393.4K
34

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Ek Hai Aafat) Episode 31

“ارے رشی بلاو بچیوں کو۔۔ کچھ رسموں کے بعد گھر بھی جانا ہے”۔۔
ریا نے مہمانوں سے ملتے ہوئے رشی کو کہا۔۔ تب ہی ہمدان امان اور ضرار بھی اندھر آئے۔۔انکے ساتھ خنان خازق لوگ بھی تھے۔۔
“ارے آنی کیا ہوا؟”۔۔
رشی جی اچھا کہتی روم تک گئ ۔۔مگر روم اندھر سے لاک تھا۔۔ رشی نے تین چار بار کھٹکھٹایا مگر کوئ جواب نا ملا تو وہ پریشانی سے واپس مڑی ۔۔ تب ہی ہمدان نے اسکے دیکھا اور اسکے پاس آتا بولا۔۔
“بیٹا یہ لوگ دروازہ نہیں کھول رہی”۔۔
رشی پریشانی سے منہ پہ ہاتھ پھیرتی بولی۔۔
“آپ فکر نا کریں میں کچھ کرتا ہوں”۔۔
۔تین چار بار اسکے کھٹکھٹانے پہ بھی جب کوئ جواب نا ملا تو ہمدان نے آس پاس دیکھا۔۔ دور ایک ویٹر کو دیکھ کے وہ رشی سے بولا۔۔اور ویٹر کے پاس چلا گیا۔۔ رشی کو پریشان دیکھ کے زری بریرہ اور ہماہ بھی وہاں آگئ ۔۔
“کیا ہوا رشی؟ “۔۔
زری نے آہستہ سے اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھ کے پوچھا تو رشی نے پریشانی سے ساری بات بتائ۔۔ تب ہی ہمدان دوسری چابی لے کے آگیا۔۔اور اس سے دروازہ کھولا۔۔ اندھر داخل ہوئے ہی سب کے اوسان خطا ہوئے۔۔ کیونکہ تینوں کے کپڑے آدھے صوفے پہ اور آدھے فرش پہ پڑھے تھے۔۔ جیولری بھی کچھ کہاں اور کچھ کہاں پڑھی تھی۔۔
“یہ یہ کیا؟”۔۔
بریرہ بمشکل بولی تو ہماہ نے اسے سہارہ دیا۔۔ ہمدان نے عیشی کے نمبر پہ کال کی مگر نمبر بند تھا۔۔ مشی کے نمبر پہ کی تو اسکا موبائل انکے پاس ہی بجا۔۔جو وہ وہاں ہی چھوڑ گئ تھی۔۔
ہمدان نے بریرہ کو کہا نازلی کو کال کرنے کا مگر اسکا موبائل بھی وہی تھا۔۔
“کہاں چلی گئ ہماری بچیاں؟”۔۔
بریرہ روتے ہوئے بولی۔۔
“مجھے پتا ہے کہاں گئ ہونگی۔۔
رشی سنجیدگی سے بولی تو سب نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔۔
“رپورٹ چیک کرانے”۔۔
رشی ویسی ہی سنجیدگی سے بولی۔۔ تو سب ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔۔ کہ نیا طوفان آنے والا تھا۔۔
“اس سے پہلے عیشی یہاں آکے تماشہ کرے ہمیں فورأ گھر جانا چاہیئے”۔۔
رشی نے جلدی سے کہا۔۔
“مگر ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔۔ لوگ انکا پوچھیں گے۔۔ چلو عیشی مشی کا جانے کا بہانہ ہوجائے گا۔۔ نازلی کے بارے میں کیا جواب دوں گی”۔۔
بریرہ پریشانی سے بولی۔۔
“اسکا ایک حل ہے میرے پاس”۔۔
امان جو کب سے دروازے میں کھڑا انکو دیکھ رہا تھا۔۔۔ بریرہ کی پریشان سی آواز سن کے سنجیدگی سے بولا۔۔
“کیا حل؟”۔۔
سب نے اگٹھا پوچھا۔۔
” آپ باہر جاکے علان کردیں کہ آپ آج ہی اپنی بیٹی کی رخصتی کر رہی ہیں۔۔ باقی کام میرا ہے دولہن ہم ارینج کرلیں گے”۔۔
امان جتنے سکون سے بولا باقی سب اتنے ہی بے سکون ہوئے۔۔
“تمہارا دماغ ٹھیک ہے “
رشی غصے سے بولی۔۔ اسکا لاڈلا سپوت دولہن ارینج کرنے کی بات کر رہا تھا😂۔۔
“ماما اس وقت اور کوئ چارہ نہیں ہے۔۔ آپ نانا سے کہیں وہ اعلان کردیں کہ آج ہی رخصتی ہوگی۔۔ اس رخصتی میں کوئ عیشی مشی کی طرف دھیان نہیں دے گا۔۔ اور ٹھیک بیس منٹ بعد۔۔ منو اور سارہ بھابھی آجائیں۔۔ دولہن کو گاڑی تک چھوڑنے کے لیئے”۔۔
امان سکون سے بولا تو سب نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔۔ اسکی بات میں دم تھا۔۔ سب باہر نکل گئے ۔۔ کیونکہ اب اسکے سوا کوئ چارہ نہیں تھا۔۔
آج ایک بار پھر احرار صاحب کو سٹیج پہ بھیجا گیا جنہوں نے اعلان کرنا تھا رخصتی کا۔۔ جبکہ سب کے باہر جاتے ہی امان نے ضرار اور حنان کو کال کرکے پچھلے دروازے سے روم میں بلا لیا تھا۔۔😜
💓💓💕💕💓💓💕💕
“آج کوئ نہیں بچے گا سب کے قتل ہونگے قتل”۔۔
عیشی ہاتھ میں ہیل اٹھائے مشی اور نازلی سے آگے آگے چلتی خطرناک لہجے میں بولی۔۔ جبکہ اسکی حالت دیکھ کے مشی اور نازلی ہنسی دباتے اسکے پیچھے چل رہی تھی۔۔ عیشی نےغصے میں چلتے چلتے سڑک کے کنارے سوئے ہوئے کتے کی دم پہ رکھ دیا۔۔
کتا جیسے ہی اٹھ کے بھانکا عیشی نے زور سے کتے کو ہیل ماری۔۔
“آہہہہہ”۔۔
کتا بھی کوئ انکے جیسا ہی سر پھرا تھا😂۔۔ ہیل لگتے ہی بجائے مڑ کے بھاگنے کے وہ بھونکتے ہوئے انکے پیچھے لگ گیا۔۔ تو تینوں چینختی ہوئ واپس بھاگی۔۔ مشی اور نازلی نے بھاگتے ہوئے ہیل پاوں سے نکالی اور سپیڈ پکڑی ۔۔ اب حالت یہ تھی بھاگتے ہوئے کبھی ایک آگے ہو جاتی تو کبھی کتے کو پاس آتے دیکھ کے دوسری آگے ہو جاتی۔۔
“ویسے تو بڑھی ڈان بنی پھرتی ہو ایک کتے کو نہیں مار سکتی”۔۔
بھاگتے بھاگتے عیشی نازلی پہ چلا کے بولی تو نازلی نے گھور کے اسے دیکھا۔۔
“چھیڑنے سے پہلے دیکھنا تھا نا اپنے جیسے کو چھیڑ رہی ہوں۔۔ ویسے بھی میں انسانوں پہ ڈان ہوں کتوں پہ نہیں۔۔ انسان تو لڑکی دیکھ کے پھر لحاظ کردیں۔۔ یہ کتے کا بچہ تو کاٹتے ہوئے دیکھے بھی نا کے کتنی خوبصورت لڑکی ہے۔۔”
عیشی نے نازلی کو یہاں بھی بھاگتے ہوئے لڑتے دیکھ کے مشی نے رونے والا منہ بنایا۔۔
“اب تم کیوں رو رہی ہو”۔۔
مشی نے جیسے ہی رونا
شروع کیا عیشی تپ کے بولی۔۔
“میں سوچ رہی ہوں کتا چاہے ایک بوٹی لے لے میری مگر میں چودہ ٹیکے کیسے لگواوں گی😭۔۔”
مشی کی بات سن کے ایسی حالت میں بھی نازلی کی ہنسی نکل گئ۔۔ تب ہی ایک آدمی کو ان پہ رحم آگیا اور اسنے کتے کو مار بھگایا۔۔تو تینوں فٹپاتھ پہ بیٹھے لمبے لمبے سانس لینے لگی۔۔ عیشی کی جوتیاں تو اسکے ہاتھ میں تھی جبکہ مشی اور نازلی کتے کے ڈر سے اپنی جوتیاں ہی پھینک آئ تھی۔۔ اب جب ڈر ختم ہوا تو انہیں احساس ہوا تھا کہ سخت روڈ پہ بھاگنے سے تینوں کے پاوں زخمی ہوگئے تھے۔۔ درد اس قدر زیادہ تھا کہ تینوں سے اٹھا نا گیا۔۔ تب ہی ایک شخص نے پانی کی بوتل لا کے دی تو تینوں نے جلدی جلدی پانی پیا۔۔اور اسی آدمی کی منت کی کہ رکشہ کرا دے۔۔ اس نے ایک رکشہ روک کے دیا تو تینوں لنگڑاتی ہوئ اس میں سوار ہوئ اور اسے شاہ ہاوس کا پتا دیا۔۔
” تم بھی وہی چلو چینج کر کے ہم تمھیں گھر چھوڑ دے گے”۔۔
عیشی نازلی سے بولی تو اس نے حامی بھری اور سیٹ سے ٹیک لگا لی۔۔ یہ جانے بغیر کے اب اس نے وہی رہنا ہے😜۔۔
💓💓💕💕💓💓💕💕
“نہیں۔۔۔۔ نہیں۔۔۔۔ نہیں ایسا کبھی نہیں ہوگا سوچنا بھی مت بس میں نے کہہ دیا”۔۔
ضرار امان کی بات سن کے کمرے میں زور سے پاوں مارتا بولا۔۔ حنان ابھی تک امان کو سکتے کے عالم میں دیکھ رہا تھا۔۔ جبکہ امان سنجیدگی سے ضرار کو دیکھ رہا تھا۔۔ اگر چہ لب خاموش تھے مگر آنکھیں بہت کچھ کہہ گئ تھی۔۔ باہر احرار صاحب رخصتی کا اعلان کر رہے تھے۔۔
“بیٹا دولہن تو تجھے بننا پڑھے گا چاہے تو رو یا ہنس۔۔ دولہن تو تو ہی بنے گا😜”۔
امان سنجیدگی سے کندھوں پہ پڑھی شال درست کرتے بولا۔۔ اسکے خطرناک تیور دیکھ کے ضرار نے روتی صورت بنا کے حنان کو دیکھا۔۔ جس نے اسکے دیکھنے پہ ایسے ظاہر کیا جیسے یہاں ہو ہی نا۔۔
“تیری دولہن بننے سے بہتر ہے میں کنواری مر جاوں”۔۔
ضرار زبردست ایکٹنگ کرتے ہوئے بولا تو حنان نے ہنسی دبائ۔۔ اسکی بات پہ امان کو بھی بہت ہنسی آئ مگر کمال مہارت سے ہنسی چھپا کے اس نے ضرار کو گھورا۔۔اور نازلی کا لہنگا اٹھا کے ضرار کی طرف بڑھایا ۔۔جو حنان کو مدد طلب نظروں سے دیکھتے سر نفی میں ہلانے لگا۔۔
“تو خود بدل کے آئے گا یا میں بدلوں”۔۔
امان ضرار کا کندھا جھاڑتے سنجیدگی سے بولا تو ضرار اسکو گالیاں دیتا ہوا اندھر چلا گیا😂۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“ہاں منو آجاو دولہن تیار ہے”۔۔
بیس منٹ بعد حنان نے منال کو میسج کیا تو وہ حیران ہوگئ۔اور سارہ کو لے کے اندھر آئ جہاں ایک لڑکی نازلی کا لہنگا پہنے پاوں کو چھوتی چادر خود پہ ڈالے ہاتھ پاوں چہرہ چھپائے بیٹھی تھی ۔۔
“آہہ منو میں اور امان باہر جا رہے ہیں۔۔ ایسا کرنا کسی کو چہرہ نا دیکھنے دینا اور نا ہی اسے یہاں سے اٹھانا ۔۔بول دینا ہم لفٹ سے دولہن کو گاڑی تک لے جائیں گے۔۔اور ہاں جب سب اس سے مل لیں تو انکے باہر جاتے ہی مجھے میسج کر دینا اسے گاڑی میں امان خود لے جائے گا”۔۔
حنان نے تفصیل سے منع کو سمجھایا جو آنکھیں پھاڑے اس موٹی تازی دولہن کو دیکھ رہی تھی۔۔😂۔۔
“ہاں مگر یہ ہے کون؟”۔۔
منو الجھ کے بولی۔۔
یہ بعد میں بتاوں گا پہلے جتنا کہا ہے اتنا کرو”
حنان نے الجھت میں کہا تو منو نے سر ہلایا۔۔ پھر ویسا ہی کیا جیسا حنان نے بولا تھا۔۔ سب نے کمرے میں آکے دولہن کے سر پہ ہاتھ رکھے اسے خوش رہنے کی دعا دی😂۔۔
جب سب مل کے چلے گئے تو امان اپنی دولہن کو لفٹ سے ذریعے گاڑی تک لایا۔۔ سب نے مارکی کی کھڑکیوں سے گاڑی دیکھی جس کی ڈرائیونگ سیٹ پہ امان تھا اور فرنٹ سیٹ پہ امان کی دولہن😂۔۔
سب نے خوب ہوٹنگ کی اور امان اپنی دولہن کو لے کے گھر کی طرف روانہ ہوا۔۔
گاڑی تھوڑی دور جاتے ہی ضرار نے چادر اتار کے پچھلی سیٹ پہ پھینکی اور غصے سے امان کو گھورا جو اسے دیکھ کے ہنس رہا تھا۔۔
“دیکھ سالے تونے اچھا نہیں کیا میرے ساتھ۔۔ اب بدلے کے لیئے تیار رہنا😠”
ضرار اسکو گھور کے بولا تو امان نے اسکی بات سنی ان سنی کردی اور تھوڑی آگے جاکے غیر آباد جگہ پہ گاڑی روک دی۔۔ تب ہی ضرار گاڑی سے نکلا اور کپڑوں کے اوپر پہنا لہنگا اتار کے گاڑی میں پھینکا۔۔ اسکو جوتا پہنتے دیکھ کے امان نے دروازہ بند کیا اور گاڑی فل سپیڈ سے آگے بھاگ دی۔۔ ضرار ہائے ہائے کرتا رہ گیا😂۔۔
💓💕💓💕💓💕💓💕
“کہاں تھی تم لوگ۔۔اور یہ آج کیا حرکت کی ہے تم لوگوں نے”۔۔
وہ تینوں لنگڑاتے ہوئے گھر میں داخل ہوئ جہاں سب موجود تھے۔۔ بریرہ اور اسکا شوہر بھی وہی تھے۔۔ انکو دیکھتے ہی رشی غصے سے بولی
“یہ تو آپ مجھے بتائیں کیوں دیا مجھے دھوکہ۔۔ارے اگر میں اتنی ہی بوجھ بن گئ تھی تو بتا دیتے میں چلی جاتی یہاں سے۔۔ “۔۔
عیشی جو پہلے ہی غصے سے بھری بیٹھی تھی اوپر سے چوٹ کا درد۔۔ اب رشی کا غصہ دیکھ کے شاید وہ زندگی میں پہلی بار دکھ سے رو کے بولی تھی۔۔ یہ اسے بھی نہیں معلوم تھا وہ کتنے سخت الفاظ بول گئ تھی۔۔ سب جو ان پہ شدید غصہ تھے۔۔عیشی کو ایسے روتا دیکھ کے سب سکتے میں آگئے۔۔
“عیشی وہ”۔۔
“ماما پلیزززز۔۔ کچھ بھی نہیں بولیے گا۔۔ میں اپنی اہمیت اچھے سے جان گئ ہوں اس گھر میں۔۔ بوجھ تھی آپ سب پہ۔۔جو آپ نے زبردستی کسی اور کے گلے ڈال دیا۔۔ ارے میرا نہیں تو دانی بھا۔۔ میرا مطلب انکا ہی خیال کر لیا ہوتا۔۔ آپ لوگ کیسے اتنے خودغرض ہو سکتے ہیں۔۔ وہ کسی اور کو پسند کرتے تھے۔۔ مگر شاید آپ لوگوں نے تو بس بوجھ اتارنا تھا باقی سب جائیں بھاڑ میں”
عیشی روتے ہوئے بولی ۔۔ تو ہمدان کا منہ کھل گیا۔۔ پسند والی بات پہ سب نے ہمدان کو دیکھا جو نفی میں سر ہلانے لگا۔۔ بہن کو پہلی بار ایسے دکھی دیکھ کے امان سے رہا نا گیا۔۔ وہ آگے بڑھا تو عیشی نے ہاتھ اٹھا کے اسے روک دیا۔ مشی اور نازلی بھی پریشانی سے اسے دیکھنے لگی ۔۔ جبکہ دروازے سے داخل ہوتا ضرار عیشی کا یہ روپ دیکھ کے اپنے غم بھول گیا😂۔۔ سب ایسے بت بن گئے جیسے برف نے جما دیا ہو۔۔
“عیشی تمھیں کیا ہوگیا ہے”۔۔
مشی بھری آنکھوں سے عیشی کے پاس آئ اور سرگوشی نما آواز میں بولی ۔۔ دنیا میں یہ واحد ایسی بندی تھی جس کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کے عیشی کو بھی برداشت نہیں تھا۔۔ مشی کا دل چاہ رہا تھا کہ چینخ چینخ کے روئے۔۔ اور عیشی کو پتا تھا مشی ایسا ہی کرنے والی ہے۔۔
“چپ کرو۔۔ وہ تم نے سنا نہیں غصے میں کسی کو دیکھو اور تمھیں لگے کہ سامنا نہیں کر سکتے تو ڈرامہ کردو۔۔ فلحال یہ ہونے دو۔۔دیکھ نہیں رہی سب کتنا غصے میں ہیں۔۔ ہم اپنا بدلا بعد میں لے لے گے۔۔ فلحال تو بچو ۔اور مجھے پتا ہے یہ میسنا بھی انکے ساتھ شامل تھا۔۔”
عیشی مشی کے کان کے پاس بولی تو وہ شاکڈ سی اس ڈرامہ کوئین کو دیکھنے لگی۔۔ عیشی نے رونے کا ڈرامہ کرتے سبکو دیکھا اور کمرے کی طرف بڑھ گئ۔۔ سب وہی ساکت سے کھڑے رہ گئے 😜۔۔۔
“اچھا اب ہم لوگ بھی چلتے ہیں “۔۔
کافی دیر وہاں رہنے کے بعد بریرہ لوگ جانے کے لیئے کھڑے ہوئے۔۔۔
“ارے بیٹا تم اب یہی رہو گی تمھاری رخصتی ہوگئ ہے”۔۔
جب نازلی بھی انکے ساتھ جانے لگی تو رشی پیار سے بولی ۔۔۔
“کیاااااااا”۔۔۔
نازلی بہت چینخ کے بولی سب نے کان پہ ہاتھ رکھ لیئے۔۔جبکہ امان سکون سے اسکے اکسپریشن انجوائے کر رہا تھا 😂۔۔
💓💓💕💕💓💓💕💕
جاری ہے۔۔۔