393.4K
34

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Ek Hai Aafat) Episode 15

“بس کردو اب دونوں اور ضرار چلو گھوڑے کی سواری کرتے ہیں”۔۔
جب وہ دونوں بھاگ بھاگ کے تھک گئے تو عیشی بولی۔۔ مگر مشی انکے ساتھ جانے کی بجائے اندھر چلی گئ۔۔
“چلو جلدی”۔۔
ضرار نے بھی پرجوش ہوکے کہا پھر دونوں گھر کے دوسرے حصے میں پہنچ گئے ۔۔ گھوڑا دیکھ کے عیشی کی آنکھیں چمک گئ۔۔ اور تب ہی ضرار نے گھوڑا تیار کیا۔۔ تو عیشی خوشی سے اوپر بیٹھنے لگی مگر تب ہی گھوڑے کو یہ گستاخی برداشت نا ہوئ تو اگلی دونوں ٹانگے اٹھا کے اچھلا ۔۔تو عیشی نے زبردست کا زمین پہ لینڈ کیا۔۔ اسکو الٹا گرتے دیکھ کے ضرار زور سے ہنسا تو عیشی دانت پیستی کھڑی ہوئ۔۔ پھر ہاتھ اور کپڑے جھاڑے۔
“تم سے نہیں ہوگا گھوڑے کو اپنی توہین برداشت نہیں کہ اتنے اچھے عظیم گھوڑے پہ باندری سفر کرے ہاہاہاہاہاہا “۔۔
ضرار نے ہنستے ہوئے کہا تو عیشی نے دانت پیسے اور دل میں ہی اسے سبق سیکھانے کا سوچا۔۔۔
“خود ہو دیکھا ہے پہاڑی ریچھ کہی کہ”۔۔
عیشی کمر پہ ہاتھ رکھ کے غصے سے بولی تو ضرار نے اسکو چڑانے کے لیئے پھر قہقہہ لگایا۔۔
“دیکھو میں تمھیں بتاتا ہوں کیسے ہوتی ہے سواری “۔۔
ضرار کے گردن اکڑا کے کہا پھر لگامے پکڑ کے اوپر چڑنے لگا۔۔ ابھی اسنے ایک طرف پاوں رکھا تھا۔تو عیشی نے پاس پڑا ڈنڈا زور سے گھوڑے کو مارا جس کے نتیجے میں وہ بھاگنے لگا۔تو ضرار ایک طرف لٹک گیا۔۔ اب ضرار کی چینخے پورے حصے میں گھونجنے لگی۔۔ عیشی ضرار کو واسطے دیتے دیکھ کے ہنس ہنس کے لوٹ پوٹ ہو رہی تھی۔۔
تب ہی ہمدان دروازہ کھول کے داخل ہوا تو گھوڑے نے کھلا دروازہ دیکھ کے باہر کی طرف دوڑ لگائ تو ضرار کی چینخے مزید بلند ہوئ۔۔اسکے دونوں ہاتھ ہوا میں بلند ہوگئے۔۔ اور کٹی پتنگ کی طرح ساتھ لٹک رہا تھا۔۔ جبکہ گھوڑا سرپٹ بھاگ رہا تھا۔۔ ہمدان نے یہ حال دیکھا تو فورأ گھوڑے کو روکنے کی کوشش کی مگر تب تک گھوڑا دور جا چکا تھا۔۔
“دانی بھائ بائیک پہ جائیں نا”۔۔
اب تو عیشی کو بھی حقیقی معنی میں پریشانی ہوئ۔۔ تب ہی ہمدان ویسے ہی گھوڑے کے پیچھے بھاگا تو عیشی چینخ کے بولی ۔۔ عیشی کی بات سنتے ہی وہ گھر کی طرف بھاگا۔۔ اور بائیک پہ گھوڑے کے پیچھے گیا۔۔
“او اللہ رسول کا واسطہ اسکو کوئ تو روک دو۔۔ اللہ تمھارے بچوں کو زندگی دے گا۔۔ کوئ تو سنو”۔۔
ضرار مسلسل التجائیں کر رہا تھا اور تمام لوگ اسے حیرانی سے دیکھ رہے تھے۔۔ مگر کسی نے گھوڑے کو روکنے کی کوشش نہیں کی کیونکہ وہ سامنے آنے والی ہر چیز کو کچل رہا تھا۔۔
“میری موت مجھے قریب نظر آ رہی ہے ہائےےے اللہ جی میں ایسے نہیں مرنا چاہتا پلیز ابھی تو میری شادی بھی نہیں ہوئ”۔۔
ضرار آسمان کی طرف دیکھ کے بولا تو پاس کچھ لوگوں نے دنیا کے اس آٹھویں عجوبے کو دیکھا جسے موت میں بھی شادی کی فکر کھائ جا رہی تھی۔۔
“ہائے اللہ پاک جی جو چھوٹے چھوٹے بچے میرے خواب میں آتے ہیں انکا کیا بنے گا۔۔ ہائےےے وہ بچارے کس کے خواب میں آئے گے”
ضرار دوبارہ بولا تب ہی ہمدان فل سپیڈ بائیک میں اسکے پاس پہنچا۔۔ اسکے ساتھ عیشی بھی تھی جس نے ہمدان کو کس کے پکڑا ہوا تھا کیونکہ بائیک فل سپیڈ میں تھا۔۔
“میں مرنے سے پہلے ساری چیزوں کی معافی مانگنا چاہتا ہوں اس میں سب سے پہلے میں تم سے معافی مانگنا چاہتا ہوں۔۔ بچپن میں جو تمھارا پسندیدہ چوزا گم ہوا تھا وہ میں نے گم کیا تھا۔۔ اور تمھاری چاکلیٹس بھی میں اور مشی چوری کرکے کھاتے تھے۔۔ اور جو تمھاری پسندیدہ شرٹ گم ہوئ تھی وہ بھی۔۔ اس سے چوہا پکڑتے ہوئے میں نے ہی باہر پھینکی تھی۔”
ضرار لٹکتے ہوئے ہی اپنے گناہوں کا اعتراف کر رہا تھا۔۔ جب عیشی اسکے انکشافات سن کے غصے سے لال پیلی ہو رہی تھی۔۔ تب ہی ہمدان بائیک ساتھ ساتھ لاتے گھوڑے کو پکڑ کے روکنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔
“ضرار کے بچے شک تو مجھے تم پہ ہی تھا مگر آج یقین ہوگیا۔۔ اب دعا کرو تمھاری موت اسی گھوڑے پہ آجائے اگر تم اس سے بچ گئے تو اپنے ہاتھوں سے مار دوں گی تمھیں”۔۔
عیشی ہمدان کا کندھا پکڑ کے پیچھے کھڑی ہوگئ۔۔ اور جب بائیک گھوڑے کے پاس پہنچتی عیشی آگے ہوکے ضرار کے بال پکڑ کے چینخ کے بولی ۔۔ تب ہی بائیک پہ ہمدان کی گرفت چھوٹ گئ۔۔ اور ضرار کے بال پکڑے ہی وہ تینوں کلابازیاں کھاتے گھاس پہ گرے جبکہ بائیک اور گھوڑادونوں آگے نکل گئے۔۔ بائیک کچھ دور جاکے گر گئ۔۔ جبکہ گھوڑا بھی رک گیا۔۔ اور وہ تینوں نرم گھاس پہ پڑھے ہائےہائے کر رہے تھے۔۔
شدید تکلیف کے باوجود بھی عیشی نے ضرار کے بال نہیں چھوڑے جو زور زور سے ہائےہائے کرکے بال چھڑا رہا تھا۔۔ہمدان نے ان دونوں کو لڑتے دیکھا تو اٹھنے کی کوشش کی مگر کمر میں شدید تکلیف کی وجہ سے اٹھ نا سکا۔۔ تو حنان کو کال کی اور اسے وہاں آنے کا کہا۔۔ کچھ دیر بعد حنان اور امان عارب کی گاڑھی لےکے وہاں آئے تینوں کو سہارہ دےکے
گاڑی میں بٹھایا ۔۔تب ہی عازب اور شاہ بھی آگئے جنکا ارادہ تینوں کی خبر لینے کا تھا مگر انکو کراہتے دیکھ کے خاموش ہوگئے۔۔ حنان اور شاہ انکو ہسپتال لے گئے۔۔ اور امان اور عازب بائیک اور گھوڑا واپس گھر لے گئے۔۔
جب وہ ہسپتال پہنچے تو ڈاکٹر نے تینوں کا چیک اپ کیا۔۔ تھوڑی بہت خراشیں آئیں تھی مگر ہڈی نہیں ٹوٹی تھی۔۔
ڈاکٹر نے دوائ دی انجیکشن لگائے مگر عیشی نے یہاں بھی ڈرامہ شروع کر دیا ۔۔ رشی کی طرح اسے بھی انجیکشن سے ڈر لگتا تھا ۔۔
“ڈ ڈاکٹر وہ نا بچپن میں مجھے ایک بیماری ہوگئ تھی تب میں نے علاج کرایا اور انجیکشن لگایا جو بہت خراب ہوگیا۔۔ مرتے مرتے بچی ہوں۔۔ تب پاپا نے اس ڈاکٹر کو پولیس کے حوالے کر دیا تھا اور میرے ٹیسٹ کروائے جس میں آیا کہ کبھی بھی مجھے دوبارا انجیکشن لگا تو پھر ایسے ہی ہوجائے گا۔۔ آپکو اس لیئے بتا رہی ہوں کیونکہ آپ مجھے شکل سے غریب لگ رہے ہیں کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپ جیل جائیں۔۔ میرے گھر والے تو انجیکشن لگوائیں گے کیونکہ روڈ پہ گری ہوں۔۔ جبکہ کچھ بھی ہوا تو سزا آپکو ملے گی”۔۔
جب شاہ حنان ہمدان اور ضرار کی بازووں پہ پٹی کرا رہے تھے۔۔ تب ایک نرس انجیکشن لے کے عیشی کے پاس آئ تو عیشی نے معصوم شکل بنا کے سرگوشی کی۔۔ نرس نے اسے غور سے دیکھا تو اسے یہ سب سچ لگا۔۔ اور اس ہسپتال میں پہلے بھی ایک ایسا کیس ہو چکا تھا جس میں ڈاکٹر کو جیل جانا پڑا۔۔ جس کی وجہ سے وہ مزید ڈری اور عیشی سے پوچھا اب کیا کرے۔۔ تب ہی عیشی نے آس پاس دیکھ کے سب سے نظریں بچا کے نرس کو اشارہ کیا کہ انجیکشن ڈسٹ بن میں پھینک دو😂۔۔ نرس نے ایسا ہی کیا اور ڈاکٹر کو کہا کہ لگا دیا ہے۔۔ سب نے حیرانی سے عیشی کو دیکھا کہ وہ اور خاموشی سے انجیکشن لگوا لے نا ممکن۔۔ مگر عیشی کی شکل دیکھ کے اندازہ لگایا شاید تکلیف زیادہ ہے اس لیئے نہیں بولی۔۔ پھر ڈاکٹر نے تینوں کو دوائیاں دی اور کچھ دن آرام کرنے کا کہا۔۔ فیس دیتے ہی حنان اور شاہ ان تینوں کو گھر لے آئے جہاں سب انکا ویٹ کر رہے تھے۔۔۔
💗💗💗💗💗💗💗
“عیشی بہت برا ہوا ہے منو آپی خط کا جواب لکھے گی”
جب تینوں گھر آئے تو تینو کو انکے کمروں میں پہنچا دیا گیا۔۔ رات کھانے کے بعد عیشی لیٹی تھی جب مشی نے پریشانی سے بتایا تو عیشی کی پوری آنکھیں کھل گئ۔۔ ساتھ ہی کمرے میں آتا امان بھی مشی کی بات سن کے رک گیا۔۔ اور دروازے پہ کھڑا ہوگیا تاکہ اپنی بہنوں کا کارنامہ جان سکے ۔
“تمھیں کس نے کہا؟”
عیشی نے پریشانی سے پوچھا ۔۔
“آج منو آپی شزا آپی سے کال پہ بات کر رہی تھی تب میں نے سنا ۔۔ شزا آپی نے ہی انہیں فورس کیا کہ جواب دو”۔۔
مشی نے انگلیاں مڑوڑتے ہوئے کہا ۔۔
“یہ کونسے خط کی بات ہو رہی ہے؟”۔۔
مشی کی بات سن کے عیشی سوچنے لگی۔۔ اس سے پہلے کہ وہ اگلا پلان بتاتی امان اندھر آتا ہوا بولا تو دونوں نے گھبرا کے اسے دیکھا۔۔
“کچھ نہیں بھائ “۔۔
عیشی خود کو نارمل کرتی بولی۔۔
“سچ سچ بتاو کیا کیا ہے تم دونوں نے؟”۔۔
امان نے سخت گھوری سے نوازتے ہوئے کہا۔۔
“مان بھائ وہ”۔۔
عیشی نے مشی کو چپ رہنے کا اشارہ کیا مگر وہ نظرانداز کرتی سب بتانے لگی تو عیشی نے دانت پیسے اور آہستہ سے امان کی طرف دیکھا جس کے غصے کے اتار چڑاو بتا رہے تھے کہ خیر نہیں اب
“بھائ ہم نہیں چاہتے تھے کہ دونوں کے ساتھ غلط ہو اس لیئے یہ کیا”۔۔
مشی کی بات ختم ہوئ تو امان خاموشی سے دونوں کو گھور رہا تھا ۔۔جب عیشی منمناتے ہوئے بولی۔۔۔
“تم دونوں کب بڑھی ہوگی معلوم بھی ہے کیا کر آئ ہو افف ۔۔ عیشی مشی کیا کھاتی ہو دونوں ایک پل سکون نہیں ہے اور نا دوسروں کو لینے دیتی ہو”۔۔
امان سخت غصے میں بولا۔۔
“سوری بھائ”۔۔
دونوں نے سر جھکائے ہوئے کہا تو امان نے دونوں کو باری باری دیکھا۔۔ پھر کمرے میں چکر کاٹنے لگا۔۔
“اب تم دونوں کچھ نہیں کرو گی میں خود دیکھ لوں گا اس معا ملے کو خبر دار جو اب کچھ کیا تو۔۔وعدہ کرو مجھ سے “۔۔
امان نے دونوں کو وارن کیا تو دونوں مان گئ۔۔ انکو گڈنائٹ کہتا وہ باہر نکلا اب جو کرنا تھا اسے ہی کرنا تھا۔۔۔
💗💗💗💗💗💗💗
صبح صبح مشی بھی ضد پہ اڑی تھی کہ عیشی کالج نہیں جائے گی تو میں بھی نہیں جاوں گی۔۔ تب ہی امان کمرے میں آیا جہاں مشی کو رشی ڈانٹ رہی تھی۔۔
“مشی جلدی تیار ہوجاو میں چھوڑ دیتا ہوں “۔۔
امان نے سنجیدگی سے کہا تو مشی منہ بناتی تیار ہونے لگی تو رشی نے سکون کا سانس لیا اور کھانا بنانے چلی گئ۔۔ امان بھی موبائل پہ کچھ ٹائپ کرتا باہر نکل گیا۔۔ اور عیشی کو بول گیا کہ مشی کو جلدی باہر بھینجنا۔۔عیشی بیڈ کراون سے ٹیک لگا کے بیٹھے سب کو دیکھ رہی تھی انجیکشن نا لگوانے کی وجہ سے اب اسکا جسم دکھ رہا تھا۔۔
“کیسی طبیعت ہے اب عیشی؟ “۔۔
ہمدان کمرے میں آتا بولا تو عیشی نے حیرانی سے اسے دیکھا جسکا اکسیڈنٹ ساتھ ہی ہوا تھا اور وہ یو گھوم رہا تھا۔۔
“میں ٹھیک دانی بھائ آپ کیسے
ہیں اور آرام کیوں نہیں کیا؟”۔۔
“میری طبیعت اب ٹھیک ہے مگر رشی آنی بتا رہی تھی تمھیں درد ہے”۔۔
ہمدان نے پوچھا تو عیشی نے معصوم شکل بنا کے سر ہاں میں ہلایا۔۔
“اور نا لگواو انجیکشن”۔۔
ہمدان نے اسکی آنکھوں میں دیکھ کے کہا تو عیشی کو جھٹکا لگا یعنی وہ جانتا تھا۔۔
عیشی نے منت بھرے لہجے میں اسکو چپ رہنے کا کہا پھر واشروم کے بند دروازے کو دیکھا کہ مشی نا سن لے۔۔ پھر کچھ باتوں کے بعد ہمدان نے اسے شام میں ریڈی رہنے کا کہا تاکہ دوبارا چیک اپ کرا سکے اور کمرے سے نکل گیا۔۔۔
💗💗💗💗💗💗💗
“بھائ اندھر چھوڑ کے آئے آپ نے وعدہ کیا تھا”
امان جب بائیک پہ مشی کو لے کے کالج کے باہر پہنچا تو مشی نے ضدی لہجے میں کہا۔۔ امان بھی بائیک اندھر لے گیا اور اسے کلرک روم کے پاس اتارا۔۔
بائیک واپس موڑتے ہی کانچ کے ٹکڑے پہ ٹائر آنے کی وجہ سے ٹائر سے ہوا نکل گئ تو امان نے غصے سے بائیک کی ٹینکی پہ ہاتھ مارا اور ادھر ادھر مدد طلب نظروں سے دیکھا جب تھوڑا دور اسے ایک لڑکی سکوٹی پہ آتی نظر آئ۔۔ امان بائیک سے اتر کر بائیک ساتھ لیئے اسکی جانب بڑھا جو اب اپنی سکوٹی پارکنگ ایریا میں کھڑی کرکے ہیلمٹ اتار رہی تھی۔۔
“ایکسکیوز می “۔۔
اسکی امان کی طرف کمر تھی جب امان نے پیچھے سے بلایا۔۔ مگر جیسے ہی وہ پلٹی دونوں کو جھٹکا لگا۔۔
“تم۔۔تم میرا پیچھا کر رہے تھے”
نازلی نے سامنے امان کو دیکھا تو غصے سے بولی ۔۔
“او میڈم جاکے شیشہ دیکھو آئ بڑھی شہزادی جو کوئ پیچھا کرے گا”۔۔
امان اپنا مسلہ بھول کے اس سے لڑنے لگا۔۔
“تم سے بہتر ہی ہے”۔۔
نازلی نے بھی اسی کے انداز میں جواب دیا تو اچانک نظر امان کے بائیک کے ٹائر پہ پڑھی ۔۔ تو واپس مڑ کے اس نے سکوٹی کی سیٹ کے نیچے سے چھوٹا سا پمپ نکال کے امان کی طرف بڑھایا۔۔
پہلے امان نے اسے دیکھا مگر پھر وقتی طور پہ اسی سے کام چلانے کے لیئے پمپ لے کے ٹائر میں ہوا بھرنے لگا۔۔تو نازلی اسے دیکھنے لگی ۔۔ خوبصورت گندمی رنگت ۔۔براون بال۔۔ہلکی ہلکی داڑھی بلاشبہ اور خوبصورت تھا۔۔۔
نازلی مسکرانے لگی۔۔کیونکہ پمپ اتنا چھوٹا تھا کہ امان کو مشکل ہو رہی تھی۔۔
“ویسے شکل تو اچھی خاصی ہے بس زبان سے لگتا ہے بچپن میں کسی نے توے پہ بٹھا دیا تھا”۔۔
نازلی پلر کے ساتھ ٹیک لگا کے بولی
“یہ جو تم بےعزتی والی عزت کر رہی ہو نا سب سمجھتا ہوں میں لائن نا مارو مجھ پہ “۔۔
وہ جو پہلے ہی تپاہوا تھا نازلی کی بات سن کے مزید تپ گیا اور سیدھا کھڑا ہوکے بولا۔۔
“ہاہاہاہاہاہا ماں صدقے کتنی خوش فیہمی ہے کہ کوئ تم جیسے چقندر پہ بھی لائن مارے گا۔۔ جہاں تک میری سوچ جاتی ہے تم کو تو لوگ بس ایک ہی چیز مار سکتے ہیں اور اسے میری زبان میں دھکا کہتے ہیں”۔۔
زوردار قہقہہ لگاتے نازلی طنزیہ بولی اور ساتھ ہی امان کے ہاتھ سے پمپ چھین لیا۔۔
“تم نا انتہائ درجے کی بتمیز لڑکی ہو جسے بات کرنے کی بھی بتمیز نہیں ہے اکیس توپوں کی سلامی تمھارے گھر والوں کو جو تمھیں برداشت کر رہے ہیں”۔۔
اسکے اس طرح پمپ چھیننے پہ امان نے گھور کے دیکھا اور غصے سے بولا ۔۔
“ہاں تم تو جیسے بڑھے تمیز دار ہو ابھی ابھی تبلیغ والوں کے ساتھ سے واپس آئے ہو ہر وقت تسبیح پڑھتے رہتے ہو۔۔ فرض کے علاوہ نوافل ادا کرتے ہوں۔۔ اور سال میں تین تین بار عمرہ کرتے ہو ہیں نا”۔۔
پمپ سکوٹی کی سیٹ کے نیچے رکھتی نازلی بھی اسی کے انداز میں بولی۔۔
“یہ اتنی کنچی کی طرح زبان چلتی ہے تمھاری ۔۔ تمھارے گھر والوں نے یہ نہیں سکھایا کہ ایسی لڑکیاں گھر نہیں بسا سکتی۔۔ ساس دوسرے دن گھر سے نکال دے گی۔۔”
امان ایک ہاتھ نچا کے بولا تو سیٹ لاک کرتے نازلی کے ہاتھ رکےاور دونوں ہاتھ کمر پہ رکھ کے وہ امان کی طرف مڑی۔۔
“تمھیں بڑھا پتا ہے ساس کب گھر سے نکالے گی۔۔ اور شکر ادا کرو تم عورت نہیں ہو ورنہ میں تمھاری ہی بہو بنتی اور تمھیں دن میں تارے دیکھاتی”۔۔
امان کی طرح نازلی بھی ایک ہاتھ نچا کے بولی تو امان کو مزید غصہ آیا
“لا حولا ولا ۔۔۔ پاگل عورت اور یہ تم تم کیا لگا رکھا ہے آپ نہیں کہنا آتا “
اسکی بات سن کے امان دانت پیس کے بولا۔۔۔
“کیوں تم مسجد کے امام ہو جو تمھیں آپ کہوں “۔
نازلی طنزیہ بولی تو امان نے گھور کے اسے دیکھا۔۔
“میں بھی کیوں اس پاگل سے بحث کر رہا ہوں افففف”
بائیک سٹینڈ سے ہٹاتے امان چڑ کے بولا۔۔
“ہاں ہاں جاو میں کونسا تمھارے پاوں پڑھی ہوں کہ بات کرو”۔۔
اسکو بائیک لے جاتا دیکھ کے نازلی نے ہانک لگائ۔۔
“پاگل عورت”۔۔
تھوڑا آگے جاکے امان نے پیچھے اسکو دیکھتے کہا۔
“تم😏”۔۔
نازلی بھی جھٹ سے بولی
💗💗💗💗💗💗💗
جاری ہے۔۔