Ek Hai Aafat Season 2 By Binte Hawa Readelle50339 (Ek Hai Aafat) Episode 3
Rate this Novel
(Ek Hai Aafat) Episode 3
“عیشیئئئئئئئئئئئئ”۔۔
عیشی کو دوبارہ اسی حالت میں گھر داخل ہوتے تھے کے رشی نے باقاعدہ رونا شروع کر دیا مگر اس کے ساتھ ساتھ ہمدان اور ضرار کو بھی مٹی کا بھوت بنے دیکھ کے سب حیران ہوئے کیونکہ ضرار تو چلو عیشی کا پارٹنر تھا ہی مگر ہمدان بہت سمجھدار اور صفائ پسند تھا۔۔۔
“یہ کیا حلیہ بنایا ہوا ہے ہمدان؟ “۔۔
زرتاشہ نے اپنے صفائ پسند بیٹے سے پوچھا جو اس وقت کسی جوکر سے کم نہیں لگ رہا تھا۔۔
“ماما وہ دادو نے بولا تھا کچھ دیر عیشی کو باہر لے جاو تاکہ رشی آنی آرام کر سکے انکے سر میں درد ہے”۔۔۔
ہمدان نے معصوم شکل بنا کے ریا کے کہنے سے لے کر عیشی کی ساری کاروائ اور پھر روڈ پہ ہوئے ضرار سے تصادم تک سب بتا دیا جسے سن کے رشی نے جوتا اتارا اور عیشی کی کمر کا نشانہ لے کے کھٹاک سے مارا۔۔۔
“ہائئئئئئئ میں مر گئ”۔۔
عیشی دونوں ہاتھ کمر پہ رکھے وہی بیٹھ گئ جس کی وجہ سے اسکے کپڑوں کے ساتھ لگی ساری مٹی فرش پہ لگ گئ۔۔۔
“ایک منٹ سے پہلے کھڑی ہوجا عیشی سارا فرش گندا کر دیا ہے میں کہتی ہوں ابھی کہ ابھی کھڑی ہو”۔۔
رشی عیشی کو گھورتے ہوئے آگے بڑھتی بولی مگر زرتاشہ نے اسے راستے میں ہی پکڑ لیا۔۔
عیشی جو پہلے ہی جوتا پڑھنے سے بھری بیٹھی تھی رشی کے یو غصہ کرنے پہ کھڑی ہوگئ۔۔ پیچھے مڑ کے پانی کی بوتل میز سے اٹھائ اور پاس کھڑے ضرار پہ ڈال کے ریا کے کمرے میں بھاگ گئ واشروم کے پاس جاتے رشی کو زبان دکھائ اور اندھر بند ہوگئ ۔۔
فرش جو پہلے ہی عیشی کے بیٹھنے سے گندا ہو چکا تھا ضرار کے کپڑوں پہ لگی ساری مٹی پانی سے بہہ کے فرش کو مزید گندا کر گئ جسے دیکھ کے رشی زرتاشہ اور ہماہ صدمےمیں آگئ ۔۔۔
“رک جا آج تجھے نہیں چھوڑوں گی”۔۔
رشی ہوش میں آتے ہی ریاکے کمرے میں آئ اور زور زور سے واشروم کا دروازہ بجانے لگی مگر عیشی نے نا دروازہ کھولنا تھا نا اسنےکھولا البتہ رشی کی ویڈیو ضرور بن گئ تھی غصے میں دی گالیوں کی۔۔۔
کیونکہ رشی کی ایک آفت واشروم میں بند تھی دوسری آزاد تھی😂۔۔۔
“چلو تم میرے ساتھ”۔۔
ہماہ نے ضرار کو کان سے پکڑا اور کمرے میں لے گئ ۔۔۔ انکے جاتے ہی ہمدان بھی منہ لٹکائےاپنے کمرے میں گیا تاکہ شاور لے کے یہ بھوت پنے سے جان چھڑائے ۔۔۔
(کچھ ریڈرز کرداروں کو لے کے کنفیوزڈ ہیں کہ کون کسکا بچہ ہے سو وہ بتا دو۔۔۔عازب شاہ۔ شازیب یاور شاہ اور عارب شاہ تین بھائ ہیں عازب کی بیوی زرتاشہ ہے اور انکے دو بچے ہیں ہمدان شاہ اور خنان شاہ ۔۔۔ ہمدان گھر میں سب سے بڑا بچہ ہے وہ کالج کا سٹوڈنٹ ہے۔۔۔ ان کے بعد شازیب اور رشی کی جوڑی آتی ہے رشی کا نام ریشال شاہ ہے مگر اسے پیار سے رشی کہتے ہیں سب۔۔۔ ان کے تین بچے ہیں سب سے بڑا بیٹا امان شاہ جو اپنے کزن خنان شاہ کا ہم عمر ہے اس سے چھوٹی دو جڑواں بہنیں عیشال شاہ اور مشال شاہ ہیں جو خاندان میں سب سے چھوٹی ہیں اور انہیں پیار سے عیشی اور مشی کہا جاتا ہے ۔۔۔ اس کے بعد عارب اور ہماہ کی جوڑی ہے ان کے دو بچے ہیں بڑی بیٹی منال شاہ جو امان اور خنان کی ہم عمر ہے اس سے چھوٹا ضرار شاہ جو عیشی اور مشی سے تین سال بڑا ہے ۔۔۔
زرتاشہ اور ہماہ بہنیں ہیں اور رشی انکے ماموں کی بیٹی ہے اس طرح ان کے آپس میں دو دو رشتے ہیں ہماہ زرتاشہ اور ہماہ کی ماما عازب لوگوں کی پھپھو ہیں ۔۔ ریا رشی کی ماما اور عازب لوگوں کی خالہ ہے جبکہ شازیب کی خالہ ہونے کے ساتھ ساتھ ساس بھی ہے۔۔۔۔ رشی کے والد احرام شاہ ہیں ۔۔۔
باقی ڈیٹیل سیزن ون میں ہے جسے سمجھ ناآئے اسے ریڈکرلیں☺☺۔۔۔۔۔ جزاک اللہ خیر۔۔)۔۔۔۔
♧♧♧♧♧♧
“زری میرے پارٹنر آرہے ہیں ایسا کرو اچھی سی چائے تیار کرو اور ساتھ کچھ اور کھانے کو بھی بنا لو جو چیزیں نہیں ہے ہمدان کو لسٹ دو مارکٹ سے لے آئے بہت خاص مہمان ہیں کوئ کمی نہیں ہونی چاہیئے”
عازب کچن میں آکےبولا جہاں زری ہماہ اور رشی رات کے کھانے کی تیاری کر رہی تھی مشی اور ضرار میز پہ بیٹھے چپس کھا رہے تھےساتھ اپنے تایا کی باتیں بھی غور سے سن رہے تھے۔۔
“جی اچھا آپ فکر ناکریں “۔۔
زری نے مسکرا کے کہا اور سامان کا جائزہ لینے لگی ساتھ جو چیز کم لگی اسکی لسٹ بنانے لگی۔۔ عازب بھی موبائل میں کچھ ٹائپ کرتا باہر نکل گیا۔۔۔
“افووو آپی ابھی تک دودھ والا نہیں آیا”۔۔
ہماہ فریج سےدودھ نکال کے بولی کیونکہ دودھ بہت کم تھا۔۔۔
“ایک تو جس دن دودھ جلدی چاہیئے ہو اسی دن یہ لیٹ کرتا ہے”۔۔
زرتاشہ بھی گھڑی دیکھ کے بولی اور پھر سامان والی لسٹ اٹھا کے ہمدان کے کمرے میں چلی گئ۔۔۔
“عیشی کہاں ہے؟”۔۔
ہماہ نے ضرار اور مشی کو اکیلے اکیلے عیشی کا حصہ بھی چٹ کرتے دیکھا تو بولی۔۔۔
“وہ چھوٹی بہن سےچھپ کے بیٹھی ہے ریا بہن کے کمرے میں”۔۔
مشی چپس منہ میں رکھتی بولی تو رشی نے حیرانگی سے ریا کے کمرے کا دروازہ دیکھا
اسے یقین نا آیا اسکی اولاد اور خاص کر عیشی سکون سے بھی بیٹھ سکتی ہے۔۔
دفعتأ دروازے پہ بیل بجھی ۔۔۔
“باجی دودھ لے لو “۔۔۔
دودھ والے کی آواز سن کے ہماہ برتن نکالنے لگی۔۔
“یہ لو ضرار جلدی سے دودھ لے آو”۔۔
ہماہ نے ضرار کی طرف برتن بڑھاتے کہا جو برے برے سے منہ بنا رہا تھا۔۔
“ماما گرنے کی وجہ سے میری کمر کی ہڈی ٹن ٹن کر رہی ہے دودھ والا برتن اٹھایا تو ٹوٹ جائے گی”۔۔۔
ضرار کمر پہ ہاتھ رکھ کے بولا تو ہماہ نے اسے گھورا۔۔۔
“کسی اور کو بھیج دو ہماہ یہ نا ہو وہ بغیر دودھ دئیے ہی چلا جائے”۔۔
رشی ہانڈی میں پیاز ڈالتی بولی تو ہماہ نے بھی سر ہاں میں ہلایا اور باہر جانے لگی کیونکہ ابھی اسکے پاس وقت نہیں تھا ضرار سے بحث کرنے کا۔۔۔
“لائے ہماہ آنی میں لے آتی ہوں “۔۔
دوبارہ گھنٹی کی آواز سن کے مشی کھڑی ہوتی ہوئ بولی۔۔۔
ہماہ اور رشی نے آنکھیں پھاڑ کے اسے دیکھا جیسے یقین کرنا چا رہی ہو یہ مشی ہی ہے نا۔۔ کیونکہ مجال ہے جو عیشی اور مشی خود سے کوئ بات مانتی جب تک انہیں جوتا نا دیکھایا جائے۔۔۔
“ہاں یہ لو اور دھیان سے لانا”۔۔
دوبارہ گھنٹی کی آواز سن کے ہماہ ہوش میں آئ اور برتن مشی کو پکڑایا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“یہ لو اور جلدی جلدی دودھ ڈالو ٹائم نہیں ہے”۔۔۔
مشی نے دروازہ کھولا اور برتن سامنے کھڑے سوٹڈ بوٹڈ بندے کو پکڑا کے بولی جو اس آفتاد کے لیئے شاید تیار نا تھا۔۔۔
“یہ کیا ہے”۔۔
اس نے آس پاس دیکھتے مشی سے پوچھا جو دونوں ہاتھ کمر پہ رکھے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
“یہ کشکول ہے اور آپکو پورے محلے سے مسجد کا چندہ مانگ کے اس میں ڈالنا ہے تاکہ بعد میں میں ان پیسوں سے پارٹی کر سکوں”۔۔
مشی نے تپ کے اسکو گھورتے کہا تو سامنے کھڑے بچارے انسان نے گھڑبڑا کے ادھر ادھر دیکھا ۔۔کہ کسی نے اسکی درگت بنتے تو نہیں دیکھی اس چھوٹی سی پٹاخہ سے۔۔۔
“دیکھو بچے آپکو کوئ غلط فہمی”۔۔۔
اس نے ایک گہرا سانس اپنے اندھر اتارا اور بولا مگر مشی نے اسکی بات درمیان میں ہی کاٹ دی۔۔۔
“او دیکھو چاچا یہ چچا نتیجہ والا رشتہ بعد میں بنانا پہلے دودھ ڈال دو بڑے پاپا(عازب ) کے بہت خاص مہمان آرہے ہیں ان کے لیئے چائے بنانی ہے۔۔۔ پہلے ہی تم نے اس تیاری شیاری میں بہت ٹائم لگا دیا ہے ۔۔اگر تو آئے لیٹ ہو اور اب میکو باتوں میں لگا رہے ہو”
مشی نے ایک ہاتھ نچا نچا کے بات مکمل کی اور آخر میں اشارہ اسکی تیاری کی طرف کیا تو سامنے کھڑے انسان کا دل کیا دیوار میں سر مار دے یہ کس آفت کے ہتھے چڑھ گیا تھا جو اس کی ایک بات نہیں سن رہی تھی بس اپنی سنائ جا رہی تھی۔۔۔
“دیکھوں میں دودھ”۔
اس نے دوبارہ بولنا چاہا تو مشی نے اسے گھورا اور منہ پہ انگلی رکھ کے چپ رہنے کا اشارہ کیا۔۔۔ اس نے حیران ہوکے منہ پہ انگلی رکھ لی۔۔۔ تب مشی نے تھم اپ کیا اور اسے ہاتھ سے پکڑ کے موٹرسائیکل کے پاس لے آئ جس پہ دودھ کے بڑھے بڑھے ڈول لگے تھے۔۔۔
اس نے سوالیہ نظروں سے بائک دیکھی منہ پہ ابھی بھی انگلی ویسے ہی رکھی تھی۔۔۔
مشی نے اسکو ایسے دیکھا تو ماتھے پہ ہاتھ مارا اور پھر ہاتھ کے اشارے سے دودھ ڈول سے ڈالنے کا کہا۔۔۔
“لاو بچے برتن دو”۔۔۔
تب ہی وہاں دودھ والا آگیا اور مشی سے برتن مانگا تو مشی نے ایک نظر دودھ والے کو دیکھا اور پھر اس انسان کو جسے وہ دودھ والا سمجھ رہی تھی۔۔۔
“دودھ والے آپ ہو تو یہ کون ہیں؟”۔۔
مشی نے دودھ والے سے پوچھا تو اس نے کندھے اچکا دیئے کہ مجھے کیا پتا اور پھر سامنے کھڑے شحص کے ہاتھ سے دودھ کا برتن لے کے دودھ ڈالنے لگا۔۔۔
“کون ہو آپ؟” ۔۔
مشی نے دونوں ہاتھ کمر پہ رکھ کے اس سے پوچھا تو وہ مسکرانے لگا اور اشارہ اپنے منہ کی طرف کیا جس پہ مشی نے انگلی رکھوائ تھی۔۔
“اوہو ہٹا بھی دے آئے بڑھے میری ماننے والے”۔۔
مشی ماتھے پہ ہاتھ مارتی بولی تو اس نے مسکرا کے انگلی ہٹائ ۔۔
“میں آپکے بڑے پاپا کا وہ خاص مہمان جس کے لیئے چائے بنانے کے لئے آپ دودھ لینے آئ”۔۔
اس شحص نے تھوڑا جھک کر کہا تو مشی زبان دانتوں تلے دے کے سر کھجانے لگی۔۔
“تو آپ پہلے نہیں بتا سکتے تھے”۔۔
وہ مشی ہی کیا جو اپنی غلطی مان جائے جلدی سے اپنی پٹڑی پہ آتی دوبارہ غصے سے بولی اور ناک منہ چڑھا کے اسے دیکھنے لگی۔۔۔ جو اس بات پہ حیران تھا کہ بولنے دیتی تو بتاتا نا۔۔
“بچے یہ لو دودھ “۔۔
دودھ والے نے برتن مشی کی طرف بڑایا جسے پکڑتے ہی مشی جھک گئ کیونکہ وہ کافی بھاری تھا۔۔۔
“آہہہ مہمان انکل پلیز یہ برتن اٹھا دے دروازے تک”۔۔۔
مشی نیچے جھکے جھکے ہی بولی تو سامنے والے کو حیرت کا ایک اور جھٹکا لگا۔۔جو ابھی اسپے غصہ کر رہی تھی ابھی کیسے اسکا لہجہ شہد ٹپکانے لگا تھا۔۔۔ اس نے کچھ بھی کہے بغیر دودھ کا برتن پکڑا اور مشی کے پیچھے پیچھے چلنے لگا ۔۔۔
“بس بس یہاں رکھ دیں”۔۔۔
دروازے کے پاس پہنچتے ہی مشی کو گھر کے صحن سے عازب آتا دکھائ دیا تو اسنے مہمان سے دودھ والا برتن لے کے زمین پہ رکھ دیا۔۔ ابھی عازب نے نہیں دیکھا تھا۔۔۔
“دیکھے میں نے آپکو دودھ والا سمجھا کیونکہ آپ شکل سے مجھے دودھ والے لگے۔۔اوہہ میرا مطلب آپکی شکل اس سے ملتی ہے شاید آپ نے غور نہیں کیا ہی ہی ہی ہی😁۔۔۔
آپ پلیز یہ بات بڑھے پاپا کو مت بتائیں گا کیونکہ اس سے وہ میکو ڈانٹے گے اور مجھے ڈر لگے گا😕۔۔۔اور پتا ہے جب مجھے ڈر لگے تو مجھے دورہ پڑھ جاتا ہے پھر جو بھی اس ڈر کی وجہ ہو میں اسکا خون پی جاتی ہوں شووووووو کرکے😋”۔۔
مشی کسی بھی طرح اسے روکنا چاہتی تھی کہ وہ کچھ بھی عازب کو نا بتائے اسی لیئے اپنے ذہن کے مطابق اسے ڈرانے کی کوشش کرنے لگی تاکہ عازب کے ان تک پہنچنے سے پہلے وہ اسے چپ کروا سکے۔۔۔ اسکی باتیں سن کے سامنے والے کے لیئے اپنی ہنسی روکنا محال ہوگیا تھا۔۔۔
“السلام علیکم”۔۔
تب ہی وہاں عازب آیا اور سلام کرتا اپنے دوست کے لگے لگا۔۔۔
“مشی بیٹا آپ کیوں کھڑی ہیں یہاں؟”۔۔۔۔
اپنے دوست سے ملنے کے بعد عازب نے مشی کو دیکھا جو پیچھے کھڑی انہیں دیکھ رہی تھی۔۔۔
“بڑے پاپا دودھ والا بڑتن نہیں اٹھایا جا رہا😕”۔۔
مشی منہ بنا کے بولی تو عازب مسکرانے لگا اور دودھ کا برتن اٹھا کے اپنے دوست کو اندھر آنے کا کہا پھر خود بھی مشی کا ہاتھ پکڑھ کے اندھر آگیا۔۔۔
“یاڈ ڑکھنا آپ میری بات”۔۔
عازب نے دوست کو ڈرائنگ روم میں بٹھایا اور خود کچن میں چلا گیا تو مشی انگلی اٹھا کے اسے وارن کرتی عازب کے پیچھے بھاگ گئ۔۔۔
“ہاہاہا ڈرامہ کوئن”۔۔
وہ ہلکا سا ہنسا اس چھوٹی سی بچی کی شرارتی طبیعت پہ جو اس کے ساتھ ساری بات میں بس آخر میں تھوڑا سا اٹکی تھی(مشی اکثر باتوں میں اٹک جاتی تھی وہ ر کو ڑ اور د کو ڈ بول جاتی تھی )۔۔۔
♧♧♧♧♧♧
“اچھا یار اب چلتا ہوں”۔۔
عازب کا دوست کافی ٹائم اس کے ساتھ گزار کے اٹھ کھڑا ہوا تو دونوں ساتھ ساتھ چلتے باہر دروازے کے پاس آگئے۔۔۔
“اوہ میں فائل لانا بھول گیا تم رکو میں ابھی آیا”۔۔
عازب ماتھے پہ ہاتھ مارتا بولا اور دوبارہ اندھر چلا گیا تو اسکا دوست ایک سائڈ پہ بنے گارڈن میں آگیا جہاں بہت پیارے پیارے پھول لگے تھے۔۔ اور وہی بچی پھول توڑ توڑ کے جھولی میں ڈال رہی تھی جو آتے ہوئے اسے دروازے پہ ملی تھی۔۔۔
“اہممم اہممم جی تو آپکو کب سے دورے پڑھنے شروع ہوئے ہیں “۔۔
اس شحص نے عیشی کے پیچھے جاکے گلہ کھنکارتے ہوئے کہا۔۔ تو عیشی ڈر کے اچھلی اور اس شحص کو گھورنے لگی۔۔
“اے چقندر کی شکل مجھے کیوں پڑھنے لگے دورے تمہیں پڑھتے ہونگے تمھاری بیوی بچوں کو پڑھے دورے بلکے تمھارے پورے خاندان کو پڑھے۔۔”
عیشی غصے سے گلہ پھاڑے بولی تو وہ بچارہ اس آفتاد پہ اچھل کے پیچھے ہوا اور آس پاس مدد طلب نظروں سے دیکھنے لگا۔۔۔
“وہ میں”۔۔
اس نے کچھ بولنا چاہا تو عیشی نے پاس پڑھی کاغذ کی ٹوکری اسکے بازو پہ ماری۔۔
“کیا وہ میں ہاں بکری ہو کیا”۔۔۔
عیشی دوبارہ چلا کے بولی تو اسنے گارڈن سے باہر دوڑ لگائ اس آفت سے بچنے کے لیئے جسے وہ مشی سمجھ کے چھیڑ بیٹھا تھا۔۔۔
“اےےے رکو کہا”۔۔
ابھی عیشی کچھ بولتی اس شحص کے پاس عازب کو دیکھ کے رک گئ۔۔
“کیا ہوا عیشی بیٹا؟ “۔۔۔
عازب نے پوچھا تو عیشی نفی میں سر ہلاتی واپس گارڈن میں چلی گئ مگر جاتے ہوئے اسے گھورنا نا بھولی۔۔۔
“یہ وہی بچی تھی جو آتے ہوئے دودھ لے رہی تھی”۔۔
عازب کے دوست نے پوچھا تو وہ مسکرانے لگا۔۔۔
“نہیں وہ مشال شاہ تھی یہ عیشال شاہ ہے اسکی جڑواں بہن شازیب کی بیٹیاں”
عازب کے بتانے پہ وہ بھی سر اچھا میں ہلا کے مسکرانے لگا پھر اللہ خافظ کہتا واپس مڑا ۔۔۔
“آفتیں”۔۔
اس نے ایک نظر گارڈن کو دیکھا پھر منہ میں بڑبڑاتا ہوا باہر نکل گیا۔۔۔
♧♧♧♧♧
“چلو ایک ڈیل کرتے ہیں”۔۔
ضرار نے کہا تو مشی اور عیشی دونوں اسے دیکھنے لگے۔۔۔ اس وقت وہ تینوں چھت پہ بیٹھے تھے اور اپنے ماں باپ سے نیا بدلا لینے کی پلانگ کر رہے تھے۔۔۔
“کیا ڈیل؟ “۔۔
مشی پاوں کے انگوٹھے سے گملے سے مٹی کھرجتی ہوا بولی۔۔۔
“ہم رشی آنی اور اور پاپا کی سب سے بری پک سٹیٹس لگا دیتے ہیں۔۔”
ضرار نے چمکتی آنکھوں سے کہا۔۔۔
“بدلے میں ہمیں کیا ملے گا؟”۔۔
عیشی بیزار سا منہ بناتے بولی۔۔۔
” پک میں اور تم بنائے ضڑاڑ سٹیٹس لگائے گا اور پھڑ یہ ہمارے لیئے ناستہ بنائے گا”۔۔
مشی بات کرتے کرتے اٹک گئ تو عیشی ہنسنے لگی۔۔
“او پلیز اچھے بھلے ضرار کو ضڑاڑ نا بنایا کرو ایک تو تم آکے میں ہی نام پہ پھسلتی ہو”۔۔
عیشی کو ہنستا دیکھ کہ ضرار چڑ کے بولا۔۔
“مڑ جاو تم”۔۔
مشی اسکے کندھے پہ مکا مارتی بولی۔۔
“اوکے ڈن”۔۔
اس سے پہلے کہ مشی ناراض ہوکے جاتی ضرار مان گیا۔۔
“کیا مرنے کے لیئے؟”۔۔
عیشی آنکھیں پھیلا کے بولی۔۔
“نہیں بے وقوف ڈیل کے لیئے”۔۔
ضرار نے زور سے ماتھے پہ ہاتھ مارا تو عیشی دوبارا ہنسنے لگی۔۔۔
پھر تینوں ڈیل پکی کرتے سونے چلے گئے کیونکہ صبح اٹھ کے باقیوں کا جینا بھی تو حرام کرنا تھا نا😜۔۔۔۔
♧♧♧♧♧
“ماما۔۔۔۔۔ بھاگو عیشییییی۔۔۔۔”
مشی نے عیشی کا ہاتھ پکڑ کے کمرے سے باہر دوڑ لگائ۔۔۔
رک جاو تم دونوں آج نہیں بچو گی۔۔۔۔
رشی جوتا اٹھائے انکے پیچھے بھاگی۔۔۔
“مشی چلو چلو ۔۔۔۔”
مشال کو آہستہ دیکھ کے اب کی باری عیشال نے اسے کھنچا۔۔۔۔
“آہہہہہہہ۔۔۔۔۔”
بھاگتے بھاگتے دونوں سامنے سے آتے شازیب سے ٹکرائ اس سے پہلے کے وہ دونوں گرتی شازیب نے بروقت دونوں کے بازو پکڑ لیئے۔۔۔
“پاپا بچا لیں پلیز آپکی جلاد بیگم ہمارا قیمہ بنانا چاہتی ہے۔۔۔”
عیشی جلدی سے شازیب کے پیچھے ہوتے بولی۔۔۔۔
انکا شور سن کے ریا بھی باہر آگئ تھی اور باقی سب بھی یہ تو روزانہ صبح صبح کا تماشہ تھا شاہ ہاوس میں صبح کا پتا عیشال اور مشال کی بیداری دیتی تھی۔۔۔
“ارے ارے رکو تو ہوا کیا ہے؟۔۔۔”
شازیب رشی کو روکتے بولا جو اب اسکے پیچھے کھڑی اپنی چھ سال کی آفتوں کو پکڑنے کی کوشش کر رہی تھی اسی چکر میں وہ تینوں شازیب کے آس پاس گول گول گھوم رہی تھیں۔۔۔
“یہ آپ ان دونوں سے پوچھیں۔۔۔”
رشی نے رک کے غصے سے کہا اور پھر انکو پکڑنے کے لیئے بھاگی جو اب ریا کے پاس پہنچ چکی تھی۔۔۔۔
اسکی بات سن کے شازیب مسکرا دیا وہ آج بھی وہی رشی لگتی تھی چھوٹی سی۔۔۔
“ریا بہن بچا لیں چھوٹی بہن سے۔۔۔۔۔”
رشی کی دیکھا دیکھی مشی اور عیشی بھی ریا کو بہن اور رشی کو چھوٹی بہن کہتی تھیں۔۔۔۔
ارے بتاو تو ہوا کیا ہے؟۔۔۔
دوبارہ انکو پکڑنے بھاگتا دیکھ کے شازیب نے اس سے پوچھا۔۔۔
یہ یہ دیکھیں۔۔۔۔
رشی نے ہاتھ میں پکڑا موبائل اسے پکڑاتے کہا۔۔۔۔
شازیب اسکو دیکھتے ناسمجھی سے موبائل لیا اور اگلے ہی پل اسکو اپنا قہقہہ روکنا مشکل لگا مگر اسکے پاس کھڑے عارب نے موبائل میں جھانک کے دیکھنے کے بعد قہقہہ روکنے کی کوشش نا کی اور ہنسی سے لوٹ پوٹ ہوگیا باقی سب کے چہروں پہ بھی دبی دبی ہنسی تھی سمجھ تو سب گئے تھے کے معاملا کیا ہے۔۔۔۔
تم جو اتنا ہنس رہے ہو اپنا موبائل نکال کے دیکھو ذرہ اپنا سٹیٹس۔۔۔
رشی عارب کو گھورتی ہوئ بولی تو عارب نے اپنا موبائل دیکھنے ہی بجائے رشی کے موبائل سے ہی اپنا سٹیٹس دیکھا اور ہنسنے کی باری باقی سب کی تھی عارب نے گھور کے عیشی اور مشی کو دیکھا جو معصوم شکل بنائے ریا کے پاس کھڑی تھی اور انکا استاد غائب تھا ۔۔۔۔
ارے کوئ مجھے بھی بتائے گا؟۔۔۔
ریا نے پوچھا تو شازیب نے موبائل ریا کو پکڑایا ۔۔۔۔
سٹیٹس دیکھتے ہی ریا بھی ہنسنے لگی۔۔۔ جہاں رشی بیڈ پہ بیٹھی دونوں ہاتھ ہوا میں بلند کئے آنکھیں بند کرکے جمائ لے رہی تھی پورا منہ کھلا ہوا تھا بال بکھرے ہوئے تھے اور فلٹر ایسا لگایا گیا تھا کے پورا منہ کافی بڑھا لگ رہا تھا ساتھ لکھا تھا چھوٹی بہن کی مارنگ اور ایک آنکھ بند والا ایموجی لگا تھا۔۔۔۔
ذرا عارب کا بھی دکھاو۔۔۔۔
ریا نے ہنستے ہوئے شازیب سے کہا تو رشی اور عارب نے صدمے سے اسے دیکھا جبکہ باقی سب اپنی ہنسی روکنے کی کوشش کر رہے تھے ۔۔۔۔
یہ لیں۔۔۔
شازیب نے عارب کا سٹیٹس دیکھایا تو ریا کا قہقہہ بلند ہوا۔۔۔۔
عارب کا حال بھی کچھ ایسا ہی تھا بس فلٹر چینج تھا جس میں گول گول بڑھی سی آنکھیں تھی اور تھوڑی لڑک رہی تھی ۔۔۔۔
آپ ہنس رہی ہیں رشی نے صدمے سے ریا کو دیکھ کے پوچھا تو ریا کچھ پل خاموش ہوئ مگر پھر تالی بجا کے ہنسی باقی سب بھی ہنسنے لگے تو رشی اور عارب نے سبکو گھورا ۔۔۔۔۔
کہاں ہے تم دونوں کا استاد؟۔۔۔
عارب نے مشی سے پوچھا تو اسنے کچن کی طرف اشارہ کیا ۔۔۔۔
عارب اور رشی کچن میں بھاگے اب تک کچن بھی اپنی حالت پہ رو رہا تھا انکے پیچھے ہماہ بھی کچن میں آئ مگر تینوں ہی دروازے پہ رک کے پھٹی نگاہوں سے کچن کو دیکھنے لگے جو ڈسٹ بن کا منظر پیش کر رہا تھا۔۔۔
کرسی پہ بیٹھا ضراب پیاز کاٹ رہا تھا۔۔۔
یہ یہ کیا کیا؟۔۔۔
رشی نے ہوش میں آتے کچن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا ۔۔۔۔
عیشی اور مشی کے لیئے ناشتہ بنا رہا ہوں۔۔۔
ضرار نے کمال بے نیازی سے جواب دیا۔۔۔
پورے کچن میں پیاز ٹماٹر اور انڈوں کے چھلکے جگہ جگہ پڑھے تھے۔۔۔۔
کوکنگ آئل کچھ برتن میں تھا کچھ شیلف پہ پڑھا تھا ۔۔ نمک مرچ کے ڈبے کھلے شیلف پہ پڑھے تھے چائے کے کپ کچھ شیلف پہ پڑھے تھے کچھ زمین پہ ٹوٹے پڑھے تھے۔۔۔
ایک موٹی سی روٹی توے پہ جل گئ تھی گویا وہ کچن کم بکھیرا زیادہ تھا ۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ عارب ضرار تک پہنچتا ضرار کرسی سے میز پہ چڑھا اور دوسری طرف چھلانگ لگاتے باہر دوڑ لگا دی۔۔۔۔
اب پورے گھر میں شور مچا ہوا تھا آگے آگے عیشی مشی اور ضرار تھے انکے پیچھے عارب اور رشی جبکہ شازیب ہماہ عازب اور زرتاشہ عارب اور رشی کو روکنے کی کوشش کر رہے تھے اور ہمدان اور ریا بچوں کو دوسری سائیڈ سے بھاگنے کا کہہ رہے تھے۔۔۔۔۔
(عیشی مشی اور ضرار میں طے پایا تھا کہ پکچرز عیشی اور مشی لے گی جبکہ سٹیٹس ضرار لگائے گا کیونکہ عیشی اور مشی کو سٹیٹس لگانا نہیں آتا چونکہ آئیڈیا ضرار کا تھا سو طے پایا کے پکچرز کے بدلے ان دونوں کا ناشتہ ضرار بنائے گا۔۔۔۔ پلان تینوں کو پسند آیا اور عمل بھی تینوں نے کیا اب بھگتنا بھی تینوں کو تھا😜)۔۔۔۔
♡♡♡♡♡
جاری ہے….
