے ٹھاہ کی آواز سے دروازہ بند کر دیا😂۔۔ شور کی آواز سن کے باقی گھر والے بھی وہاں اکٹھے ہوگئے اور سوالیہ نظروں سے شاہ کو دیکھنے لگا جو خود حیران سا کھڑا تھا ۔۔
“ارے چھوٹی بہن ہمیں تو اندھر بلا لو اکیلے کس کس کا مقابلہ کرو گی ہماری ضرورت پڑھے گی”۔۔
عیشی دروازے کے ساتھ منہ لگا کے بولی تو رشی نے اندھر سے کشن بند دروازے پہ مارا تو عیشی ایک دم اچھل کے پیچھے ہوئ اور برے برے منہ بنا کے دروازے کو دیکھنے لگی۔۔
“شاہ بیٹا ہوا کیا ہے”۔۔
احرار صاحب سے شازیب سے پوچھا تو اسنے کندھے اچکا دئیے اور پھر شاور اور کال والی سٹوری سے لے کے کمرے سے باہر نکالنے تک سب بتا دیا تو ریا نے سر پکڑ لیا ۔۔
“عیشی یہ جو شب ہم لوگوں شے پوچھتے تھے کا کہ کش پہ گئ ہو انکی لشٹ بنا لو کل شبکو پکڑ پکڑ کے بتائیں گی کہ اپنی چھوٹی بہن پہ گئ ہم دونوں”۔۔
شازیب کی ساری بات سن کے پانی پیتی مشی آنکھیں گھوما گھوما کے بولی تو عیشی بھی گڈ آئیڈیا کہتے سر ہلانے لگی جبکہ شازیب نے بچارگی سے آسمان کی طرف دیکھا۔۔
” اوڑ اگڑ ان لوگوں نے پوچھ لیا کہ تم ہکلی ہو یہ کش پہ گئ ہو تو بتانا نکڑ والے چاچے شیمے پہ”😂۔۔
ضرار نے اسکی نقل اتارے اپنے ٹاون کے کونے والے بابے کا نام لیا ۔۔جسکا نام نسیم تھا مگر سب انہیں سیمے کہتے تھے۔۔اور وہ بھی ہکلے تھے😝۔۔
“چپ کڑ جاو ضڑاڑ کے بچے مڑ مڑا مت جانا میڑے ہاتھوں”۔۔
منہ میں سینڈوچ ڈالتے مشی بازو پیچھے کرکے بولی تو سب نے ہنسی دبائ جبکہ ہمدان نے ان دونوں کو خاموش کرایا اور۔۔احرار صاحب رشی سے دروازہ کھلوانے لگے۔۔
“بیٹا کیا ہوا ہے؟”۔۔
رشی نے جیسے ہی دروازہ کھولا تو احرار صاحب اسکے سر پہ ہاتھ رکھ کے بولے تو رشی انکے گلے لگ کے رونے لگی۔۔
“بتاو تو رشی بچے ہوا کیا ہے؟”۔۔
اسکو روتا دیکھ کے سب پریشان ہوگئے جبکہ عیشی مشی اپنی ماں کو روتے دیکھ کے روتی شکل بنانے لگی۔۔جب عازب نے آگے بڑھ کے رشی کے سر پہ ہاتھ رکھ کے بولا ۔۔ وہ رشی کو اپنی چھوٹی بہن سمجھتا تھا۔۔
“بھائ شاہ کا کسی کے ساتھ چکر چل رہا ہے”۔۔
رشی دوپٹے سے آنسو صاف کرکے بولی تو سب نے جھٹکے سے مڑ کے شاہ کو دیکھا۔۔ جو رشی کی بات سن کے ہی پتھر کا ہوگیا تھا۔۔
“نہیں”۔۔
شاہ بس اتنا ہی بولا مگر سبکو مشکوک نظروں سے اپنی طرف دیکھ کے چپ ہوگیا۔۔
“یار پاپا ایک چھوٹی بہن ہی ہماری زندگی میں کم ہے جو آپ ایک اور لانے والے ہیں”۔۔
عیشی مصنوعی آنسو صاف کرتی بولی تو سب نے اس ڈرامہ کوئین کو دیکھا۔۔
“اور پاپا پلیز ایسی ماما لائیے گا جو رات دو بجے بھی مجھے بریانی بنا کے دے دے رائتہ بوتل کے ساتھ”۔۔
مشی زبان ہونٹوں پہ پھیرتی بولی تو شاہ نے سر پکڑا ۔۔ یہاں وہ مجرم بن کے کٹہرے میں کھڑا تھا مگر اسکی لاڈلیوں کی فرمائشیں ہی ختم نہیں ہو رہی تھی۔۔
” بتاو شاہ کیا یہ سچ ہے ؟”۔۔
عازب نے شاہ سے پوچھا تو وہ نا میں سر ہلانے لگا۔۔
“جھوٹ بول رہے ہو اب بھی میں نے خود دیکھا ہے سیمی نام کی چڑیل کی کال آرہی تھی تمھیں “۔۔
رشی چینخ کے بولی تو باقی سب خاموش رہے ۔۔جبکہ عارب نے زوردار قہقہہ لگایا اور عازب بھی ادھر ادھر دیکھ کے ہنسی روکنے لگا۔۔ اور بچارہ شاہ دونوں ہاتھ سر پہ رکھ کے پاس پڑھی کرسی پہ بیٹھ گیا۔۔
“وہ سیمی چڑیل نہیں جن ہے۔۔ مطلب شاہ کے دوست کا نام سیمی ہے ۔۔وہ عورت نہیں مرد ہے”۔۔
جب عارب ہی ہنسی رکی تو سب اسکی طرف دیکھ رہے تھے تو عارب نے صفائ دی۔۔ باقی سب بھی ہنسنے لگے تو رشی جی بھر کے شرمندہ ہوئ اور لب کاٹتے ہوئے آہستہ سے شاہ کو دیکھا تو لہو آنکھوں سے اسے ہی گھور رہا تھا۔۔
“ہاں تو مجھے کیا پتا اور کون پاگل لڑکیوں جیسا نام رکھتا ہے”۔۔
بجائے اپنی غلطی ماننے کے رشی بولی تو سب ہنسنے لگے جبکہ شاہ کا بس نہیں چل رہا تھا اپنی نمونی کو کہی غائب کردے۔۔
“واو سیمی نائس نیم “۔۔
عیشی مشی تالی مارتے ہنس کے بولی تو سب نے ہنسی
چھپائ۔۔۔
“یا اللہ کونسے گناہ کی سزا ہیں یہ سارے نمونے”۔۔
شاہ آسمان کی طرف دیکھ کے بے بسی سے بولا پھر گھر سے باہر نکل گیا۔۔ ریا نے دکھ سے اپنے بچارے بھانجے کو دیکھا۔۔ باقی سب بھی ہنسی چھپاتے کھسک گئے ۔۔رشی بھی لب چباتی کمرے میں چلی گئ۔۔جبکہ عیشی مشی ابھی تک ہنس رہی تھی۔۔امان نے افسوس سے اپنے بھوت بنگلے کو دیکھا اور بنا اپنی جیت کا کسی کو بتائے گھر سے چلا گیا۔۔۔
💞💞💞💞💞💞💞💞 “بچاو بچاو کوئ ہے میری مدد کرو پلیزززز”
نازلی جیسے ہی پارک میں داخل ہوئ تو اسے کسی لڑکی کے شور کی آواز آئ۔۔۔ دوپہر کے ٹائم پارک میں رش کم تھا۔۔ نازلی کالج سے واپس آئ اور کچھ دیر بعد ہی موسم اچھا ہونے کی وجہ سے پارک میں آگئ تھی۔۔
وہ جلدی سے اس طرف بڑھی جہاں سے شور کی آواز آرہی تھی۔۔ سامنے دیکھتے ہی نازلی نے غصے سے آنکھیں چھوٹی کی۔۔کیونکہ دو لڑکے ایک لڑکی سے پرس چھیننے کی کوشش کر رہے تھے جو مدد کے لیئے روتے ہوئے چلا رہی تھی۔۔۔
نازلی نے بازو فولڈ کیئے اور پاوں پٹختی ہوئ انکی طرف بڑھی ۔۔ ایک ہی بہن ہونے کی وجہ سے نازلی کافی لاڈ سے پلی تھی اسے فائٹنگ کورس کا بہت شوق تھا جو اسنے خازق سے کیا تھا۔۔ اور اب کسی کی بھی اچھی خاصی دھلائ کر سکتی تھی۔۔
بیچ میں جاتے ہی اسنے لڑکی سے پرس لیا اور لوہے کی چین نکال کے پرس لڑکی کی طرف پھینک دیا۔۔ چین سے دونوں لڑکوں کی پٹائ شروع کردی جو اسے لڑکی سمجھ کے ہنس رہے تھے مگر وہ پوری آفت کی طرح ٹوٹ پڑی تھی۔۔
“لڑکی کو کمزور سمجھتے ہو ابھی بتاتی ہوں”۔۔
مار مار کے چین ٹوٹ گئ تو اسنے ایک طرف پھینکتے نیچے پڑھے دونوں لڑکوں کو مکوں اور لاتوں سے مارنا شروع کر دیا۔۔
وہ لڑکی منہ پہ ہاتھ رکھے اسے دیکھ رہی تھی۔۔
💞💞💞💞💞💞💞💞
“جاو بیٹا حانی دیکھو امان کہاں ہے اسنے کچھ کھایا بھی نہیں بھوکا چلا گیا بچارہ”۔۔
سلاد کاٹتے زری نے حنان سے کہا جو پانی پی رہا تھا۔۔
پانی پی کے وہ جی اچھا کہتا باہر چلا گیا۔۔جانتا تھا امان اسے کہاں ملے گا۔۔۔
💞💞💞💞💞💞💞💞
پارک میں داخل ہوتے ہی امان کی نظر دو لڑکوں پہ پڑھی جنہیں کوئ لڑکی برے طریقے سے مار رہی تھی۔۔ دونوں کا منہ خون سے بھرا ہوا تھا۔۔ اور ہاتھ جوڑ جوڑ کے لڑکی سے معافی مانگ رہے تھے ۔۔
“اے کسی ڈان کی اولاد چھوڑ دو انہیں یہ کیا غنڈہ گردی مچا رکھی ہے۔۔ یہ پارک ہے تمھارا اڈا نہیں”۔۔
امان جو گھر سے غصے میں نکلا تھا۔۔ یہاں آتے ہی اسے غصہ نکالنے کا موقع مل گیا تھا۔۔اسکے غصے سے بولنے پہ آس پاس اکٹھے ہوتے لوگوں نے دلچسپی سے اسے دیکھا تھا۔۔ جبکہ مارنے والی کے ہاتھ بھی کچھ پل کے لیئے رکے۔۔
“تم “
نازلی جیسے ہی پیچھے مڑی امان کو دیکھ کے غصے سے بولی۔۔ جبکہ امان کا حال بھی اس سے مختلف نا تھا۔۔ اب لوگ مزید دلچسپی سے ان دونوں کو دیکھ رہے تھے۔۔
موقعے کا فائدہ اٹھاتے وہ دونوں لڑکے بغیر جوتوں کے وہاں سے بھاگ گئے۔۔
“تم کیا ہر جگہ اپنی ملکیت سمجھتی ہو جو آتے جاتے کسی کوبھی باتیں سنا دیتی ہو یا مارنا شروع کر دیتی ہو ۔۔ نہیں مطلب کیا خود کو تم تیس مار خان سمجھتی ہو”۔۔
نازلی اسے غصے سے گھور رہی تھی جب امان غصے سے بولا۔۔ منو کی منگنی کے بعد انکی ملاقات آج ہوئ تھی۔۔اور امان کو موقع مل گیا تھا اپنی بیزتی کا بدلا لینے کی۔۔
“نہیں تمھاری جگہ ہے جو ہر جگہ منہ اٹھا کے پہنچ جاتے ہو۔۔ او مسٹر کہی تم میرا پیچھا ویچھا تو نہیں کرتے۔۔۔
ایک بات کان کھول کے سن لو اگر میرا پیچھا کرتے ہوئے آتے ہو ہر جگہ تو باز آجاو ورنہ چھٹی کا دودھ یاد کرا دوں گی۔۔ مار مار کے ایسا بڑتھا بناوں گی نا کہ قیامت تک یاد رکھو گے”۔۔
نازلی پہلے غصے سے بولی۔۔ پھر ایک ہاتھ کمر پہ رکھے دانت پیستی دھمکی دینے والے انداز میں بولی تو امان نے مٹھیاں بینچی۔۔ یہ لڑکی ہمیشہ اسکا بی پی ہائ کراتی تھی😂۔۔
“مان کیا ہوا؟”۔۔
حنان جیسے ہی پارک میں داخل ہوا تو سامنے لوگوں کو جمع دیکھا۔۔ اسے پریشانی ہوئ اور جیسے ہی آگے آیا امان کو لڑتے دیکھ کے بھاگتے ہوئے پاس آیا اور اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھ کے بولا۔۔۔
” کچھ نہیں یہ”۔۔
“ہاں ہاں لے کے جاو اس سائیکو کو خوامخواہ کسی دن ہڈیاں تڑوا لے گا”۔۔
ابھی امان بولنے ہی والا تھا کہ نازلی ہاتھ جھاڑتے آنکھیں پھیر کے بولی تو حنان نے حیرانگی سے دیکھا۔۔
“او تم توڑو گی میری ہڈیاں ہمت ہے تو ہاتھ لگا کے دیکھاو ۔۔ “۔۔
حنان سے بازو چھڑواتے امان غصے سے بولا تو نازلی نے بھی بازو فولڈ کیئے ۔۔
“چھوڑ یار مان لڑکی ہے ایسے نہیں کرتے”۔۔
حنان اسے بازو سے پکڑ کے لے جاتے ہوئے بولا۔۔
“ہاں ہاں جاو میں بچوں کو معاف کر دیتی ہوں”۔۔
نازلی گردن اکڑا کے بولی تو امان نے حنان سے بازو چھڑایا اور غصے سے اسکے پاس آیا۔۔
“آج کے بعد کوشش کرنا میرے سامنے مت آو ورنہ تمھارا قیمہ بنا کے چیل کووں کو کھلا دوں گا”۔۔
ابھی امان نازلی تک پہنچا نہیں تھا کہ معاملہ سنگین ہوتے دیکھ کے دو لڑکوں نے امان کو درمیان میں ہی پکڑ لیا اور واپس لے جانے لگے۔۔ جب امان انکی پکڑ میں مچلتا ہوا بولا۔۔تو نازلی نے زبان دیکھا کے اسے مزید چڑایا اور آنکھیں پھیرتے ہوئے جانے کا اشارہ کیا۔۔
“اب پارک کے باہر بورڈ لگواوں گی جنگلی بھینسے منع ہیں “۔۔
نازلی ہانک لگا کے بولی تو امان نے خونخوار نظروں سے اسے دیکھا ۔۔
“ہاں دیکھنا سب سے پہلے تمھارا آنا ہی منع ہوگا”۔۔
امان نے بھی دانت پیس کے کہا اور حنان کے ساتھ پارک سے نکل گیا۔۔
“چل بھئ نازلی آج تو بہت انجوائے ہوگیا۔۔ تھک بھی گئ ہو چل کے سوتے ہیں گھر”۔۔
امان کے جاتے ہی باقی لوگ بھی آہستہ آہستہ اس پاگل کو دیکھتے وہاں سے چلے گئے تو نازلی نے دونوں ہاتھ آگے کرکے انکی انگلیاں آپس میں پھنسا کے کڑاکے نکالتے ہوئے کہا پھر ہنستے ہوئے گھر کی طرف چلی گئ😜۔۔۔
💞💞💞💞💞💞💞💞
“ہائےےے کتنا اچھا موسم ہے نا”۔۔
کھانا کھانے کے بعد مشی موسم اچھا دیکھ کے چھت پہ آگئ تھی۔۔ امان تو آتے ہی کمرے میں بند ہوگیا تھا۔۔ جبکہ باقی سب بھی اپنے اپنے کمروں میں آرام کرنے چلے گئے تو مشی چھت پہ دونوں بازو پھیلا کے خوشی سے بولی۔۔
“ہائے نہیں کہتے کسی چیز کو نظر لگ جاتی ہے پھر وہ چیز جلدی ختم ہو جاتی ہے۔۔”
ضرار بھی چائے کا کپ لیئے اسکے پیچھے چھت پہ آتے بولا تو مشی نے آنکھیں چھوٹی کرکے اسے دیکھا۔۔
“ہائےےے ضرارررر”۔۔
مشی دونوں ہاتھوں کا پیالہ بنا کے اس پے منہ رکھ کے ضرار کو دیکھتے ہوئے بولی تو ضرار نے نا سمجھی سے اسے دیکھا 😂۔۔
“کیا “۔۔
ضرار نے مسلسل اپنی طرف اسکو تکتکا پا کے پوچھا۔۔
“ہائےےے ضرار”۔۔
مشی کچھ اور بولنے کی بجائے دوبارہ ایسے ہی بولی اور ضرار نا سمجھی سے اسے دیکھنے لگا😂۔۔
“ابے رک تو”۔۔
جب ضرار کو بات سمجھ آئ تو وہ چائے کا کپ وہی رکھ کے مشی کے پیچھے بھاگا جو ہنستے ہوئے پہلے ہی سیڑھیوں تک پہنچ گئ تھی۔۔
مشی ہنستے ہوئے بھاگ رہی تھی جبکہ ضرار بھی اسکے پیچھے پیچھے بھاگ رہا تھا۔۔ آخر اپنے میں جاتے ہی مشی نے لاک لگا دیا۔۔ تو ضرار نے دانت پیس کے دروازے پہ ہاتھ مارا پھر خود ہی اپنا ہاتھ دباتا ہوا واپس مڑ گیا😂۔۔۔
💞💞💞💞💞💞💞💞
“دانی بھائ وہ”۔۔
عیشی کسی کام سے ہمدان کے کمرے میں بنا نوک کیئے داخل ہوئ اور کچھ بولتے ہوئے سامنے دیکھا۔۔۔مگر دوبارہ پلکے جھپکانا بھول گئ۔۔ ہمدان بھی اسکو دیکھ کے بت بن گیا ۔۔ اور دروازہ لاک نا کرنے پہ خود کو کوسا۔۔
“دانی بھائ یہ آپ ہی ہیں نا😱”۔۔
عیشی دونوں ہاتھ گالوں پہ رکھے خوشی سے چینخ کے بولی تو ہمدان نے اسکو پکڑ کے اندھر کرتے فورأ دروازہ بند کیا۔۔
“آہستہ بولو سبکو کیوں سنا رہی ہو”۔۔
ہمدان اسکے اونچا بولنے پہ بولا مگر عیشی کو ہوش ہی کہاں تھا۔۔ وہ تو ہمدان کو آرمی یونیفارم میں دیکھ کے باولی ہو رہی تھی۔۔۔
“یہ کس کا ہے؟”۔۔
عیشی آہستہ سے اسکے بازو سے یونیفارم کو پکڑ کے خوشی سے
بولی تو ہمدان نے سر پکڑا ۔۔
“ہمسایو کا ہے”۔۔
ہمدان چڑھ کے بولا۔۔
“اوہ تو آپ نے کیوں پہنا اور آپکو ملا کہاں سے”۔۔
عیشی معصومیت سے بولی تو ہمدان دونوں ہاتھوں کی انگلیاں بالوں میں پھنسا کے جھنجھلا گیا۔۔
“عیشی میری بات سنو تم یہ کسی کو نہیں بتاو گی”۔۔
ہمدان نے نرم لہجے میں اسے وارن کیا۔۔
“کیوں آپ نے یونیفارم چوری کیا ہے کیا”۔۔
عیشی اسکے آس پاس گھومتی جائزہ لے رہی تھی ۔۔ جب ہمدان نے کہا تو عیشی آنکھیں بڑھی کرتی اسکے سامنے آکے بولی۔
“افووو نہیں پاگل یہ میرا ہی ہے”۔۔
ہمدان ماتھا پیٹ کے بولا تو عیشی نے مزید حیرت سے اسے دیکھا۔۔
“دیکھو میں گھر میں سبکو سرپرائز دینا چاہتا تھا۔۔ کیپٹن بن کے اور جب میں ترکی ٹور کا کہہ کے گیا تھا چھ منتھ کے لیئے وہ میں ترکی نہیں گیا تھا بلکہ آرمی کی ٹریننگ کے لیئے گیا تھا۔۔ اور اب فائنلی میں کیپٹن بن گیا ہوں۔۔ اور کچھ دن بعد ایک تقریب ہے جس کے بعد میں سبکو سرپرائز دوں گا”۔۔
ہمدان عیشی کو تفصیل بتا رہا تھا جو منہ کھولے پوری آنکھیں پھیلائے اسے دیکھ رہی تھی۔۔
“کون کون جانتا ہے یہ”۔۔
عیشی سکتے سے نکلی تو آہستہ سے بولی۔۔
“میں پاپا اور شاہ چاچو”۔۔
ہمدان بچارگی سے بولا۔۔تو عیشی نے آنکھیں سکیڑ کے ناک چڑاتے اسے دیکھا۔۔
“اچھا نا اب ایسے مت گھورو اور پلیز میرا سرپرائز ۔سرپرائز ہی رہنے دینا کسی کو بتانا مت “۔۔
ہمدان ہار مانتے ہوئے بولا۔۔
“اچھا ایک شرط پہ آپ یہ یونیفارم مجھے دیں گے کالج کی فرسٹ پارٹی پہ”۔۔
عیشی زبان ہونٹوں پہ رکھ کے بولی تو ہمدان نے اسے گھورا ۔۔
“نہیں تو میں سبکو بتاتی ہوں دانی بھائ ہیرو بن گئے ہیں “۔۔
عیشی بول کے جانے لگی تو ہمدان نے ایک دم اسے روکا اور وعدہ کیا کہ وہ اسے یونیفارم دیگا اگر اسنے منہ بند رکھا۔۔
“اوکے ڈن”۔۔
عیشی نے خوشی سے کہا اور باہر بھاگ گئ۔۔ ہمدان کو یقین تو نہیں تھا کہ وہ منہ بند رکھے گی مگر اسکے علاوہ کوئ چارہ بھی نہیں تھا۔۔
“پاگل”۔۔
ہمدان نے سر نفی میں ہلا کے کہا اور اپنی چیزیں پیک کرنے لگا۔۔ پھر کپڑے لے کے چینج کرنے چلا گیا۔۔ یونیفارم صرف اسنے چیک کرنے کے لیئے پہنا تھا۔۔
اور عیشی میڈم جو بات کرنے آئ تھی وہ کیئے بنا ہی واپس چلی گئ تھی۔۔
💞💞💞💞💞💞💞💞💞
جاری ہے۔۔