393.4K
34

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Ek Hai Aafat) Episode 12

“اے رکو رکو یہاں میرا بیگ پڑھا نظر نہیں آیا جو تم میری جگہ بیٹھ گئ “۔۔
عیشی مشی کلاس میں داخل ہوئ تو مشی کو یاد آیا وہ اپنا رجسٹر باہر کاونٹر پہ بھول آئ ہے۔۔وہ اپنی عینک ٹھیک کرتی واپس بھاگی ۔عیشی کو دوسری رو میں ایک سیٹ نظر آئ وہ اس پے بیٹھ گئ اور آس پاس کا جائزہ لینے لگی۔۔ تب ہی کسی کی کڑک سی آواز بالکل اپنے کان کے پاس سن کے اچھلی اور سامنے کھڑی لڑکی کو غصے سے گھورا جو ناک منہ چڑائے اسی کو دیکھ رہی تھی۔۔
“کیوں تم گھر سے ساتھ اٹھا کے لائ ہو سیٹ؟”۔۔
عیشی نے ناک سے مکھی اڑاتے انداز میں کہا تو سامنے کھڑی لڑکی مزید تپ گئ۔۔
“اے دو فٹ کی بچی میرے سے پنگا نا لینا میرا نام نازلی ہے نازلی”۔۔
نازلی نے انگلی سے وارن کرتے آنکھیں چھوٹی کرکے کہا تو پہلے تو عیشی نے اسے دیکھا پھر ببل چباتی آہستہ سے کھڑی ہوئ اور نازلی کی انگلی میں اپنی شہادت والی انگلی ڈال کے مڑوڑ کے نیچے کی تو نازلی کی آہہہ نکل گئ۔۔ وہ جو اسے ڈرانے آئ تھی سامنے والی نے اسی کے چھکے چھڑا دیئے۔۔ پوری کلاس مڑ کے ان دونوں کو دیکھ رہی تھی جو پہلے دن ہی لڑنے مرنے کو کھڑی تھی وہ بھی نئ جگہ پہ۔۔
“چھری جتنی چھوٹی ہو اتنی ہی تیز ہوتی ہے نزلی اور ہاں میکو اپنا انٹرو کرانے کی ضرورت نہیں وہ تم خود جان جاو گی۔۔ یاد رکھنا میرے سے پنگا تے کسی صورت بھی نہیں چنگا تمھاری صحت کے لیئے۔۔ چلو شاباش اچھے بچوں کی طرح پیچھے جاکے بیٹھو “۔۔
اسکی انگلی پکڑ کے کمر کے ساتھ لگاتے۔ عیشی ایڑیوں پہ کھڑی ہوکے نازلی کے مقابل آئ اور اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے مسکراتی ہوئ بولی۔۔ پھر آخر میں اسکا ہاتھ چھوڑ کے کندھے سے نا ہونے والی گرد جھاڑتے ہوئے بولی۔۔ تو نازلی ہکا بکا اسکو دیکھتی رہی۔۔ یہاں تو حساب ہی الٹا تھا۔۔ کمزور سی چھوٹی سی نظر آنے والی لڑکی اس سے دو ہاتھ آگے تھی۔۔ یہاں تو چھوٹا پیکٹ بڑھا دھماکہ تھا😂۔۔۔
“مس عیشال شاہ اور مس نازلی۔۔ کیا آپ لوگ دس سال جنگل میں گزار کے آئ ہیں جو آتے ہی ایسے لڑنے لگی ہیں۔۔ نیو کمر ہے آپ لوگ مگر حرکتیں دیکھیں اپنی۔۔ یہ کلاس روم ہے پارک نہیں جو اپنی جگہ سمجھ رہی ہیں۔۔ دونوں کلاس سے باہر نکل جائیں یہی سزا ہے آپ دونوں کی۔۔۔”۔۔
کب سے پاس کھڑی ٹیچر انکی لڑائ دیکھ رہی تھی جو نوٹ ہی نہیں کر رہی تھی ٹیچر کا آنا ۔۔ آخر دونوں کے گلے میں لٹکے کارڈز پہ نام دیکھ کے ٹیچر نے غصے سے کہا۔۔
“ٹیچر میں تو چپ تھی یہ میرے سے لڑھ رہی تھی ۔۔ آپ میرے معصوم چہرے پہ دیکھ لے کیا میں آپکو لڑاکا لگتی ہوں”۔۔
عیشی نے انتہائ معصومیت سے کہا تو ٹیچر سمیت پوری کلاس اور نازلی نے حیران ہوکے اسے دیکھا۔۔ جو واقع انتہا کی معصومیت لیئے کھڑی تھی۔۔ اور روتی شکل بنا کے ٹیچر کو دیکھ رہی تھی۔۔۔
“سٹاپ دس نوٹنکی اینڈ گو فرام ہیئر”۔۔
میم نے باہر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا دونوں عیشی نے معصوم سا منہ بنا کے بیگ اٹھایا ۔۔میم واپس ڈائز کی طرف مڑ گئ ۔۔تو عیشی اور نازلی نے ایک دوسرے کو خون خوار نظروں سے دیکھا اور کندھوں سے دھکے دیتی باہر نکل گئ۔۔ انکے جاتے ہی ٹیچر نے غصے سے دروازے کی طرف دیکھا اور سر نفی میں ہلاتے باقی بچوں کو ویلکم کرنے لگی۔۔
“میم مے آئ کم ان؟”۔۔
مشی رجسٹر اٹھا کے بھاگتی ہوئ آئ اور دروازے پہ کھڑے ہوکے پھولے سانس سے پوچھا ساتھ ہی دائیں ہاتھ سے اپنا موٹے شیشوں والا چشمہ ٹھیک کیا۔۔
جب ساری کلاس نے اسے حیرانی سے دیکھا اور ٹیچر نے غصے سے تو وہ ڈر گئ۔۔ جگہ نئ ٹیچر نئ ۔۔ سب انجان اور عیشی بھی نہیں تھی ڈرنا تو بنتا تھا۔۔۔
“جی بولیں اب کیوں آئ آپ؟”۔۔
ٹیچر نے غصے سے کہا تو مشی نے نچلا لب دانتوں میں دبا کے کلاس میں عیشی کو ڈھونڈنے کے لیئے نظر دوڑائ ۔۔ اسے لگا شاید لیٹ ہوگئ ہوں تب میم غصہ ہیں ۔۔۔
“سوری میم وہ میرا رجسٹر رہ گیا تھا باہر اسی لیئے دیر ہوگئ ۔۔”۔۔
مشی نے نظریں جھکا کے کہا تو ٹیچر اور کلاس نے نا سمجھی سے اسے دیکھا۔۔
“واپس جائیں آپکو سمجھ نہیں آتا آج آپ کی کلاس میں انٹری بند ہے اور یہ سزا ہے آپکی بتمیزی کی”۔۔
میم نے غصے سے کہا تو مشی نے آنکھیں پھاڑ کے دیکھا۔۔ کہ اجازت مانگنا کب سے بتمیزی ہوگئ۔۔
“چل مشی شاید یہاں پرمیشن نہیں مانگی جاتی کالج ہے کچھ تو چینج ہوگا نا”۔۔
مشی نے دل میں سوچا اور آہستہ سے کلاس میں داخل ہوئ اور ایک سیٹ پہ جاکے بیٹھ گئ ۔۔تو میم نے حیرانی سے اس نمونے کو دیکھا جو باہر جانے کی بجائے واپس کلاس میں آگئ تھی۔۔ جبکہ پوری کلاس آہستہ آواز میں کھی کھی کرنے لگی۔۔ (دراصل عیشی مشی کی ایک جیسی شکل کی وجہ سے میم مشی کو عیشی سمجھ رہی تھی )۔۔
“یہ کیا بتمیزی ہے؟”۔۔
مشی کے پاس آتے ہی ٹیچر نے غصے سے کہا تو مشی اچھل کے کھڑی ہوئ۔۔
“سوری میم مجھے پتا نہیں تھا کہ یہاں اجازت لینا منع ہے میں نیو ہوں یہاں”۔۔
مشی نے معصومیت سے کہا تو پوری کلاس نے قہقہہ لگایا۔۔ جبکہ میم کی رگیں غصے سے پھٹنے لگی۔۔
“آئ سے گو فارم ہیئر”۔۔
دروازے کی طرف انگلی کرکے میم چینخ کے بولی تو مشی ایک دم اچھلی جبکہ پوری کلاس خاموش ہوگئ۔۔ مشی فور أ کلاس سے باہر آئ اور دل زور زور سے دھڑک رہا تھا آنکھوں سے آنسو نکلنے لگے۔۔ تو مشی گراونڈ میں ایک بینچ پہ بیٹھ کے رونے لگی ۔۔ روتے روتے اسکی ہچکی بند گئ۔۔ اسنے عینک اتار کے گود میں رکھی اور دونوں ہاتھ گود میں میں رکھ کے مسلتے ہوئے ہچکیوں سے رونے لگی۔۔
کینٹین سے جوس لے کے نکلتی نازلی نے اسے روتا دیکھا تو حیرت سے بے ہوش ہوتے ہوتے بچی۔۔ ابھی کچھ دیر پہلے تو بڑھی ڈان بنی تھی اب ایسے رو رہی ہے۔۔ نازلی شرارت سے مسکرائ اور چل کے اسکے پاس آئ۔
“واہ کلاس میں تو بڑھی ارطغرل کی بہن بنی ہوئ تھی ابھی کیا ہوا۔۔بس ہوگئ۔۔ “
نازلی نے ہنستے ہوئے کہا تو مشی نے سر اوپر کرکے نا سمجھی سے اسے دیکھا۔۔ مشی کا سرخ چہرہ اور خون جیسی سرخ آنکھیں دیکھ کے نازلی کی ساری شوخی اڑن چھو ہوگئ۔۔ وہ چنچل تھی مگر مشی کا ایساحال دیکھ کے وہ سیریس ہوئ اور اسکے پاس بیٹھی ۔۔
“کیا ہوا ہے کیوں رو رہی ہو؟”۔۔
نازلی بیگ اور جوس بینچ پہ رکھ کے اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھ کر بولی تو۔۔ مشی نے ٹشو سے منہ صاف کیا۔۔
“مجھے میم نے کلاس سے نکال دیا بنا کسی غلطی کے”۔۔
مشی نے دوبارہ روتے کہا تو نازلی کو حیرت کا جھٹکا لگا۔۔ کلاس میں تو بڑھی بڑھی باتیں کر رہی تھی ۔۔
“تو مجھے بھی تو نکالا ہے نا کلاس سے ساتھ ہی دیکھو میں تو نہیں روئ”۔۔
نازلی نے کہا تو مشی نے حیرت سے اسے دیکھا۔۔
“تمھیں کب نکالا ؟”۔۔
مشی نے آنسوؤں سے بھری آنکھوں سے اسے دیکھ کے کہا۔۔۔
“اے تمھاری ہمت کیسے ہوئ میری بہن کو رولانے کی۔۔ تم اس سے بدلہ لینے آئ ہونا “۔۔
اس سے پہلے نازلی کچھ بولتی عیشی تن فن کرتی اسکے سر پہ آن پہنچی۔۔ تو نازلی منہ کھولے کبھی مشی کو دیکھتی کبھی عیشی کو جو دونوں ایک ہی شکل کی تھی۔۔
“میں کیوں اسے رولانے لگی بھلا”۔۔
نازلی نے مشکل سے لفظ ادا کیئے وہ ابھی تک حیرت میں کھڑی تھی۔۔۔
“اس نے کچھ نہیں کیا عیشی وہ میم نے”۔۔
مشی نے عیشی کا ہاتھ پکڑ کے ساری بات بتائ تو نازلی نے زور سے قہقہہ لگایا اور پیٹ پہ ہاتھ رکھے ہنس ہنس کے لوٹ پوٹ ہوگئ۔۔ جبکہ وہ دونوں اس پاگل کو دیکھ رہی تھی۔۔
“تمھارے کیئے کی سزا اسے بھی ملی ہاہاہاہاہ “
نازلی نے ہنستے ہوئے کہا تو عیشی نے مسکراہٹ روک کے مشی کو دیکھا جو سوالیہ نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔
نازلی نے ہنستے ہوئے مشی کو اپنی اور عیشی کی لڑائ بتائ تو مشی نے خون خوار نظروں سے عیشی کو دیکھا اور رجسٹر اٹھا کے عیشی کے پیچھے بھاگی۔۔ نازلی دونوں کو بھاگتا دیکھ کے ہنس ہنس کے لوٹ پوٹ ہو رہی تھی۔۔ آخر تھک ہار کے دونوں بیٹھی تو نازلی نے دونوں کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑایا۔۔عیشی کو بھی وہ اپنے جیسی لگی۔۔ تو تینوں نے ہاتھ ملایا اور گلے لگ گئ۔۔ اب تینوں دوست بنی تھی تو ممکن ہی نہیں تھا کالج سلامت رہے۔۔تینوں نے قہقہہ لگایا پھر کینٹین چلی گئ۔۔
💕💕💕💕💕💕💕💕
“آوہ ماما آئ لو یو سو مچ یو آر دی بیسٹ مام آف دی ورلڈ اووماہہہ”۔۔
سارہ کو صبح صبح ذنبیل کے جانے کے بعد حرم نے بتایا رشتے کا اور کہا کہ امید ہے وہ اب ہمدان سے سارہ کا رشتہ کردے گے تو سارہ حرم کے گلے میں دونوں بازو ڈال کے گال پہ کس کرتی خوشی سے بولی۔۔
“تم جانتی ہو سارہ یہ سب میں نے تمھارے کہنے پہ کیا ہے ذنبیل کو ابھی تک اس بات کا علم بھی نہیں ہے کہ میں نے اس کے لیئے منال کا رشتہ مانگ لیا ہے۔۔ تم بھی جانتی ہو اور میں بھی کہ ذنبیل کسی اور کو پسند کرتا ہے اور وہ اپنی ضد کا بہت پکا ہے”۔۔
حرم نے سارہ کو پیچھے کرتے ہوئے ناراضگی سے کہا تو سارہ اسکے پاس دوسری کرسی پہ بیٹھ گئ اسکا اسکا ہاتھ پکڑ کے بولی۔۔
“ڈونٹ وری ماما منال بہت اچھی ہے بھائ اسکے ساتھ خوش رہے گے۔۔ معصوم سی ہے اور خوبصورت بھی۔۔ ویسے بھی جو لڑکی بھائ نے پسند کی ہے جلد ہی دل بھر جانا ہے انکا آپ جانتی تو ہے بچپن میں بھائ کو کوئ چیز پسند آجاتی تو اسے لینے کی ضد کرتے مگر کچھ ہی ٹائم بعد انکا اس سے دل بھر جاتا۔۔ اور منال جتنی معصوم ہے بھائ کو اس سے پیار ہوجائے گا آپ پریشان مت ہو”۔۔
سارہ نے سمجھایا تو حرم نے سر ہاں میں ہلایا مگر اسکا دل مطمئن نہیں تھا ۔۔ وہ جانتی تھی سارہ جلدبازی میں صرف اپنا سوچ رہی ہے۔۔ وہ چاہ کے بھی کچھ نا کر سکی کیونکہ سارہ ان سب کی لاڈلی تھی اور کتنی ضدی تھی یہ بات حرم سے بہتر کون جان سکتا تھا۔۔(دراصل سارہ کو لگتا تھا منال ہمدان کو پسند کرتی ہے۔ اس لیئے سارہ کو منال بچپن سے ہی پسند نہیں تھی۔۔ اور وہ ہمدان کو پسند کرتی ہے۔۔اس لیئے اس نے حرم کو منال کے رشتے کے لیئے بھیجا تاکہ منال کا رشتہ ذنبیل سے ہوجائے اور اسکا رستہ صاف ہوجائے۔۔مگر افسوس وہ جانتی نہیں تھی اسکے رستے میں رائٹر عیشی کو لائ ہے منال کو نہیں 😂)۔۔
“ارے بھئ کیا باتیں ہو رہی ہیں ماں بیٹی میں”۔۔
حسام نے پاس آکے پوچھا تو سارہ مسکرا کے باپ کے گلے لگی۔۔
“کچھ نہیں بھائ کی شادی پلان کر رہے تھے”۔۔
سارہ نے مسکرا کے کہا تو حسام نے اسکے سر پہ پیار کیا۔۔اور تینوں بیٹھ کے ناشتہ کرنے لگے۔۔۔
💕💕💕💕💕💕💕💕
“تو نے بات کی؟”۔۔
خنان جم میں داخل ہوا تو امان پہلے سے وہاں تھا۔۔ اسکو دیکھتے ہی امان نے پرجوش ہوتے ہوئے پوچھا۔۔
“ہاں کی”۔۔
خنان نے اسکے پاس آتے ہی کہا اور ایکسرسائز شروع کردی۔۔
“کیا بات کی اور کیا کہا اسنے”۔۔
امان ویٹ زمین پہ رکھتے جلدی سے اسکے پاس آیا اور تولیے سے گردن سے پسینہ صاف کرتے مزید تجسس سے پوچھا۔۔
” میں نے کہا کہ اگر واپسی پہ چاچو نا آسکے تو مجھے کال کر دینا تو کہتی ہے اوکے”۔۔
خنان لیٹ کے ایکسرسائز کرتے ہوئے بولا اور مسکراہٹ دبا کے امان کو دیکھا۔۔ جو پانی کی بوتل کھول رہا تھامگر خنان کی بات سن کے اسکے بوتل کھولتے ہاتھ رک گئے اور وہ منہ کھولے خنان کو دیکھنے لگا۔۔
“تو کنوارہ ہی مرے گا بچے ۔۔ اب ایسا کر منو کی شادی پہ پہننے کے لیئے کپڑے خرید جاکے پھر۔۔شادی پہ بریانی کھانا۔اور آخر میں اسکے بچوں کے لیئے شاپنگ کا بجٹ بنا آخر کو مامو ہوگا انکا۔۔ بزدل”۔۔
امان نے غصے سے بوتل خنان کے پیٹ میں ماری اور اچھی خاصی سنا کے باہر نکل گیا۔۔خنان پہلے تو بوتل پڑھنے پہ زور سے چینخا۔۔ پھر امان کا غصہ دیکھ کے مسکرانے لگا۔۔ مگر مامو والی بات پہ اسکا منہ لٹک گیا۔۔۔
خود کو کچھ نارمل کرتے وہ اٹھ کے امان کے پیچھے بھاگا جو باہر جاکے بیٹھ گیا تھا ۔۔ کچھ دیر منتیں کرنے کے بعد وہ امان کو منانے میں کامیاب ہوگیا اور امان کی منت کی کہ وہ منو کی شادی رکوا دے۔۔ امان نے بھی تھوڑے نخرے دکھائے مگر آخر میں مان گیا۔۔۔
تب ہی عارب کی کال آئ کہ منو کو واپسی پہ لے آئے اسکی طبیعت نہیں ٹھیک ۔۔۔
امان نے ایک کام کا کہتے خنان سے بائیک کی چابی لی۔۔اور گاڑی کی چابی دیتے ہوئے کہا کہ منو کے ساتھ عیشی مشی کو بھی لے جائے گھر۔۔ امان کے جانے کے بعد خنان پھر سے اندھر چلا گیا۔۔
اور ٹھیک چھٹی سے دس منٹ پہلے وہ منو کے کالج کے باہر موجود تھا۔۔ابھی اسے یہاں سے عیشی مشی کے کالج بھی جانا تھا۔۔۔
“تم پریشان مت ہونا ہم مل کے کچھ نا کچھ کر لے گے اوکے خیال رکھنا اپنا”۔۔
منو جب شزا کے ساتھ کالج سے باہر آئ تو خنان سن گلاسس پہنے گاڑی کے ساتھ ٹیک لگائے کھڑا تھا ۔۔ منو کو دیکھ کے وہ سیدھا ہوا اور ہاتھ سے آنے کا اشارہ کیا۔۔ شزا بھی خنان کو دیکھ چکی تھی۔۔ اس نے منو کو حوصلہ دیا جو صبح سے اداس تھی۔۔ پھر اللہ حافظ کہتی اپنی وین کی طرف چلی گئ تو منو بھی آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی گاڑی تک آئ اور خنان کو سلام کرتی گاڑی میں بیٹھ گئ ۔۔
خنان بھی جواب دیتا گاڑی میں بیٹھا اور شیشے سے منع کو دیکھا جو باہر دیکھ رہی تھی۔۔خنان نے گہرا سانس لیا اور گاڑی سٹارٹ کرکے عیشی مشی کے کالج کے راستوں پہ ڈال دی۔۔
💕💕💕💕💕💕💕
“السلام علیکم “۔۔
خنان کالج کے پاس پہنچا تو چھٹی
ہو چکی تھی لڑکیاں بھی بہت کم ہی دکھ رہی تھی جن کو ابھی کوئ لینے نہیں آیا تھا ۔۔حنان نے گارڈ کو عیشال شاہ اور مشال شاہ کو بلانے کا کہا۔۔ کچھ دیر بعد دونوں بیگ کندھوں سے لٹکائے باہر آئ اور سلام کرتے آگے بڑھی ۔۔ عیشی جھٹ سے فرنٹ سیٹ پہ بیٹھی تو مشی نے لڑائ سٹارٹ کردی کہ ہمیشہ تم ہی بیٹھتی ہو۔۔ آخر کار خنان نے بڑھی مشکل سے مشی کو منا کے پیچھے بٹھایا اور خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی ۔۔۔
“بھائ یہ ہمیشہ ایسے کرتی ہے جب دانی بھائ آئیں تب بھی”۔۔
گاڑی روڈ پہ آئ تو مشی آگے کو ہوکے غصے سے بولی تو عیشی نے ایک ادا سے بالوں کی لٹ پیچھے پھینکی۔۔
“دیکھیں بھائ عیشی کے ہوتے ہوئے کوئ فرنٹ سیٹ لے نہیں سکتا۔۔ یا تو پھر وہ خالی رہ سکتی ہے۔۔اب آپ بتائیں میں پیچھے بیٹھتی تو سب آپکو ڈرائیور سمجھتے اور میرے دل نے گوارہ نہیں کیا میرے اتنے ہینڈسم بھائ کو کوئ ڈرائیور سمجھے۔۔”۔۔
عیشی نے خوب مکھن لگاتے ہوئے کہا تو حنان نے مسکراہٹ روک کے سر کو خم دیا جیسے کہہ رہا ہو نوازش جناب ۔۔جبکہ مشی عیشی کا کان کھینچ کے زبان دکھاتی پیچھے بیٹھ گئ ۔۔ اس سے پہلے عیشی پیچھے مڑ کے حملہ کرتی حنان نے اسے روک لیا۔۔جبکہ منال بچاری ان دونوں آفتوں کو دیکھ رہی تھی۔۔۔
“دانی بھائ گھر چلے گئے کیا”۔۔
عیشی نے گاڑی ہمدان کی یونی کے راستوں پہ دیکھی تو کوئ خیال آتے فورا پوچھا۔۔
“نہیں انہیں کوئ کام تھا”۔۔
حنان نے بتایا تو عیشی کی آنکھیں چمکی۔۔
“آپ ایسا کریں حانی بھائ مجھے دانی بھائ کی یونی چھوڑ دے مجھے کچھ کام ہے ان سے میں انکے ساتھ آجاوں گی”۔۔
عیشی کے کہتے ہی خنان نے حیرانی سے اسے دیکھ کے منع کرنا چاہا تو عیشی نے ضد لگا لی۔۔ حنان ہمدان کو کال کرکے پوچھنے لگا تو عیشی نے روک دیا کہ سرپرائز دے گی۔۔آخر حنان کو ماننا پڑھا تو عیشی خوشی خوشی باہر دیکھنے لگی۔۔ ہمدان کی یونیورسٹی کے پاس اترتے ہی عیشی یونی کے گیٹ سے اندھر داخل ہوئ۔۔تو حنان نے گاڑی واپس موڑ لی۔۔ مشی نے بھی ساتھ جانے کی ضد کی تھی مگر عیشی نہیں مانی تو حنان نے اسے روک لیا۔۔وہ جانتا تھا دونوں کی لڑائ ہوجانی ہے۔۔اس وجہ سے مشی کا موڈ خراب ہوگیا۔۔تو حنان اسے اور منال کو آئسکریم کھلانے لے گیا۔۔
💕💕💕💕💕💕
ہمدان سیکنڈ فلور پہ اپنے گروپ کے ساتھ کوئ ٹاپک ڈسکس کر رہا تھا جب سیڑھیاں چڑتے ہی عیشی کی نظر اس پہ پڑھی۔۔ سکائے بلو کلر کی شرٹ کے ساتھ بلیک جینز پہنے بال ماتھے پہ بکھرے بازو فولڈ کیئے وہ سنجیدگی سے کوئ بات کر رہا تھا۔۔ شکل سے بیزاریت جھلک رہی تھی۔۔ عیشی نے پہلے تو اسے دیکھا تو ہونٹوں پہ خوبصورت سی مسکراہٹ آئ مگر جب اسے یاد آیا وہ یہاں ہمدان سے لڑنے آئ ہے تو فورأ مسکراہٹ کی جگہ غصے نے لے لی۔۔ اسنے غصے سے آنکھیں چھوٹی کرکے ناک چڑھائی اور پہلے سے ٹائٹ ہائ پونی کو مزید کس کے ٹائٹ کیا تو بال کھنچنے سے سر درد ہوا۔۔ اسنے آہستہ سے اہہ کی پھر پونی تھوڑی ڈھیلی کردی😂۔۔ اور دوبارہ سے چہرے پہ غصہ سجھا کے دونوں بازو فولڈ کرتی ہمدان کی طرف بڑھی ۔۔
“اے مسٹر بات سنو میری”۔۔
اسکے پاس جاتے ہی عیشی نے دونوں ہاتھ کمر پہ رکھ کے غصے سے آنکھیں چھوٹی کرتے کہا تو ہمدان بات کرتا رک گیا۔۔ اور مڑ کے عیشی کو دیکھا تو اسے جھٹکا لگا ۔۔
“عیشی تم یہاں”۔۔
ہمدان نے آہستہ آواز میں کہا تو اسکا پورا گروپ نا سمجھی سے ان دونوں کو دیکھنے لگا۔۔ اس کے گروپ میں لڑکیاں بھی تھی۔۔ جو اس چھوٹے سے عجوبے کو دیکھ رہی تھی۔۔ جو سفید یونیفارم میں بالکل سکول گرل لگ رہی تھی۔۔ پونی ٹیل بنائے کندھے پہ چھوٹا سا بیگ لگائے۔۔ بازو فولڈ کیئے۔ دونوں ہاتھ کمر پہ رکھ کے غصے سے ہمدان کو گھور رہی تھی۔۔
“ہاں میں آپ کیا سمجھے تھے آپ میرے سے چھپ کے یونی آ جائے گے تو میں یہاں نہیں آ سکتی۔۔ آپ اگر مریخ میں بھی چلے جاو وہاں بھی آجاوں گی بچوں “۔۔
عیشی غصے سے گردن ہلا ہلا کے بول رہی تھی تو ہمدان شرمندہ سا اسے چپ کرنے کے اشارے کر رہا تھا جبکہ اسکا پورا گروپ ہنسی روکنے کے چکر میں لال پیلا ہوگیا تھا۔۔
“نہیں وہ مجھے کچھ کام تھا اس لیئے میں تم”۔۔
“ہاں ہاں جانتی ہوں آپ کے سارے کام اس نک چڑھی بل بتوڑی سے ابھی صرف رشتے کی بات ہوئ ہے تو نخرے دیکھو لاڈ صاحب کے شادی ہو گئ تو ملک ہی چھوڑ جائے گے اپنی اس پانڈی رانی کے کہنے پہ”۔۔
عیشی ہمدان کی بات کاٹ کے بولی تو ہمدان بچارہ ادھر ادھر رائے فرار ڈھونڈنے لگا۔۔ جبکہ اسکا گروپ منہ پہ ہاتھ دبائے ہنسی روکے کھڑے تھے۔۔
“ایسی بات نہیں ہے دراصل میرا پروجیکٹ”۔
“ہاں جیسے میں جانتی ہی نہیں پہلے تو کوئ پروجیکٹ نہیں تھا اور ہمارے درمیان طے ہوا تھا ہمھیں فرسٹ ڈے آپ لے کے جائے گے ۔۔اس باندری سے رشتے کی بات کیا ہوئ ایک رات میں پروجیکٹ نکل آیا “۔۔
عیشی ہمدان کی بات سنے بغیر ایڑیوں پہ کھڑی ہوکے شہادت کی انگلی سے اسکے سینے پہ رکھے پیچھے دھکیل کے بولی تو ہمدان کے پورے گروپ نے زوردار قہقہہ لگایا تو ہمدان منہ پہ ہاتھ پھیرتا مزید شرمندہ ہوا۔۔
“کیا کھی کھی لگا رکھی ہے یہی سیکھ رہے ہیں آپ لوگ یونی میں پتا نہیں میں غصے میں ہوں اب کسی کی آواز آئ تو اس پلر میں سر دے ماروں گی آئ سمجھ” ۔۔
ہمدان کے گروپ کے ہنسنے پہ عیشی مزید غصہ ہوئ اور انکی طرف مڑ کے انگلی سے وارن کرتے بولی تو سب شرمندہ ہوگئے۔۔ ہمدان نے نچلا ہونٹ دانتوں میں دبا کے سبکو دیکھا جو آہستہ آہستہ وہاں سے تتر بتر ہوگئے تھے۔۔
💕💕💕💕💕💕💕💕
جاری ہے۔۔۔