393.4K
34

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Ek Hai Aafat) Episode 20

شاہ ہاوس**۔۔
“السلام علیکم “
ہمدان صبح صبح تیار ہوکے ناشتے کے ٹیبل پہ آیا اور سبکو سلام کیا ۔ جہاں گھر کے تمام افراد ناشتہ کرنے میں مصروف تھے۔۔جبکہ رشی زری اور ہماہ ناشتہ بنانے کے ساتھ ساتھ سبکو پیش بھی کر رہی تھی۔۔ یہ انکے گھر کا معمول تھا۔۔ وہ تینوں بعد میں اکٹھے ناشتہ کرتی تھی۔۔
“وعلیکم السلام آو بیٹا ناشتہ تیار ہے”۔۔
سب نے سلام کا جواب دیا اور رشی جو عیشی مشی کے سامنے ناشتہ رکھ رہی تھی مسکرا کے بولی ۔۔
“نہیں آنی میں لیٹ ہو رہا ہوں ایک ضروری کام ہے وہاں ہی کرلوں گا”۔۔
ہمدان نے گھڑی دیکھتے انکار کیا۔۔اس نے زری کو بتا دیا تھا کہ وہ جاب کے انٹرویو کے سلسلے میں چار پانچ دن کے لیئے شہر سے باہر جا رہا ہے ۔۔اسی لیئے اس وقت وہ اپنے سفری بیگ کے ساتھ موجود تھا۔۔
“آہہم مجھے بھی ایک دوست سے ملنا ہے ۔۔ہمدان بیٹا مجھے بھی لے چلو” ۔
ہمدان کا اشارہ سمجھتے ہی شاہ ناشتہ مکمل کرکے ہاتھ صاف کرتے ہوئے بولا تو عیشی نے کھسیانی سی ہوکے دونوں کو گھورا۔۔(بڑے ہی ڈرامے باز ہیں کیسے بےوقوف بنا رہے ہیں میرے گھر کے معصوم معصوم لوگوں کو )۔۔آنکھیں چھوٹی کرکے انکو گھورتے ہوئے اسنے دل میں سوچا۔۔
“جائیں جائیں بڑھے پاپا آپکا کوئ دوست بھی آپکا ویٹ کر رہا ہوگا”۔۔
آخر ان دونوں کو اٹھتا دیکھ کے اس سے رہا نا گیا تو مسکراتے ہوئے عازب کو دیکھ کے بولی جو سکون سے ناشتہ کر رہا تھا مگر عیشی کی بات سن کے ہڑبرا گیا۔۔ تب ہی ہمدان نے عیشی کو گھور کے دیکھا تو عیشی کو اپنا وعدہ یاد آیا اور وہ زبان دانتوں تلے دبا گئ۔۔
“کیا مطلب؟”۔۔
احرار صاحب نے سوالیہ نظروں سے اسکی طرف دیکھ کے پوچھا۔۔ باقی سب ہی عیشی کو دیکھنے لگے ۔۔تو اس نے گلہ تر کیا۔۔
“اہمم کچھ نہیں میں تو مذاق کر رہی تھی ہی ہی ہی”۔۔
معصوم شکل بنا کے مسکراتے ہوئے کہا تو سب نے نفی میں سر ہلایا۔۔
“آپکو تو پتا ہے اسکا اپر پورشن خالی ہے”۔۔
احرار صاحب کو مشکوک نظروں سے اپنی طرف دیکھتے پا کے ہمدان نے زبردستی مسکراتے ہوئے صفائ پیش کی۔۔
“ہاں ہاں اب تو آپکو سب پاگل ہی لگیں گے ۔۔اب آپ ایک محافظ جو بن گئے ہیں “۔۔
ان ڈائرکٹلی اسکو پاگل کہنے پہ عیشی تپ گئ اور چبا چبا کے بولی۔۔مگر دوبارہ ہمدان کے گھورنےپہ اس نے سب کی طرف دیکھا جو ایک بار پھر اپنا ناشتہ چھوڑ کے اسکی بات سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے جبکہ شاہ کنپٹیاں مسلتے ہوئے ہمدان کو دیکھ رہا تھا۔۔
“یہ کیا بول رہی ہو عیشی تم آج”۔۔
اب کی بارریا کو بھی کچھ گڑبڑ لگی تو اس نے عیشی سے سوال پوچھا۔۔جو لب چباتی اپنے خرفاتی دماغ کو چلا کے کوئ پلان سوچ رہی تھی۔۔۔
“کچھ نہیں فضول “۔۔
ہمدان نے سب کو دیکھتے ہوئے کچھ کہنا چاہا جب عیشی فورأ سے اسکی بات کاٹ کے بولی۔۔
“اہہ ہاں تو کیا ہم سبکو سپورٹ کرنا ہو۔۔ یا کوئ بھی کام ہو تو کیا ہمدان بھائ ہمارے ہیلپر نہیں بنتے۔۔ اسی طرح کالج چھوڑنا۔۔واپس لانا۔۔کھانے پہ لے کے جانے سے شاپنگ تک سب انکی ہی تو ذمہ داری ہے۔۔تو اس طرح ہوئے نا یہ محافظ ہمارے۔۔”
سوچ سوچ کے عیشی نے جگاڑ لگایا تو سب کو عیشی کی دماغی حالت پہ شک ہوا۔۔کہ آج عیشی کو ہمدان کا اتنا خیال آکیسے گیا😂۔۔ جبکہ شاہ اپنی مسکراہٹ دباتے ہوئے ہمدان کو دیکھ رہا تھا۔۔جس کی شکل دیکھ کے لگ رہا تھا ابھی رو دے گا۔۔اور وہ بے بسی سے عیشی کو دیکھ رہا تھا۔۔جیسے کہہ رہا ہو۔۔اللہ کا واسطہ ہے عیشی میرا کوئ پلان تو پوراہونے دیا کرو۔۔تمھاری مہربانی ہوگی اپنا
منہ بند رکھنا۔۔تمھارا یہ احسان میں زندگی بھر نہیں بھولوں گا😂۔۔
“اس نے تو چپ ہونا نہیں ہے آپ سب جانتے ہیں ۔۔ خیر مجھے دیر ہو رہی ہے چلتا ہوں ۔۔۔۔چلیں شاہ چاچو؟”
عیشی کی اتنی بڑھی اموشنل تقریر پہ سبکو اسکی دماغی حالت پہ شک ہوا ۔۔اس سے پہلے ہمدان کے سرپرائز کا یہاں ہی ستیاناس ہو جاتا ۔۔وہ جلدی سے بولا ۔۔
“آ ہاں ہاں چلو”۔۔
شاہ جو اس ساری سیچویشن کو انجوائے کر رہا تھا ہمدان کے اچانک بلانے پہ چونکا اور پھر اسکے ساتھ باہر چلا گیا۔۔
“اللہ حافظ “۔۔
دونوں نے مشترکہ کہا اور باہر چلے گئے۔۔
“اللہ حافظ۔۔۔ اور عیشی مشی جلدی ناشتہ کرو امان تم لوگوں کو کالج چھوڑ دے” ۔
انکو اللہ حافظ کہتے ہی رشی نے عیشی مشی کو بھی کہا اور فالتو برتن ٹیبل سے اٹھانے لگی۔۔
“ہو گیا چلیں مان بھائ۔۔”
عیشی مشی نے بھی ہاتھ صاف کیئے اور بیگ اٹھاتے ہوئے کھڑی ہوگئ۔۔
“ہاں چلو”۔۔
امان بھی ناشتہ ختم کرتے اٹھ گیا۔۔
“اوکے اللہ حافظ”۔۔
تینوں نے ایک ساتھ کہا اور باہر چلے گئے۔۔
“اللہ کی امان میں “
رشی نے آیت الکرسی پڑھ کے پھونکی اور تینوں کو اللہ کی امان میں دیا۔۔
💝💝💝💝💝💝💝💝
“بھائ شاپ کے پاس چھوڑ دیں ہماری دوست بھی یہاں آئے گی ہم نے نوٹس لینے ہیں”۔۔
کالج کے پاس پہنچتے ہی عیشی بولی۔۔
“تم لوگوں کو جو چیز چاہیئے ہو کسی بڑھے کےساتھ آیا کرو اکیلے نہیں جاتے”۔۔
امان موڑ کاٹتے ہوئے بولا تو عیشی نے منہ بنایا۔۔
“تو بھائ آپ ہی لیں چلیں نا پلیز ٹیسٹ ہے نوٹس ضروری ہیں”۔۔
مشی نے حل پیش کیا تو عیشی بھی خوشی سے سر ہلانے لگی۔۔
“نہیں مجھے دیر ہو رہی ہے حنان میرا انتظار کر رہا ہوگا”۔۔
نازلی کا سوچ کے ہی اسکا موڈ آف ہوا ۔۔وہ صبح صبح کوئ بدمزگی نہیں چاہتا تھا اسی لیئے انکار کر دیا۔۔
“کیا بھائ اب آپکے پاس اپنی بہنوں کے لیئے بھی ٹائم نہیں۔۔ایک تو آپ کہتے ہیں کسی بڑھے کے ساتھ آو اور جب آپ کو کہتی ہیں تو آپ بہانے کر تے ہو۔۔ سب ایسے ہی کرتے ہیں ہمارے ساتھ”۔۔
عیشی نے تھوڑا اموشنل ہوکے ڈرامہ کیا تو امان نے حیرت سے اسے دیکھا جو اپنے نا آنے والے آنسو صاف کر رہی تھی۔۔
“یہ تم کیا صبح صبح ملکہ جذبات بن رہی ہو”۔۔
امان نے حیرت سے پوچھا۔۔ جبکہ مشی اچھے سے اسکی ایکٹنگ سمجھ گئ تھی اور ہنسی چھپانے کے لیئے منہ کھڑکی کی طرف موڑ لیا۔۔ جبکہ امان سمجھ رہا تھا وہ بھی رو رہی ہے۔۔
“آپ کو کیا لگتا ہے۔۔ ہر وقت ہنستے رہتے ہیں ہم لوگ تو ہمیں کوئ دکھ نہیں ہوتا ہوگا۔۔ کیا ہم انسان نہیں ہیں ہمارے کوئ جذبات نہیں ہیں۔۔ نہیں مان بھائ ہمیں بھی دکھ ہوتا ہے۔۔ مگر شاید وقت نے سمجھوتہ کرنا سکھا دیا ہے”۔۔😂۔۔
عیشی کی ایکٹنگ پہ امان سچ مچ جذباتی ہو گیا تھا۔۔
“توبہ ہے اس لڑکی کی ایکٹنگ پہ دکھ بھی کہتا ہوگا ۔۔او باجی قسم لے لو جو میں نے تمھیں چھوا بھی ہو۔۔ اور شیطان کہتا ہوگا۔۔میں تو بس وقت ہی ضائع کر رہا ہوں جبکہ یہاں تو میری بھی باس موجود ہے”۔۔
مشی دل ہی دل میں سوچ کے ہنسی چھپا رہی تھی۔۔ جبکہ امان کی شکل فل 1997 کی دکھی ہیروئن جیسی لگ رہی تھی۔۔ جسے دیکھ کے مشی کے لیئے ہنسی روکنا دنیا کا سب سے مشکل ترین کام تھا۔۔
“چلو اترو”۔۔
شاپ کے پاس آتے ہی امان نے گاڑھی روک کے کہا تو عیشی کو اپنی ساری محنت رائیگاں جاتی نظر آئ۔۔اور وہ منہ بناتی نیچے اتر گئ۔۔
تب ہی امان بھی اترا اور گاڑھی لاک کرکےان کو لے کے شاپ میں آیا ۔۔
“یہ بتاو اتناڈرامہ کیوں کیا ہے جبکہ میں اچھے سے جانتی ہوں تمھیں ایسا کوئ دکھ نہیں ملا جسے چھپانا پڑھے “۔۔
امان کے پیچھے شاپ میں داخل ہوتے مشی نے عیشی سے سرگوشی کی۔۔
“پتہ ہے کوئ دکھ نہیں ہے بس تم اپنا منہ بند رکھو”۔۔
عیشی تھوڑا رعوب جھاڑتے بولی۔۔
“زیادہ اماں نا بنو بھولو مت ہم دونوں جڑواں ہیں۔۔اس لحاظ سے تم مجھ پہ رعوب نہیں جھاڑ سکتی۔۔ اور سیدھی طرح بتاتی ہو یا بتاوں بھائ کو تمھارے ڈرامے کا”۔۔
مشی نے اینٹ کا جواب پتھر سے دیا تو عیشی منہ کے زاویے بگاڑتے ادھر ادھر دیکھنے لگی۔۔
“اس لیئے تاکہ نوٹس کے پیسے بھائ دے دیں۔۔اور ہم اپنے پیسوں سے اگلے پلان کی چیزیں خرید سکیں”۔۔
ادھر ادھر دیکھ کے عیشی نے آنکھ دبا کے کہا تو مشی کے پوری آنکھیں کھول کے افسوس سے اسے دیکھا۔۔ مگر عیشی ہی ہی کرتی آگے بڑھ گئ۔۔ اور مشی بھی خوشی خوشی اسکے پیچھے چلی گئ۔۔ کیونکہ وہ پیسے دونوں نے بانٹنے تھے😜😂۔۔
💝💝💝💝💝💝💝💝
“سوری”۔۔
عیشی مشی کو نوٹس لیتے دیکھ کے امان ایک سائیڈ رکھی بکس دیکھنے لگا جب اسے اپنے پیچھے سے نسوانی آواز سنائ دی۔۔ وہ واپس پلٹا مگر حیرت سے بے ہوش ہونے کو تھا۔۔کیونکہ نازلی کھڑی مسکرا رہی تھی۔۔ایک تو اسکا اتنا مہذبانہ انداز اور اوپر سے سوری بولنا دونوں ہی امان کے لیئے حیرت انداز چیزیں تھی۔۔کیونکہ اسے نہیں یاد تھا کبھی اس نے زور نازلی نے کسی بھی ملاقات میں نارملی بات کی ہو۔۔۔
“جی مجھ سے کچھ کہا؟”۔۔
امان پاس دیکھتے امان نے سینے پہ انگلی رکھ کے اپنی طرف اشارہ کرتے ہوئے کنفرم کرنا چاہا تو نازلی مسکرائ۔۔
“نہیں ان کتابوں سے کہا ہے کیونکہ آپ انہیں دیکھ رہے تھے نا”۔۔
نازلی نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔مگر امان اسکی بات سمجھ کے غصہ کرنے کی بجائے ابھی تک ساکت کھڑا تھا۔۔ کیونکہ نازلی اسے آپ کہہ رہی تھی😂۔۔ جبکہ وہ ہمیشہ اسے تو تم ہی کہتی تھی۔۔
“کہیں تمھیں بخار وخار تو نہیں ہوگیا اتنے آرام سے بات وہ بھی مجھ سے۔۔؟”۔۔
امان نے سکتے کی حالت میں پوچھا تو نازلی نے دانت پیسے جبکہ ہونٹ ابھی بھی مسکرا رہے تھے۔۔
“پتا ہے اس دن بعد میں مجھے لگا شاید میں نے زیادہ بول دیا تھا سوری کرنا چاہیئے۔۔ لیکن ابھی لگ رہا ہے تم ہو ہی اس قابل۔۔ میں ہی پاگل ہوں جو سوچ رہی ہوں تمھیں برا لگا ہوگا”۔۔
نازلی نے ایک ایک لفظ چبا کے کہا جبکہ ہونٹوں پہ مسکراہٹ ابھی بھی برقرار تھی۔۔
“نہیں تم بالکل ٹھیک ہو۔۔ میں سمجھا شاید اس شکل کا کوئ نیو اور معصوم ورژن آگیا ہے مگر ناممکن”۔۔
اسکی بات کا برا منائے بغیر امان نے سنجیدگی سے کہا اور دوبارا بکس دیکھنے لگا۔۔
“تم نا دنیا میں بس ہم غریبوں کا آکسیجن ضائع کرنے آئے ہو”۔۔
ایسی بےعزتی پہ نازلی جل بھن گئ۔۔اسی لیئے اپنے دل کی آگ بجانے کے لیئے بولی۔۔
“اگر اتنی ہی آکسیجن کی فکر ہے تو مریخ میں چلی جاو۔۔بچاری آکسیجن کو بھی سکون کا موقع ملے”۔۔
سامنے بھی امان شاہ تھا ۔۔وہ چپ ہوجاتا ناممکن۔۔
“زبان چلانے والے مرد بہت ہی زنانہ ٹائپ ہوتے ہیں “۔۔
اسکی طنزیہ بات پہ نازلی اسکے سامنے جاتی بولی۔۔
“کاش کے میں بھی کہہ سکتا۔۔ ہاتھ چلانے والی عورتیں بہت ہی مردانہ ٹائپ ہوتی ہیں” ۔
اسکا غصہ انجوائے کرتے امان نے ہنسی دبا کے مصنوعی سنجیدگی سے کہا تو نازلی نے آنکھیں چھوٹی کرکے غصے سے اسے گھورا۔۔
“جاہل+لوفر+ ٹین ڈبے کی شکل والا۔عجیب آدمی “۔۔
نازلی پاوں پٹختی بولی۔۔جبکہ نئے نئے القابات سن کے امان حیران پریشان کھڑا تھا۔۔
“اور تم کالی کلوٹی عورت”۔۔
امان نے فقط تین لفظوں میں اپنا بدلہ لینے کے ساتھ ساتھ اسے اچھا خاصہ تپا دیا تھا۔۔وہ جو اپنے رویے کی معافی مانگنے آئ تھی۔۔ ایک نئ لڑائ شروع کر چکی تھی۔۔۔ جب لفظوں سے بات نا بنی ۔۔اپنا شوز زور سے امان کے پاوں پہ مارا۔۔ جس پہ وہ چینج اٹھا ۔۔ جب سب انکی طرف متوجہ ہوئے۔۔تو نازلی مسکرا کے اسے دیکھتی چلی گئ۔۔جیسے اسنے تو کچھ کیا ہی نا ہو۔۔۔
“ایسی جنگلیوں پہ بین لگنا چاہیئے کہ وہ پبلک پلیس پہ نہیں جاسکتی”۔۔
اسکی پشت کو گھورتا امان غصے سے بولا۔۔اسکی بات پہ عیشی مشی زور سے ہنسی تو امان نے چونک کے انہیں دیکھا۔۔ جو ان دونوں کو ناجانے کب سے لڑتا دیکھ رہی تھی ۔۔۔ اسکے دیکھتے ہی دونوں نے سر سمجھنے والے انداز میں ہلایا۔۔۔
“یا اللہ خیر”۔۔
امان جانتا تھا اب کوئ نیا ڈرامہ شروع ہونے والا ہے۔۔کیونکہ بات اب عیشی مشی تک پہنچ گئ تھی۔۔۔ جبکہ وہ اس بات سے بے خبر تھا کہ ڈرامہ نہیں اسکی زندگی کی ہارر فلم شروع ہونے والی ہے😂😂۔۔۔
💝💝💝💝💝💝💝💝
“السلام علیکم”۔۔
“ارے وعلیکم السلام بریرہ آئیں نا اندھر آئیں آپ باہر کیوں کھڑی ہیں۔۔ آئیں زری باجی آپ بھی”۔۔
“شکریہ “۔۔
گھنٹی کی آواز پہ حرم نے دروازہ کھولا تو زرتاشہ اور بریرہ کھڑی تھی۔۔ انکو دیکھ کے اسے حیرت ہوئ۔۔مگر خود کو سنبھالتے اس نے مسکرا کے سلام کیا اور اندھر آنے کی جگہ دیتے ہوئے آنے کا کہا۔۔۔
مسکرا کے سلام کا جواب دیتے وہ دونوں اندھر آئ ۔۔۔
“بیٹھیں نا پلیزز ۔۔ “
حرم نے دونوں کو بیٹھنے کا کہا۔۔اور خود کچن میں چلی گئ۔۔ زری اور بریرہ بھی بیٹھ گئ۔۔
کچھ دیر بعد حرم جوس ۔۔فروٹس اور کچھ دیگر چیزوں کے ساتھ ہال میں آئ اور ٹرے میز پہ ان کے سامنے رکھی۔۔
“ارے اس تکلف کی کیا ضرورت تھی “
زری نے کہا تو حرم نے مسکرا کے کہا کہ تکلف کیسا۔۔۔
“وہ ہم آج اک خاص سلسلے میں تمھارے پاس آئیں ہیں”۔۔
کچھ دیر ادھر ادھر کی باتوں کے بعد زری بولی۔۔۔اس کی بات سن کے سیڑھیوں سے اترتی سارہ کا دل جھوم اٹھا ۔۔۔ وہی حرم بھی دل ہی دل میں خوش ہوئ۔۔ مگر اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ زری بریرہ کو ساتھ کیوں لائ ہے۔۔ جبکہ وہ ریا کو یا رشی اور ہماہ کو بھی لا سکتی تھی۔۔
“جی جی کہے”
حرم ناسمجھ بنتے ہوئے مسکرا کے بولی۔۔ جبکہ سارہ تو مانو زمین پہ پاوں نہیں ٹک رہے تھے۔۔ اسے یقین نہیں ہو رہا تھا کہ اسکا خواب سچ ہونے والا ہے۔۔۔
“کچھ مانگنے آئیں ہیں ۔۔ اور بہت امید سے آئیں ہیں کہ آپ ہمیں خالی ہاتھ نہیں لوٹائیں گی”۔۔
زری نے خاص تمہید باندھتے ہوئے کہا تو حرم نے سر ہلایا۔۔
“وہ میں اپنے بیٹے خازق کے لیئے آپکی بیٹی سارہ کا رشتہ مانگنے آئ ہوں۔۔”
زری کے اشارہ کرتے ہی بریرہ دھیمے لہجے میں بولی۔۔تو سارہ نے جھٹکے سے سر اٹھایا ۔۔ سارے خواب زمین بوس ہوگئے تھے۔۔ کچھ ایسا ہی حال حرم کا بھی تھا۔۔ شاید اسے بھی دکھ ہوا تھا۔۔
“خازق بہت اچھا لڑکا ہے۔۔ آرمی میں ہے۔۔اور ما شاہ اللہ بہت سلجھا ہوا سمجھدار بچہ ہے۔۔ اور سب سے بڑھی بات ہمارے خاندان کا ہے۔۔ وہ خود اس رشتے کے لیئے راضی ہے۔۔ بلکہ یو کہیں اسے ہماری سارہ بہت پسند آئ ہے” ۔
زری مسکراتے ہوئے بولی۔۔ جبکہ اسکی بات سن کے حرم مسکرا بھی نا سکی۔
“ریا آنی اور رشی لوگ بھی آنا چاہتی تھی۔۔ مگر ہم نے سوچا پہلے آپ کی رضامندی جان لے پھر باقائدہ رشتہ لے کے آئیں گے۔۔ خازق کے بابا اور نازلی بھی آنا چاہتے ہیں”۔۔
بریرہ حرم کو مسلسل خاموش دیکھ کے بولی ۔۔۔
“جی آہمم۔ہمیں کچھ وقت دیں میں بات کروں گی سارہ کے بابا اور بھائ سے۔۔ پھر جو انکا فیصلہ ہوا”۔۔
زری کا بریرہ کے ساتھ آنا اس بات کی دلیل تھی کہ وہ ہمدان کے لیئے واقع سارہ کا رشتہ نہیں کرنا چاہتی۔۔۔
اسی لیئے وہ کچھ رضامند سی بولی۔ کیونکہ وہ خازق سے مل چکی تھی اسے اس میں کوئ برائ نظر نہیں آئ تھی۔۔
اسکے جواب پہ بریرہ اور زری مسکرانے لگی۔ ۔اور مزید کچھ باتوں کے بعد۔۔ چلی گئ۔۔
“ماما آپ نے صاف صاف انکار کیوں نہیں کیا”۔۔
انکے جاتے ہی سارہ غصے سے حرم کے پاس آئ اور چینخ کے بولی۔۔
“تم نے دیکھا نہیں زری خود آئ تھی ۔۔ اسکا کیا مطلب تھا۔۔ یہی کہ وہ ہمدان کے لیئے تمھارا رشتہ نہیں مانگے گی۔۔پھر بھی تم ایسے کہہ رہی ہو۔۔ اب کونسی امید باقی ہے۔۔ اور خازق اچھا بھلا لڑکا ہے۔۔ پڑھا لکھا ہے۔۔ اپنی جاب کرتا ہے۔۔ شکل صورت ہی اچھی ہے۔۔ پھر کیا مسلہ ہے تمھیں۔۔مجھے تو اس رشتے میں کوئ برائ نظر نہیں آئ۔۔ آج کرتی ہوں میں تمھارے بابا اور ذنبیل سے بات۔۔ اور تم بھی بھول جاو ہمدان کو۔۔ نہیں ہے وہ تمھارے نصیب میں تو نصیب سے لڑنے کی کوشش مت کرو”۔۔
حرم بھی اسی کے انداز میں بولی۔۔ اسے اب سارہ کی بچکانا ضد سے خوف آنے لگا تھا۔۔۔
حرم کی بات سن کے سارہ پاوں پٹختی اپنے کمرے میں چلی گئ۔۔ جبکہ حرم سر نفی میں ہلا کے رہ گئ۔۔۔
💝💝💝💝💝💝💝💝
“آج بریرہ اور زری آئ تھی۔۔ بریرہ اپنے بیٹے خازق کے لیئے سارہ کا رشتہ مانگنے آئ تھی”
شام کھانے کے میز پہ حرم نے بتایا تو ذنبیل اور حسام کا ہاتھ ایک پل کو رکا۔۔
“مجھے اس رشتے میں کوئ برائ نظر نہیں آئ ۔۔آپ لوگ بھی اپنی تسلی کے لیئے پتا کرالیں۔۔ پھر جیسے آپکو بہتر لگے۔۔”
انکو خاموش دیکھ حرم دوبارہ بولی۔۔ تو حسام نے ذنبیل کی طرف دیکھ کے سر ہلایا۔۔ جو خاموشی سے کھانا کھا رہا تھا۔۔
“ذنبیل تم لڑکے کے بارے میں پتا کرا لو پھر انکو دعوت پہ بولا لیتے ہیں “۔۔
حسام نے کہا تو ذنبیل جی اچھا کہتے خاموش ہوگیا۔۔ وہ خازق سے مل چکا تھا۔۔ اور کافی حد تک اسے جانتا بھی تھا۔۔
مگر پھر بھی سارہ کا سوچتے وہ کچھ پریشان تھا۔۔ کیونکہ سارہ بہت لاڈلی تھی۔۔اور وہ چھوٹی چھوٹی چیزیں بہت مشکل سے پسند کرتی تھی۔۔ جبکہ یہ زندگی بھر کا فیصلہ تھا۔۔
💝💝💝💝💝💝💝💝
“ماما کیا آپ نے سارہ سے بات کرلی “
کھانے کے بعد جب حرم دودھ کا گلاس لے کے ذنبیل کے کمرے میں آئ جو لیپ ٹاپ گود میں رکھے کوئ کام کر رہا تھا ۔۔ حرم کے آتے ہی لیپ ٹاپ بند کر دیا ۔۔اور دودھ کا گلاس حرم سے لیتے ہوئے پوچھا۔۔۔
“آ ہاں کرلی ہے بات اسے کوئ اعتراض نہیں”
حرم خود کو کمپوز کرتے ہوئے بولی۔۔ اسے ڈر تھا کہی ذنبیل خود سارہ سے بات نا کرلے اور وہ سب بتا دے۔۔ اب وہ سارہ کو مزید بیوقوفی نہیں کرنے دے سکتی تھی۔۔۔
“ہممم صحیح”۔۔
ذنبیل نے سمجھ کے سر ہلایا۔۔اسے شب بخیر کہتی حرم دروازہ بند کرکے باہر چلی گئ۔۔
وہ بس دل ہی دل میں دعا کر رہی تھی کہ سارہ کا دماغ ٹھیک ہوجانے تک ذنبیل اس سے بات نا ہی کرے۔۔۔
💝💝💝💝💝💝💝💝
سارہ کا بس نہیں چل رہا تھا خازق کا قیمہ بنا دے جس نے انکے گھر رشتہ بھیجا تھا۔۔ اور اس سے بھی بڑھی بات تو یہ تھی کہ اسکے گھر والوں کو یہ رشتہ ہر لحاظ سے اچھا لگا۔۔ حرم سمجھ گئ تھی۔۔سارہ ایک ایسے راستے پہ بھاگ رہی ہے جسکی کوئ منزل نہیں۔۔ کیونکہ حنان کی منگنی پہ زری نے باتوں ہی باتوں میں اسے بھاور کرا دیا تھا کہ وہ ہمدان کا رشتہ خاندان میں ہی کرے گی۔۔۔۔مگر یہ بات حرم نے سارہ کو نہیں بتائ تھی تاکہ اسکا دل نا ٹوٹے۔۔
اور جو کچھ امید باقی تھی وہ بریرہ کے ساتھ آنے پہ پوری ہوگئ تھی۔۔
“دل تو کر رہا ہے جاکے اس لفنگے کا منہ نوچ لوں”۔۔
خازق لوگوں کو ذنبیل نے دعوت پہ گھر بلایا تھا۔۔اور یہ بات سارہ کو انکے آنے کے بعد معلوم ہوئ۔۔تب ہی وہ غصے سے تن فن کرتی لان میں آگئ ۔۔جہاں خازق فون پہ کسی سے بات کر رہا تھا۔۔ ذنبیل نے اپنے طور پہ مکمل معلومات حاصل کرلی تھی۔۔۔جب اسے دیکھ کے سارہ بڑبڑائ۔۔تب ہی خازق جاکے ایک درخت کے نیچے کھڑا ہوگیا۔۔ جب سارہ کی نظر درخت پہ پڑھی تو اسکے لبوں کو مسکراہٹ نے چھوا۔۔اور وہ پاس پڑا پتھر اٹھا کے درخت کے پاس آئ۔۔اور درخت پہ لگے شہد کی مکھیوں کے چھتے کو زور سے پتھر مارا۔۔ پتھر جیسے ہی خازق کے پاوں میں واپس آکے گرا تو اس نے چونک کے پتھر دیکھا۔۔ پھر پیچھے مڑ کے دیکھا جہاں سارہ کھڑی آنکھیں پھاڑے شہد کی مکھیوں کے طوفان کو دیکھ رہی تھی ۔۔ اس سے پہلے کے مکھیاں ان تک پہنچتی خازق نے اسکا ہاتھ کھینچا اور بھاگ کے دوسری طرف بنے کمرے کے گلاس ڈور سے اندھر ہوگئے۔۔
“پاگل ہو کیا۔ کیوں چھیڑا انہیں اگر کاٹ لیتی تو؟”۔۔
خازق تھوڑا غصے سے بولا ۔۔
“اس لیئے چھیڑا تاکہ مکھیاں تمھیں پیار کریں۔۔اور اسی خوشی میں تم شیشہ دیکھو جو پچھلے کہی برس سے نہیں دیکھا۔ اور یہ جو مجھ سے شادی کرنے کی خوش فہمی ہے ساری دور ہوجائے”۔۔
سارہ ایک ایک لفظ چبا کے بولی۔۔ اسکے غصے کی وجہ جان کے خازق مسکرانے لگا۔۔
“اوہ تو یہ بات ہے۔۔۔ہمممم۔۔ ویسے تم لکی ہو جسے میں نے چنا ۔۔ورنہ لڑکیاں تو مرتی ہیں مجھ پہ”۔۔
خازق کے کالر پکر کے کہا تو سارہ نے مذاق اڑانے والے انداز میں اوہوہو کیا جس پہ خازق ہنسنے لگا۔
“دیکھو مسٹر ایک بات کان کھول کے سن لو۔۔یہ جو جاگتی آنکھوں سے خواب سجھا رہے ہو نا مجھ سے شادی کے بہتر ہے انہیں بھول جاو۔۔کیونکہ میں کسی اور کو پسند کرتی ہوں اور شادی بھی اسی سے کروں گی”۔۔
سارہ انگلی دکھا کے وارن کرنے والے انداز میں بولی۔۔اسکی آخری بات پہ خازق کا دل دکھا۔
“کون ہے وہ؟”۔۔
اس نے سنجیدگی سے پوچھا۔۔جبکہ دل کر رہا تھا سب ختم کردے۔۔ یہ شراکت ایسی ہی چیز ہے اچھے سے اچھے انسان کو بھی ختم کر دیتی ہے۔
“تمھیں اس سے کوئ مطلب نہیں۔۔ اپنے کام سے کام رکھو “۔۔
سارہ نے غصے سے کہا۔۔اور گلاس ڈور دھکیل کے باہر نکل گئ۔۔اب باہر سے مکھیاں ہٹ گئ تھی۔۔۔
دور تک خازق کی زخمی نظروں نے اسکا پیچھا کیا۔۔اور ہاتھ میں پکڑا فون اس نے زور سے دبایا۔۔اور دیوار میں دے مارا۔۔۔
مگر اگلے ہی پل اسی ہزار کا نقصان محبت پہ بھاری پڑھ گیا😂۔۔اور وہ وقتی طور پہ سب بھول بھال موبائل اٹھائے دکھ سے الٹ پلٹ کے اسے دیکھنے لگا جسکی سکرین ٹوٹ گئ تھی ۔۔ اور موبائل آف ہوگیا تھا۔۔اسنے موبائل آن کیا تو اوپر والا حصہ فل وائٹ ہوگیا جبکہ نچلے حصے پہ تین چار رنگ جگمگا رہے تھے😂۔۔ خازق نے دکھ سے موبائل چوما اور پاکٹ میں ڈال لیا۔۔ اس وقت اسے خود پہ غصہ آ رہا تھا کہ موبائل کی جگہ سارہ کا سر پکڑ کے دیوار میں کیوں نہیں مارا۔ ۔۔
” اب دیکھنا بچو شادی تو تم ہی سے کروں گا ۔۔کیونکہ تمھاری وجہ سے میرا موبائل ٹوٹا 😂”۔۔
خازق نے دل میں عہد کیا اور دکھ سے پاکٹ کے اوپر سے موبائل پہ ہاتھ پھیرا۔۔۔( اب یہاں سے شروع ہوگی بدلے کے لیئے شادی کی سٹوری 🙊۔۔ اچھا اچھا زیادہ ہنسے مت وہ اصل میں انکے ماما پاپا کی دوررررررر دورررررر تک کوئ لڑائ ذہن میں نہیں آرہی تھی جسکی بنا پہ میں ان دونوں کا ٹانکا جوڑتی 😜۔۔سو ایسے ہی صحیح۔۔ویسے بھی فنی ناول ہے۔۔اور ہے بھی ماشوم رائٹر کا تو بھئ اس میں کچھ بھی ہو سکتا ہے🙈)۔۔۔
💝💝💝💝💝💝💝💝
جاری ہے۔۔۔۔