393.4K
34

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Ek Hai Aafat) Episode 14

“منو بیٹا اٹھ جاو کالج کے لیئے دیر ہو رہی ہے”۔۔
ہماہ منال کے کمرے میں آئ اور پردے پیچھے کرتی بولی۔۔
“ماما آج کالج میں فنکشن ہے میرا دل نہیں کر رہا جانے کو تو میں نے شزا سے بول دیا ہے”۔۔
منو کمفرٹر سیٹ کرتی بولی اور دوبارہ آنکھیں موند لی ۔۔ ہماہ بھی دوبارہ اٹھانے کی بجائے باہر چلی گئ۔۔ کھڑکیوں سے پردے ہٹنے کی وجہ سے روشنی سیدھی اسکے منہ پہ آئ تو اس نے برے برے منہ بنائے۔۔ پھر پرندوں کی آوازیں بھی آنے لگی تو اس نے سونے کا ارادہ ترک کر دیا۔ اور سائیڈ ٹیبل سے موبائل اٹھانے کے لیئے ہاتھ بڑھایا جب ہاتھ کسی کاغذ پہ لگا تو منو نے چہرہ اوپر کرکے دیکھا۔۔ ایک بند کاغذ دیکھ کے اسے تجسس ہوا۔۔ پھر وہ تھوڑی اوپر ہوئ اور بیڈ کراون سے ٹیک لگا کے بیٹھ گئ۔۔ ایک ہاتھ بڑا کے کاغذ اٹھایا اور اسے کھول کے پڑھنے لگی۔۔ جیسے جیسے وہ پڑھ رہی تھی اسکی آنکھیں حیرت سے پھیل گئ۔۔اور چہرہ سرخ انار ہونے لگا۔۔ ایک دم منو نے کاغذ دونوں ہاتھوں میں دبوچا اور سامنے دیکھ کے لمبے لمبے سانس لینے لگی۔۔ اسے یقین نہیں آرہا تھا۔کہ حنان بھی اسے پسند کرتا ہے😂۔۔ اسکی آنکھوں میں چمک آئ اور ایک خوبصورت سی مسکراہٹ نے اسکے ہونٹوں کو چھوا۔۔
منو نے دروازے کی طرف دیکھا اور اٹھ کے دروازہ اندھر سے لاک کیا۔۔ پھر دھڑکتے دل کے ساتھ مڑوڑا ہوا کاغذ دوبارہ سیدھا کیا 😜۔۔۔ اور دوبارہ پڑھ کے خود کو یقین دلانے لگی۔۔
“پیاری منو۔۔ آج دل کے ہاتھوں مجبور ہوکے اور بہت ہمت کرکے وہ سب تم سے کہنے جا رہا ہوں جو شاید تمھارے سامنے کبھی نا کہہ پاتا۔۔ میں نہیں جانتا تم کیا سمجھو گی۔۔ مگر میں یہ سب کہہ دینا چاہتا ہوں اس سے پہلے کے دیر ہوجائے۔۔ میں تمھیں بچپن سے پسند کرتا ہوں😂۔۔ جب بھی تمھیں دیکھتا ہوں مجھے آس پاس کی ہوش نہیں رہتی😜۔۔ ایسے لگتا ہے میرے آس پاس گھنٹیاں بج رہی ہیں۔۔ اور تم مجھے تب بھی بہت اچھی لگتی تھی جب تم کپڑے خوب گندے کر لیتی تھی اور آنی تمھیں مارتی تھی😁۔۔
میں چاند تاروں کے وعدے نہیں کروں گا وہ بہت دور ہے ہاں مگر برتن پکا میں دھو دیا کروں گا۔۔ اور ویسے بھی تمھیں آئینہ گفٹ کروں گا روز چاند دیکھ لیا کرنا🙈۔۔ مجھے شاعری تو نہیں آتی مگر تم دیکھتا ہوں تو ایسے لگتا ہے اگر میں شاعر ہوتا تو 😒 خیر چھوڑو میری رائٹنگ بہت گندی ہے کسی نے پڑھنا نہیں تھا😔۔۔ میں تمھارے بغیر نہیں جی سکتا۔۔ بس مجھ میں کسی کو بتانے کی ہمت نہیں ہے۔۔ مجھے امید ہے تم بھی جواب ہاں میں دو گی۔۔
فقط تمھارا حنان😍”
خط دوبارا بند کرتے منال کے ہونٹوں پہ ایک گہری مسکراہٹ تھی۔۔ اسے حنان کا انداز عجیب لگا تھا۔۔مگر خوشی اتنی تھی کہ اس نے نوٹ ہی نہیں کیا۔۔ اور خط کو اپنی الماری کے خفیہ خانے میں رکھ کے وہ خوشی خوشی فریش ہوئ۔۔
اور دوپٹہ سیٹ کرکے باہر نکلی۔۔ چہرے میں ایک شرمگین سی مسکراہٹ تھی۔۔
کچن میں آتے ہی اس نے سبکو سلام کیا۔۔ اس وقت کچن میں زری رشی اور ہماہ تھی۔۔ ریا باہر لان میں پودوں کی صفائ کرا رہی تھی۔۔ عیشی مشی کالج چلی گئ تھی۔۔ ہمدان یونیورسٹی چلا گیا تھا اور عازب عارب شازیب بھی جاب پہ جا چکے تھے۔۔ احرار صاحب صبح صبح باہر نکل گئے تھے۔۔
اور امان حنان ہال میں بیٹھے اپنا پروجیکٹ تیار کر رہے تھے۔۔
“منو ایک گلاس پانی لا دو پلیز”۔۔
منال جب ناشتہ کرکے کچن سے۔ باہر آئ تو امان نے کہا۔۔ منو کچن سے پانی لائ۔۔ مگر امان نے ساتھ حنان کو بیٹھا دیکھ کے اسکے چہرے پہ شرمگین مسکراہٹ آگئ اور چہرہ سرخ ہوگیا ۔۔ پانی امان کے سامنے رکھتی وہ دوپٹہ منہ پہ کرتی شرماتی ہوئ مسکرا کے کمرے میں بھاگ گئ😂۔۔
تو امان اور حنان نے منہ کھولے اسکو دیکھا اور پھر ایک دوسرے کو۔۔
“اسے کیا ہوا”۔۔
امان نے آنکھیں پھلائے پوچھا تو حنان نے سر نفی میں ہلایا۔۔
“ایسے نا دیکھ قسم سے مجھے نہیں پتا”۔۔
امان کو مسلسل مشکوک نظروں سے اپنی طرف دیکھتے پا کے حنان گھبرا گیا اور فورأ بولا تو امان نے دوبارہ منو کے کمرے کے بند دروازے کو دیکھا ۔۔ پھر سر جھٹک کے دوبارہ کام کرنے لگا۔۔ جبکہ حنان ابھی تک وہی الجھا ہوا تھا😂۔۔
💗💗💗💗💗💗💗
“ہاہاہاہاہاہا مطلب تم لوگوں نے ہاہاہاہاہاہا “۔۔
عیشی مشی جب کالج آئ تو نازلی سے ملتے ہی اسے اپنا رات والا کارنامہ بتایا جسے سن کے نازلی ہنسی سے لوٹ پوٹ ہوگئ ۔۔
کل سے باتوں میں انکی بہت اچھی دوستی ہوگئ تھی۔۔ عیشی مشی نے گھر میں موجود سب افراد کا بتا دیا تھا۔۔ اور نازلی نے بھی بتایا اسکا ایک بڑا بھائ حازق ہے ماما پاپا ہیں انکے گھر۔۔
“چپ کرو اب تم ہنسی تو کینٹین کی سارے جوس تمھارے منہ پہ ماروں گی”۔۔
اسکو مسلسل ہنستا دیکھ کے عیشی نے کھڑے ہوتے کمر پہ ہاتھ رکھ کے کہا تو نازلی نے ہونٹوں پہ انگلی رکھی جبکہ آنکھیں ابھی بھی ہنس رہی تھی۔۔
“اچھا بتاو تو یہ خط تم لوگوں نے لکھا کیسے؟”۔۔
نازلی نے تجسس سے پوچھا تو عیشی جو پہلے ہی بھری بیٹھی تھی اسکو گھورا۔۔
“پاوں سے”۔۔
عیشی کے تپ کے کہتے ہی مشی اور نازلی نے قہقہہ لگایا۔۔
“میرا مطلب یہ جو تم لوگوں نے لکھا ہے کہا سے لکھا ہے ۔۔ اور کیا لگتا ہے وہ پڑھ کے تم لوگوں کی آپی کو شک نہیں ہوگا یہ بونگیاں تم لوگوں نے ماری ہیں”۔۔
نازلی نے مزید دلچسپی سے پوچھا۔۔
“وہ ہم نے ایک مووی میں دیکھا تھا ہیرو ایسے ہی ہیروئن کو پرپوز کرتا ہے”۔۔
مشی نے عینک ٹھیک کرتے کہا۔۔
“اور وہ مووی یقینأ بچوں کی ہوگی ہاہاہاہاہاہا “۔۔
نازلی نے دوبارا قہقہہ لگایا تو عیشی ایک دم اٹھی ۔۔ اس سے پہلے کے پانی کی بوتل نازلی کے سر میں لگتی مشی نے نازلی کو کھینچ لیا۔۔ پھر ان دونوں میں صلح کرائ اور کلاس کی طرف لے گئ۔۔ جہاں میم آنے والی تھی۔۔۔
💗💗💗💗💗💗💗
“مس عیشال شاہ ایسا کونسا کام ہے جو پڑھائ سے زیادہ ضروری ہے؟”۔۔
لیکچر کے دوران میم نے عیشال کو مسلسل بیگ میں کچھ ڈھونڈتے دیکھا تو غصے سے پوچھا۔۔ وہ انکی انگلش کی ٹیچر تھی۔۔
“میم وہ میرا دل نہیں مل رہا”۔۔
عیشی نے معصوم شکل بنا کے میم کو دیکھ کے کہا تو میم نے پوری آنکھیں کھول کے اس پاگل کو دیکھا۔۔ جبکہ پوری کلاس بھی حیرانی سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔ جو بولنے کے بعد دوبارہ بیگ کا ایک ایک خانہ چیک کرنے لگی تھی۔۔
“کیا مطلب آپ یہ کیا بول رہی ہیں؟ “۔۔
میم نے الجھ کے پوچھا۔۔ تب ہی عیشی کی آنکھیں چمکی۔۔
“مل گیاااا”۔۔
عیشی خوشی سے اچھل کے بولی تو ساری کلاس کی نظریں اسکے ہاتھ پہ تھی جو ابھی بھی بیگ کے اندھر تھا۔۔ میم بھی حیرانی سے انتظار کر رہی تھی کہ وہ ہاتھ باہر نکالے۔۔عیشی نے آہستہ سے اپنا ہاتھ باہر نکالا اور دانت دکھاتے ہوئے ہاتھ میم نے سامنے کر کے اپنا دل دکھایا۔۔ پوری کلاس جو پہلے تجسس سے دیکھ رہی تھی حیرت سے منہ کھل گئے اور کچھ تو منہ پہ ہاتھ رکھ کے کھی کھی کر رہی تھی۔۔ میم کے چہرے پہ اب حیرت کی جگہ غصے نے لے لی تھی۔۔ کیونکہ عیشی میڈم ہارٹ شیپ کا سکائے بلو پن ہاتھ میں اٹھائے میم کو دکھا رہی تھی۔۔ نازلی بھی کھلے منہ کے ساتھ اسے دیکھ رہی تھی جبکہ مشی ڈر سے کبھی عیشی کو دیکھتی اور کبھی میم کو جو اسے غصے سے گھور رہی تھی۔۔
“سٹینڈ اپ عیشال شاہ اور جو ٹاپک میں ڈسکس کر رہی تھی اکسپلین کریں اسکو ہیری اپ “۔۔
میم کہہ کے واپس ڈائز کی طرف مڑی تو عیشی نے صدمے سے میم کو دیکھا پھر گلہ تر کرتی اور سر جھکا کے میم کے پیچھے چل پڑھی۔۔ میم جو ڈائز کے پاس پہنچ کے رکی اور پیچھے مڑنے لگی۔۔ سر جھکائے جاتی عیشی سیدھی جاکے میم کے ساتھ لگی۔۔
“یہ کیا بتمیزی ہے؟”۔۔
میم نے پیچھے مڑ کے عیشی کو دیکھتے غصے سے کہا جو اپنا ماتھا مسل رہی تھی۔۔
“میم آپ نے ہی تو کہا تھا کہ ٹاپک اکسپلین کرو” ۔
عیشی نے معصوم شکل بنا کے کہا تو میم نے اپنا ہاتھ ماتھے پہ مارا۔۔
“ہاں تو؟”۔
میم نے سوالیہ نظروں سے دیکھ کے پوچھا۔۔
“تو میم وہی کرنے آئ ہوں”۔۔
عیشی نے معصومانہ جواب دیا تو میم مزید تپی۔۔
“یہاں کہاں کرنے آئ ہیں وہاں بھی تو کھڑے ہوکے ہو سکتا تھا۔۔”
میم نے اونچی آواز میں کہا۔۔
“میم ڈائز پہ کھڑے ہوکے کرنا تھا نا جیسے ٹی وی میں کرتے ہیں”۔۔
عیشی نے دانت دیکھاتے کہا تو پوری کلاس دبی دبی ہنسی ہنسنے لگی۔۔ جبکہ میم نے اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا اور اجازت دی تو وہ ڈائز کے پیچھے کھڑی ہوئ تو پوری کلاس نے زوردار قہقہہ لگایا۔۔کیونکہ وہ چھپ گئ تھی😂۔۔ عیشی نے سامنے آتے سبکو غصے سے گھورا۔۔ اور میم سے اجازت لے کے ڈائز کے سامنے کھڑی ہوگئ ۔۔
“Ok so tell me about hamingway’s.. who is he?”
میم نے سوال کیا تو عیشی نے لب چبائے ۔۔
” ma’am he is a writer and one day he did not feeling well bcoz his lover leave him and go one weality man (greedy womam). Hemingway feel very bad and finely he he he”..
بولتے بولتے عیشی اٹک گئ۔۔ میم جو پہلے ہی اسے غصے سے گھور رہی تھی۔۔مزید تپی۔۔
“یہ آپ کیا اول فول بول رہی ہیں؟ “۔۔
میم نے غصے سے کہا ۔۔
“لگتا ہے ٹیچر کو اتنی انگلش آتی ہی نہیں تب ہی پوچھ رہی ہے”۔۔
عیشی نے دل میں سوچا اور فخر سے گردن اکڑائ😂۔۔
“میم میں نا آپکو سمجھاتی ہوں۔۔ ہیمینگوے ایک لکھاری تھا۔۔ ایک دن وہ بہت برا محسوس کرنے لگا کیونکہ اسکی بچی اہہ مطلب اسکی محبوبہ ایک امیر آدمی کے ساتھ چلی گئ۔۔ تو نا”۔۔
عیشی نے کہانی سنائ تو پوری کلاس سے ہنسی روکنا مشکل ہو گیا ۔۔۔
“آپ سے کس نے کہا کہ انکی لور انہیں چھوڑ گئ تھی”۔۔
میم نے دانت پیس کے پوچھا۔۔
“آہہہ یاد آگیا اسنے خود کشی کرلی تھی۔۔ اب دیکھے نا میم بیٹھے بٹھائے تو کوئ خود کشی نہیں نا کرتا ظاہر ہے دو ہی وجہ ہوتی ہیں ایک تو بندہ غریب ہو تب۔یا پھر کوئ لڑکی چھوڑ جائے تب۔ مگر چونکہ وہ اچھا خاصہ کماتا تھا۔۔ اس لیئے بچی دوسری وجہ “۔۔
عیشی نے ایک ہاتھ کمر پہ رکھ کے دوسرا ہاتھ نچا نچا کے بات مکمل کی تو میم کی برداشت کی حد ختم ہوگئ۔۔ اور اسے بازو سے پکڑ کےدروازے تک لائ جب عیشی بولی۔۔
“اچھا اچھا میم سوری کوئ اور وجہ ہوگی۔۔ آپ مجھ سے کسی اور کے بارے میں پوچھ لے نا اسکو میں گھر جاکے سرچ کرکے پکا پڑھ لوں گی”۔۔
عیشی معصوم شکل بناتی بولی تو میم نے اسکا بازو چھوڑا وہ دوبارہ بھاگ کے واپس آئ اور ڈائز کے سامنے کھڑی ہوگئ۔۔
“چلو بتائے شاعر مشرق کسے کہا جاتا ہے اور کیوں؟”۔۔
میم نے اسے آزمانے کے لیئے پوچھا تو عیشی نے خوشی سے انہیں دیکھا۔۔
“یہ تو کوئ مشکل سوال ہے ہی نہیں شاعر مشرق علامہ اقبال کو کہا جاتا ہے اور کیوں ۔۔
آہمم میم اصل میں یہ ایک لمبی سٹوری ہے کہا جاتا ہے کہ جب علامہ اقبال کالج میں پڑھتے تھے تو وہاں انہیں ایک لڑکی سے پیار ہوگیا۔۔ اور وہ اس کے لیئے شاعری کرنے لگے۔۔ اب یہ انکی قسمت کے وہ لڑکی گاندھی کی بیٹی تھی اور ان ہی دنوں یہ پاکستان کا رولا شولا پڑھا ہوا تھا۔۔ تو جب گاندھی کو اس بات کا علم ہوا تو۔ اسے یاد آیا علامہ اقبال تو مسلمانوں کا بڑا لاڈلا ہے اسے کوئ تکلیف ہوئ تو مسلمانوں کو بھی تکلیف ہوگی اب بھلا وہ مسلمانوں کو تکلیف پہچانے کا موقع کیسے ہاتھ سے جانے دیتا تو وہ اپنی بیٹی کو مشرق میں لے گیا اب علامہ اقبال دن رات شاعری کرتے تو لوگوں کو لگا وہ اس لڑکی کے لیئے شاعری کر رہے ہیں اس لیئے انہیں شاعر مشرق کہہ دیا حالانکہ وہ تو مسلمانوں کو الگ وطن کی ترغیب دیتے تھے شاعری میں تاکہ پاکستان بنا کے گاندھی سے بدلہ لے سکے۔۔”
“سٹاپ اٹ آئ سے جسٹ سٹاپ اٹ اینڈ گیٹ آوٹ فرام دی کلاس “۔۔
عیشی ابھی بولی ہی رہی تھی کہ پوری کلاس ہنس ہنس کے لوٹ پوٹ ہوگئ تو میم نے غصے سے اسے کہا۔۔
“میم میں نے یہ خود پڑھا تھا نیٹ پہ دانی بھائ کے موبائل میں آپکو نہیں یقین تو آپ میری سسٹر مشال شاہ سے پوچھ لے۔۔ کیونہ مشی بتاو میم کو تم نے بھی تو پڑھا تھا “۔۔
عیشی نے صفائ دیتے ہوئے مشی کو گھسیٹا تو وہ میم کا غصہ دیکھ کے سر نفی میں ہلانے لگی۔۔
“ہننن😏 ٹیلنٹ کی قدر ہی نہیں ہے یہاں”۔۔
میم کے دوبارہ کلاس سے جانے کا کہنے پہ عیشی اپنا بیگ اٹھانے واپس گئ اور بڑبڑائ جبکہ پاس کی لڑکیوں نے سن کے قہقہہ لگایا۔۔ عیشی نے غصے سے گھورا تو وہ چپ ہوگئ۔۔ کلاس سے جاتے ہوئے اسنے معصوم شکل بنا کے میم کی طرف دیکھا تو میم نے آنکھوں میں غصہ لیئے دروازے کی طرف اشارہ کیا۔۔ عیشی بھی مسکین شکل بناتی کلاس سے نکلنے لگی مگر مڑ کے میم کو دیکھا جو کلاس کے ساتھ مصروف ہوگئ تو ڈائز پہ پڑا میم کا موبائل اٹھایا اور اپنی انگلی زور زور سے سکرین اون کرکے کچڑ مچڑ کرنے لگی۔۔ جب کلاس کی لڑکیوں نے اسکی طرف دیکھا تو وارن کرتی نظروں سے انکو دیکھا اور موبائل ڈائز پہ رکھا جس پہ سم بلاک کا اوپشن شو ہو رہا تھا۔۔ اور زبان دکھاتی کلاس سے نکل گئ۔۔
💗💗💗💗💗💗💗
“یار عیشی تم نے دیکھا نہیں منو آپی عجیب کا بیہیو کر رہی ہیں”۔۔۔
شام کو عیشی مشی گارڈن میں بیٹھی لیز کھا رہی تھی جب مشی نے اچانک یاد آنے پہ عیشی کو بتایا۔۔ نوٹ تو عیشی نے بھی کیا تھا کہ جہاں وہ حنان کو دیکھتی دوپٹہ منہ کے آگے کرکے شرماتی ہوئ بھاگ جاتی۔۔
“ہاں میں نے بھی نوٹ کیا ہے اب کچھ کرنا پڑھے گا اس سے پہلے کہ سارا پلان خراب ہوجائے۔۔اس سے ہمیں یہ تو پتا چلا کہ ایک فریق راضی ہے “۔۔
منہ میں لیز ڈالتے عیشی نے کچھ سوچ کے کہا ۔۔
“یہ کونسا پلان بن رہا ہے وہ بھی میرے بغیر “۔۔
ضرار وہاں آیا اور مشی کے پیکٹ سے لیز نکال کے منہ میں ڈالتا بولا جس پہ مشی نے اسے گھورا اور بازو پہ ایک مکا رسید کیا۔۔
“کچھ نہیں ہماڑی پڑسنل بات ہے “۔
منہ میں لیز ڈالے جب مشی بولی تو اٹک گئ۔۔
“یہ تم دونوں کی پڑسنل باتیں مجھ سے کب سے چھپنے لگی”۔۔
ضرار نے مشی کی نقل اتارتے ہوئے کہا تو عیشی نے مشی کو دیکھ کے ہنسی روکی جو غصے سے لال ہو رہی تھی۔۔
“ڈیکھو ضڑاڑ کے بچے میڑے سے پنگا نا لو وڑنہ”۔
“وڑنہ تم میڑے نام میں ر ڑ چھوڑ کے ڈ لگا دو گی ہیں نا”۔۔
مشی انگلی اٹھا کے بول رہی تھی جب ضرار اسکی بات کاٹ کے بولا تو مشی نے غصے سے اسکے بازو پہ مکا مارا۔۔ جبکہ عیشی بیزار سا منہ بنا کے دونوں کو لڑتے دیکھ رہی تھی۔۔ جبکہ یہاں وہ منال کے مسلے کے لیئے آئے تھے۔۔ اس سے پہلے کہ ضرار دوبارہ بولتا عیشی نے اسے ساری بات بتا دی۔۔ ضرار ان بھائیوں میں سے نہیں تھا جو خود جو مرضی کرلیں بہن کا صرف یہ معلوم ہوجائے کہ کسی کو پسند کرتی ہیں لڑنے مرے پہ آجائے۔۔ ویسے بھی وہ بچپن سے حنان اور منو کو اچھے سے جانتا تھا۔۔ اسی لیئے وہ کچھ دیر خاموش ہو گیا ۔۔ مگر جب عیشی نے یقین دلایا کہ یہ سچ ہے تو اسنے عیشی کو دیکھا ۔۔
“جب عقل بانٹی جا رہی تھی تم دونوں یقینأ کسی کا جینا حرام کرنے میں مصروف ہوگی”۔۔
ضرار نے دونوں کو طنزیہ کہا تو عیشی نے نا سمجھی سے اسے دیکھا۔۔۔
“نہیں میں جلڈی میں گئ تو عقل والی ڈیگ میں گڑ گئ تھی تب ہی میں بڑی ذہین ہوں”۔۔
مشی نے لیز کھاتے ہوئے آنکھیں ٹمٹما کے کہا تو عیشی اور ضرار نے پہلے اسے حیرانی سے دیکھا پھر ذہین فطین کو دیکھ کے زوردار قہقہہ لگایا۔۔
“کوئ نا ہم مل کے اسے حل کر لے گے فلحال چلو بڑے پاپا گھوڑا لائے ہیں اور اس وقت اسکے پاس کوئ نہیں ہے اسکی سواری کرتے ہیں”۔۔
مشی کو ناراض دیکھ کے دونوں نے سوری بولا پھر ضرار نے انہیں وہ خبر سنائ جس کے لیئے وہ انکے پیچھے گارڈن میں آیا تھا۔۔
“ہننن جیسے تم ہو گھوڑے کی نہیں مغڑی کی سواڑی ہی کڑ سکو گے “۔۔
مشی ضرار کو دیکھ کے بولی اور اپنا بدلہ لیا۔۔ لیز سے منہ بھرا ہوا تھا اور بار بار لیز منہ میں ڈالنے کی وجہ سے وہ ہر بات پہ اٹک رہی تھی۔۔
“ہاہاہاہاہاہاہاہااہہاہاہہااہ مغڑی کی سواڑی ہاہاہاہاہاہا “۔۔
عیشی نے ضرار کو دیکھ کے کہا اور ہنس ہنس کے لوٹ پوٹ ہوگئ۔۔ جب ضرار نے غصے سے دونوں کو گھورا ۔۔
“دنیا مریخ پہ پہنچ جائے گی۔۔ بچے سیارے دریافت کرنے لگے گے۔۔مگر مش مشی ڑ پہ ہی اڑی رہی گی۔۔ ہکلی”۔۔
ضرار نے طنزیہ کہا تو مشی نے منہ کھول کے اسے دیکھا اور اسکی بات سمجھ آتے ہی لیز کا پیکٹ میز پہ پٹختی جوتا اٹھا کے اسکو مارنے پیچھے بھاگی۔۔ پورے گارڈن میں آگے آگے ضرار بھاگ رہا تھا اور ڑ ڑ کہہ کر مسلسل اسے چھیڑ رہا تھا۔۔ ہاتھ میں جوتا اٹھائے مشی اسکے پیچھے بھاگ رہی تھی۔۔ جبکہ عیشی تو مغڑی پہ ضرار کو سواری کرتے تصور کرکے ہی ہنس ہنس کے لوٹ پوٹ ہو رہی تھی ۔۔۔😂
💗💗💗💗💗💗💗💗
جاری ہے۔۔۔