393.4K
34

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Ek Hai Aafat) Episode 26

پورے ہال میں سکوت طاری ہوگیا۔۔ امان اور نازلی آنکھیں پھاڑے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔۔ عیشی تو ان دونوں کی چینخ سن کے ہی بت بن گئ۔۔جبکہ مشی کو اس وقت جتنی سورتیں اور دعائیں آتی تھی دل میں انکا ورد جاری تھا۔۔
“ہاہاہاہا دیکھا بچوں کر دیا نا میری شہزادیوں نے آپ دونوں کو سرپرائز۔۔ پتا تھا تم دونوں کو شاک لگے گا مگر اتنا زیادہ یہ نہیں پتا تھا ہاہاہاہاہاہا “۔۔
احرا صاحب نازلی اور امان کی حالت کو دیکھتے ہنس کے بولے۔۔ وہ اسے حیرانی سمجھ رہے تھے یا خوشی ۔۔ مگر اصل حالت تو اس وقت وہاں موجود چار لوگ ہی جانتے تھے۔
امان نے اب غور کیا تھا کہ جو ڈریس رشی نے اس سے پسند کروا کے لیا تھا مشی کے نام پہ وہ ڈریس اس وقت نازلی زیب تن کیئے ہوئے تھی😂۔
“اچھا تو یہ جنگلی پانڈی سب جانتی تھی تب ہی تو ڈریس اتنی خوشی سے پہن کے گھوم رہی ہے۔۔ چمگادڑ مسز امان شاہ بننے کے خواب دیکھ رہی ہے۔۔ “
امان نازلی کو گھورتے ہوئے بڑبڑایا ۔۔
“دیکھ تو ایسے رہا ہے جیسے کچا کھا جائے گا دیو ۔۔ ہاں خوش ہو رہا ہوگا مجھ جیسی حسین لڑکی جو مل رہی ہے۔۔ ورنہ ساری زندگی ناک بھی رگڑتا رہتا کوئ اپنی بیٹی نا دیتا اس لنگور کو”۔۔
نازلی بھی مسلسل بڑبڑا رہی تھی۔۔
“چلو بھئ اب سٹیج پہ آجاو تم بھی انتظار کس بات کا ہے”۔۔
نانا جی کی آواز پہ دونوں ہوش کی دنیا میں آئے ۔۔ مرتے کیا نا کرتے منگنی تو کرنی ہی تھی پورے ہال کی نظریں ان دونوں پہ تھی
“جا بھئ تجھے تو سمجھ ارطغرل کا لیڈی ورژن مل گیا ہے۔۔ منگولوں کی خوب پٹائ ہوگی”۔۔
حنان امان کے کان میں سرگوشی سے بولا تو امان نے گھور کے اسے دیکھا۔۔ تب ہی اسنے مسکراتے ہوئے آنکھ ماری تو امان نے کہنی اسکے پیٹ میں ماری اور قدم سٹیج کی طرف بڑھائے۔۔
جیسے جیسے امان سٹیج کی طرف جا رہا تھا نازلی کی امید کی شمع مدھم ہوتی جارہی تھی۔۔ اسے لگا کہ امان انکار کردے گا مگر وہ تو خاموشی سے آکے اسکے پاس کھڑا ہوگیا۔۔
الگ لگے صوفے پہ دونوں کو بٹھایا گیا۔۔ ہر کوئ انکی جوڑی کی تعریف کر رہا تھا۔۔
“یہ بالکل مت سوچنا کہ جو خواب تم دیکھ رہی ہو وہ اتنی آسانی سے پورا ہو جائے گا۔۔ یہ منگنی بس میں گھر والوں کی عزت کی خاطر کر رہا ہوں۔”
امان سامنے دیکھتے دانت پیس کے بولا تو نازلی نے کھلے منہ سے اسے دیکھا۔۔
“اوہ سستے ہیرو میں بھی کوئ مری نہیں جارہی تم سے شادی کے لیئے تم سے شادی کرنے سے بہتر ہے کہ میں چھت سے کود کے جان دے دوں”۔۔
نازلی بھی اسی ہی کے انداز میں بولی۔۔
“اوہ جاو جاو یہ ڈرامے کسی اور کو دکھاو۔۔ اگر ایسی بات ہوتی تو تم اس وقت اس ڈریس میں نا ہوتی جو میں نے مشی کے لیئے خریدہ تھا”۔۔
امان منہ ٹیڑا کرکے مذاق اڑانے والے انداز میں بولا۔۔ تو نازلی کو 400 واٹ کا جھٹکا لگا😂۔۔ اس نے ایک نظر امان کو دیکھا پھر اپنے ڈریس کو۔۔اور آج دن کی ساری کاروائ فلم کی طرح اسکی آنکھوں کے سامنے چلنے لگی۔۔
“تو مطلب میرا ڈریس جلنا اور اسکی جگہ یہ ڈریس یہ سب پری پلان تھا”۔۔
نازلی صدمے سے کھوئے کھوئے انداز میں بولی تو امان نے اسکی بڑبڑاہٹ سن کے اسے دیکھنے لگا۔۔
“ارے بیٹا یہ لو انگھوٹی پہناو نازلی کو”۔۔
رشی اور بریرہ سٹیج پہ آئ اور رشی نے امان کو انگھوٹی پکڑاتے ہوئے کہا ۔۔تو برے دل کے ساتھ اسنے نازلی کو انگھوٹی پہنائ ۔۔جسے پہنتے ہی نازلی نے ہاتھ کھینچ لیا۔۔ پھر بریرہ کے کہنے پہ نازلی کے امان کو انگھوٹی پہنائ۔۔اور ایک نظر بریرہ کو دیکھا۔۔ یعنی اس سب کا حساب یہاں سے سٹارٹ کرنا تھا 😂۔۔ انگھوٹی پہناتے ہی دونوں نے بچوں کو پیار کیا اور مٹھائ کھلاتے سٹیج سے اتر گئ۔۔ باقی بڑے بھی باری باری آکے دونوں کو پیار کرتے اور مٹھائ کھلاتے ۔۔۔
“اہممم رشی سامنے سٹیج پہ دیکھو کچھ یاد آیا؟”۔۔
رشی سٹیج سے اتر کے ہما کے پاس کھڑی ہوئ تب ہی عارب آکے بولا۔۔تو رشی نے نا سمجھی سے اسے دیکھا۔۔ جب عارب نے مسکراہٹ چھپاتے ہوئے عازب کی شادی کی تصویر نکال کے رشی کو دیکھائ جس پہ شاہ زیب اور بریرہ ساتھ کھڑے کسی بات پہ مسکرا رہے تھے۔۔ رشی نے ایک نظر تصویر دیکھی پھر جھٹکے سے سٹیج پہ بیٹھے امان اور نازلی کو دیکھا۔۔ جو بالکل اپنے والدین جیسے تھے۔۔ امان بالکل شاہ جیسا تھا اور نازلی بریرہ جیسی😂۔۔ عارب کی بات سمجھ کے رشی نے اسکو گھورا تو عارب نے زوردار قہقہہ لگایا ہماہ بھی مسکرانے لگی۔۔
“ہم نے انہیں پچھلے جنم میں جدا کیا۔۔ یہ اس جنم میں نئے ورژن میں مل گئے”۔۔
عارب نے ہنستے ہوئے کہا تو نا چاہتے ہوئے بھی رشی کو ہنسی آگئ ۔۔۔
“عارب انسان بن جاو بھوت ہم مسلمان ہیں۔۔ ہمارا جنم جنم نہیں”۔۔
رشی نے مسکراہٹ دباتے مصنوعی غصے سے کہا تو عارب نے دوبارہ قہقہہ لگایا۔۔
💞💞💞💞💞💞💞💞
“آہہہہہہہہی آہہہہہییہ نہیں مااااااااااان بھائ پلیزززززززززز نہیں یہ اس عیشی کا پلان تھا سچی”۔۔
مشی روتے ہوئے چینخ کے بول رہی تھی۔۔جبکے امان کے غصے میں ذرہ برابر بھی کمی نا آئ تھی۔۔
اس وقت وہ لوگ صحن میں تھے۔۔ مغرب کا ٹائم ہونے والا تھا۔۔ عصر کے وقت وہ لوگ فنکشن کے فارغ ہوکے گھر پہنچے تھے۔۔ گھر میں اس وقت امان کے علاوہ کوئ مرد نا تھا۔۔ عیشی مشی آم کے درخت کے ساتھ بندھی ہوئ چینخ رہی تھی۔۔ امان ہاتھ میں کاکروچ پکڑے دونوں کے سر پہ کھڑا تھا ۔۔ جیسے ہی کاکروچ عیشی مشی کے پاس جاتا دونوں کی فلک شگاف چینخیں نکل جاتی۔۔۔
امان نے گھر آتے ہی رشی کو سب بتا دیا تھا۔۔اور غصہ بھی ہوا کہ آخر وہ سب عیشی مشی سے بےوقوف کیسے بن گئے۔۔ رشی دور کرسی پہ سر پکڑ کے بیٹھی تھی۔۔ ریا زری اور ہماہ بھی امان کو منع کر کر کے تھک گئ۔۔اور آخر کار وہ بھی بیٹھ گئ ۔۔امان کا غصہ کسی طور کم نہیں ہو رہا تھا۔۔
“مان بھائ نہیں پلیززززززز آہہہ یہ مجھے کاٹ لے گا۔۔اسکا زہر میری جان لے لے گا۔ اور پھر میرے مرتے ہی غم سے سب پاگل ہوجائیں گے۔۔ قبر پہ بیٹھ کے دن رات روئے گے۔۔ آپ بھی جیل میں پچھتائے گے۔۔ میری یاد ستائے گی۔۔ نیند میں آنکھیں بند کریں گے تو میرا معصوم مکھڑا تڑپتا ہوا سامنے آجائے گا۔۔”
عیشی ایکٹنگ کرتی ہوئ بولی۔۔ امان اسکی کہانی پہ منہ کھولے اسے دیکھ رہا تھا۔۔ جبکہ اسکی داستان سن کے زری ریا اور ہماہ اپنی ہنسی چھپا رہی تھی۔۔
“ارےےےےےے مانییییی مانی مانی میرے پائ میرے یار😂”۔
ابھی امان عیشی کی کہانی ہی سن رہا تھا جب دروازے سے بھاگتا ہوا ضرار اندھر آیا اور دونوں ہاتھوں سے امان کے کندھے تھام کے گول گول گھومتے ہوئے مزے سے بولا سب اسے دیکھنے لگے۔۔
“ابے کیا ہوا”۔۔
امان چکراتے سر کو بمشکل سنبھالتے ہوئے بولا۔۔
“ارے مبارکاں مبارکاں۔۔ وہ بڑھی بڑھی خواتین کیا کہتی ہیں( سر پہ ہاتھ مارتے سوچتے ہوئے انداز میں بولا ) ہاں یاد آگیا۔۔ نازلی کا تمھاری زندگی میں آنا بڑھا خوش قسمت ثابت ہوا۔۔ تم اور حانی پاکستان انٹرنیشنل کرکٹ ٹیم کے لیئے کولیفائ کر گئے۔ آج شام تم لوگوں کو نکلنا ہے کل تم لوگوں کا فائنل ٹیسٹ ہے لاہور میں وہ پاس کرتے ہی ڈائرکٹ فلائٹ سے شوووووو کرکے دوبئ جانا ہے ٹیم کے ممبرز بن کے “۔۔
ضرار جھوم جھوم کے بول رہا تھا باقی سب کی طرح امان بھی منہ کھولے اسکو سن رہا تھا ۔ جبکہ اسکے پیچھے آتا حنان پلر کے ساتھ ٹیک لگائے مسکراتے ہوئے انکی حالت انجوائے کر رہا تھا۔۔
سچ کہہ رہا ہے؟”۔۔
امان نے حنان سے پوچھا تو اس نے مسکرا کے سر ہلایا۔۔ امان سب بھولائے بھاگ کے حنان کے پاس آیا اور اسے زور سے گلے لگایا۔۔ کاکروچ تو پہلے ہی اسکے ہاتھ سے چھوٹ سے بھاگ گیا ۔اور اپنی جان بخشی پہ خوش تھا۔۔
“جلدی کھولو ضرار کے بچے بھائ دیکھ لے گے”۔۔
امان کو حنان کی طرف جاتے دیکھ کے موقع پاتے ہی ضرار بھاگ کے عیشی مشی کے پاس آیا اور انہیں کھولنے لگا۔۔ جبکہ ریا لوگ ضرار کی یہ حرکت دیکھ مسکرا رہی تھی۔۔جبکہ اسکو آہستہ آہستہ کھولتے دیکھ کے عیشی دانت پیس کے بولی ۔۔
“مجھے تم دونوں کی فکر بھی نہیں چاہے تو مان تم دونوں کو چھت سے الٹا لٹکا دے۔۔ مجھے تو ترس اس بچارے کاکروچ پہ آرہا ہے۔۔اگر تم اسے چھو لیتی تو کہاں بچتا وہ معصوم”۔۔
ضرار مسلسل زبان کے جوہر بھی دکھا رہا تھا۔۔اسکی بات پہ عیشی غصے کا گھونٹ بھر کے رہ گئ ۔۔ کھلتے ہی تینوں دبے پاوں گھر سے نکل گئے۔۔ جبکہ ریا لوگوں سے ہنسی روکنا مشکل ہوگیا۔۔ سب نے زوردار قہقہہ لگایا تو امان نے مڑ کے دیکھا۔۔ حنان بھی ہنسنے لگا۔۔ امان نے انکی حرکت پہ نفی میں سر ہلایا۔۔ ان سے بعد میں نمٹنے کا سوچتے ہوئے وہ دونوں کمرے میں چلے گئے۔۔ابھی ان کے لیئے ضروری اپنی پیکنگ کرنا تھا۔۔
💞💞💞💞💞💞💞💞
” نازلی بیٹا رک جاو میری بات تو سنو”۔۔
بریرہ مسلسل نازلی کو قابو کرنے میں ہلکان ہو رہی تھی جس نے پورا کمرہ بگاڑ کے رکھ دیا تھا۔۔اب اپنا منگنی کا ڈریس صحن میں رکھے پٹرول چھڑک رہی تھی۔۔ خازق اس وقت ہمدان کے ساتھ کسی ضروری کام کے لیئے گیا تھا اور انکے پاپا بھی کسی کام سے باہر تھے۔۔ مہمان سب ہال سے ہی واپس چلے گئے تھے۔۔
“ہٹ جائیں مام ورنہ سب کچھ جلا دوں گی”۔۔
کپڑوں کو آگ لگاتے وہ خطرناک لہجے میں بولی تو بریرہ ڈر کے پیچھے ہوئ۔۔
“بیٹا اس میں آپ کی ہی تو خوشی تھی رشی نے یہی بتایا تھا” ۔
بریرہ بے بسی سے بولی۔۔
“مام کم آن کس نے کہا رشی آنٹی کو وہ عیشی مشی نے ۔۔ میں حیران ہوں ان پہ یقین کیسے کر لیا۔۔
ان دونوں کو تو میں نہیں چھوڑوں گی”۔۔
نازلی اچانک سب چھوڑ کے دروازے کی طرف بھاگی تو بریرہ گھبرا گئ۔۔ اور نازلی سامنے سے آتے خازق سے ٹکرائ اس سے پہلے کے وہ گرتی خازق نے اسے پکڑ لیا۔۔
“ارے گڑیا کیا ہوا”۔۔
خازق اسے سامنے کرتا اسکا سرخ چہرہ دیکھ کے پریشانی سے بولا۔۔۔
“بھیااااا”۔۔
کچھ پل نازلی نے خاموشی سے خازق کو دیکھا پھر اسکے گلے لگے گلہ پھاڑ
“ک کیا یہ سچ کہہ رہا ہے؟”۔۔
امان نے حنان سے پوچھا تو اس نے مسکرا کے سر ہلایا۔۔ امان سب بھولائے بھاگ کے حنان کے پاس آیا اور اسے زور سے گلے لگایا۔۔ کاکروچ تو پہلے ہی اسکے ہاتھ سے چھوٹ سے بھاگ گیا ۔اور اپنی جان بخشی پہ خوش تھا۔۔
“جلدی کھولو ضرار کے بچے بھائ دیکھ لے گے”۔۔
امان کو حنان کی طرف جاتے دیکھ کے موقع پاتے ہی ضرار بھاگ کے عیشی مشی کے پاس آیا اور انہیں کھولنے لگا۔۔ جبکہ ریا لوگ ضرار کی یہ حرکت دیکھ مسکرا رہی تھی۔۔جبکہ اسکو آہستہ آہستہ کھولتے دیکھ کے عیشی دانت پیس کے بولی ۔۔
“مجھے تم دونوں کی فکر بھی نہیں چاہے تو مان تم دونوں کو چھت سے الٹا لٹکا دے۔۔ مجھے تو ترس اس بچارے کاکروچ پہ آرہا ہے۔۔اگر تم اسے چھو لیتی تو کہاں بچتا وہ معصوم”۔۔
ضرار مسلسل زبان کے جوہر بھی دکھا رہا تھا۔۔اسکی بات پہ عیشی غصے کا گھونٹ بھر کے رہ گئ ۔۔ کھلتے ہی تینوں دبے پاوں گھر سے نکل گئے۔۔ جبکہ ریا لوگوں سے ہنسی روکنا مشکل ہوگیا۔۔ سب نے زوردار قہقہہ لگایا تو امان نے مڑ کے دیکھا۔۔ حنان بھی ہنسنے لگا۔۔ امان نے انکی حرکت پہ نفی میں سر ہلایا۔۔ ان سے بعد میں نمٹنے کا سوچتے ہوئے وہ دونوں کمرے میں چلے گئے۔۔ابھی ان کے لیئے ضروری اپنی پیکنگ کرنا تھا۔۔
💞💞💞💞💞💞💞💞
” نازلی بیٹا رک جاو میری بات تو سنو”۔۔
بریرہ مسلسل نازلی کو قابو کرنے میں ہلکان ہو رہی تھی جس نے پورا کمرہ بگاڑ کے رکھ دیا تھا۔۔اب اپنا منگنی کا ڈریس صحن میں رکھے پٹرول چھڑک رہی تھی۔۔ خازق اس وقت ہمدان کے ساتھ کسی ضروری کام کے لیئے گیا تھا اور انکے پاپا بھی کسی کام سے باہر تھے۔۔ مہمان سب ہال سے ہی واپس چلے گئے تھے۔۔
“ہٹ جائیں مام ورنہ سب کچھ جلا دوں گی”۔۔
کپڑوں کو آگ لگاتے وہ خطرناک لہجے میں بولی تو بریرہ ڈر کے پیچھے ہوئ۔۔
“بیٹا اس میں آپ کی ہی تو خوشی تھی رشی نے یہی بتایا تھا” ۔
بریرہ بے بسی سے بولی۔۔
“مام کم آن کس نے کہا رشی آنٹی کو وہ عیشی مشی نے ۔۔ میں حیران ہوں ان پہ یقین کیسے کر لیا۔۔
ان دونوں کو تو میں نہیں چھوڑوں گی”۔۔
نازلی اچانک سب چھوڑ کے دروازے کی طرف بھاگی تو بریرہ گھبرا گئ۔۔ اور نازلی سامنے سے آتے خازق سے ٹکرائ اس سے پہلے کے وہ گرتی خازق نے اسے پکڑ لیا۔۔
“ارے گڑیا کیا ہوا”۔۔
خازق اسے سامنے کرتا اسکا سرخ چہرہ دیکھ کے پریشانی سے بولا۔۔۔
“بھیااااا”۔۔
کچھ پل نازلی نے خاموشی سے خازق کو دیکھا پھر اسکے گلے لگے گلہ پھاڑ پھاڑ کے رونے لگی۔۔ اچانک اسکی چینختی چنگاڑتی آواز سن کے خازق اچھل گیا۔۔۔
💞💞💞💞💞💞💞💞
جاری ہے۔۔