393.4K
34

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Ek Hai Aafat) Episode 8

“السلام علیکم منو آپی “
منال کو دیکھتے ہی ضرار عیشی اور مشی نے اسکو سلام کیا اور بھاگتے ہوتے اسکے پاس آئے۔۔۔اس سے ملنے کے بعد باقی سب سے بھی ملے۔۔
“منو آپی آپ میرے ساتھ کھیلے گی نا۔”
عیشی نے ایکسائٹنگ ہوتے ہوئے پوچھا ۔۔
“نہیں میرے ساتھ”۔۔
منال کے بولنے سے پہلے ضرار نے جواب دیا اور منال کا بازو پکڑ کے ساتھ بیٹھ گیا ۔۔
“چھوڑے انہیں آپ بتائیں آپکو کونسی سٹوری پسند ہے”۔۔
عیشی اور ضرار کو لڑتا دیکھ کے منو مسکرا رہی تھی جب مشی نے سوال کیا۔۔
“مجھے آہم “۔۔
“چھوڑے سٹوری آپ بتائیں مووی کونسی پسند ہے”۔۔
مشی کے سوال پہ ابھی منال کچھ بولتی ضرار جلدی سے بات کاٹ کے بولا ۔۔
“ان دونوں کو چھوڑیں ان کے شوق ہی فضول ہیں آپ بتائیں آپکو کارٹون کونسے پسند ہیں۔۔ مجھے تو لیڈی بگ۔۔ ماشا اینڈ دی بیئر ۔۔ ٹام اینڈ جیری اور”۔۔
“فضول کارٹون سارے منو آپی آپ پیٹر پین دیکھو بہت مزے کے ہیں”۔۔
منال بت بنی ان تین آفت کی پڑیوں کو دیکھ رہی تھی جو ایک دوسرے کی سننے کی بجائے اپنی ہی سنائ جا رہے تھے۔۔ عیشی کی کارٹون والی بات مشی نے کاٹی تو اسے تو آگ ہی لگ گئ۔۔
“ہاں ہاں یہ اس لیئے لیڈی بگ کارٹون کو برا بول رہی ہے اسکی شکل جو کلوئ سے ملتی ہے(کلوئ لیڈی بگ کارٹون میں ایک کارٹون کردار ہے)۔۔”۔۔
عیشی نے ہننن کرکے بات کی تو مشی صدمے سے شیشے کے پاس گئ اور ہر اینگل سے اپنا جائزہ لینے لگی کہ کہاں سے وہ کلوئ لگ رہی ہے(کلوئ کارٹون کا نیگٹیو کریکٹر ہے )۔۔ منال تو بت بنی ان تینوں کی حرکتیں دیکھ رہی تھی۔۔ جبکہ ضرار کبھی غور سے عیشی کو اور کبھی مشی کو دیکھتا جن میں صرف آنکھوں کے کلر کا فرق تھا۔۔اور عیشی کو نچلے لب کے ساتھ دائیں سائیڈ کوئ بھی بات کرنے سے ڈمپل پڑھتا تھا۔۔ آنکھیں ایک کی سرمئ تھی اور دوسری کی سنہری۔۔۔
“بس کرو کیوں میری بیٹی کو تنگ کر رہے ہو تم تینوں چلو کھانا کھاو چل کے۔۔ پھر تیار بھی ہونا ہے کچھ دیر بعد ائیر پورٹ جانا ہے”۔۔
ریا نے کمرے میں آتے ہی منال کے ماتھے پہ پیار کیا پھر ان تینوں کو ڈانٹا جو لڑنے میں مصروف تھے۔۔
ریا کی بات سن کے سب نے باری باری ہاتھ دھوئے پھر باہر آگئے ۔۔جہاں رشی زری اور ہماہ کھانا لگا رہی تھیں۔۔
انکے بچے چاہے جتنے مرضی شرارتی ہو کچھ معاملوں میں بالکل کوئ چھوٹ نہیں تھی۔۔
جیسے کھانے سے پہلے ہاتھ دھونا ۔۔ بسمہ اللہ پڑھنا ۔۔دائیں ہاتھ سے کھانا کھانا۔۔
💕💕💕💕💕💕
کھانا کھانے کے بعد سب بڑھے کاموں میں لگ گئے۔۔ مشی کے سر میں درد ہو نے لگا چوٹ کا تو رشی نے اسے سیرپ پلایا۔۔ جس سے وہ جلد ہی سو گئ۔۔ اسکے سوتے ہی عیشی بھی اسکے پاس بیٹھے پاوں بیڈ سے نیچے کیئے سر مشی کے تکیے پہ ٹکائے بیٹھنے والے انداز میں سوگئ۔۔ گھر میں ہر کوئ کسی نا کسی کام میں مصروف تھا۔۔
“آنی مجھے ٹیپ چاہیئے آپکے پاس ہوگی”۔۔
ہمدان نے رشی کے پاس آکے پوچھا جو کچن میں دھلے ہوئے برتن سمیٹ رہی تھی۔۔
“ہاں عیشی مشی کے کمرے میں شیشے کے دراز میں پڑھی ہوگی لے لو”۔۔
برتن سمیٹ کے ہاتھ صاف کرتے رشی نے کہا تو ہمدان جی اچھا کرتا عیشی مشی کے کمرے میں آیا۔۔ آہستہ سے دروازہ کھول کے اندھر داخل ہوتے ہی اس نے دیکھا عیشی سو چکی تھی ۔۔ پاوں بیڈ سے نیچے تھے۔۔اور خود بھی کنارے پہ تھی۔۔ ذرہ سی ادھر ہوتی تو گر جاتی۔۔
ہمدان نے اسے دیکھا تو دن کو ہوئ لڑائ یاد آگئ وہ بے اختیار مسکرانے لگا۔۔ عیشی بہت جلدی غصہ کرتی تھی۔۔
ہمدان نے آہستہ سے اسے بیڈ پہ صحیح کرکے لٹایا جس سے وہ تھوڑا کسمسائ مگر پھر سو گئ۔۔
ہمدان شیشے کے پاس آیا اور دراز کھول کے ٹیپ ڈھونڈنے لگا۔۔ چیزیں ادھرادھر کرتے ایک نوٹ بک اس کے پاوں میں گری۔۔ دپ کی آواز سن کے ہمدان نے زبان دانتوں میں دبائ اور آہستہ سے مڑ کے دیکھا مگر وہ دونوں سو رہی تھی۔۔
ہمدان نے شکر کا سانس لیا اور جھک کے بک اٹھائ ۔۔ جو غالبأ پینٹنگ بک تھی ۔۔ہمدان ایک ایک صفحہ کھول کے دیکھنے لگا۔۔ اس کی حیرت کی انتہا نا رہی اتنی صاف اور پیاری پینٹنگ۔۔گھر کے ہر فرد کی تصویر موجود تھی ساتھ تعارفی پیچ بھی لکھا تھا۔۔
“پیاری ہے نا”۔۔
عیشی کی آواز پہ ہمدان نے ایک دم چونک کے پیچھے کھڑی عیشی کو دیکھا پھر مسکرا کے بک کو دیکھا اور سر ہاں میں ہلایا۔۔
“بہت پیاری ہیں “۔۔
ہمدان نے ستائش سے کہا تو عیشی کی آنکھیں چمکی پھر وہ ہمدان کے پاس آئ اور گھٹنوں کے بل بیٹھ کے بک کو دیکھتے بولی۔۔
“یہ مشی نے بنائیں ہیں آپکو پتا ہے ایک ایک پکچر اسنے بہت دن لگا کے مکمل کی تھی”۔۔
عیشی پیار سے بول رہی تھی تو ہمدان اسکی معصومیت پہ مسکرانے لگا۔۔
“تم نہیں بناتی”۔۔
ہمدان نے پوچھا تو عیشی نے اسے دیکھا پھر مسکرا کے سر ہاں میں ہلایا۔۔
“دیکھاو “۔۔
ہمدان نے کہا تو عیشی نے دوسرے نمبر والی دراز کھولی ویسی ہی پینٹنگ بک نکال کے ہمدان کی طرف بڑائ۔۔۔
“ہاہاہاہاہاہا “۔۔
عیشی سے بک لیتے ہی ہمدان نے کھولی۔۔مگر پہلی تصویر دیکھتے ہی اس نے زوردار قہقہہ لگایا۔۔ عیشی کی پینٹنگ ہی ایسی تھی ایک کارٹون جس کے بڑھے بڑھے کان تھے تیڑا ماتھا۔۔۔
ہمدان پیٹ پہ ہاتھ رکھ کے ہنس رہا تھا۔۔
اسکی آواز سن کے مشی اٹھ گئ اور نا سمجھی سے دونوں کو دیکھ رہی تھی۔۔ ہمدان فرش پہ بیٹھا ہنس رہا تھا اور عیشی غصے سے اسے گھور رہی تھی۔۔
“واپس کریں مجھے”۔۔
عیشی نے غصے سے ہمدان سے بک چھین کے سینے سے لگائ۔۔
“تمھیں صرف دوسروں کو الو بنانا آتا ہے وہی کام کرو یہ تمھارے بس کی بات نہیں ہاہاہاہاہاہا “۔۔
ہمدان نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا تو عیشی نے اسکی کمر پہ دونوں ہاتھ رکھ کے دھکیلنا شروع کر دیا اور باہر نکالتے ہی دروازہ بند کر کے واپس دھپ سے بیڈ پہ بیٹھی ۔۔
“کیا ہوا؟”۔۔
مشی نے اسکے پھولے ہوئے منہ کو دیکھ کے پوچھا۔۔تو عیشی نے اپنی اور اسکی پینٹنگ بک اسکے سامنے بیڈ پہ پھینکی۔۔
“آووو میلا شونا بچہ نڑاج نہیں ہوتے”۔۔
پینٹنگ بک دیکھتے ہی مشی نے اسکو بازو سے پکڑ کے بیڈ پہ اپنے پاس لٹایا اور اسی کی نقل اتارتے ہوئے کہا مگر ہمیشہ کی طرح یہاں بھی وہ ڑ کا کباڑا کر چکی تھی😂۔۔
عیشی نے گھور کے دیکھا اور منہ موڑ کے لیٹ گئ۔۔ مشی بھی اسکے ساتھ لگ کے لیٹ گئ۔۔ ایسے ہی لیٹے لیٹے وہ دونوں دوبارہ سو گئ۔۔۔
💕💕💕💕💕💕
“اٹھو بچوں چلو شاباش بہت دیر ہوگئ ہے ائیر پورٹ نہیں جانا کیا”۔۔
انہیں سوئے ہوئے مغرب کا وقت ہو گیا تھا جب شازیب کمرے میں آیا اور لائیٹ آن کرتے دونوں کو جھگایا۔۔۔
“امممم پاپا نیند آرہی ہے”۔۔
شازیب نے بیڈ پہ بیٹھ کے دونوں کو جھگایا ۔۔ تب ہی عیشی انگڑائی لیتی اٹھی اور شازیب کی گود میں سر رکھ کے بند آنکھوں سے بولی۔۔
“پاپا کی جان تو کیا نانا ابو کو لینے نہیں جانا”۔۔
شازیب نے مسکرا کے اسکے ماتھے پہ بوسہ دیتے ہوئے کہا تو دونوں نے پٹ سے آنکھیں کھولی۔۔۔
“جانا ہے جانا ہے”۔۔
بیڈ سے اترتے دونوں نے جوتے پہنے اور واشروم کی طرف دوڑ لگاتی ہوئ بولی۔۔
شازیب نے جب دیکھا کہ اب دونوں میں لڑائ ہوگی تو اس نے مشی کو گود میں اٹھا لیا۔۔ تب ہی عیشی بھاگ کے واشروم میں گھس گئ۔۔
“پاپااااااا وہ ہمیشہ ایسے کرتی ہے”۔۔
مشی نے روتی صورت بنا کے شازیب سے گلہ کیا پھر سر اسکے کندھے پہ ٹکا دیا۔۔۔
“کوئ بات نہیں میری بیٹی بہت اچھی ہے چلو آپ نانو کے کمرے میں تیار ہو لینا”۔۔
شازیب نے نوٹ کیا مشی رو رہی ہے تب ہی بہلا کے کہا پھر مشی کے کپڑے اور جوتے لے کے ریا کے کمرے میں چلا گیا۔۔۔
“آنی آپ مشی کو تیار کردیں پلیز”۔۔
شازیب نے مشی کو ریا کے پاس بیڈ پہ بٹھاتے ہوئے کہا ۔۔پھر اسکے کپڑے اور جوتے وہی رکھے۔
ریا مشی کو واشروم لے گئ۔۔ تو شازیب اپنے لاڈلے بیٹے کے کمرے میں گیا جو ابھی تک باہر نہیں آیا تھا ۔۔۔
“خنان امان کہاں ہے؟”۔۔
کمرا خالی دیکھ کے شازیب واپس مڑا تو اسے خنان نظر آیا جو کندھے پہ بیگ لگائے جلدی جلدی باہر جا رہا تھا۔۔۔
” چاچو وہ ہمارا کل فائنل میچ ہے اسکی پریکٹس کر رہا ہے وہ”۔۔
خنان نے جلدی سے کہا اور گھر سے نکل گیا۔۔
“مجھ سے پوچھ کے گیا ہے”۔۔
شازیب جیسے ہی غصے سے مڑا اسے رشی کی آواز آئ جو عیشی کو تیار کرکے باہر لائ تھی۔۔
“کیا مطلب مجھے بتانا نہیں تھا کیا ۔۔اور یہ کھیل رشتو ں سے آگے ہوگئے ہیں کیا۔۔ بتا رہا ہوں رشی سنبھالو اپنے لاڈلے کو بگڑتا جا رہا ہے بہت”۔۔
شازیب نے تھوڑا غصے سے کہا تو رشی نے بھی بات ہوا میں اڑائ۔۔۔
“آپ میرے بیٹے کی فکر نا کریں وہ نہیں بگڑھے گا۔۔ اپنی لاڈلیوں کی فکر کریں جو بگڑھ چکی ہیں”۔۔
رشی نے منہ چڑاتے طنزیہ کہا پھر عیشی کی طرف اشارہ کرکے اپنی بات مکمل کی۔۔ جو بلی کے بچے کو گود میں اٹھائے شیشے کے سامنے مختلف پوز بنا بنا کے خود کو دیکھ کے مسکرا رہی تھی ۔۔
رشی بات مکمل کرکے وہاں سے ریا کے کمرے میں چلی گئ تو شازیب نے عیشی کو دیکھ کے سر کھجایا کے اچھی کرا دیتی ہیں اسکی بیٹیاں😂۔۔۔
پھر عیشی کے پاس آیا اور پیار سے اس سے بلی کا بچہ لے کے فرش پہ رکھا۔۔ جو اپنی جان بخشی پہ وہاں سے بھاگ گیا۔۔ عیشی ضد کرنے لگی تو شازیب نے بڑھی مشکل سے اسے سمجھایا اور اسکے کپڑے صاف کرنے لگا جہاں بلی کے بال لگ گئے تھے۔۔۔
آخر مغرب کے بعد سب تیار ہوگئے اور اپنی اپنی گاڑیوں میں ایئرپورٹ کے لیئے نکلے۔۔
امان اور خنان انکے ساتھ نہیں تھے۔۔وہ لوگ اپنے فائنل میچ کی تیاری کر رہے تھے۔۔۔
گاڑی میں بیٹھتے ہی مشی عیشی اور ضرار کی لڑائی پھر شروع ہوگئ۔۔
ہماہ نے سر پکڑ لیا کیونکہ اسی نے ضرار کی ضد پہ عیشی اور مشی کو بھی اپنی گاڑی میں بٹھا لیا تھا۔۔۔
💕💕💕💕💕
ائیر پورٹ پہنچتے ہی انہیں معلوم ہوا کہ فلائٹ کسی وجہ سے ایک گھنٹہ لیٹ ہو گئ ہے۔۔ سب لوگ ادھر ادھر گھومنے لگے۔۔
“رشی “۔۔
رشی جو شازیب کے پاس کھڑی کوئ بات کر رہی تھی۔۔اپنے نام کی پکار پہ اچانک پیچھے مڑی۔۔۔
“حرم”۔۔
رشی نے اپنی بچپن کی دوست کو دیکھا تو فورأ اسکے پاس آئ اور خوشی سے دونو گلے لگ گئ۔۔
“تم یہاں کیسے؟ “۔۔۔
گلے ملنے کے بعد حرم نے پوچھا ۔۔
“ہاں وہ میرے پاپا آ رہے ہیں واپس دوبئ سے ہم لوگ تب ہی آئے۔ مگر تم”۔۔
رشی نے جواب دیا ۔۔پھر الجھ کے حرم کو دیکھنے لگی کافی عرصہ حرم سے ملاقات نہیں ہوئ تھی تو اس لیئے وہ کچھ نہیں جانتی تھی ۔۔
“ہاں ان سے ملو یہ میرے شوہر ہیں حسام۔۔اور حسام یہ میری دوست ہے ریشال شاہ۔۔ میں نے بتایا تھا نا آپکو”۔۔
حرم نے دونوں کا تعارف کروایا تو رشی نے حسام کو سلام کیا۔۔ اسے لگا اس نے حسام کو کہی دیکھا ہے مگر یاد نہیں آیا کہا۔۔۔حسام کی بھی کچھ ایسی ہی حالت تھی ۔۔
“ہم شادی کے بعد باہر چلے گئے تھے ابھی ہی واپس آئے ہیں یہ دونوں میرے بچے ہیں۔۔ یہ زنبیل ہے میرا بڑا بیٹا گیارہ سال کا اور یہ بیٹی ہے سارہ آٹھ سال کی “۔۔
حرم نے تفصیل سے بتایا پھر اپنے بچوں کا تعارف کرایا دونوں نے احترام سے رشی کو سلام کیا۔۔۔
“ما شاہ اللہ بہت پیارے بچے ہیں تمھارے”۔۔
رشی نے باری باری دونوں کو پیار کیا تو دونوں شرما کے مسکرانے لگے۔۔۔
“السلام علیکم”۔۔
تب ہی شازیب وہاں آیا تو رشی نے اسے حرم سے ملوایا ۔۔ حرم کو بے اختیار رکشے والا واقعہ یاد آیا جب وہ شازیب کو آرمی مین سمجھ کے رونے لگی تھی تو وہ مسکرانے لگی۔۔
“رشی تمھارے بچے”۔۔
شازیب اسکیوز کرتا چلا گیا تو حسام بھی سامان گاڑھی میں رکھنے لگا۔۔ جب حرم نے رشی سے پوچھا۔۔
“میرے ما شاہ اللہ تین بچے ہیں بڑا بیٹا ہے امان شاہ وہ ساتھ نہیں آیا اسکا میچ تھا ۔ اس سے چھوٹی ٹوینس بیٹیاں ہیں عیشال شاہ اور مشال شاہ ۔۔ ملواتی ہوں یہ”۔۔
رشی نے مسکراتے ہوئے بتایا پھر ہاتھ سے پیچھے کی طرف اشارہ کیا مگر یہ کیا۔۔ عیشی اور مشی سامان والی ٹرالی میں بیٹھی تھی اور ضرار ٹرالی دائیں بائیں دوڑا رہا تھا😂۔۔۔
“ہاہاہاہاہاہا رشی تمھاری بیٹیاں تو بالکل تم پہ گئ ہیں”۔۔
حرم نے ہنستے ہوئے کہا تو رشی زبردستی مسکرائ جبکہ دل کر رہا تھا یہاں ہی دونوں کی چٹنی بنا دے۔۔ اس کی حالت دیکھ کے دور کھڑا شازیب بھی مسکرا رہا تھا۔۔
“اچھا چلو پھر ہوتی ہے ملا قات ہم نے گھر اسی گلی میں تمھارے گھر کے پاس لیا ہے۔۔۔’
حرم رشی سے ملتی بولی ۔۔پھر دونوں بچوں کو لے کے چلی گئ جو عیشی مشی اور ضرار کو ہونقوں کی طرح دیکھ رہے تھے ۔۔جو ایسے بھاگ رہے تھے جیسے ائیر پورٹ انکے باپ کی ملکیت ہو ۔۔
“بیزت ہی کرانا گندی اولاد”۔۔
حرم کے جاتے ہی رشی دانت پیستی عیشی مشی کے پاس آئ اور دونوں کو کان سے پکڑھ کے ٹرالی سے باہر نکالتے دانت پیس کے بولی ۔۔
مشی میڈم کا تو باجا کھل گیا تھا جسے شازیب نے بڑھی مشکل سے بہلا کے بند کرایا۔ عیشی منہ بناتی عارب کے ساتھ جہاز دیکھنے چلی گئ جو ابھی ابھی لینڈ کر رہا تھا۔۔ ساتھ منال اور ضرار بھی تھے۔۔
کچھ دیر بعد نانا ابو باہر آئے تو سب انہیں ملے اور عیشی مشی نے پھر ضد لگا لی کہ سامان پہ بیٹھ کے باہر جانا ہے ۔۔۔ رشی دانت پیستی رہی مگر کسی نے اسکی پراو نا کی۔۔
عازب نے دونوں کو سامان والی ٹرالی کے سامان پہ بٹھا دیا۔تو ہمدان ٹرالی لے کے سامان لیفٹ میں داخل ہوا۔۔جبکہ باقی سب دوسری لیفٹ سے باہر پارکنگ ایریا میں آئے ۔۔
سامان گاڑی میں رکھتے باقی سب بھی گاڑیوں میں بیٹھ کے گھر کی طرف روانہ ہوئے۔۔۔
💕💕💕💕💕
جاری ہے۔۔۔