Ek Hai Aafat Season 2 By Binte Hawa Readelle50339 (Ek Hai Aafat) Episode 13
Rate this Novel
(Ek Hai Aafat) Episode 13
“حنان بھائ ہم کہاں جا رہے ہیں آئسکریم پالر تو پیچھے بھی تھا؟”
گاڑی انجانے راستوں پہ دیکھ کے مشی نے پوچھا تو حنان نے ناسمجھی سے سامنے دیکھا۔۔ وہ واقع اپنے خیالوں میں دور نکل آیا تھا۔۔منال نے بھی مشی کی بات سن کے حنان کو دیکھا تو اس نے لب چباتے ہوئے شیشے سے اسکو دیکھا۔۔ دونوں کی نظریں ملی تو دونوں ہڑبڑا گئے۔۔۔اور حنان نے فور أ بات بدلی ۔۔۔
“وہ یہاں تھوڑا آگے ایک بہت اچھا آئسکریم پالر ہے میں امان کے ساتھ آیا تھا سوچا آج تم لوگوں کو وہی لے کے جاوں ۔۔”
حنان کی بات سن کے منال نے حیرت سے سامنے دیکھا جہاں دور دور تک آبادی کا کوئ نشان نہیں تھا تو یہاں آئسکریم کہا سے آئ۔۔ منال نے حنان کی چوری پکڑتے لب دبا کے مسکراہٹ روکی۔۔ جبکہ مشی حنان کی بات سن کے پرسکون ہوگئ تھی۔۔۔
آخر تھوڑا آگے جاکے حنان نے گاڑی دوسرے راستے سے واپس موڑ لی۔۔۔ اور واپس اسی آئسکریم پالر آگیا۔۔ مگر چونکہ وہ دوسرے راستے سے آیا تھا اس لیئے گاڑھی پچھلے دروازے کے سامنے روکی اور ان دونوں کو لے کے اندھر داخل ہوا۔۔۔
“بھائ یہ جگہ جانی پہچانی لگ رہی ہے”۔۔
مشی نے آس پاس دیکھتے ہوئے بولی تو حنان نے منہ پہ ہاتھ پھیرا جبکہ منال مسلسل مسکراہٹ روکنے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔۔
“ہاں شاید کبھی ہمدان بھائ تم لوگوں کو یہاں لائیں ہو آخر ملک کے کونے کونے سے تو کھا کے آئ تم لوگ آئسکریم ۔۔۔”
حنان نے خود کو کمپوز کرتے ہوئے مسکرا کے کہا تو مشی نے دوبارا سر ہلایا۔۔۔ تب ہی وہاں ویٹر آگیا۔۔
“سر کونسا فلیور لے گے آپ؟”۔۔
مشی نے سامنے کھڑے شحص کو دیکھ کے گھور کے حنان کو دیکھا۔۔ جو آرڈر دے رہا تھا۔۔
“اففف یا تو آپ پاگل ہے یا پھر پکے آپ ہی پاگل ہیں حنان بھائ یہ وہی جگہ ہے جس کے پاس سے ہم گزرے تھے”۔۔۔
مشی نے ہاتھ میز پہ مارتے ہوئے کہا تو حنان نے ہار مانتے ہوئے مسکرا کے اسے دیکھا۔۔۔پھر امان کو کال کی جو پاس ہی تھا ان لوگوں کے کہنے پہ وہ بھی یہاں آگیا ۔۔۔
“اے تمہیں آرام نہیں ہر وقت بس ایک ہی کام ہے ٹکر مارنا کیا جانوروں کے خاندان سے ہو”۔۔
امان جیسے ہی دروازے پہ پہنچا اندھر سے جاتی نازلی سے زوردار ٹکر ہوئ جو آئسکریم لے کے نکل رہی تھی۔۔ مگر امان سے ٹکراتے ہی اسکی آئسکریم زمین پہ گری۔۔ اور غصے سے امان کو دیکھ کے بولی۔۔ تو امان بھی صبح والی چڑیل دیکھ کے منہ بنانے لگا۔۔ مگر اسکی بات سن کے امان کا پارا ہائ ہوا۔۔
“زبان سنبھال کے بات کرو مجھے کوئ شوق نہیں ہے تم جیسی جنگلی سے ٹکرانے کی جسے بات کرنے کی تمیز نہیں ہے۔۔۔ اب ایک لفظ اور بولی تو یہی زمین پہ پٹخ دوں گا😠”۔۔
امان اتنی زور سے دھاڑا بچاری نازلی اچھل کے پیچھے ہوئ اور دروازے کے ساتھ لگ کے پوری آنکھیں کھول کے امان کو دیکھنے لگی۔۔ جو سرخ انگارہ آنکھیں لیئے اسے ہی گھور رہا تھا۔۔۔
مشی لوگ پچھلے دروازے کی طرف سے آئے تھے تو اس لیئے وہ نازلی کو نا دیکھ سکی اور اس جگہ سے کافی دور تھی۔۔۔
“ہٹو اب کیا یہاں اپنا مجسمہ تیار کرانے کا ارادہ ہے”۔۔
اسے دروازے کے سامنے جمے ہوئے دیکھ کے امان نے ناگواری سے کہا اور اسے پکڑ کے سائیڈ پہ کرکے جانے لگا تو نازلی ہوش میں آئ اور چینخ کے بولی۔۔۔
” اے رکو یہ باتیں کسے سنائ تم نے اسکا تو بعد میں پوچھتی ہوں پہلے یہ میری آئسکریم جو گرائ ہے اسکی برپائ کرو”۔۔
نازلی نے امان کو روک کے غصے سے کہا۔۔
“گرنے کی چیز تھی گر گئ”۔۔
آنکھیں گھما کے طنزیہ کہتے آگے بڑھنے لگا۔۔
“آہہہ یہ کیا تھا؟”۔۔
اس سے پہلے کہ امان آگے بڑھتا نازلی نے دروازہ پکڑ کے زور سے امان کے منہ پہ بند کیا ۔۔تو وہ سیدھا امان نے ناک پہ جاکے لگا۔۔ اور جیسے ہی پیچھے مڑا آئسکریم سے پاوں پھسل گیا اور وہ دھرام سے نیچے گرا۔۔ جبکہ نازلی بازو سینے پہ باندھے اسے دیکھ رہی تھی۔۔ جب امان غصے سے چینخا۔۔
“گرنے کی چیز تھی گر گئ”۔۔
نازلی نے مسکراتے ہوئے اسی کے لہجے میں کہا تو امان کو مزید تپ چڑھی مگر نازلی اسکا غصہ آئے بائے شائے کرتی دوبارا کاونٹر پہ آئسکریم لینے چلی گئ۔۔ امان کپڑے جھاڑتے ہوئے کھڑا ہوا۔۔
“کیا دیکھ رہے ہو سرکس سجھا ہے کیا”۔۔
آس پاس سے گزرتے لوگ اسے دیکھ رہے تھے جب امان نے دانت پیس کے کہا تو سب شرمندہ سے ہوتے ادھر ادھر ہوگئے۔۔۔
تو امان بھی غصے کا گھونٹ بھرتا حنان لوگوں کی طرف بڑھا وہ مزید نازلی کو برداشت نہیں کر سکتا جو مڑ کے اسے دیکھتی مسکرا رہی تھی۔۔
امان حنان لوگوں کے پاس آیا تو خود کو کمپوز کر چکا تھا۔۔ پھر سب نے آئسکریم کھائ۔۔ اس دوران حنان نے نوٹ کیا کہ منال امان سے بلاجھجک بات کر رہی ہے تو اسکے ذہن میں فورأ خیال آیا کہ اگر امان اس سے پوچھے کہ وہ رشتے کا سن کے رو کیو رہی تھی تو یقینأ وہ بتا دے گی۔۔ اس نے امان سے بعد میں بات کرنے کا سوچا۔۔
آئسکریم کے بعد امان نے حنان کو پرچی دی جس پہ گھر کا کچھ سامان لکھا تھا۔۔ اور خود واپس چلا گیا۔کہ اسکا کچھ کام رہتا ہے۔۔
حنان بھی گاڑی لے کے ایک سٹور میں آگیا۔۔
منال اور مشی گاڑی میں ہی بیٹھی تھی ۔۔
“السلام علیکم آپ لوگ یہاں؟”۔۔
حنان جب سامان لے کے نکلا تو اسے گاڑھی کے پاس ذنبیل ملا جس نے خوش اخلاقی سے گلے ملتے ہوئے سلام کیا۔۔
“وعلیکم السلام کچھ سامان لینا تھا وہی لے رہے تھے بس”۔۔
حنان نے اکھڑے ہوئے لہجے میں کہا اور سامان گاڑی میں رکھنے لگا۔۔ ذنبیل نے اسکے لہجے کی تلخی محسوس کرلی اسی لیئے خوشی سے سر ہلاتا آگے بڑھ گیا۔۔ اس نے زیادہ پوچھنا مناسب نا سمجھا۔۔
مگر وہ حیران تھا کہ حنان ایسا رویہ کیوں کر رہا تھا۔۔ دور دور تک کوئ غلطی سمجھ ناآئ تو وہ سر جھٹکتااندھر چلا گیا۔۔
💓💓💓💓💓💓
“ارے عیشی رک بھی جاو میری بھی سن لو”۔۔
عیشی کو مسلسل بولتے دیکھ کے ہمدان نے کہا تو عیشی نے غصے سے اسے دیکھا۔۔
“ایک تو غلطی کی اب صفائیاں بھی دے گے”۔۔
عیشی نے ویسے ہی غصے میں کہا تو ہمدان نے اپنا سر پکڑا ۔۔
“جیسا تم سمجھ رہی ہو ویسا کچھ نہیں ہے انفیکت میں تو سارہ سے شادی ہی نہیں کرنا چاہتا”۔۔
ہمدان نے بے بسی سے کہا تو عیشی نے آنکھیں پھاڑ کے اسکو دیکھا۔۔ پھر ہمدردانہ سی شکل بنا کے ہمدان کا کندھا سہلانے لگی تو وہ حیران ہوا۔۔
“آئیں ادھر بیٹھے “۔۔
اسکو پکڑ کے پاس بنے بینچ پہ بیٹھاتی عیشی نے اسے پانی کی بوتل پکڑائ ۔۔
“کیا یہاں کوئ ان میں سے چٹی گوری پسند ہےکیا؟”۔۔
عیشی نے ہمدان کے کان کے پاس جاتے سرگوشی کی تو ہمدان نے سر پکڑا۔۔
“ایسا کچھ نہیں ہے عیشی “۔۔
ہمدان نے اسکو دیکھ کے بیزاری سے کہا۔۔
“اوہو ڈرے مت بتا دے اور شرمائے تو بالکل بھی مت مجھے اپنی ہمدرد اور دوست ہی سمجھیں “۔۔
عیشی نے ہمدردی سے کہتے ہوئے آنکھیں بڑھی کی تو ہمدان کا دل کیا سر دیوار میں مار لے۔۔
“ایسا کچھ نہیں ہے میرا مطلب تھا ابھی شادی نہیں کرنا چاہتا پہلے جاب کرنا چاہتا ہوں “۔۔
ہمدان نے پانی کی بوتل سائیڈ پہ رکھتے ادھر ادھر دیکھتے سنجیدگی سے کہا تو عیشی نے اسکو گھورتے ہوئے ہاتھ کمر پہ رکھے۔۔
“ہاں تو کر لیجیئے گا پڑھائ وہ کونسا بچی ہے جو آپکی اسائنمنٹ پھاڑ دے گی”۔۔
عیشی کی بات سن کے ہمدان بے اختیار قہقہہ لگا گیا تو عیشی مزید تپی۔۔
مگر ہمدان نے اسے منانے کے لیئے اسے لے کے کینٹین چلا گیا۔۔ تو عیشی کے بھی پیٹ میں جب چوہے دوڑے تو ساری ناراضگی سائیڈ پہ کرتے کھانا کھانے لگی۔۔
💓💓💓💓💓💓💓
“تو پھر کیا سوچا آپ نے ؟”۔۔
حرم اس وقت رشی کے گھر آئ ہوئ تھی۔۔ ریا کے پاس بیٹھی اس نے پوچھا تو ہماہ نے ایک نظر اسکو دیکھا اور چائے کا کپ اسکو پکڑایا ۔۔حرم نے شکریہ کہتے مسکرا کے کپ پکڑا۔۔
” ابھی ہم نے کوئ فیصلہ نہیں کیا منال کے پیپرز ہیں اسکے بعد ہی کچھ سوچیں گے”۔۔
ریا نے ہماہ کو ایک نظر دیکھ کے کہا تو حرم اور سارہ نے ایک دوسرے کو دیکھا۔۔
“میرا بیٹا بچپن سے آپکے سامنے ہے ۔۔ پھر بھی اتنا سوچنے کی وجہ؟”۔۔
حرم نے پوچھا تو ریا اور ہماہ دونوں خاموش ہوگئ۔۔
“دیکھو حرم بیٹی کا معاملہ ہے ایسے میں تو انسان اپنے بہن بھائیوں میں رشتہ جوڑتے ہوئے بھی سوچتے ہیں ۔۔ اور ویسے بھی ابھی منال سے پوچھنا مناسب نہیں اسکے پیپرز ہیں ایسے میں بچی کو ٹینشن دینا مناسب نہیں”۔۔
ہماہ اور ریا کو خاموش دیکھ کے رشی بولی تو ہماہ نے مسکراتی نظروں سے اسے دیکھا اور رشی نے سر کو خم دے کے اسے پرسکون رہنے کو کہا۔۔
تب ہی مشی حنان اور منال گھر میں داخل ہوئے ۔۔ حرم اور سارہ کو دیکھ کے منال اور حنان دونوں اداس ہو گئے ۔۔اور سلام کرتے ہی اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے ۔۔ مشی کی نظروں نے دور تک دونوں کا پیچھا کیا۔ وہ حرم کو دیکھ کے انکے چہرے اتر جانا اچھے سے نوٹ کر گئ تھی۔۔ اسکے ذہن میں کچھ کلک ہوا۔۔ اب اسے بس عیشی کا انتظار تھا۔۔ وہ ہی بتا سکتی تھی کہ کیا مسلہ ہو سکتا ہے😜۔۔۔
💓💓💓💓💓💓💓
“عیشی وہ نا مجھے ایک بات بتانی ہے تمھیں”۔۔
شام کو جب عیشی تھکی ہاری واپس آئ تو سیدھی کمرے میں پہنچی اور گرنے والے انداز میں بیڈ پہ لیٹی۔۔اسکے پیچھے ہی مشی بھی اندھر آئ اور دروازہ بند کرکے اسکے پاس بیڈ پہ بیٹھتے رازدانہ انداز میں بولی۔۔
“کیا بات؟”۔۔
اسکا انداز دیکھ کے عیشی ٹھٹکی اور کہنی سے بل بیٹھ کے پوچھا۔۔
“وہ نا آج جب ہم لوگ گھر واپس آئے تو حرم آنٹی آئ ہوئ تھی۔۔ اور “۔۔
مشی نے حرم کو دیکھ کے منال اور حنان نے رویے کا بتاتے ساتھ ہی حنان اور ذنبیل کی سٹور کے باہر ہوئ ملاقات بھی بتائ جو وہ گاڑی میں بیٹھ کے دیکھ رہی تھی۔۔ چونکہ ذنبیل گاڑی کے پاس ہی حنان سے ملا تھا تو مشی نے اچھے سے نوٹ کیا تھا حنان کا رویہ۔۔ پھر سارا رستہ وہ بالکل خاموش رہا تھا۔۔۔
“ہمممم تو یہ بات ہے”۔۔
عیشی نے اسکی بات سن نے کچھ سوچتے ہوئے سر ہلا کے کہا۔۔
“اب کیا ہوگا اگر آنی اور چاچو نے حرم آنی کو ہاں کردی تو؟”۔۔
مشی نے پریشانی سے پوچھا۔۔
“اگر منو آپی اور حانی بھائ واقع ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں تو میں ذنبیل بھائ نے انکی شادی نہیں ہونے دوں گی۔۔”
عیشی نے واپس بیڈ پہ لیٹتے ہوئے کہا تو مشی نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔۔۔
عیشی نے مسکرا کے اسے اپنا پلان بتایا۔۔ پہلے تو مشی گھبرا گئ مگر عیشی نے یقین دلایا کہ کچھ نہیں ہوگا تو وہ بھی پر سکون ہوگئ۔۔ پھر دونوں بےصبری سے رات کا انتظار کرنے لگی۔۔۔
💓💓💓💓💓💓💓
“یہ لو”۔۔
رات کھانے کے بعد سب اپنے کمروں میں چلے گئے تو عیشی مشی نے اپنے پلان پہ کام کرنا شروع کیا۔۔مشی آہستہ سے لائبریری سے حنان کی ایک بک اٹھا کے لائ جس پہ حنان نے کچھ لیکچر بھی نوٹ کیئے تھے۔۔
عیشی نے فورأ بک پکڑی اور کھول کے دیکھنے لگی۔۔۔
عیشی آسانی سے کسی کی رائٹنگ بھی کاپی کر سکتی تھی۔۔ ابھی بھی وہ اسی ہنر کو آزما کے دو دلوں کو جوڑنے کا سوچ رہی تھی۔۔
“ویسے عیشی حنان بھائ کی رائٹنگ کافی گندی ہے ہی ہی ہی ہی🙊”۔۔
عیشی بک کے صفحے آگے پیچھے کر رہی تھی جب مشی نے آہستہ سے کہا اور منہ پہ ہاتھ رکھ کے کھی کھی کرنے لگی تو عیشی بھی ہنسی ۔۔
“رائیٹنگ کو گندی ہے مگر بھائ ہے ہینڈسم ۔وہ سنا نہیں خوبصورت لوگ نالائق ہوتے ہیں۔۔ کچھ لکھنے میں اور کچھ پڑھنے میں”
عیشی حنان کی رائٹنگ میں تیزی سے صفحے پہ کچھ لکھتی بول رہی تھی تو مشی سے سمجھ کے سر ہلایا۔۔
“جیسے کے ہم پڑھنے میں”۔۔
مشی نے کہا پھر دونوں نے قہقہہ لگایا۔۔۔
“چلو یہ ہوگیا”۔۔
حنان کی رائٹنگ میں حنان کی طرف سے منال کو لیٹر لکھ کے اسکو بند کرتے عیشی نے کہا تو مشی نے آہستہ سے دروازہ کھول کے باہر جھانکا ۔۔ جہاں مکمل خاموشی اور اندھیرہ تھا۔۔۔ ہال سے باہر ایک لائٹ جل رہی تھی جس کی ہلکی ہلکی روشنی اندھر آ رہی تھی۔۔ عیشی مشی نے باہر نکل کے آہستہ سے دروازہ بند کیا اور اختیاط سے قدم اٹھاتی منال کے کمرے تک آئ۔۔ اسکے کمرے کی لائٹ آف تھی ۔۔ مگر دروازہ ان لاک تھا۔۔ عیشی نے آہستہ سے دروازہ کھولا اور اندھر داخل ہوئ۔۔ کھڑکی سے آتی چاند کی روشنی میں کمرے کی ہر چیز مدھم مدھم سی دکھ رہی تھی۔۔ منال بیڈ پہ سو رہی تھی۔۔ عیشی نے اسکے سونے کا یقین کرکے سکون کا سانس لیا۔۔ اور آہستہ سے بیڈ کے پاس آئ۔۔ تب ہی منال نے اسکی طرف کروٹ لی تو وہ فورأ نیچے جھک گئ۔۔ پانچ منٹ ایسے ہی رہنے کے بعد اسنے آہستہ سے سر اٹھا کے دیکھا ۔۔تو منال دوبارا سو گئ تھی۔۔ عیشی نے ہاتھ میں پکڑ خط سائیڈ ٹیبل پہ رکھا اور دبے پاوں باہر نکلی جہاں مشی اسکا انتظار کر رہی تھی ۔۔ باہر آتے ہی عیشی نے دروازہ بند کیا اور دل پہ ہاتھ رکھ کے ایک لمبا سا سانس لیا۔۔۔
“بال بال بچی یار”۔۔
عیشی نے آہستہ سے کہا تو مشی نے اسکو چلنے کا کہا کہی کوئ آ نا جائے۔
“تم دونوں اس وقت یہاں کیا کر رہی ہو؟”۔۔
اس سے پہلے کے وہ آگے برھتی ہمدان کی آواز پہ دونوں اچھلی اور ہلکی سی چینخ ماری۔۔
“ڈرا دیا دانی بھائ”۔۔
دل پہ ہاتھ رکھے گہرے گہرے سانس لیتی عیشی نے گھور کے ہمدان کو دیکھا اور ناراضگی سے کہا جو مشکوک نظروں سے انہیں دیکھ رہا تھا۔۔
“وہ ہمیں نیند نہیں آ رہی تھی تو سوچا منو آپی کے پاس چلتے ہیں باتیں کر لے گے۔۔ مگر وہ سو رہی ہیں تو ہم واپس جا رہے تھے”۔۔
مشی نے فورأ بات سنبھالی مگر ہمدان ابھی بھی ویسے ہی دونوں کو دیکھ رہا تھا۔۔
“آپ کیا ہماری جاسوسی کر رہے تھے۔۔ اس وقت یہاں”۔۔
جب عیشی کو کوئ بات سمجھ نا آئ تو ہمدان کی چڑائ کردی۔۔۔
“میں کیوں جاسوسی کرنے لگا جاسوسوں کی پانی پینے جا رہا تھا”۔۔
ہمدان نے اسے چڑاتے ہوئے کہا تو وہ واقع چڑھ گئ۔۔
“دیکھ رہی ہوں میں جب سے رشتے کی بات ہوئ ہے بڑھے پر لگ گئے ہیں آپکو “۔۔
عیشی ہاتھ کمر پہ رکھ کے بولی۔۔تو ہمدان اسکے غصے سے محظوظ مسکراہٹ دبا کے معصوم شکل بنا کے بولا۔۔
“بھئ میں نے سوچا تھا شادی کے بعد اپنی پیاری سی معصوم سی کیوٹ سی بیگم کو
چاند پہ لے کے جاوں گا اب مجھ غریب کے پاس اتنے پیسے تو ہے نہیں کہ راکٹ خرید سکوں اسی لیئے پروں کا سوچا کے اڑ کے چلے جائیں گے۔۔
ہمدان کی بات سن کے مشی کھی کھی کرنے لگی۔۔ جبکہ عیشی سارہ کے لیئے کیوٹ معصوم اور خوبصورت لفظ سن کے ہی جل بھن گئ وہ بھی اسکے منہ سے جس پہ وہ اپنا پورا حق سمجھتی تھی۔۔
“آپکے پروں سمیت آپکی اس کیوٹ چمگادڑ کو بھی سمندر میں ڈبکیاں دلا دلا کے مار دوں گی”۔۔
عیشی نے غصے سے کہا تو ہمدان نے قہقہہ لگایا۔۔ اسکو ہنستا ہوا دیکھ کے عیشی تن فن کرتی کمرے میں چلی گئ۔۔ اسکے پیچھے ہی مشی بھی چلی گئ۔۔
“پاگل”۔۔
ہمدان نے انکے کمرے کے بند دروازے کو دیکھ کے مسکرا کے کہا پھر کچن میں چلا گیا۔۔ عیشی اسے ویسے ہی تو نہیں عزیز تھی۔۔ وہ جب بھی اس سے ملتی اسکے ہونٹوں سے مسکراہٹ جدا نہیں ہوتی تھی۔۔۔
💓💓💓💓💓💓💓
جاری ہے۔۔۔
