Ek Hai Aafat Season 2 By Binte Hawa Readelle50339 (Ek Hai Aafat) Episode 23
Rate this Novel
(Ek Hai Aafat) Episode 23
شاہ ہاوس۔۔۔
“یہ تم کہاں جا رہی ہو وہ بھی اتنی تیار ہوکے؟ “
ٹریٹ لینے کے بعد جب وہ سب گھر آئے تو عیشی اپنے کمرے میں چلی گئ۔۔مشی نے اس لیئے تنگ نہیں کیا تاکہ عیشی کچھ وقت اکیلے گزار لے۔۔ کیونکہ وہ ہوٹل میں بھی خاموش رہی تھی۔۔اسکی خاموشی ضرار نے بھی نوٹ کی تھی۔۔ وہ بھی پوچھنا چاہتا تھا مگر سب کے سامنے ممکن نہیں تھا۔۔
ابھی شام ہوگئ مگر عیشی باہر نا آئ تو مشی کو فکر ہونے لگی۔۔ اور وہ کمرے میں آئ تاکہ اسے دیکھ سکے مگر سامنے عیشی کو دیکھ کے حیران رہ گئ۔۔
جس کے کالی ٹخنوں تک آتی سادہ سی فراک پہنی تھی۔ ساتھ کرلی بالوں کی چٹیاں بنائے ۔۔ ہلکا میک اپ کیئے اور کالی ہیل پہنے بہت پیاری لگ رہی تھی۔۔ جب مشی نے حیرانی سے پوچھا تو عیشی کے گھڑی باندتے ہاتھ رکے ۔۔ اور اس نے نظریں اٹھا کے مشی کو دیکھا۔۔ پھر گھڑی باندھ کے بیڈ کے پڑھا کالا سٹالر گلے میں ڈالا اور ہینڈ بیگ اٹھا کے مشی کے پاس آئ جو ابھی تک بت بنی دروازے پہ کھڑی تھی۔۔۔
“تمھیں نہیں پتا آج مجھے کتنا بڑا غم ملا ہے اسی کو انجوائے کرنے جا رہی ہوں “۔۔
بیگ میں موبائل ڈالتے عیشی نے کہا اور پھر معصومیت سے آنکھیں ٹمٹما کے مشی کو دیکھا جو منہ کھولے اسے دیکھ رہی تھی۔۔
“چٹا ککڑ بنیرے تے۔۔
چمگادڑ جئ بوتھی آ لیئے۔۔ میرا ہیرو مر گیا تیرے تے”۔۔
عیشی ایک ہاتھ سے سٹالر کا پلو پکڑ کے اپنے نا آنے والے آنسو صاف کرتی گانے لگی۔۔ تو مشی کو اسکی دماغی حالت پہ شک ہوا😂۔۔ اور وہ عیشی کو وہی چھوڑے واپس بھاگی ۔۔
” افوو آہستہ مسٹر ڑ صاحبہ معصوم کو سیڑھیوں سے گرا کے جان لینی ہے کیا۔ یا معذور کرا کے بھیک منگوانے کا ارادہ ہے”۔۔
مشی تیز تیز سیڑھیاں اترنے لگی تو سامنے سے آتے ضرار سے ٹکرائ جو رینگ پکڑ کے بولا تو مشی کو غصہ آیا ۔۔
“او سستے ہیرو کی بےکار کاپی یہ فلاپ ایکٹنگ بعد میں کرنا پہلے میری بات سنو وہ عیشی ۔۔”
مشی اسے ڈانٹتے ہوئے بولی تو ضرار نے منہ بنایا۔۔ مگر عیشی کے نام پہ جب مشی کی آنکھوں میں آنسو آئے تو وہ ایک دم سیریس ہوا۔۔
“کیا ہوا عیشی کو؟ “۔۔
“وہ عیشی دماغی توازن کھو بیٹھی ہے”
ضرار نے پوچھا تو مشی معصوم سا منہ بنا کے بولی جس پہ ضرار نے زوردار قہقہہ لگایا۔۔
“واو تم لوگوں کے پاس دماغ بھی ہے”
ضرار نے تجسس سے پوچھا۔۔
“اچھا اچھا سوری رکو میری
بات تو سنو۔۔
ضرار کی بات پہ مشی کو غصہ آگیا اور اسنے جھک کے پاوں سے جوتا اتارا اب ضرار اسے روکتے ہوئے آگے آگے بھاگ رہا تھا جبکہ مشی بھی سب بھولے اسکو مارنے اسکے پیچھے بھاگ رہی تھی جب عیشی کمرے سے باہر آئ اور دونوں کو ٹام اینڈ جیری بنے دیکھ کے بیزاری سے منہ پھیرا۔۔
“عیشی پلیز بچا لو تمھاری بہن میں کالی آتما حاضر ہوگئ ہے “۔۔
ضرار بھاگ کے عیشی کے پاس آیا اور اسے سامنے کرتا بولا۔۔
” کالی آتما ہوگے تم۔۔تمہاری بیوی۔۔ تمہارے بچے۔۔ خبردار جو مجھے کالی آتما بولا بینگن کے بڑھے سیشے “۔۔
مشی اپنی دھن میں بولتی گئ تو عیشی نے ضرار کو دیکھ کے قہقہہ لگایا ۔ جو منہ کھولے مشی کی گالیاں سن رہا تھا۔۔
” آج چلو بس کرو لڑنا چلو باہر چلتے ہیں”۔۔
ابھی ضرار نے منہ ہی کھولا تھا کچھ کہنے کو جب عیشی نے اسے چپ کرایا اور دونوں کو باہر ساتھ چلنے کا کہا ۔۔
“یہ تم کیوں لیڈی ڈیانہ بنی ہوئ ہو؟”۔۔
باہر جانے کی بات پہ ضرار نے عیشی کو دیکھا ۔۔ اسکو اتنا تیار ہوئے دیکھ کے اس نے حیرانی سے پوچھا۔۔ کیونکہ عیشی مشی وہ مخلوق تھیں جو کبھی تیار نہیں ہوئ تھی ۔۔ اگر کبھی رشی انہیں ڈانٹ کے تیار ہونے کا بول بھی دیتی تو دونوں ایسی تیار ہوتی کہ دوبارہ کوئ بولنے کی ہمت نا کرتا😂۔۔
“تمھارا رشتہ لے کے جا رہے ہیں اس لیئے”۔۔
عیشی چڑ کے بولی۔۔
“کس کے گھر؟”۔۔
ضرار نے ایک نظر مشی کو دیکھا جو منہ بنا کے کھڑی تھی اور اسکے دیکھنے پہ نظریں پھیر گئ۔۔ پھر تنگ کرنے کے لیئے مزے سے بولا ۔۔۔
“مراسیوں کے گھر” ۔۔
عیشی نے پاوں پٹخ کے کہا اور باہر نکل گئ۔۔ اسکی بات پہ مشی بھی ہنستی ہوئ اسکے پیچھے باہر چلی گئ مگر ضرار کو منہ چڑانا نہیں بھولی۔۔
“پاگل”۔۔
ضرار نے مسکرا کے آہستہ سے کہا اور دونوں کے پیچھے آیا وہ جانتا تھا اسکے بغیر وہ لوگ نہیں جائیں گی۔۔۔
🎀🎀🎀🎀🎀🎀🎀🎀
“میرے۔ لیئے ہاٹ چاکلیٹ ڈبل باول اور ان سے آرڈر لیں لے”۔۔
گھر اجازت لینے کے بعد وہ تینوں باہر آگئے تھے۔۔ پارک میں عیشی بچوں کے جھولے پہ بیٹھی رہی۔۔ اسکے بعد پاس کی گول گپے کی ریڑھی سے گول گپے کھائے۔۔ اسکے بعد سموسہ چاٹ اور کولڈرنک لی ۔۔ اسکے بعد کبھی ونڈو شاپنگ تو کبھی جوکر کے جوکس دیکھ دیکھ کے مشی اور ضرار بری طرح تھک گئے تو تینوں نے گنے کا جوس پیا ۔۔۔ ایک جھیل کے پاس سفلیز لی ۔۔ اسکے بعد عیشی دونوں کو گھسیٹ کے گڑھ سواری کے لیئے لے گئ۔۔ کچھ دیر گڑھ سواری کرنے کے بعد جب وہ دونوں بالکل تھکن سے چور ہوگئے اور رات کے نو بج گئے تو عیشی ضد کرکے ہوٹل میں آگئ اور اپنے لیئے چاکلیٹ آرڈر کی۔۔ جبکہ ضرار اور مشی اسے ایسے دیکھ رہے تھے جیسے کوئ اور مخلوق ہو۔۔ جب ویٹر نے ان سے آرڈر کا کہا تو دونوں نے انکار کر دیا۔۔ اور عیشی کو دیکھنے لگے جو اب ہوٹل کی گرین لائٹ میں خوبصورت سے ویو پہ سیلفیز لے رہی تھی۔۔
” اب مجھے واقع لگتا ہے عیشی کا دماغی توازن کھو گیا ہے”۔۔
عیشی سے تھوڑا دور مشی اور ضرار کرسیوں پہ بیٹھے تھے جب ضرار نے عیشی کو دیکھتے سرگوشی کی جو اب مختلف پوز بنا کے کپچر کر رہی تھی۔۔
“میں نے تو تمھیں پہلے ہی کہا تھا”۔۔
مشی بھی عیشی کو دیکھتی دکھ سے بولی۔۔ تبی آرڈر آگیا اور عیشی بھی انکے پاس آکے بیٹھ گئ ۔۔
“لو گے تم لوگ”۔۔
چمچ بھر کے ان دونوں کی طرف کرتے عیشی بولی تو دونوں نے ایک ساتھ سر نا میں ہلایا ۔۔ اوراسے دیکھنے لگے۔۔
” عیشی یہ تم آج کیسی حرکتیں کر رہی ہو ۔۔ جن شن تو نہیں آگیا تم میں”۔۔
اسکو بنا رکے چمچ بھر بھر کے چاکلیٹ منہ میں ڈالتے دیکھ کے ضرار سے رہانا گیا۔۔ تو اس نے پوچھا۔۔
“اہم ہممم نہیں میں بس غم انجوائے کر رہی ہوں”
عیشی منہ میں بھری چاکلیٹ خلق سے اتار کے اسکو دیکھتی بولی اور ایک اور چمچ بھر کے منہ میں ڈالا۔۔
“کیسا غم کونسا غم۔۔ شام سے تم یہی کہہ کہ ہر جگہ ذلیل کرا رہی ہو”۔۔
ضرار بے بسی سے بولا تو عیشی نے چونک کہ مشی کو دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہی تھی ۔۔ پھر خود کوسنبھال کے بولی۔۔
“وہ منتھلی ٹیسٹ میں میرے مارکس کم آئے وہی غم”
عیشی نے جھوٹ بولنے کی کوشش کی تو ضرار نے زوردار قہقہہ لگایا ۔۔
“بس کرو عیشی ۔۔ سارے سارے سبجیکٹس میں فیل ہو جاتی تو تمھیں کوئ غم نا ہوتا۔۔ ایک منتھلی ٹیسٹ میں کم مارکس لینے پہ تمہیں غم لگ گیا ہاہاہاہاہاہا آئ بڑھی آئن سٹائن”۔۔
ضرار نے اسکا مذاق اڑایا تو عیشی نے چاکلیٹ کا آخری چمچ منہ میں ڈالتے اسکو گھور کے دیکھا اور ٹیبل پہ پڑھا پانی اسکے منہ پہ پھینکا جس سے وہ ہڑبڑا گیا۔۔
“پاگل جنگلی”۔۔
منہ صاف کرتے ضرار چڑ کے بولا۔۔
“تم سائیکو جنگلی۔۔”
عیشی بھی ایسے ہی بولی جبکہ مشی ان دونوں کو لڑتا دیکھ کے سر پکڑ کے بیٹھ گئ ۔۔
“میم یہ بل”۔۔
تب ہی ویٹر نے آکے بل پکڑایا۔۔ جسے دیکھ کے عیشی کو جھٹکا لگا۔۔ صرف ایک ہاٹ چاکلیٹ ایک ہزار روپے کی۔۔
“اتنا زیادہ بل”۔۔
عیشی نے آنکھیں پھاڑے ویٹر کو دیکھا۔۔
“جی میم یہاں کی مشہور ہاٹ چاکلیٹ تھی”۔۔
ویٹر ہاتھ باندھے مودب انداز میں بولا۔۔
“کیوں سونا ڈالا تھا بیچ”۔۔
عیشی چڑ کے بولی ۔۔
“عیشی یار لڑو مت بل پے کرو تاکہ چلیں گھر میں بہت تھک گئ ہوں۔۔”
مشی تھکے تھکے انداز میں بولی تو عیشی نے کھا جانے والی نظروں سے ویٹر کو دیکھا اور بیگ کھول کے پیسے نکالنے لگی۔۔
“یہ لو اس میں ایسی تین چاکلیٹس آجائیں گی ہنننن”
عیشی دس دس والے نوٹوں کی تھیلی ویٹر کو پکڑا کے بولی تو ویٹر نے غصے سے اسے دیکھا اور پیسے گننے لگا۔۔ عیشی نے اسکو پیسے گننے میں مگن دیکھا تو ہونٹ دانتوں میں دبایا پھر ضرار اور مشی کو اشارہ کیا۔۔ اسکا اشارہ سمجھ کے دونوں کے رنگ اڑے اس۔۔۔
“اے رکو یہ تین سو ساٹھ روپے ہیں “۔۔
وہ تینوں آس پاس دیکھ کے تیز تیز چلنے لگے۔۔ جب ویٹر نے آواز دی۔۔
“بھاگووووو”
عیشی نے زور سے ہانک لگائ اور بھاگنے لگی۔۔ مرتے کیا نا کرتے مشی اور ضرار کو بھی اسکے پیچھے بھاگنا پڑھا ۔۔۔
کیونکہ اسوقت ان دونوں کے پاس ایک روپیہ نہیں تھا۔۔
“بھائ بھائ پلیز ہماری مدد کریں ہم بہت معصوم لوگ ہیں ہمارے پیچھے چور لگ گئے ہیں پلیز”
وہ تینوں بھاگتے ہوئے باہر آئے تو تین ویٹر بھی انکے پیچھے بھاگ تے ہوئے آ رہے تھے۔۔ اب یہ تینوں روڈ کے بیچ میں بھاگ رہے تھے۔۔ مشی نے پاوں میں درد کی وجہ سے باقائدہ رونا شروع کر دیا تھا۔۔ مگر ویٹر تھے کہ ابھی بھی پیچھے ہی آ رہے تھے۔۔ اب تو عیشی کی ہمت بھی جواب دینے لگی تھی۔۔ ضرار مسلسل اسے کوس رہا تھا۔۔ جب سامنے پیچھے سے ایک رکشہ آیا ۔۔
عیشی نے پیچھے مڑ کے دیکھا تو ویٹرز کچھ ہی فاصلے پہ تھے۔۔ جب اسنے رکشہ روکا۔۔ اور پھولے ہوئے سانس سے مدد مانگی۔۔ رکشے میں ایک موٹی سی عورت پہلے ہی بیٹھی تھی ۔۔
“چلو چلو بچیوں جلدی بیٹھو”۔۔
اس عورت نے رکشے سے سر نکال کے پیچھے دیکھا جہاں تین آدمی بھاگتے ہوئے آ رہےتھے۔۔
تو انکو جلدی سے رکشے میں بٹھایا ۔۔
“میں کہاں جاوں گا”۔۔
عیشی مشی کے بیٹھتے ہی رکشے میں جگہ نا رہی تو ضرار روتی صورت بنا کے بولا۔۔
“تم پیچھے لٹک جاو جلدی”۔۔
رکشہ ڈرائیور نے جب دیکھا کہ وہ تینوں آدمی پاس پہنچ گئے ہیں تو ضرار سے بولا۔۔ جان بچانے کے لیئے ضرار بھی فورأ پیچھے لٹک گیا تو رکشہ ڈرائیور نے جلدی سے رکشہ بھگایا۔۔
“آہہہہہہ وہ ارطغرل کے چھوٹے ورژن آہستہ چلاو یہ رکشہ ہے ترکی کا گھوڑا نہیں۔۔ ہائےےے میری ماں آج میں نہیں بچنا۔۔۔ ہائےےے شاہ پاپا آپکی بن بتوڑی مجھے لے ڈوبے گئ۔۔۔ ہائےےے دنیا والووو میری قبر پہ لکھنا بچارہ ایک کالی آتما کے غم انجوائے کرنے کے چکر میں شہید ہوگیا۔۔۔”
ضرار پیچھے لٹکا تو تیز چلنے کی وجہ سے رکشہ ادھر ادھر ہونے لگا۔۔۔ جب ویٹرز نے انہیں رکشے میں بیٹھتے دیکھا اور رکشہ کچھ دور آیا تو وہ تینوں رک گئے۔۔ ان سے جان خلاصی کا ابھی شکر ادا نہیں ہوا تھا کہ ضرار نے اپنا رونا شروع کر دیا۔۔ رکشہ ڈرائیور اور پہلے سے بیٹھی عورت نا سمجھی سے عیشی مشی کو دیکھ رہےتھے۔۔ جب عیشی کو لگا کہ ویٹرز سے تو جان بچ گئ مگر ضرار کی فضول گوئ انہیں ضرور مروا سکتی تھی۔۔۔
“چپ کر جا موٹے سانڈ تیری وجہ سے ہم بھی گریں گے۔۔ اب اگر آواز آئ نا تو چاچے شیدے کے بھوکے کتوں کے آگے ڈال دوں گی۔۔ ان بچاروں کی بھی پارٹی ہوجائے گی۔۔”
عیشی منہ باہر کرکے جل بھن کے بولی تو ضرار نے منہ بنایا۔۔
“کیوں انہیں بھی کوئ غم لگا ہے کیا “۔۔
مگر سامنے بھی ضرار تھا اس نے کہاں چپ رہنا سیکھا تھا۔۔
“لو بچوں آگیا تم لوگوں کا گھر”۔۔
اس سے پہلے کہ عیشی کچھ جواب دیتی ۔۔ انکے دیئے ہوئے ایڈریس پہ رکشہ رکا اور وہ عورت پیار سے بولی۔۔
“شکریہ آنٹی “۔۔
رکشے سے اترتے ہی مشی بولی۔۔
“آج کے بعد رات گئے باہر نہیں نکلنا”
آنٹی نے نصیحت کی تو عیشی نے سر ہلایا۔۔ جبکہ ضرار اپنے ہاتھ دبا رہا تھا جو رکشے کے سریے ہو پکڑنے کی وجہ سے سرخ ہوگئے تھے۔۔ اللہ خافظ کہتے تینوں گھر میں داخل ہوئے جہاں سب جمع تھے۔۔ اور پریشانی سے انکا انتظار کر رہے تھے۔۔
“کہاں تھے تم لوگ۔۔ اتنی دیر کردی۔۔ شہر کے حالات نہیں پتا کیا ۔۔ بچے نہیں ہو اب ؟”۔۔
انکو دیکھتے ہی رشی ان پہ برس پڑھی باقی سب بھی سوالیہ نظروں سے انہیں دیکھ رہے تھے
“آپ فکر نا کریں آنی شہر کے حالات خراب کرنے والی چھوٹی ڈان خود ہمارے ساتھ تھی۔
اسکو دیکھ کے تو بڑھے بڑھے ڈونوں کی کانپیں ٹانگ جاتی ہیں😂”۔۔
ضرار عیشی کو دیکھ کے جل بھن کے بولا۔۔
“موبائل کیوں آف ہیں تم تینوں کے؟”۔۔
اگلا سوال زری نے کیا ۔۔
“میرا موبائل گھر پہ تھا۔۔ “
“میرا بھی”۔۔
“اور میرے موبائل کی چارجنگ ختم ہوگئ “
مشی فٹ سے بولی۔۔ ضرار نے بھی وہی جواب دیا ۔۔ان دونوں کے بعد سب نے عیشی کو دیکھا کہ جی آپ فرمائیں تو وہ بھی معصومیت کے سارے ریکارڈ توڑتی بولی۔۔
رشی نے تینوں کو غصے سے گھورا۔۔
“اچھا بس کرو رشی بچے تھک گئے ہیں سونے دو انکو۔۔ اس پہ ہم صبح بات کریں گے”۔۔
رشی نے مزید کچھ بولنے کے لیئے منہ کھولا۔۔ جب مشی کا ستا ہوا چہرہ دیکھ کے ریا نے انکی جان بخشی کرائ ۔۔
“او ہو کونسا سونا۔۔ پہلے کھانا تو دیں پیٹ میں چوہے دوڑ رہے ہیں”۔۔
انکی بات سن کے عیشی صدمے سے بولی۔۔ جبکہ ضرار اور مشی نے پوری سے بھی زیادہ آنکھیں کھول کے اسے دیکھا😂۔۔
“یہ تم نے پیٹ میں مشین تو نہیں فٹ کرا لی ۔۔ اتنا کھانے کے بعد بھی نہیں بھرا”۔۔
ضرار حیرت سے بولا ۔۔
“تم چپ کرو میرے نوالے نا گنو ۔۔ گینڈے ۔۔ مجھے نظر لگائ نا۔۔ تمھارا بڑتھا بنا کے کے ٹو کی پہاڑیوں پہ اڑا آوں گی”۔۔
عیشی نے دوبو جواب دیا تو سب سے سر پکڑ لیا۔۔ کہ ساری دنیا سدھر سکتی تھی سوائے انکے😂۔۔
“اچھا بس کرو لڑنا آو تم لوگوں کو کھانا دوں”۔۔
اس سے پہلے کے دونوں پھر شروع ہوتے زری نے چپ کراتے ہوئے کہا۔۔
“مجھے نہیں کھانا بس سونے جا رہی ہوں”
“میں بھی”
مشی نے تھکے ہوئے انداز میں کہا اور اٹھ کے کمرے میں چلی گئ اسکے پیچھے ہی ضرار بھی اپنے کمرے میں چلا گیا۔۔ تو عیشی زری کے ساتھ کچن میں چلی گئ غم انجوائے کرنے😂۔۔ او میرا مطلب کھانا کھانے😜۔۔۔
🎀🎀🎀🎀🎀🎀🎀🎀
“آجاو سب بہت دیر ہوگئ ہے”۔۔
آج سب گھر والوں نے عازب کے ساتھ جانا تھا جہاں ایک بہت بڑھا سرپرائز انکا انتظار کر رہا تھا۔ عازب نے صبح ساتھ بجے سبکو اٹھا دیا تھا۔۔ اور آٹھ بجے سے جلدی جلدی مچا کے رکھی تھی۔۔۔
“آگئے بڑھے پاپا”۔۔
عیشی مشی نے انکے پاس آتے ہی کہا۔۔ باقی سب بھی آہستہ آہستہ نکلنے لگے۔۔
نو تیسی پہ ان سب کی گاڑیاں شکر پڑیاں پریڈ گراونڈ کی طرف رواں دواں تھی۔۔ تین گاڑیاں آگے پیچھے جا رہی تھی۔۔ ایک کو عارب۔۔ دوسری شازیب اور تیسری امان ڈرائیو کر رہا تھا۔۔ عارب اور شازیب کے ساتھ سب بڑھے تھے۔۔ جبکہ امان کی گاڑی میں سب بچے تھے۔۔ اور اسکی گاڑی سب سے آخر میں تھی۔۔ سب سے آگے شازیب کی گاڑی تھی۔۔ صرف عیشی شازیب عارب اور عازب جانتے تھے۔۔ منزل پہ ان کے لیئے کونسا سرپرائز ہے۔۔۔
عیشی خوش تھی کہ آخر تک اسکا منہ بند رہا تھا۔اب وہ بھی فوجی یونیفارم پہن سکے گی😜۔۔
مشی نے رات کو ہی اسے حقیقیت سے آگاہ کر دیا تھا کہ اسے خازق سے محبت نہیں تھی اسے یونیفارم میں دیکھ کے وہ متاثر ہوئ تھی۔۔ تو اصل محبت اسے یونیفارم سے تھی خازق سے نہیں اسکی جگہ کوئ اور بھی اگر یونیفارم میں اسکے سامنے آتا تو اسکا ایسا ہی ری ایکشن ہوتا۔۔ یہ سن کے عیشی کو واقع احساس ہوگیا تھا۔۔ کہ وہ بہت بڑھی غلط فہمی میں تھی۔۔ مگر اب اسے ایک دکھ بھی تھا کہ پتا نہیں سارہ کی منگنی کا سن کے ہمدان کا کیسا حال ہوگا۔۔ کیونکہ اسکے مطابق ہمدان سارہ کے عشق میں گرفتار تھا😂(پگلی ۔۔ رائٹر کو ابھی بھی نہیں سمجھی😜)۔۔۔
کچھ دیر بعد تینوں گاڑیاں پارکنگ میں رکی۔۔
“عازب آپ نے کہا تھا دوست کے جانا ہے یہاں کونسا دوست ہے”۔
سب جب گاڑیوں سے اترے تو زری نے آس پاس دیکھ کے کہا۔۔ جہاں بہت سے فوجی ادھر ادھر گھوم رہے تھے۔۔ انکی فائنل تقریب ہو چکی تھی۔۔ یہ لوگ لیٹ ہوگئے تھے جسکا عازب اور شاہ کودکھ تھا۔۔
“چل کے خود دیکھ لو”۔۔
عازب نے مسکرا کے کہا تو سب نے نا سمجھی سے انہیں دیکھا۔۔ مگر شاہ عیشی اور عارب انکی بات پہ مسکرانے لگے۔۔ اور پھر سب عازب کے پیچھے گئے۔۔
“ہمدان”۔۔
ایک موڑ مڑتے ہی عازب رک گیا۔۔ اسکے پیچھے باقی سب بھی رک گئے۔۔ سامنے ایک فوجی انکی طرف پیٹھ کئے کھڑا تھا ۔۔ سب نے نا سمجھی سے اسے دیکھا۔۔ جب وہ انکی طرف مڑا اور السلام علیکم کہتے پاوں زمین پہ رکھا اور ہاتھ ماتھے تک لے جاکے سلوٹ کیا۔۔ تو سب نے حیرت سے اسے دیکھا۔۔ وہ کوئ اور نہیں ہمدان تھا۔۔۔ زری نے حیرت سے اسے پکارہ۔۔ ہمدان مسکرا رہا تھا۔۔ عیشی شاہ عازب اور عارب بھی اسے دیکھ کے مسکرا رہےتھے جبکہ باقی سب بت بنے کھڑے تھے۔۔
عارب کو شاہ نے دو دن پہلے ہی سب بتایا تھا۔۔
🎀🎀🎀🎀🎀🎀🎀🎀
جاری ہے۔۔۔
