393.4K
34

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Eik Hai Aafat) Episode 21

“عیشی میں جو سوچ رہی ہوں کیا تم بھی وہی سوچ رہی ہو؟”۔
عیشی مشی کمرے میں بیٹھی تھی۔۔ مشی پینٹگ کر رہی تھی جبکہ عیشی بیڈ پہ بیٹھی ۔کتاب گود میں رکھے سامنے کھڑکی سے باہر کے نظارے کر رہی تھی۔۔۔ مشی کی بات پہ عیشی نے چونک کے اسے دیکھا۔۔
“مجھے کیا پتا تمھارے خرافاتی دماغ میں کیا چل رہا ہے”۔
مشی کی بات پہ عیشی نے برا سا منہ بنا کے کتاب بند کی اور سائیڈ ٹیبل پہ رکھی۔۔ جبکہ اسکی بات پہ مشی کا منہ کھل گیا۔۔
“اے خرافاتوں کی نانی یہ کام تم کرتی ہو”۔۔
ہوش میں آتے ہی مشی ناک چڑھا کے بولی۔۔ جبکہ ہاتھ جھٹکتے ہی۔۔ پینٹ برش کے ساتھ لگا سرخ رنگ تھوڑا سا اسکی ناک پہ جا لگا۔۔ عیشی مسکرانے لگی تو مشی نے اسے گھورا ۔۔ اور ناراضگی سے منہ موڑ گئ۔۔۔
“آلے آلے میلا پالا بچہ نلاج ہوگیا”
مشی کے منہ موڑتے ہی عیشی بیڈ سے اٹھ کے اسکے پاس آئ اور اسکے گلے میں بانہے ڈال کے ہاتھ میں پکڑا چاکلیٹ کا پیس اسکے منہ میں ڈالا اور گال چومتے پیار سے بولی تو مشی نے منہ ہلاتے گھور کے اسے دیکھا۔۔
“عیشی تم پکی تھڑکن ہو کیسے چونے لگاتی ہو مڑاشن”۔۔
چاکلیٹ کھاتے مشی بھرے منہ سے بولی۔۔
“ہاہاہاہاہہہہاہاہ ہاہاہاہا ہاہاہاہااہ “۔۔
اسکی بات سن کے عیشی نے زور دار قہقہہ لگایا۔۔۔
“لگتا ہے یہاں جناب ر کو ڑ والا دورہ پڑھا ہے”۔
تبھی کمرے میں آتے ضرار نے مشی کی بات سنی۔۔ بات تو سمجھ نا آئ البتہ ر ڑ سمجھ آگیا ۔۔
“ٹم نا اپنا منہ بنڈ ڑکھو۔۔ مڑاشی “۔۔
مشی ضرار کی بات پہ تپ کے بولی۔۔
“ہاہاہاہااہ ہاہاہاہا ہاہاہاہا “۔۔
عیشی اور ضرار ہنس ہنس کے لوٹ پوٹ ہوگئے۔۔
“مڑو تم دونوں “
مشی پینٹ برش دونوں کو مارتی غصے سے بولی ۔۔۔
“ہائےےے مشی میں مری تو تم بھی مرو گی۔۔ کیونکہ ہم دونوں جڑواں ہیں”۔۔
عیشی دل پہ ہاتھ رکھ کے دکھی ہونے کی ایکٹنگ کرکے بولی تو مشی کی آنکھیں باہر نکلی۔۔
“نہیں نہیں صڑف یہ ہی مڑے تم نہیں “۔۔
مشی ڈر کے بولی تو عیشی نے دوبارہ قہقہہ لگایا۔۔جبکہ ضرار صدمے سے مشی کو دیکھنے لگا۔۔۔
💘💘💘💘💘💘💘💘
“ہم لوگ آجائیں “۔۔
رات کھانے کے بعد سب اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے۔۔تو عیشی مشی دماغ میں پلتے طوفان کو باہر نکال کے سبکو ہلانے کے لیئے شازیب اور رشی کے کمرے میں آئ۔۔ جہاں رشی شازیب کی شرٹس ہینگ کر رہی تھی۔۔ جبکہ شازیب بیڈ پہ بیٹھا کوئ کام کر رہا تھا لیپ ٹاپ پہ۔۔ عیشی نے تھوڑا سا دروازہ کھول کے اندھر آنے کی اجازت مانگی تو رشی اور شازیب نے حیران ہوکے انہیں دیکھا اور اندھر آنے کی اجازت دی۔۔۔
“وہ پاپا اور چھوٹی بہن ہم نے آپ لوگوں سے ایک ضروری بات کرنی تھی”۔۔
مشی دونوں کو دیکھتے بولی تو شازیب نے لیپ ٹاپ بند کرکے دونوں کو پاس بٹھایا اور پیار سے پوچھا کیا بات۔۔
“پاپا ہم مان بھائ کا رشتہ لائیں ہیں”۔۔
عیشی نے پرجوش ہونے بتایا تو شازیب نے چونک کے اسے دیکھا اور پھر پاس کھڑی رشی کو۔۔
“لو جی اسی کی کمی رہ گئ تھی۔۔ اسی لیئے میں انہیں پڑھا لکھا رہی تھی کہ کل کو لوگوں کے رشتے کراتی پھرے ۔۔ غور سے دیکھو انکو۔۔ پوری طرح اگی نہیں زمین سے اور چلی بڑھے بھائ کا رشتہ کرانے”۔۔
رشی نے ہاتھ میں پکڑی شرٹ صوفے پہ پھینکی اور دونوں کی خوب کلاس لی۔۔
“تو یہ کونسی کتاب میں لکھا ہے چھوٹی بہنیں اپنے بھائ کی خوشیوں کا نہیں سوچ سکتی۔۔ جب یہاں کسی اور کو ہمارے بھائ کی پرواہ نہیں ہے تو ہمیں ہی کچھ سوچنا پڑھے گا نا۔۔ پاپا تو پورا دن کام پہ ہوتے ہیں۔۔اور آپ پورا دن کچن میں ۔۔اور جب کبھی اتفاق سے دونوں ساتھ مل بھی جاو تو آپ دونوں کی لڑایاں ہی ختم نہیں ہوتی۔۔ آپ لوگوں کو کیا علم کہ مان بھائ کس تکلیف سے گزر رہیں ہیں۔۔ یہاں کوئ انکو سمجھنے والا ہے ہی نہیں۔۔ ایسے ہی رہا تو وہ اپنا غم دل کو لگا کے ساری عمر کنوارے بیٹھے رہ جائیں گے “۔۔
عیشی فل دکھی ہیروئین کی ایکٹنگ کرتے ہوئے بولی تو مشی نے ہونٹوں پہ دو انگلیاں رکھ کے ہنسی روکی۔۔ جبکہ شازیب اور رشی حیرانی سے اسے دیکھ رہے تھے کہ امان کا ایسا کونسا غم ہے جو سارے گھر والوں کو چھوڑ کے صرف عیشی مشی کو دکھا۔۔۔
“کونسا غم”۔۔
رشی نے حیرانی سے پوچھا تو عیشی نے دل ہی دل میں خود کو داد دی اور خوش ہوئ کچھ حد تک اسکا پلان کامیاب ہوگیا تھا۔۔ بس اب اسے اوور ایکٹنگ سے ہٹ کے دونوں کو فل شیشے میں اتارنا تھا۔۔
“وہ اصل میں بھائ اور نازلی ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں( اس نے دکھی انداز میں گود میں رکھے ہاتھوں کو دیکھتے بات شروع کی۔۔اسکی بات پہ رشی اور شاہ نے حیرانی سے ایک
دوسرے کو دیکھا۔۔ رشی نے کوئ بات کرنے کے لیئے منہ کھولا۔۔ جبکہ عیشی نے خطرہ محسوس کرتے فورأ بات شروع کردی )۔۔ اور بھائ نازلی سے شادی کرنا چاہتے ہیں۔۔ مگر ہائے یہ زمانے کی مجبوریاں ہمیشہ عاشقوں کو ہی آزماتی ہے۔۔ بھائ وہاں رشتہ نہیں لے کے جا سکتے کہ ابھی میرا کوئ کام نہیں۔۔ اور ہم لوگ نازلی لوگوں جتنے امیر بھی نہیں۔۔اوپر سے آپ دونوں کی لڑایاں بھی بھائ کو مجبور کرتی ہیں کہ وہ اپنی محبت سے پیچھے ہٹ جائیں۔۔ کیونکہ نازلی کے پیرنٹس بہت اچھے سے رہتے ہیں۔۔ اور بھائ نہیں چاہتے یہاں آکے نازلی پہ برا امپریشن پڑھے۔۔”
عیشی فل ایکٹنگ کرتے ہوئے بولی۔۔تو مشی نے آنکھیں بند کی۔۔عیشی کی اوور ایکٹنگ ان دونوں کو پھنسا سکتی تھی۔۔
“اگر وہ شادی نہیں کرنا چاہتا تو محبت کیوں کی؟”۔۔
رشی نے الجھ کے سوال پوچھا تو عیشی مشی کا سانس اٹکا۔۔
“افووو چھوٹی بہن آپ بھی نا بچوں جیسی باتیں کرتی ہیں۔۔ اب محبت پوچھ کے تھوڑی نا ہوتی ہے”۔۔
عیشی ماتھے پہ ہاتھ مارتے بولی تو مشی نے دل ہی دل میں اسکی حاضر دماغی کو داد دی۔۔
“تو اب تم لوگ کیا چاہتی ہو”
شاہ نے سوال کیا تو عیشی نے گلہ کھنکارہ اب ہی موقع تھا اپنے پلان کو حتمی شکل دینے کا۔۔۔
“پاپا ہم چاہتے ہیں آپ لوگ بریرہ آنٹی کے پاس نازلی کا رشتہ مانگنے جائیں۔۔ دیکھے نا جاب تو حنان بھائ کی بھی نہیں ہے مگر رشتہ ہوگیا نا۔۔ اور ویسے بھی کچھ دنوں بعد حانی بھائ اور مان بھائ کا فائنل پرکٹیکل ٹیسٹ ہے۔۔ انہوں کے بہت محنت کی ۔۔ اور انکی پچھلی پرفارمنس سے سب بہت متاثر ہیں۔۔ اسی فیصد امید ہے کہ چیئرمین پی سی بی ۔۔ حانی بھائ اور مان بھائ کو پاکستان انٹرنیشنل کرکٹ ٹیم کا حصہ بنا دیں گے۔۔”
عیشی کمال مہارت سے دونوں کو شیشے میں اتارنے میں کامیاب ہوئ۔۔ رشی اور شاہ کے چہروں سے لگ رہا تھا کہ وہ بھی اس کے لیئے راضی ہیں۔۔
“اور جب تک مان بھائ کی شادی نہیں ہو جاتی آپ دونوں کو اپنی لڑایوں پہ کنٹرول کرنا پڑھے گا”
مشی نے بھی گفتگو میں حصہ ڈالا تو دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھتے ہوئے سر ہاں میں ہلایا۔۔
“اور جب تک دونوں کا رشتہ پکا نہیں ہو جاتا یہ بات آپ نے مان بھائ کو نہیں بتانی۔۔اور بریرہ آنٹی کو بھی منع کرنا ہے کہ نازلی سے کوئ بات نا کریں۔۔”
عیشی فورأ بولی تو رشی اور شاہ نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا ۔
“وہ ایکچوائلی ہم بھائ اور نازلی کو سرپرائز دینا چاہتی ہیں”۔
مشی نے فورأ بات سنبھالی تو دونوں نے سمجھ کے سر ہلایا۔۔
“ٹھیک ہے میں کل ہی زری اور ریا بہن کو لے کے جاتی ہوں بریرہ کے گھر”۔۔
رشی کچھ سوچ کے بولی تو دونوں نے خوشی سے یاہوووو کہا اور دونوں کو شب بخیر کہتے ہوئے کمرے سے چلی گئ۔۔۔
💘💘💘💘💘💘💘💘
“ہاہاہاہااہ ہاہاہا ہاہاہاہااہ ہاہاہا ہاہاہاہا “۔۔
کمرے میں آتے ہی عیشی بیڈ پہ گرھی اور ہنس ہنس کے لوٹ پوٹ ہونے لگی ۔۔
“بس کرو عیشی اگر مان بھائ اور نازلی کو معلوم ہوا نا ہمارا یہ کارنامہ تو ہمارا قیمہ بنا کے چیل کووں کو کھلا دیں گے۔”
اسکے پاس بیڈ پہ بیٹھتے مشی بولی۔۔تو عیشی نے اسکی طرف کروٹ بدلی۔۔اور کہنی کے بل بازو بیڈ پہ ٹکا کے اس پے سر رکھ کے اسے دیکھنے لگی۔۔
” کچھ نہیں ہوتا مشی ڈرپوک ۔۔ بس انجوائے کرو”۔۔
عیشی آنکھ دبا کے بولی تو مشی نے تاسف سے سر ہلایا۔۔
“ویسے تم نے یہ کیا کیوں؟”۔۔
مشی کو اسکے اس پلان کی ابھی تک سمجھ نہیں آئ تھی۔۔آخر اس نے کیوں پھنسایا ان دونوں کو۔۔
“ارے یار دیکھا نہیں تھا کتنے مزے کا لڑتے ہیں دونوں۔۔ ویسے بھی چھوٹی بہن اور پاپا کی لڑائ دیکھ دیکھ کے بور ہوگئ ہوں۔۔ کچھ نیو چاہتی ہوں😜۔۔”
عیشی مزے سے بولی تو مشی نے سر نفی میں ہلایا پھر عیشی کے ہنسنے پہ وہ بھی ہنسنے لگی۔۔۔
💘💘💘💘💘💘💘💘
“کل آپ سب ریڈی رہنا میرے ایک دوست کے طرف جانا ہے۔۔ سبکو ۔”
ناشتے کے ٹیبل پہ عازب نے سب کو کہا تو سب انکی طرف متوجہ ہوئے۔۔
“کیوں؟”
“وہ اسکی طرف دعوت ہے دن کے کھانے کی یاد رہے سب نے جانا ہے۔۔ آپ سب یاد سے نو بجے تک تیار رہنا” ۔
احرار صاحب کے سوال پہ عازب نے تفصیل بتائ۔۔ اور مزید سوالوں سے بچنے کے لیئے فورأ اٹھ کے کام کا کہتے چلا گیا۔۔ عیشی کی پرسوچ نظروں نے دور تک اسکا پیچھا کیا۔۔۔
“چلو عیشی مشی تم لوگ بھی تیار ہو جاو۔۔ تم لوگوں کے پاپا کو جانا ہے ابھی انہی کے ساتھ چلی جاو کالج”۔۔
رشی نے دونوں کو کہا تو دونوں نے سر ہلایا اور جلدی جلدی ناشتہ ختم کرکے ۔۔شاہ کے ساتھ کالج چلی گئ۔۔
💘💘💘💘💘💘💘💘
“تم دونوں کے لیئے ایک خوش خبری ہے۔۔ آج صبح حرم کا فون آیا تھا۔۔ انہیں یہ رشتہ منظور ہے۔۔ اور آج ہم منگنی کی ڈیٹ فکس کرنے جائیں گے۔۔ اگلے ہفتے کی”۔۔
نازلی اور خازق ناشتہ کر رہے تھے جب بریرہ جوس کا جگ ٹیبل پہ رکھتی بولی۔۔ اور دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا۔۔
“سچ مام۔۔ واووووو بہت مزہ آئے گا”۔۔
نازلی جوش سے بولی تو۔۔ خازق اور انکے پاپا دونوں مسکرانے لگے۔۔
“بھائ جلدی جلدی کریں مجھے کالج چھوڑ دیں۔۔ میں یہ خوش خبری جلدی جلدی۔۔ عیشی مشی سے شئیر کرنا چاہتی ہوں”۔۔
نازلی نے جلدی مچائ تو بریرہ سر نفی میں ہلاتے مسکرانے لگی۔۔ خازق نے ہاتھ صاف کرکے اسے چلنے کا کہا ۔۔
دونوں اللہ حافظ کہتے باہر نکل آئے ۔۔۔
💘💘💘💘💘💘💘💘
“سارہ بچے”۔۔
حرم سارہ کے کمرے میں آئ جو کل سے کمرے میں بند تھی۔۔
لاڈلی بیٹی کو ایسے خاموشی سے پڑھے دیکھ کے اسکا دل کٹ گیا۔۔
سارہ کب ایسے خاموش ہوتی تھی۔۔ ایک اسکی مرضی کا جوس نا آئے تو گھر سر پہ اٹھا لیتی تھی۔۔
مگر ابھی وہ خاموشی سے کروٹ لیئے بیڈ پہ لیٹی تھی۔۔ اور سامنے دیوار پہ لگی پینٹنگ کو دیکھ رہی تھی۔۔ جس میں ایک لڑکی ۔۔ سڑک پہ اکیلی کھڑی بازو پھیلائے۔۔ آسمان کی طرف دیکھ رہی تھی۔۔ اور سڑک کے دونوں سائیڈ بڑھے بڑھے درخت تھے۔۔
حرم نے اسکے پاس آکے اسکو پکارا تب بھی۔ سارہ ویسے ہی لیٹی رہی۔۔
آنکھیں بے حد سوجھی ہوئ تھی اور سرخ بھی حد سے زیادہ تھی۔۔
حرم کے دل کو کچھ ہوا۔۔ سارہ کے پاس بیٹھتے اسنے اسکے بالوں پہ ہاتھ رکھا۔۔
“یہ کیا حال بنا رکھا ہے میری جان”۔۔
حرم دکھ سے بولی تو سارہ طنزیہ مسکرائ۔۔
“یہ حال میں نے نہیں آپ لوگوں نے کیا ہے”۔۔
جب وہ بولی تو آواز بے حد بھاری تھی۔۔
“میری جان مت کرو ایسا۔۔ خازق بہت اچھا لڑکا ہے۔۔ تم سے پیار کرتا ہے۔۔ تمھیں بہت خوش رکھے گا۔۔ اور بیٹا ہمدان کا کیا پتا وہ بھی کسی اور کو پسند کرتا ہو۔۔ ایسے تمھارا اس سے رشتہ ہو بھی جائے وہ خوش نہیں رہ سکے گا تمھارے ساتھ۔۔ جب وہ خوش نہیں رہے گا تو تم کیسے خوش رہ سکتی ہو۔”
حرم نے پیار سے اسے سمجھانے کی کوشش کی ۔۔
“آپ سب لوگوں نے میرے ساتھ بہت برا کیا ہے”
سارہ جب بولی تو آواز میں نمی تھی۔۔
اسکے کمرے میں آتا ذنبیل دروازے کے پاس ہی حیرانی سے رک گیا۔۔حرم اور سارہ اسکی آمد سے بے خبر تھی۔۔
“ایسے مت کہو میری جان ۔۔ میں کبھی تمھارا برا نہیں چاہوں گی۔۔ خازق تمھارے لیئے بہترین ہے”
حرم بے بسی سے بولی۔۔تو سارہ اٹھ کے بیٹھ گئ ۔۔ اسکے بیٹھتے ہی ذنبیل نے اسکا چہرا دیکھا۔۔ جو صرف کچھ دنوں میں مرجھا گیا تھا۔۔۔
یہ اسکی گڑیا تو لگ ہی نہیں رہی تھی۔۔
“مام میں نے بچپن سے جو مانگا آپ نے بھائ نے پاپا نے فورأ دلایا ۔۔ کبھی کسی چیز سے انکار نہیں کیا۔۔ اور مجھے یہ احساس کرایا کہ میں کوئ بہت ہی اعلئ ہوں۔۔ جو جسے چاہے جب چاہے پا سکتی ہے۔۔ اگر تب آپ مجھے کسی بات پہ صبر کرنا سکھاتی تو شاید آج میرا دل ایسے نا تڑپ رہا ہوتا ۔۔ میرے ساتھ آپ لوگوں کو ایسے نہیں کرنا چاہیئے تھا۔۔ میں کبھی معاف نہیں کروں گی”۔۔
سارہ نے دکھ سے کہا۔۔ اور پھر روتی ہوئ واشروم میں بھاگ گئ۔۔ حرم نے نم آنکھوں سے واشروم کے بند دروازے کو دیکھا۔۔ اور بے بسی سے واپس مڑی مگر سامنے ذنبیل کو دیکھ کے اسکے پاوں وہی زمین پہ جم گئے۔۔ ذنبیل بھی ناراضگی سے کچھ پل ماں کو دیکھتا رہا۔۔
مگر پھر واپس مڑ گیا۔۔
حرم نے بے بسی سے آنکھیں بند کرلی۔۔
وہی ہوا تھا جسکا ڈر تھا۔۔۔
💘💘💘💘💘💘💘💘
جاری۔۔۔۔