393.4K
34

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Ek Hai Aafat) Episode 28

“اچھا بس کرو تم دونوں جیسی ہے یہ بس عادتیں تم دونوں پہ نا جائیں اس کی”
عیشی مشی کی لڑائ کو بڑھتا دیکھ کے رشی نے ڈانٹ کے کہا تو دونوں منہ بنا کے اسے دیکھنے لگی۔۔
“ہمدان بیٹا اب تم بھی شادی کا سوچ لو تایا بن گئے ہو”۔۔
ریا ہمدان کو دیکھتے ہوئے بولی جو بچی گود میں لیئے امان اور حنان کو اسکے چھوٹے چھوٹے ہاتھ دیکھا رہا تھا۔۔
“نا بھئ یہ تو تب شادی کریں گے جب انکی بھتیجی خود انہیں سہرا باندھے گی”۔۔
ضرار جو جاب پہ جانے کے لیئے سبکو اللہ خافظ کہنے آیا تھا دروازے میں کھڑے ہوتے شرارت سے بولا۔۔
“ہاں وہ سہرا تو میں بھی باندھ سکتی ہوں ۔۔ بلکہ ایک کام کرتے ہیں دانی بھائ کو سہرا میں ہی باندھ دوں گی کیسا”۔۔
عیشی ضرار کو دیکھتے خوش سے بولی۔۔ اور بات ختم کرکے سب سے رائے لینے کے لیئے سب کی طرف دیکھا جو ہنسی چھپا رہیں تھی۔۔ جبکہ ہمدان منہ کھولے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔
“عیشی مشی جاو کچن میں دیکھو سوپ بن گیا۔۔ منو کو لا کے دو صبح سے بیچاری نے کچھ نہیں کھایا ۔۔”
عیشی کو دوبارہ منہ کھولتے دیکھ کے ریا بولی تو وہ بھی منو کے تھکے تھکے چہرے کو دیکھ کے کچن میں چلی گئ۔۔اسکے پیچھے ہی مشی بھی نکل گئ تو سب نے ہمدان کو دیکھتے ہوئے قہقہہ لگایا جو سر پکڑ کے بیٹھ گیا ۔۔ دو سال پہلے سب بڑھوں نے اسکا اور عیشی کا رشتہ طے کر دیا تھا۔۔ مگر عیشی ابھی چھوٹی تھی تو اسے نہیں بتایا گیا۔۔
😻😻😻😻😻😻😻😻
“عیشی مجھے تم سے ایک بات کرنی ہے؟”۔۔
عیشی کچن میں بیٹھی نوڈلز کھا رہی تھی جب رشی شیلف صاف کرتے ہوئے بولی۔
“جی “
منہ میں نوڈلز ڈالتے وہ مصروف انداز میں بولی۔۔
“ہم سب بڑھوں نے فیصلہ کیا ہے ۔۔امان کے واپس آتے ہی اسکی شادی کرے گے تو ساتھ تمھارا اور مشی کا نکاح بھی کردیں”۔۔
کپڑا شیلف پہ رکھتے رشی اسکے پاس بیٹھی اور سکون سے بولی۔۔تو عیشی نے حیرت سے اسے دیکھا۔۔
“ہیںںں استغفرواللہ چھوٹی بہن ہم لڑکیاں ہیں اور بہنیں ہیں”
بمشکل منہ میں ڈلا نوالہ خلق سے اتارتے پوری آنکھیں کھول کے بولی تو رشی نے میز پہ پڑھا چمچ اٹھا کے اسکے بازو پہ مارا۔۔
“عیشی افففف عقل کی اندھی میرا مطلب ہے لڑکوں سے تم دونوں کا نکاح کردیں”۔۔
رشی نے غصے سے کہا تو عیشی کا رکا ہوا سانس بحال ہوا اور اسنے چمچ مارنے پہ منہ بنا کے رشی کو دیکھا۔
“چھوڑیں چھوٹی بہن کیا پرایا منڈا برباد کرنا”
عیشی دوبارا اطمینان سے نوڈلز کھاتے ہوئے بولی تو رشی نے کھا جانے والی نظروں سے اسے دیکھا۔۔
“بکو مت میں نے کہہ دیا سو کہہ دیا۔۔ امان کے آتے ہی اسکا نکاح ہوگا۔۔اور ساتھ ہی تم دونوں کا بھی بس”۔۔
اپنا حصہ ختم کرکے مشی کا باول اٹھاتے دیکھ کے رشی نے اسکے بڑھے ہوئے ہاتھ پہ تھپڑ مارا اور مشی کا باول اٹھا کے سیلف پہ رکھتے دو ٹوک انداز میں بولی۔۔
“ایسے کیسے نکاح ہوگا لڑکا تو دیکھائے”
نوڈلز اٹھانے اور پھر اپنا فیصلہ سنانے پہ عیشی کا حیرت سے منہ کھل گیا۔۔اور میز بجا کے وہ احتجاج کرنے والے انداز میں بولی۔۔
“لڑکا اچھا ہے”۔۔
رشی نے مختصر سا جواب دیا۔۔
“ایسے کیسے مان لوں۔۔آپ شاید گنجا لڑکا ڈھونڈ لائ ہو میرے لیئے۔۔ یا اسکی توند نکلی ہو۔۔ یا دانت باہر ہو پھر”۔۔
عیشی منہ بنا کے احتجاجأ بولی تو رشی نے ماتھا پیٹا ۔۔
“تمھیں نکاح والے دن دیکھا دیا جائے گا لڑکا “۔۔
“تو ٹھیک ہے میں بھی پینسل ساتھ لے کے جاوں گی اور نکاح نامے پہ سائن پینسل سے کروں گی۔۔ دولہا پسند نا آیا تو ریز کردو گی😏”۔۔
عیشی آنکھیں گھوماتی ختمی لہجے میں بولی ۔۔
“عیشیییییی”۔۔
اس سے پہلے کے رشی اسکی بات کے صدمے سے نکلتی اور کچھ بولتی۔۔ عیشی نے شیلف پہ پڑھا مشی کے نوڈلز کا باول اٹھایا اور زبان دیکھاتی باول لے کے کمرے میں بھاگ گی۔۔ رشی کو جب سمجھ آیا تو دونوں ہاتھ میز پہ مارتی زور سے بولی مگر تب تک عیشی روم اندھر سے لاک کر چکی تھی۔۔😂
😻😻😻😻😻😻😻😻
“بیٹا جلدی سے تیار ہوجاو شاہ ہاوس جانا ہے۔۔ منال کی بیٹی کو دیکھنے”۔۔
نازلی کمرے میں بیٹھی نوین کے ساتھ کھیل رہی تھی جب بریرہ نے آکے بتایا۔۔
“اسے مجھے دے دو سارہ کو دے آوں اسے بھی تیار کردے۔۔خازق آنے والا ہوگا”
نازلی کو کھویا ہوا دیکھ کے بریرہ اسکے سامنے سے نوین کو اٹھاتے ہوئے بولی جو دونوں ہاتھوں سے پاوں کا انگوٹھا پکڑے ادھر ادھر جھلاتے ہوئے نازلی کو دیکھ رہی تھی۔۔
“مام مجھے نہیں جانا۔۔ وہ یونی کا ایک کام کرنا ہے”۔۔
نازلی جلدی سے بہانہ بنا گئ تو بریرہ نے سنجیدگی سے اسے دیکھا۔۔
“ہم زیادہ دیر وہاں نہیں رکیں گے تم تیار ہوجاو جلدی”۔۔
بریرہ نے دو ٹوک انداز میں کہا اور نوین کو لے کے کمرے سے نکل گئ۔۔ تو نازلی نے گہرا سانس لیتے ہوئے دروازے کو دیکھا۔۔ پچھلے دو سالوں سے بارہا اس نے کوشش کی اس رشتے کے بارے میں سوچنے کی مگر ناکام رہی۔۔
😻😻😻😻😻😻😻😻
“ارے نازلی بیٹا تم بھی کچھ لو نا۔۔ جب سے آئ ہو چپ چپ بیٹھی ہو”۔
نازلی کو خاموشی سے انگلیاں مڑوڑتے دیکھ کے ریا پیار سے بولی تو نازلی ہلکا سا مسکرائ۔۔
عیشی مشی گھر نہیں تھی۔۔
“السلام علیکم۔۔۔ ما شاہ اللہ ویلکم ویلکم”۔۔
نازلی نے جیسے ہی ہاتھ بڑھایا اسے سب کی پرجوش آواز سنائ دی۔۔ اسنے کھڑے ہوتے پیچھے مڑ کے دیکھا تو وہی شاکڈ ہوگئ۔۔ پیچھے امان اور حنان سفری بیگ اٹھائے مسکراتے ہوئے سب سے مل رہے تھے۔۔ عیشی مشی ہمدان اور ضرار بھی ساتھ کھڑے مسکرا رہے تھے۔۔
وہ لوگ انکو لینے ائیر پورٹ گئے تھے۔۔
بریرہ خازق سب باری باری مسکراتے ہوئے انہیں ملے۔۔
یعنی سب کو معلوم تھا صرف وہی انجان تھی۔۔ نازلی نے سنجیدگی سے بریرہ کو دیکھا تو وہ نظریں چرا گئ۔۔
نازلی کو اپنا آپ یہاں انفٹ لگا تو سبکو ایسے ہی چھوڑ کے وہ خاموشی سے باہر چلی گئ۔۔ امان نے مسکراتے سبکو ملتے اسکو دیکھا۔۔
😻😻😻😻😻😻😻😻
“آوچچچچچ “
“تم نے کیا ساری زندگی یہی کام کرنا ہے۔۔دوسروں سے ٹکریں مارنا”
نازلی کچھ دیر صحن میں رکنےکے بعد جیسے ہی باہر سے اندھر جانے کے لیئے مڑی تو کال پہ بات کرتے سامنے سے آتے امان سے ٹکرائ ۔۔ نازلی تو دیوار کا سہارا لےکے کھڑی ہوگئ مگر امان مٹی کے گملے پہ گرا اور کھڑا ہوکے ہاتھ جھاڑتے غصے سے بولا۔۔
“نہیں میرا ایک اور کام بھی ہے برائ ختم کرنا جسکی شروعات میں شاہ ہاوس سے کرنے جا رہی ہوں”
نازلی دانت پیس کے بولی تو امان نے غصے سے اسے دیکھا۔۔
“ہنننن بات ایسے کر رہی ہے جیسے دنیا کی چھوٹی ڈان ہے ۔۔ اور جہاں بات ائ بولنے کی وہاں بھیگی بلی بن گئ”۔۔
امان نے طعنہ مارا تو نازلی نے سنجیدہ نظروں سے اسے دیکھا۔۔
“اےے سنو کہی تمھارا ارادہ تو نہیں بدل گیا۔۔ مجھ جیسے ہینڈ سم ۔۔ پاپولر لڑکے کو دیکھ کے”
نازلی خاموشی سے جانے لگی تو امان کو یہ اچھا نا لگا۔۔ وہ جان بوجھ کے اسے چھیڑنے کے لئے بولا۔۔اور اسکی بات سچ ہوئ۔۔ نازلی واقع تپ گئ۔۔
“شکل دیکھی ہے اپنی۔۔ میری طرف سے فل سپیڈ سے بھاڑ میں جاو تم بھی اور تمھاری فارم بھی”۔۔
نازلی غصے سے پاوں پٹخ کے بولی ۔۔ تب بھی اسکا غصہ کم نا ہوا تو امان کی طرف مڑتے اسے زوردار دھکا مار کے اندر چلی گئ۔۔
امان اس حملے کے لیئے تیار نا تھا اور ساتھ ہی دھرام سے زمین پہ گرا۔۔
نازلی کے اندھر جاتے ہی وہ کہنیوں کے بل بیٹھ گیا اور مسکرانے لگا۔۔ ان دو سالوں میں اسکا نظریہ نازلی کو لے کے بالکل
بدل گیا تھا۔۔
“ویسے اتنی لڑائ فٹ رہنے کے لیئے اچھی ہوگی”۔۔
اس نے مسکراتے ہوئے کہا اور اٹھ کے کپڑے جھاڑنے لگا۔۔
😻😻😻😻😻😻😻😻
“آپ نے کوئ خاص بات کرنی تھی کیا “۔۔
رات سب مل کے کھانا کھا رہے تھے جب احرار صاحب کو دیکھ کے عازب بولا جسے انہوں نے ایک ضروری کام سے گھر بلایا تھا۔۔ نازلی لوگ بھی یہی تھے۔۔
“ہاں سب سے کرنی تھی۔۔ اصل میں ہم نے سوچا اس جمعہ کو ہم بچی کا عقیقہ کریں گے۔۔ اور اسی دن نازلی اور امان کا نکاح بھی ساتھ ہی عیشی مشی کا نکاح بھی کردیں گے”۔۔
“کیاااااا”
احرار صاحب جیسے ہی بولے نازلی حیرت سے چینخی۔۔ سب اسکی طرف دیکھنے لگے تو امان نے مسکراہٹ دبائ ان دو سالوں میں وہ بالکل نہیں بدلی تھی۔۔ اسکا کیاااا آج بھی ویسا ہی تھا😂۔۔ بس فرق یہ تھا آج امان نہیں چینخا تھا۔۔۔
بریرہ نے سر پکڑ لیا۔۔ کہ کچھ بھی ہوجائے نازلی نہیں بدلے گی۔۔۔
😻😻😻😻😻😻😻😻
جاری ہے۔۔