Ek Hai Aafat Season 2 By Binte Hawa Readelle50339

Ek Hai Aafat Season 2 By Binte Hawa Readelle50339 Last updated: 10 November 2025

393.4K
34

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ek Hai Aafat Season 2

By Binte Hawa

"نانو مشی اور عیشی کہاں ہیں؟"۔۔ ریا لان میں بیٹھی تھی جب اس کے پاس ضرار آیا اور ادھر ادھر دیکھتا ہوا بولا۔۔ شام کا وقت ہو رہا تھا اور آج گھر میں غیر معمولی خاموشی سب نے نوٹ کی تھی۔۔ "میرے کمرے میں سورہی ہیں"۔۔ ریا کا جواب سن کے ضرار کو جھٹکا لگا مطلب وہ دونوں اور سکون سے سوجائیں ناممکن۔۔۔ وہ ریا کو کوئ بھی جواب دیئے بغیر ریا کے کمرے میں چلا گیا۔۔ "اچھامجھے مار پڑھوا کر خود سو رہی ہیں دونوں ابھی بتاتا ہوں"۔۔ دروازہ کھولا اور ان دونوں کو سوتا دیکھ کے وہ دانت پیستا بولا۔۔۔ پھر واپس کچن میں جاکے دراز سے شاپر نکالا اور واپس کمرے میں آیا۔۔ چپکے سے دروازہ بند کرکے وہ چیلنجنگ انداز میں منہ پہ ہاتھ پھیرتا واشروم میں گھس گیا۔۔۔ شاپر پانی سے بھر سے وہ شرارتی مسکراہٹ سجھائے آہستہ سے بیڈ کے پاس گیا۔۔ "اب آئے گا مزہ"۔۔ ضرار زبان اوپر والے ہونٹ پہ رکھ کے آنکھوں شرارت لیئے سوچ کے مسکرایا ۔۔۔ مگر جیسے ہی شاپر ان پہ الٹنے لگا اسے کچھ گھڑبڑ کا احساس ہوا۔۔۔ "اوہ نو"۔۔ ان دونوں کے حد سے زیادہ سرخ چہرے دیکھ کے وہ ٹھٹکا پھر۔۔ شاپر ایک ہاتھ میں پکڑ کے دوسرے ہاتھ سے دونوں کے گال چیک کیئے جو انگارے کی طرح تپ رہے تھے۔۔ ضرار نے پریشانی سے دونوں کو ہلایا مگر وہ ایسے ہی بے سدھ پڑھی تھی۔۔۔ ضرار بھاگ کے باہر نکلا اور شاپر ڈسٹ بن میں پھینک کے لان میں آیا جہاں ریا اور شازیب بیٹھے کوئ بات کر رہے تھے۔۔۔ "شاہ پاپا وہ مشی اور عیشی نہیں اٹھ رہی اور دونوں کے منہ بھی سرخ ہوگئے ہیں اور گرم بھی"۔۔۔ ضرار نے گھبرائے ہوئے لہجے میں کہا تو شازیب اور ریا بھی پریشان ہوگئے اور جلدی سے کمرے میں آئے جہاں وہ دونوں ابھی بھی ویسی ہی پڑھی تھی۔۔۔ "عیشی مشی بیٹا آنکھیں کھولیں"۔۔۔ شازیب نے دونوں کو ہلایا مگر وہ ویسے ہی بے جان گڑیا کی طرح پڑھی تھی۔۔۔ "بھائ کیا ہوا؟"۔۔۔ ان سب کو جلدی سے کمرے میں آتے دیکھ کے عارب بھی پیچھے آگیا اور شازیب سے پوچھا جو پریشانی میں عیشی اور مشی کو جھنجھوڑ رہا تھا۔۔۔ "عابی ڈاکٹر ریحان کو بلاو جلدی ان دونوں کی طبیعت بہت خراب ہے"۔۔۔ شازیب نے پریشانی سے کہا پھر عیشی اور مشی کے ماتھے پہ بوسہ دیا۔۔ "جی"۔۔ عارب نے جلدی سے کہا اور باہر نکل گیا۔۔ریحان انکا فیملی ڈاکٹر تھا۔۔ "زری بچے پانی اور پٹیاں لے آو "۔۔۔ زرتاشہ کو بھی پریشانی میں وہاں آتے دیکھ کے ریا نے کہا ۔۔ پھر بیڈ کی دوسری سائیڈ سے انکے پاس بیٹھ گئ اور عیشی کا سر اٹھا کے گود میں رکھ لیا۔۔۔ "کیا ہوا انہیں "۔۔ زری پٹیاں اور پانی کا باول لے کے آئ تو اس کے پیچھے رشی بھی بھاگ کے کمرے میں آئ اور دونوں کے پاس بیٹھتی پریشانی سے بولی۔۔۔ "کچھ نہیں ہوا بیٹا بس تھوڑا بخار ہوگیا ہے تم تو جانتی ہو بچپن سے ایسی ہیں دونوں ایک کو کچھ ہو تو دوسری بھی بیمار ہو جاتی ہے۔"۔۔ ریا نے رشی کی آنکھوں میں آنسو دیکھے تو پیار سے سمجھایا۔۔۔پھر ریا اور زری دونوں کی گردن منہ پہ گیلی پٹیاں رکھنے لگی۔۔ اور ہماہ رشی کو گلے لگا کے سہارہ دینے لگی۔۔ جو دونوں کو ہوش میں نا آتا دیکھ کے رونے لگی تھی۔۔۔ رشی کی دیکھا دیکھی ضرار بھی رونے لگا وہ بھی آواز سے تو سب نے حیران ہوکے اسے دیکھا ۔۔ جو ڈھیٹوں کا سردار تھا ابھی کیسے رو رہا تھا۔۔۔ "کچھ نہیں ہوا بیٹے وہ ٹھیک ہیں"۔۔ شازیب نے اسے گود میں بٹھا کے کہا۔۔۔ "بھائ ڈاکٹر آگئے ہیں "۔۔۔ عارب نے کچھ دیر بعد آکے کہا پھر انکے کہنے پہ ڈاکٹر کو اندھر لے آیا تمام خواتین دوسرے کمرے میں چلی گئ وہاں شازیب عارب خنان امان اور ضرار تھے عیشی اور مشی کے پاس۔۔۔ "شاہ صاحب فکر کی کوئ بات نہیں ہے چوٹ کی وجہ سے بخار ہوگیا ہے اس بچی کو میں نے انجیکشن لگا دیا ہے تھوڑی دیر میں انہیں ہوش آ جائے گا انکی خوراک صحیح رکھیں خون کی کمی پوری کرنے کے لیئے۔۔ اور دوسری بچی کے بخار کی کچھ سمجھ نہیں آئ شاید گرمی میں کوئ ٹھنڈی چیز کھانے سے انکو ٹھنڈ لگ گئ ہے۔۔ انکی بھی دوائ لکھ دی ہے یہ بخار کا سیرپ ہے کھانے کے بعد دونوں کو دو دو چمچ پلا دیں۔۔ اور بچی کے زخم کے لیئے کچھ جرمز کیلر لکھیں ہیں جب تک سٹریچ نہیں اترتے تب تک زخم اس سے دھونا ہے تاکہ خراب نا ہو"۔۔۔ ڈاکٹر نے چیک اپ کے بعد دونوں کو انجیکشن لگائے پھر پیشہ ورانہ انداز میں مسکرا کے تفصیل بتائ۔۔۔ ڈاکٹر کی بات سن کےسب پرسکون ہوگئے۔۔۔ پھر شازیب نے ڈاکٹر کا شکریہ ادا کیا اور عارب ڈاکٹر کو باہر چھوڑنے چلا گیا۔۔۔ "پاپا لائیں ہم دوائ لے آتے ہیں"۔۔ امان نے شازیب سے پرچی اور پیسے لیئے اور خنان کو لے کے باہر چلا گیا۔۔۔ تب ہی ریا رشی زرتاشہ اور ہماہ اندھر آئ۔۔۔ "کیا کہا ڈاکٹر نے۔۔؟"۔۔ رشی نے پریشان انداز میں شازیب سے پوچھا جو بیڈ کے درمیان میں بیٹھا تھا اور عیشی مشی کے سر اپنی گود میں رکھے ہلکے ہلکے انداز میں سر دبا رہا تھا۔۔۔ "کہتا ہے کوئ ٹینشن کی بات نہیں ہے ۔۔ رات تک ٹھیک ہوجائے گیں"۔۔ شازیب کے بتاتے ہی رشی بیڈ کے پاوں والی سائیڈ بیٹھ گئ اور آہستہ آہستہ مشی کے دبانے لگی۔۔ 💕💕💕💕💕💕💕