Ek Hai Aafat Season 2 By Binte Hawa Readelle50339 (Ek Hai Aafat) Episode 6
Rate this Novel
(Ek Hai Aafat) Episode 6
“آہہہہ”
عیشی جیسے ہی ہمدان کے ساتھ ہال کے دروازے پہ پہنچی اسکا استقبال جوتی نے کیا ۔۔ جو سیدھی جا کے اسکے دائیں کندھے پہ لگی۔۔۔
“آنی رکے میری بات تو سنیں “۔۔
ابھی عیشی سمنبھلی نہیں تھی کہ پاس آتے ہی رشی نے اسکا کان پکڑنا چاہا مگر وہ بھاگ کے ہمدان کے پیچھے ہوئ۔۔۔ اب دونوں ماں بیٹی ہمدان کے آس پاس چکر کاٹ رہی تھی۔۔۔
ہمدان کی بات کو اگنور کرکے رشی نے بھاگنا جاری رکھا۔۔
“چھوٹی بہن سانس تو لینے دے کیا مرچیں کاٹتے ہاتھ ناک پہ لگ گیا کیا”۔۔
عیشی نے ہمدان کے آس پاس بھاگتے رشی سے کہا جس نے دوسری جوتی بھی اتار کے اسے ماری۔۔ مگر راستے میں ہی ہمدان نے پکڑ لی۔۔۔
“ہٹ جاو دانی آج اسے نہیں چھوڑو گی میں ۔۔ناک کٹوا دی اس نے”۔۔
رشی ہمدان کے بازو سے پکڑ کے سائیڈ پہ کرتی ہوئ بولی۔۔۔ تو عیشی بھاگ کے صوفے کے پاس پہنچ گئ۔۔
“یقین جانے چھوٹی بہن آپکی ناک صحیح سلامت ساتھ لگی ہوئ ہے۔۔ اگر پھر بھی کٹی ہوئ لگ رہی ہے تو میں پاپا سے کہہ کے پلاسٹک کی لگوا دوں گی۔۔ آپ نے سانس ہی لینی ہے نا تب تک منہ سے لے لیں”۔۔۔
عیشی آنکھیں ٹمٹماتی بولی تو رشی نے صوفے کا کشن اٹھا کے اسکے سر پہ مارا اور دوبارہ پکڑنے بھاگی۔۔
عیشی بھی سر ملتی آگے آگے بھاگ رہی تھی۔۔
“بہت ہی کوئ گندھی اولاد ہو تم عیشی “۔۔
رشی نے تھک کے کھڑے ہوتےکہا۔۔۔
“گستاخی معاف چھوٹی بہن مگر ریا بہن کہتی ہیں کہ جیسی ماں ویسی بیٹی “۔۔
عیشی نے رشی کو مزید تپایا تو وہ ۔۔ جھاڑو لے کے اسکے پیچھے بھاگی ۔۔مگر عیشی نے ریا کے کمرے میں جاتے ہی کمرہ لاک کر لیا۔۔۔ جہاں مشی سوئ ہوئ تھی اور ریا نماز پڑھ رہی تھی۔۔۔
“آپ فکر نا کریں آنی میں وعدہ کرتا ہوں میں بہت زیادہ محنت کراوں گا اسے اور اب پڑاھئ میں کوئ لاڈ نہیں”۔۔
رشی عیشی کے کمرے میں جاتے ہی سر پکڑ کے بیٹھ گئ ۔۔ تب ہی ہمدان اس کے پاس آیا اور اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھ کے اخترامأ گویا ہوا۔۔۔ اسکی بات سن کے رشی نے آہستہ سے سر ہلایا۔۔ اور کچن میں چلی گئ۔۔۔
“بلی”۔۔۔
ہمدان بھی بند دروازے کو دیکھتا مسکرا کے بولا۔۔ پھر سر مسلتا کچن میں گیا تاکہ چائے پی لے۔۔۔ ان لوگوں کے کارناموں نے سر درد کر دیا تھا۔۔۔
💕💕💕💕💕💕💕
“ریا بہن یہ کب اٹھے گی؟”۔۔
عیشی منہ ہاتھ دھو کے آئ ۔۔ تب تک ریا نماز پڑھ چکی تھی اور تلاوت کر رہی تھی۔۔۔
“اسے سونے دو عیشی جاگ گئ تو درد ہوگا اسے دوا لے کے سوئ ہے۔۔”
ریا نے اسکو مشی کے بال سہلاتے دیکھ کے کہا۔۔
“آووو میلا شونا بچہ”۔۔
ریا کی بات سن کے عیشی کے ہاتھ رکے ۔۔ ایک پل اسنے غور سے سوئ ہوئ مشی کو دیکھا۔۔ پھر اسکی پٹی پہ آہستہ سے پیار کرکے بولی۔۔۔ اور مشی کا ہاتھ پکڑ کے اسی کے تکیے پہ سر رکھے منہ اسکی سائیڈ کرکے لیٹ گئ۔۔۔
اسکی بات سن کے پہلے تو ریا خیران ہوئ۔۔ پھر ہلکے سے مسکرا دی۔۔۔ وہ جانتی تھی عیشی مشی دو جسم ایک جان ہیں۔۔ یہ عام جڑواں بچوں کی طرح آپس میں کبھی نہیں لڑی تھی۔۔۔ مگر دوسروں کو چین سے رہنے نہیں دیتی تھی۔۔۔
ریا تلاوت کرکے اٹھی اور دعا مانگ کے ان دونوں پہ پھونکا جو دونوں سو گئ تھی۔۔
ریا دونوں پہ کمفرٹر سیٹ کرکے ۔۔۔باہر آگئ ۔۔
💞💞💞💞💞💞
“نانو مشی اور عیشی کہاں ہیں؟”۔۔
ریا لان میں بیٹھی تھی جب اس کے پاس ضرار آیا اور ادھر ادھر دیکھتا ہوا بولا۔۔
شام کا وقت ہو رہا تھا اور آج گھر میں غیر معمولی خاموشی سب نے نوٹ کی تھی۔۔
“میرے کمرے میں سورہی ہیں”۔۔
ریا کا جواب سن کے ضرار کو جھٹکا لگا مطلب وہ دونوں اور سکون سے سوجائیں ناممکن۔۔۔
وہ ریا کو کوئ بھی جواب دیئے بغیر ریا کے کمرے میں چلا گیا۔۔
“اچھامجھے مار پڑھوا کر خود سو رہی ہیں دونوں ابھی بتاتا ہوں”۔۔
دروازہ کھولا اور ان دونوں کو سوتا دیکھ کے وہ دانت پیستا بولا۔۔۔ پھر واپس کچن میں جاکے دراز سے شاپر نکالا اور واپس کمرے میں آیا۔۔ چپکے سے دروازہ بند کرکے وہ چیلنجنگ انداز میں منہ پہ ہاتھ پھیرتا واشروم میں گھس گیا۔۔۔ شاپر پانی سے بھر سے وہ شرارتی مسکراہٹ سجھائے آہستہ سے بیڈ کے پاس گیا۔۔
“اب آئے گا مزہ”۔۔
ضرار زبان اوپر والے ہونٹ پہ رکھ کے آنکھوں شرارت لیئے سوچ کے مسکرایا ۔۔۔
مگر جیسے ہی شاپر ان پہ الٹنے لگا اسے کچھ گھڑبڑ کا احساس ہوا۔۔۔
“اوہ نو”۔۔
ان دونوں کے حد سے زیادہ سرخ چہرے دیکھ کے وہ ٹھٹکا پھر۔۔ شاپر ایک ہاتھ میں پکڑ کے دوسرے ہاتھ سے دونوں کے گال چیک کیئے جو انگارے کی طرح تپ رہے تھے۔۔ ضرار نے پریشانی سے دونوں کو ہلایا مگر وہ ایسے ہی بے سدھ پڑھی تھی۔۔۔
ضرار بھاگ کے باہر نکلا اور شاپر ڈسٹ بن میں پھینک کے لان میں آیا جہاں ریا اور شازیب بیٹھے کوئ بات کر رہے تھے۔۔۔
“شاہ پاپا وہ مشی اور عیشی نہیں اٹھ رہی اور دونوں کے منہ بھی سرخ ہوگئے ہیں اور گرم بھی”۔۔۔
ضرار نے گھبرائے ہوئے لہجے میں کہا تو شازیب اور ریا بھی پریشان ہوگئے اور جلدی سے کمرے میں آئے جہاں وہ دونوں ابھی بھی ویسی ہی پڑھی تھی۔۔۔
“عیشی مشی بیٹا آنکھیں کھولیں”۔۔۔
شازیب نے دونوں کو ہلایا مگر وہ ویسے ہی بے جان گڑیا کی طرح پڑھی تھی۔۔۔
“بھائ کیا ہوا؟”۔۔۔
ان سب کو جلدی سے کمرے میں آتے دیکھ کے عارب بھی پیچھے آگیا اور شازیب سے پوچھا جو پریشانی میں عیشی اور مشی کو جھنجھوڑ رہا تھا۔۔۔
“عابی ڈاکٹر ریحان کو بلاو جلدی ان دونوں کی طبیعت بہت خراب ہے”۔۔۔
شازیب نے پریشانی سے کہا پھر عیشی اور مشی کے ماتھے پہ بوسہ دیا۔۔
“جی”۔۔
عارب نے جلدی سے کہا اور باہر نکل گیا۔۔ریحان انکا فیملی ڈاکٹر تھا۔۔
“زری بچے پانی اور پٹیاں لے آو “۔۔۔
زرتاشہ کو بھی پریشانی میں وہاں آتے دیکھ کے ریا نے کہا ۔۔ پھر بیڈ کی دوسری
سائیڈ سے انکے پاس بیٹھ گئ اور عیشی کا سر اٹھا کے گود میں رکھ لیا۔۔۔
“کیا ہوا انہیں “۔۔
زری پٹیاں اور پانی کا باول لے کے آئ تو اس کے پیچھے رشی بھی بھاگ کے کمرے میں آئ اور دونوں کے پاس بیٹھتی پریشانی سے بولی۔۔۔
“کچھ نہیں ہوا بیٹا بس تھوڑا بخار ہوگیا ہے تم تو جانتی ہو بچپن سے ایسی ہیں دونوں ایک کو کچھ ہو تو دوسری بھی بیمار ہو جاتی ہے۔”۔۔
ریا نے رشی کی آنکھوں میں آنسو دیکھے تو پیار سے سمجھایا۔۔۔پھر ریا اور زری دونوں کی گردن منہ پہ گیلی پٹیاں رکھنے لگی۔۔ اور ہماہ رشی کو گلے لگا کے سہارہ دینے لگی۔۔ جو دونوں کو ہوش میں نا آتا دیکھ کے رونے لگی تھی۔۔۔
رشی کی دیکھا دیکھی ضرار بھی رونے لگا وہ بھی آواز سے تو سب نے حیران ہوکے اسے دیکھا ۔۔ جو ڈھیٹوں کا سردار تھا ابھی کیسے رو رہا تھا۔۔۔
“کچھ نہیں ہوا بیٹے وہ ٹھیک ہیں”۔۔
شازیب نے اسے گود میں بٹھا کے کہا۔۔۔
“بھائ ڈاکٹر آگئے ہیں “۔۔۔
عارب نے کچھ دیر بعد آکے کہا پھر انکے کہنے پہ ڈاکٹر کو اندھر لے آیا تمام خواتین دوسرے کمرے میں چلی گئ وہاں شازیب عارب خنان امان اور ضرار تھے عیشی اور مشی کے پاس۔۔۔
“شاہ صاحب فکر کی کوئ بات نہیں ہے چوٹ کی وجہ سے بخار ہوگیا ہے اس بچی کو میں نے انجیکشن لگا دیا ہے تھوڑی دیر میں انہیں ہوش آ جائے گا انکی خوراک صحیح رکھیں خون کی کمی پوری کرنے کے لیئے۔۔ اور دوسری بچی کے بخار کی کچھ سمجھ نہیں آئ شاید گرمی میں کوئ ٹھنڈی چیز کھانے سے انکو ٹھنڈ لگ گئ ہے۔۔ انکی بھی دوائ لکھ دی ہے یہ بخار کا سیرپ ہے کھانے کے بعد دونوں کو دو دو چمچ پلا دیں۔۔ اور بچی کے زخم کے لیئے کچھ جرمز کیلر لکھیں ہیں جب تک سٹریچ نہیں اترتے تب تک زخم اس سے دھونا ہے تاکہ خراب نا ہو”۔۔۔
ڈاکٹر نے چیک اپ کے بعد دونوں کو انجیکشن لگائے پھر پیشہ ورانہ انداز میں مسکرا کے تفصیل بتائ۔۔۔ ڈاکٹر کی بات سن کےسب پرسکون ہوگئے۔۔۔ پھر شازیب نے ڈاکٹر کا شکریہ ادا کیا اور عارب ڈاکٹر کو باہر چھوڑنے چلا گیا۔۔۔
“پاپا لائیں ہم دوائ لے آتے ہیں”۔۔
امان نے شازیب سے پرچی اور پیسے لیئے اور خنان کو لے کے باہر چلا گیا۔۔۔ تب ہی ریا رشی زرتاشہ اور ہماہ اندھر آئ۔۔۔
“کیا کہا ڈاکٹر نے۔۔؟”۔۔
رشی نے پریشان انداز میں شازیب سے پوچھا جو بیڈ کے درمیان میں بیٹھا تھا اور عیشی مشی کے سر اپنی گود میں رکھے ہلکے ہلکے انداز میں سر دبا رہا تھا۔۔۔
“کہتا ہے کوئ ٹینشن کی بات نہیں ہے ۔۔ رات تک ٹھیک ہوجائے گیں”۔۔
شازیب کے بتاتے ہی رشی بیڈ کے پاوں والی سائیڈ بیٹھ گئ اور آہستہ آہستہ مشی کے دبانے لگی۔۔
💕💕💕💕💕💕💕
“کیا ہوگیا میری شہزادیوں کو؟”۔۔۔
مغرب کے ٹائم عازب گھر آیا تو زری نے اسے عیشی مشی کا بتایا ۔۔۔ وہ ریا کے کمرے میں انکو دیکھنے آگیا جہاں اب وہ دونوں ہوش میں تھی۔۔ عیشی شازیب کی دائیں طرف سینے پہ سر رکھ کے لیٹی تھی اور مشی بائیں طرف۔۔ شازیب دونوں کے بالوں کو سہلا رہا تھا ساتھ کوئ سٹوری سنا رہا تھا۔۔
“بڑے پاپا مجھے چوٹ لگ گئ”۔۔
مشی نے منہ بنا کے کہا تو عازب نے بیڈ پہ بیٹھ کے پیار سے اسے گود میں اٹھایا اور سر پہ پیار کیا۔۔۔
“اور میری دوسری شہزادی کو کیا ہوا؟”۔۔
عازب نے عیشی کی طرف دیکھتے پیار سے پوچھا جو ابھی بھی شازیب کے بیٹھتے ہی گود میں بیٹھ گئ اور کندھے پہ سر رکھ لیا۔۔
“چھوٹی بہن نے جوتا اور کشن مارا تو مجھے بخار ہوگیا😕”۔۔
عیشی معصوم منہ بنا کے بال پیچھے کرتی بولی تو عازب نے بمشکل ہنسی روکی۔۔ دونوں بہنوں کے منہ سرخ ہوئے تھے۔۔
“یہ بھی بتاو نا مارا کیوں”۔۔۔
دروازے سے آتی رشی عیشی کی بات سن کے بولی اور ہاتھ میں پکڑا سوپ کا باول سائیڈ ٹیبل پہ رکھا۔۔ اسکے پیچھے ضرار تھا جس نے دوسرا سوپ کا باول اٹھایا ہوا تھا۔۔ اس نے بھی اپنا باول رشی کے باول کے ساتھ رکھا۔۔
“کیونکہ صبح سے مارا نہیں تھا تو سکون نہیں ملا”۔۔
عیشی نے منہ بنا کے کہا تو رشی نے دانت پیسے کہ اس آفت کی پڑیا کو ابھی بھی آرام نہیں ۔۔۔
“اچھا اچھا لڑنا بند کرو۔۔ عازب شازیب بچیوں کو سوپ پلا کے باہر لاو سب کے لیئے ایک سرپرائز ہے میرے پاس”۔۔
ریا نے جلدی سے کہا اور رشی کو لے کے باہر چلی گئ۔۔۔عازب اور شازیب نے دونوں کو سوپ پلایا جو پہلے منہ بنا رہی تھی اب سرپرائز کے چکر میں جلدی جلدی پینے لگی۔۔۔
سوپ پلا کے منہ صاف کرتے دونوں کو اٹھا کے عازب اور شازیب باہر آئے جہاں گھر کے سب لوگ اگھٹے تھے سوائے ہمدان کے وہ اکیڈمی گیا تھا۔۔۔
💕💕💕💕💕
جاری ہے۔۔۔۔
