393.4K
34

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Ek Hai Aafat) Episode 5

“السلام علیکم۔۔۔
میرا نام ہمدان عازب شاہ ہے۔۔میں ضرار شاہ۔عیشال شاہ۔اور مشال شاہ۔۔کا کزن ہوں۔جوائنٹ فیملی سسٹم کی وجہ سے آپ بھائ بھی سمجھ سکتی ہیں۔۔یہ میرا کارڈ۔۔”
پیرنٹ ٹیچر میٹنگ میں جب میم نے عیشال شاہ اور مشال شاہ کا رول نمبر بول کے انکے پیرنٹس کو بلایا تو ہمدان انکے پاس گیا اور اپنا تعارف کروایا۔۔
“اوہ تو کیا آپ انکے پیرنٹس کو کال پہ لے سکتے ہیں تاکہ ہم انکی کارکردگی سے باخبر کر سکیں”۔۔
کلاس ٹیچر کے ساتھ موجود پرنسیپل کی بات سن کے ضرار عیشی مشی کو جھٹکا لگا اور وہ سر نا میں ہلاتے ہمدان کو دیکھنے لگے جو انہیں ہی دیکھ رہا تھا۔۔
“جی ضرور ۔۔۔”
ہمدان مسکرا کے بولا ۔۔تو عیشی مشی ضرار نے دل میں خوب صلواتوں سے نوازا اسکو۔۔
“السلام علیکم چاچو میں عیشی اور مشی کے سکول میں ہوں ۔۔ انکے پرنسیپل چاہتے ہیں آپ کال پہ رہے تاکہ وہ آگاہ کر سکے۔۔۔”
ہمدان نے شازیب کو کال ملاتے ہی کہا ۔۔ اسے لائن پہ رہنے کا کہہ کے ہمدان نے ہماہ کو کال کی اور اسے بھی لائن پہ رہنے کا کہا۔۔۔
عیشی مشی اور ضرار کا دل خوشی سے اچھلنے کو کیا ۔۔ اس وقت تینوں چاہتے تھے ہمدان کو ہک کرلے ۔۔۔ہمدان نے بھی ایک مسکراتی نظر ان پہ ڈالی اور موبائل میز پہ رکھتے ٹیچر کو بولنے کا کہا۔۔۔
“السلام علیکم ۔۔ میں مشال شاہ اور عیشال شاہ کی کلاس ٹیچر ہوں اور آج بچوں کی فرسٹ ٹرم کی کارکردگی سے انکے پیرنٹس کو آگاہ کرنے کے لیئے یہ میٹنگ رکھی گئ ہے۔۔۔ سب سے پہلے میں انکی تعلیمی کارکردگی بتا دوں جو پیپرز میں بالکل بھی اچھی نہیں تھی۔۔دو دو پیپرز میں فیل ہیں اور جن میں پاس ہیں وہ بھی انتہائ گندے نمبر لیئےہیں مارجن پہ پاس ہوئ ہیں۔۔ایسے ہی رہا تو فائنل میں یہ لوگ پاس نہیں ہو سکتی۔۔۔ دوسرا انکی باقی ایکٹیوٹیز کی بات کی جائے تو مشال شاہ ان میں بہت بہتر ہے پینٹگ بہت زبردست کرتی ہیں اور باقی بھی مگر عیشال شاہ ہر الٹے کام میں سب سے پہلے پائ جاتی ہیں۔۔۔ابھی پیپر میں سوال تھا چیلنج کسے کہتے ہیں انہوں نے پیپر حل کرنے کی بجائے حالی چھوڑ دیا اور لاسٹ پیپر پہ لکھا۔۔ چیلنج کرتی ہوں پاس کرکے دیکھائے”۔۔
میم بول رہی تھی جبکہ وہ تینوں سر جھکائے کھڑے تھے۔۔ میم کی آخری بات پہ ہمدان نے سر اٹھا کے حیرت سے عیشی کو دیکھا ۔۔۔ اب تک وہ بچارہ یہاں آنے پہ پچھتا رہا تھا۔۔۔
“ہاں تو میم آپ نے کونسا چیلنج پورا کیا”۔۔
عیشی نے منہ بنا کے کہا تو ہمدان نے اسے چھپ رہنے کا اشارہ کیا ۔۔۔
“باقی یہی کہوں گی انکو بہت محنت کی ضرورت ہے ورنہ مجبورأ ہمیں انکو سکول سے نکالنا پڑھے گا۔۔۔”
میم بول کے چپ ہوئ تو ہمدان نے جھکا ہوا سر اٹھا کے موبائل دیکھا جیسے دوسری جانب مکمل خاموشی تھی وہ سمجھا کال کٹ گئ ہے۔۔۔
“جی میں کوشش کروں گا آپکو اب شکایت کا موقع نا ملے۔۔۔”
ہمدان نے کہا پھر ضرار کی کلاس ٹیچر اسکا رزلٹ کارڈ اٹھا کے وہاں آئ۔۔۔
“میں ضرار عارب شاہ کی کلاس ٹیچر ہوں بہت افسوس سے کہنا پڑھ رہا ہے اس کی حالت بھی عیشال اور مشال سے مختلف نہیں۔۔ بس اتنا کہنا چاہوں گی بڑھے بھائ ہونے کے ناطے ان پہ توجہ دے اور ان تینوں کی پارٹنر شپ توڑے ورنہ تینوں نے نہیں پڑھنا۔۔”
ضرار کی میم کی بات پہ تینوں نے صدمے سے پہلے میم کو دیکھا پھر ہمدان کو جو ان تینوں کی رپورٹ کارڈ لے کے میم کے رجسٹر پہ سائن کر رہا تھا۔۔۔
“اچھی کرائ تم لوگوں نے افف میرے کانوں سے ابھی تک دھواں نکل رہا ہے اتنی بے عزتی تو میری زندگی میں نہیں ہوئ”۔۔
ہمدان انکی رپورٹکاردز اٹھاتا انکو لے کے باہر آیا اور سجیدگی سے کہتا موبائل دیکھنے لگا جس پہ شازیب اور ہماہ ابھی بھی لائن پہ تھے بالکل خاموش ۔۔۔
” دیکھائے دانی بھائ”۔۔
مشی اسکا ہاتھ پکڑ کے نیچے کرتی جھانک جھانک کے دیکھتے ہوئے بولی۔۔
“کیا؟”۔۔
ہمدان نے نا سمجھی سے اسے دیکھ کے پوچھا۔۔۔
“دھواں😕”۔۔
مشی تجسس سے بولی تو ہمدان نے سر پیٹا وہ بھی کن پاگلوں کے سامنے اپنا رونا رو رہا تھا۔۔۔
“ہیلو چاچو”۔۔
اس کی بات اگنور کرتا اس نے موبائل لاؤڈسپیکر پہ لگا کے کہا۔۔
“آج تم گھر آو ضرار تمھاری دھولائ کرتا ہوں ۔۔۔
عارب کی آواز سن کے ضرار اپنی جگہ سے اچھلا مطلب وہ ہماہ کے پاس تھا۔۔
“اور تم دونوں بھی”۔۔
رہی سہی کسر رشی کی آواز نے نکال دی سب نے بے بسی سے ہمدان کو دیکھا جس نے کندھے آچکا دئیے کے اب میں کیا کر سکتا ہوں۔۔
“آہہہہہہ”۔۔
چلتے چلتے مشی کا پاوں پلر سے اٹکا تو وہ لڑ کھڑا کے نیچے گری۔۔
اس کو گرتا دیکھ کے ہمدان اور ضرار بھاگ کے اس کے پاس آئے جو الٹی زمین پہ پڑھی تھی۔۔۔ عیشی تو مشی کو دیکھ کے ساکت کھڑی رہی۔۔۔
“بھائئئئئئ خون”۔۔
مشی کو جیسے ہی ہمدان نے سیدھا کیا اسکے ماتھے سے نکلتی خون کی لکیر دیکھ کے ضرار چینخ کے بولا۔۔۔ اسکی آواز سن کے مشی رونے لگی کیونکہ اسے خون سے ڈر لگتا تھا۔۔۔ عیشی بھی زور زور سے رونے لگی مشی کو دیکھ کے ۔۔۔
“ایک تو یہ عجیب مخلوق ہے لگتی ایک کو ہے روتی دوسری اس سے زیادہ ہے۔۔۔”
ضرار بیزاری سے بولا مگر ہمدان نے اس کی بات اگنور کردی۔۔۔ جیب سے رومال نکال کے مشی کے تھامے پہ رکھا ۔۔۔ پھر تینوں کو لے کے سکول کے پاس ہی ایک کلینک پہ لایا جہاں سے مشی کو پٹی کرائ۔۔۔زخم زیادہ گہرا نہیں تھا مگر ڈر سے وہ رونے لگی تھی۔۔۔
“اور کچھ چاہیئے یا بس”۔۔
ان دونوں کو روتا دیکھ کے ہمدان انہیں شاپ پہ لے آیا خوب ساری چیزیں دلائ جس سے دونوں کا رونا بند ہوا مگر چہرے ابھی بھی سرخ ہوئے تھے اور ہچکی بھی بندی ہوئ تھی۔۔
“نہیں بس”۔۔
عیشی آنکھیں مسلتی بولی تو ہمدان مسکرانے لگا پھر تینوں کو بائیک پہ بٹھایا اور واپس لے آیا۔۔۔


“السلام علیکم “۔۔
اندھر آتے ہی ہمدان نے سلام کیا اور ان کے بیگز کرسی پہ رکھے۔۔۔
“وعلیکم السلام یہ کیا ہوا اسے؟”۔۔
رشی اور ہماہ عارب شازیب ریا جو وہی بیٹھے ان کا انتظار کر رہے تھے۔۔ان کو دیکھ کے رشی غصے سے اٹھی مگر مشی کے سر پہ پٹی دیکھ کے اسکے دل کو کچھ ہوا۔۔ زرد چہرا۔۔ ایک گال پہ خون کے ہلکے ہلکے دھبے تھے اور کپڑوں پہ بھی خون لگا تھا۔۔۔
“وہ سکول سے نکلتے ہوئے گر گئ تھی۔”
ہمدان نے آہستہ سے کہا پھر ریا کے پاس جا کے بیٹھ گیا ۔۔ رشی اور عارب جو انکی اچھی خاصی کرنے کا سوچ رہے تھے مشی کو دیکھ کے سارا غصہ غائب ہوگیا۔۔۔
“میرا بچہ زیادہ درد ہورہا ہے کیا”۔۔
شازیب نے اسے گود میں اٹھایا اور ماتھے پہ بندھی پٹی پہ پیار کیا ۔۔۔ تو اس نے منہ بنا کے تھوڑی شازیب کے کندھے پہ رکھ لی ۔۔
“مشی منہ ادھر کرو”۔۔
رشی پانی کا گلاس ہمدان کو پکڑا کے مشی کا منہ سامنے کرتے ہوئے بولی۔۔اور پھر ہاتھ میں پکڑی گیلی روئ سے پٹی سے باہر والی جگہ سے خون صاف کرنے لگی۔۔۔
“بھائ یہ لیں دودھ پکائے مشی کو “۔۔
ہماہ نے ہلدی ملا دودھ شازیب کو پکڑاتے ہوئے کہا۔۔۔ مشی نا نا کرنے لگی مگر شازیب نے پیار سے اسکو پلا دیا۔۔۔
مشی کی حالت پہ سب بہت پریشان ہو گئے تھے۔۔
“دوسرے دونوں کہا ہیں”۔۔
جب مشی کی حالت کچھ بہتر ہوئ تو عارب نے پوچھا۔۔ ہمدان نے بھی سر اٹھا کے آس پاس دیکھا مگر وہ دونوں غائب تھے۔۔
ادھر ادھر دیکھتے عارب کی نظر سامنے والی کھڑکی پہ گئ جس کے آگے پردہ پڑھا تھا مگر نیچے سے ضرار کے پاوں نظر آرہے تھے۔۔
“ہممم “۔۔
عارب نے سر ہلا کے کہا ۔۔شازیب مشی کو صوفے پہ بٹھا کے کال سننے چلا گیا۔۔ رشی اور ہماہ بھی کچن میں چلی گئ۔۔ تو ہمدان عیشی کو ڈھونڈنے باہر نکل گیا۔۔۔ ریا مشی کو گود میں لے کے بیٹھ گئ اور اسے کیک کھلانے لگی۔۔
“اہہہہہہہ”۔۔۔
عارب آہستہ سے اٹھا اور ضرار کے کان سے پکڑ کے باہر لایا۔۔
“عارب میں سمجھا دوں گی پلیز”۔۔
ضرار کی چینخ پہ ہماہ کچن سے باہر آتی التجائ لہجے میں بولی۔۔
“ہماہ واپس جاو”۔۔
عارب نے سنجیدگی سے کہا تو ہماہ ریا کی طرف بے بسی سے دیکھتی واپس چلی گئ۔۔
“مرغا بنو”۔۔
عارب نے صوفے پہ بیٹھتے تھوڑے سخت لہجے میں کہا۔۔
“چاچو ضڑاڑ ابھی چھوٹا ہے یہ مغڑا نہیں بن سکتا مغڑی بنا دے۔۔”
مشی کیک کا پیس منہ میں ڈالتی بولی تو ضرار نے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا۔۔
“تم چپ کرو ڑ کی دشمن”۔۔
“ضرار میں نے کہا مرغا بنو”۔۔
ضرار کو مشی سے لڑتا دیکھ کے عارب نے غصے سے کہا تو ضرار منہ بناتا مرغا بن گیا۔۔
“ہی ہی ہی ہی چاچو انا چھوٹا مغڑا”۔۔
مشی منہ پہ ہاتھ رکھتے ہنس کے بولی تو عارب اور ریا کو نا چاہتے ہوئے بھی ہنسی آ گئ مگر وہ دونوں چھپا گئے۔۔ مگر ضرار نے گردن اٹھا کے مشی کو گھورا جو مزے سے کیک کھا رہی تھی۔۔۔
“کو کڑ کووووو ککڑکرکووووووو کو کڑ کوووو”۔۔
پانچ منٹ مرغا بننے کے بعد ضرار مرغے والی آواز نکالنے لگا۔۔
“یہ کیا کر رہے ہو”۔۔
عارب نے غصے سے پوچھا۔۔
“ابھی مرغا بنایا ہے تو آوازیں تو نکلے گی نا کو کڑ کوووو ۔۔”
ضرار گردن اونچی کرکے بولا پھر مرغے کی آوازیں نکالنے لگا۔۔
“تم مغڑا نہیں مغڑی بنے ہو”۔۔
مشی نے کیک سے بھرے ہوئے منہ سے بمشکل کہا۔۔
“خبردار جو اب کہا کہ انڈا دو”۔۔
ضرار منہ بنا کے بولا تو ریا کا قہقہہ بلند ہوا وہی کچن میں کھڑی ہماہ اور رشی بھی منہ پہ ہاتھ رکھ کے ہنسنے لگی۔۔
“بس کرو عارب بچے کے ساتھ کوئ ایسا کرتا ہے”۔
عارب نے دوبارا ضرار کا کان پکڑتے کھڑا کیا تو ریا بولی۔۔
“یہ اولاد نہیں عذاب ہے آنی “۔۔
عارب ریا کو دیکھ کے بولا۔۔
“ہاں تو اپنا بھول گئے”۔۔
ریا نے طنزیہ کہا تو عارب نے ضرار کا کان چھوڑ کے بے بسی ریا کو دیکھا۔۔
“پاپا اسے عذاب نہیں مکافات عمل کہتے ہیں “۔۔
ضرار کان ملتا بولا تو عارب اس کی طرف بڑھا مگر تب تک ضرار اندھر سے لاک لگا چکا تھا۔۔
مگر اس کی بات سے ریا کا قہقہہ بلند ہوا وہی سیڑھیوں سے اترتا شازیب بھی زور سے ہنسا پھر کچن کی طرف دیکھا جہاں
رشی بے بس سا منہ بنائے کھڑی تھی۔۔۔
اس کو دیکھ کے شازیب کو مزید ہنسی آئ۔۔


“تم یہاں کیوں بیٹھی ہو؟”۔۔
ہمدان باہر آیا تو عیشی کو ویسے ہی بائیک پہ بیٹھا دیکھ کے بولا۔۔
“اندھر گئ تو ماما مارے گی نا”۔۔
عیشی نے ہاتھ مسلتے ہوئے کہا تو ہمدان کو حیرت ہوئ کیونکہ عیشی بہت کم رشی کو ماما کہتی تھی۔۔
“یہ تو بہت اچھا ہوگا”۔۔
ہمدان اس کے پاس بیٹھتا اسے تنگ کرتے ہوئے بولا۔۔۔
“کیا اچھا ہوگا ہاں”۔۔
عیشی دونوں ہاتھ کمر پہ رکھ کے غصے سے بولی۔۔
“ہاں بالکل”۔۔
ہمدان ہنسی دباتا دوبارہ سنجیدگی سے بولا۔۔
“دانی بھائ”۔۔
عیشی بائیک پہ کھڑی ہوکے ہمدان کے پاس آتے بہت پیار سے بولی تو ہمدان سمجھ گیا دوبارہ قربانی کا بکرا بنانے لگی ہے۔۔
“پلیز بچا لے نا”۔۔
اسکی سوالیہ نظریں دیکھ کے عیشی التجائ لہجے میں بولی۔۔
“نو وے”۔۔
ہمدان نے ہاتھ کھڑے کیئے ۔۔۔
“پکا😕”
عیشی منہ بنا کے بولی۔۔
“ہاں پکا😏”
ہمدان بھی اسی کے انداز میں بولا۔۔
“آہہہہہہہہ”۔۔
عیشی نے بائیک پہ کھڑے ہوتے ہمدان کے دونوں کان پکڑ لیئے۔۔۔
“بولے بچاوں گا ورنہ میں بائیک سے چھلانگ لگانے لگی ہوں وہ بھی آپکے کان پکڑے ہوئے”۔۔
عیشی نے چلینجگ انداز میں کہا تو ہمدان نے مزید تنگ کرنے کا ارادہ ترک کیا اور ہار مان لی ورنہ اسکا کیا پتا واقع ایسا کر جاتی۔۔
“اوہہہہ شونا بچہ”۔۔
اس کے مانتے ہی عیشی نے دونوں بازو اسکے کندھے سے ٹکائے اور گال کھنچتے ہوئے بولی۔۔۔
پہلے تو ہمدان اسکی حرکت پہ حیران ہوا بچی خود تھی بول اسے رہی تھی پھر مسکرا کے سر جھٹکا اور اسے لے کے اندھر آیا۔۔۔