393.4K
34

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Ek Hai Aafat) Episode 27

“ہاہاہاہا ہاہاہاہاہاہا ہاہاہاہاہاہا عیشی تم کارٹون ہاہاہاہاہاہا “۔۔
منگنی کے پورے دو دن بعد آج عیشی مشی کے کالج میں کلچر ڈے فنکشن تھا۔۔اور وعدے کے مطابق ہمدان نے اپنا یونیفارم عیشی کو دے دیا۔۔ مگر اب عیشی کو سمجھ آیا کہ یہ ہو کیا گیا۔۔ یونیفارم اسے حد سے زیادہ لمبا تھا۔۔ پہنتے ہی عیشی اس میں چھپ گئ۔۔ تین دفعہ گرتے گرتے شیشے تک پہنچی اور خود کو دیکھ کے شاکڈ رہ گئ۔۔ کیونکہ وہ بالکل جوکر لگ رہی تھی۔۔ تب ہی کسی کام سے انکے کمرے میں آتا ضرار اسکو دیکھ کے ہنسی سے لوٹ پوٹ ہونے لگا۔۔۔
“اگر تم چاہتے ہو کے تمھارے بچے اپنے باپ کو بالوں اور دانتوں سمیت دیکھے تو بتیسی اندھر کرلو۔۔ ورنہ یقین کرو تمھارے دانت خلق میں پھنسانے پہ مجھے رتی برابر بھی دکھ نہیں ہوگا”
عیشی جو پہلے ہی صدمے میں کھڑی تھی ضرار پہ پھٹ پڑھی۔۔ مگر سامنے بھی ضرار تھا بجائے چپ ہونے کے اور زور زور سے ہنسنے لگا۔۔۔
“رکو ضرار کے بچے تم چاہتے ہی نہیں ہو کے کوئ بھولا بھٹکا غلطی سے تمھیں اپنی بیٹی دے “۔۔
وہ خطرناک تیور سے ضرار کی جانب بڑھی مگر دو قدم اٹھانے پہ ہی دھرام سے گر گئ۔۔
“اہاہاہاہ ہاہاہا اس حالت میں تم ضرار دی گریٹ سے پنگا لو گی”۔۔
اسکو زمین پہ بیٹھے دیکھ کے ضرار ہاتھ پہ تالی مارتے ہنس کے بولا۔۔
“آہہہہہہہ “
جب عیشی کو کچھ سمجھ نا آیا تو وہ زور سے چینخی۔۔ تب ہی کمرے میں عارب آگیا جو باہر سے گزرتے اسکی چینخ سن کے آیا تھا ۔۔
“چاچو دیکھیں یہ اس ضرار نے مجھے دھکا دے کے گرا دیا😭”
عیشی کمال کی ایکٹنگ کرتے ہوئے بولی اور ساتھ ہی رونا شروع کر دیا تو ضرار منہ کھولے اسے دیکھ رہا تھا۔۔
“آہہہ پاپا یہ جھوٹ”
چپ بالکل چپ ایک لفظ نہیں چلو میرے ساتھ”
ضرار عیشی کو دیکھ رہا تھا جو دونوں ہاتھ منہ پہ رکھے رو رہی تھی اچانک عارب نے اسکا کان مڑوڑا تو وہ زور سے چینخا۔۔ عیشی نے آنکھ سے انگلی ہٹا کہ دیکھا۔۔ اور دل ہی دل میں خوب خوش ہوئ۔۔ ضرار نے کچھ کہنے کی کوشش کی مگر عارب نے سختی سے چپ کرا دیا اور ویسے ہی کان سے پکڑ کے باہر لے گیا۔۔
“چلو بھئ کیپٹن عیشال شاہ یور فرسٹ مشن از کملیٹ”
انکے جاتے ہی آنکھوں سے ہاتھ ہٹاکے اس نے تسلی کی۔۔ پھر کھڑے ہوتے ہاتھ جھاڑ کے مسکراتے ہوئے بولی۔۔۔ آخر شیشہ دیکھتے اسے ائیڈیا آ ہی گیا۔۔ فرسٹ ڈراور سے ربڑز نکالی جو مشی اکثر اپنی پینٹنگ فولڈ کرکے ان پہ لگاتی تھی۔۔ ساری ربڑز لے کے بیڈ پہ بیٹھتے اسنے پینٹ فولڈ کرنی شروع کی۔۔ جب اللہ اللہ کرکے وہ پاوں سے اوپر ہوئ تو عیشی کو دوبارہ جھٹکا لگا۔۔ کیونکہ ٹخنوں پہ پینٹ گٹھڑی نما بن گئ تھی😂۔۔ شوز کو دیکھ کے اسے کچھ حوصلہ ہوا۔۔اس نے شوز فولڈ پینٹ کے اوپر تک چڑھائے ۔۔اور بازو بھی ویسے ہی فولڈ کرنے لگی ۔۔ جو کے بہت کھلے بھی تھے۔۔ کہنیوں تک فولڈ کرکے اسنے فولڈ بازو میں ربڑ لگائ جس سے وہ بازووں کے ساتھ چپک گئے اور اب کچھ حد تک دیکھنے لائق ہوگئے تھے۔۔۔ لڑکھڑاتے ہوئے وہ کھڑی ہوئ اور کس کے بیلٹ باندھ کے یونیفارم سیٹ کیا۔۔ جس میں وہ بالکل چھوٹی سی بچی لگ رہی تھی۔۔ کرلی بالوں کو سٹریٹ کرکے اس نے پونی بنائ ۔۔اور شوز کے لیسس کھینچ کے باندھنے لگی ۔۔ مگر ہزار کوشش کے بعد بھی وہ سخت قسم کے شوز اس سے نا بند ہوئے۔۔ 😂
💞💞💞💞💞💞💞💞
“دانی بھائ”۔۔
ہمدان اپنے کمرے میں شیشے کے سامنے بال بنا رہا تھا جب عیشی پاوں فرش پر گھسیٹتی ہوئ اسکے کمرے میں آئ اور دروازے میں کھڑی ہوکے بھرائ آواز میں بولی۔۔
“کیا۔۔”
سامنے دیکھتے ہمدان مصروف انداز میں بولا مگر جیسے ہی عیشی کی طرف دیکھا ۔۔تو منہ کھولے اسے دیکھنے لگا۔۔ وہ بالکل تیرہ چودہ سال کی بچی لگ رہی تھی۔۔ قد چھوٹا ہونے کی وجہ سے عیشی مشی دونوں اپنی عمر سے چھوٹی لگتی تھی۔۔
“یہ بند نہیں ہو رہے”۔۔
عیشی اسکو ایسے ہی تکتا پا کے پاوں کی طرف اشارہ کرکے بولی۔۔
“آ ہاں ہاں میں کر دیتا ہوں بیٹھو ادھر “
اسکی بات پہ ہوش میں آتے ہی ہمدان سر ہلا کے کرسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا ۔۔تو عیشی ویسے ہی پاوں گھسیٹتی کرسی پہ جا بیٹھی ۔۔ اسکو ایسے چلتا دیکھ کے ہمدان نے ہنسی دبائ۔۔ اور گھٹنے کے بل اسکے سامنے بیٹھتے ہی لیسس باندھنے لگا۔۔۔
“واووو دانی بھائ آپ بچپن میں بھی ایسے ہی میرے شوز بند کرتے تھے نا”۔۔
ہمدان کو لیسس باندھتے دیکھ کے عیشی کو بچپن یاد آیا اور وہ چہک کے بولی۔۔
“جی بالکل آپ بچپن سے مجھ معصوم سے یہی کام کروا رہی ہیں۔۔ کبھی اٹھا کے بھاگو۔۔ کبھی لیسس باندو ۔۔ اور کبھی الٹے کاموں پہ رشی آنی سے بچاو “۔۔
اسکی بات پہ ہمدان ہنسی دبائے مصنوعی سنجیدگی سے بولا ۔۔
“ہاہاہاہاہاہا تو احسان مانے آپ میرا کہ میں نے آپکو ٹرین کر دیا ہے۔۔ کل کو یہ سارے کام اپنے بچوں کے بھی تو کرنے پڑھے گے نا”۔۔
عیشی گردھن اکڑا کے اک اداسے بولی تو ہمدان نے حیرانی سے اسے دیکھا اور پھر قہقہہ لگا کے ہنس پڑھا ۔ عیشی اپنی بات کا مذاق اڑتا دیکھ کے منہ بنا گئ۔۔۔
“اچھا بابا سوری”۔۔
عیشی کو منہ موڑتا دیکھ کے ہمدان کان پکڑ کے بولا تو وہ مسکرا دی۔۔
“اچھا دانی بھائ کیپ بھی دیں نا”۔۔
اچانک یاد آنے پہ عیشی جلدی سے بولی۔۔ اس سے پہلے کے وہ کوئ جواب دیتا عیشی نے سامنے ٹیبل پہ پڑھی فوجی پی کیپ دیکھی تو اٹھ کے جلدی سے اٹھائ اور شیشے کے سامنے کھڑی ہوکے پہنتے ہوئے اپنا جائزہ لینے لگی۔
“کیسی لگ رہی ہوں”۔۔
کیپ پہن کے اچھی طرح اپنا جائزہ لینے کے بعد وہ ہمدان کی طرف مڑ کے بولی جو دونوں بازو سینے پہ باندھے دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے اسکی ایک ایک حرکت دیکھ رہا تھا۔۔
“بہت پیاری”
ہمدان دل سے بولا تو وہ چہکنے لگی۔۔۔
“اچھا اب آپ بھی جلدی جلدی تیار ہوکے آجائیں۔۔ میں تھک جاوں گی۔ہمیں جلدی جانا ہے”۔۔
عیشی حکم دیتے انداز میں بولی تو ہمدان نے سینے پہ ہاتھ رکھے تھوڑا جھکتے ہوئے جو حکم جناب کہا تو عیشی مسکراتے ہوئے باہر چلی گئ۔۔
اور ہمدان بھی مسکراتے ہوئے اپنی چیزیں اٹھا نے لگا۔۔ اسے مشی اور عیشی کو کالج چھوڑنا تھا۔۔
💞💞💞💞💞💞💞💞
“آہہہ پلیزززز رک جاو بات سنو یہ اس عیشی کا پلان تھا”۔۔
مشی اور عیشی کالج پہنچی تو عیشی دوسرے پورشن میں چلی گئ۔۔ گیٹ سے داخل ہوتی نازلی نے گھور کے مشی کو دیکھا جو بینچ پہ بیٹھی سینڈل کے سٹریپ باندھ رہی تھی۔۔ نازلی کو غصے سے اپنی طرف بڑھتے دیکھ کے مشی کھڑی ہوگئ۔۔اور گلہ تر کرتے نازلی کو دیکھنے لگی۔۔ جیسے جیسے نازلی کی سپیڈ بڑھ رہی تھی مشی بھی پیچھے کھسکتی جا رہی تھی۔۔ جیسے ہی نازلی قریب پہنچی مشی نے مڑتے ہوئے دوڑ لگائ۔۔ جب نازلی پاس پہنچی تو مشی زور زور سے بولتے ہوئے بھاگنے لگی۔۔ جبکہ نازلی نے جھک کے جوتا ہاتھ میں لیتے سنی ان سنی کرتے اسکے پیچھے بھاگتی رہی۔۔
جب سے منگنی ہوئ تھی۔۔ ان کی ملاقات آج ہوئ تھی۔۔ امان اور حنان سلیکٹ ہونے کے بعد ٹیم کے ساتھ جا چکے تھے۔۔ جس پہ عیشی مشی نے شکر ادا کیا مگر نازلی نامی طوفان ابھی باقی تھا۔۔ جو اس وقت مشی کے پیچھے تھا۔۔
“آہہہہ”
ایسے ہی بھاگتے ہوئے مشی سامنے سے آتی لڑکی سے ٹکرائ اور دونوں دھرام سے زمین پہ گری ساتھ ہی دونوں کی چینخیں بلند ہوئ۔۔
“آ ہائےےےےےے ماں جیییییییی میرییییی کمررررررر۔۔۔ ہائےےےےےے میں مررررر گئئئئئئ”۔۔
انکو گرتے دیکھ کے نازلی گھبرا گئ۔۔ اور اسکے پاس بیٹھتے اسکا بازو پکڑا ۔۔ ایک آنکھ کھول کے مشی نے اسکے تیور دیکھے جو اب پریشانی میں بدل چکے تھے ۔۔ تو وہ بھی بچنے کے لیئے زبردست اداکاری کرنے لگی۔۔ اسکی ہائے ہائے سن کے نازلی مزید پریشان ہوگئ۔۔اور آہستہ آہستہ اسکی کمر سہلانے لگی۔۔
“مشی کیا ہوا؟”۔۔
اسکی ہائے ہائے کی آواز پورے کوریڈور میں گھوم رہی تھی ۔۔عیشی جب وہاں آئ تو مشی کو روتے دیکھ کے پریشانی سے اسکے پاس آئ اور اسکا چہرہ سہلاتے ہوئے بولی۔۔
“ہائےےے عیشی میں نہیں بچوں گی ۔۔ہائےے میری کمر ٹوٹ گئ”۔۔
مشی ایک آنکھ کھول کے نازلی کے ہاتھ میں پکڑے جوتے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے زور زور سے چلانے لگی۔۔تو اسکی اداکاری دیکھ کے پہلے تو عیشی حیران پھر ہنسی چھپاتے اسے دلاسا دینے لگی۔۔
نازلی بھی ساری ناراضگی بھلائے مشی کی آہستہ آہستہ کمر سہلا رہی تھی۔۔ ان سب میں وہ بھول گئ کہ ان دونوں پہ کتنا غصہ تھا۔۔ پھر مشی نازلی اور عیشی کا سہارا لیتے آہستہ سے کرسی پہ بیٹھی تو نازلی نے اسے پانی پلایا ۔۔ پورا فنکشن مشی نے زبردست اداکاری کی۔۔ اور نازلی اپنی ساری ناراضگی بھلائے اسکی خدمت میں لگی رہی۔۔۔
چھٹی ٹائم گاڑی میں بیٹھتے ہی مشی کے شکر ادا کیا جبکہ عیشی اسکی اداکاری پہ ہنس ہنس کے لوٹ پوٹ ہوگئ۔۔۔
💞💞💞💞💞💞💞💞
دو سال بعد😻۔۔۔
وقت گزرتے کچھ پتا نا چلا۔۔۔ دن رات ریت کی طرح مہینوں میں سرکتے گئے ۔اور مہینوں سے سال ہوگئے۔۔
ان دو سالوں میں بہت کچھ بدل گیا تھا۔۔
سارہ اور خازق کی شادی ۔۔
ذنبیل اور شزا کی شادی ۔۔
حنان اور منال کی شادی ۔۔
کے ساتھ ساتھ امان اور حنان کرکٹ ٹیم کا حصہ بن چکے تھے۔۔ان دو سالوں میں انہوں نے بہت سی کامیابیاں سمیٹی۔۔ وہاں ہی منال سٹڈی کملیٹ کر کے اس کالج میں لیکچرر بن گئ۔۔
عیشی مشی نازلی کالج سے فارغ ہو چکی تھی۔۔ تینوں نے یونیورسٹی میں ایڈمیشن لے لیا تھا۔۔
اس سارے عرصے میں امان اور نازلی ایک دوسرے سے بالکل لاتعلق ہوگئے تھے۔۔اور اپنے رشتے کو تقریبأ فراموش کر چکے تھے۔۔
آج عیشی مشی پورے اٹھارہ سال کی ہوگئ ۔۔
ہمدان بھی اپنی کامیابی سے جاب کر رہا تھا۔۔
آج کا دن بہت خاص تھا۔۔ جہاں آج عیشی مشی کی برتھڈے تھی۔۔ وہی ضرار کی جاب کا آج پہلا دن تھا۔۔وہ ایک اینکر بن چکا تھا۔۔ اور جلد ہی اس نے انگلینڈ سے کامیاب دورے کے بعد واپس آنے والی پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ساتھ ایک پروگرام کرنا تھا۔۔
اور آج ایک اور خاص وجہ بھی تھی۔۔وہ یہ کہ اللہ پاک نے حنان کو ایک خوبصورت معصوم پری سے نوازا تھا۔۔ ذنبیل اور شزا کا ایک بیٹا تھا۔۔ شازل ۔۔سارہ اور خازق کی ایک بیٹی تھی نوین ۔۔ شروع شروع میں سارہ نے خازق کی خوب واٹ لگائ۔۔ مگر اسکی محبت نے سارہ کو پگلا ہی دیا تھا۔۔۔
“ما شاہ اللہ یہ بہت خوبصورت ہے۔۔ بالکل معصوم سی پری “۔۔
ہمدان حنان کی بیٹی کو گود میں لیئے اسکے ماتھے پہ بوسہ دیتے ہوئے بولا۔۔ امان اور حنان ویڈیو کال پہ تھے۔۔ جبکہ عیشی مشی خوشی سے بچی کو دیکھ رہی تھی اور کبھی کبھی انگلی سے پور سے اسکا نازک سا گال سہلاتی اور خوش ہوتی۔۔ ان دونوں کو بچوں کی طرح خوش ہوتے دیکھ کے سب ہنس دیتے۔۔
“دانی بھائ یہ میرے جیسی ہے نا “۔۔
عیشی چہک کے بولی۔۔
“نہیں یہ بالکل میرے جیسی ہے “
مشی بھی فورأ بولی تو دونوں آپس میں لڑنے لگی۔۔ ان دونوں کو دیکھ کے سب حیران تھے۔۔ لڑ کس بات پہ رہی تھی جبکہ لڑنے والی دونوں بالکل ایک جیسی تھی😂۔۔
💞💞💞💞💞💞💞💞
جاری ہے۔۔