Ek Hai Aafat Season 2 By Binte Hawa Readelle50339 (Ek Hai Aafat) Episode 22
Rate this Novel
(Ek Hai Aafat) Episode 22
“مام آپ تو کہہ رہی تھی سارہ خوش ہے اس رشتے سے پھر اب یہ سب کیا ہے؟”۔۔
ذنبیل کمرے میں آیا اور زور سے مکا دیوار پہ مارا ۔تب ہی حرم بھی اسکے پیچھے کمرے میں آئ تو اس نے اپنا غصہ کنٹرول کرتے ہوئے سپاٹ لہجے میں پوچھا۔۔۔
“ذنبیل میں ماں ہوں اسکی ۔۔ اسکا برا نہیں چاہوں گی۔۔ یقین کرو وہ جو مانگ رہی ہے اس دفعہ۔۔ وہ اس کے لیئے نہیں ہے۔۔ اسکا یہ کچھ دن کا رونا ساری زندگی کے رونے سے بہتر ہے۔۔ وہ وقت کے ساتھ ساتھ سمجھ جائے گی۔۔ تم فکر مت کرو۔۔ اور کیا وہ آگ مانگتی تو تم لا دیتے۔۔ اس دفعہ کچھ ایسا ہی حال ہے اسکی فرمائش کا۔۔ پلیزز بیٹا اپنی ماں کو سمجھنے کی کوشش کرو۔۔ اسکی کچھ دن کی ناراضگی ساری زندگی کے رونے سے بہتر ہے”۔۔
حرم کے دو ٹوک انداز پہ ذنبیل لاجواب ہوگیا۔۔ اور بے بس سا بیڈ پہ بیٹھ گیا۔۔ دونوں ہاتھ بالوں میں پھنسا کے وہ بے بسی کی انتہا پہ تھا۔۔ یہ تو وہ بھی جان گیا تھا حرم کبھی سارہ کا برا نہیں چاہے گی۔۔
“حوصلہ مت ہارو ۔۔ ان شاہ اللہ ہماری سارہ بہت خوش رہے گی”۔۔
حرم نے اسکا کندھا تھپتھپا کے کہا تو اس نے بھی دل سے ان شاہ اللہ کہا۔۔ اور حرم کے ہاتھ کی پشت پہ سر ٹکا دیا۔۔ حرم بھی اسکے پاس بیٹھ گئ اور اسکا سر تھپتھپانے لگی۔۔۔
💘💘💘💘💘💘💘💘
“اے سنو”۔۔
عیشی مشی کالج میں داخل ہوئ تو دو لڑکیاں سیڑھیوں پہ بیٹھی تھی ۔۔ عیشی جیسے ہی پاس سے گزرنے لگی۔۔ تو ایک نے روکا۔۔ وہ دونوں انکی سینیئرز تھی۔۔
“کیا؟”
عیشی نے رک نے نا سمجھی سے اسے دیکھا اور سوال کیا۔ تو دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کے مسکرانے لگی۔۔
“یہ پن اٹھا کے دو”۔۔
جس لڑکی نے روکا تھا اس نے ہاتھ میں پکڑا پن سیڑھیوں سے نیچے پھینکا اور عیشی کو حکم دیا۔۔
“جی اچھا”۔۔
عیشی نے پیچھے مڑ کے پن کو دیکھا اور معصوم شکل بنا کے بولی۔ تو دونوں لڑکیوں نے گردھن اکڑا کے اسے دیکھا۔۔ وہی مشی عیشی کی اس تابعداری پہ بے ہوش ہونے کو تھی۔۔ جبکہ سیڑھیوں سے تھوڑا دور کھڑی نازلی بھی حیرت سے عیشی کو دیکھنے لگی۔۔ اور ابھی ہی کالج میں آئ تھی۔۔ جب اس لڑکی نے پن نیچے پھینکا تھا۔۔
انکی دیکھا دیکھی بہت سی اور سینئرز اور جونئیرز بھی رک کے تجسس سے دیکھنے لگی۔۔
“یہ لو”۔۔
آہستہ آہستہ سیڑھیوں سے اتر کے پن کے پاس آتے ہی عیشی نے پاوں مار کے پن تھوڑا اور دور پھینکا اور اس لڑکی کو دیکھ کے معصومیت سے مسکرا کے بولی۔۔ وہی مشی اور نازلی کا رکا ہوا سانس بحال ہوا کہ عیشی کی ذہنی حالت بالکل اپنی جگہ پہ ہے۔۔ اور دونوں ہنسی روک کے اس لڑکی کو دیکھنے لگی جو اب عیشی کو ایسے گھور رہی تھی جیسے کچا چبا جائے گی۔۔
“تمھاری اتنی ہمت”۔۔
وہ لڑکی سیڑھیوں پہ کھڑی ہوکے چلائ۔۔ کیونکہ تمام لڑکیاں اسنے مذاق اڑاتی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔۔
“ہی ہی ہی ہی سینئر باجی یہ ہمت تو کچھ بھی نہیں ہے۔۔ آپ تعریف مت کریں اتنی سی ہمت پہ مجھے شرم آتی ہے”۔۔
عیشی کالج سیش کا کونہ پکڑ کے دانتوں میں دباتے معصومیت سے بولی اور آخری بات پہ دونوں ہاتھ آنکھوں پہ رکھ لیئے تو پورے مجمعے نے زوردار قہقہہ لگایا۔۔
“تمھیں تو میں دیکھ لوں گی بچو”۔۔
وہ لڑکی غصے سے اسکی جانب بڑھی۔۔مگر دور سے آتی ٹیچر کو دیکھتے اس لڑکی نے دانت پیس کے کہا اور وہاں سے جانے لگی۔۔
“ہاں ضرور دیکھ لینا مگر ما شاہ اللہ ضرور بولنا وہ کیا ہے نا مجھے نظر بہت جلدی لگتی ہے”۔۔
عیشی آنکھیں مٹکاتے ہوئے بولی تو سب نے دوبارہ قہقہہ لگایا اور وہ لڑکی پاوں پٹختی وہاں سے واک آوٹ کر گئ۔۔ تب ہی مشی اور نازلی بھی ہنستی ہوئ اس آفت کے پاس آئ اور بازو سے پکڑ کے اسے ساتھ لے گئ۔۔
💘💘💘💘💘💘💘💘
“تمہیں پتا ہے یہاں آدھے سے زیادہ لڑکیاں کوجی ہیں”۔۔
لاسٹ پریڈ کے بعد عیشی مشی اور نازلی سیڑھیوں سے اتر رہی تھی۔۔ جب عیشی نے پن انگلیوں پہ گھوماتے ہوئے کہا۔۔۔
اسکی بات سن کے نازلی نے پوری آنکھیں کھول کے اسے دیکھا جبکہ مشی نے جوس کا ڈبہ کھولنے پہ ہی اپنی توجہ مرکوز رکھی ۔۔جیسے اس کے لیئے اس وقت کا سب سے اہم کام یہی ہو۔۔۔
“کیوں تمہیں کیسے پتا؟”۔۔
نازلی نے مشی کو مصروف دیکھا۔۔ جسے عیشی کی اوٹ پٹانگ باتوں سے کوئ مطلب نہیں تھا۔۔ اور پھر تجسس سے عیشی سے پوچھا۔۔
“لو جی اس کو جاننے کے لیئے بھی کوئ تجربے کی ضرورت تھوڑی نا ہوتی ہے”۔۔
آخری سیڑھی پہ رک کے عیشی نے مسکراتے ہوئے کہا جبکہ مشی اب دونوں کو اگنور کیئے لیز کھاتے ہوتے ایک ایک گھونٹ جوس پی رہی تھی۔۔
عیشی کی بات پہ نازلی نا سمجھی سے منہ کھولے اسکو دیکھنے لگی تو عیشی نے سر پہ ہاتھ مارا۔۔ پھر مشی کے ہاتھ میں پکڑا لیز کا پیکٹ لیا اور ایک لیز نکال کے نازلی کے کھلے منہ میں ڈالا۔۔ جبکہ تین چار اپنے منہ میں ٹھونسے اور دوبارہ پیکٹ مشی کو پکڑا دیا😂۔۔ کیونکہ اسے معلوم تھا اگلی بار مشی نے پیکٹ نہیں دینا تھا۔۔۔
نازلی برا سا منہ بنا کے اسے دیکھنے لگی ۔۔
“او ہو اتنا مت سوچو۔۔ابھی دیکھنا “۔۔
آخری سیڑھی پہ ہی رکے عیشی نے کہا ۔۔
گراؤنڈ اس وقت لڑکیوں سے بھرا پڑا تھا۔۔ چھٹی کا وقت ہو چکا تھا کچھ لڑکیاں ۔۔کلاس رومز میں تھی جبکہ زیادہ تر گھر جانے کے لیئے نکل رہی تھی۔۔
“اوئےےےےے کوجی “۔۔
عیشی نے ایک ہاتھ دائیں گال پہ رکھ کے آواز کو روکتے ہوئے۔۔ اونچی آواز میں کہا تو گراونڈ میں موجود آدھے سے زیادہ لڑکیوں نے مڑ کے دیکھا۔۔ عیشی نے نازلی کی طرف دیکھتے ہوئے ایک آنکھ بند کرکے مسکراہٹ دبائ ۔۔جبکہ عیشی کی حرکت پہ جوس فوارے کی صورت مشی کے منہ سے باہر نکلا۔۔ اب اسکی شرارت سمجھتے نازلی بھی ہنس رہی تھی۔۔ کچھ لڑکیاں تو انکو ہنستا دیکھ کے شرمندہ سی ہو گئ۔۔ جبکہ کچھ نے گھور کے عیشی کو دیکھا اور منہ ہی منہ میں کچھ بڑبڑاتے ہوئے گیٹ کی طرف چلی گئ۔۔ کیونکہ ان تینوں کے گروپ سے پنگا تو کوئ لے نہیں سکتا تھا۔۔۔
یہ وہ آفتیں تھی جنہوں نے سینئرز کو بھی تگنی کا ناچ نچا دیا تھا۔۔ اور یہاں سینیئرز جونیئر سے بچ کے چل رہی تھی۔۔😂۔۔
“ویسے کوجی تو ہم لوگ بھی ہیں”۔۔
نازلی نے دونوں کے ساتھ چلتے ہوئے گیٹ کے پاس آتے کہا۔۔ کیونکہ چھٹی ہو چکی تھی۔۔
“ہاں اور ہمارے نصیب میں بھی کوجے ہی ہونگے”۔۔
مشی نے جلے دل کے ساتھ کہا تو عیشی اور نازلی نے زوردار قہقہہ لگایا ۔۔
“نا بھئ مجھے تو چٹا ہیرو چاہیئے کالی تو میں خود ہی بہت ہوں”۔۔
نازلی نے اپنی ہی دھن میں چلتے ہوئے کہا ۔۔ تو سامنے سے آتا امان اسکی بے باک بات سن کے حیران رہ گیا۔۔ آج وہ عیشی مشی کو لینے آیا تھا ۔۔کیونکہ خنان منگنی کی خوشی میں سبکو ایک ریسٹورینٹ میں پارٹی دے رہا تھا۔۔اور یہ پارٹی اتنے ٹائم بعد امان نے کیسے لی تھی یہ وہی جانتا تھا ۔۔۔
“السلام علیکم بھائ”۔۔
نازلی کی بات پہ عیشی مشی دونوں ہنس رہی تھی۔۔جب انکی نظر سامنے سے آتے امان پہ گئ۔۔تو دونوں نے سلام کیا۔۔ انکے سلام پہ نازلی نے چونک کے امان کو دیکھا۔۔ دل ہی دل میں اپنی بات پہ وہ شرمندہ ہوگئ۔۔ مگر سامنے ظاہر نہیں کیا۔۔اور امان کو ایسے اگنور کیا جیسے وہ وہاں ہو ہی نا۔۔ امان نے بھی اسے ویسے ہی اگنور کیا اور عیشی مشی کو ساتھ چلنے کا کہا۔۔
“اوہ میں تم لوگوں کو بتانا بھول گئ۔۔ خازق بھائ کے رشتے کے لیئے سارہ آپی کے ماما پاپا نے ہاں کر دی ہے۔۔ اور نیکسٹ ویک ہم بھائ کی منگنی کریں گے۔۔ میں ماما کے ساتھ آپ لوگوں کو انوائٹ کرنے آوں گی۔۔ اور ہم تینوں شاپنگ اگھٹی کریں گے تیار رہنا۔۔”
جیسے ہی وہ دونوں نازلی کو بائے کہہ کے امان کے ساتھ جانے لگی۔۔ کچھ یاد آنے پہ نازلی فورأ مڑی اور جوش سے بولی۔۔ جبکہ اسکی بات پہ عیشی کو 420 واٹ کا جھٹکا لگا۔۔ اور مشی نے بھی اسکی بات سن کے جھٹکے سے عیشی کو دیکھا جسکا چہرہ زرد پڑھ رہا تھا ۔۔
“سارہ آپی کا رشتہ خازق بھائ سے کیسے ہو سکتا ہے وہ تو ہم”۔۔
“آ مشی جلدی کرو ہم لیٹ ہو رہے ہیں “۔۔
ہوش میں آتے ہی مشی نے کچھ بولنا چاہا۔۔ جبکہ امان کو وقت پہ کچھ گڑبڑھ کا احساس ہوا تو جلدی سے اسنے مشی کی بات کاٹی اور اسے پکڑتے ہوئے گاڑی میں بٹھایا ۔۔ جبکہ عیشی ابھی تک بت بنی کھڑی تھی۔۔ اور نازلی امان کے ایسے رویے پہ حیرانی سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔ امان نے عیشی کو بھی گاڑی میں بٹھایا اور نازلی کو اللہ حافظ کہتا خود گاڑی لے گیا۔۔
“ہنننن بے مروت ۔۔کھڑوس۔جنگلی۔۔ دیو ۔۔ اتنا بھی نا ہوا جھوٹے منہ ہی لفٹ کی آفر کر دیتا۔۔ دیکھ بھی رہا تھا ابھی تک میری گاڑی نہیں آئ ۔۔اب میں معصوم خوبصورت لڑکی روڈ پہ کھڑی اچھی لگوں گی کیا”۔۔
نازلی نے غصے سے امان کی گاڑی کو گھورا جو روڈ پہ بہت آگے جا چکی تھی۔۔ پھر فٹ پاتھ پہ ہی بیٹھتے غصے میں بڑبڑانے لگی۔۔ تو اندھر سے آواز آئ اگر وہ آفر کرتا تم سچ میں بیٹھ بھی جاتی😂۔۔ ضمیر کی آواز پہ نازلی نے پہلو بدلا۔۔اور گاڑی والے کو کوسنے لگی جو ابھی تک نہیں آیا تھا ۔۔۔
💘💘💘💘💘💘💘💘
“بھائ آپ نے مجھے پوچھنے کیوں نہیں دیا؟”۔۔
جب گاڑی روڈ پہ آگئ تو مشی امان کی طرف مڑتے ہوئے بولی۔۔ جبکہ عیشی بالکل خاموش بیٹھی تھی ۔۔
“کیا پوچھتی تم اس سے”۔۔
امان نے الٹا سوال کیا۔۔
“یہی کہ سارہ آپی کا رشتہ تو ہمدان بھائ سے ہونا تھا۔۔پھر خازق بھائ سے انہوں نے کیسے کر دیا؟”۔۔
مشی منہ بنا کے بولی۔۔تو امان نے گہرا سانس لیا۔۔
“مشی وہ بات صرف ہمارے گھر ہوئ تھی۔۔ زری آنی اور بڑھے پاپا اسکا رشتہ لے کے نہیں گئے تھے۔۔ اور ویسے تو منو کا رشتہ بھی ذنبیل سے ہونا تھا نا۔”
امان نے اپنی طرف سے سمجھانے کی کوشش کی تو مشی برے برے منہ بنا کے عیشی کو دیکھنے لگی جو ایسے بیٹھی تھی جیسے یہاں ہو ہی نا۔۔ اسکی شکل دیکھ کے مشی کے لیئے اندازہ لگانا مشکل تھا کہ وہ صدمے میں ہے یا غصے میں۔۔۔
مگر سچ تو یہ تھا کہ اسکو پہلی بار اتنا خاموش دیکھ کے مشی بھی پریشان ہوگئ تھی۔۔۔۔
💘💘💘💘💘💘💘💘
“اچھا اب ہم چلتے ہیں”۔۔
“السلام علیکم”۔۔
نازلی جیسے ہی گھر پہنچی سامنے زری ریا اور رشی دروازے کھڑی جانے کی اجازت مانگ رہی تھی ۔۔ نازلی نے سلام کیا تو تینوں نے اسے مسکرا کے دیکھا اور سلام کا جواب دیتی مسکرا کے ملی۔۔۔
“اوکے بیٹا خیال رکھنا اپنا ہم پھر آئیں گے۔۔ اچھا بریرہ بچے اللہ حافظ”۔۔
ریا نے مسکرا کے کہا تو بریرہ بھی مسکرانے لگی۔۔ مگر نازلی ان سب کی ایسی ہنسی سے بہت حیران ہو رہی تھی۔۔
“ماما کیا بات ہے یہ لوگ کیوں آئ تھی؟”۔۔
انکے جانے کے بعد نازلی بریرہ کے ساتھ اندھر آئ تو بریرہ مسلسل مسکرا رہی تھی جب نازلی نے مشکوک نظروں سے اسے دیکھا۔۔اور سوال کیا تو بریرہ کے لب ایک دم خاموش ہوئے۔۔
“آ وہ ہم آج خازق کی منگنی کی ڈیٹ فکس کر آئیں ہیں نا اگلے اتوار کی تو بس اسی سلسلے میں ان سے بات ہو رہی تھی۔۔”
بربرہ نے بات کو سنبھالتے ہوئے کہا۔۔
“واو ۔۔ ماما اب ہم کب جائیں گے عیشی مشی کے گھر انہیں پہلے لانا ہے نا تو شاپنگ بھی انکے ساتھ کروں گی”۔۔
نازلی پرجوش ہوکے بولی۔۔ تو اسکی بات کا اور مطلب سمجھ کے بربرہ مسکرانے لگی۔۔ اور وہ اسکی جلدی کو کوئ اور ہی رنگ دے رہی تھی۔جو اگر نازلی کو پتا چل جاتی تو طوفان آجانا تھا😂۔۔
“ہاں ہاں ضرور چلیں گے تم فلحال کپڑے بدل لو اور آکے کھانا کھاو “۔۔
بریرہ نے کہا تو نازلی بھی جی اچھا کہتی مسکرا کے چلی گئ۔۔ تو بریرہ نے اسے ہمیشہ خوش رہنے کی دعا دی ۔۔
💘💘💘💘💘💘💘💘
جاری ہے ۔۔
