Ek Hai Aafat Season 2 By Binte Hawa Readelle50339 (Ek Hai Aafat) Episode 9
Rate this Novel
(Ek Hai Aafat) Episode 9
“منو آپپپی کیا کر رہی ہیں؟”۔۔
منال صوفے پہ بیٹھی پاوں سامنے میز پہ رکھے کچھ لکھنے میں مصروف تھی جب۔عیشی دھرام سے اسکے پاس بیٹھی ۔۔منال اس اچانک افتاد پہ اچھل گئ جس کی وجہ سے اسکے ہاتھ سے پن زمین پہ گر گیا۔۔ اور منال نے زور سے دھڑکتے دل پہ ہاتھ رکھ کے عیشی کو دیکھا جو آنکھیں ٹمٹماتی جواب کا انتظار کر رہی تھی ۔۔۔آج نانا ابو کو آئے ایک مہینہ ہو گیا تھا۔۔ اس دوران عیشی مشی نے چھٹیوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سبکو خوب تگنی کا ناچ نچایا ہوا تھا۔۔
“وہ میں سٹوری لکھ رہی تھی”۔
منال نے سانس بحال کرتے ہوئے کہا۔۔ وہ بہت کم گو معصوم اور اپنے آپ میں مگن رہنے والی لڑکی تھی۔۔
“چلے چھوڑیں یہ سب ہم پارک جار رہے ہیں آپ بھی چلے”۔۔
عیشی نے اسکے ہاتھ سے نوٹ بک لے کے میز پہ رکھتے ہوئے کہا۔۔اور اسکا بازو پکڑ کے کھڑا کرنے لگی۔۔۔
“کون کون جا رہا ہے؟ “۔
منال نے کھڑے ہوتے ہوئے پوچھا ۔۔
“حرم آنی آئ ہے نا۔۔ تو میں مشی نانا ابو سارہ جا رہے تھے سوچا آپکو بھی بلا لوں”۔۔
عیشی نے اسکو بازو سے پکڑ کے لے جاتے ہوئے کہا۔۔ سارہ منال کی ہم عمر تھی۔۔ مگر دونوں کے مزاج میں بہت فرق تھا۔۔ سارہ تھوڑی نک چڑھی اور موڈی سی لڑکی تھی۔۔ اور ناجانے کیوں وہ منال کو عجیب نظروں سے دیکھتی تھی ۔۔ اس کا اندازہ منال نے پچھلے ایک ماہ سے لگایا تھا۔۔ کیونکہ حرم اکثر وہاں آتی رہتی تھی اپنے بچوں کے ساتھ۔۔
“آہ مم عیشی تم لوگ جاو مجھے ایک ضروری کام ہے”۔۔
منال نے مسکرا کے انکار کیا۔۔
“نہیں نہیں نہیں منو آپی آپ ہمارے ساتھ جائیں گی بس “۔۔
عیشی منال کا بازو پکڑ کے کھنچتے ہوئے باہر لائ۔۔ منال مسلسل نا نا کر رہی تھی۔۔
“کیا ہوا عیشی کہاں لے کے جا رہی ہو؟”۔۔
امان جو اسی وقت کرکٹ کھیل کے واپس آیا تھا دونوں کو ایسے دیکھ کے بولا۔۔
“ہم نانا ابو کے ساتھ پارک جا رہے ہیں مان بھائ”۔۔
عیشی نے ویسے ہی ایک ہاتھ سے منال کا بازو پکڑے ایک ہاتھ سے منہ پہ آئے بال کان کے پیچھے کرتے امان کو بتایا۔۔
“وہ نہیں جانا چاہ رہی تو ایسے کیوں کھینچ رہی ہو؟”۔۔
امان نے تھوڑا غصہ دیکھاتے ہوئے کہا۔۔
“مان بھائ آپ نا آہمممم بس آپ کچھ نہیں جانتے اندھر جائیں چھوٹی بہن بولا رہی ہیں “۔۔
عیشی نے ادھر ادھر دیکھتے امان کو کچھ کہنا چاہا مگر اسکی گھوری دیکھ کے چپ ہوگئ
اور ایسے ہی جلدی سے بول کے منال کو ساتھ کھینچ کے لے گئ۔۔ جبکہ امان حیران سا کھڑا تھا ۔۔
“آگئے تم لوگ چلو اب چلتے ہیں”۔۔
نانا ابو اپنی لاٹھی ہاتھ میں پکڑے عینک لگائے صحن کی دوسری سیڑھی پہ بیٹھے تھے۔۔ پاس ہی مشی اور سارہ کھڑی عیشی اور منال کا انتظار کر رہی تھیں ۔۔ مشی تو پاس لگے پودے کے پتوں سے کھیل رہی تھی جبکہ سارہ برے برے منہ بناتی بار بار دروازے کو دیکھتی پھر ہاتھ سے چہرے پہ نزاکت سے ہوا دیتی۔۔
عیشی اور منو کو دیکھتے ہی نانا ابو نے کہا اور لاٹھی کے سہارے کھڑے ہوگئے۔۔۔
“دادا جی میں نہیں جانا چاہ رہی”۔۔
منو نے پاس آتے ہی روتی شکل بنا کے کہا تو مشی اور عیشی دونوں نے اسے بازووں سے جکڑ لیا اور ساتھ کھینچنے لگی۔۔ نانا ابو بھی مسکراتے ہوئے انکے پیچھے چل پڑھے ۔۔
“یہ کیا آپ لوگ میرے بغیر جا رہے ہیں “۔۔
ابھی وہ مین گیٹ کے پاس ہی پہنچے تھے جب ضرار کی غصے بھری آواز سنائ دی۔۔
سب نے مڑ کے دیکھا تو وہ گال پھولائے دونوں ہاتھ سینے پہ باندھے سبکو گھور رہا تھا۔۔۔
“نہیں ہم تو دڑوازے کو بتانے آئے ہیں ابھی مت کھلنا ضڑاڑ ابھی آڑہا ہے”۔۔۔
مشی نے معصوم سا منہ بنائے آنکھیں ٹمٹماتے ہوئے کہا تو سب ہنسنے لگے جبکہ بچارے ضرار کو تو اپنے نام کا تترمتر ہونا ہی دکھی کر گیا۔۔
“چلو چلو اب کیا ایسے ہی کھڑے رہنا ہے “۔۔
عیشی نے ضرار کے پاس آتے ہی اسکا بازو کھینچ کے ساتھ لے جاتے ہوئے کہا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“آئوچ اتنے ڈرٹی روڈ ہے یہاں۔۔”
ایک جگہ تھوڑا سا پانی کھڑا دیکھ کے سارہ اپنا ٹراؤزر اوپر کرتے ہوئے بولی ۔۔ تو ضرار نے اسکی نقل کی ۔۔ نانا ابو نے ضرار کو گھورا جبکہ عیشی مشی منہ پہ ہاتھ رکھ کے کھی کھی کرنے لگی۔۔
“ضرار یو نو تم بہت بتمیز چائلڈ ہو”۔۔
سارہ نے ضرار کی حرکت پہ غصہ کرتے ہوئے کہا پھر نزاکت سے اپنے بال پیچھے کیئے ۔۔
“اوہ سوری سوری سارہ جی میں بھول گیا تھا یو نو آئ ایم اینوسینٹ چائلڈ” ۔۔
ضرار نے ویسے ہی سارہ کے انداز میں کہا تو سارہ نے ہننن کر کے منہ پھیر لیا ۔۔ جبکہ عیشی اور مشی اسے زبان چڑانے لگی۔۔
منال سارا رستہ دادا جی کا ہاتھ پکڑے خاموشی سے چلتی رہی۔۔
“چپ کرو چائلڈنیو”۔۔
عیشی مشی کو مسلسل زبان چڑاتے دیکھ کے ضرار نے اونچی آواز میں کہا تو نانا ابو سارہ منال عیشی مشی سب نے حیران ہوکے اسے دیکھا۔۔
“چائلڈنیو”۔۔
منال نے حیرانی سے سوال کیا۔۔
“اوہ منو آپی یو نو واٹ یہ دونوں مجھ سے سمال ہیں اینڈ دن دے آر چائلڈنیا مین بچیاں”۔۔
ضرار نے معصوم سا منہ بنا کے انگلش کی ٹانگے توڑی جبکہ آنکھوں میں صاف شرارت چھلک رہی تھی۔۔ اسکی بات سمجھ کے نانا ابو اور منال نے قہقہہ لگایا جبکہ سارہ پاوں پٹخ کے آگے چل پڑھی۔۔
“اوہ لائٹلی سارہ جی یو نو واٹ دی روڈ از ویری ہارڈ اینڈ یور فیٹ سو نازک”۔۔
ضرار نے مسکراتے ہوئے کہا تو سارہ کا دل کیا اسے غائب کردے ۔۔ وہ بچاری ایک بات کہہ کہ پچتا رہی تھی۔۔ جبکہ ضرار کا دور دور تک چپ ہونے کا ارادہ نظر نہیں آ رہا تھا اسی لیئے سارہ نے خاموش رہنا بہتر سمجھا۔۔ ان دونوں کی باتیں سب انجوائے کر رہے تھے۔۔
ایسے ہی سب پارک میں پہنچے۔۔
یہاں آتے ہی نانا ابو سیمنٹ سے بنے بینچ پہ بیٹھ گئے انکا سانس پھول رہا تھا۔۔ منو بھی انکے پاس ہی بیٹھ گئ ۔۔ جبکہ باقی چاروں ادھر ادھر گھومنے لگے۔۔۔
“آو جھولےلیتے ہیں ۔۔”
جھولے دیکھتے ہی عیشی کی آنکھیں چمکی تو اس نے خوشی سے کہا۔۔ مشی اور ضرار بھی خوشی سے آگے بڑھے۔۔
“اوہ مائے گاڈ یو آر آل ایکٹ لائیک آ پور پیپل😏”
سارہ نے اپنا پاوں اختیاط سے گھاس پہ رکھتے ہوئے نزاکت سے کہا اور آنکھیں پھیری۔۔
“آئ بڑی انگریزوں کی چمچی یہاں کتا پیچھے لگ جائے امی امی کرتی سب سے آگے بھاگے گی چمگادڑ۔”
ضرار نے عیشی مشی کے کان میں آہستہ سے کہا تو تینوں ہنسنے لگے۔۔ تو سارہ نے تینوں کا سوالیہ نظروں سے دیکھا۔۔ کب سے اس نے ان تینوں کو تنگ کرکے رکھا ہوا تھا۔بات بات پہ طنز کرتی۔۔۔
“آئیڈیا “۔۔
عیشی نے دور کسی کو دیکھتے ہوئے چٹکی بجائ تو مشی اور ضرار نے اسے حیرانی سے دیکھا۔۔۔
“میرا پلان اس چائنہ کی انگریزن کو سبق سکھانا ہے”۔۔
عیشی نے آہستہ سے کہا تو ضرار اور مشی نے اس سے پوچھا کیسے۔۔ عیشی نے اپنا پلان بتایا تو تینوں کی آنکھیں چمکی۔۔۔ ضرار آہستہ سے وہاں سے غائب ہوا تو عیشی مشی سارہ کے پاس آئ جو مشکوک نظروں سے انہیں دیکھ رہی تھی۔۔۔
“تمھیں اس پارک کا ایک انوکھا واقعہ سناوں تم یقین نہیں کرو گی”
عیشی مشی نے سارہ کو بینچ پہ بٹھا کے پاس بیٹھتے ہوئے کہا تو سارہ نے مشکوک نظروں سے دونوں کو دیکھا۔۔
“رہنے دو عیشی یہ ڈر جائے گی”۔۔
مشی نے مسکراتے ہوئے کہا تو سارہ نے گھور کے اسے دیکھا۔۔
“میں کسی سے نہیں ڈرتی”۔۔
سارہ نے تڑخ کے جواب دیا۔۔
“تو کیا تمھیں میں وہ جگہ دکھاوں جہاں ایک بابا کی روح رہتی ہے”۔۔
عیشی نے پر اسرار انداز میں
کہا تو سارہ کا دل ڈرا مگر وہ مضبوط بننے کی ایکٹنگ کرنے لگی۔۔۔
“رہنے دو عیشی یار کیوں ڈرا رہی ہو اسے”۔۔
مشی نے بیزار سا منہ بنا کے کہا۔۔
“میں نے کہا نا میں کسی سے نہیں ڈرتی اور ویسے بھی یہ روح بھوت ووت کچھ نہیں ہوتے”۔۔
سارہ نے غصے سے کہا تو مشی نے اپنی مسکراہٹ چھپائ۔۔
“چلو عیشی دکھاو ذرہ میں بھی تو دیکھوں”۔۔
سارہ نے آنکھیں گھوما کے کھڑے ہوتے ہوئے کہا تو عیشی مشی نے دل ہی دل میں یس کیا۔۔
“تمھیں پتا ہے پہلے یہاں قبرستان ہوتا تھا۔۔”
عیشی نے سارہ کے ساتھ گھنے درختوں کی طرف جاتے ہوئے خوفناک انداز میں کہا تو سارہ کا دل زور سے دھڑکا ۔۔
“سنا ہے کہ جب پارک بنا تھا نا تو اس سے دو دن پہلے یہاں ایک بابا جی کو دفن کیا گیا تھا۔۔ مگر پارک والوں نے بابا جی کو نکال کے کہی پھینک آئے اور جب بابا جی کی روح یہاں آئ تو اس نے دیکھا بابا جی ہے ہی نہیں تو وہ چیخنے چلانے لگی۔۔ اور ہر اس بندے کے پاس آ کے بابا جی مدد کہتی جو پہلی بار اس پارک میں آتا۔۔۔ کافی عرصہ ہوگیا اس بات کو اب تو بابا جی کی روح بھی اتنی میلی ہوگئ ہے ۔۔ یہ لمبے لمبے گندھے بال بڑھی بڑھی مٹی سے بھری داڑھی۔۔ سیاہ رنگ۔۔ گندے پھٹے ہوئے کپڑے۔۔ ٹوٹے ہوئے جوتے۔۔”
عیشی درختوں کی شاخیں پیچھے کرتے ہوئے آگے بڑھ رہی تھی اور ساتھ ساتھ بچوں جیسے انداز میں سارہ کو خوفناک کہانی سنا رہی تھی۔۔۔ سارہ کا دل مانو کسی نے مٹھی میں لیا ہوا ہو۔۔۔
“بابا جی مدددددد”۔۔۔
جیسے ہی وہ ویران سی جگہ پہ پہنچی ایک شحص نے ردخت سے چھلانگ لگا کے سارہ کے پاوں میں گرتے ہوئے اپنے پیلے دانت دیکھاتے ہوئے کہا تو سارہ کے ساتھ ساتھ عیشی اور مشی کی بھی چینخ نکل گئ۔۔
“امیییییییی جییییییی بھوتتتتتتت”۔
سارہ واپس بھاگتی ہوئ چینخ چینخ کے روتے ہوئے بولی۔۔ وہ بابا بھی بابا جی مدد بابا جی مدد کہتا اسکے پیچھے بھاگا۔۔۔ سارہ راستے میں دو دفعہ گری جس کی وجہ سے بازو پھٹ گئے۔۔ اور سارے کپڑے کیچڑ سے بھر گئے۔۔ بال اور منہ پہ بھی جگہ جگہ کیچڑ لگ گیا تھا۔۔۔
“نانا ابوووووو”۔۔۔
سارہ روتے ہوئے نانا ابو کے پاس آئ تو منال اور نانا ابو پریشانی سے اسکی جانب بڑھے۔۔
اسکے پیچھے ہی وہ بابا بھی بھاگتا ہوا آیا ۔۔
“بابا جی مدددد”۔۔
وہ نانا ابو کو دانت دیکھاتا ہوا بولا تو نانا ابو نے اسے لاٹھی دیکھائ جس سے وہ واپس بھاگا۔۔
منال نے سارہ کو پانی پلایا تو سارہ کا تھوڑا سانس بحال ہوا۔۔۔
” ن ن ن نا نا آ اب ابو وہ روح”۔۔
سارہ نے روتے ہوئے کہا تو نانا ابو اور منال نے حیرانی سے اسے دیکھ کے پوچھا کونسی روح ۔۔ تو سارہ نے عیشی کی سنائ کہانی بتائ۔۔ نانا ابو نے افسوس سے آس پاس دیکھا مگر وہ افلاطون کہی نظر نا آئے۔۔
“دادا جی وہ گھر جا چکے ہونگے”۔۔
منال نے افسوس سے سارہ کی حالت دیکھتے ہوئے کہا تو نانا ابو نے بھی سر ہلایا اور سارہ کو لے کے واپس گھر کی جانب آئے ۔۔۔
💕💕💕💕💕
“ہاہاہاہاہاہا آئ بڑھی “۔۔
وہ تینوں چھت پہ بیٹھے ہنس رہے تھے جب ہمدان نے تینوں کو مشکوک نظروں سے دیکھا۔۔۔
“کیا کر کے آئے ہو؟”۔۔
ہمدان نے سوال کیا تو دوبارہ تینوں ہنسنے لگے۔۔
“کرنا کیا ہے دانی بھائ۔۔ وہ انگریزی بلی ۔۔ یو نو واٹ یہ اور وہ کرکے ہمیں تنگ کر رہی تھی ہم نے بدلہ لیا “۔۔
ضرار نے سارہ کی نقل کرتے ہوئے کہا تو ہمدان نے سر افسوس سے ہلایا پھر پوچھا۔۔ بتاو کیا کیا ہے تو عیشی نے بولنا شروع کیا۔۔
“وہ پارک میں بابا ہے نا نشئ سا جو ہر ایک کو دیکھ کے بولتا ہے بابا جی مدد۔۔ ہم نے اسکے پاس ضرار کو بھیجا اور اسے کہا اس لڑکی (سارہ )کے پاس کھانا ہے۔۔ پھر ضرار اسے درخت پہ بٹھا آیا اور میں نے سارہ کو روح کی کہانی سنا کے وہاں لے گئ “۔۔۔
عیشی نے اپنا سارا کارنامہ سنایا تو ہمدان بچارہ سر پکڑ کے بیٹھ گیا ۔۔۔
“کہاں ہیں یہ تینوں”۔۔
رشی کی غصے سے بھری آواز سن کے ہمدان فورأ نیچے بھاگا۔۔ تو ضرار کے چھت کے دروازے کو کنڈھی لگا لی۔۔
رشی خوب ساری سنا کے دروازہ بجا بجا کے جب تھک گئ تو واپس چلی گئ۔۔۔
وہ تینوں ڈھیٹ بنے بیٹھے رہے۔۔۔
💕💕💕💕💕💕
“آہہ میرے پیٹ سے مینڈک کے بچوں کی آواز آ رہی ہے”۔۔
ان تینوں کو چھت پہ بیٹھے مغرب کا وقت ہو گیا تھا۔۔ جب بھوک سے پیٹ سے آوازیں آنے لگی تو مشی نے خوف سے کہا۔۔
“میرے پاس ایک آئیڈیا ہے”۔۔
ضرار ہمسائیوں کے گھر آم کا درخت دیکھتے ہوئے بولا تو عیشی مشی نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا ۔۔ آم کا درخت دیوار کے ساتھ تھا جس سے کچھ شاخیں ان کے گھر میں آ رہی تھی۔۔ جس کے ساتھ پکے ہوئے آم تھے۔۔۔
ضرار نے پلان بتایا۔۔
پھر جیب سے لیزر لائٹ نکالی جو اسنے اپنی نقلی پسٹل توڑ کے نکالی تھی۔۔
اور وہ لائٹ دیوار پہ بیٹھی بلی کے پاوں پہ جلا لے کے لگائ۔۔ بلی سرخ نشان دیکھ کے اس پہ چھپٹی تو ضرار لائٹ کا نشان دیوار پہ پھیرتے ہوئے درخت کی شاخ پہ لے گیا۔۔ بلی بھی نشان کے پیچھے چلتی ہوئ شاخ پہ گی تو ضرار نے نشان وہاں پہنچایا جہاں بہت سے آم تھے۔۔۔ بلی نے اس شاخ پہ جمپ کیا تو پانچ چھ آم دھرم کی آواز سے انکے لان میں گرے۔۔۔تینوں نے یس کیا اور لان کی طرف اترتی لکڑی کی سڑھیوں سے لان میں آئے۔۔
“وہ والا بھی اٹھاو “۔۔
عیشی نے دوآم اپنی جھولی میں ڈالتے ہوئے مشی سے کہا۔۔ آم اٹھا کے پیچھے مڑے تو تینوں کے ہاتھ میں پکڑے آم زمین پہ گرے ۔۔ کیونکہ پیچھے عارب کھڑا تھا خطرناک تیور لیئے تینوں کو گھور رہا تھا۔۔۔
“پاپا وہ’۔۔
اس سے پہلے کہ ضرار کچھ بولتا عارب نے چپ رہنے کا اشارہ کیا ۔۔
“مرغا بنو تینوں جلدی”
عارب نے غصے سے کہا تو تینوں نے ایک دوسرے کو دیکھا۔۔۔
“ہم تو لڑکیاں ہیں چاچو ہم کیسے مغرے بن سکتی ہیں”۔۔
مشی نے معصومیت سے کہا تو عارب نے اسے گھورا۔۔
“چاچو چوٹ لگی تھی نا سر پہ وہ ابھی کچی ہے”۔۔
مشی دوبارہ بولی تو عارب نے ماتھا مسلا۔۔
اسکو ایسے دیکھ کے عیشی وہاں سے کھسک گئ۔۔
اس سے پہلے دوسرے دونوں بھی بھاگتے۔۔ عارب نے روک لیا اور دونوں کو مرغا بنایا۔۔
ابھی ایک منٹ گزرا تھا مشی چینخ چینخ کے رونے لگی تو عارب نے اسے بھیج دیا۔۔
ضرار نے غصے سے دونوں آفتوں کو کوسا ۔۔
“کھڑے ہوجاو”۔۔
تقریبأ دس منٹ ضرار کو مرغا بنا رہنے کے بعد عارب نے کہا تو ۔۔ ضرار ان سنی کرکے مرغا بنا رہا۔۔ ضد اور غصے کی وجہ سے چہرا سرخ ہوگیا تھا۔۔۔
“چاچو آپ جائیں میں دیکھتا ہوں”۔۔
اس سے پہلے عارب کچھ بولتا۔ ہمدان نے وہاں آتے ہی مسکرا کے کہا۔۔ عارب سر ہلاتا ایک نظر ضرار کو دیکھتا چلا گیا تو۔۔ ہمدان نے مشکل سے ضرار کو کھڑا کیا پھر اسکا موڈ ٹھیک کرنے کے لیئے باہر گھو مانے لے گیا۔۔۔
💕💕💕💕💕💕💕💕
جاری ہے ۔۔۔۔
