Ek Hai Aafat Season 2 By Binte Hawa Readelle50339 (Ek Hai Aafat) Episode 30
Rate this Novel
(Ek Hai Aafat) Episode 30
“د دانی بھائ آپ مذاق کر رہیں ہے نا۔۔ ہے نا”۔۔
عیشی شاکڈ سی بولی تو ہمدان کو اس کی دماغی حالت پہ شک ہوا۔۔
“ارے عیشی پاگل ہو کیا ۔۔ تمھیں کیا لگتا ہے باہر نکاح خواں گواہان سب موجود ہیں اور میں یہاں تم سے مذاق کر رہا ہوں”۔۔
ہمدان نرم مگر سنجیدہ آواز میں بولا تو عیشی نے لب کاٹتے ہوئے آنکھیں ٹمٹماتے ہوئے اسے دیکھا۔۔
“آہہہہہہہہ😭”
“ارے عیشی پلیز رونا تو بند کرو”۔۔
عیشی زور زور سے چینخ کے رونے لگی تو ہمدان نے پریشانی سے اسے دیکھ کے کہا۔۔
“دانی بھائ دھوکہ ہوا میرے ساتھ”۔۔
عیشی دونوں ہاتھوں سے آنکھیں رگڑتی ہوئ بولی تو ہمدان نے ماتھا پیٹا۔۔ کیونکہ عیشی کی آنکھوں پہ لگا آئ شیڈ آس پاس پھیل چکا تھا۔۔
“پلیز سب سے پہلے بھائ کہنا تو بند کرو “۔۔
ہمدان ٹیشو ڈھونڈتا ہوا بولا۔۔
“یہ اچھا تماشہ ہے پہلے مار مار کے کہو کہ بھائ کہنا ہے اور جب بڑھے ہوکے عادت ہو جائے بھائ کہنے کی تو مار مار کے کہو اب مائ کہنا ہے”۔۔
عیشی دونوں ہاتھ کمر پہ رکھے چڑھ کے بولی تو نا چاہتے ہوئے بھی ہمدان کی ہنسی نکل گئ۔۔
“ٹھیک ہے ایک شرط پہ کروں گی شادی “۔۔
اسکو پریشان دیکھ کے آخر کار عیشی کو ترس آگیا۔۔ تو اس نے گردن اکڑا کے کہا۔۔ تب ہی ہمدان اسکے سامنے ٹیشو کا ڈبہ رکھتے شرط پوچھی۔۔ عیشی نے نا سمجھی سے ٹیشو دیکھے تو ہمدان نے اسکی آنکھوں کی طرف اشارہ کیا۔۔ جیسے ہی عیشی شیشے کی طرف مڑی تو زور سے چینخی ہمدان نے دوبارہ اسکے منہ پہ ہاتھ رکھا اور چپ رہنے کا کہا۔۔
پھر عیشی آنکھیں صاف کرنے لگی تو ہمدان سامنے صوفے پہ بیٹھ کے سنجیدگی سے اسے دیکھنے لگا۔۔
“کیا شرط اب بتاو “۔۔
جب عیشی آنکھیں صاف کرکے فارغ ہوئ تو ہمدان نے پوچھا۔۔
“آپ مجھے اپنا ایک یونیفارم دیں گے”۔۔
عیشی آنکھیں گھوما کے بولی تو ہمدان کی آنکھیں حیرت سے پھیلی۔۔
“عیشی یہ بازار سے لایا نہیں ہے مجھے جاب پہ آرمی کی طرف سے ملا ہے”۔۔
ہمدان سنجیدگی سے بولا۔۔
“تو کیا ہوا”
عیشی منہ بنا کے بولی۔۔
“تو یہ ہوا کہ اسے حاصل کرنے کے لیئے آپکو سخت ٹرینگ کرنی پڑھے گی ایسے نہیں ملتا”۔۔
ہمدان سنجیدگی سے بولا تو عیشی نے غصے سے اسے گھورا ۔۔
“تو کیا یہ کم ہے کہ میں آپ سے شادی کر رہی ہوں “۔۔
عیشی کھڑی ہوکے بولی تو ہمدان نے دو انگلیوں میں ماتھا مسلا۔۔
“عیشی پلیز سمجھنے کی کوشش کرو”۔۔
ہمدان بے بسی سے بولا تو عیشی نے آنکھیں چھوٹی کرکے اسے دیکھا۔۔
“بولیں پانچ روپے کی پینسل”۔۔
عیشی سنجیدگی سے بولی۔۔
“عیشی ٹرائے ٹو انڈر سٹینڈ”۔۔
“نہیں بس بولیں پانچ روپے کی پینسل”۔۔
ہمدان کے سمجھانے کے باوجود عیشی چڑھ کے بولی۔۔
“اوکے پانچ روپے کی پینسل”۔۔
ہمدان ہار مانتے ہوئے بولا۔۔
“تیری میری شادی کینسل”۔۔
عیشی زبان دیکھا کے بولی اور دونوں ہاتھ سینے پہ باندھ کے منہ موڑ کے بیٹھ گئ۔۔ جبکہ ہمدان منہ کھولے اسے دیکھ رہا تھا۔۔ تب ہی کافی دیر باہر نا آنے پہ شاہ رشی زری اور عارب اندھر آئے ۔۔ عیشی کی انکی طرف کمر تھی۔۔ جبکہ ہمدان انکو آتے دیکھ چکا تھا۔۔ جب شاہ نے اشارے میں اس سے پوچھا کہ کیا بنا ہمدان نے روتی صورت بنا کے سر نفی میں ہلایا۔۔ شاہ کو بے اختیار اس پہ ترس آیا۔۔ کیونکہ وہ خود اس سیچویشن سے گزر چکا تھا😂۔۔
رشی اور زری عارب کے اشارے پہ عیشی کو سمجھانے آگے بڑھی تو شاہ ہمدان کےپاس آیا اور اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھا۔۔
“صبر کرو بیٹا سمجھ سکتا ہوں تمھاری حالت گزر چکا ہوں ایسے حالات سے”۔۔
شاہ دکھی انداز میں بولا تو ہمدان نے حیرت سے اسے دیکھا۔۔ جبکہ شاہ کی حالت دیکھ کے عارب نے بمشکل ہنسی روکی کیونکہ وہ یہاں ہنس کے کچھ حد تک بنی بنائ بات بگاڑ نہیں سکتا تھا۔۔
“عیشی میری جان تم ہمدان سے شادی کرلو اور اسے اپنے پاپا جی کی آخری خواہش سمجھ کے پورا کردو”۔۔
رشی عیشی کے سامنے بیٹھ کے اسکے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیئے دکھی انداز میں بولی تو شاہ نے حیرت سے اسے دیکھا۔۔ کہ بھلا آخری خواہش ہی کیوں😂۔۔ باقی سب کی حالت بھی اس سے کچھ مختلف نا تھی۔۔
“دیکھیں چھوٹی بہن میں کسی بلیک میلنگ میں نہیں آنے والی”۔۔
عیشی نے صاف ہاتھ نچا کے کہا۔۔
“بیٹا میں تمھیں بلیک میل نہیں کر رہی۔۔ یہ ایک بہت بڑھا راز تھا جو شاید آخری دم تک میرے سینے میں دفن رہتا مگر آج تمھاری ضد کے سامنے میں مجبور ہوں کے تمھیں سب سچ سچ بتا دوں۔۔ دیکھو بیٹا تمھارے پاپا کی خواہش ہے کہ تمھاری شادی ہمدان سے ہو جائے اور مشی کی شادی ضرار سے تاکہ وہ سکون سے مر سکیں۔۔ اصل میں تمھارے پاپا کو ایک بہت ہی جان لیوا بیماری ہے۔۔ ڈاکٹر نے کہا ہے ان کے پاس بہت کم وقت بچا ہے۔۔ اور یہ بات ہم نے آپ سب کو اس لیئے نہیں بتائ کہ آپ لوگ پریشان نا ہو۔۔ اگر تمھیں مجھ پہ یقین نہیں ہے نا تو یہ ۔۔۔یہ دیکھو اپنے پاپا کی میڈیکل رپورٹس”۔۔
رشی آنسو صاف کرتی بولی۔۔جبکہ عیشی اسکی بات سن کے ہی پتھر کی ہوگئ تھی۔۔ کپکپاتے ہاتھوں سے رشی کے ہاتھ میں پکڑی رپورٹس لی جس پہ پیشنٹ نیم پہ شازیب یاور شاہ لکھا دیکھ کے اسکی رہی سہی ضد بھی مر گئ۔۔
“تمھیں کیا بیماری ہے شاہ”۔۔
عارب ابھی تک شاکڈ میں تھا بہت مشکل سے ہمت کرکے شاہ کے پاس آتا بولا جو خود حیران کھڑا تھا😂۔۔
“یہ آپ کے سامنے بیٹھی ہے اس سے بڑھی کوئ بیماری ہو سکتی ہے کیا”۔۔
شاہ آہستہ سے دانت پیس کے بولا کہ اسکی آواز صرف عارب نے ہی سنی اور حیرانی سے اسے دیکھا۔۔
“کیا مطلب”۔۔
عارب نا سمجھی سے بولا۔۔
“صبح لڑائ ہوگئ تھی میری اس آفت سے۔۔ صبح بدلا نہیں لے سکی سو اب لے لیا۔۔ میں تو کہتا ہوں بھائ صاحب اس نکاح کے بعد آپ ہمدان کو میرے پاس بھیج دیجئے گا دو تین ہفتوں کے لیئے صبر کی کلاسس دے دوں گا اسے”۔۔
شاہ کا بس نہیں چل رہا تھا رشی کو اس دنیا سے ہی اٹھا دے جو اتنی آسانی سے اسے موت کے منہ میں کھڑا کرکے اب مگر مچھ کے آنسو بہا رہی تھی ۔۔
شاہ نے غصے سے رشی کی طرف دیکھا تو اس نے عیشی سے نظریں بچا کے منہ پہ ایسے ہاتھ پھیرا کہ بچو اب آیا مزا😂۔۔
“پاپا آ آپ کے لیئے تو میری جان بھی قربان مجھے کو کوئ اعتراض نہیں اس شادی سے😭”۔۔
کچھ دیر بعد سنبھل کے عیشی نے شاہ کی رپورٹس کلچ میں ڈالی اور روتے ہوئے شاہ کے گلے لگ کے بولی ۔۔ تو عارب نے ہنسی چھپاتے داد دینے والی نظروں سے رشی کو دیکھا۔۔
“جیتی رہو بیٹا “۔۔
عیشی کے ماتھے پہ بوسہ دے کے شاہ بس اتنا ہی بولا۔۔ اس کے بعد زری عیشی کو سہارا دیئے باہر لے گئ۔۔ اسکے پیچھے ہی ہمدان اور عارب بھی باہر نکلے۔۔
“وہ اگر سیر ہے تو میں بھی اسی کی ماں ہوں۔۔ لوگ مشکل میں گدھے کو باپ بنا سکتے ہیں تو میں مار کیوں نہیں سکتی😏۔۔ اور یاد رہے آج امان کا بھی نکاح ہے سو آج رات ہمارا کمرے میں لڑائ والا کانٹریکٹ ختم ہوجائے گا”۔۔
رشی شاہ کے پاس رک کے گردن اکڑا کے بولی تو شاہ نے نفی میں سر ہلایا۔۔ پھر ریا کی آواز پہ دونوں باہر چلے گئے😂۔
💓💓💓💓💓💓💓💓
“کیا ہوا تم اتنی چپ کیوں ہو؟
نکاح کے بعد تمام لڑکے دوستوں کے پاس چلے گئے۔۔ سٹیج پہ عیشی مشی نازلی۔۔ تھی باقی سب انکی پکچرز بنا رہی تھی۔۔ جب عیشی کو مسلسل خاموش دیکھ کے مشی نے پوچھا۔۔ نازلی تو ویسے ہی آج بہت چپ چپ تھی۔۔
“مشی پاپا کو بہت بڑھی بیماری ہے ڈاکٹر نے کہا کہ انکے پاس بہت کم وقت ہے۔۔”
عیشی روتے ہوئے بولی تو اسکی آواز سن کے مشی کو جھٹکا لگا۔۔ اسکی آواز نازلی نے بھی سن لی تھی تبھی وہ بھی ایک دم ان دونوں کی طرف مڑی ۔۔
“تمھیں کس نے کہا”۔۔
اب کی بار سوال نازلی کی طرف سے تھا جو انکی بات سن کے بہت پریشان ہوگئ تھی جبکہ مشی نے رونا شروع کر دیا تھا۔۔
“ما ماما نے کہا ہے اور پاپا کی رپورٹس میرے پاس ہیں”۔۔
آج پہلی بار عیشی نے رشی کو چھوٹی بہن کی بجائے ماما کہا جو کہ بہت ہی خوشی کی بات ہوتی اگر کوئ اور موقع ہوتا تو
“کیا تم نے رپورٹس پڑھی “۔۔
نازلی نے دوبارہ سوال کیا تو عیشی نے نفی میں گردن ہلائ۔۔
“ہمیں کسی ڈاکٹر کو رپورٹس چیک کرانی ہونگی”۔۔
نازلی کچھ سوچ کے بولی تو عیشی نے اسے دیکھا۔۔
“چلو اٹھو “۔۔
اپنی چیزیں سنبھالتی عیشی اٹھ کے بولی تو مشی اور نازلی نے الجھ کے اسکو دیکھا ۔
“کہا ں؟”۔۔
مشی آنسو صاف کرتے بمشکل بولی۔۔
“رپورٹس چیک کرانے”۔۔
عیشی نارمل انداز میں بولی تو دونوں نے اسے ایسے دیکھا جیسے کوئ عجوبہ ہو۔۔
“تم ہوش میں تو ہو اس حالت میں ہم ہسپتال جائیں وہ بھی اس وقت”۔۔
نازلی اسکو ڈانٹ کے بولی۔۔
“اسکی تم لوگ فکر نا کرو میرے پاس ایک ائیڈیا ہے”۔۔
عیشی جلدی سے بولی تو دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا پھر اسے۔۔اور مجبورأ اسکے ساتھ چل پڑھی ۔۔
“ارے بیٹا کہاں جا رہی ہو؟”۔۔
انکو سٹیج سے اترتا دیکھ کے ریا فکر مندی سے بولی۔۔
“کہی نہیں ریا بہن ہم بیٹھ بیٹھ کے تھک گئ روم میں جا رہی ہیں”۔۔
عیشی برائڈل روم کی طرف اشارہ کرکے بولی تو ریا نے منال اور سارہ کو بلایا جو ان تینوں کو برائڈل روم میں چھوڑ آئ۔۔
وہاں جاتے ہی عیشی نے اندھر سے روم لاک کیا اور جیولری اتارنے لگی۔۔اسکی دیکھا دیکھی مشی اور نازلی نے بھی اپنی جیولری اتاری۔۔
اسکے بعد عیشی نے اپنے کپڑے ڈھونڈے جو وہ لوگ پہن کے آئے تھے اسے وہ کہی نا ملے تو اس نے پریشانی سے ادھر ادھر دیکھا۔۔ پھر مشی اور نازلی کو منہ دھونے کا کہا۔۔ جب وہ لوگ منہ دھو کے آئ تو سامنے کی حالت دیکھ کے حیران رہ گئ۔۔ عیشی میڈم ایک کاٹن کا ڈبہ کھولے ۔۔ ویٹر کے ڈریس میں کھڑی تھی اسکی میکسی آدھی صوفے پہ اور آدھی نیچے لٹکی اپنی قسمت کو رو رہی تھی۔۔
انکے باہر آتے ہی عیشی نے ان دونوں کو بھی ویٹرز کے ڈریس دئیے۔ جو نیوی بلو کلر کی شرٹ اور کالی پینٹ تھی۔۔ برھے برھے منہ بناتی وہ بھی چینج کر آئ تب تک عیشی نے منہ دھویا۔۔ اور کپڑے سائیڈ پہ کرکے
صوفے پہ بیٹھے اپنی پینٹ کو ٹخنوں تک فولڈ کیا اور بازو بھی کہنیوں تک فولڈ کیئے ۔۔اسکی دیکھا دیکھی مشی نازلی نے بھی ایسا ہی کیا ۔۔ وہ دونوں کوئ روبوٹ لگ رہی تھی جو ہر کام عیشی کی دیکھا دیکھی کر رہی تھی۔۔ اس ساری کاروائ میں مکمل خاموشی تھی جو کافی حیرت انگیز بات تھی۔۔
اسکے بعد اپنا سامان وہی پھینکے وہ تینوں ہیل ہی پہن کے اپنے کلچز لیئے باہر نکلے لگی۔۔ مگر باہر بہت مہمانوں کو دیکھ کے عیشی نے دوبارا دروازہ بند کر دیا۔۔اور پچھلی سائیڈ جاکے کھڑکی کھولی ۔۔جس سے باہر تین چار سیڑھیاں تھی اور آگے ہی لفٹ تھی۔۔ جو شاید تیار دولہن کو وہاں روم تک لانے کے لیئے استمعال کی جاتی تھی۔۔ تینوں لفٹ میں داخل ہوئ اور بٹن دبایا تو لفٹ خارجی دروازے کے سامنے کھلی جہاں باہر گاڑیاں کھڑی تھی۔۔ سامنے ہی ہمدان اس خازق کو کسی سے ہنستے ہوئے بات کرتے دیکھ کے تینوں گاڑی کے ساتھ چھپ گئ۔۔ نیچے بیٹھے بیٹھے ہی تینوں آگے بڑھنے لگی۔۔ وہاں بہت رش تھا جسکی وجہ سے انکی ہیلز کی ٹک ٹک کسی کو سنائ نا دی۔۔ مین روڈ پہ آتے ہی انکو رکشہ دیکھائ دیا ۔۔ ہاتھ ہلاتے ہوئے عیشی نے رکشہ روکا۔۔ انکے پاس رکشہ روکتے ہی ڈرائیور نے ان تین نمونوں کو حیرت سے دیکھا۔۔”انکل جلدی سے ہمیں سنٹرل ہسپتال لے جائیں”۔۔
نازلی پیچھے خازق اور ہمدان کو دیکھ کے بولی جو ابھی بھی باتوں میں مصروف تھے۔۔
“دیکھ کیا رہے ہو جلدی چلو “۔۔
ڈرائیور ویسے ہی دیکھ رہا تھا تو عیشی چلا کے بولی۔۔ ڈرائیور نے اسکو دیکھتے ہی رکشہ سٹارٹ کیا اور ہسپتال کی جانب چل پڑھا ۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓
“جی نیکسٹ”۔۔
عیشی مشی نازلی ہسپتال کے کوریڈور میں اپنی باری کا انتظار کر رہی تھی ۔۔ ہر آتا جاتا انکو گھور کے دیکھتا۔۔عیشی کا مکا دیکھ کے نو دو گیارہ ہو جاتا۔۔
تقریبأ آدھا گھنٹہ بعد انکا نمبر آیا اور ڈاکٹر نے جیسے ہی بلایا تینوں بھاگی بھاگی اندھر گئ۔۔ جہاں سامنے عینک لگائے ڈاکٹر بیٹھا تھا اور میز کی دوسری طرف دو کرسیاں پڑھی تھی۔۔ جن میں سے ایک پہ عیشی بیٹھ گئ اور دوسری پہ نازلی۔۔مشی ان دونوں کے پیچھے کھڑی ہوگئ
جب ڈاکٹر نے انکے آنے کی وجہ پوچھی تو نازلی نے عیشی کے ہاتھ سے رپورٹس لے کے ڈاکٹر کو دی اور ساری بات بتائ۔۔تو ڈاکٹر رپورٹس چیک کرنے لگا۔۔
“جی آپکو کوئ غلط فہمی ہوئ ہے یہ رپورٹس چار سال پرانی ہیں۔۔اور کوئ سیریس بیماری کی نہیں ہیں بلکے بلڈ کی رپورٹس ہیں “۔۔
رپورٹس دیکھ کے ڈاکٹر نے وہ میز پہ رکھی اور ان پہ عینک رکھ کے اطمینان نے ان تینوں کو دیکھ کے بولا۔۔
اپنے ساتھ ہوئے دھوکے کو سمجھ کے عیشی کا چہرا غصے سے تمتما اٹھا ۔۔ جبکہ مشی اور نازلی اسکی حالت دیکھ کے ہنسی چھپانے کی کوشش کرنے لگی۔۔ اور ڈاکٹر سے رپورٹس لے کے اللہ خافظ کہتی تینوں کوریڈور میں آئ۔۔
“ہاہاہاہا ہاہاہاہا ہاہاہاہا ہاہاہاہا ہاہاہاہا ہاہاہاہا “۔۔
تینوں خاموشی سے باہر نکلی۔۔ کوریڈور میں رک کے مشی نازلی نے عیشی کو دیکھا اور تالی مار کے زور سے ہنسی جبکہ عیشی غصے سے انکو دیکھتی اپنے کلچ سے انکو مارنے کے لیئے بھاگی۔۔ اب مشی اور نازلی ہنستے ہوئے آگے بھاگ رہی تھی۔۔ جبکہ انکو باتیں سناتی عیشی کلچ اور ہیلز ہاتھ میں لیئے انکے پیچھے بھاگ رہی تھی۔۔ ہر آنے جانے والا انکو پاگل سمجھ رہا تھا۔۔😜
💓💓💓💓💓💓💓💓
جاری ہے۔۔۔
