Ek Hai Aafat Season 2 By Binte Hawa Readelle50339 (Ek Hai Aafat) Episode 1
Rate this Novel
(Ek Hai Aafat) Episode 1
“بابا آپکی ماما سے شادی کیسے ہوئ؟۔۔
مشی نے شازیب کے کندھے پہ سر رکھ کے پوچھا ۔۔۔ صبح سے ان دونوں نے رشی کے ناک میں دم کر رکھا تھا تو رشی سر درد کی وجہ سے رونے لگی تب ریا نے شازیب سے کہا کچھ ٹائم ہی صحیح ان آفتوں کو سنبھال لے تاکہ رشی تھوڑا آرام کرلے ۔۔ شازیب نے بڑھی مشکل سے چاکلیٹ آئس کریم اور پتا نہیں کیا کیا خواب دیکھا کے مشی کو قابو کیا تھا جبکہ عیشی ابھی بھی غائب تھی ۔۔ تھک ہار کے شازیب صوفے پہ بیٹھ گیا جبکہ مشی اسکے پاس بیٹھتے اپنے سوالوں والا بیگ کھول چکی تھی۔۔ شازیب کی چھٹی کا دن اب مس مشی کو جواب دیتے ہی گزرنا تھا۔۔۔
“بیٹا حادثاتی طور پہ”۔۔۔
اپنی شادی کو یاد کرتے ہی شازیب نے کنپٹیاں مسلتے ہوئے کہا تو مشی تجسس سے اٹھ بیٹھی ۔۔۔
“چلے آج میں آپکا انٹر ویو لیتی ہوں اب آپ نے صرف جواب دینے ہیں اوکے”۔۔
مشی شازیب کو انگلی دیکھاتے ہوئے بولی تو شازیب مسکرانے لگا اور ویسے بھی وہاں کوئ نہیں تھا مشی کو سکون سے بٹھانے کا بہانہ مل گیا تھا شازیب کو سو وہ بھی مان گیا۔۔۔
“اہممم اہممم جی تو مشٹر شازیب آپکا نام کیا ہے؟”۔۔
مشی نے گلہ صاف کرتے ہوئے کہا تو شازیب کو بے اختیار ہنسی آئ اسکا نام لے کے پوچھ رہی تھی کے نام کیا ہے ۔۔۔ مشی ابھی بھی کوئ کوئ بات توتلی کر جاتی تھی مگر اسکے مقابلے میں عیشی بالکل ٹھیک بولتی تھی اور تھی بھی مشی سے تیز۔۔۔
“مس مشی میرا نام شازیب یاور شاہ ہے”۔۔
شازیب نے بھی اسی کے انداز میں جواب دیا تو مشی نے اپنے چھوٹے سے ہاتھ کو ماتھے پہ مارتے ہوئے شازیب کو گھورا ۔۔۔
“افوووو پاپا ابھی دادا کا نام نہیں بتانا وہ جب پوچھوں گی تب بتانا ہے”۔۔
مشی آنکھیں دکھاتی بولی تو شازیب نے معصوم شکل بناتے گردن ہاں میں ہلائ ۔
“اچھا بتائیں کیا کرتے ہیں آپ”۔۔
مشی ہاتھ کا مائیک بناتے منہ کے آگے کرکے بولی پھر وہی مائیک شازیب کے سامنے کیا۔۔
“جاب کرتا ہوں”۔۔ شازیب نے آہستہ سے جواب دیا۔۔
“اچھا تو آپکی بیگم کا کیا نام ہے”۔۔
مشی نے دوبارہ آنکھیں گھوما کے ایک ہاتھ کا مائیک بنائے دوسرے ہاتھ سے آنکھوں سے بال پیچھے کرتی بولی تو شازیب کو اس پہ بے حد پیار آیا اور اسنے آگے ہوکے اسکے گال پہ کس کی۔۔
“اہووووو مشٹر شازیب اس وقت میں ہوسٹ ہوں”۔۔
مشی غصے سے آنکھیں دکھاتی بولی تو شازیب نے بمشکل اپنی ہنسی روکی اور معصوم شکل بنا کے بیٹھ گیا ۔۔۔
“اچھا بتائے کیسے ہوئ آپکی شادی؟ “۔۔۔
مشی نے پھر سوال کیا۔۔۔
“بتایا تو ہے حادثاتی طور پہ “۔۔۔
شازیب نے معصوم شکل بنا کے کہا۔۔
“اچھا آپ میرے کو بتائیں آپکی بیگم شادی پہ کیسی لگ رہی تھی”۔۔۔
مشی نے اک ادا سے دوبارا بال پیچھے کرتے سوال کیا۔۔
“پوری چڑیل “۔۔
شادی والا دن یاد آتے ہی شازیب نے کھوئے ہوئے انداز میں مسکرا کے جواب دیا مگر ہوش تو تب آیا جب مشی پورا منہ کھولے منہ پہ ہاتھ رکھے ہنس رہی تھی۔۔۔
“اچھا نیکسٹ آپ بتائیں پیار کرتے ہیں آپ چھوٹی بہن سے”۔۔
مشی کے سوال پہ شازیب کو ہنسی آگئ اسکی بیٹیاں بلکل رشی کی کاپی تھیں وہ بھی ماں کو بہن کہتی اور اسکی بیٹیاں اسے چھوٹی بہن۔۔۔
“نہیں بلکل بھی نہیں کرتا”۔۔۔
شازیب نے جواب دیا تو مشی نے کھی کھی کی۔۔۔
“تو پھر شادی کیوں کی”۔۔۔
مشی دوبارہ ہاتھ کا مائیک اسکے سامنے کرکے جواب کا انتظار کرنے لگی۔۔۔ تب شازیب کو اپنے نکاح کا دن یاد آیا تو اسکے ہونٹ مسکرانے لگے اس دن رشی نے کتنا تنگ کیا تھا اسے تب اسے لگتا تھا ایک دن بھی وہ رشی کے ساتھ نہیں رہ پائے گا۔۔۔
“کی تھوڑی تھی زبردستی کرائ گئ تھی”۔۔
شازیب نے روتی صورت بنا کے کہا تو مشی نے دونوں ہونٹ ملا کے اوo والی شکل بنائ اور آلے آلے میلا بچہ کہتے شازیب کا گال کھینچا😂۔۔۔ اسکی اس حرکت پہ شازیب حیران ہوکے دیکھنے لگا واقع اسکی بیٹیاں ماں سے چار ہاتھ آگے تھی۔۔۔
“اچھا کوئ ایسا واقع بتائے چھوٹی بہن کا جو آپکو اچھا لگا ہو”۔۔۔
مشی نے پھر سوال کیا تو شازیب کے لب مسکرانے لگے ۔۔۔ اسے یاد آیا ایک دن رشی سے لڑائ کے بعد عارب نے اسے بتایا کہ کیسے اسنے اور رشی نے بھوت بن کے بریرہ کو بھگایا تھا تب اسے رشی کی جیلسی پہ ہنسی بھی آئ تھی مگر اسے اچھا لگا تھا رشی کا یہ انداز۔۔۔
” ایک دفعہ اسے گاڑی میں باندھ دیا تھا اسکا منہ بھی کچھ دیر خاموش رہی تھی وہ سکون بہت اچھا لگا تھا”۔۔۔
شازیب نے ہنستے ہوئے بتایا جب وہ بریرہ کو چھوڑنے گئے تھے۔۔۔
“اچھا اور”
“آہہہہہہہہہہ شااااااااااااہ”
اس سے پہلے کے مشی کوئ اور سوال پوچھتی رشی کی چینخ سن کے شازیب جلدی سے کھڑا ہوا اور رشی کی نظروں کے اشارے پہ سامنے دیکھا جہاں عیشی دروازے میں کھڑی معصوم شکل بنائے ماں اور باپ دونوں کو دیکھ رہی تھی۔۔۔ ہاتھ منہ اور سارے کپڑے کیچڑ سے بھرے ہوئے تھے دونوں ہاتھوں میں مینڈک کے بچے پکڑے ہوئے تھے بالوں میں بھی کیچڑ لگا ہوا تھا۔ ماں باپ کو ایسے بت بنا دیکھ کے مشی بھی صوفے پہ کھڑی ہوئ مگر جیسے ہی نظر عیشی پہ گئ تو اسکے ہاتھ میں پکڑے مینڈک کے بچے دیکھ کے وہ صوفے پہ اچھلنے لگی اور زور زور سے تالیاں بجانے لگی۔۔۔
سفید ٹائلوں پہ عیشی کے کیچڑ سے بھرے پاوں کے نشان تھے۔۔۔
“رکو تم ابھی میں تمھارے کپڑے بدلے ہیں”۔۔
رشی کہتے ہی عیشی کی طرف بھاگی ۔۔۔
عیشی نے ماں کو آتے دیکھا بجائے باہر جانے کے صوفے کی طرف دوڑ لگائ اور سارا فرش گندا کر دیا۔۔۔مشی بھی صوفے سے چھلانگ لگا کے نیچے اتری اور عیشی کے ہاتھ سے مینڈک کے بچے لیتی چھت کی طرف بھاگی جہاں ضرار کھڑا زور زور سے اپنی طرف آنے کا بول رہا تھا ۔۔
رشی بھی سب بھلائے اسکے پیچھے ننگے پاوں بھاگ رہی تھی۔۔ باقی سب بھی انکا شور سن کے باہر آگئے تھے ۔۔۔ بھاگتے بھاگتے اچانک فرش پہ پھیلے کیچڑ سے رشی کا پاوں پھسل گیا اس سے پہلے کے وہ گرتی شازیب نے اسے بازو سے پکڑ لیا۔۔۔
“شاباش میرے ہیرو پاپا اب چھوٹی بہن کو سنبھال لیجیئے گا”۔۔۔
عیشی نے بھاگ کے سیڑھیوں کے پاس جاتے بولی۔۔ پھر بھاگ کے چھت پہ جاتے ہی کنڈھی لگا لی۔۔۔ اسکی بات پہ سب نے زور سے قہقہہ لگایا تو رشی نے کھا جانے والی نظروں سے شازیب کو گھورا جس سے دو بچے نہیں سنبھالے گئے۔۔۔
اسکو چھت پہ جاتا دیکھ کے ریا نے روک لیا کے کھیلنے دو انھوں نے دروازہ تو کھولنا نہیں تھا جب تک انکا کھیل مکمل نا ہو جاتا۔۔۔ رشی نے بے بسی سے چھت کے بند دروازے کو دیکھا اور صوفے پہ ڈھے گئ۔۔۔
♧♧♧♧♧♧♧
“تم نے ویڈیو بنائ “۔۔
مشی ضرار کے پاس آتے بولی جو مینڈک کے بچوں کو پانی میں ڈال رہا تھا۔۔۔
“کونسی ویڈیو؟ “۔۔۔
عیشی نے ناسمجھی سے مشی سے پوچھا تو ضرار نے عارب کا موبائل عیشی کے سامنے کیا جہاں مشی اور شازیب صوفے پہ بیٹھے تھے اور مشی شازیب سے سوال پوچھ رہی تھی۔۔۔
“واوووو اسکو سٹیٹس لگاو جلدی”۔۔۔
مشی نے تالی بجاتے کہا تو ضرار نے موبائل لیتے ہی سٹیٹس لگایا۔۔
تب ہی موبائل پہ کسی کی کال آنے لگی تو تینوں گھڑبڑا گئے۔۔۔
“اب کیا کریں نیچے گئے تو پکڑیں جائے گے”
ضرار نے پریشانی سے کہا تو عیشی نے اسکے ہاتھ سے موبائل لیا اور کال پک کرلی اسکو دیکھ کے مشی اور ضرار گھبرا گئے۔۔۔
“ارے عیشی پاگل ہو کیا”
ضرار موبائل لیتا بولا مگر عیشی نے اطمینان سے موبائل واپس لیا اور ہیلو کہا دوسری جانب کوئ عورت تھی جس کی آواز سن کے تینوں کی آنکھیں پھیل گئ۔۔۔
“جی کون”۔۔
ضرار نے پوچھا دوسری جانب موجود عورت بچوں کی آواز سن کے سمجھ گئ کے موبائل بچوں کے پاس ہے ۔۔۔
“بیٹا میں مسٹر عارب کی باس بات کر رہی ہوں بات کرائیں ان سے “۔۔
اس عورت نے پیار سے کہا تو سب نے ایک دوسرے کو دیکھا ۔۔ اس سے پہلے ضرار کچھ بولتا عیشی جلدی سے بولی۔۔۔
“اچھا تو آپ چڑیل ہیں”۔۔۔
عیشی نے معصومیت سے پوچھا تو عورت غصے سے پھٹ پڑھی۔۔
“یہ کیا بدتمیزی ہے بات کرائیں میری”۔۔
عورت نے غصے سے کہا تو عیشی دوبارہ بولی۔۔۔
“وہ چاچو نے کہا تھا میری باس بہت چڑیل ہےآرام بھی نہیں کرنے دیتی ہر وقت کال کرتی رہتی ہے بھوتنی”۔۔۔
عیشی کی بات سن کے مشی اور ضرار ہنسنے لگے جبکے اس عورت کا بس نہیں چل رہا تھا عارب کو شوٹ کردے۔۔۔
“اس لیئے چاچو نے موبائل ہمیں دے دیا”۔۔۔
عیشی نے اسے خاموش دیکھا تو دوبارہ بولی مگر اس عورت کی وہی بس ہوگئ اور اس نے کھٹاک سے موبائل بند کر دیا۔۔
“ہاہاہاہا اب نہیں کرے گی کال بھوتنی”۔۔۔
ضرار نے ہنستے ہوئے کہا تو مشی اور عیشی بھی تالی مار کے ہنسی اور پھر تینوں بے فکر ہوکے دوبارہ مینڈک کے بچوں کے ساتھ کھیلنے لگے جو پانی میں اچھل رہے تھے ۔۔۔ تینوں نے چھت پہ موجود گملوں سے مٹی نکال کے خالی گملے میں ڈالی اور اس میں پانی ڈال ڈال کے خوب کیچڑ بنایا ۔۔ اس سب میں تینوں کا حلیہ بگڑ گیا تھا ۔۔
♧♧♧♧♧♧♧
“کہاں ہیں یہ ہماری جانوں کے دشمن”۔۔۔
عارب جو تھوڑی دیر پہلے آفس گیا تھا چینختا ہوا واپس گھر میں داخل ہوا اسکو ایسے غصے میں دیکھ کے سب کھڑے ہوگئے۔۔
“کون “۔۔۔
ہماہ نے پریشانی سے پوچھا ۔۔
“ضرار مشی اور عیشی اور کون”۔۔
عارب نے دانت پیس کے کہا تو رشی نے چھت کی طرف اشارہ کیا۔۔ عارب ایک نظر سبکو دیکھتا سیڑھیاں پھلانگتا چھت کے دروازے تک آیا اور زور زور سے بجانے لگا۔۔۔
“کیا ہوگیا ہے عارب”۔۔
ریا نے اسکو ایسے دروازہ بجاتے دیکھا تو پریشانی سے پوچھا ۔۔
مگر عارب کوئ بھی جواب دیئے بغیر نیچے اترا اور باہر کی جانب بڑھا ۔۔۔ باہر آتے ہی اسنے لکڑی کی سیڑھی لگائ اور چھت پہ گیا۔۔
اسکو آتے دیکھ کے مشی نے دروازہ کھولا اور تینوں نیچے بھاگ کے آئے اور ریا کے پیچھے چھپ گئے۔۔
“ہٹ جائیں ریا آج “
عارب بھی بھاگ کے انکے پاس آیا جو اب عازب کے پاس پہنچ چکے تھے جبکہ رشی اور ہماہ اپنے بچوں کی حالت دیکھ کے صدمے میں کھڑی تھی۔۔۔
“ہوا کیا ہے عارب”۔۔۔
عازب نے تھوڑا غصے سے پوچھا۔۔
“بھائ ان سے پوچھے”۔۔۔
عارب نے بچارا سا منہ بنا کے کہا تو عازب نے بچوں کو دیکھا۔۔
“بڑھے بابا عیشی نے بس اتنا کہا باس کو کہ وہ بھوتنی ہے”۔۔۔
مشی نے منہ بنا کے کہا تو ضرار اور عیشی نے سر پیٹا ۔۔ وہ دونوں مکرنے والے تھے مگر مشی نے سب بول دیا جسے سن کے رشی اور عارب غصے سے پھٹ پڑھے ۔۔
“یہ بچے نہیں عذاب ہیں عذاب”۔۔
عارب نے غصے سے کہا تو سب نے ہنسی روکی جبکہ وہ تینوں آنکھیں پھاڑے اسکو دیکھ رہے تھے۔۔۔
اس سے پہلے کہ رشی کا جوتا عیشی کو لگتا زری نے عیشی کو سائیڈ پہ کیا اور اپنے ساتھ روم میں لے گئ۔۔۔
باری باری تینوں کو شاور دیا اور دوسرے کپڑے دیئے ۔۔۔ پھر ہمدان کالج سے آتے ہی عیشی کو باہر لے گیا ۔۔ مشی اور ضرار کو ریا نے اپنے پاس بٹھایا اور کہانی سنانے لگی ۔۔ جس سے گھر اور محلے دونوں میں سکون آگیا ۔۔۔
مگر ہائے رے یہ پانچ منٹ کا سکون😂۔۔۔
تب ہی رشی نے عارب کا سٹیٹس دیکھا۔۔ تو اسکے اندھر کا بچہ جھاگ گیا۔۔۔ وہ جو اکثر شازیب سے لڑتی رہتی تھی آج پھر دونوں میں زبردست لڑائ شروع ہوگئ ۔۔ تو باقی سب نے بے بسی سے آسمان کو دیکھا۔۔۔ رشی کی آفتیں چپ ہوتی تو رشی کا سپیکر کھل جاتا۔۔۔۔
♧♧♧♧♧♧
جاری ہے۔۔۔
