393.4K
34

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Ek Hai Aafat) Episode 18

شاہ ہاوس***
آج منال کی منگنی تھی۔۔ پورے گھر میں گہماگہمی تھی۔۔ ہر کسی کو تیاری کی فکر تھی ۔۔ مہمان آچکے تھے۔۔ باقی سب تیاریوں میں مصروف تھے۔۔ منال کی آنکھیں بار بار نم ہو رہی تھی۔۔ حنان بھی ہر چیز سے دور بھاگ رہا تھا اسکو دیکھ کے امان کا دل بھی اداس تھا۔۔۔
ضرار بہن کی حالت سے باخوبی واقف تھا مگر خاموشی سے سب دیکھ رہا تھا۔۔
عیشی کو یقین تھا کہ ذنبیل ضرور انکار کردے گا۔۔ اس لیئے وہ اپنے کارنامے پہ خوش اور رلیکس تھی۔۔ البتہ مشی میڈم سب بھول بھال کے نازلی کے ساتھ ڈانس پریکٹس میں مصروف تھی جو صبح سے شاہ ہاوس آ چکی تھی۔۔ مگر ابھی تک اسکا اور امان کا سامنا نا ہوا تھا۔۔
ہمدان بچارہ صبح سے گنچکر بنا ہوا تھا۔۔ ہر کام کا ذمہ اسی کا تھا۔۔
“یار مشی بھائ کی کال آرہی ہے مگر یہاں سگنل ہی نہیں آرہے”۔۔
مشی اور نازلی ڈانس پریکٹس کر رہی تھی جب تین چار بار خازق کی کال آئ مگر سگنل ایشو کی وجہ سے ڈسکنیکٹ ہو جاتی۔۔
“تم ایسا کرو باہر جاکے سن لو”۔۔
مشی نے بیڈ پہ بیٹھ کے پاوں دباتے ہوئے کہا تو نازلی سر ہلاتی موبائل لے کے باہر چلی گئ۔۔


“امان یارایک گلاس پانی تو لادو”۔۔
لائیٹننگ کرواتے ہوئے ہمدان نے امان سے کہا جو موبائل میں لگا تھا۔۔
“جی بھائ”۔۔
ہمدان کے کہتے ہی امان نے موبائل جیب میں ڈالا اور اندھر چلا گیا۔۔


“تم تم رک جاو وہی “۔۔
نازلی جیسے ہی سیڑھیوں سے نیچے اتری تو دروازے میں اسے امان نظر آیا جو دروازے سے دو قدم آگے آکے ادھر ادھر کسی گھر کی عورت کو تلاش کر رہا تھا تاکہ پانی مانگ لے۔۔ کیونکہ اندھر خواتین بیٹھی تھی ۔ تو نازلی چینخ کے بولی۔۔ امان نے چونک کے اسے دیکھا مگر سامنے اپنی ازلی دشمن دیکھ کے اسے جھٹکا لگا۔۔
“چوری کرنے آئے ہو نا یہاں۔۔ تم تو شکل سے ہی مجھے دو نمبر لگتے تھے۔۔ کبھی کالج میں لڑکیاں تاڑ رہے ہوتے ہو۔۔ کبھی آئسکریم پالر کے باہر لوگوں کا نقصان کراتے ہو اور اب۔۔ توبہ توبہ۔۔۔ شرم نام کی کوئ چیز ہے تم میں۔۔ اچھے خاصے ہٹے کٹے ہو محنت کرکے کما لو۔۔تاکہ ایسے زلیل نا ہونا پڑھے۔۔’
امان کے بولنے سے پہلے ہی نازلی کا سپیکر کھل گیا۔۔کانوں کو ہاتھ لگا کے توبہ توبہ کرتی وہ امان کو اچھا خاصہ دھو گئ۔۔ جبکہ وہ بچارا بت بنا اسکی باتیں سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔ کونسی چوری کہاں کی چوری😂۔۔
“اوو کسی چڑیاں گھر سے بھاگی ہوئ باندری۔۔ میں کوئ چور نہیں ہوں” ۔
نازلی کی باتوں نے امان کا اچھا خاصہ بلڈپریشر بڑھا دیا تھا۔۔ وہ بھی اسی کے انداز میں بولی تو نازلی نے آنکھیں چھوٹی کرکے غصے سے اسے دیکھا۔۔
“خود کو دیکھاہے۔۔ ایک تو چوری اوپر سے سینہ زوری۔۔ ابھی بتاتی ہوں۔اور ہر چور یہی کہتا ہے کہ میں چور نہیں۔۔۔جب پڑھے گے نا پولیس کے چھتر تو چینخ چینخ کے بتاو گے۔۔ ہاں ہاں میں چور ہوں میرا باپ چور ہے۔۔ دادا”۔۔
اس سے پہلے کے نازلی آگے کچھ بولتی امان نے سرخ انگارہ آنکھوں سے اسے دیکھا اور دبا کے منہ پہ ہاتھ رکھ دیا۔۔
“شٹ اپ یو نون سینس”۔۔
امان نے دانت پیستے غرا کے کہا تو نازلی کا دل کانپا۔۔
“اب ایک لفظ بھی بولا تو چھت سے نیچے لٹکا دوں گا ۔۔ بولنے والی مشین ۔۔ تم نا انتہائ بتمیز ہونے کے ساتھ ساتھ۔۔جنگلی بھی ہو”۔۔
ہاتھ ہٹاتے ہی امان مزید غصے سے بولا جبکہ نازلی اپنا رکا ہوا سانس بحال کرنے لگی۔۔
“بھائ آپ یہاں کھڑے ہیں۔۔ ہمدان بھائ نے آپکو پانی کا بولا تھا”۔۔
اس سے پہلے کے نازلی کوئ جواب دیتی۔۔ مشی وہاں آتی بولی۔۔
“ہاں میں جا ہی رہا تھا مگر ایک کالی بلی نے راستہ کاٹ لیا ۔۔”
امان نازلی کی طرف دیکھتا بولا تو نازلی نے غصے سے اسے دیکھا۔۔
“کدھر ہے”۔۔
مشی ادھر ادھر دیکھتی بولی تو امان نے آنکھیں سکیڑ کے دیکھا۔۔
“کیا؟ “۔۔
امان نے پوچھا تو مشی سر پہ ہاتھ مارتی بولی۔۔
“کالی بلی”۔۔
مشی کے بولتے ہی امان نے ہنسی دبا کے نازلی کو دیکھا۔۔
“یہ تمھارا بھائ ہے؟”۔۔
نازلی نے خود ہی بیچ کود کے پوچھ لیا۔۔
“اوہہ ہاں بھائ یہ میری دوست ہے نازلی اور نازلی یہ امان بھائ ہیں “۔۔۔
مشی نے تعارف کرایا تو نازلی نے لب کجائے ۔۔ اور اپنے الفاظ پہ اسے جی بھر کے شرمندگی ہوئ۔۔ مگر اسنے منہ سے کچھ نا بولا۔۔
“تمھیں پورے کالج میں اور کوئ نہیں ملا تھا”
امان نے بظاہر مسکراتے ہوئے مشی سے پوچھا۔۔ مگر اسکے الفاظ میں چھپا طنز نازلی نے باخوبی محسوس کیا ۔۔
“کیا مطلب؟”۔۔
مشی نے نا سمجھی سے پوچھا۔۔
“کچھ نہیں پانی کی بوتل لادو”۔۔
امان نے بات رفعہ دفعہ کرتے ہوئے کہا۔۔تو مشی جی کہتی چلی گئ۔۔ اور نازلی بھی منہ بناتی وہاں سے چلی گئ۔۔
“سائیکو پیس “۔۔
امان نے سر نفی میں ہلاتے ہوئے کہا اور تب تک مشی پانی لے کے آگئ تو بوتل لیتا باہر چلا گیا۔۔
💞💞💞💞💞💞💞
“ارے ذنبیل تم یہاں؟”۔۔
شزا جب منال کے گھر کے باہر پہچی تو ذنبیل کو گاڑی پارک کرتے دیکھا۔۔
(ذنبیل جس لڑکی کو پسند کرتا ہے وہ شزا ہے..مگر یہ بات شزا اور ذنبیل کے علاوہ کوئ نہیں جانتا۔۔۔ منال اس لڑکے کے بارے میں جانتی ہے مگر یہ نہیں جانتی کہ وہ لڑکا ذنبیل ہے اور نا ہی شزا جانتی ہے کہ منال کے لیئے ذنبیل کا رشتہ آیا ہے۔۔ )
“ہاں مگر تم یہاں کیسے؟”۔۔
دروازے کے پاس آتے ہی ذنبیل نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔
“میری دوست کی منگنی ہے آج “۔۔
شزا نے اسکے ادھر ادھر دیکھنے پہ الجھ کے کہا۔۔
عیشی جو گجرے منگوانے کے لیئے کسی کو ڈھونڈتی باہر آئ۔۔ سامنے شزا اور ذنبیل کو باتیں کرتے دیکھ کے ایک پودے کے پیچھے چھپ گئ اور سننے کی کوشش کرنے لگی۔۔
“اوہ تو منال تمھاری دوست ہے “۔۔
ذنبیل نے سمجھنے والے انداز میں کہا تو عیشی نے آنکھیں پھیلائ کہ یہ دونوں ایک دوسرے کو جانتے ہیں۔۔تب ہی ایک آئیڈیا ذہن میں آیا اور تکا لگانے کا سوچ کے سامنے آئ ۔۔
“ارے السلام علیکم شزا آپی آپ آگئ ۔۔ منو آپی کب سے آپکا انتظار کر رہی ہیں۔۔”
عیشی نے سامنے آتے کہا تو شزا نے مسکرا کے سلام کا جواب دیا اور بتایا کہ وہ آنے ہی والی تھی اندھر۔۔
“ان سے ملی آپ ۔۔ یہ آپکے جیجو جی ہیں ۔۔ مطلب منو آپی کے فیانسی”۔۔
شزا جیسے ہی ایک قدم چلی عیشی کی آواز نے اسکی سماعتوں پہ دھماکہ کیا۔۔ وہ جھٹکے سے مڑی اور ذنبیل کو دیکھا۔۔جو منہ کھولے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔
شزا کی آنکھیں بے اختیار نم ہوئ اور وہ واپس جانے لگی تھی جب ہماہ کی آواز آئ ۔۔
“ارے شزا بیٹا آگئ آپ اب جلدی سے چلو منو پارلر نہیں جا رہی کہ تمھارے ساتھ جائے گی”۔۔
ہماہ کے کہنے پہ شزا جی اچھا کہتی نا چاہتے ہوئے بھی اندھر کی جانب بڑھی
۔جو بھی تھا وہ اپنی دوست کو ایسے چھوڑ کے نہیں جا سکتی تھی۔۔ عیشی بھی ہماہ کے ساتھ اندھر چلی گئ۔۔ جبکہ ذنبیل ابھی تک بت بنا کھڑا تھا ۔۔۔
💞💞💞💞💞💞💞💞
“شزا “۔۔
وہ جیسے ہی اندھر داخل ہوئ منو اسے دیکھ کے کھڑی ہوگئ اور اسکے گلے لگتے ہی پھوٹ پھوٹ کے رونے لگی ۔۔ شزا کی بھی آنکھیں نم ہوگئ۔۔ مگر اس وقت اسے صبر سے کام لینا تھا۔۔
اس نے منو کو خاموش کرایا اور اسکو لیئے پارلر چلی گئ۔۔کیونکہ ٹائم بہت کم تھا۔۔
💞💞💞💞💞💞💞💞
“ارے نازلی بیٹا آپکی ماما اور بھائ آئے ہیں”۔۔
نازلی عیشی مشی تیار ہو رہی تھی جب رشی نے وہاں آکے بتایا ۔۔ عیشی کا بال بناتا ہاتھ رکا اور خازق کا سوچ کے اسکے لب مسکرانے لگے۔۔ دل میں دعائیں کرنے لگی کہ وہ آج بھی یونیفارم میں ہو۔۔ مگر منگنی کا فنکشن سوچ کے اسے وہ گارڈ لگا😂۔۔ اپنے خیالوں پہ ہنستے ہی وہ بیڈ پہ بیٹھ گئ۔۔ ہوش اسے مشی کے برش مارنے پہ ہوا۔۔
“آئئ کیا ہے جنگلی”۔۔
خیالوں کی دنیا سے نکل کے عیشی بازو سہلاتی غصے سے بولی۔۔ نازلی باہر جا چکی تھی۔۔ کمرے میں اس وقت وہی دونوں تھی۔۔
“یہ 1965 کی ہیروئن کی طرح خیالوں ہی خیالوں میں مسکرانا چھوڑو اور میری کرتی کی ڈوریاں باندوں۔۔”
مشی کمر پہ ہاتھ رکھ کے لڑاکا عورتوں کی طرح بولی تو عیشی نے برا سا منہ بنایا اور کھڑی ہوکے ڈوریاں باندنے لگی۔۔ ان دونوں نے لہنگا پہنا تھا۔۔ سلور کلر کی کرتی کے ساتھ مہرون کلر کا لہنگا تھا جس پہ سلور کلر کا کام ہوا تھا۔۔رشی کے لاکھ منع کرنے کے باوجود دونوں نے لہنگے کے ساتھ مہرون کلر کی ہیل ہی لی تھی۔۔ نازلی نے بھی لہنگا ہی پہنا تھا مگر اسکی کرتی سکن کلر کی تھی اور لہنگا گرین کلر کا۔۔
کرتی کی ڈوریاں باندتے ہی دونوں کی نظر سامنے کھلے میک اپ پہ گئ۔۔تو ایک نظر ایک دوسرے کو دیکھتے دونوں نے شیشے کی طرف دوڑ لگا دی۔۔ ایک دوسرے کو ہرانے کے چکر میں دونوں جلدی جلدی میک اپ کرنے لگی۔۔
تب ہی رشی کمرے میں ان دونوں کو بلانے آئ مگر سامنے کی حالت دیکھ کے بےہوش ہوتے ہوتے بچی😂۔۔ میک اپ کرنے کے چکر میں دونوں نے شکلوں کا بیڑا غرک کر لیا تھا ۔۔
“ہاہاہاہا ہاہاہاہا “۔۔
رشی بت بنی کھڑی تھی۔۔اسے ہوش تو پیچھے کھڑی نازلی کا قہقہہ سن کے آئ ۔۔ جو عیشی مشی کو دیکھتے ہنس ہنس کے لوٹ پوٹ ہو رہی تھی۔۔ اور عیشی مشی معصومیت سے آنکھیں ٹمٹماتی ان دونوں کو دیکھ رہی تھی۔۔
رشی نے زبردستی مسکراتے ہوئے نازلی کو دیکھا اور دانت پیستے ہوئے عیشی مشی کو منہ دھونے کا کہا۔۔
“میں نہیں دھو رہی اتنی محنت سے میک اپ کیا ہے میں نے”۔۔
مشی تو ماں کا غصہ دیکھ کے منہ دھونے چلی گئ۔۔مگر عیشی نے ڈھیٹ پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے منہ بنا کے کہا تو رشی نے نازلی کا خیال کیئے بغیر جوتا اتار کے سیدھا عیشی کی کمر پہ دے مارا۔۔ جس سے وہ آئئئئ کرتی اچھل گئ۔۔ اور روتی صورت بنا کے رشی کو دیکھا جس نے آنکھوں سے منہ دھونے کا اشارہ کیا تو برے برے منہ بناتی وہ بھی منہ دھونے چلی گئ۔۔
رشی نے قریب کی پارلر والی کو بلایا تھا۔۔کیونکہ اسے اپنے پیسز کا اچھے سے پتا تھا۔۔انکے منہ دھو کے آتے ہی بیوٹیشن بھی آگئ تو رشی اسے ہدایت دیتی
باہر نکل گئ ۔۔اور بیوٹیشن تیزی سے کام میں لگ گئ۔۔ کیونکہ اسے عیشی مشی اور نازلی تینوں کو تیار کرنا تھا۔۔
باہر آتے ہی رشی کو بے اختیار عارب کی شادی یاد آگئ ۔۔وہ بھی ایسے ہی بھوت بن گئ تھی اور کتنا تنگ کیا تھا ریا کو۔۔ اسنے بے بسی سے آسمان کی طرف دیکھا اور نیچے آگئ ۔۔۔
💞💞💞💞💞💞💞💞
بیوٹیشن نے خوبصورتی سے تینوں کو تیار کیا۔۔ اور بالوں کی درمیان سے مانگ نکال کے بندیاں لگائ۔باقی بال کرل کرکے کھلے چھوڑ دیئے ۔۔ وہ تینوں بہت پیاری لگ رہی تھیں۔۔
“پہلے میں اتروں گی”۔۔
مشی ہیل پہن کے کمرے سے باہر نکلی اور لہنگا سنبھالتی ادھر ادھر ڈولتی سیڑھیوں تک پہنچی۔۔ جب ضرار جلدی میں باہر نکلا اور گھڑی باندتا ہوا سیڑھیوں تک آیا ۔۔ مگر مشی لہنگا پھیلائے ٹریفک بلاک کیئے کھڑی تھی۔۔ ضرار نے اسے بازو سے پکڑ کے سائیڈ پے کیا اور نیچے اترنے لگا تو مشی نے غصے سے اسکا بازو پکڑ کے روک دیا۔۔ اور اس سے ایک سیڑھی آگے اترتی ہوئ غصے سے بولی۔۔
“نہیں پہلے میں”۔۔
ضرار نےبھی اسکو روکتے ہوئے واپس کھینچا اور اس سے آگے گزرتے ہوئے بولا۔۔ ایسے ہی لڑتے لڑتے وہ دونوں درمیان میں پہنچ چکے تھے۔۔
“نہیں تم نے سنا نہیں۔لیڈیز فرسٹ”۔۔
اسکو پکڑ کے روکتے وہ ایک سیڑھی اتر کے بولی۔۔
“کتا سامنے دیکھ کے میل فرسٹ ہوتا ہے ویسے لیڈیز ہننن”۔
ضرار بھی اسکو روک کے آگے آتا طنزیہ بولا۔۔
تو مشی نے غصے سے اسکو پکڑ کے روک لیا۔۔ اور دونوں ایک دوسرے کو کہنیوں کے پیچھے دھکیلتے آگے بڑھنے کی کوشش کرنے لگے۔۔ چار سیڑھیاں بچ گئ تھی۔۔مگر لڑنا ضروری تھا۔۔دونوں کو سیڑھیوں پہ لڑتا دیکھ کے رشی نے سر پکڑ لیا ۔۔
“آہہہہہہ”۔۔
اسی کھینچا تانی میں مشی کا پاوں پھسلا وہ گرنے لگی تو سہارے کے لیئے ضرار کا بازو پکڑا ۔۔مگر بجائے اسکو بچانے کے ضرار بھی اسکے ساتھ زمین پہ گرا😂۔۔اور دونوں کی چینخ سے شاہ ہاوس ہل گیا۔۔
“اندھے بچا نہیں سکتے تھے کیا”۔۔
مشی کمر پہ ہاتھ رکھے بیٹھ کے غصے سے بولی۔۔
“او میڈم میں عام انسان ہوں فلم کا ہیرو نہیں جو 80 کلو کی بوری کو آرام سے بانہوں میں بھر لیتا اور ایسے کھڑا رہتا جیسے روئ اٹھائ ہے”۔۔
بازو زمین پہ لگنے سے اسکی گڑھی ٹوٹ گئ تھی۔۔ وہ دکھ سے اپنی گڑھی دیکھ رہا تھا۔جب مشی کی آواز اسکی سماعتوں سے ٹکرائ ۔۔ تو وہ جل بھن نے بولا تو مشی نے منہ بگاڑ کے اسے دیکھا اور کمر سہلاتی کھڑی ہوئ۔۔جب نظر ہیل پہ پڑھی جو ٹوٹ گئ تھی۔۔
مشی نے غم سے اپنے پاوں کو دیکھا اور پھر ضرار کو جو زمین پہ بیٹھا اسکی ٹوٹی ہیل کو دیکھ کے ہنس رہا تھا۔۔ مشی نے پاوں پٹخا اور لنگڑاتی ہوئ واپس اوپر چل پڑھی ۔۔
“اہ واہ میرے مولا تیری شان پہلے لوگ ہکلے تھے پھر اندھے ہوئے اب لنگڑے بھی ہوگئے”۔۔
ضرار آسمان کی طرف دیکھا مصنوعی دکھ سے بولا تو مشی نے ٹوٹی ہیل زور سے اسے ماری اور تن فن کرتی اوپر چلی گئ۔۔ جبکہ اسکی ہیل کیچ کرکے ضرار نے زور دار قہقہہ لگایا۔۔ اور اسکے کمرے میں جاتے ہی دکھ سے اپنی گڑھی دیکھنے لگا تھا۔۔ جسکی سویاں زمین پہ پڑھی تھی😂۔۔
💞💞💞💞💞💞💞💞
منال کو گھر لاتے ہی شزا سٹیج تک لائ تھی۔۔پیچ کلر کے شرارہ میں وہ بہت پیاری لگ رہی تھی۔۔ بیوٹیشن نے بہت مہارت سے اسکو تیار کیا تھا۔۔ شزا بھی ڈیپ ریڈ کلر کے لانگ فراک میں بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔۔ مگر آنکھیں دونوں کی بار بار نم ہو رہی تھی ۔۔ اور دونوں نے بہانہ بنایا تھا کہ کاجل کڑوا تھا😜۔۔ سارہ بھی وہاں آچکی تھی۔۔ اور نیلی بلو کلر کی میکسی میں وہ بھی بہت پیاری لگ رہی تھی۔۔ ایک کونے میں کھڑا حنان دکھ سے منال کو دیکھ رہا تھا۔۔ جو آج بالکل پری لگ رہی تھی۔۔۔
“وٹ ربیش”
خازق کال سنتا صحن میں آیا جہاں سارہ کسی سے ہنس کے بات کرتے مڑی تو خازق کے بازو لگنے سے ہاتھ میں پکڑا کوک کا گلاس چھلک گیا۔ جس کی وجہ سے کچھ کوک اسکے بازو پہ گرا ۔۔تو وہ غصے سے بولی۔۔
سارہ پہ نظر جاتے ہی خازق نے کان سے موبائل ہٹایا تو حیرت سے اس نازک سی لڑکی کو دیکھا جو اسے غصے سے گھور رہی تھی۔۔
“جی مجھے کچھ کہا؟”۔۔
خازق نے انجان بننے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے اپنی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا۔۔
“نہیں یہ آس پاس والوں کو کہا ہے”۔۔
سارہ نے تپ کے کہا تو خازق نے بمشکل ہنسی روکی۔۔
“اوہ اچھا مجھے لگا مجھے کچھ کہا آپ نے”۔۔
دوبارا موبائل پہ ٹائپنگ کرتے خازق نے مصروف سے انداز میں کہا تو سارہ پاوں پٹخ کے اندھر چلی گئ۔۔ اسکے مڑتے ہی خازق نے مسکرا کے دیکھا۔۔
“پاگل”۔۔
لب دانتوں میں دبا کے کہتا وہ آگے بڑھ گیا۔۔
💞💞💞💞💞💞💞💞
“لا لالالا لا ۔۔ لا لالالا لا لا”۔
آخری بات شیشے میں اپنا مکمل جائزہ لینے کے بعد عیشی نے ہیل پہنی اور ایک بازو پہ دوپٹہ ڈالتے ہوا میں لہراتے وہ جھو متی ہوئ باہر آئ ۔۔
ادھر ادھر دیکھتے اسکا دھیان سیڑھیوں پہ گیا اور وہ خیالوں میں کھوئ ہوئ نیچے اترنے لگی۔۔
“ہائے کتنا مزہ آئے میں سیڑھیوں سے گرنے لگوں ۔۔تو اچانک کوئ مجھے بازووں سے تھام لے۔۔ ڈر سے میری انکھیں بند ہوجائیں۔۔ جب لرزتی پلکیں آہستہ سے کھولوں تو سامنے ایک خوبصورت سا ہیرو کھڑا ہو۔۔ جسے دیکھتے ہی میرے دل کی دھڑکن بڑھ جائے اور ساتھ ہی لائٹ بند ہو جائے ایک لائٹ ہال میں ہم دونوں پہ ہو اور بیک گراونڈ میں ہلکے میوزک کی سرے سنائ دینے لگیں”۔۔
عیشی سوچ کے مسکراتے ہوئے مٹک مٹک کے سیڑھیاں اترنے لگی۔۔ اور ساتھ ہی آنکھیں بند کرلی تو اچانک پاوں مڑ گیا اور جیسے ہی وہ گرنے لگی تو کسی نے اسے تھام لیا۔۔ عیشی کو اپنا خیال سچ ہوتا دیکھائ دیا اور دل کی دھڑکن بڑھنے لگی۔۔اسنے مسکراتے ہوئے آنکھیں کھولی 😁۔۔
“بیٹا ٹھیک ہو آپ؟ “۔۔
سامنے زری اسے تھامے کھڑی تھی😂۔۔ عیشی کے سارے خواب چھناک کرکے ٹوٹ گئے اور سنبھل کے کھڑے ہوتے ہی اسنے زبردستی مسکرا کے سر ہاں میں ہلایا۔۔
“واہ رے عیشی ہم جیسوں کے لیئے کوئ ہیرو نہیں آ سکتا۔۔ اول تو ہم سیڑھیوں سے جھوم کے کسی فولادی سینے والے ہیرو سے بجنے کی بجائے ڈائرکٹ ٹوٹے پھل کی طرح زمین پہ دپھ کی آواز سے گرتی ہیں۔۔اور پورا جسم کانچ کے گلاس کے زمین پہ گرنے کے بعد کرچی کرچی ہوکے بکھرنے کی طرح ہو جاتا ہے۔۔ مگر اگلے ہی لمحے ماما کا جوتا دیکھ کے ریورس گیر لگا ہے ہر ہڈی اپنی جگہ فٹ ہو جاتی ہے۔۔ یا ٹام اینڈ جیری کی طرح روڈ پہ گرنے کے بعد گاڑی گزرنے سے روڈ کے ساتھ چپک جاتے ہیں مگر اگلے لمحے کھڑے ہوکے دو چار بار ناگن ڈانس کرکے جڑ جاتا ہے۔۔۔ اور دوئم کوئ خیر خواہ چاچی مامی تائ بچا لیتی ہے”۔۔
دل ہی دل میں خود کو کوستے برے برے منہ بناتی وہ باہر آئ جہاں نازلی اور مشی گجرے پکڑے اسکا انتظار کر رہی تھی۔۔
اسکو گجرے پکڑاتے ہی وہ تینوں اگھٹی فنکشن کے لیئے سجائے لان میں داخل ہوئ۔۔
“با ادب با ملاحظہ ۔۔ہوشیار ررررر تین عدد بونیاں محفل میں داخل ہو چکی ہیںںںں”۔۔
ضرار جو منو سے کوئ بات کرکے سٹیج سے اتر رہا تھا۔۔ عیشی مشی اور نازلی کو آتا دیکھ کے زور سے بولا۔۔تو سب ہنسنے لگے۔۔ پاس آتے ہی عیشی نے ٹیبل پہ پڑھا چمچ اٹھا کے اسکے بازو پہ مارا۔۔ وہ بچارا ہائئئئئ کرکے رہ گیا۔۔۔
💞💞💞💞💞💞💞💞
“حنان بیٹا یہاں آو سٹیج پہ”۔۔
سب کے آنے کے بعد احرار صاحب نے حنان سے کہا تو وہ حیرت سے سبکو دیکھنے لگا۔۔ ہمدان اسے دیکھ کے مسلسل مسکرا رہا تھا۔۔
“ارے بھئ بیٹھ جاو”۔۔
حنان سٹیج پہ گیا تو احرار صاحب نے اسکو منو کے پاس بیٹھنے کا کہا ۔۔وہ حیرت سے دیکھنے لگا تو احرار صاحب نے اسکے کندھے پہ دباو ڈال کے بٹھاتے ہوئے کہا۔۔ بڑھے سب مسکرا رہے تھے جبکہ بچے سب بت بنے کاروائ دیکھ رہے تھے۔۔ سوائے ہمدان کے۔۔
“جی تو سب متوجہ ہو۔۔ اصل میں آج میں اپنی پوتی منال شاہ کی منگنی اپنے پوتے حنان شاہ سے کرا رہا ہوں۔۔ یہ تمام بچوں کے لیئے سرپرائز تھا۔۔ اور یہ آئیڈیا میرے بڑھے پوتے ہمدان شاہ نے دیا۔۔تو ہم سب بڑھے اس سے راضی نہیں تھے کہ بچے کہی فیصلہ رد نا کردیں۔۔تو اسنے کہا کہ آپ بنا بتائے منگنی کا اعلان کردیں اگر کسی کو اعتراض ہوا تو وہ بتا دے گا۔۔ پھر بھلے آپ مت کریئے گا منگنی۔۔ ہم سبکو اسکا آئیڈیا پسند آیا کہ چلو اسی بہانے گھر میں کچھ رونق بھی لگ جائے گی۔۔ اور مجھے بہت فخر ہے اپنے بچوں پر کہ جب میں نے بنا بتائے اعلان کیا تو بچوں نے بغیر اعتراض کیئے فیصلہ مان لیا۔۔ یہ تک نا پوچھا کہ کس کے ساتھ میں منگنی کر رہا ہوں۔۔ میرے بچوں کے اس احترام نے مجھے بہت خوش کیا۔۔ اور آج حنان اور منال کی منگنی کر رہا ہوں امید ہے اب یہ رشتہ خوشیوں بھرا ہوگا”
احرار صاحب مسکرا کے اعلان کر رہے تھے۔۔ بڑھے سب بھی مسکرا رہے تھے۔۔
جبکہ امان حنان عیشی مشی ضرار سب محبت بھری نظروں سے ہمدان کو دیکھ رہے تھے جس نے سب کی لاج رکھ لی تھی اور بنا کسی کا دل توڑے یا شرمندہ کیئے سارا معاملہ سنبھال لیا تھا۔۔ شزا حیرت سے عیشی کو دیکھ رہی تھی جو ذنبیل سے منو کی منگنی کا بول رہی تھی۔۔ جبکہ عیشی اپنی زبان درازی کا سوچ کے پہلو بدل رہی تھی۔۔۔
احرار صاحب کے کہنے پہ حنان اور منال ہوش میں آئے اور ہچکچاتے ہوئے ایک دوسرے کو انگوٹھی پہنائ تو تمام لڑکوں نے ہوٹنگ کی۔۔
“تم نے حنان کو نہیں بتایا کہ منو نارمل نہیں ہے”۔۔
عیشی کے پاس آتے ہی ذنبیل نے حیران ہونے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے پوچھا تو عیشی نے زبان دانتوں تلے دبا کے گلہ تر کیا ۔۔
“کس نے کہا آپکو یہ میں تو نہیں جانتی اس بارے میں کچھ”۔۔
عیشی نے ذنبیل کی آنکھوں میں دیکھتے کمال مہارت سے انجان بننے کی ایکٹنگ کی تو ذنبیل آئ برو اچکا کے اسے دیکھتے سر ہلانے لگا۔۔
تو عیشی دانت دکھاتی فورأ وہاں سے نو دو گیارہ ہوئ۔۔ تو ذنبیل کو اسکی ساری چال سمجھ آئ ۔۔
“کیوٹ “۔۔
ذنبیل عیشی کی ساری چلاکی سمجھ کے بولا اور مسکرانے لگا۔۔۔


“اہممم تم اب بھی کہو گی کہ میں سبکو رولاتا ہوں”۔۔
عیشی جیسے ہی ذنبیل سے بچ کے ایک سائیڈ پہ آئ تو ہمدان اسکے پاس آتے بولا۔۔ عیشی ایک دم اچھلی اور خود کو جذباتی ہوکے بولنے پہ جی بھر کے کوسا ۔۔
“ہاں”۔۔
اسکی آنکھوں میں دیکھتے ایک لفظ بولتے عیشی وہاں سے بھی کھسک گئ تو ہمدان دل سے مسکرانے لگا۔۔
“تھینک یو سوووو مچ برو۔۔یو آر دی بیسٹ برو ان دی ورلڈ”۔۔
ہمدان عیشی کو دیکھ کے مسکرا رہا تھا جب حنان اور امان اسکے پاس آئے اور دونوں اس سے لپٹ کے بولے تو ہمدان مسکرانے لگا۔۔
“اس ایک ہفتے میں آپ نے بہت رلایا بھائ”۔۔
اس سے الگ ہوتے حنان نے منہ بنا کے شکوہ کیا تو ہمدان مسکرانے لگا۔۔
“جتنا تم نے بزدلی کا ثبوت دیا اسکے بدلے اتنی سزا تو بنتی تھی”۔۔
ہمدان اسکے بال بگاڑتا بولا تو حنان دوبارا اسکے گلے لگ گیا۔۔
💞💞💞💞💞💞💞💞
“چلو ٹپے کا مقابلہ کرتیں ہیں آجاو لڑکیوں ہمت ہے تو”۔۔
کھانا کھانے کے بعد مہمان سب چلے گئے۔۔ ایک کونے میں تمام بڑوں نے محفل جما لی۔۔ ہال میں آتے ہی کارپٹ پہ بیٹھتے ضرار بولا تو اسکے پیچھے صوفے پہ ہمدان حنان خازق ذنبیل اور امان بیٹھ گئے۔۔
جبکہ دوسری طرف صوفے پہ سارہ منال اور شزا بیٹھ گئ اور عیشی مشی اور نازلی ضرار کے سامنے کارپٹ پہ بیٹھ گئ
بچوں کو محفل جماتے دیکھ کے تمام خواتین نے بھی انکے پاس آتے نشستیں سنبھال لی۔۔۔
“چلو شروع کرو”۔۔
ضرار نے بڑھے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے لڑکیوں کو دعوت دی اور سب بنا ڈھولکی کے ہی شروع ہوگئے۔۔۔
“چٹے چاولاں دی پچ مایا ۔۔
میں کڑی ریشم جئ تو جنگلاں دا ریچھ مایا۔۔۔”
نازلی بال کان کے پیچھے کرکے گلہ کھنکارتی بولی تو سبکا فلک شگاف قہقہہ بلند ہوا۔۔ امان نے حیران ہوکے اسے دیکھا تو نازلی نے نخرے سے منہ پھیرہ۔۔
“کوئ کرتا سوا چھوڑو۔۔
اے کڑی ریشم جئ کسی ریچھ نال ویا چھوڑو۔۔”۔۔
ضرار کے جواب پہ سب کی ہنسی کا فوارہ پھوٹا جبکہ نازلی نے غصے سے اسے دیکھا۔۔
“بریرہ پکی بات ہے نا یہ تمھاری ہی بیٹی ہے؟”۔۔
پاس سے گزرتے عارب نے شرارت سے کہا تو بریرہ شرمندہ سی مسکرانے لگی کیونکہ نازلی اس سے الٹ تھی۔۔ عارب کی بات پہ ہماہ زری اور رشی نے مسکراہٹ دبائ۔۔
“سپ چڑ گیا ٹوٹی تے۔۔
دل میرا انچ کردا چنڈ مارا تیری بوتھی تے۔”
نازلی ضرار کو آنکھیں دکھا کے بولی تو تمام خواتین نے قہقہہ لگایا۔۔۔
“سپ چڑ گیا ٹوٹی تے۔۔
پہلے جاکے شیشہ ویکھ۔۔ فر چند ماری میری بوتھی تے۔۔”
ضرار اسی کا ٹپہ تڑور مڑوڑ کے بولا تو تمام لڑکے واہ واہ کرکے اسے داد دینے لگے۔۔ جسکو سینے پہ ہاتھ رکھ کے اس نے وصول کیا۔۔
“کوئ کھیت ایچ آلو ہوندے ۔۔
اسی کڑیاں چن ورگیا ۔۔ تے منڈے جیوے بھالو ہوندے۔ “۔۔
تمام لڑکوں کو فخر سے واہ واہ کرتے دیکھ کے عیشی میدان میں کودی اب ہنسنے کی باری لڑکیوں کی تھی۔۔
“کوئ کھیت نے آڑو دے۔۔
اسی منڈے چن ورگے۔۔ تے کڑیاں جیوے تنکے جھاڑو دے۔۔۔”
دوسری طرف سے جواب آیا تو تمام لڑکوں نے قہقہہ لگایا اور ضرار انکو زبان دیکھانے لگا۔۔۔
“کوئ تھیلا چھلیاں دا۔۔
شکل تیری اینج ورگی جیوے ککڑ مسلیاں دا”۔۔
اب مشی بولی تو لڑکیوں نے ساتھ لڑکوں کا بھی قہقہہ بلند ہوا جبکہ ضرار نے منہ بنایا۔۔۔
“کوئ چٹی وےقمیض ہوندی ۔۔
تیری شکل انج ورگی جیوے ٹی بی دی مریض ہوندی”۔۔
ضرار کے جواب پہ سب نے دوبارا قہقہہ لگایا جبکہ خواتین سر پکڑ کے بیٹھ گئ۔۔ کہ کوئ بھی جگہ ہو انہوں نے لڑنا نہیں چھوڑنا۔۔۔
“اچھا بس کرو بہت ہوگیا شغل چلو جاکے سب سو جاو رات بہت ہو رہی ہے۔۔”
اس سے پہلے کہ مشی کوئ جواب دیتی ریا نے روک دیا اور سب کو اٹھنے کا کہا۔۔
( انکو اب گوگل مت کرنے لگ جانا یہ تمام بونگیاں معصوم رائٹر کی اپنی ہیں🙈۔۔ مجھے سونگ اور یہ سب نہیں پسند اور یہ بنا میوزک کے جسٹ پڑھنے کی حد تک ہے )۔۔
“ہمارے ساتھ پنگا بالکل بھی نہیں چنگا۔۔ بی کاز وی آر براون منڈے”۔۔
سب کے اٹھتے ہی ضرار عیشی مشی اور نازلی کے پاس آتے ہی کالر جھاڑ کے بولا۔۔
“کان ایسے جیسے کڑائ کے کنڈے۔۔
اور خود کو کہتے ہیں براون منڈے”۔۔
مشی نے آنکھیں پھیرتے طنزیہ کہا تو پاس سے گزرتے امان اور حنان نے زور دار قہقہہ لگایا۔۔
“ڈبے میں ڈبہ ۔۔ڈبے میں فیلڈر۔۔
تم سب جنگلی اور یہ تمھاری لیڈر “۔۔
ضرار تینوں کی طرف دیکھتے اور آخر میں مشی کی طرف اشارہ کرتے بولا تو ۔۔مشی نے ہاتھ میں پکڑا آدھ کھایا لڈو اسکے منہ پہ مارا۔۔
“ضڑاڑ کے بچے مڑو تم خوڈ ہوگے جنگلی۔پلش باندڑ “۔۔
منہ میں لڈو لیئے مشی چینخ کے بولی تو ضرار کے ساتھ ساتھ عیشی اور نازلی کا بھی قہقہہ بلند ہوا۔۔۔ اور وہ سب کو گھورتی کمرے میں چلی گئ۔۔
💞💞💞💞💞💞💞💞
جاری ہے۔۔۔