393.4K
34

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Ek Hai Aafat) Last Episode

دن یونہی گزرتے گئے ہمدان کے رویے نے بالآخر عیشی کا دل پگلا ہی دیا تھا۔۔ سب کی زندگی اپنے معمول کے ڈگر پہ چل پڑھی سوائے نازلی اور امان کے جو ابھی تک بس لڑنے جھگڑنے میں مصروف تھے۔۔ اب امان اپنے کمرے کی لڑائ گھر والوں تک نا لاتا ۔۔اسے یہی لگتا تھا یہ ساری لڑائیاں اس تک اور نازلی تک محدود ہیں مگر وہ اس بات سے بےخبر تھا کہ اسکے پیچھے ماسٹر مائنڈ کوئ اور ہے😂۔۔ مشی اور ضرار بھی وقتأفوقتأ ایک دوسرے پہ طنز کے تیر چلاتے ہی رہتے تھے جسے سپیشلی عیشی بہت انجوائے کرتی اور وہ چاہتی تھی ہمدان بھی ضرار کی طرح اس سے لڑے اور کبھی کبھی خود ہی وجہ ڈھونڈ کے ہمدان سے لڑتی مگر وہ ہر بار لڑائ ختم کرنے کی کوشش کرتا اور بجائے ضرار کی طرح لڑنے کے اسکو منا لیتا تو عیشی چڑ جاتی۔۔
اب نکاح کو کافی وقت ہوگیا تھا اور سب کے نارمل رویے دیکھ کے گھر والوں نے رخصتی کی تاریخ طے کردی تھی۔۔ ایک ہفتہ بعد عیشی مشی کی رخصتی کے ساتھ امان اور نازلی کا ولیمہ بھی تھا۔۔ گھر میں زوروشور سے شادی کی تیاریاں شروع تھی۔ اور نازلی امان کو صاف صاف کہہ دیا گیا تھا کہ اپنے ولیمے کی شاپنگ خود دونوں جاکے کرو۔۔ سپیشلی نازلی کے ولیمے کا ڈریس ان دونوں نے خود لینا تھا۔۔ نازلی نے بہت احتجاج کیا مگر کوئ فائدہ نا ہوا۔۔ سب اسکے احتجاج کو اگنور کر گئے تو بچاری خاموش ہوگئ۔۔ آج اسے امان کے ساتھ شاپنگ پہ جانا تھا مگر وہ صبح سے کئ بہانے بنا چکی تھی۔۔ آخر کار عیشی مشی نے اسکو ایک پلان سمجھا کے بھیجا تو وہ خوشی خوشی شاپنگ پہ امان کے ساتھ چلی گئ😂۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“یہ والا پیک کردیں۔۔ یہ بھی۔۔ یہ۔۔یہ۔۔۔یہ۔اور ہاں یہ بھی “۔۔
دو گھنٹے پورے مال میں ایسے ہی گھوما گھوما کے ذلیل کرنے کے بعد نازلی کو اپنی مطلوبہ شاپ ملی تو وہاں آتے ہی اسنے کافی مہنگے چھ سوٹ پسند کیئے اور کاوئنٹر پہ دے دئیے امان منہ کھولے اسے دیکھ رہا تھا وہ سوٹ کافی خوبصورت تھے مگت برائڈل سیکنڈ ڈے کے مناسبت سے ہلکے تھے۔۔ اور اتنے مہنگے اور اتنے سارے سوٹ وہ بھی دو تین سوٹ ایک ہی ڈیزائن کے کلر الگ تھا مگر ڈیزائن ایک ہی تھا۔۔
“اگر تم مجھے چڑانا چاہتی ہو تو بالکل فضول طریقہ ڈھونڈا ہے تم نے۔۔ یہ کوئ بھی وجہ نہیں اتنے مہنگے اور اتنے سارے سوٹ لینے کی۔اور ہاں فنکشن ایک دن ہے تو سوٹ بھی ایک ہی ہوگا اور اسکے مطابق ہوگا”۔۔
اتنے سارے پیک ڈریس دیکھ کے امان سنجیدگی سے بولا تو نازلی سکون سے اسکی طرف مڑی اور دونوں بازو سینے پہ باندھ کے اسے گھورنے لگی۔۔
“اور اگر تمہیں یہ غلط فہمی ہے تو اسے اپنے فضول +پھٹیچر دماغ سے نکال دو۔۔ کیونکہ یہ رسم دنیا ہے ولیمے پہ سب گھر والوں کو بھی سوٹ گفٹ کیا جاتا ہے تو یہ رشی ہما زری آنی اور عیشی مشی اور منو آپی کے لئیے ہیں۔۔ابھی ماما سارہ بھابھی کے لیئے بھی لینا ہے۔۔اور عیشی مشی کی شادی کے تحفے بھی لینے ہیں۔۔ اسکے بعد میں اپنا ریسپشن ڈریس لوں گی اسکے ساتھ باقی چیزیں ۔۔ اگر تم میرا خرچا نہیں اٹھا سکتے تو بتا دو میں ماما کو کال کر دیتی ہوں وہ میرے پیسے بھیجوا دے گی”
نازلی نے خوب وار کیا اسے پتا تھا ماما والی بات پہ امان عزت کا مسلہ بنا لے گا اور کبھی نہیں مانے گا۔۔ ہوا بھی وہی امان نے اسے پیسے منگوانے سے منع کر دیا اور خود بل پے کرکے اسکے پیچھے باہر نکلا۔۔۔
نازلی بھی اسکا خوب صبر آزما رہی تھی۔۔ سارہ اور بریرہ کے کپڑوں کے ساتھ اس نے ریا عارب عازب شازیب احرار صاحب ۔۔ خازق۔۔اپنے پاپا۔۔ہمدان۔۔ ضرار حنان یہاں تک کے بچوں کے کپڑے بھی لے لیئے۔۔
اسکے بعد بچوں کے لیئے کھیلونے لیئے۔۔امان بس دانت پیس کے رہ گیا۔۔ اسکے دو سال کی کمائ اسکی بیوی نے چند گھنٹوں میں اڑا دی۔۔ سب چیزیں گاڑی میں رکھوانے کے بعد اس نے اپنا ریسپشن کا ڈریس لیا جسکی مالیت ایک لاکھ تھی امان بچارہ تو بے ہوش ہونے کو تھا جبکہ اسکی ایسی حالت دیکھ کے نازلی دل ہی دل میں خوب مسکرا رہی تھی۔۔ اسکے بعد میچنگ کی جیولری اور سینڈل لینے کے بعد اسنے یہ سارا سامان بھی گاڑی میں رکھا اور دوبارہ مال کے اندھراندھر چلی گئ۔۔امان بھی نڈھال سا اسکے پیچھے ایا۔۔
“اب کیا بچوں کے پیپمر ڈیمپر بھی خرید نے ہیں؟؟”
امان چڑھ کے بولا تو نازلی نے ہنسی دبائ۔۔ وہ امان کو تنگ کرکے بہت خوش ہو رہی تھی۔۔ کیونکہ عیشی مشی نے اسے بتایا تھا کہ امان شاپنگ کے معاملے میں بہت کنجوس ہے۔۔
“بس میری کچھ چیزیں رہ گئ ہیں۔اور تم کیا میری چیزیں گن رہے ہو۔اگر تم پیسے نہیں دے سکتے تو میں ماما کو کہتی ہوں”
نازلی بیگ سے موبائل نکالتے سنجیدگی سے بولی تو امان نے اس کے ہاتھ سے موبائل چھینا۔۔
“میں نے کب انکار کیا ۔دے تو رہا ہوں چلو”۔۔
امان دانت پیس کے بولا تو نازلی نے ہنسی دبائ ۔۔۔اور کافی ٹائم گھومانے کے بعد۔ امان کی ساری جمع پونجی خرچ کرنے کے بعد بالآخر اسکی شاپنگ ختم ہوئ اور دونوں گھر کو روانہ ہوئے۔۔ بچارہ امان تو اکاونٹ خالی ہونے پہ غمزدہ تھا۔۔۔😂۔۔
“یہ ریا آنی آپ کے لیئے ڈریس لیا۔۔ یہ رشی آنی آپ کا۔یہ زری آنی آپکا۔۔ یہ ہماہ آنی آپ کے لیئے۔۔اور یہ عیشی مشی آپکا اور منو آپی آپکا۔۔”
نازلی باری باری سبکو کپڑے پکڑاتی بولی تو سب نے ہنسی چھپاتے امان کو دیکھا جسکی شکل دیکھنے والی تھی۔۔ مردوں کو کپڑے دیتے ہوئے نازلی جیسے ہی فارغ ہوئ تو سب نے امان کو دیکھ کے زوردار قہقہہ لگایا۔۔
“نازلی بیٹا امان کو کچھ نہیں لے کے دیا؟”
ریا مسکراتے ہوئے بولی تو نازلی نے انگلی دانتوں میں دبا کے امان کی طرف دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔
“وہ میں بھول گئ😁”
نازلی معصومیت سے بولی تو سب نے دوبارہ قہقہہ لگایا۔۔
“اہہ کوئ بات نہیں کل میں اور حانی جائیں گے شاپنگ کے لیئے تو امان ہمارے ساتھ چل کے لے لے گا “۔۔
امان کو غصے میں دیکھ کے ہمدا ن بولا تو زری اسے دیکھ کے مسکرائ ۔اسکا بیٹا ہر مشکل میں سب سے آگے ہوتا تھا ہر ایک کی مدد کے لیئے۔۔
💝💝💝💝💝💝💝💝
آج عیشی مشی کی رخصتی کا دن تھا شاہ ہاوس میں ہر طرف خوشیوں کا سماں تھا۔۔
عیشی مشی اور نازلی پارلر جاچکی تھی۔۔ واپسی پہ انہیں امان نے مارکی میں لانا تھا۔۔
“عیشی میں یہ نہیں پہن رہی یہ بہت بھاری ہے”۔۔
مشی مالا کو دیکھ کے برے برے منہ بناتی بولی تو عیشی نے گھور کے اسے دیکھا۔۔ آج بھی دونوں کی ڈریسنگ میک اپ جیولری اور ہیئر سٹائل بالکل سیم تھا ۔۔ کوئ دیکھتا تو بالکل پہچان نا پاتا کہ عیشی کون ہے اور مشی کون ہے۔
سلور کلر کی ترکش میکسی کے ساتھ برائڈل میک اپ اور شاہی مالا کے ساتھ ترکش کراون جس پہ سلور کلر کی جالی دار لڑئیاں لگی تھی۔۔
عیشی کے ڈانٹنے پہ مشی نے مالا پہنی۔۔ بیوٹیشنز نے دونوں کے کرلی بالوں کی لیٹیں کراون کے ساتھ سیٹ کی اور باقی بچے بالوں میں سلور کلر کے موتی سجا کے دائیں کندھے سے آگے کر دیئے ۔۔ ہاتھوں پہ مہندی اور پھولوں کے گجھرے پہنا کے بیوٹیشنز ہٹی تو عیشی مشی نے سلور کلر کی ہیلز پہنی۔۔ جب مکمل تیار ہوکے پیچھے مڑی تو نازلی ان دونوں کو پہچان نا پائ کہ کون عیشی ہے اور کون مشی 😂۔۔
نازلی بھی بےبی پنک کلر کی ترکش میکسی میں ویسا کی ترکش کراون اور مالا پہنے بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔۔ ۔مگر اسکا ہیئر سٹائل مختلف تھا۔۔ بالوں کو سٹریٹ کرکے درمیان سے مانگ نکالے دونوں سائیڈ سے بال آگے کی طرف تھے جن پہ کراون کی جالی دار لڑئیاں لٹک رہی تھی۔۔
کچھ دیر بعد امان آگیا جب تینو ں تیار ہوکے باہر آئ تو امان نے عیشی مشی کے سر پہ ہاتھ پھیرا۔۔ مگر جب نظر ناراض سی نازلی پہ گئ تو اس نے مسکراہٹ چھپائ۔۔ وہ بالکل گڑیا لگ رہی تھی۔۔ عیشی مشی کے بار بار کہنے پہ نازلی ناراض ہوکے آگے بیٹھ گئ۔۔ امان تینوں کو مارکی لایا جہاں فنکشن شروع تھا۔۔ تینوں کے آتے ہی فل پروٹوکول میں انہیں سٹیج تک لایا گیا۔۔اور فوٹو شوٹ شروع ہوا۔۔ ہر نظر ان سے ہٹ نہیں رہی تھی۔۔ ہر کوئ ما شاہ اللہ کہتا اور تینوں جوڑیوں کو ہمیشہ خوش رہنے کی دعا دیتا۔۔
“مشی چلو کوئ شرارت کرتے ہیں”۔
کافی دیر سکون سے بیٹھنے کے بعد عیشی مشی کے کان میں سرگوشی کرنے والے انداز میں بولی تو مشی نے حیرانی سے اسے دیکھا جسے آج بھی آرام نہیں تھا۔۔
“وہ دیکھو ذرہ “۔۔
عیشی دور دروازے کے باہر اشارہ کرتے ہوئے بولی تو مشی نے بھی اس جانب دیکھا۔۔ جہاں پاپڑی والا کھڑا تھا۔۔ ۔مارکی کی سائیڈ والی کھڑکی سے باہر کا منظر صاف نظر آرہا تھا۔۔ مشی کے کوئ جواب دینے سے پہلے ہی عیشی نے اسکا ہاتھ پکڑا اور سٹیج سے نیچے لے آئ ۔۔ ہر کوئ مڑ کے ان نمونیوں کو دیکھ رہا تھا۔۔
“کہاں جا رہی ہو تم دونوں”۔۔
رشی انکو سٹیج سے اترتا دیکھ کے اسکے پاس آئ اور آہستہ آواز میں دانت پیس کے بولی تو عیشی نے رشی کو مسکرا کے دیکھا اور مشی کا ہاتھ پکڑے باہر بھاگی۔۔
“ہاہاہاہا یہ تمھاری ہی اولاد ہے بیٹا اپنی بارات بھول گئ کیا”
ریا رشی کے پاس آتی مسکرا کے بولی تو رشی نے بے بسی سے اسے دیکھا۔۔
“بھائ ہمارے لیئے بھی دو تیار کرو۔۔ مصالحہ اور لیمبو تیز لگانا”۔۔
عیشی پاس آتی بولی تو پاس کھڑے بچوں اور پاپڑی والے نے انہیں ایسے دیکھا جیسے کوئ اور مخلوق آگئ ہو۔۔
“تم لوگ یہاں کیا کر رہی ہو”۔۔
عیشی مشی کو باہر دیکھ کے امان انکے پاس آیا اور سنجیدگی سے بولا۔۔
“ہم یہ لے رہی ہیں”۔۔
دنیا بھر کی معصومیت چہرے پہ سجھائے جب عیشی بولی تو امان نے سر پکڑا۔۔
“تم چلو اندھر”
امان دونوں کو واپس موڑتا بولا تو عیشی نے منہ بنا کے اسے دیکھا۔۔
“تو پھر آپ ہمیں یہ لے کے دیں”۔۔
وہی کھڑی ہوتی عیشی بولی تو غصے کا گھونٹ بھرتے امان نے خامی بھری۔۔
“میرے لیئے دو لینے ہیں اگر نا لائے تو میں پھر آ جاوں گی”۔۔
عیشی انگلی دکھا کے وارن کرتی بولی تو امان نے آنکھیں سکیڑ کے اپنی چھوٹی پٹاخہ بہن کو دیکھا اور ہاں میں سر ہلایا تو عیشی مشی منو کے ساتھ برائڈل روم میں چلی گئ۔ پاپڑ پہ تیز مصالحہ ڈلے مان نے انکو لا کے دیئے۔۔ جسے سی سی کرتے انہوں نے کھایا۔ انکھوں میں پانی آگیا مگر پرواہ کسے تھی۔۔ کچھ دیر بعد کھانا کھلا۔۔ اور اسکے بعد سبکی دعاوں میں دونوں رخصت ہوئ۔۔
💝💝💝💝💝💝💝💝
“مجھے آئسکریم کھانے جانا ہے”۔۔
سب مہمانوں کو الوداع کرکے امان جب تھکا ہارا کمرے میں آیا تو نازلی لان کے ایک آرام دہ سوٹ میں ملبوس پاوں کا مساج کر رہی تھی۔۔ میک اپ دھل چکا۔۔ پیلے رنگ کی شارٹ لان کی شرٹ کے ساتھ سیفد رنگ کی کیپری پہنے۔۔ سیدھے بالوں کو رف سا جوڑا بنائے۔۔ وہ بالکل پرسکون لگ رہی تھی۔۔ سفید ہی شفون کا ڈوپٹہ بیڈ پہ پڑھا تھا۔۔ جب امان صوفے پہ بیٹھا شوز اتارنے لگا ۔۔تو نازلی نے مساج کریم سائیڈ ٹیبل پہ رکھی دوپٹہ گلے میں لٹکائے۔۔سینڈل پہن کے امان کے سامنے کھڑی ہوتی دونوں ہاتھ سینے پہ باندھ کے بولی تو امان نے حیرت سے اسے دیکھا تھا جسکا ابھی کچھ دیر پہلے ولیمہ ہوا تھا۔۔
“ایسے کیا دیکھ رہے ہو نہیں لے کے جانا تو بتا دو میں خود چلی جاتی ہوں”۔۔
نازلی اپنا پاوچ اٹھاتی بولی تو امان نے دانت پیسے اور اٹھ کے باہر جاتے اسے چلنے کا کہا۔۔ نازلی بھی ہنسی دبائے اسکے پیچھے چل پڑھی ۔۔ امان کے ساتھ اتنا وقت گزارنے کے بعد اب اسکے دل میں امان کے لیئے نا نفرت تھی نا غصہ بس اسے تنگ کرنے میں مزہ آتا تھا اسے۔۔
“ہم بائیک پہ جائیں گے”۔۔
امان کو گاڑی کی طرف بڑھتا دیکھ کے نازلی بچوں کی طرح پاوں پٹخ کے بولی۔۔
“تمھارا دماغ ٹھکانے پہ ہے یا کہی گرا ورا آئ ہو”۔۔
امان چڑھ کے بولا تو نازلی نے منہ بنا کے اسے دیکھا۔۔
“پلیززز چلو نا آج بائیک پہ چلتے ہیں مزہ آئے گا۔خوب انجوائے کریں گے پلیززز”۔۔
نازلی امان کا بازو پکڑ کے بچوں کی طرح معصومیت سے بولی تو امان بس اسکا چہرہ دیکھتا رہ گیا۔اور چاہ کے بھی انکار نا کر سکا۔۔ جب اسنے بائیک گھر سے باہر نکالی اور سٹارٹ کی تو گلی سنسان پڑھی تھی۔۔ نازلی بھی لڑکوں کی طرح بائیک پہ بیٹھ گئ۔۔ امان نے بہت کہا اسے دوسری طرح بیٹھنے کا مگر وہ نا مانی تو امان نے ہار مانتے ہوئے بائیک آگے بڑائی ۔۔۔
💝💝💝💝💝💝💝💝
ہمدان جب کمرے میں آیا تو عیشی کمرے میں نہیں تھی ۔۔اسکو تلاش کرتے اسنے ادھر ادھر دیکھا مگر ندارد ۔۔ واشروم کا بھی دروازہ کھلا تھا۔ جب اسے یقین ہوگیا کہ عیشی کمرے میں نہیں ہے تو دونوں ہاتھوں میں ماتھا مسلتے وہ کمرے سے باہر نکلا جہاں لائٹس آف تھی۔۔
ہر چیز کو ٹٹولتا وہ عیشی مشی کے مشترکہ کمرے کی طرف بڑھا کیونکہ اسے پتا تھا عیشی وہی ہوگی۔۔
“آہہہ”۔۔
کچھ قدم آگے بڑھتے ہی اسکا کسی سے زوردار ٹکراو ہوا اور مقابل نے چینخ ماری تو ہمدان نے فورآ اسکے منہ پے ہاتھ رکھا۔۔
“تم یہاں کیا کر رہے ہو؟”۔۔
مدھم مدھم روشنی میں ضرار کو دیکھ کے ہمدان آہستہ آواز میں بولا ۔۔
“وہی جو آپ کر رہے ہیں “۔۔
ضرار دانت دکھا کے بولا تو ہمدان نے سر کھجایا۔۔ یعنی اسکی بھی بیوی غائب تھی۔۔
دونوں جیسے ہی انکے کمرے کے پاس پہنچے اور دروازہ کھول کے اندھر داخل ہوئے تو سامنے ہی دونوں مہارانیاں صوفے پہ بیٹھی ۔۔ سموسہ چاٹ کے ساتھ انصاف کر رہی تھیں۔۔ سامنے ہی بریانی کی آدھ کھائ پلیٹ پڑھی تھی اور کولڈ رنک کی آدھی آدھی کین بھی پڑھی تھی ۔۔
دونوں کو سامنے دیکھ کے ہمدان اور ضرار نے سینے پہ بازو باندھے اور انہیں دیکھنے لگے۔۔تو نوالا چباتے معصوم شکل بنا کے دونوں کھڑی ہوگئ۔۔
“انکو پہچانے گے کیسے”۔۔
آج دونوں میں کوئ بھی فرق نا دیکھ کے ہمدان کنفیوز سا آہستہ سے بولا تو ضرار نے چٹکی بجا کے کہا ایسے۔۔
“دیکھا میں نے کہا تھا نا یہ نہیں پہچان سکیں گے اب آئے گا مزہ”
عیشی مشی کے کان میں بولی اور انکھ دبائ۔۔
“مشی موٹی کہی کی کم ٹھوسا کرو کھا کھا کے آنٹی لگ رہی ہو۔۔ آج بھی سب کہہ رہے تھے معصوم سے بچے کی شادی اتنی بڑھی عورت سے کردی”۔۔
ضرار منہ بنا کے موبائل میں دیکھتے ہوئے بولا تو مشی نے آنکھیں پھاڑے اپنا جائزہ لیا جسکا وزن بمشکل 43 کلو تھا اور اسکا شوہر اسے آنٹی کہہ رہا تھا۔۔
“موٹے ضڑاڑ کھڑوس سڑو۔۔خود ہوگے انکل۔۔ کالے سانڈ۔۔ خبڑ داڑ جو مجھے موٹی بولا تو۔۔ تمھاڑا قیمہ بنا دو گی۔۔ کل خبڑوں میں آئے گا ایک بہادڑ معصوم لڑکی نے ایک دہشتگڑد کو ماڑ دیا”۔۔
مشی کی زبان کو تالا ہمدان اور ضرار کے قہقہے پہ لگا جب اس نے مڑ کے عیشی کو دیکھ جو خون خوار نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔
“وہ میڑے منہ سے نکل گیا”۔۔
مشی منہ بنا کے بولی تو عیشی ویسے ہی کھڑی رہی۔۔سارے پلان پہ مشی کے ڑ نے پانی پھیر دیا تھا۔۔
“دیکھا۔ بھائی میں نے کہا تھا نا میں پہچان لوں گا۔۔ “
ضرار کالر اکڑا کے بولا تو ہمدان نے اسے داد دی اور عیشی کو لے گیا۔۔ جب مشی نے کشن سے ضرار پی حملہ کیا جو ہر کشن کیچ کرکے قہقہہ لگاتا اور مشی کو زبان چڑاتا جو مزید تپ جاتی اور کشن اٹھا کے ۔مارتی۔۔
سارے کشن ختم ہونے پہ ضرار نے اسے سوری کیا اور اسے لے کے کمرے میں آگیا ۔۔ مشی ابھی بھی اس سے۔ ناراض تھی۔۔
💝💝💝💝💝💝💝💝
“یہ سب ایسے کیوں دیکھ رہے ہیں جیسے ہم ڈیٹ پہ آئے ہو”۔۔
مہندی لگے ہاتھوں سے آئسکریم کھاتے نازلی تجسس سے بولی۔۔ رات کے اس وقت رش بہت کم تھا۔۔لوگوں میں زیادہ مرد ہی نظر آرہے تھے۔۔جو پاس سے گزرتے عجیب نظروں سے ان دونوں کو دیکھتے تو آئسکریم پالر میں باہر گھاس پہ ٹانگیں لمبی کیئے بیٹھے آئسکریم کھا رہے تھے۔۔ امان کو شروع میں غصہ تو بہت آیا مگر نازلی کے ساتھ گھومتے اسے اچھا لگ رہا تھا۔
“ہاں ابھی یہاں تمھارے دو چار بھائی نکل آئیں گے اور بولے گے ہماری بہن کو چھیڑ رہا تھا”۔۔
امان بھی مسکراتے ہوئے بولا تو نازلی نے قہقہہ لگایا۔
“بہت مزہ آئے میں۔ بھی کہہ دوں میں تو اسے جانتی ہی نہیں ایویں میرے پیچھے پڑھا ہے”
نازلی مزے سے آئسکریم کھاتے ہوئے بولی تو امان نے صدمے سے اسے دیکھا۔۔
“ظالم عورت شرم نہیں آئے گی شوہر کو مرواتے ہوئے”۔۔
امان معصومیت سے بولا تو نازلی نے نفی میں سر ہلایا۔۔اور ساتھ ہی قہقہہ لگایا۔۔ یونہی ہنستے اور امان کو تنگ کرتے اس نے آئسکریم ختم کی اور پیسے دے کے دونوں پارکنگ میں آئے۔۔ تب ہی تین لڑکے وہاں آگئے جو دکھنے میں دبلے پتلے تھے۔۔انکے ہاتھ میں پستول تھا جو انہوں نے امان کے سر پہ رکھا تو نازلی گھبرا گئ۔۔ مگر ایسی صورتحال میں اسے خود کے ڈر پے قابو پانا اچھے سے آتا تھا۔۔
“جو کچھ ہے جلدی نکالو”۔۔
ایک لڑکا ہاتھ آگے کرکے ڈرانے والے انداز میں بولا۔۔
“ہی ہی ہی ہی😁”۔۔
نازلی دانت نکالنے لگی تو اتنی سیریس سیچویشن میں بھی اسکو سیریس نا ہوتا دیکھ کے امان نے آنکھیں بند کرکے گہرا سانس لیا۔۔
“یہ کیا کر رہی ہو “۔۔
وہی لڑکا غصے سے بولا۔۔
“نظر نہیں آرہا دانت نکال رہی ہوں۔۔ خود ہی کہا ہے جو ہے نکال دو ہی ہی ہی😁”۔۔
بات ختم کرتے نازلی دوبارہ ہنسی تو اسکی عجیب منطق پہ امان نے ہنسی دبائ ۔۔
“یہ ایسے نہیں مانے گے “۔۔
تینوں لڑکے سامنے کھڑے ہوکے بازو فولڈ کرتے بولے تو امان نے مڑ کے حیرت سے ساتھ کھڑی لڑکی کو دیکھا جو دوپٹہ کمر پہ باندھ کے بازو فولڈ کر چکی تھی۔۔
“ایسے کیا دیکھ رہے ہو شاید تم بھول گئے میں ایک فائٹر ہوں اور ان تینوں ماچس کی تیلیوں کو اکیلے ہی سبق سکھا سکتی ہوں”۔۔
نازلی آنکھیں گھوما کے بولی تو امان مسکرایا۔۔ تب ہی دونوں طرف سے زبردست لڑائی شروع ہوئ۔۔ جب نازلی امان کا بازو پکڑ کے گھومی اور دونوں پاوں سامنے کھڑے لڑکے کے منہ پہ مارے۔۔ کچھ ہی دیر بعد وہ تینوں ہائے ہائے کرتے بھاگ گئے تو نازلی نے ہاتھ جھاڑ کے گردن اکڑائے امان کو دیکھا جیسے کہہ رہی ہو دیکھا۔۔
اسکے بعد نازلی امان کو زبردستی پارک لے گئ۔۔اور پتھروں سے۔ بنی اونچی جگہ پہ بیٹھ گئ۔ امان بھی اسکے ساتھ بیٹھ گیا۔ یونہی رات گزر گئ۔۔اور دونوں نے یہاں سے سن سیٹ کا خو بصورت منظر دیکھا۔۔ اسکے بعد دونوں تھکے ہارے گھر آئے جہاں سب سو رہے تھے وہ دونوں بھی اپنے کمرے میں چلے گئے۔۔ ان دونوں کے درمیاں جو آخری غصے کی دیوار کھڑی تھی نازلی نے اسے بھی آج گرا دیا۔۔ امان نے اسے خوبصورت سا بریسلیٹ گفٹ کیا اور سوری بھی کیا ایسے اچانک رخصتی کی اور اسے اتنا تنگ کرنے کی۔۔۔
💝💝💝💝💝💝💝💝
پانچ سال بعد۔۔۔
“آہہ رومی وہی رکو رکو ابھی بتاتی ہوں”
عیشی اپنے چھ ماہ کے بیٹے شامان کو جب نہلا کر باہر آئ اسکی چار سالہ بیٹی رومی جسے اسنے ابھی صاف کپڑے پہنا کے ہمدان کے حوالے کیا تھا باپ کو موبائل میں بزی دیکھ کے باہر نکل گئ۔۔اور باہر سے بلی کے بچے کو دم سے پکڑے کپڑے گندے کیئے اسے گھسیٹتے ہوئے کمرے میں لا رہی تھی جب عیشی روتی شکل بنا کے چینخ کے بولی۔۔اور ٹاول میں لپٹے بچے کو بیڈ پہ ڈالتے اسکی طرف بھاگ جو موٹی موٹی آنکھیں ٹمٹماتے ماں کو دیکھ رہی تھی۔۔ تب ہی بیڈ پے بیٹھا ہمدان عیشی سے پہلے رومی تک پہنچا اور اسے اٹھا کے باہر بھاگا اسے پتا تھا عیشی رومی کو اب چھوڑنے والی نہیں تھی۔۔ ہمدان نے جیسے ہی رومی کو اٹھایا تو بلی کا بچہ اپنی جان بخشی پہ باہر بھاگا۔۔ اسکے پنجے مٹی سے گندے تھے جہاں جہاں سے گزرا پنجوں کے نشان چھوڑ گیا۔۔ عیشی نے سر پکڑ کے گندے فرش کو دیکھا پھر ہمدان اور رومی کو جو رشی کے کمرے میں پہنچ چکے تھے۔۔ اور رومی کو آٹھانے کی وجہ سے ہمدان کے کپڑے بھی گندے ہو چکے تھے۔۔
“تو پھر کیسا لگتا ہے اپنی جیسی بیٹی دیکھ کے”
تب ہی عیشی کے پاس ضرار آیا اور مسکرا کے بولا تو عیشی نے صوفے پہ پڑھا کشن اٹھا کے اسے مارا جو اسنے ہنستے ہوئے کیچ کیا اور دوبارہ عیشی کی طرف پھینکا جو سیدھا اسکے ناک پہ لگا۔۔ اور تب ہی ضرار ہنستے ہوئے کمرے میں بھاگ گیا اور عیشی اپنی ناک دباتے اسے گھورنے لگی۔۔جب شامان کے رونے کی آواز نے اسے اپنی طرف متوجہ کیا تو وہ روتی شکل بنا کے اندھر کی طرف بھاگی۔۔ دونوں بچوں نے اسے رنگ کرکے رکھ دیا تھا ایک کا رونا ختم نہیں ہوتا تھا تو دوسرے کے الٹے کام۔۔۔😂
💝💝💝💝💝💝💝💝
“ماما آپ جیادا (زیادہ )لائق تھی یا پاپا؟”
مشی اپنے چار سالہ بیٹے شایان کو ہوم ورک کرا رہی تھی جب وہ منہ میں پینسل دے کے بولا۔۔
“آپ کی ماما لائق تھی”۔۔
“ہاں پاپا تو سکول کے باہر پتیسہ بیچتے تھے نا”۔۔
مشی اسکی چھوٹی سی ناک دبا کے بولی جب کمرے میں داخل ہوتا ضرار چڑھ کے بولا۔۔
“ہاں بالکل وہ تو کامیابی میرے قدم چومتی تھی ورنہ تم تو جل جل کے کالے ہوگئے”۔۔
مشی نے دوبدو جواب دیا۔۔
“یہ کامیابی قدم کیشے چومتی ہے پاپا؟”
شایان کا اگلا سوال تیار تھا۔۔
“آپکے پاپا کے تو کبھی کامیابی نے قدم ہی میں چومے انہیں کیا پتا کیسے چومتی ہے”😜۔۔
مشی ضرار کو چڑھاتے ہوئے بولی۔۔
“ہین تیو (کیوں ) نہیں چومے؟”۔
شایان نے دوبارہ سوال کیا تو ضرار مسکرانے لگا کہ اب مشی پھنس چکی ہے مگر مشی کے جواب پہ اسکا منہ کھل گیا۔۔
“کیونکہ جب کامیابی آپکے پاپا کے قدم چومنے آتی تو آپکے پاپا کے پاوں کی بو سے بے ہوش ہو جاتی😂”۔۔
مشی برا سا منہ بنا کے بولی تو شایان بھی چھوٹے سے ہاتھ سے ناک دباتے برا سا منہ بنا کے ضرار کو دیکھنے لگا۔۔
“کش چیز کی بو آتی ہے ماما؟”
“جلنے کی”😂
“ہاں جب تمھاری ماں جرابوں کو جڑابیں بول کے مجھے پکڑائے گی تو وہ تو غصے سے جلے بھنے ہی گی نا”
ضرار نے بھی ویسے ہی جواب دیا تو مشی نے اسے گھورا جو ہمیشہ بیٹے کے سامنے اسکا مذاق بناتا تھا۔۔ مگر چپ رہنے میں ہی آفیت جانی😂
💝💝💝💝💝💝💝💝
“ارے بیٹا ہمدان کہاں ہے؟”۔۔
رات آٹھ بجے جب سب ٹی وی کے سامنے اکھٹے ہوئے تو زری نے عیشی سے پوچھا۔۔ کیونکہ ابھی کچھ دیر میں ضرار کا لائیو شو آنے والا تھا جس میں اس نے امان اور حنان کے ساتھ شو کرنا تھا کرکٹ کے بارے میں۔۔
“وہ کسی ضروری کام سے گئے ہیں”۔۔
عیشی نے مسکرا کے جواب دیا پھر شامان کو زری کی گود میں بٹھاتے خود مشی اور نازلی کے ساتھ آکے کارپٹ پہ بیٹھ گئ جہاں نازلی اپنے تین سالہ بیٹے شاویز کو کھانا کھلانے کے ساتھ ساتھ شو دیکھ رہی تھی۔۔ عیشی کی بیٹی رومی اور مشی کا بیٹا شایان ٹی وی کے سامنے کشن رکھ کے بیٹھے لڑھ رہے تھے۔۔
“السلام علیکم ناظرین آپ دیکھ رہے ہیں اپنا پسندیدہ شو ہنسی خوشی وید ضرار شاہ ۔۔ اور افکارس میں ہوں آپکا کیوٹ ۔۔ معصوم۔۔شریف ہینڈسم ہوسٹ ضرار شاہ۔۔ اللہ حاسدوں کی نظروں سے بچائے😜”
“ہاہاہاہا یہ نہیں سدھرے گا”۔۔
ضرار اپنی فنی نیچر میں شروع تھا جب ریا ہنستے ہوئے بولی تو باقی سب بھی ہنسنے لگے۔۔۔
“جی تو آج میں آپ کو ملوانے جا رہا ہوں شاہ فیملی کے دو ایسے ستاروں سے جنہیں لگ چکا ہے گرہن 😂۔۔”
ضرار آنکھ دباتے ہوئے بولا تو امان نے ٹیبل کے نیچے سے اسکے پاوں پہ اپنا پاوں مارا تو وہ فورآ اپنی سیدھی ٹیون میں آیا اور شرافت سے دونوں کا تعارف کرایا۔۔ مگر ساتھ ساتھ اسکے لطیفے جاری تھے۔۔یہی وجہ تھی اسکا شو ہمیشہ ہائ ریٹنگ پہ رہا۔۔
“جی تو شو آگے بڑھانے سے پہلے آپکو دیتے ہیں ایک بہت اہم خبر۔۔ جی تو ناظرین۔۔ ہماری پاک فوج نے اسلام آباد میں دہشتگردوں کی ایک بڑھی کوشش ناکام بنا دی۔۔جو بھاری مقدار میں اصلحہ اور بارود شہر میں لا رہے تھے جو شہر میں مختلف مقامات کو تباہ کرنے کے لیئے استمعال ہونا تھا۔۔ مگر پاک فوج ہی بروقت کاروائ نے انکے دانت کھٹے کر دئیے اس آپریش میں تمام دہشتگرد موقع پہ ہی جان بحق ہو گئے۔۔ مگر افسوس کی خبر آپکو دیتے چلے اس کاروائ میں دو فوجی جوان شہید ہوگئے اور تین شدید زخمی۔۔ شہید ہونے والوں کے نام زاہد اور افتخار تھے۔۔ جبکہ زخمی ہونے والوں میں دانیال ۔۔ ریان اور ایک فوجی افسر میجر ہمدان شاہ”۔۔
ہمدان کا نام لیتے ہی جیسے ہر طرف سکتہ طاری ہوگیا۔۔ضرار کا رنگ پل میں بدلا اسنے پھٹی پھٹی آنکھوں سے سامنے امان اور حنان کو دیکھا انکی حالت بھی مختلف نا تھی۔۔
“دانی بھائ”۔۔
وہ تینوں یک آواز بولے اور سب وہی چھوڑ کے باہر بھاگے سب حیرانی سے انہیں دیکھ رہے تھے۔۔ جو لائیو شو چھوڑ کے پاگلوں کی طرح باہر کو بھاگ گئے۔۔۔
“دانی”۔۔
شاہ ہاوس کے مقینوں پہ بھی یہ خبر کسی بمپ کی طرح گری۔۔ عیشی سرگوشی کی سی آواز میں بولی جبکہ باہر گاڑیوں کی آوازیں۔۔ سب کی دعاوں کو رونے کی آوازیں اسکے کانوں میں گھونج رہی تھی۔۔ نازلی اور مشی بچوں کے پاس رہ گئ تھی منو اور احرار صاحب بھی گھر ہی تھے جبکہ باقی سب ہسپتال پہنچ گئے۔۔ عیشی ابھی تک سکتے میں تھی جیسے یہ سب خواب ہو۔۔۔
امان حنان اور ضرار ہسپتال پہنچ چکے تھے۔۔ ہر طرف خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئ۔۔ کبھی ایک فون کرکے پوچھ رہا تھا تو کوئ ہسپتال کا ایڈریس پوچھ رہا تھا۔۔ سب سرخ آنکھوں سے ایمرجنسی کے دروازے کو دیکھ رہے تھے۔۔ موبائل کی رنگ ٹیون تو کبھی نرس کی جلدی آمد کبھی دوائ مانگی جاتی تو کبھی خون۔۔ کبھی سائن کرائے جاتے تو کبھی بلڈ گروپ میچ نا ہونے کی ٹینشن میں ادھر ادھر بھاگ دوڑ۔۔جبکہ عیشی اس سب سے بے خبر ایمرجنسی کے دروازے دروازے کو گھور رہی تھی۔۔ ہمدان کی ایک ایک یاد اسکے ذہن کے پردے میں اتر رہی تھی۔۔ کبھی وہ ہنستا ہوا اسے رشی سے بچاتا تو کبھی وہی ہنسی سجھائے رومی کو اس سے بچاتا۔۔۔
“عیشی میں ایک فوجی ہوں اور سب کی طرح میری خواہش بھی شہادت ہے۔۔ اگر کبھی وہ خوش قسمت مرحلہ آیا تو تم رونا مت خوش ہونا۔۔ کہ تم شہید کی بیوہ ہو”۔۔
رات کو چاند دیکھتے ہمدان کھوئے ہوئے انداز میں مسکراتے ہوئے بولا تو عیشی کے آنسو اسکی گود میں رکھے ہاتھوں پہ گرے۔۔
“ارے پاگل روتی کیوں ہو تم تو بہت بہادر ہونا”۔۔
ہسپتال کے کوریڈور میں شور نے عیشی کو پرانی یادوں سے باہر کھینچا۔۔۔
تو وہ دونوں ہاتھ چہرے پہ رکھ کے پھوٹ پھوٹ کے رونے لگی۔۔ جب روتے ہوئے زری نے اسے گلے لگایا تو وہ ہچکیاں لیتی بولی۔۔
“آ نی ۔۔۔۔ میں۔۔۔۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔۔۔۔ہوں۔۔۔۔بہادر۔۔۔۔۔میں۔۔۔۔با۔۔۔۔۔لکل۔۔۔۔۔۔بھی ۔۔۔۔بہادر۔۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔پ۔۔۔۔۔۔۔پلیز۔۔۔۔آپ ۔۔۔۔۔دانی۔۔۔۔۔کو بتائیں۔۔۔۔۔۔اسکی ۔۔۔۔۔عیشی نہین۔۔۔۔ہے بہادر۔”
زری کے دوپٹے میں منہ چھپائے وہ بچوں کی طرح روتے ہوئے بولی تو زری کے آنسوؤں میں بھی روانی آگئ۔۔اور وہ اسے حوصلہ دینے لگی جب ایمرجنسی سے ڈاکٹر باہر آیا۔۔۔
“ڈاکٹر صاحب کیسا ہے میرا بھائ”۔۔
ضرار نے آنسو صاف کرتے پوچھا تو ڈاکٹر نے اسکے کندھے میں ہاتھ رکھ کے سوری بولا۔۔۔
کوریڈور میں جیسے سبکو سانپ سونگھ گیا ہو۔۔۔ جیسے زندگی رک گئ ہو۔۔۔ سب سکتے میں اپنی اپنی جگہ برف کی طرح جم گئے۔۔۔ سب سے پہلے ہوش عیشی کو آیا جو اپنا دوپٹہ وہی چھوڑے اندھر کی طرف بھاگی اسکے پیچھے باقی سب بھی اندھر آئے۔۔ مگر دروازے میں ہی سب کے پاوں رک گئے۔۔ سامنے سفید چادر میں لپٹا وجود۔۔ ان سب کو مار گیا تھا۔۔۔ امان نے روتے ہوئے عیشی کو آگے بڑھنے کا کہا جب اسنے نفی میں سر ہلایا تو امان نے اسے گلے لگایا اور خود ہمدان تک لایا جسکا منہ بھی سفید چادر میں چھپا تھا۔۔۔
“پلیززززز۔۔۔۔۔۔۔۔ب۔۔۔۔بھا۔۔۔۔۔ئ ۔۔۔۔۔مت۔۔۔۔۔۔ات۔۔۔۔ارے”۔۔
جب امان چادر ہٹانے لگا تو عیشی نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا اور روتے ہوئے منع کیا۔۔ امان نے اسکے سر پہ پیار کیا اور ہاتھ چھڑا کے چادر ہٹائ تو عیشی نے زور سے آنکھیں میچ لی۔۔۔
“مسز ہمیشہ سرپرائز دیتی ہو ۔۔ایک بار تو مجھ معصوم کی بھی بنتی ہے نا”۔۔
عیشی کی سماعتوں سے ہمدان کی آواز ٹکرائ تو اس نے پٹ سے آنکھیں کھولی۔۔اور ہمدان کو دیکھا جو تھکے تھکے چہرے پہ مسکراہٹ سجھائے اسے دیکھ رہا تھا۔۔ باقی سب بھی بت بنے ہمدان کو دیکھ رہے تھے۔۔
“ویسے بڑے افسوس کی بات ہے آپ سب پہلے امتخان میں فیل ہوگئے۔۔ بڑھے چھوٹے دل کے نکلے سب یار۔۔ مجھے لگا تھا شہادت کے رتبے پہ سب اللہ کا شکر ادا کریں گے۔مگر یہاں تو سب رونے لگے”۔۔
ہمدان ویسے تھکے تھکے انداز میں کہا تو عیشی نے زور سے مکا اسکے سینے پہ مارا تو وہ چینخ اٹھا ۔۔ تب ہی امان نے عیشی کو دوسرا مکا مارنے سے روک لیا۔۔ باقی سب نے بھی اللہ کا شکر ادا کیا۔۔ جبکہ عیشی ناراض سی منہ بنا کے بیٹھ گئ کہ یہ بھی کوئ مذاق تھا کیا۔۔ زری نے بڑھی مشکل سے اسے منایا۔۔آخر ہمدان نے بھی کان پکڑ لیئے ۔۔
پانچ دن بعد ہمدان کو ڈسچارج کر دیا گیا۔۔ جب وہ گھر پہنچا تو اسکا بہت اچھا استقبال کیا گیا۔۔ آخر میں سب نے مسکراتے ہوئے فیلمی پک لی۔۔۔
ہنسی غم ہر ایک کی زندگی کا حصہ ہوتے ہیں۔۔اور جو ان دونوں صورتوں میں ساتھ ہو وہ بہت سپیشل ہوتے ہیں۔۔اور زندگی انہیں کے سنگ خوبصورت ہوتی ہے۔۔ کسی کے چلے جانے سے زندگی رکتی نہیں ہاں کچھ رنگ ضرور کم ہوجاتے ہیں۔۔ ہر ایک کی اپنی اپنی جگہ ہوتی ہے کسی کے چلے جانے کے بعد کوئ اسکی جگہ نہیں لے سکتا۔۔ہاں دوسروں کا ساتھ کچھ تبدیلی لا سکتا ہے مگر کسی کو بھلا نہیں سکتا۔۔ وہ یاد آتے ہیں۔۔ کبھی ڈھلتی شاموں میں۔۔ کبھی ویسی ہنسی میں۔۔ کبھی کچھ باتوں میں۔۔ مگر یہ بھی سچ ہے کسی کے جانے سے زندگی نا رکتی ہے نا ختم ہوتی ہے۔۔ کچھ لوگ اسکو رنگوں سے رنگین بنانا جانتے ہیں۔۔
شاہ ہاوس کے سارے مقین ایک دوسرے کے لیے بہت خاص ہیں۔۔اور ایسے ہی ایک دوسرے کی خوشی غم میں شریک ہوکے اپنے پن کا احساس دلانے والے ہیں☺۔۔۔۔
💝💝💝💝💝💝💝-
ختم شدہ