Ek Hai Aafat Season 2 By Binte Hawa Readelle50339 (Ek Hai Aafat) Episode 7
Rate this Novel
(Ek Hai Aafat) Episode 7
“کیا سرپرائز ہے آنی؟”۔۔
جب سب ہال میں آگئے تو عارب نے پوچھا۔۔
“سرپرائز تو بچوں کے لیئے ہے”
ریا نے مسکرا کے کہا تو بچے بھی تجسس سے دیکھنے لگے۔۔
“کیا سرپرائز ہے نانو جلدی بتائیں نا؟”۔۔
امان نے بھی تجسس سے پوچھا۔۔
“سرپرائز یہ ہے کہ کل شام آپ لوگوں کے نانا ابو آرہے ہیں پاکستان”۔۔۔
ریا نے مسکراتے ہوئے کہا تو سب کے چہرے خوشی سے چمک اٹھے ۔۔۔ احرار صاحب کافی وقت سے باہر تھے۔۔ عیشی مشی دو سال کی تھی جب رشی کے دادا ابو کی وفات ہوگئ۔۔ انکے جانے کے تین ماہ بعد احرار صاحب باہر چلے گئے۔۔۔
“نانا ابو کیسے ہوتے ہیں؟ “۔۔
مشی نے الجھ کے سوال کیا تو سب ہنسنے لگے۔۔
“جیسے ہمدان اور منال لوگوں کے نانا ابو ہیں”۔۔
ریا نے پیار سے کہا۔۔
“جن سے آپ کال پہ بات کرتی ہیں”۔۔
عازب نے اسے گود میں بٹھاتے ہوئے کہا۔۔
“وہ تو انکل ہیں ینگ سے اور ریا بہن کہہ رہی ہیں کہ نانا ابو دانی بھائ لوگوں کے نانا ابو جیسے ہوتے ہیں”۔۔
مشی نے منہ بناتے سوال کیا تو سب ہنسنے لگے ۔۔ رشی نے سر پکڑا ۔۔۔ کہ ان کو سمجھانا بھینس کے آگے بین بجانے کے مترادف ہے اگر یہ دونوں نا سمجھنا چاہیں۔۔۔
“اور مجھے بھی کچھ بتانا ہے سب کو”۔۔۔
ہماہ سب کو جوس دیتی بولی۔۔
“کیا؟”۔۔
اب کی باری سوال ضرار نے کیا تھا۔۔۔
“کل صبح منال واپس آ رہی ہے اب وہ یہاں ہی رہے گی ہمارے ساتھ۔۔ وہ شام میں سب اگھٹے ائیر پورٹ جائیں گے”۔۔۔
ہماہ نے مسکراتے ہوئے کہا تو سب بچوں نے یاہوووو کیا۔۔۔
“واووو بہت مزہ آئے گا ہم ایک ساتھ کھیلا کرے گے اور منوں آپی کے ساتھ پارک بھی جایا کریں گے”۔۔
عیشی خوشی سے بولی تو سب مسکرانے لگے۔۔
“ہاں اور تم لوگوں کی شرارتوں کے مزید سپورٹرز آرہیں ہیں”۔۔
امان نے دونوں کو آنکھیں دیکھاتے ہوئے کہا تو عیشی نے اسے زبان دیکھائ۔۔ مگر وہ بچارہ کچھ نا کر سکا کیونکہ عیشی شازیب کی گود میں تھی۔۔۔
💞💞💞💞💞💞
“مشی عیشی چلو یہ دودھ پیو دونوں مجھے تم لوگوں کو دوائ پلانی ہے”۔۔
کھانا کھانے کے بعد جب سب لوگ اپنے اپنے کمرے میں چلے گئے تو رشی دونوں کو انکے کمرے میں لے کے آئ اور دودھ کے گلاس دونوں کو پکڑائے جو برے برے منہ بنا رہی تھی۔۔۔
“چھوٹی بہن یہ نہیں اچھا ہوتا”۔۔
عیشی نے معصومیت سے کہا تو رشی نے اسے گھورا اور آنکھوں سے دودھ پینے کا اشارہ کیا ۔۔ خود سیرپ کی بوتل ہلانے لگی۔۔
“چھوٹی بہن زبڑدستی دودھ پلایا جائے تو پیٹ میں کیڑے پڑھ جاتے ہیں”۔۔
مشی نے بھی بہانہ بنایا تو رشی نے سیرپ کی بوتل پٹخنے والے انداز میں سائیڈ ٹیبل پر رکھی اور غصے سے دونوں کے پاس آئ۔۔
“کیڑے تو تم دونوں میں ویسے بھی پائے جاتے ہیں جو سکون سے بیٹھنے نہیں دیتے۔۔ اب جلدی سے ختم کرو اسکو ورنہ میں نے زبردستی پلانا ہے”۔۔
رشی نے دونوں کے گلاس انکے منہ کے ساتھ لگاتے ہوئے کہا تو دونوں بچارا سا منہ بنا کے پینے لگی کیونکہ اس وقت ان دونوں کا کوئ سپورٹر وہاں موجود نہیں تھا۔۔۔
“چھوٹی بہن پانی دیں آہہہ”۔۔
عیشی نے آدھا گلاس دودھ کا پی کے برا سا منہ بناتے چینخ کے پانی مانگا تو رشی کو حیرانی ہوئ کہ یہ کیسی عوام ہے جو دودھ میں بھی پانی مانگ رہی ہے۔۔
“عیشی ڈرامے مت کرو اور جلدی ختم کرو اسے”۔۔
رشی نے آنکھیں دیکھاتے ہوئے کہا تو عیشی نے معصوم منہ بناتے دوبارا گلاس منہ سے لگایا۔۔
“چلو اب یہ سیرپ لو “۔۔
ان دونوں کے دودھ ختم کرتے ہی رشی نے کہا۔۔۔
“چھوٹی بہن اتنی کڑوئ دوائ”۔۔
عیشی سیرپ پیتے ہی ساری زبان باہر نکالتے برے برے منہ بنانے لگی۔۔۔
“چپ کرو عیشی ۔۔ چلو مشی منہ کھولو”۔۔۔
رشی نے عیشی کو گھورتے ہوئے کہا تو وہ منہ بنا کے چپ ہوگئ ۔۔
“پھووووووو”۔۔
رشی نے جیسے ہی سیرپ سے بھرا چمچ مشی کے منہ میں ڈالا تو فوارے کی صورت ساری دوائ مشی کے منہ سے فرش پہ آ کے گری۔۔
“ہاہاہاہاہاہاہاہاہاہ”۔۔
رشی صدمے میں فرش اور مشی کو دیکھ رہی تھی تب ہی عیشی کا قہقہہ پورے کمرے میں گھونجا ۔۔
“چپ بالکل چپ عذاب ہو تم لوگ میری زندگی کا”۔۔۔
رشی نے غصے سے انگلی دیکھاتے کہا۔۔
اور مشی کو پکڑ کے واشروم لے گئ کیونکہ کچھ دوائ اسکے کپڑوں پہ بھی گری تھی۔۔۔
“آہہہہہ😭”۔۔
رشی جیسے ہی مشی کے کپڑے بدل کے باہر لائ اس نے زور زور سے رونا شروع کر دیا۔۔۔
“آلے آلے میلا شونا بچہ مالا چھوٹی بہن نے چپ ہم نانا ابو کو بتائیں گے”۔۔
رشی مشی کے رونے پہ اسے حیرانی سے دیکھ رہی تھی تب ہی عیشی نے مشی کو بازو سے پکڑ کے بیڈ پہ لٹایا اور ماتھے پہ پیار کرتی اسے بہلانے لگی۔۔۔ رشی نے حیران ہوکے اس آفت کی پرکالا کو دیکھا ۔۔پھر انکو انکے حال پہ چھوڑی فرش صاف کرنے لگی۔۔ اپنے کام سے فارغ ہوئ تب تک وہ دونوں سو چکی تھی۔۔۔ معصوم شکلیں دیکھ کے رشی کو بے حد پیار آیا۔۔ دونوں کے ماتھے چوم کے کمفرٹر سیٹ کرتی باہر چلی گئ۔۔۔
💞💞💞💞💞💞💞💞
“ہمیں نہیں پتا ہمیں نئے کپڑے چاہیئے”۔۔
صبح صبح ہر طرف گہما گہمی تھی۔۔ عارب اور ہماہ منال کو لینے چلے گئے تھے۔۔ زری اور رشی کچن میں کھانا بنانے میں مصروف تھیں مہمانوں کے لیئے۔۔ ریا کمروں کی صفائ کروانے میں مصروف تھی۔۔ تو وہاں عیشی اور مشی نیا مسلہ اٹھائے کھڑی تھی۔۔
“بیٹا ابھی تو لیئے ہیں آپ کے کپڑے وہی پہن لے شام میں جانا ہے ویسے بھی”۔۔
زری ٹرائفل پہ ڈرائ فروٹس سجھاتی ہوئ بولی۔۔
“نہیں نہیں نہیں نانا ابو پہلی بار آ رہے ہیں کیا سوچیں گے ہمیں پرانے کپڑوں میں دیکھ کے”۔۔
عیشی دونوں ہاتھ کمر پہ رکھ کے بولی تو رشی نے گھور کے اسے دیکھا۔۔
“پرانے کہاں سے ہوگئے ابھی تک پہنے تو ہے نہیں تم دونوں نے”۔۔
رشی نے چھری شیلف پہ پٹختے ہوئے دونوں کی کلاس لی ۔۔۔
“تو چھوٹی بہن ہو تو پرانے ہی گئے نا”۔۔
عیشی ناک چڑاتی بولی تو رشی نے غصے کا گھونٹ بھرا۔۔
“جاو یہاں سے مجھے بہت کام ہیں غصہ نا دلاو”۔۔۔
رشی دوبارا کام کرتے بولی۔۔۔
“تو ہمیں شاپنگ کون کرائے گا؟”۔۔
مشی نے معصومیت سے پوچھا تو رشی غصے سے پیچھے مڑی ۔۔۔
“چلو بچوں آو میرے ساتھ”۔۔
رشی کے ان تک پہنچنے سے پہلے ہی ریا وہاں آئ اور دونوں کو ساتھ لے گئ۔۔۔
“ریا بہن کپڑے”۔۔
ریا کے کمرے میں آتے ہی پھر دونوں کی سوئ وہی اٹک گئ۔۔۔
“چلو میں تم لوگوں کو کہانی سناتی ہوں”۔۔
بیڈ پہ دونوں کو بٹھا کے پاس بیٹھتے ریا نے انکا دھیان ہٹانے کے لیئے کہا۔۔ تب ہی ضرار بھی وہاں آ گیا۔۔
“اچھا تو ایک دفعہ کا ذکر ہے ایک شہر میں ایک آدمی رہتا تھا”۔۔
ریا نے بولنا شروع کیا تو تینوں خاموش ہو گئے ۔۔۔
“وہ زیادہ امیر نا تھا ایک دوکان تھی اسکی”۔۔
انکو خاموش دیکھ کے ریا نے سکھ کا سانس لیا اور کہانی آگے بڑائی مگر یہی عیشی کی زبان پھر پھسلی۔۔
“کیا اسکی کپڑوں کی دوکان تھی ریا بہن؟”۔۔
عیشی نے تجسس سے پوچھا تو ریا نے سر پیٹا ۔۔
“نہیں اسکی روئ بیچنے کی دوکان تھی۔۔”
ریا نے کپڑوں کا ذکر نکالنے کے لیئے ٹال کے کہا۔۔
“کیا اس روئ سے کپڑے بنتے تھے؟”۔۔
مشی نے سوال کیا تو ریا بچاری تپ گئ۔۔
“مجھے نہیں پتا چپ کر کے کہانی سنو”۔
ریا نے تھوڑا غصے سے کہا تو دونوں چپ ہوگئ۔۔
“ہاں تو اس کی ایک بیٹی تھی جسے امیر ہونے کا بہت شوق تھا تاکہ وہ زیادہ سارے پیسوں سے ساری پسند کی چیزیں خرید لے”۔۔
ریا نے مسکراتے ہوئے کہا ۔۔
“کپڑے بھی خرید سکے ہے نا”۔۔
اب کی بار سوال ضرار نے کیا تو ریا نے بے بسی سے ان تین جنوں کی دم کو دیکھا جن کی سوئ کپڑوں سے آگے جا ہی نہیں رہی تھی۔۔
“ہاں اب چپ کرکے سنو”۔۔
ریا نے ہار مانتے ہوئے کہا تو تینوں کے چہرے خوشی سے چمکے۔۔
“تو ایک دن وہ جنگل میں گئ جو شہر کے راستے میں آتا تھا۔۔ اور راستہ بھول گئ۔۔ اچانک تیز بارش شروع ہوگئ اور وہ ڈر کے رونے لگی۔۔ تب وہاں ایک نورانی چہرے والے بابا جی آئے”۔۔
“تو کیا بابا جی شہر کپڑے لینے گئے تھے؟”۔۔۔
عیشی نے ریا کی بات کاٹ کے سوال کیا تو ریا کا چہرہ غصے سے سرخ ہونے لگا۔۔۔
“گستاخی مت کرو وہ بہت بڑے بابا جی تھے”۔۔۔
ریا نے تھوڑا جھڑک کے کہا۔۔۔
“کیا ٹرک میں بیٹھ کے آئے تھے”۔۔
اب کی بار سوال ضرار نے کیا تو ریا نے اسے گھور کے چپ کرنے کو کہا۔۔
“بھئ وہ بہت نیک تھے انکی دعائیں قبول ہوتی تھی”۔۔
ریا نے سمجھاتے ہوئے کہا۔۔
“کیا اب بھی ایسے بابا جی ہیں کیا”۔۔
عیشی نے سوال کیا تو ریا نے ناسمجھی سے اسے دیکھا۔۔
“وہ مجھے بھی دعا کرانی ہے نا کہ کپڑے مل جائیں “۔۔
اب کی بار ریا کی برداشت ختم ہوگئ اور تینوں کو ڈانٹ کے بیڈ سے نیچے اتارا۔۔ تب ہی دروازے پہ کھڑے ہمدان نے زور دار قہقہہ لگایا جو کب سے انکی کہانی سن رہا تھا۔۔۔
“رہنے دے دادو میں انکو لے کے جا رہا ہوں چاچو نے کہا ہے انکو شاپنگ کرا دوں”۔۔
ہمدان نے شازیب کا بتاتے ہوئے کہا تو تینوں خوشی سے اچھلے اور جلدی جلدی جوتے پہن کے ہمدان کے ساتھ چل پڑھے ۔۔۔
“توبہ ہے رشی اور عارب کے بچے ان سے بھی چار ہاتھ آگے ہیں “۔۔۔
ریا نے سر پکڑ کے کہا۔۔
💞💞💞💞💞💞💞💞
بھائ یہ والے کپڑے چاہیے”
عیشی نے ایک سوٹ پکڑ کے کھنچتے ہوئے کہا جو پہلے ہی ایک اور کسٹمر پسند کر چکے تھے اور ان کے ساتھ موجود بچی عیشی سے بھی زیادہ ضدی تھی۔۔
“نہیں یہ میرے ہیں”۔۔
عیشی کے ہاتھ سے شرٹ کھنچتے ہوئے اس بچی نے غصے سے گھورتے ہوئے کہا۔۔۔
مشی اور ضرار اپنے کپڑے لے چکے تھے بس عیشی نے ہی رولا ڈالا ہوا تھا۔۔
“تمھارا نام نہیں لکھا وا”۔۔
عیشی نے شرٹ واپس کھینچتے ہوئے کہا۔۔ جبکہ شاپ کیپر ہمدان اور اس بچی کے والد ساکت کھڑے دونوں کو دیکھ رہے تھے۔۔۔
“وہ تو تمکابھی نہیں لکھا”۔۔
وہ بچی بھی ہار ماننے کو تیار نا تھی سو دوبارا شرٹ کھینچ کے بولی۔۔۔
“تم”۔۔
عیشی نے غصے سے انگلی اٹھا کے کہا اور پھر ادھر ادھر دیکھا۔۔ ہمدان تب ہی سمجھ گیا اب بھاگنے کے لیئے تیار ہو جاو ۔۔۔
“لو لو پہنو اب”۔۔
شرٹ کا بازو کھینچ کے اتارتے عیشی نے شرٹ اسکی طرف پھینکتے ہوئے کہا۔۔ جو آنکھیں پھاڑے شرٹ کو دیکھ رہی تھی۔۔
اس سے پہلے کسی کو سمجھ آتی ہمدان نے عیشی کو کندھے پہ ڈالا اور دوڑ لگا دی کیونکہ شاپ کیپر اسے ہی خون خوار نظروں سے دیکھ رہا تھا۔۔۔اور اسکے پاس ان اتنے ہی پیسے بچے تھے جس میں عیشی کے کپڑے آتے ۔۔ شاپ کیپر نے انکے پیچھے بندے بھگائے مگر تب تک ہمدان بائیک روڈ پہ لا چکا تھا اور فل سپیڈ سے آگے بڑھا دی۔۔۔
“اہہہہہ میرے کپڑے”۔۔۔
عیشی چینختی رہی مگر ہمدان نے اسکی بات نا سنی اور بائیک چلاتا رہا آخر عیشی کا صبر ختم ہوا اور اس نے ہمدان کی کمر پہ مکے برسانا شروع کر دیئے۔۔
“کیا ہو گیا ہے باکسر بننے کے لیئے میری ہی کمر ملی ہے کیا۔۔۔؟”۔۔
ہمدان نے تھوڑا آگے جاتے ہی بائیک روک کے کمر سہلاتے ہوئے کہا۔۔
“باکسر کے کچھ لگتے میرے کپڑے کیا سگنل سے لے گے”۔۔
عیشی نے بائیک سے اتر کے دونوں ہاتھ کمر پہ رکھ کے ناک چڑا کے کہا۔۔
“تو کس نے کہا تھا ہر جگہ لڑائ کریں عیشی میڈم۔۔ جیسی آپ کی حرکتیں ہیں نا آپکو آن لائن چیزیں منگا کے دینی چاہیئے ایسی خطرناک چیزیں پبلک پلیز کے لیئے نہیں”۔۔
ہمدان نے بھی بدلے میں بائیک پہ بیٹھتے ہی دونوں ہاتھ کمر پہ رکھ کے عیشی کی نقل اتارتے ہوئے کہا تو مشی اور ضرار نے زور دار قہقہہ لگایا۔۔ جس سے عیشی مزید تپ گئ۔۔
“جائیں مجھے جانا ہی نہیں آپ کے ساتھ”۔۔
عیشی نے غصے سے کہا اور فٹ پاتھ پہ چلنے لگی۔۔
“آلے آلے میلا شونا بچہ نلاج ہوگیا تیا “۔۔
ہمدان نے بائیک ساتھ ساتھ چلاتے عیشی کی ہی ایکٹنگ کرتے ہوئے کہا جو اکثر ایسے بولتی تھی۔۔
“ہنننننن”۔۔
عیشی نے رک کے ایک نظر انکو دیکھا پھر زور سے سر جھٹکتے ہننن کیا اور دونوں بازو سینے پہ باندھ کے منہ پھلائے آگے چل پڑھی۔۔
ہمدان اسکی ناک کو دیکھ کے مسکرایا جو غصے سے سرخ ہو گئ تھی۔۔ پھر بائیک پاس لاتے کھینچ کے اسے بائیک پہ ڈال لیا ۔۔ وہ سارا راستہ غصے سے دھمکیاں دیتی رہی مگر وہ کان بند کیئے بائیک چلاتا رہا ۔۔ آخر ایک شاپ پہ بائیک روک کے ہمدان نے ویسے ہی اسکو کپڑے لے کے دئیے جیسے پہلے والی شاپ پہ پھاڑ کے آئ تھی۔۔ مگر عیشی کا منہ پھر بھی بنا رہا۔۔ اسکا موڈ ٹھیک کرنے کے لیئے ہمدان نے آئس کریم کھلائ اور کافی ٹائم باہر گزار کے لنچ کے ٹائم گھر پہنچے جہاں سب مہمان آ چکے تھے۔۔
💞💞💞💞💞💞
جاری ہے۔۔۔۔۔
