Ek Hai Aafat Season 2 By Binte Hawa Readelle50339 (Ek Hai Aafat) Episode 4
Rate this Novel
(Ek Hai Aafat) Episode 4
“امان کل سے پیپرز ہیں عیشی اور مشی کی انکو بٹھاو کتابیں پکڑا کے اور ساتھ ضرار کو بھی پڑاو ویسے بھی پورا سال انہوں نے ٹیوشن والے کے ناک میں دم کر رکھا تھا چھوڑ گیا وہ بھی پیپرز کے قریب”۔۔
رشی نے صحن میں کرسی پہ بیٹھتے کہا تو خنان اور امان نے سر اٹھا کے اسے دیکھا۔۔
“جی اچھا”۔
امان نے ایک نظر خنان کو دیکھا اور کتاب سائیڈ پہ رکھتے ہوئے کہا پھر جوتے پہن کے چھت پہ چلا گیا جہاں عیشی مشی اور ضرار لڈو کھیل رہے تھے۔۔۔
“ضڑاڑ چیٹنگ نا کڑو چیٹڑ”۔۔
ضرار کو اپنی مری ہوئ گوٹ چھپا کے گیم میں سیٹ کرتے دیکھ کے مشی نے کہا۔۔
“ایک تو تمہیں یہ توتلے پن کا دورہ تب ہی کیوں پڑتا ہے مشی جب میرا نام لیتی ہو اچھے بھلے ضرار کو توڑ مروڑ دیتی ہو بچارہ ڑ بھی تمہیں دیکھتے ہی راستہ بدل لیتا ہے کہ دی گریٹ مشی پتا نہیں اب مجھے کہاں سیٹ کرنے لگی ہے”۔۔
ضرار نے جب دیکھا کہ چوڑی پکڑی گئ ہے تو فورأ انکا دھیان دوسری طرف لگا دیا ورنہ اسے پتا تھا عیشی نے اسکی جان نہیں چھوڑنی تھی کیونکہ انکے درمیان ایک رول تھا گیم کا کہ جو چیٹنگ کرتے پکڑا گیا اسکی بقایا گوٹ بھی گھر بھیج دی جائے گی۔۔۔
“چپ کر جاو چقندر کہی کے خود کو دیکھا ہے میری تو کوئ کوئ بات پھسلتی ہے تم تو پورے ہی کھسکے ہوئے ہو”۔۔
مشی دونوں ہاتھ کمر پہ رکھ کے لڑنے کے لیئے میدان میں اتری۔۔۔
“یاہووووو میں جیت گئ”۔۔
ان دونوں کی لڑائ سے فائدہ اٹھاتے عیشی نے اپنی آخری گوٹ بغیر گھومائے گھر پہنچا دی۔۔۔
ضرار اور مشی دونوں آنکھیں پھاڑے لڈو کو گھور رہے تھے جہاں عیشی کی آخری گوٹ کو جیتنے کے لیئے پانچ کا ہندسہ درکار تھا جو نیلے نقطوں کی صورت چھکے پہ جھگمگا رہا تھا۔۔۔
“یہ چیٹنگ ہے عیشی تمھاری آخری گوٹ گھر تھی وہ گیم میں کب آئ”۔۔
ضرار ایک ہاتھ لڈو پہ مارتے بولا۔۔
“تب ہی آئ جب تم اور مشی آپس میں لڑ رہے تھے”۔۔
عیشی نے ضرار کی ساری گوٹ ہاتھ مار کے لڈو سے نیچے گراتے ہوئے کہا۔۔
“تم”۔۔۔
“چلو بس بہت ہوا کھیل چلو تینوں میرے ساتھ پیپر کی تیاری کرو”۔۔
ضرار نے کچھ بولنے کے لیئے ابھی منہ کھولا ہی تھا تب ہی امان نے آتے ہی لڈو بند کی اور تینوں کو بازو سے پکڑ کے باری باری کھڑا کرتے ہوئے کہا۔۔۔
“مان بھائ ابھی میڑی باڑی ڑہتی تھی”۔۔
مشی نے رونی صورت بنا کے کہا تو ضرار اور عیشی نے اسے زبان چڑائ اور نیچے بھاگ گئے۔۔۔ مشی بھی ان دونوں کے پیچھے بھاگتی ہوئ نیچے آئ۔۔۔
مگر آخری سیڑھی پہ تینوں کو جھٹکا لگا کیونکہ انکی کتابیں صوفے پہ رکھے پاس خنان دونوں ہاتھ باندھ کے کھڑا تھا ۔۔
تینوں پیچھے مڑے تو آخری امید بھی ٹوٹ گئ کیونکہ پیچھے دو سیڑھیاں اوپر امان کھڑا تھا ۔۔۔
اس نے آنکھ سے اشارہ کیا تینوں کو۔۔ تو تینوں رونی صورت بنا کے معصوموں کی طرح صوفے کے پاس آئے اور اپنی اپنی کتاب پنسل اور نوٹ بک پکڑ کے بیٹھ گئے۔۔
انکو کتابیں کھولتے دیکھ کے خنان اور امان نے سکھ کا سانس لیا اور دوسرے صوفے پہ بیٹھ کے اپنا اپنا ہوم ورک کرنے لگے۔۔۔
ہمدان اس وقت کالج تھا اس لیئے عیشی مشی کو ان دو جلادوں سے کوئ نہیں چھوڑا سکتا تھا۔۔
“کتنا اچھا ہوتا نا منو (منال شاہ ) کی طرح ہمارا نھنیال بھی دور کہی ہوتا میں بھی بہانہ بناتی کہ میری نانو اکیلی ہیں انکے پاس رہوں گی اس پڑاھی سے جان چھوٹ جاتی سارے کام اپنی مرضی سے کرتی”۔۔
عیشی نے مشی اور ضرار کے درمیان بیٹھتے اپنے جلے دل سے کہا تو مشی اور ضرار نے بیک وقت اسکے منہ پہ ہاتھ رکھ کے گھورا اور کتاب کی طرف اشارہ کیا کہ پڑھو۔۔
( منال خنان اور امان کے سکول میں پڑتی تھی مگر وہ رہتی اپنی نانو کے پاس تھی )۔۔
ضرار اور مشی کو کتاب پہ جھکے دیکھ کے عیشی نے برے برے منہ بنائے ۔۔۔ اسے ضرار اور مشی کے زور زور سے رٹے لگاتے دیکھ کے کوفت ہونے لگی۔۔۔تب ہی اسکے ذہن میں ایک ائیڈیا آیا۔۔
عیشی نے کتاب بند کی اور نوٹ بک کھول کے پینسل سے اس پہ کارٹون بنانے لگی۔۔
“عیشی یہ کیا کر رہی ہو مان بھائ دیکھ لے گے”۔۔۔
عیشی پوری نوٹ بک پہ جھکی ہوئ تھی جس سے اسکے بال دونوں کندھوں سے نوٹ بک کو چھو رہے تھے۔۔۔
مشی نے مسلسل اسکو نوٹ بک پہ جھکے ہوئے دیکھا تو روک کے کہا کیونکہ وہ ایک کارٹون بنا رہی تھی جس پہ جگہ جگہ امان کے کہے جملے لکھ رہی تھی۔۔۔
“چپ کرو نہیں دیکھتے مان بھائ میں انکی پک بنا رہی ہوں”۔۔۔
عیشی نے ایک ہاتھ سے بال کان کے پیچھے کرتے ہوئے کہا اور دوبارہ پک بنانے لگی ۔۔۔ اسکی زبان اوپر والے ہونٹ پہ چپکی ہوئ تھی جس سے باخوبی اندازہ لگایا جا سکتا تھا کہ مس عیشی پڑھ نہیں رہی۔۔۔
“عیشی نہیں کرو یار پکڑے گئے تو بڑی مار پڑھے گی دانی بھائ بھی گھر نہیں ہیں بچائے گا کون”۔۔
ضرار نے بھی آہستہ سے سرگوشی کی تو عیشی نے سر جھٹکا مگر اپنا کام جاری رکھا۔۔۔
ان تینوں کو مسلسل ایک دوسرے کے کان میں کھسر پھسر کرتے دیکھ کے امان آہستہ سے انکے پاس آیا۔۔۔
“عیشی مان بھائ”۔۔
مشی نے سر اٹھا کے امان کو پاس کھڑا دیکھا تو ڈر سے کہا۔۔
“چپ کرو مشی کتنا ڈرتی ہو مان بھائ انسان ہیں ڈریکولا نہیں اچھا نا اب مجھے تنگ مت کرنا نہیں ڈرتی میں”۔۔
عیشی نے مسلسل جھکے سر کے ساتھ جواب دیا ۔۔۔ اسکے جواب پہ ضرار اور مشی نے آنکھیں پھاڑے پہلے اسکو دیکھا پھر امان کو جو اسکے سر پہ کھڑا تھا ۔۔
“آہہہہہہ”۔۔
امان نے آگے ہوکے عیشی کا کان پکڑا تو وہ چینخ مارتی کھڑی ہوگئ۔۔۔ کان ابھی بھی امان کے ہاتھ میں تھا۔۔۔
“وہ وہ مان بھائ میں مزاق کر رہی تھی ہی ہی ہی ہی”۔۔۔
عیشی نے دانت دیکھاتے کہا تو امان نے ذرا سا کان مروڑا جس کے ساتھ عیشی بھی گھوم گئ اور ایک اور چینخ ماری۔۔۔
“مان بھائ چھوڑ دے اسکو درد ہو رہا ہے”۔۔
مشی نے تڑپ کے کہا تو امان نے ایک نظر اسے دیکھا جو رونے والی ہو گئ تھی۔۔۔
“جی مان بھائ مشی ٹھیک کہہ رہی ہے پلیز اسے چھوڑ دے”۔۔
ضرار نے بھی امان کے ہاتھ سے عیشی کا کان چھڑاتے ہوئے کہا۔۔
“اس سے زیادہ درد تو تم دونوں کو ہو رہا ہے”۔۔
امان نے مشی اور ضرار کی رونی شکل دیکھ کے کہا مگر کان ابھی بھی اسکے ہاتھ میں تھا۔۔۔
جب عیشی نے دیکھا وہ کسی طرح نہیں مان رہا تو گرنے کی ایکٹنگ کی اور اپنا ہاتھ ایسے میز پہ مارا جیسے بہت زور سے لگا ہو۔۔
“آہہہہ ہہہہ ہہہہ ہہہ”۔۔۔
عیشی پوری نیچے جھکتی بائیں ہاتھ سے دائیں ہاتھ کو زور سے دباتی زور زور سے چینخ کے رونے لگی۔۔۔
“کیا ہوا عیشی تم ٹھیک ہو”۔۔۔
اسکو ایسے روتے دیکھ کے خنان بھاگ کے پاس آیا اور امان کو پیچھے کرتا عیشی کے کندھے سے تھام کے پوچھنے لگا۔۔ امان بھی پریشان ہو گیا اور عیشی کو اوپر اٹھانے کی کوشش کرنے لگا ۔۔ مگر وہ ماتھا کارپٹ پہ ٹکائے دائیں ہاتھ کو زور سے پکڑ کے سینے سے لگائے مسلسل چینخ چینخ کے رو رہی تھی۔۔۔ اسکی ایکٹنگ پہ ضرار اور مشی واقع پریشان ہو گئے۔۔ اسکے ساتھ مشی نے بھی اتنے ہی زور سے رونا شروع کر دیا تو خنان اور امان نے ایک منٹ کے لیئے عیشی کو چھوڑ کے مشی کو دیکھا جو دونوں ہاتھوں سے آنکھیں ملتی عیشی سے بھی زیادہ زور سے رورہی تھی۔۔۔
“اسے کیا ہوا؟”۔۔
خنان نے مشی کو دیکھتے ہوئے امان سے پوچھا۔۔۔
“جڑواں ہیں دونوں ایک روئے تو دوسری اس سے بھی اونچی روتی ہے”۔۔
امان نے عیشی کے کندھے پہ ہاتھ رکھے ہی خنان کو جواب دیا جس کے لب اوو کی شکل میں گول ہوئے۔۔
“کیا ہوا ہے ان کو؟”۔۔۔
ہمدان جو اسی وقت کالج سے واپس آیا تھا عیشی کے رونے کی آواز سن کے بیگ بائک پہ ہی چھوڑ کے اندھر آیا جہاں عیشی سر کارپٹ پہ ٹکائے ہاتھ دونوں پیٹ پہ دبائے زور زور سے رو رہی تھی اور صوفے کے پاس کھڑی مشی دونوں ہاتھوں سے آنکھیں مسلتی رو رہی تھی۔۔۔
“وہ بھائ”۔۔
“دانی بھائ مان بھائ نے عیشی کا کان مڑوڑا ہے جس کی وجہ سے عیشی گڑ گئ اوڑ اسکا ہاتھ میز پہ زوڑ سے لگا”۔۔۔
اس سے پہلے کہ خنان کوئ جواب دیتا مشی آنکھوں سے ہاتھ ہٹا کے بولی ۔۔۔ رونے کی وجہ سے اسکی زبان پھر ر کو ڑ میں بدل رہی تھی۔۔
“کیوں پکڑا کان؟”۔۔۔
ہمدان نے تھوڑا غصے میں امان سے پوچھا۔۔۔
“بھائ یہ ہمیں پیپر یاد کرا رہے تھے ۔۔ عیشی نے نہیں پڑا تو مان بھائ نے اسکو مارا”۔۔
امان کے بولنے سے پہلے ہی ضرار نے جواب دیا تو امان نے دانت پیسے ۔۔۔
“ایسے پڑھاتے ہیں بچوں کو۔۔۔ تم دونوں کو کس نے کہا تھا ہاں ۔۔۔ اپنا پڑھا نہیں جاتا انکو پڑھائے گے”۔۔۔
ہمدان نے تھوڑا غصے میں کہا تو خنان اور امان نے سر جھکا لیئے۔۔
“جاو تم دونوں میں خود پڑھا لوں گا”۔۔
ان دونوں کو خاموش کھڑے دیکھ کے اب کی بار ہمدان نے تھوڑا آرام سے کہا تو وہ دونوں اپنی کتابیں لے کے چلے گئے۔۔
“اوپر ہو عیشی دکھاو مجھے کہا لگی ہے؟”۔۔۔
ہمدان عیشی کو اٹھا کے صوفے پہ بٹھاتے ہوئے بولا۔۔۔ پھر اسکا ہاتھ پکڑ کے جائزہ لینے لگا۔۔ کوئ چوٹ نہیں تھی نا اندرونی کوئ چوٹ آئ تھی۔۔۔
مگر عیشی کو مسلسل روتے دیکھ کے ہمدان نے مساج آئل سے اسکے ہاتھ کی مالش کی پھر گرم پٹی سے ہاتھ باندھ دیا۔۔۔
“یہ لو پانی”۔۔۔
پٹی باندھنے کے بعد ہمدان نے میز پہ پڑھے پانی کے جگ سے ایک گلاس پانی عیشی کو پکڑایا اور ایک مشی کو ۔۔۔ عیشی تو جلد ہی نارمل ہوگئ تھی البتہ رو رو کے مشی کی آنکھیں اور چھوٹی سی ناک سرخ ہوگئ تھی ۔۔۔ اور ہچکی ابھی بھی بندھی ہوئ تھی۔۔۔
“چلو باہر چلتے ہیں واپس آکے پڑھے گے”۔۔
ان دونوں کا موڈ ٹھیک کرنے کے لیئے ہمدان نے انکو کھڑا کرتے ہوئے کہا اور کتابیں لے کے سائیڈ ٹیبل پہ رکھ دی۔۔۔۔
“یاہوووو”۔۔۔
باہر جانے کا سن کے تینوں کا موڈ ٹھیک ہوگیا اور تینوں
زور سے اچھلے۔۔ ان تینوں کو لے کے باہر آتے ہی ہمدان نے بائیک سے بیگ اٹھا کے پاس پڑھی کرسی پہ رکھا ۔۔۔ بائیک سٹارٹ کرتے ہی ہمدان نے انکو بیٹھنے کا کہا جو تینوں خوشی خوشی بیٹھ گئے۔۔ ہمدان کے پیچھے عیشی پھر مشی اور آخر میں ضرار بیٹھا ۔۔۔ عیشی اور مشی نے ہمدان کی شرٹ کو پیچھے سے کس کے پکڑ لیا۔۔
بائیک روڈ پہ آتے ہی تینوں نے صدائے لگانا شروع کردی بھائ تیز چلائیں اور تیز اور تیز۔۔
“دانی بھائ آئس کریم کھانی ہے”۔۔
عیشی نے ہمدان کے کندھوں پہ ہاتھ رکھ کے کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔۔۔
“نہیں ابھی ہم واپس جائیں گے”۔۔
روڈ پہ بائیک دوڑاتے ہمدان کے کہا۔۔
“پلیززززز دانی بھائ”۔۔
عیشی دونوں ہاتھوں سے اسکے کندھے پہ دباو ڈالتے اچھل کے بولی جس سے بائیک نے زور سے جھٹکا کھایا۔۔۔
“اچھاااا اچھا بیٹھ جاو ورنہ بائیک گر جائے گا”۔۔۔
ہمدان نے بمشکل بائیک سنبھالتے ہوئے کہا تو عیشی خوشی سے بیٹھ گئ ۔۔۔ ہمدان نے ایک جگہ بائیک روکی اور ان تینوں کو لیتا آئس کریم پالر میں داخل ہوا۔۔۔
“جی”
وہاں کا ویٹر انکے پاس آتے بولا جو ابھی تک لڑھ رہے تھے کے کونسا فلیور کھانا ہے۔۔
“چار آئس کریم wall’s …چاکلیٹ فلیور۔۔۔”
ان سب کو بحث کرتے دیکھ کے عیشی جلدی سے بولی۔۔
ویٹر سر اثبات میں ہلا کے چلا گیا تو ہمدان ضرار اور مشی نے حیران ہوکے عیشی کو دیکھا ۔۔۔ کیونکہ وہ سب سٹاربری اور ہنی فلیور پہ بحث کر رہے تھے۔۔۔ مگر سب نے کھانے جانے والی نظروں سے عیشی کو دیکھا اور چپ کرکے بیٹھ گئے کیونکہ اب وہی کھانا تھا جو مگوایا گیا تھا۔۔۔
“یہ لیں “۔۔۔
ویٹر نے چاروں کے آگے آئس کریم رکھی۔۔۔ مشی ضرار نے جلدی جلدی چمچ بھر کے منہ میں ڈالا ۔۔۔ ہمدان نے بھی آئس کریم کا چمچ منہ میں ڈالتے عیشی کو دیکھا جو سب کے آئس کریم کپز کو غور غور سے آگے ہوکے دیکھ رہی تھی۔۔۔
“کیا ہوا عیشی “۔۔
ہمدان نے اسے دیکھ کے پوچھا تو پاس کھڑے ویٹر ضرار اور مشی نے بھی سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔۔۔
“دانی بھائ میری آئس کریم کم ہے”۔۔
آخر میں ضرار کا کپ دیکھ کے عیشی نے دوبارہ اپنا کپ دیکھا پھر کھا جانے والی نظروں سے ویٹر کو دیکھتے بولی۔۔۔
“ااہہ اوکے اوکے تم میری لے لو”۔۔۔
ہمدان نے عیشی کو دیکھتے ہوئے کہا جو ابھی بھی ویٹر کو گھور رہی تھی۔۔
“کیوں کیوں لوں آپکی آدھی تو آپ کھا چکے ہیں اسکو بولے میری آئس کریم اور ڈال کے لائے”۔۔
عیشی نے اسکا کپ واپس کھسکاتے ویٹر کو
گھور کے کہا۔۔
“دیکھیں میڈم”۔۔
“اوئے بچی ہوں میں میڈم کس کو بولا خود ہوگے میڈم”۔۔
ابھی ویٹر کچھ بولتا عیشی کرسی پہ کھڑی ہوتی بولی اور آخر میں ناک چڑا کے اسکو گھورنے لگی۔۔۔
“پلیز آپ اور آئس کریم ڈال کے لے آئیں اسکے الگ پے کر دوں گا”۔۔
ہمدان کھڑا ہوکے بولا پھر کپ ویٹر کو پکڑا کے عیشی کو کرسی سے اتار کے اس پہ بٹھایا ۔۔۔ ویٹر عیشی کو گھورتا کپ لے کے چلا گیا۔۔۔
“یہ لیں بچیییییی صاحبہ”۔۔
واپس آتے ہی ویٹر نے پٹخنے والے انداز میں کپ عیشی کے سامنے رکھا اور بچی کو خاصہ کھینچ کے بولا۔۔۔
“یہ کیا ہے؟”۔۔۔
چاکلیٹ فلیور پہ ہنی ڈلا دیکھ کے عیشی نے صدمے سے پوچھا کیونکہ اسے ہنی نہیں پسند تھا۔۔
“آپکی آئس کریم زیادہ کرکے لایا ہوں “۔۔۔
ویٹر نے تڑخ کے خواب دیا تو غصے سے عیشی کا چہرہ سرخ ہوگیا۔۔
“اہہہہہہہ”۔۔۔
اس سے پہلے کے کسی کو سمجھ آتی عیشی نے آئس کریم والا کپ ویٹر کے منہ پہ پھینک دیا۔۔ جس سے پگلی ہوئ آئس کریم قطروں کی صورت منہ سے کپڑوں پہ ٹپکنے لگی۔۔۔
“یو “۔۔۔
ابھی ویٹر کچھ بولتا عیشی نے ضرار مشی اور ہمدان کا آئس کریم کپ بھی باری باری اٹھا کے ویٹر پہ پھینکا۔۔ جس سے وہ آئس کریم میں نہا گیا۔۔۔
معاملہ سنگین دیکھ کے ہمدان نے مشی اور ضرار کو اشارہ کیا۔۔۔ جو اشارہ سمجھتے ہی وہاں سے کھسک گئے۔۔۔
ویٹر کو آنکھیں کھولتے دیکھ کے ہمدان نے پیسے میز پہ رکھے اور عیشی کو کندھے پہ ڈال کے باہر کی طرف دوڑ لگا دی۔۔۔
“ابے پکڑو انکو”۔۔۔
انکو بھاگتے دیکھ کے ویٹر نے زور سے کہا پھر دو اور ویٹر ز کے ساتھ انکے پیچھے بھاگا۔۔۔
باہر آتے ہی ہمدان جلدی سے بائیک پہ بیٹھا اور عیشی کو الٹا ہی بائیک کی ٹینکی پہ ڈال کے بائیک سٹارٹ کرتے ہی فل سپیڈ میں آگے بڑائ۔۔۔ مشی اور ضرار پہلے ہی آکے بائیک پہ بیٹھ گئے تھے ۔۔ اور بائیک سٹارٹ ہوتے ہی دونوں نے ہمدان کی کمر کو جھکڑ لیا۔۔۔
عیشی ٹینکی پہ ایسے پڑھی تھی کے ایک سائیڈ اسکا سر اور ہاتھ تھے دوسری سائیڈ ٹانگیں۔۔۔ وہ پیٹ کے بل تھی اور چینخ چینخ کے ہمدان سے لڑ رہی تھی۔۔۔ مگر ہمدان اسکی بات سنے بغیر بائیک چلا رہا تھا۔۔۔
جب اسے یقین ہوگیا کہ وہ لوگ کافی آگے نکل آئے ہیں اب کوئ ان تک نہیں پہنچ سکتا تو اس نے بائیک روک دی اور عیشی کو پکڑ کے بٹھایا ۔۔۔ جو بیٹھتے ہی زور زور سے سانس لینے لگی۔۔
“میں کیا کوئ آٹے کی بوری ہوں جو ایسے ڈالا بائیک پہ”۔۔
جیسے ہی اسکا سانس تھوڑا سا
بحال ہوا وہ ٹینکی پہ بیٹھے ہی ہمدان کی طرف مڑی اور غصے سے چینخ کے بولی۔۔
“تم آٹے کی نہیں آفتوں کی بوری ہو ہر دفعہ تمھارے ساتھ آتے ہی واپسی پہ مجھے دوڑ لگانی پڑھتی ہے وہ بھی تم بوری کو کندھے پہ ڈال کے “۔۔۔
ہمدان نے اسکی چھوٹی سی ناک کو ہلکا سا کھینچ کے کہا جو غصے سے سرخ ہو رہی تھی اور غصے میں بات کرتے کرتے عیشی نے چڑا رکھی تھی۔۔۔
“ہاں تو اچھا ہے نا بیٹھ بیٹھ کے آپکی ٹمی باہر نکل رہی ہے تھوڑا بھاگے گے تو صحت اچھی ہوگی”۔۔۔
بجائے شرمندہ ہونے کے عیشی بال کان کے پیچھے کرتی دوبارہ ناک چڑا کے بولی ۔۔ تو ہمدان نے بے اختیار اپنے پیٹ کو چھوا پھر حیرت سے آنکھیں پھاڑے عیشی کو دیکھا جو اسکو موٹا کہہ رہی تھی جبکہ وہ بالکل سمارٹ تھا😂۔۔۔
“چلو عیشی اب ٹیسٹ دو ضرار اور مشی نے دے دیا ہے بس تم رہ گئ ہو”۔۔۔
ہمدان عیشی سے کتاب لے کے بولا جو مسلسل آس پاس تاڑ رہی تھی۔۔۔
واپس آتے ہی ہمدان نے کھانا کھانے کے بعد ان تینوں کو کتابیں دے کے پاس بٹھا لیا تھا ۔۔۔ مشی اور ضرار نے تو مجبورأ کچھ نا کچھ پڑھ لیا تھا اور ہمدان کو ٹیسٹ بھی دے دیا تھا مگر عیشی ڈیٹھوں کی طرح بیٹھی تھی ۔۔۔
“چلو بیٹا بس کرو تھک گئے ہیں بچے رات ہوگئ ہے دن سے پڑھ رہے ہیں بچارے ۔۔ چلو اب کھانا کھا لو سب اور انکو سونے دو صبح انکا پیپر ہے”۔۔۔
اس سے پہلے کے عیشی کچھ بولتی زرتاشہ نے آکے ہمدان سے کہا۔۔
“ماما بس عیشی رہ گئ ہے آپ مشی اور ضرار کو لے جائیں میں یہ عیشی سے ٹیسٹ لے لوں پھر ہم دونوں آتے ہیں”۔۔
ہمدان نے تھکے ہوئے انداز میں کہا ۔۔۔ وہ بھی جب سے کالج سے واپس آیا تھا ان تینوں کو پڑھا رہا تھا ۔۔۔
“اچھا”۔۔
زرتاشہ مشی اور ضرار کو لے کے چلی گئ تو عیشی نے پہلے معصوم شکل بنا کے دروازے کو دیکھا جہاں سے ابھی ابھی وہ لوگ گئے تھے۔۔ پھر ہمدان کو دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔
“دانی بھائ میرا ہاتھ دکھ رہا ہے کیسے لکھوں”۔۔
عیشی اپنا ہاتھ ہمدان کو دیکھاتی معصوم سی شکل بنا کے بولی۔۔۔
“اوکے کوئ بات نہیں تم مجھے سنا دو”۔۔۔
ہمدان نے کہا تو عیشی نے اپنا پلان ناکام ہوتے دیکھ کے منہ بنایا۔۔۔
“کیا سناوں ۔۔۔”
عیشی نے پوچھا تو ہمدان اسکا سلیبس دیکھنے لگا۔۔۔ اسکا پیپر انگلش کا تھا۔۔۔
“تم مجھے ہممم لیٹل پرنسس سٹوری سناو”۔۔
اسکا سلیبس دیکھتے ہمدان نے کہا۔۔ تو عیشی نے آہستہ سے سر پہ ہاتھ مارا اور آہستہ آہستہ بولنا
شروع کیا ۔۔۔
“اہمممم ہممم ہممم”۔۔۔
درمیان میں پہنچ کے عیشی رک گئ۔۔۔ ہمدان اسکے دوبارہ بولنے کا انتظار کرنے لگا۔۔۔پھر کچھ دیر بعد ہمدان کو سسک سسک کے رونے کی آواز آئ تو اس نے سر اٹھا کے دیکھا۔۔۔
“کیا ہوا عیشی؟ “۔۔۔
اسکو روتا دیکھ کے ہمدان پریشان ہوا اور کتاب سائیڈ پہ رکھ کے اس سے پوچھا۔۔
“دانی بھائ بھوک لگی ہے بولا نہیں جا رہا سر بھی دکھ رہا ہے”۔۔۔
عیشی نے نظریں جھکائے جواب دیا اور دوبارہ رونے لگی۔۔۔
“اچھا اچھا رو مت چلو “۔۔
ہمدان نے تمام کتابیں سائیڈ پہ رکھتے ہوئے کہا اور اسکا ہاتھ پکڑ کے باہر لے آیا۔۔
عیشی آنسو صاف کرتی دل ہی دل میں خوش ہوئ اور چپ چاپ بیٹھ کے کھانا کھانے لگی۔۔۔
“مشی عیشی کہاں ہے”۔۔
صبح صبح ناشتے کے میز پہ مشی کو اونگتے دیکھ کے رشی نے اسکو سیدھا کرکے بٹھایا اور منہ میں نوالا ڈالتے پوچھا ۔۔۔
“وہ ابھی تیار نہیں ہوئ”۔۔
مشی نے بند ہوتی آنکھیں کھول کے جمائ روکی اور نوالا چباتے ہوئے جواب دیا۔۔۔
“افووو آج پیپر ہے کوئ فکر ہے تم لوگوں کو”۔۔
رشی نے جلدی جلدی دوسرا نوالا بنا کے اسکے منہ میں ڈالا پھر گھڑی دیکھتی بولی ۔۔۔ انکی وین آنے میں پانچ منٹ باقی تھے۔۔
“شاہ اسکو ناشتہ کرائیں میں عیشی کو دیکھ لوں”۔۔
شازیب کو وہاں آتا دیکھ کے رشی نے کہا اور خود عیشی اور مشی کے مشترکہ کمرے میں چلی گئ۔۔۔
“آہہ میرا پیارا بچہ “۔۔
شازیب نے مشی کو دیکھا جو آنکھیں بند کیئے آہستہ آہستہ منہ ہلا کے نوالا چبا رہی تھی۔۔۔ پھر اسکے سر پہ پیار کرتے اسکے پاس بیٹھ گیا اور چھوٹے چھوٹے نوالے بنا کے اسکے منہ میں ڈالنے لگا۔۔۔ مشی بھی مزید لاڈ دیکھانے لگی اور سر شازیب کے بازو پہ رکھ لیا۔۔۔
“اففف عیشی کیا کروں میں تمھارا”۔۔
کمرے میں آتے ہی رشی سر پکڑ کے بولی۔۔ کیونکہ عیشی میڈم شوز پہنتے پہنتے وہی جھکی ہوئ نیند پوری کرنے لگی جبکہ بال کھلے ہوئے تھے ابھی۔۔۔
“ہماہ ان تینوں کا لنچ اور پانی کی بوتل تیار کردو”۔۔۔
عیشی کے شوز بند کرتے رشی نے ہماہ کو آواز دی اور ہیئر برش لے اسکے بال بنانے لگی۔۔ جبکہ عیشی مسلسل اونگ رہی تھی۔۔۔
“چلو چلو جلدی”۔۔۔
اسکو تیار کرتے رشی نے ان دونوں کے بیگز اٹھائے اور باہر لائ۔۔۔
“یہ لو عیشی جلدی کرو”۔۔۔
کرسی پہ بٹھاتے ہی رشی نے اسکے منہ میں نوالا ڈالا اور دودھ کا گلاس شازیب کو پکڑایا ۔۔ جو مشی کے نا نا کرنے پہ بھی اسے پلانے لگا۔۔۔
“ہماری وین چلی گئ”۔۔
ضرار اندھر آتا بولا تو رشی تپ گئ۔۔۔
“یہ آج ان دونوں کی وجہ سے ہوا کب سے اٹھا رہی تھی مگر مجال ہے جو سنے “۔۔
رشی نے غصے سے کہا جبکہ وین کے جانے کا سن کے عیشی اور مشی کی نیند اڑن چھو ہوگئ تھی اور خوشی سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگی۔۔۔
“رشی آنی میں جا رہا ہوں کالج انکو میں چھوڑ دوں گا”۔۔
ان دونوں کی چمکتی آنکھیں دیکھ کے ہمدان نے کہا پھر ہاتھ صاف کرتا کھڑا ہوا۔۔ رشی بھی انکے لنچ اور بیگز لے کے باہر ائ ۔۔۔ جہاں ہمدان بائیک سٹارٹ کر رہا تھا۔۔
عیشی اور مشی نے گھور کے ہمدان کو دیکھا پھر آہستہ آہستہ باہر آئ۔۔۔
“اللہ کی امان میں بیٹا دھیان سے جانا”
رشی کے پیچھے پیچھے زرتاشہ بھی باہر آگئ ۔۔۔ تینوں کو ہمدان کے بائیک پہ بٹھاتے رشی نے انکے لنچ باکس اور پانی بائیک کے ساتھ لگائے پھر ان تینوں کو بیگز پہنا کے دعا دی۔۔۔
وہ بھی اللہ خافظ کہتے باہر نکل گئے۔۔ تو رشی اور زرتاشہ نے آیت الکرسی پڑھ کے پھونکی پھر واپس اندھر چلی گئ۔۔۔
“اہہہ”۔۔۔
ٹریفک سے بائیک نکالتے ہمدان کو جمپ نظر نا آیا پاس جاتے ہی اسنے زور سے بریک لگائ جس سے عیشی مشی اور ضرار تینوں پیچھے ہوئے۔۔۔ عیشی نے ہمدان کی شرٹ مٹھیوں میں دبائ ہوئ تھی جو اچانک پیچھے جانے کی وجہ سے بازو سے تھوڑی سی پھٹ گئ۔۔۔ تو عیشی کی ہلکی سی چینخ نکلی اس نے ہاتھ منہ پہ رکھ کہ پیچھے مڑ کے ضرار اور مشی کو دیکھا جو پوری آنکھیں کھول کے حیرت سے اسی کو دیکھ رہے تھے۔۔۔ ٹریفک کے شور کی وجہ سے ہمدان کو معلوم نا ہوا۔۔
“تم لوگ ٹھیک ہو؟ “۔۔
ہمدان نے بائیک سائیڈ پہ کرتے پیچھے مڑ کے پوچھا۔۔۔
“جی”۔۔
تینوں نے یک زبان جواب دیا تو پرسکون ہوکے ہمدان دوبارہ بائیک چلانے لگا مگر اس دفعہ سپیڈ قدرے کم تھی۔۔۔
ضرار نے عیشی کے کندھے پہ ہاتھ رکھ کے اسکو رلیکس ہونے کا اشارہ کیا پھر اپنی پینٹ کی جیب سے سنی پلاسٹ نکال کے اسکو دیا۔۔۔
عیشی نے حیرانی سے اسے دیکھا پھر اسکا اشارہ سمجھتے سنی پلاسٹ لے لیا۔۔ اور اسکو کھولتے ہی ہمدان کی شرٹ پہ لگایا جہاں سے بازو پھٹا تھا😂۔۔۔ اس سے پھٹی ہوئ شرٹ چھپ گئ۔۔ تو عیشی نے ضرار کو تھم اپ کیا اور پرسکون ہوکے بیٹھ گئ ۔۔۔
انکے سکول کے پاس پہنچ کے ہمدان نے انکو اتارا اور لنچ باکس پکڑا کے اندھر بھیجا ۔۔جب وہ سکول کے اندھر چلے گئے تو اس نے دوبارہ بائیک سٹارٹ کی اور کالج چلا گیا۔۔۔
“ہاہاہاہاہاہا دیکھوں سرمد ہمدان کو “۔۔۔
کالج پہنچتے ہی ہمدان اپنے دوست علی سے ملا۔۔ مگر جب علی کی نظر اسکے بازو پہ پڑھی جہاں سنی پلاسٹ لگا تھا تو وہ ہنسنے لگا اور اسکے دوسرے دوست کو اشارہ کرکے بتایا۔۔۔
“کیا”۔۔
ان دونوں کو ہنستا دیکھ کے ہمدان نے سوالیہ نظروں سے پوچھا۔۔۔
“ارے میرے یار تجھے بازو پہ چوٹ لگی تھی تو ہاف بازو شرٹ پہن آتے یہ ایسے کیوں کیا ہاہاہاہاہاہا “۔۔
سرمد نے بھی ہنستے ہوئے کہا۔۔
“کیا بول رہے ہو مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا “۔۔۔
ہمدان نے سنجیدگی سے کہا۔۔۔
“ارے چھوڑ نا سرمد اس نے سوچا ایسے کسی کو معلوم نہیں ہوگا اس لیئے سنی پلاسٹ شرٹ کے بازو پہ لگا آیا “۔۔
علی نے کہا پھر سرمد اور علی دوبارہ ہنسنے لگے ۔۔۔
جبکہ سنی پلاسٹ کا سن کے ہمدان حیران ہوا اور اس نے شرٹ کا بازو موڑ کے دیکھا جہاں سنی پلاسٹ لگا تھا ۔۔
“ہاہاہاہا یہ کیا ہاہاہا “۔۔
ہمدان نے سنی پلاسٹ اتارا تو اسنے دیکھا کہ شرٹ پھٹی ہوئ تھی ۔۔۔ جس کو دیکھ کے سرمد اور علی پیٹ پہ ہاتھ رکھ کے ہنسنے لگے جبکہ ہمدان ابھی بھی حیران کھڑا تھا ۔۔۔
“یار علی کتنا معصوم ہے ہمارا دوست اس نے سوچا چوٹ لگے تو سنی پلاسٹ لگانے سے زخم بھر جاتا ہے اسی طرح اسکی شرٹ کا بازو بھی جڑ جائے گا ہاہاہاہاہاہا “۔۔۔
سرمد نے کہا پھر دونوں تالی مار کے ہنسنے لگے جس پہ ہمدان جی بھر کے شرمندہ ہوا۔۔
“چپ کرو “۔۔
ہمدان نے دونوں کو سنجیدگی سے کہا تو دونوں نے منہ پہ انگلی رکھ لی جبکہ آنکھیں ابھی بھی ہنس رہی تھی۔۔۔
“یہ عیشی لوگ”۔۔۔
ہمدان سوچتا ہوا ابھی اتنا ہی بولا تھا کہ سرمد اور علی کا دوبارہ قہقہہ بلند ہوا۔۔
“تو نا سوچ بھائ ہم سمجھ گئے ہیں آج تو آفتوں کے ٹولے کو ساتھ لایا ہے”۔۔
علی نے ہنستے ہوئے کہا۔۔۔ ہمدان اکثر ضرار عیشی مشی کی شرارتوں کا ذکر ان سے کرتا رہتا تھا جس کی وجہ سے وہ ان تینوں کو جانتے تھے ۔۔۔
“چلو کلاس شروع ہونے والی ہے”۔۔۔
ہمدان نے انکو چپ کرانے کے لیئے کھڑے ہوتے ہوئے کہا اور کلاس میں چلا گیا ۔۔۔ علی اور سرمد بھی ہنستے ہوئے اسکے پیچھے چلے گئے۔۔۔۔
“یہ کس نے کیا؟ “۔۔
ہمدان نے لائن میں کھڑے ضرار عیشی اور مشی سے پوچھا۔۔۔
گھر آتے ہی وہ تینوں اسے گارڈن میں مل گئے تھے جہاں وہ پودوں سے تتلیاں پکڑنے کی کوشش کر رہے تھے۔۔
ہمدان نے تینوں کو پاس بلایا اور اپنی شرٹ کے پھٹے بازو کی طرف اشارہ کرکے پوچھا۔۔
“ہمیں کیا پتا؟”۔۔
عیشی ہاتھ جھاڑتے بولی تو ہمدان نے اسے دیکھا۔۔۔ اسے معلوم تھا جتنی ڈھٹائ سے وہ بول رہی تھی یہ کام اسی کا تھا۔۔۔
“اب ہم آپ کے ساتھ تو ہوتے نہیں جو ہمیں معلوم ہو آپ کس کس سے پنگے لیتے مار کٹائ کرتے ہیں”۔۔
اسکو مسلسل اپنی طرف دیکھتے پا کے عیشی نے کمال مہارت سے بات اس پہ الٹ دی تو ہمدان بس سر جھٹک کے رہ گیا ۔۔۔ اسے معلوم تھا وہ لوگ کبھی نہیں مانے گے اس لیئے بحث بیکار ہے۔۔
ہمدان سر نفی میں ہلاتا اندھر چلا گیا تو تینوں نے تالی مار کے یس کہا اور دوبارہ تتلیاں پکڑنے لگے۔۔۔۔
دن یو ہی گزرتے گئے پیپرز کی وجہ سے وہ تینوں بزی ہو گئے جس کی وجہ سے گھر میں کچھ سکون تھا۔۔۔
آخری پیپر دے کے آتے ہی وہ دوبارہ اپنی ٹون میں واپس آئے۔۔مگر جان تب اٹکی جب خبر ملی کے رزلٹ لینے عارب ہماہ اور رشی جائے گے مطلب پورے سکول کے سامنے بے عزتی۔۔۔۔ اب انکو بس یہ فکر تھی کہ ان کو کیسے روکا جائے۔۔۔ مگر جہاں عیشی ہو وہاں فکر کا کیا کام۔۔۔ اس نے سوچ لیا تھا کہ انکو کیسے روکنا ہے ۔۔۔۔
مشی یار کل رزلٹ ہے اگر رشی ماما اور پاپا چلے گئے تو ہم پھنس جائیں گے ۔۔۔۔
ضرار نے کمرے میں چکر کاٹتے کہا جبکہ عیشی اور مشی دونوں سکون سے بیٹھی لیز کھا رہی تھی ساتھ کارٹون دیکھ رہی تھی۔۔۔
ہاں تم ٹھیک کہہ رہے ہو۔۔۔۔
مشی نے بھی پریشانی سے کہا جبکہ عیشی ان دونوں کو دیکھ کے مسکرا رہی تھی۔۔۔
تمھیں کیا ہوا ایسے کیوں ہنس رہی ہو؟۔۔۔
ضرار نے عیشی سے کہا تو وہ لیز کا پیکٹ میز پہ رکھتی ان دونوں کے پاس آئ جو اسے سوالیہ نظروں سے دیکھ رہے تھے۔۔۔
میں نے سب بندوبست کر لیا ہے ہمارا رزلٹ لینے دانی بھائ جائیں گے تم دونوں پریشان نا ہو۔۔۔
عیشی کا ان دونوں کو پتا تھا وہ ان سب میں ماسٹر مائنڈ تھی اکثر پلانز اسی کے ہوتے تھے۔۔۔
اس نے اپنا پلان ڈسکس کیا تو ضرار اور مشی بھی ہنس پڑھے ۔۔۔
وہ تینوں ایک ہی سکول میں پڑتے تھے جبکہ امان منال اور خنان دوسرے سکول میں تھے اور ہمدان کالج جاتا تھا۔۔۔ اسکا کالج میں پہلا سال تھا ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماما آج سکول کون جائے گا؟۔۔
ضرار عیشی اور مشی کچن میں ناشتہ کرنے آئے تو ضرار نے پوچھا ۔۔۔
کچن میں ہماہ زرتاشہ اور رشی ناشتہ بنا رہی تھی۔۔۔
تمھارے پاپا جائیں گے۔۔
ہماہ نے مصروف انداز میں کہا تو تینوں نے شکر ادا کیا کے صرف ایک ہی ہے اسے سنبھال لےگے😜۔۔۔
السلام علیکم۔۔۔ سب باری باری کچن میں آتے سلام کرنے لگے اور اپنی اپنی جگہ سنبھال لی۔۔۔
عارب کے بیٹھتے ہی ضرار عیشی اور مشی ایک دوسرے کی طرف دیکھ کے مسکرانے لگے مگر کسی نے نوٹ نہیں کیا۔۔۔
ہارن کی آواز پہ وہ تینوں جلدی سے اٹھ گئے انکے ساتھ ہی منال خنان اور امان بھی اپنی وین کے لیئے باہر آگئے اور ہمدان بھی بائک کی چابی لیتا سبکو اللہ حافظ کہتا نکل گیا اب میز پہ صرف بڑھے موجود تھے۔۔۔
عارب تم بچوں کو رزلٹ لے کے مارکٹ چلے جانا کچھ سامان منگوانا ہے۔۔۔
زری نے کہا تو عارب نے اثبات میں سر ہلایا اور ناشتہ ختم کرکے گاڑھی کی چابی لے کے اٹھنے لگا۔۔۔ مگر یہ کیا😂 ۔۔۔۔ وہ کرسی سے چپک گیا بار بار کوشش کرنے پہ بھی نا اٹھ سکا تو بچارگی سے سب کی طرف دیکھا جو دبی دبی ہنسی ہنس رہے تھے سوائے رشی کے جو سر پکڑے بیٹھی تھی۔۔۔اور لو بچوں سے پنگا کل کہہ جو رہے تھے میں رزلٹ لینے آوں گا اچھا نا آیا تو سب کے سامنے مرغا بناوں گا۔۔۔ رشی نے دانت پیس کے کہا تو سبکا فلک شگاف قہقہہ بلند ہوا۔۔
آنے دو آج انکو واپس اچھے سے خبر لیتا ہوں۔۔عارب نے غصے سے کہا تو عازب ہنسنے لگا۔۔۔
ہر بار تم یہی کہتے ہو مگر ہر بار بچے تمھاری خبر لے لیتے ہیں۔۔۔
عازب نے ہنستے ہوئے کہا تو عارب نے بچارا سا منہ بنایا۔۔۔
اب معلوم ہوا کتنا تنگ کرتے تھے تم اور رشی مجھے ۔۔۔
ریا نے جلتی پہ تیل ڈالا تو رشی اور عارب دونوں نے سر پکڑ لیا۔۔
اچھا تم رہنے دو میں چلا جاوں گا۔۔۔
شازیب نے کہا اور اٹھنے لگا۔۔۔
رکے آپکے ساتھ میں بھی جاوں گی۔۔
رشی نے جلدی سے کہا اور پانچ منٹ کا کہتی تیار ہونے چلی گئ۔۔۔
شازیب بھی باہر نکل گیا تاکہ گاڑھی سٹارٹ کر سکے۔۔۔
مگر پانچ منٹ بعد منہ لٹکائے واپس آگیا😜۔۔۔
کیا ہوا؟۔۔
عازب نے پوچھا۔۔۔
بچے آپکی میری اور عارب تینوں کی گاڑی کا ٹائر پینچر کر گئے ہیں۔۔
شازیب نے بچارا سا منہ بنا کے کہا تو ریا اور عازب نے قہقہہ لگایا۔۔۔
پھر یہ طے پایا کہ ہمدان کو کال کردے وہ لے آئے گا رزلٹ کیونکہ اسکا کالج سکول کے پاس ہی ہے😜۔۔۔۔
♡♡♡♡
تمھیں لگتا ہے پلان کام کرے گا۔۔۔
ضرار بینچ پہ بیٹھا بولا تو عیشی نے زور زور سے اثبات میں سر ہلایا۔۔۔
اچھا بتاو پھر بچنا کیسے ہے گھر جاکے؟
ضرار نے پوچھا تو عیشی نے اگلا پلان بتایا جس پہ ضرار اور مشی واہ واہ کر اٹھے۔۔۔
تب ہی انہیں گیٹ سے ہمدان آتا دیکھائ دیا تو ضرار اور مشی نے عیشی کو داد دی اور تینوں بھاگ کے ہمدان کے پاس آئے۔۔۔۔
♡♡♡♡
جاری ہے…
