Ek Hai Aafat Season 2 By Binte Hawa Readelle50339 (Ek Hai Aafat) Episode 2
Rate this Novel
(Ek Hai Aafat) Episode 2
“بس کردیں آپ لوگ جب دیکھوں لڑ رہے ہوتے ہیں یہ گھر ہے یا چڑیا گھر تنگ آگیا ہوں میں پھر آپ لوگ کہتے ہیں مشی اور عیشی بگڑھ گئ ہیں”
ماں باپ کو لڑتا دیکھ کے گیارہ سالا امان شاہ کمرے میں آتے ہی دونوں کو دیکھ کے سنجیدگی سے بولا ۔۔ تو رشی اور شازیب نے دونوں نے اپنے بیٹے کو دیکھا جو ہنسنا تو گناہ سمجھتا تھا۔۔
رشی نے ایک نظر شازیب کو دیکھا جو بلکل ایسا ہی تھا شادی سے پہلے ۔۔۔
“تمھاری ماما کو سکون نہیں ہے بس بہانہ ڈھونڈتی ہے مجھ سے لڑائ کا”
شازیب ہاتھ کھڑا کرتا بولا تو رشی نے اسے گھورا۔۔
“اور جو خود بچوں کو الٹے سیدھے رستے دکھاتے ہیں بےعزتی کراتے ہیں میری وہ سب کیا ہے”۔
رشی دونوں ہاتھ کمر پہ رکھ کے بولی تو شازیب کو بے اختیار ہنسی آئ چاہے جو بھی ہوجائے رشی نہیں بدل سکتی تھی آج بھی ویسے ہی لڑتی تھی جیسے شادی کے شروع میں۔۔۔
“وہ تو مشی نے کہا تھا سچ بتانا”۔۔
شازیب نے کندھے اچکا کے کہا تو رشی غصے سے پھٹ پڑھی۔۔۔
“خود کو غور سے دیکھا تھا پورے جن”۔۔
اس سے پہلے کے رشی بات مکمل کرتی امان نے زور سے دروازہ مارا اور گھر سے نکل گیا اسکو جاتا دیکھ کے زری نے تاسف سے سر جھٹکا ۔۔۔ یہ رشی تھی پہلے اب تو شاہ بھی جان بوجھ کے اسے چھیڑتا تھا۔۔
“جاو خنان بیٹا دیکھو کہاں گیا ہے امان”
زرتاشہ نے اپنے چھوٹے بیٹے کو بولا جو بیٹھا ہوم ورک کر رہا تھا مگر ماں کے کہتے ہی جی ماما بولا اور جوتے پہنتے ہی باہر نکل گیا۔۔۔
♧♧♧♧♧♧
“دانی بھائ مجھے یہ چاکلیٹ چاہیئے”۔۔
ہمدان عیشی کو باہر لا کے پچھتا رہا تھا پچھلے آدھے گھنٹے سے وہ مسلسل ہر قسم کی چاکلیٹس اور جوس خرید رہی تھی۔۔۔
“نہیں بس آج کے لیئے کافی ہے”
ہمدان نے اسکا ہاتھ پکڑ کے کہا اور باہر کھینچا مگر عیشی ہاتھ چھڑا کے واپس شاپ میں بھاگ گئ۔۔۔
“دوکان والے جلدی جلدی یہ چاکلیٹس پیک کردو دانی بھائ پیسے دے گے”۔۔
عیشی بھاگ کے دوکان میں آتے بولی اور ساتھ ہی ہمدان کی پہنچ سے دور ہونے کے لیئے کاوئنٹر کی دوسری سائیڈ بھاگی مگر ایک موٹی سی آنٹی سے ٹکر ہونے کے بعد زمین پہ گری۔۔۔
“آہہہہہہ آہہہہہہ😭۔۔۔ موٹی آنکھیں کیا چور لے گئے ہیں”۔۔
عیشی نے زمین پہ بیٹھے روتے ہوئے کہا تو اس عورت نے گھور کے اسے دیکھا۔۔۔
عیشی کی بات پہ دوکاندار اور باقی گاہک دبی دبی ہنسی ہنسنے لگے۔۔
“تمیز نہیں ہے تمھیں “۔۔
اس عورت نے گھور کے کہا تو عیشی کمر کو ملتے کھڑی ہوگئ۔۔
“تمیز تو ہے مگر اپنے گھر میں ہے”
عیشی منہ بناتی بولی تو دوکان میں موجود سب نے قہقہہ لگایا جبکہ ہمدان اپنی خیر منانے لگا ۔۔۔
“بتمیز”۔۔
وہ عورت عیشی کو دیکھ کے اتنا ہی بولی اور واپس مڑی ۔۔۔ عیشی نے گھور کے اسے دیکھا اور بھاگ کے اسکے پاس گئ۔۔۔ دونوں ہاتھوں سے اس عورت کا ہاتھ پکڑ کے اپنے چھوٹے چھوٹے ناخن چبو دیئے اور ساتھ غصے سے گھورنے لگی۔۔۔
“آپ ہوگی “۔۔
وہ عورت گھبرا کے پیچھے مڑی اور عیشی کو پیچھے دھکا دیا۔۔۔ اس سے پہلے کے عیشی گرتی ہمدان نے اسے پکڑا اور کندھے پہ ڈالے شاپ سے باہر نکلا۔۔۔
“دانی بھائ میری چاکلیٹس”
عیشی چینخ کے بولی مگر ہمدان نے ان سنا کر دیا۔۔ عیشی کو جب چاکلیٹس پہنچ سے دور جاتی دکھی تو اس نے آس پاس دیکھا اور پاس سے گزرتے آدمی کو زور سے تھپڑ مارا۔۔۔
“اوے رک تھپڑ کیوں مارا”۔۔
اس آدمی نے ہمدان کا بازو پکڑ کے روکا تو وہ گھڑبرا گیا۔۔۔
“بھائ میں نے کب مارا”۔۔
ہمدان نے عیشی کو زمین پہ کھڑا کرتے کہا ۔۔ عیشی موقع ملتے ہی واپس شاپ پہ بھاگی۔۔
مگر دروازے پہ ہی اسے دوبارہ وہ عورت مل گئ ۔۔۔ اس نے ایک ہاتھ سے عیشی کو دھکا دے کے سائیڈ پہ کیا اور باہر نکل گئ۔۔۔
“آہہہہ موٹی 😠”۔۔
عیشی نے گھور کے اسکی کمر کو دیکھا۔۔۔
اور چاکلیٹ کا ارادہ کینسل کرتی اسکے پیچھے گئ۔۔۔
وہ عورت ایک کتے کے پاس سے گزری جو روڈ کے پاس سو رہا تھا۔۔۔ اسکا منہ عورت کی طرف تھا۔۔۔ کتے کو دیکھتے ہی عیشی کے دماغ نے شرارت کا سگنل دیا۔۔۔ اسنے کتے کی دم کو زور سے کھینچا تو وہ اٹھ کے زور سے بھونکا ۔۔۔ اور سامنے عورت کو دیکھتے ہی اسکے پیچھے لگ گیا۔۔۔ عورت چینختی بھاگنے لگی ساتھ ساتھ عیشی کو کوس بھی رہی تھی۔۔۔
ہمدان نے بڑھی مشکل سے اپنی جان چھڑائ مگر عیشی کا اگلا کارنامہ دیکھ کے اس نے سر پکڑا مگر بھاگ کے عیشی کو کندھے پہ ڈالا اور دوڑ لگا دی۔۔
اس کے ساتھ ایسا ہی ہوتا تھا جب بھی عیشی کو باہر لاتا ایسے ہی بھاگم بھاگ گھر پہنچتا تھا۔۔۔😂
♧♧♧♧♧♧
“کیا ہوگیا ہے امان تم تو ایسے کر رہے ہو جیسے چاچو چاچی پہلی بار لڑ رہے ہو”۔۔
خنان پارک میں آکے امان کے پاس بیٹھتا بولا اور قلفی امان کی طرف بڑائ جو وہ راستے سے لایا تھا۔۔۔
“ہمممم یمیییییی”۔۔
اس سے پہلے کے امان قلفی پکڑتا ضرار نے دونوں کے درمیان بیٹھتے اس کے ہاتھ سے قلفی لی جس پہ چاکلیٹ کی تہہ لگی تھی۔۔
خنان اور امان نے حیران ہوکے اس آفت کو دیکھا جو ان دونوں کو دیکھ کے ان کے پیچھے گھر سے باہر آیا تھا ۔۔۔
“تمھاری جان کو سکون نہیں کیا”۔۔
خنان نے اسکو گھورتے ہوئے کہا مگر وہ اگنور کر گیا اور مزے سے قلفی کھاتا رہا۔۔۔
“یہ لو تھوڑی تم کھالو”۔۔۔
ضرار نے امان کو دیکھا جو خطرناک تیور لیئے اسے گھور رہا تھا تو اس نے گھڑبڑا کے آدھی کھائ ہوئ قلفی اس کی طرف بڑائی ۔۔۔
“خانی بتا سٹیٹس کس نے لگایا تھا”۔۔۔
امان ضرار کو معنی خیزی سے دیکھتا بولا تو ضرار نے اپنی شامت آتی دیکھ کے دوڑ لگا دی۔۔
اسکو بھاگتا دیکھ کے امان بھی اسکے پیچھے بھاگا اور خنان نے امان کو پکڑنے کی کوشش کی مگر وہ آگے نکل گیا تو خنان بھی پیچھے بھاگا کیونکہ اب اسکی خیر نہیں تھی۔۔۔
“آہہہہ بچاو بچاو کوئ ہے بچاو دیکھو اس لڑکے کو دورہ پڑھ گیا ہے”۔۔۔
ضرار پارک میں بھاگتا چینخ چینخ کے بول رہا تھا ۔۔۔ اسکو چینختا دیکھ کے امان کی سپیڈ اور بڑھ گئ ۔۔ پارک میں موجود لوگ ان تین شگوفوں کو دیکھ رہے تھے جو سامنے آتی ہر چیز کو گراتے بس بھاگ رہے تھے۔۔۔
“آہہہہہہ”۔۔۔۔
بھاگ کے گھر کے پاس پہنچتے ہی ضرار کی کسی کے ساتھ ٹکر ہوئ اور زور دار چینخ کے ساتھ وہ لوگ زمین پہ گرے۔۔
خنان اور امان بھی ان کے پاس پہنچ گئے تھے مگر سامنے کا منظر دیکھ کے ٹھٹک کے رکے ۔۔۔ کیونکہ عیشی ہمدان اور ضرار تینوں کیچڑ میں گرے ہوئے تھے اور عیشی منہ پھاڑ پھاڑ کر رو رہی تھی ۔۔۔ تینوں کے کپڑے بری طرح کیچڑ سے بھر گئے تھے۔۔۔
دفعتأ پاس سے تیز سپیڈ میں گاڑی گزری جس کے باعث سائیڈ پہ پڑھی گیلی مٹی اچھل کے ان تینوں کے منہ پہ گری اور تینوں کو مٹی کا بھوت بنا گئ۔۔۔
وہ تینوں منہ کھولے گاڑی کو دور جاتا دیکھ رہے تھے جبکہ امان اور خنان انکی حالت دیکھ کے پیٹ پہ ہاتھ رکھے ہنس ہنس کے لوٹ پوٹ ہوگئے تھے۔۔۔۔
♧♧♧♧♧♧
جاری ہے….
