Ek Hai Aafat Season 2 By Binte Hawa Readelle50339 (Ek Hai Aafat) Episode 24
Rate this Novel
(Ek Hai Aafat) Episode 24
“السلام علیکم ماما”۔۔
سب حیرت میں کھڑے تھے۔۔ ہمدان سب سے ملتے ہوئے آخر میں زری کے پاس آیا اور اسکے سامنے جھکتے ہوئے مسکرا کے بولا۔۔ تو سکتے میں کھڑی زری ہوش میں آئ اور آنکھوں میں آئے آنسوں صاف کرتی ہمدان کے گلے لگ گئ۔۔ اسکا چہرہ چومتے زری کی آنکھیں برسنے لگی۔۔ سب اس اموشنل سین پہ اموشنل ہوگئے سوائے عیشی کے جو یہ سوچ سوچ کے خوش ہو رہی تھی کہ وہ اپنا منہ بند رکھنے میں کامیاب ہوگئ ہے۔۔ اب وہ پارٹی پہ فوجی یونیفارم پہنے گی😂۔۔
“اچھا اب بس کریں نا۔۔اور دانی بھائ دیکھے میں اب تک چپ رہی اب آپ مجھے یونیفارم دیں گے۔۔تو جاکے جلدی جلدی چینج کر آئیں تاکہ خراب نا ہوجائے۔۔ ورنہ سب کیا سوچے گے عیشی گندہ یونیفارم پہن کے آ گئ۔۔”
عیشی اپنی دھن میں بولتی گئ۔۔سب نے حیران ہوکے اسے دیکھا جبکہ ہمدان مسکرانے لگا۔۔عازب اور شاہ کو اب سمجھ آئ تھی کہ عیشی نے اب تک کیسے منہ بند رکھا تھا۔۔
“سوری آپ کون میں نہیں جانتا۔۔ایکچوئلی ٹرینگ کے دوران میرا دماغ کہی گر گیا تھا۔۔کیا میں آپکو جانتا ہوں”۔۔
ہمدان نے سنجیدگی سے کہا تو سب اپنی مسکراہٹ چھپاتے عیشی کو دیکھنے لگے جو منہ کھولے ہمدان کی بات سمجھنے لگی۔۔
“دانی بھائئئئئئئئئئ۔۔ میں آپکو چھوڑو گی نہیں آپ مجھے کیسے بھول گئے۔۔ نہیں بچے گے میرے ہاتھوں آہہہہہہہ”۔۔
غم و غصے سے عیشی کا برا حال ہوگیا اور ہوش میں آتے ہی وہ زور سے چینخی اور دونوں جوتے اتار کے ہاتھوں میں اٹھاتی ہمدان کے پیچھے بھاگی جو ارے ارے کرتا آگے بھاگ گیا۔۔ باقی سب عیشی کی حالت دیکھ کے ہنسنے لگے۔۔جبکہ آس پاس سے گزرتے کچھ لوگ رک کے ان دونوں کو دیکھنے لگے۔۔ کہ ایک فوجی آفسر چھوٹی سی بچی سے ڈر کے آگے آگے بھاگ رہا تھا۔۔😂۔۔
“اچھا اچھاااا رکو رکو مجھے تھوڑا تھوڑا یاد آگیا ہے کہ تم وہی ہو”۔۔
تھوڑا دور جاکے ہمدان نے رک کے کہا جبکہ بھاگتے ہوئے عیشی کا سانس پھول گیا تھا۔۔
“اچھا بتائیں کون ہوں؟”۔۔
پاس رکتے گہرے گہرے سانس لیتے عیشی دونوں ہاتھ کمر پہ رکھتے ہوئے بولی تو ہمدان نے مسکراہٹ دبائ۔۔
“شاہ چاچو کی چڑیا گھر سے بھاگی ہوئ پاگل بلی”۔۔
ہمدان نے معصوم شکل بنا کے کہا تو عیشی نے پوری آنکھیں کھول کے اسے دیکھا ۔۔
“ہاہاہاہا ہاہاہاہا اہاہا “۔۔
ایسے دیکھتے ہوئے وہ بالکل بچی لگی اسکی شکل دیکھ کے ہمدان نے زوردار قہقہہ لگایا۔۔
“بہت اچھا ہوا آپکے ساتھ اپ کی محبوبہ کوئ اور لے اڑا بہت ہی اچھا ہوا اب مزہ آئے گا۔۔ اب اسکے غم میں جلتے رہنا۔۔ اور آئ ایس آئ میں چلے جانا۔۔ایسے ہی بڈھے ہوجاو گے اب”۔۔
عیشی منہ پہ ہاتھ پھیر کے بولی تو ہمدان کا رنگ پل میں بدلا ۔۔ دل بہت زور سے دھڑکا ۔۔
“ک کون لے اڑا “
ہمدان کو لگا جب اسنے عیشی کو غصے میں بتایا تھا کہ وہ اسے پسند کرنے لگا ہے تو وہ سمجھ گئ تھی۔۔ ابھی وہ اپنے رشتے کی ہی بات کر رہی ہے۔۔ ہمدان کو لگا اسکے دماغ میں ہتھوڑے بجنے لگے ہیں۔۔ ایک امید کے تحت اسنے عیشی سے پوچھا کہ شاید وہ ہنس دے اور بولے مذاق کر رہی تھی۔۔
“خازق”۔۔
عیشی نے دوسری طرف دیکھتے ہوئے کہا تو ہمدان کو سانس رکتا ہوا محسوس ہوا۔۔ ایک پل میں اسکے دماغ نے سارے تانے بانے بن لیئے۔۔
“سر میری منگنی ہے نیکسٹ ویک آپ بھی ضرور آنا”۔۔
پل میں خازق کی بات اسکے دماغ میں گھونجی جو اسنے دوران ٹرینگ بہت خوشی سے ہمدان کو بتائ تھی۔۔ مگر اسنے زیادہ دھیان نہیں دیا تھا۔۔
“ہاں بھئ جلدی جلدی گھر آو تمھارے لیئے سرپرائز ہے ایک “۔۔
شاہ کی کال پہ بات ہوتے ہوئے کہے جانے والے الفاظ اس وقت ہمدان کو ہتھوڑے کی مانند لگ رہے تھے۔۔
“کہاں کھو۔گئے”۔۔
اس کو کہی کھویا ہوا دیکھ کے عیشی نے اسکے سامنے چٹکی بجائ ۔۔
“آ ہاں کہی نہیں چلو چلیں”۔۔
بمشکل اپنی حالت پہ قابو پاتے ہمدان نے بے دلی سے کہا اور چلنے لگا۔۔ کچھ دیر پہلے والی خوشی اب کہی نہیں رہی تھی۔۔
“تو کیا آپ مجھے یونیفارم دیں گے”۔۔
عیشی نے ایک امید سے پوچھا۔۔
“ہمم”
ہمدان نے بس ہنکارہ بھرنے میں ہی عافیت جانی اور آگے بڑھ گیا۔۔ عیشی اسکے دل کی کیفیت سے انجان یاہووو کرکے زور سے اچھلی اور اسکے پیچھے بھاگتی ہوئ سب تک آئ۔۔
واپسی کے سارے راستے ہمدان خاموش رہا۔۔ سب یہی سمجھے کے وہ تھک گیا ہوگا۔۔ اسی لیئے کسی نے تنگ نہیں کیا۔۔ واپس آتے ہی آرام کا کہتے وہ اپنے کمرے میں چلا گیا۔۔
💝💝💝💝💝💝💝💝
ایک ہفتے بعد۔۔
آج شاہ ہاوس میں بھی خوب گہما گہمی تھی۔۔ سب یہی سمجھ رہے تھے کہ خازق کی منگنی پہ جا رہے ہیں ۔۔ خاص قسم کے تحفے تیار کیئے جا رہے تھے۔۔
منگنی ایک مارکی میں تھی تو اس لیئے سب کا پلان سیدھا مارکی میں جانے کا تھا۔۔
ہمدان ہر چیز سے بیزار سا بیٹھا تھا۔۔ پچھلے پورے ہفتے اسنے کسی سے اس منگنی کے بارے میں نہیں پوچھا تھا۔۔
“یہ دانی بھائ کو کیا ہوا ہے؟”
ضرار کچن میں آیا تو شیلف پہ پڑھی مٹھائ سے مشی پورا پورا انصاف کر رہی تھی۔۔ ضرار نے بھی ایک لڈو اٹھا کے منہ میں رکھا تو مشی نے گھور کے اسے دیکھا۔۔
تب ہی کچن کی کھڑکی سے باہر جھانکتے ضرار نے پوچھا۔۔ ہمدان صحن میں اکیلا بیٹھا تھا۔۔
“ٹمھیں نہیں پتا۔۔ دانی بھائ غم میں ہیں۔شاڑہ دھوکہ کڑ گئ بچاڑے کے شاتھ”۔۔
منہ مٹھائ سے بھرے مشی نے وہی کہا جو عیشی نے اسے ایک ہفتہ پہلے بتایا تھا۔۔
“کیاااااا”
ضرار چینخ کے بولا تو مشی نے بے اختیار کانوں پہ ہاتھ رکھے۔۔
“آہستہ بولو ضڑاڑ کے بچے معشوم کے کان پھاڑنے ہیں شانڈ کہی کے”۔۔
مشی ہاتھ صاف کرتی غصے سے بولی تو ضرار نے منہ بنا کے اسے دیکھا اور پھر دکھ سے ہمدان کو دیکھا۔۔
“تم تیار کیوں نہیں ہوئ ابھی تک”۔۔
باہر جاتے ہوئے ضرار رکا اور مڑ کے مشی کو دیکھا جو مکمل تیار کھڑی تھی ۔۔ بلو مکسی میں کرل بالوں کا جوڑا بنائے بہت پیاری لگ رہی تھی۔۔
“تم ابھی تک تیار کیوں نہیں ہوئ”۔۔
مشی مٹھائی فریج میں رکھ رہی تھی جب ضرار اسکا مکمل جائزہ لیتے ہوئے بولا۔۔ مشی نے حیرانی سے اسے دیکھا مگر وہ سنجیدہ تھا۔۔
“آنکھوں میں کالا موتیا اتڑ آیا ہے کیا موٹے کہی کے”۔
اپنے آپ کو مکمل دیکھ کے مشی دکھ سے بولی۔۔ تو ضرار مزید ہنسی کنٹرول نا کر سکا اور مشی کی شکل دیکھتے ہوئے زوردار قہقہہ لگایا۔۔
“مڑ جاو تم ضڑاڑ”۔۔
مشی اسکو بازو پہ مکا مارتی بولی تو ضرار ہنستا ہوا باہر آگیا ۔۔
“بھائ”۔۔
باہر آتے ہی وہ ایک دم سنجیدہ ہوا اور دانی کے پاس جاتے ہوئے بولا۔۔
“ہممم”۔۔
ہمدان گہری سوچ میں گھم تھا جب ضرار کی آواز پہ چونکا اور بولا۔۔
“فکر نا کریں اللہ پاک آپکو بہترین سے نوازے گا۔۔وہ میک اپ کا ٹینکر آپکے قابل تھا ہی نہیں”۔۔
دانی کے کندھے پہ ہاتھ رکھتے ضرار ہمدردی سے بولا۔۔ ہمدان نے حیرانی سے اسے دیکھا۔۔اس سے پہلے کے ہمدان کوئ جواب دیتا۔۔ حنان نے آکے دونوں کو چلنے کا بولا کیونکہ سب تیار کھڑے تھے۔۔
💝💝💝💝💝💝💝💝
“مامااااا”۔۔
بریرہ سامان گاڑی میں رکھوا رہی تھی جب نازلی کی چینخ جیسی آواز آئ۔۔
“کیا ہوا نازلی”۔۔
بریرہ اور خازق بھاگ کے کمرے میں آئے۔۔ جہاں نازلی اپنا ڈریس ہاتھ میں پکڑے روتی صورت بنا کے کھڑی تھی۔۔ یہ وہ ڈریس تھا جو اسنے خازق کی منگنی کے لیئے عیشی مشی کے ساتھ جاکے خریدہ تھا۔۔
“یہ دیکھیں میڈ نے میرا ڈریس جلا دیا”۔۔
نازلی آنکھوں میں نمی لاتے ہوئے بولی۔۔
“او ہووو یہ تو بہت غلط ہوا۔۔ چلو کوئ نا ابھی ٹائم نہیں ہے ۔۔ میرے پاس ایک ڈریس پڑھا ہے وہ دیتی ہوں پہن لو بیوٹیشن بھی آنے والی ہے۔۔”
بریرہ مصنوعی افسوس سے بولی۔۔
“ماما یہ تو برائڈل ٹائپ ڈریس ہے”۔۔
کچھ دیر بعد جب بریرہ ڈریس لے کے آئ تو نازلی اسکو الٹ پلٹ کے دیکھتے ہوئے بولی تو خازق نے ماں کو دیکھا۔۔
“کوئ بات نہیں تم دولہے کی بہن ہو ایسا تو چلتا ہے۔۔ جلدی چینج کرلو۔۔ میں نے بیوٹیشن کو سمجھا دیا ہے۔۔ اور پلیزز نازلی بنا چو چراں کے تیار ہوجانا ٹائم بہت کم ہے”۔۔
بریرہ جلدی جلدی بولی اور خازق کو لیئے باہر آگئ۔۔ نازلی منہ بنا کے انکو دیکھتی ڈریس لے کے چینج کرنے چلی گئ۔۔
“ماما آپکو کیا لگتا ہے نازلی کے ساتھ ایسا کرنا ٹھیک ہوگا”۔۔
خازق پریشانی سے بولا۔۔
“ہاں رشی نے مجھے بتا دیا تھا۔۔ وہ دونوں پسند کرتے ہی ایک دوسرے کو۔۔ عیشی مشی اسکی گواہ ہیں۔۔ “
بریرہ پیار سے بولی تو خازق خاموش ہوگیا وہ جانتا تھا نازلی ہر بات عیشی مشی سے شیئر کرتی ہے😜
💝💝💝💝💝💝💝💝
جاری ہے۔۔
ASALAM O ALAIKUM. .
