Ek Hai Aafat Season 2 By Binte Hawa Readelle50339 (Ek Hai Aafat) Episode 16
Rate this Novel
(Ek Hai Aafat) Episode 16
“عیشی کہاں ہے؟”
“نہیں آئ”۔
“کیوں؟”
“کل گڑ گئ تھی بائیک شے تو چوٹ لگی ڈاکٹڑ نے منع کڑ ڈیا چلنے شے”۔۔
نازلی جب کالج آئ تو مشی لیز کھا رہی تھی سلام کے بعد نازلی نے عیشی کا پوچھا تو لیز کھاتے ہی مشی نے جواب دیا جس سے وہ اٹک گئ۔۔ نازلی پہ آج انکشاف ہوا کہ مشی اٹک جاتی ہے بجائے عیشی کا پوچھنے کے وہ منہ کھولے مشی کی بات سمجھنے کی کوشش کرنے لگی۔۔
“ایشے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کے کیا ڈیکھ ڑہی ہو پہلے کبھی نہیں ڈیکھا کیا”۔۔
مرچوں سے سی سی کرتے مشی نے نازلی کی طرف دیکھا جو بت بنے اسے گھور رہی تھی۔۔ اسکے ہاتھ سے پانی کی بوتل لیتے مشی ڈھکن کھولتے بولی تو نازلی ہوش کی دنیا میں لوٹی۔۔
“تم ہکلی ہو؟”۔۔
“اےے تو ہکلی تیڑا خانڈان ہکلہ تیڑی ڈوشتیں ہکلی ۔۔۔اوییی نہیں بس خانڈان تک بش بہت ہے”۔۔
پانی پیتے جب مشی نے نازلی کی بات سنی تو بوتل بینچ پہ پٹخ کے بولی مگر دوستوں سے یاد آیا دوست تو وہ ہے تو فورأ سیدھی ہوئ😂۔۔
“بریک فری لڑکی “۔۔
ابھی نازلی پہلے جھٹکے سے ہی نہیں نکلی تھی کہ مشی نے اسے خاندان یاد کرا دیا
۔ نازلی نے اسے دیکھ کے سرگوشی کی۔۔
“کچھ کہا؟”۔۔
دوبارہ منہ میں لیز ڈالتے مشی نے اسکی بڑبڑاہٹ سن کے پوچھا تو نازلی نے سر نا میں ہلایا۔۔
“چلو کلاس کا ٹائم ہو گیا ہے”۔۔
مشی کو ندیدوں کی طرح کھاتے دیکھ کے نازلی نے کہا تو سر ہلاتے ہی مشی نے پیکٹ میں بچے لیز ایک بار ہی منہ میں ڈالے اور ہاتھ جھاڑتی کھڑی ہوگئ نازلی نے اس شگوفے کو دیکھا اور افسوس سے سر جھٹکا۔۔
“چلو مطالعہ پاکشٹان کی ٹیچڑ چھوڑے گی نہیں لیٹ ہوئے ٹو”۔۔
مشکل سے منہ ہلاتے مشی نے کہا نازلی بھی بیگ سیٹ کرتی اسکے ساتھ کلاس کی طرف چل پڑھی۔۔۔
💗💗💗💗💗💗
“یہ دیکھو میں کیا لائ ہوں؟”۔۔
کلاس کے دوران سب سے لاسٹ پہ بیٹھی نازلی نے مشی کو سرگوشی کی اور پھر بیگ کھول کے دیکھایا۔۔
“ااااا”۔۔
“شیییی پھٹی سپیکر نقلی ہے منہ بند کرو”۔۔
نازلی نے چپکلی دیکھائ تو مشی نے چینخ ماری تب ہی نازلی اسکے منہ پہ ہاتھ رکھے دانت پیس کے بولی ۔
“مشال شاہ سٹینڈ اپ “۔۔
مطالعہ پاکستان کی ٹیچر نے مشی کی چینخ سنی تو لیکچر چھوڑ کے اسکی طرف متوجہ ہوئ اور اسے کھڑا کیا ۔۔
“جی کیا مسلہ ہے آپکو؟ “
اسکے کھڑے ہوتے ہی ٹیچر نے گھور کے پوچھا تو مشی نے نازلی کو دیکھا ۔اس نے سر نا میں ہلایا تو مشی نے معصوم سی شکل بنا کے ٹیچر کو دیکھا اور پھر سر نفی میں ہلایا جس سے ٹیچر کو مزید غصہ آیا ۔۔
“بتائیں کیا پڑھا رہی تھی میں”۔۔
ٹیچر نے غصے سے پوچھا تو مشی نے نچلا ہونٹ چبایا ۔۔
“میم سبق”
مشی نے معصومیت سے جواب دیا تو پوری کلاس نے قہقہہ لگایا مگر جلد ہی میم کی گھوری پہ سب خاموش ہوگئ۔۔
“سیدھا جواب دیں مشال شاہ “
میم نے ماتھے پہ بل ڈالے اونچی آواز میں کہا تو مشی نے سر ہاں میں ہلایا۔۔
“بتائیں مینار پاکستان کس نے بنایا تھا؟”۔۔
میم کا سوال سن کے مشی گال پہ انگلی رکھ کے سوچنے لگی پھر ایک دم خوشی سے اچھلی۔۔
“آگیا یاد۔۔۔۔ میم مستری اور مزدوروں نے”۔۔
مشی دانت دیکھاتی بولی اور ایک بار پھر سبکا قہقہہ بلند ہوا۔۔
“سٹاپ اٹ نون سینس”۔۔
میم چینخ کے بولی تو سب خاموش ہوگی اور مشی آنکھیں ٹمٹماتے میم کو دیکھنے لگی۔۔ جبکہ نازلی ابھی بھی منہ پہ ہاتھ رکھ کے ہنس رہی تھی۔۔
“مس نازلی سٹینڈ اپ”
میم نے نازلی کو دیکھ کے کہا تو منہ بسورتے آہستہ سے وہ بھی کھڑی ہوگئ۔۔
“آپ بتائیں مجھے کریٹون کیوں زمین پہ آیا تھا؟”۔۔
نازلی کے تو وہم و گماں میں بھی نہیں تھی یہ بات۔۔
“میم یہ کریٹون ہوتا کیا ہے؟”۔۔
نازلی نے بھی معصوم شکل بنا کے سوال کے بدلے سوال کیا تو میم نے سر پکڑ لیا جبکہ اب کی بار سب ہنس ہنس کے لوٹ پوٹ ہوگئ ۔
“بےوقوف کریٹون ہوتا نہیں وہ تھا۔۔ مریخ کا باشندہ تھا وہ”۔۔
میم نے بتایا تو نازلی نے ہونٹ او کی شکل میں گول کرکے سر سمجھنے والے انداز میں ہلایا۔۔
“میم وہاں رہ رہ کے تھک گیا ہوگا تب آیا ہوگا اب دیکھے نا زمین کے فارغ لوگ بھی تھک جاتے ہیں تو مریخ پہ چلے جاتے ہیں حالانکہ زمین پہ بھی پیاری پیاری جگہیں ہیں۔۔ اور آپ میری بات مان لے یہ مریخ والوں کو زمین پہ آنے کا آئیڈیا انھوں نے ہی دیا ہوگا اب دیکھیں نا جہاں بھی جاتے ہیں میزبانوں کو دعوت دیتے ہیں ۔۔۔ کہ آپ بھی آئیں نا کبھی ہمارے گھر”۔۔
نازلی ایک ہاتھ کمر پہ رکھ کے سمجھانے والے انداز میں بولی تو دوبارا سبکا قہقہہ بلند ہوا۔۔ جبکہ میم کی یہی بس ہوگئ۔۔
“سٹاپ اٹ ۔۔ جنگل میں گزار کے آئیں ہیں آپ لوگ دس سال خبر دار جو اب کچھ بھی الٹا سیدھا بولا تو پیچھے چلے جاو دونوں اور ہاتھ اوپر کرکے کھڑے ہوجاو ۔۔ پورا پیریڈ ایسے ہی کھڑے رہو گے تو سب سمجھ آجائے گا کتنے بیس کا سو ہوتا ہے”۔۔۔
میم غصے سے بولی تو دونوں نے سزا کا
سن کے آنکھیں پھاڑی۔۔
“میم پانچ”۔۔
مشی فٹ سے بولی تو میم نے نا سمجھی سے اسے دیکھا۔۔
“کیا پانچ؟”۔۔
میم نے پوچھا۔۔
“میم پانچ بیس کا سو ہوتا ہے😁”۔۔
مشی دانت دکھا کے بولی تو میم نے دانت پیسے اور بنا کوئ جواب دیئے ہاتھ سے پیچھے جانے کا اشارہ کیا ۔۔ منہ بناتے دونوں لاسٹ میں گئ اور دونوں ہاتھ اوپر کرکے کھڑی ہوگئ۔۔ میم نے ایک نظر انکو دیکھا اور دوبارا لیکچر دینے لگی۔۔ جبکہ یہ دونوں میم کو کوستی ۔۔ بدلہ لینے کے لیئے پلان بنانے لگی۔۔ اچانک نازلی کی آنکھیں چمکی اور اس نے ایک پلان مشی کو بتایا۔۔ تو مشی انکار نا کر سکی کہ نازلی کا اور عیشی کا دماغ شیطان سے بھی دو ہاتھ آگے ہے۔۔۔
“میم سوری”۔۔
کلاس ختم ہوتے ہی جب سب لڑکیاں کلاس سے نکل گئ تو نازلی اور مشی میم کے پاس پہنچی اور سوری کیا مگر میم نے سوری اکسیپٹ نا کی۔۔
“میم ہم آئیندہ یاد کرکے آیا کریں گی پکا “۔۔
نازلی کے اشارے پہ مشی فورأ بولی تب ہی پیپرز اگھٹے کرتے میم کے ہاتھ دو سیکنڈ کے لیئے رکے اور میم نے سر اٹھا کے دونوں کو طنزیہ نظروں سے دیکھا جیسے کہہ رہی ہو واقع۔۔ تب ہی نازلی نے پلان پر کام کیا اور ہاتھ میں پکڑی چھپکلی میم کے بیگ میں ڈال دی جو سائیڈ پہ کرسی کے ساتھ لگا تھا مگر زپ کھلی تھی۔۔
“تم دونوں اگلے دو دن میرے آنے سے پہلے ہی لاسٹ پہ جاکے ہاتھ اوپر کرکے کھڑی ہوجایا کرو گی ۔۔ اوکے”۔۔
انگلی اٹھا کے دونوں کو وارن کرتے میم نے کہا اور پیپرز اٹھا کے ایک ہاتھ سے بیگ کی سٹرپ اتاری اور ویسے ہی بازو میں ڈالے باہر نکل گئ تب ہی نازلی نے دونوں ہاتھ ہوا میں اٹھائے یس کیا اور مشی کو تالی بجائ جو باتوں باتوں میں میم کا فون اٹھا کے ڈائز کے ساتھ نیچے کر چکی تھی۔۔ پھر دونوں نے اپنے اپنے بیگز اٹھائے اور رینک سے جھک کے میم کو دیکھا جو سیڑھیاں اتر رہی تھی۔۔ پھر دونوں نے میم کے پیچھے دوڑ لگا دی۔۔
“میم۔ ۔۔۔ میم۔۔۔۔ رکے پلیزززز۔۔ یہ آپکا فون کلاس میں رہ گیا تھا”۔۔
جیسے ہی میم گراؤنڈ میں پہنچی جہاں بریک ٹائم ہونے کی وجہ سے کافی رش تھا۔۔ مشی بھاگتی ہوئ آوازیں دیتی آئ اسکے ساتھ ہی نازلی بھی بھاگتی ہوئ میم کے پاس پہنچی ۔۔ پاس آتے ہی دونوں کا سانس پھولا ہوا تھا۔۔ تھوڑی دیر سانس بحال کرتے مشی نے ہاتھ میں پکڑا فون میم کو پکڑایا جو سوالیہ نظروں سے دونوں کو دیکھ رہی تھی۔۔
مشی کے فون پکڑاتے ہی میم نے سر ہلایا اور فون بیگ میں ڈالا۔۔ مگر تب ہی کوئ چیز اچھل کے انکے ہاتھ کے ساتھ لگی۔۔ تو میم نے اسے پکڑ کے باہر نکالا۔۔
“آہہہہہہ آہہہہہہہ آہہہہہہہ”۔۔
ہاتھ میں پکڑی چھپکلی کو اصلی سمجھ کے میم نے زور سے نیچے پھینکا اور چینختی ہوئ دور بھاگی تب ہی انکا بیگ اور پیپرز زمین پہ گرے اور ہوا کی وجہ سے پیپرز ادھر ادھر بکھر گئے۔۔ انکی دیکھا دیکھی مشی اور نازلی بھی چینخی تاکہ میم کو ان پہ شک نا ہو۔۔ اور باقی طلباء رہے پاکستانی😂۔۔ بنا دیکھے ہی چینخ وپکار شروع کر دی۔۔ تب ہی گارڈ بھاگتا ہوا وہاں آیا۔۔
“کیا ہوا میم؟ “۔۔
گارڈ نے ٹیچر سے پوچھا جسکی رنگت زرد پڑھ چکی تھی۔۔
“چھپکلی”۔۔
میم نے اتنے ہنگامے پہ تھوڑا شرمندگی سے چھپکلی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ۔۔
“میم یہ نقلی ہے کسی نے مذاق کیا ہے آپکے ساتھ “۔۔
چھپکلی دیکھتے ہی گارڈ نے اسے ہاتھ میں اٹھایا اور ہنستے ہوئے کہا۔۔ اس پہ سارے سٹوڈنٹس بھی دبی دبی ہنسی ہنسنے لگے تو میم جی بھر کے شرمندہ ہوئ۔۔ اور سارے پیپرز اگھٹے کرتی اٹھا کے سٹاف روم میں چلی گئ۔۔
“ہاہاہاہاہاہا “۔۔
میم کے جاتے ہی مشی اور نازلی نے ایک دوسرے کو دیکھ کے قہقہہ لگایا اور بازو مسلتے کینٹین کی طرف چلی گئ۔۔جو چالیس منٹ اوپر کرےکرے اکڑ گئے تھے۔۔ کچھ دنوں میں ہی ان تینوں آفتوں نے جونیئرز تو جونیئرز سینیئرز اور ٹیچرز کو بھی تگنی کا ناچ نچا کے رکھا ہوا تھا۔۔ جسکا بہت جلد حساب ہونے والا تھا۔۔
💗💗💗💗💗💗💗
“کیاااااا نہیں نہیں نہیں کہہ دو یہ جھوٹ ہے مذاق ہے پلیزززززز”۔۔
امان نے معاملہ سلجھانے کے لیئے سب کچھ حنان کو بتانے کا فیصلہ کیا۔۔ اور پریکٹس گراونڈ میں بریک کے دوران حنان کو عیشی مشی کے خط کے بارے میں بتایا جسے سن کے حنان کو زبردست جھٹکا لگا اور وہ اٹھ کے بوکھلایا ہوا ادھر ادھر چکر کاٹتے دونوں ہاتھ بالوں میں پھسائے بولا تو امان نے اسکی لڑکیوں جیسی ایکٹنگ دیکھ کے بیزار سا منہ بنایا۔۔۔
“آرام سے بیٹھوں حانی ایسے تمھارے چکر کاٹنے سے حقیقت بدل نہیں جائے گی الٹا میرا دماغ ہی گھومنے لگے گا۔۔تمھیں لٹو بنا دیکھ کے۔۔ اور مرد بنو یار عیشی مشی سے ہی کچھ سیکھ لو”۔۔
امان نے اسے ڈانٹا تو حنان نے بے بسی سے امان کو دیکھا۔۔
“مان یار تو سمجھ کیوں نہیں رہا میں اس کے سامنے ایک لفظ نہیں بول سکو گا”۔۔
حنان نے روتی شکل بنا کے کہا تو امان نے اسے گھورا۔۔
“شرم کرلے اگر وہ ہاں کر دیتی ہے تو اس میں کیا ہے”۔۔
“بات منو کی نہیں ہے یار بات گھر والوں کی ہے ۔۔ منو ہاں کر بھی دے تو گھر والوں کو کیسے مناوں گا۔۔ جبکہ تم جانتے ہو اسکا رشتہ آیا ہوا ہے۔۔ وہ بھی ایسے لڑکے کا جو ویل سیٹلڈ ہے۔۔ہر خوشی دے سکتا ہے منو کو۔۔۔ ایسے میں چاچو اسکا رشتہ مجھے کیوں دینے لگے جو ابھی تک ایک پیسہ خود نہیں کما سکتا۔۔ باپ کے پیسوں پہ پل رہا ہوں۔۔ اور منو کو کیا دے سکتا ہوں میں۔۔ یہ پیار محبت سب تب ہوتا ہے جب انسان کے پاس کوئ ڈھنگ کا کام کرنے کا ہنر ہو۔۔ منو کے بہت سے خواب ہونگے۔۔ جو شاید میں پورے نا کر سکوں۔۔ ایسے میں خود کو اسکا مجرم سمجھوں گا۔۔ اسی لیئے میں نے سوچ لیا تھا میں پیچھے ہٹ جاوں گا۔۔ تاکہ وہ جی سکے اپنی خوشی سے ۔۔ ایسے میں عیشی مشی نے مجھے پھنسا دیا۔۔”
حنان غیر مرئ نقطے کو تکتے گہرے لہجے میں بول رہا تھا جب امان نے اسے افسوس سے دیکھا۔۔۔
“تو اتنا بزدل ہوگا میں نے سوچا نہیں تھا۔۔ اور اگر اتنی ہی اسکی پروا تھی تو کی ہی کیوں محبت ۔۔ اب اگر کر لی ہے تو مرد بن کے نباتے خود کو اس قابل بنا کے اسکے خواب پورے کر سکے۔۔ اور اس کے لیئے ایک سیسہ پلائ دیوار بن کے کھڑا ہو سکے تاکہ کوئ مصیبت اس تک پہنچنے کی بجائے پہلے تیرا سامنا کرے۔۔ اور تو۔۔تو بزدلوں کی طرح اسے کسی اور کے حوالے کر رہا ہے۔۔ کیا کمی ہے تجھ میں اللہ کا دیا سب کچھ ہے ہاتھ پاوں صحیح سلامت جسم دماغ ۔۔ سب کچھ تو بھی کما سکتا ہے پورے کر سکتا ہے اسکے خواب۔۔ ذنبیل آسمان سے اتری مخلوق نہیں ہے نا ہی اسکے پاس کوئ جن بھوت ہے جو اسکی مدد کر رہا ہے۔۔ وہ بھی محنت کرکے ہی کما رہا ہے۔۔”۔۔
امان نے ترش لہجے میں آئینہ دکھایا تو حنان نے سر جھکا لیا۔۔ امان ایک نظر اسکو دیکھتا وہاں سے اٹھ گیا۔۔ اسے امید تھی حنان سمجھ جائے گا۔۔
💗💗💗💗💗💗💗💗
“چلو اٹھو جلدی”۔۔
عیشی آرام سے بیڈ پہ لیٹی ٹام اینڈ جیری دیکھ رہی تھی۔۔ جب ہمدان کمرے میں آیا اور بیڈ سے ریمورٹ اٹھا کے ٹی وی بند کرتا بولا۔۔
“کہاں”۔۔
عیشی نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھ کے پوچھا۔۔
“ڈاکٹر کے پاس”۔۔
موبائل پہ کچھ ٹائپ کرتے ہمدان نے مصروف سے انداز میں کہا تو عیشی کو جھٹکا لگا۔۔
“دانی بھائ اب میں بالکل ٹھیک ہوں یہ دیکھ چل بھی سکتی ہوں “۔۔
ہمدان کو ٹالنے کے لیئے شدید تکلیف کے باوجود عیشی مسکرا کے بولی اور ساتھ چل کے بھی دیکھایا جس کی وجہ سے اکڑا ہوا جسم شدید دکھا۔۔۔
“کوئ بہانہ نہیں چلے گا عیشی میں ویٹ کر رہا ہوں پانچ منٹ میں باہر آو ورنہ بچپن کی طرح ابھی بھی اٹھا کے ڈاکٹر کے پاس لے جاوں گا اور ایک کی جگہ دو انجیکشن لگواوں گا ساتھ میں ڈرپ فری”۔۔
موبائل جیب میں ڈالتے ہمدان نے وارننگ والے لہجے میں کہا تو عیشی نے تھوک نگلا۔۔ اور آنکھوں کے سامنے دو دو ٹیکے اور ڈرپ گھوم گئ۔۔ جسکی وجہ سے مزید بحث کرنے کی بجائے چپ چاپ اٹھ کے الماری سے کپڑے نکالنے لگی۔۔۔ ہمدان نے جب دیکھا کہ دھمکی کام کر گئ ہے تو مسکراتا ہوا باہر نکل گیا۔۔ وہ اسکی رگ رگ سے واقف تھا۔۔ جو کسی کے کہنے پہ نہیں اٹھ رہی تھی ہمدان جانتا تھا اسے کیسے لے کے جانا ہے۔۔۔
” دانی بھائ وعدہ کریں واپسی پہ آپ مجھے آئسکریم چاکلیٹس اور کوکومو لے کے دیں گے؟”۔۔
پانچ منٹ بعد عیشی باہر آئ تو ہمدان کو عارب کی گاڑی کی چابی انگلی میں گھوماتے اپنا انتظار کرتے پایا۔۔تو فورأ شرط رکھی۔۔ ہمدان بھی اچھے بچوں کی طرح مان گیا تو عیشی خوشی سے گاڑی میں بیٹھی ۔۔ ہمدان بھی گاڑی سٹارٹ کرکے ہسپتال کی طرف روانہ ہوا۔۔۔
“بھائ انجیکشن نہیں گلوانا پلیزززز”۔۔
عیشی منہ بناتے بولی۔۔ مگر ہمدان ان سنی کرکے گاڑی چلاتا رہا۔۔۔
“دااااااانیییییییی بھائئئئئئئئئئئ”۔۔
جب عیشی نے دیکھا کہ ہمدان اسکی نہیں سن رہا تو اسکے کان کے پاس ہوتے ہی چینخ کے بولی جس کی وجہ سے ہمدان نے بے اختیار کان پہ ہاتھ رکھا ورنہ آج تو پکا کان کا پردہ پھٹ جاتا۔۔ پھر گھور کے عیشی کو دیکھا جو ناک منہ چڑائے اسی کو گھور رہی تھی۔۔۔
“عیشی چپ چاپ انجیکشن لگواو گی ورنہ ڈرپ کو یاد رکھنا اور آئسکریم چاکلیٹس اور کوکومو کو تو بالکل بھول جانا”۔۔
ہمدان نے سنجیدگی سے کہا تو عیشی نے آنکھیں پھاڑ کے اسکو دیکھا۔۔ وہ بھلا کب ایسے بولتا تھا ۔۔ وہ تو ہمیشہ اسکی سائیڈ لیتا تھا۔۔۔ عیشی بھی منہ پھلا کے بیٹھ گئ ۔۔ جبکہ دماغ میں ایک جنگ چل رہی تھی کہ انجیکشن سے کیسے بچنا ہے۔۔ ہمدان نے اسکا
پھولا ہوا منہ دیکھا تو ہنسی دبائ۔۔ یہ اس کے لیئے ضروری تھا ورنہ وہ کبھی بھی انجیکشن نا لگواتی۔۔
💗💗💗💗💗💗💗
ہمدان جیسے ہی ہسپتال پہنچا تو امان کا فون آیا وہ اس سے بات کرنا چاہتا ۔۔
“ٹھیک ہے میں گھر آتا ہوں پھر ملتے ہیں”۔۔
ہمدان نے کہہ کے فون بند کیا ۔۔اور عیشی کی طرف متوجہ ہوا جو برے برے منہ بنا کے اسے منانے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔
“دانی بھائ انجیکشن نہیں نا پلیزززز پھر وعدہ آپکو تنگ نہیں کروں گی”۔۔
عیشی نے معصوم سی شکل بنا کے ہمدان کو منانے کی کوشش کی مگر اسنے ایک نا سنی اور ڈاکٹر کے پاس لے گیا۔۔
“ڈاکٹر مجھے انجیکشن مت لگانا ورنہ اچھا نہیں ہوگا”۔۔
چیک اپ کے بعد ڈاکٹر کو انجیکشن بھرتا دیکھ کے عیشی انگلی اٹھائے وارن کرتی بولی تو ہمدان نے آنکھوں کے اشارے سے اسے خاموش رہنے کا کہا جو ویسے ہی اگنور کر رہی تھی جیسے پہلے ہمدان کر رہا تھا۔۔۔
“آہہہہ بتمیز ڈاکٹر ۔ اللہ کرے گنجے ہوجاو موٹے بھوت”۔۔
عیشی جیسے ہی ہمدان کی طرف متوجہ ہوئ ڈاکٹر نے بازو پہ انجیکشن لگا دیا ۔۔ عیشی چینخ کے بولی مگر اس سے بھی جب درد کم نا ہوا تو ٹیبل پہ پڑھا پانی کا گلاس ڈاکٹر کے منہ پہ پھینکا۔۔ ہمدان منہ کھولے اسے دیکھ رہا تھا مگر اسکی حرکت پہ جھٹکا کھا کے کھڑا ہوا۔۔ ڈاکٹر آنکھیں بند کیئے سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا جب ہمدان نے ٹیبل پہ پیسے رکھے۔۔ اور عیشی کا ہاتھ پکڑے آہستہ سے باہر نکلا۔۔
“پکڑو اس لڑکی کو”۔۔
باہر نکلتے ہی ڈاکٹر کی کڑک آواز آئ تو ہمدان نے مڑ کے دو موٹے موٹے گارڈز کو اپنی طرف آتے دیکھا تو عیشی کا ہاتھ پکڑے ہی باہر کی طرف دوڑ لگائ ۔۔۔
(یہ بنتءحوا کا ناول ہے اس میں وہی ہیرو آگے سے لڑتا جو فائٹر ہوتا۔۔ مگر ہمدان بچارہ ہمارا معصوم+شریف+عام سا ہیرو ہے سو اسنے بھاگنے میں ہی عافیت جانی آخر کو ایکسپرٹ تھا بھاگنے میں😜)۔۔
“عیشی تم نے قسم کھا رکھی ہے مجھے بھگانے کی”۔۔
گاڑی میں بیٹھتے ہی ہمدان نے گاڑی سٹارٹ کرکے روڈ پہ لاتے کہا تو عیشی منہ موڑ گئ جسکا مطلب تھا کہ نہیں سننی بات بس وعدہ پورا کرو😋۔۔ ہمدان بھی اسکا سرخ چہرہ دیکھ کے مسکراہٹ دباتا ڈرائیونگ کرتا رہا۔۔ سب سے پہلے اس کا ارادہ آئسکریم لینے کا تھا۔۔
💗💗💗💗💗💗💗
“رکو منو مجھے تم سے بات کرنی ہے “۔۔
حنان منال سے بات کرنے گھر آیا تو اسے معلوم ہوا وہ چھت پہ ہے جب وہاں گیا تو وہ چھت پہ ٹہل رہی تھی اسکو دیکھتے ہی جانے لگی تو حنان نے راستہ روک کے کہا۔۔
“دیکھو منو آہہم وہ اہہ وہ خط میں نے نہیں لکھا”۔۔
منال کو روک کے حنان کو سمجھ نا آیا کیسے بات کرے اسی لیئے فورأ بولا تو منال اسکی طرف دیکھنے لگی۔۔ دل کو تھوڑا درد ہوا تھا۔۔
“دراصل وہ خط عیشی مشی نے لکھا تھا تم جانتی ہو عیشی رائٹنگ کاپی کرنا جانتی ہے تو اس نے میری طرف سے لکھا ۔۔ یہ ایک پرینک تھا ان دونوں کا۔۔ اور اب تمھیں اس لیئے نہیں بتا رہی کہ تم ناراض ہوجاو گی باقی ایسا کچھ نہیں ہے۔۔”۔۔
حنان ادھر ادھر دیکھتے جو منہ میں آیا بولتا گیا یہ سوچے بغیر کے منو دکھ سے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔اسکے پیچھے آیا امان بھی دروازے میں کھڑا اسکی بات سن کے غصے سے اسے گھور رہا تھا۔۔۔
منال نے ایک نظر حنان کو دیکھا جو سر جھکائے کھڑا تھا پھر تیزی سے نیچے بھاگی۔۔ دروازے میں امان کو کھڑا دیکھا جو دکھ سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔ منو سے آنسو روکنا محال ہوگیا تو فورأ نیچے بھاگی۔۔
اس کے جاتے ہی حنان نے ایک نظر مڑ کے اسے دیکھا مگر امان کو کھڑا دیکھ کے نچلا لب چبانے لگا۔۔ تو امان نے اسے تھم ڈاون کرکے لوزر کا اشارہ دیا اور نیچے چلا گیا۔۔ حنان نے منہ کھولے امان کا اشارہ دیکھا اور نظر پھیر کے ساتھ والے گھر کو دیکھا جس پہ ایک بچہ کھڑا تھا اس نے بھی امان کی دیکھا دیکھی حنان کو تھم ڈاون کا اشارہ کیا تو حنان کے حیرت سے دیکھا پھر ایک بار آنکھیں رگڑ کے دیکھا تو وہ بچہ بھی امان کے سٹائل میں مڑا اور نیچے چلا گیا😹۔۔ اسکے بعد حنان نے نظریں گھما کے ادھر ادھر پرندوں اور درختوں کو دیکھا تو اسے ایسے لگا ہر چیز اسے لوزر کہہ رہی ہے😂۔۔ تنگ آکے وہ بھی نیچے آگیا اور کمرے میں بند ہوگیا۔۔۔
💗💗💗💗💗💗💗
“ارے ہمدان آپ یہاں”۔۔
سارہ آئسکریم پالر سے باہر نکلی تو سامنے ہمدان کو دیکھ کے حیران ہوئ اور خوشی سے بولی۔۔
“میں بھی ہوں انکے ساتھ سارہ آپی”۔۔
عیشی ہمدان کے پیچھے سے نکلی اور دانت دیکھاتی بولی تو اس وقت سارہ کو زہر لگی ایک تو ہمدان کے ساتھ اور دوسرا اسکو آپی بولا۔۔
“ہاں ہم لوگ یہاں آئسکریم لینے آئے تھے”۔۔
سارہ دل میں جلتی کڑتی بظاہر مسکرا کے عیشی سے ملی تو ہمدان نے اسے اپنے آنے کی وجہ بتائ ۔۔
پھر مروتأ اسکو لفٹ آفر کی جسے سارہ نے فورأ قبول کیا تو عیشی برے برے منہ بنانے لگی۔۔ جسے دیکھ کے ہمدان نے ہنسی دبائ۔۔
“ارےےےےےے سارہ آپیییییی یہ میری جگہ ہے😁۔۔”
سارہ نے گاڑی کے پاس آتے جیسے ہی فرنٹ ڈور اوپن کیا عیشی بھاگ کے سامنے آئ اور مسکرا کے ایک ایک لفظ چبا کے بولی تو سارہ نے اسکو غصے سے گھورا۔۔ اور پیچھے بیٹھ گئ ۔۔ ہمدان نے ہنسی روکنے کے لیئے نچلا ہونٹ دانتوں میں دبایا اور سن گلاسس لگا کے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی ۔۔۔۔
سارا راستہ خاموشی سے کٹا ۔۔ سارہ کے گھر کے پاس آتے ہی وہ گاڑی سے نکلی اور ہمدان کو اندھر آنے کا کہا۔۔ مگر اسنے لیٹ ہونے کا بہانہ کیا اور گاڑی گھر کی طرف موڑ لی۔۔
“تم نے سارہ کو آگے کیوں نہیں بیٹھنے دیا جبکہ جانتی ہو وہ میری شاید ہونے والی بیوی ہو”۔۔
ہمدان نے جان بوجھ کے عیشی کو چھیڑا ۔۔۔
“چاہے تو وہ ہونے والی بیوی ہو یا کبھی نا ہونے والی مسٹر ہمدان یاور شاہ یہ جگہ میری ہے اور یہ مجھ سے کوئ نہیں چھین سکتا ۔۔آپ بھی نہیں اور آپکی وہ ہوتی سوتی سارہ شارہ بھی نہیں”۔۔
ہمدان کی بات سن کے عیشی نے گھور کے ہمدان کو دیکھا اور ایک انگلی اٹھا کے ہمدان کے منہ کے پاس لے جاکہ وارن کرنے والے انداز میں بولی۔۔ کچھ پل تو ہمدان بھی اسکا یہ انداز دیکھ کے حیران ہوا مگر بظاہر ڈرنے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے چپ ہوگیا ۔۔ جبکہ عیشی کا ایسے حق جتانا اسے اچھا لگا تھا۔۔ بیشک یہ اور وے سے تھا۔۔ گھر کے پاس آتے ہی عیشی نے آئسکریم کا ڈبہ اٹھایا اور ٹھاہ کرکے گاڑی کا دروازہ بند کرتی اندھر چلی گئ تو ہمدان کھل کے مسکرایا۔۔
مگر امان کا یاد آتے ہی وہ گاڑی سے نکلا اور امان کو کال کرنے لگا تاکہ پوچھ سکے کیا بات کرنی تھی اسے۔۔
💗💗💗💗💗💗💗
“آج تو بہت ہی مزہ آیا میم کے ساتھ جو کیا واہ واہ”۔۔
نازلی اور مشی چھٹی کے ٹائم دونوں باہر نکلی تو نازلی ہاتھ ہوا میں بلند کرتی مزے سے بولی تو مشی بھی ہنسنے لگی۔۔
“ائےےےے اس چقندر کو کس نے بھیجا”۔۔
مشی نے ہنستے ہوئے جیسے ہی منہ موڑا سامنے ضرار کو بائیک لیئے کھڑا دیکھ کے برے برے منہ بناتے ہوئے بولی تو اپنی سکوٹی کے پاس جاتی نازلی نے رک کے اسے دیکھا پھر اسکی نظروں کے تعاقب میں سامنے دیکھا جہاں ایک لڑکا سن گلاس لگائے۔۔ پینٹ شرٹ میں رف بال لیئے کھڑا تھا ۔۔ دیکھنے میں صحیح تھا مگر مشی اسے چقندر کیوں بول رہی تھی۔۔ مشی نے نازلی کو الجن کا شکار دیکھا تو بتایا کہ یہ میرا کزن ہے۔۔ نازلی نے او کہتے سر ہلایا تب ہی ضرار نے مشی کو دیکھ کے ہاتھ سے آنے کا اشارہ کیا تو مشی نازلی کو اللہ خافظ کہتی ضرار کے پاس آئ۔۔
“یہ لڑکی کون تھی؟”۔۔
بائیک سٹارٹ کرتے ضرار نے پوچھا تو مشی نے گھور کے اسے دیکھا۔۔
“خبردار جو اب اس پہ بھی لائن ماری تو اپنی ان چھچھوری حرکتوں سے باز آجاو ورنہ عارب چاچوسے کہہ کے بیلٹ سے پٹائ کراوں گی۔۔۔”
مشی انگلی سے وارن کرتی بولی تو ضرار حیران ہوا کہ کونسی چھچھوری حرکت😂۔۔
“توبہ پوچھنا بھی گناہ ہے”۔۔
ضرار چڑ کے بولا تو مشی نے زور سے ہاں بولا۔۔پھر بائیک پہ بیٹھ کے ہینڈل کو پکڑا تو ضرار بائیک روڈ پہ لایا۔۔۔
“ضرار کے بچے آہستہ چلو بائیک قسم کھاتی ہوں میں گری نا تو تمھیں بھی ساتھ ہی گراوں گی”۔۔
ضرار نے جیسے ہی بائیک تھوڑی تیز کی تو مشی اسکے بال پکڑتی بولی جسے اس نے بڑی مشکل سے چھڑایا ۔۔
“واہ وہ کیا شعر تھا۔۔۔ ہاں۔۔یاد آگیا۔۔۔ ہم تو ڈوبے صنم ساتھ تمھیں بھی لے ڈوبے گے۔’
ضرار ہنسی روک کے بولا۔۔
“شکل دیکھی ہے ٹوٹے ڈونگے کے اوپر والے حصے صنم تم جیسا نہیں ہوتا”۔۔
مشی چڑ کے بولی۔۔
“ہاں جتنی تم ہو تمھارا صنم تو چین سے آرڈر پہ بنوانا پڑھے گا دو فٹ کی مینڈک’۔۔
سامنے بھی ضرار تھا اینٹ کا جواب دینا پتھر سے جانتا تھا۔۔۔
“چپ کرکے بائیک چلاتے ہو یا توڑو کک”۔۔
ضرار کی بات سن کے مشی کو آگ ہی لگ گئ اور پیر کک پہ رکھ کے بولی تو ضرار نے اپنے جوگرز کی نوک سے اسکا پیر کک سے ہٹایا اور چپ کرکے بائیک چلانے لگا۔۔
💗💗💗💗💗💗
“ہاں بولو کیا بات ہے؟”۔۔
ہمدان نے امان کو کال کی تو اس نے بتایا کے لان میں ہی ہے۔۔ ہمدان اسکے پاس آتا بولا۔۔
“بھائ کہی اور جاکے بات کریں؟”۔۔
امان نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے کہا تو ہمدان نے سنجیدگی سے اسے دیکھا پھر ساتھ لیئے گارڈن میں آگیا ۔۔
“اب بتاو کیا بات ہے”۔۔
سیمنٹ کے بنے بنچ پہ بیٹھتے ہمدان نے پوچھا۔۔ تو امان نے دماغ میں چھڑی جنگ کو ایک سائیڈ دھکیلا اور گہرا سانس لے کے ہمدان کو حنان کے بارے میں شارٹلی سب بتا دیا۔۔۔
“ہمممم”۔
ہمدان منہ پہ ہاتھ کی مٹھی بنا کے رکھے اسکی بات سنتا رہا اور جب وہ خاموش ہوا تو ہمدان نے کچھ سوچتے ہوئے سر ہلایا۔۔
“تم پریشان مت ہو سب ٹھیک ہوجائے گا مگر حنان کو عقل آنا بہت ضروری ہے۔۔
ہمدان کھڑا ہوتا بولا پھر امان کا کندھا تھپتھپایا تو اس نے سر ہلایا۔۔
ہمدان کے جاتے ہی امان سامنے گھنے درختوں کو دیکھنے لگا۔۔ اسے
اپنا آپ ہلکا محسوس ہو رہا تھا۔۔
💗💗💗💗💗💗💗
جاری ہے۔۔
