Ek Hai Aafat Season 2 By Binte Hawa Readelle50339 (Ek Hai Aafat) Episode 10
Rate this Novel
(Ek Hai Aafat) Episode 10
دس سال بعد***۔
(سب سے پہلے بچوں کی عمر بتا دوں تاکہ آپ لوگ اس میں کنفیوزڈ نا ہو۔۔۔ عیشی مشی ۔۔16سال۔۔۔۔ ضرار ۔ سارہ۔۔۔19 سال۔۔۔ خنان ۔۔امان ۔۔منال۔ذنبیل۔(حرم کا بیٹا)۔21 سال۔۔ہمدان 24 سال )
“آہہہہہ”۔۔
ہمدان جیسے ہی کچن میں داخل ہوا کچن کے دروازے پہ ہاتھ رکھتے آٹے سے بھرا برتن اسکے سر پہ گرا اور وہ پورا کا پورا سفید بھوت لگنے لگا۔۔۔
“آوپسسس ہی ہی ہی ہی دانی بھائ یہ ضرار کے لیئے تھا”۔۔
ہمدان نے آنکھوں سے آٹا صاف کرکے سامنے دیکھا تو دورازے کے پیچھے شیلف پہ عیشی کھڑی تھی جس نےاپنی انگلی دانتوں میں دبائ ہوئ تھی ۔۔مگر ہمدان کے دیکھتے ہی ہنس کے بولی تو ہمدان نے سر نفی میں ہلایا۔۔۔
“بڑی ہوجاو عیشی کل تم لوگوں کا کالج میں پہلا دن ہے یہی حرکتیں رہی تو پہلا دن ہی آخری دن ثابت ہوگا”۔۔۔
ہمدان نے کپڑے بگاڑتے ہوئے کہا تو عیشی نے منہ کھول کے اسے دیکھا پھر ناک چڑاتی نیچے اتری اور دونوں ہاتھ کمر پہ رکھے لڑاکا عورتوں کی طرف ہمدان کے سامنے آ کھڑی ہوئ۔۔
“کیوں کیوں ہوگا آخری دن کس میں اتنی ہمت کے عیشال شاہ کو کالج سے نکالے۔۔”
عیشی ویسے ہی ہاتھ کمر پہ رکھے ناک چڑائے کہا تو ہمدان کو آج بھی وہ بالکل چھوٹی سی بچی لگی۔۔
“بھئ ایسی حرکتیں کرو گی تو کون شریف انسان تمھیں اپنے کالج میں رکھے گا بھلا”۔۔
سکون سے کرسی پہ بیٹھتے ہمدان نے اسے مزید چڑایا۔۔
“تو آپ میرا ایڈمیشن کسی ڈان کے کالج میں کروا دے نا دانی بھائ”😕۔۔
عیشی بھی منہ بناتی ہمدان کے سامنے بیٹھی بولی تو ہمدان نے افسوس سے سر نفی میں ہلایا۔۔
“تمھارا کچھ نہیں ہو سکتا عیشی “۔۔
بوتل سے پانی گلاس میں ڈالتے ہمدان نے افسوس سے کہا۔۔
“ایسے کیسے کچھ نہیں ہو سکتا میرا کالج میں ایڈمیشن ہوگیا ہے بچوں”۔۔
عیشی ہمدان کو زبان دیکھاتی بولی تو ہمدان نے اپنی ہنسی روکی۔۔ اس لڑکی سے بحث کرنا بیکار ہی تھا۔۔۔
“اچھا جلدی جلدی پانی پی کے جائیں مجھے اس ضرار کے بچے سے بدلہ لینا ہے اس نے میرے پہ پانی پھینکا تھا”۔۔
اسکو وہی بیٹھا دیکھ کے عیشی نے جلدی مچاتے ہوئے کہا۔۔۔
“عیشی بہت بری بات ہے آٹا ایسے ضائع کرنا “۔۔
ہمدان نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا تو عیشی نے قہقہہ لگایا۔۔۔
“آلے آلے میلا معشوم بچہ یہ آٹا نہیں چونا تھا”۔۔۔
عیشی نے زبان دیکھاتے کہا تو ہمدان نے آنکھیں پھاڑ کے اس خطرناک لڑکی کو دیکھا اور شاور لینے کے لیئے کمرے میں بھاگا کیونکہ اسے اپنی گردن پہ چبن محسوس ہو رہی تھی۔۔۔
“ہاہاہاہاہااہ “۔۔
ہمدان کو ایسے بھاگتا دیکھ کے عیشی نے پھر قہقہہ لگایا ۔اور کچن کا باہر کی جانب کھلنے والا دروازہ کھول کے گیلری سے برتن میں دوبارا چونا بھرنے لگی۔۔۔
💞💞💞💞💞
“مجھے تم لوگوں سے بات کرنی تھی کچھ”۔۔
ریا نے ہماہ زری اور رشی کو اپنے پاس بیٹھا کے کہا تو تینوں اسکی طرف متوجہ ہوئ۔۔
“جی مامی بولیں”۔۔
زری نے کہا تو ریا نے ہاتھ میں پکڑی تسبیح کے دانے آگے کرتے ہاتھ کو روکا۔۔
“کل حرم جب آئ تھی تو اس نے مجھ سے ایک بات کی۔۔ ما شاہ اللہ اب بچے بڑھے ہوگئے ہیں اور دس سال سے ہم حرم اور اسکی فیملی کو جانتے ہیں۔۔ حرم نے کہا وہ منو کا رشتہ اپنے بیٹے ذنبیل سے کرنا چاہتی ہے۔۔ ابھی بچے پڑھ رہے ہیں تو منگنی کر دیتے ہیں شادی دو سال بعد کردیں گے۔۔ کیونکہ اب منو جوان ہے ما شاہ اللہ اور رشتے بھی آ رہے ہیں ۔۔ ذنبیل دیکھا بھالا بچہ ہے۔۔ اور ڈھکے چھپے الفاظ میں اس نے سارہ کا رشتہ بھی ہمدان سے کرنے کا کہا ہے ۔۔ تو میں سوچ رہی ہوں ہم باقاعدہ سارہ کا رشتہ لے جاتے ہیں اور حرم تو منال کا مانگ ہی چکی ہے۔۔ منگنی کر دیتے ہیں شادی دو سال بعد کردیں گے۔۔ تم سب کا کیا خیال ہے۔۔ میں نے احرار صاحب سے بھی بات کی ہے وہ بھی راضی ہیں۔۔ تم لوگ بھی عازب اور عارب سے بات کرلو۔۔۔”
ریا کی بات سن کے وہ تینوں سوچ میں پڑھ گئ جبکہ دروازے کے باہر کھڑی عیشی نے اچھل کے دل میں یس کہا اور ناچتی کودتی یہ خبر اپنے پارٹنر کو سنانے چلی گئ۔۔۔۔
“آپکی بات ٹھیک ہے مامی مگر اسکے ساتھ ہی میں ایک اور رشتہ بھی مانگنا چاہتی ہوں۔۔ آپ نے تو نوٹ کیا ہوگا عیشی اور ضرار کی آپس میں بہت بنتی ہے لڑتے بھی رہتے ہیں۔۔ مجھے لگتا ہے ہمیں انکی بھی منگنی کر دینی چاہیئے “۔۔۔۔
ہماہ نے بات کی تو رشی نے حیرت سے اسے دیکھا۔۔ کمرے میں چائے لاتی مشی وہی رک گئ۔۔
“لیکن عیشی تو ابھی بہت چھوٹی ہے”۔۔
رشی نے جھجکتے ہوئے کہا۔۔
“تو ہم کونسا ابھی رخصتی کریں گے عیشی اور ضرار کی شادی انکی پڑھائ کے بعد کردیں گے”۔۔
ریا نے آسان سا حل بتایا تو رشی کچھ سوچنے لگی۔۔
“اچھا پہلے تم لوگ عازب ۔۔شاہ اور عابی سے بات کرلو اسکے بعد ہی فیصلہ ہوگا”۔۔۔
ریا نے کہا تبی مشی نے انکے آگے چائے رکھی اور چپ چاپ باہر چلی گئ۔۔۔
“جی ٹھیک کہہ رہی ہیں آپ اسکے بعد بچوں سے بھی پوچھ لے گیں آخر کو زندگی انہوں نے گزارنی ہے”۔۔
زری نے چائے کا کپ ریا کو پکڑاتے ہوئے کہا تو سب نے ہامی بھری۔۔۔۔
مگر افسوس خبر نیوز چینلز کو مل چکی تھی جو بہت سے طوفان لانے والی تھی😜۔۔۔
💞💞💞💞💞💞💞
“بھیا کی جائے گی بارات میں تو ناچوں گی۔۔ لالالا لااااا لالاااااا”۔۔۔
عیشی کمرے میں داخل ہوتے دوپٹہ ایک ہاتھ سے لہراتے گول گول گھوم کے خود سے ہی سرے لگانے لگی تو کتاب پڑھتی منال نے حیران ہوکے اس نمونی کو دیکھا۔۔۔اسکے پیچھے ہی مشی کمرے میں داخل ہوئ اور صوفے پہ چپ کرکے بیٹھ گئ ۔۔۔
“ارے ارے کیا ہوگیا؟”۔۔
منال نے کتاب رکھتے عیشی سے پوچھا تو اس نے رک کے ایک نظر منال کو دیکھا ۔۔ پھر مشی کا گلابی دوپٹہ اٹھا کے منال کے پاس آی اور اسے اڑا دیا۔۔
“میری بہنا او پیاری بہنا تم بنی ہو دلہن لالا لالا لاااااااا لالالاااااا” ۔۔
عیشی نے دوپٹہ اڑاتے دوبارہ سرے لگائ تو منال حیران ہوکے کبھی خود پہ کیے دوپٹے کو دیکھتی کبھی عیشی کو جو دوبارا اپنا دوپٹہ ایک ہاتھ میں پکڑے گول گول گھوم رہی تھی۔۔۔
اندھر آتے ہمدان نے بھی آنکھیں پھاڑ کے اسے دیکھا ۔۔جسے اب کوئ نیا دورہ پڑھا تھا ۔۔۔
“ارے عیشی بتاو تو ہوا کیا ہے”۔۔۔
منال دوپٹہ سر سے اتار کے مشی کے پاس رکھتی اپنا دوپٹہ سیٹ کرکے بولی۔۔۔
“ارے میری پیاری لاڈو رانی۔۔ آخر کار ہمارے بڑوں کو خیال آگیا کہ انکے بچے بڑھے ہوگئے ہیں۔۔ اور انہوں نے آپ لوگوں کا سوچ لیا۔۔ حرم آنٹی نے آپکا رشتہ مانگا ہے ذنبیل بھائ کے لیئے اور ساتھ ساتھ دانی بھائ کے لیئے بھی رشتہ دے دیا اپنی نک چڑھی بیٹی کا عیشی تفصیل بتاتے دوبارا ناچنے لگی تو منال اور ہمدان اپنی جگہ ساکت رہ گئے۔۔۔ منال تو خاموشی سے اٹھی اور اپنے آنسو پیچھے دھکیلتی کمرے سے نکل گئ۔۔ جبکہ ہمدان ابھی تک بت بنا دروازے پہ کھڑا تھا۔۔ جبکہ عیشی میڈم انکی آمد سے بے خبر ناچنے میں مصروف تھی۔۔۔
“میں ایک لہنگا لوں گی مہندی کے لئے ایک لانگ فراک ایک”۔۔۔
عیشی خوشی سے انگلیوں پہ گن گن کے بتا رہی تھی۔۔ ہمدان نے افسوس سے سر نفی میں ہلایا اور واپس چلا گیا۔۔۔ تو مطلب عیشی اسے بالکل بھی سمجھ نہیں سکی تھی۔۔۔ ہمدان نے افسوس سے سوچا اور کمرے میں جاتے ہی دروازہ بند کر دیا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“میک اپ تو کاشی سیلون کا ہوگا اور جیولری میں”۔۔۔۔
عیشی اپنی دھند میں بولتی مشی کی طرف مڑی جو چپ چاپ صوفے پہ بیٹھی تھی ۔۔۔
“تمھیں کیا ہوا؟”۔۔
ساری ایکسائٹمنٹ بھول کے عیشی مشی کے پاس آکے بیٹھی جو اپنی گول گول شیشوں والی عینک ہٹا کے آنکھیں صاف کر رہی تھی۔۔۔
“تم نہیں جانتی کیا؟ “۔۔
مشی نے ناک رگڑتے ہوئے کہا تو عیشی نے سر نفی میں ہلایا ۔۔۔
“ہماہ آنی نے تمھارا رشتہ مانگا ہے ضرار کے لیئے۔۔ شاید انہیں ضرار نے کہا ہے کہ وہ تمھیں پسند کرتا ہے”۔۔
مشی نے معصومیت سے آنکھیں رگڑتے ہوئے کہا تو عیشی منہ کھولے اسے دیکھنے لگی۔۔۔
“ایسے کیسے ہو سکتا ہے اسنے تو تمھیں پھول دیئے تھے نا”۔۔۔
عیشی نے غصہ کنٹرول کرتے کہا تو مشی رونے لگی۔۔
“تم تم رو مت اس ضرار کے بچے کی میں خبر لیتی ہوں”۔۔
عیشی نے اپنے دوپٹے سے مشی کے آنسو صاف کیئے اور پاوں پٹختے ہوئے باہر نکلی۔۔۔
💞💞💞💞💞💞
“شزا حرم آنٹی نے میرا رشتہ مانگا ہے “۔۔
منال نے روتے ہوئے کال پہ اپنی اکلوتی دوست کو بتایا۔۔۔ منال کی ایک ہی دوست تھی اور وہ چھوٹی سے چھوٹی بات بھی شزا سے شئیر کرتی تھی۔۔۔
خنان جو منال کو اسکی کتاب واپس کرنے آرہا تھا اسکی بات سن کے وہی رک گیا۔۔۔ اسے جھٹکا لگا۔۔ خنان جیسے آیا تھا ویسے ہی واپس مڑ گیا۔۔۔
شزا منال سے کیا کہہ رہی تھی اسے کچھ معلوم نا ہوا۔۔۔ منال اور خنان ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے۔۔ مگر آج تک دونوں میں ہمت کا ہوئ ایک دوسرے کو بتانے کی یہی وجہ تھی آج اپنی اپنی جگہ دونوں کے دل جل رہے تھے۔۔۔ منال کی محبت سے شزا واقف تھی صرف جبکہ خنان کی محبت سے امان ۔۔جو اسے اکثر کہتا تھا اظہار کرنے کو مگر خنان میں اتنی ہمت نا تھی۔۔۔
خنان لان میں آیا مگر جب برداشت
نا ہوا تو گھر سے ہی نکل گیا۔۔۔
💞💞💞💞💞
“ہاں ہاں یار آج شام چلتے ہیں”۔۔
ضرار گھر کی پچھلی سائیڈ سویمینگ پول کے پاس ٹہلتا فون پہ کسی سے بات کر رہا تھا جب اسکو ڈھونڈتی عیشی کی نظر اس پہ پڑھی تو منہ پہ ہاتھ پھیرتی وہ تن فن کرتی اسکے پاس آئ۔۔
ضرار کی اسکی طرف کمر تھی اور وہ ہنس ہنس کے بات کر رہا تھا۔۔۔
“اچھا تو مجھ سے شادی کے خواب دیکھو گے اور تمھیں لگتا ہے میں پورے ہونے دوں گی۔۔””
عیشی نے دانت پیستے سوچا اور پھر آس پاس دیکھا مگر کچھ نظر نا آیا۔۔۔ تو عیشی نے آگے بڑھ کے ضرار کے ہاتھ سے موبائل چھین کے پاس پڑھی کرسی پہ پھینکا اور اسے پول میں دھکا دے دیا۔۔۔
“آہہہہہ”۔۔۔
ضراراس اچانک حملے کے لیئے تیار نا تھا اس لیئے چینختا ہوا دھرام سے پول میں گرا تو پانی کے چھینٹے عیشی پہ بھی آئے۔۔۔
“کیا ہوا جنگلی جلتے توئے پہ ہاتھ لگ گیا کیا “۔۔
کچھ دیر بعد ضرار تیر کے اوپر آیا اور آنکھیں مل کے کھولی تو سامنے عیشی دکھی جو دونوں ہاتھ کمر پہ رکھے اسے گھور رہی تھی جبکہ چہرا غصے سے لال ہو رہا تھا۔۔۔ تو اس نے جل کے کہا۔۔۔
“جلتے توئے پہ تو میں تمھیں بٹھاوں گی بلکہ ننگے پاوں نچاوں گی ۔۔سمجھتے کیا ہو خود کو ہاں چقندر کی شکل والے۔۔ شیشہ غور سے دیکھا ہے کیا۔۔۔ خراب آلو کے چھلکے”۔۔
تپے لہجے میں عیشی نا جانے کیا کیا بول رہی تھی جبکہ ضرار منہ کھولے اسکی زبان کے جوہر سن رہا تھا۔۔۔
“ہوا کیا ہے کچھ بتاو گی بھی ایف سولہ تھنڈر یا بس ایسے ہی برسنے کا ارادہ ہے”۔۔
ضرار نے باہر آتے ہوئے کہا۔۔ تو عیشی نے پاس جاتے اسکے ہاتھ ہٹائے اور دوبارا پانی میں پھینکا۔۔۔
“کیا سوچ کے تم نے ہماہ آنی سے میرے رشتے کی بات کی ہاں پھول تم مشی کو دیتے ہو شادی مجھ سے واہ اور تم نے سوچا میں چپ چاپ رہوں گی”۔۔
عیشی نے ویسے ہی غصے میں کہا تو ضرار کو جھٹکا لگا۔۔۔
“او خواب کی دنیا کی بھیانک چڑیل جاگ جاو ضرار شاہ کے سر پہ بندوق رکھ کے بھی کہا جائے کہ اس دیو کی قید سے چھوٹی بلا سے شادی کرلو تو خود کفن پہن کے قبر میں لیٹ جاوں گا مگر تم سے شادی نہیں کروں گا”۔۔
ضرار نے بھی حساب برابر کیا تو اپنے لیئے ایسے خطاب سن کے عیشی جل بھن گئ۔۔
“ہاں میں تو جیسے مری جا رہی ہوں نا اس بوتل کے جن سے شادی کرنے کے لیئے’۔۔
اسکے جواب پہ عیشی تھوڑا رلیکس بھی ہوئ مگر اپنی بے عزتی کا بدلہ لینا اپنا فرض سمجھا۔۔۔ تب تک ضرار باہر نکل آیا۔۔
“خود کو دیکھا ہے بندریوں کی سردار”۔۔
ضرار نے کہتے ہی عیشی کو پکڑ کے پول میں پھینکنے کی کوشش کی تو عیشی اسکے ہاتھ سے نکلتی لڑتی جگڑتی اندھر کی طرف بھاگی۔۔ ضرار بھی اسکے پیچھے بھاگا۔۔
کچن میں جاتی رشی نے دونوں کو لڑتے ہوئے دیکھا تو ہماہ کی بات سچ لگنے لگی۔۔۔
💞💞💞💞💞💞
جاری ہے۔۔۔
