Ek Hai Aafat Season 2 By Binte Hawa Readelle50339 (Ek Hai Aafat) Episode 25
Rate this Novel
(Ek Hai Aafat) Episode 25
“میم دوپٹہ سر پے سیٹ کروں یا شولڈر پے؟”
“ایک بار گلے میں سیٹ کردو۔۔ پوچھ تو ایسے رہی ہو جیسے یہ بھوتنی میرے کہنے پہ ہی مجھے بنایا ہے تم نے”
مکمل تیاری کے بعد بیوٹیشن نے دوپٹہ ہاتھ میں پکڑ کے پوچھا۔۔ تو کب سے بھری بیٹھی نازلی ایک دم پھٹ پڑھی ۔۔ جو کب سے کہہ رہی تھی کم تیار کرو مگر بیوٹیشن پر بار یہ کہہ دیتی مجھے ایسے ہی تیار کرنے کا کہا گیا ہے۔۔ نازلی نے بتایا بھی میرے بھائ کی منگنی ہے مگر بیوٹیشن تو جیسے کان بند کرکے لگی ہوئ تھی۔۔ ابھی نازلی کے غصے پہ وہ منہ کھولے اسے دیکھنے لگی۔۔
“ارے کیا ہوا نازلی؟”
تب ہی بریرہ کمرے میں آئ اور نازلی سے پوچھا جو منہ پھلائے بیٹھی تھی ۔۔
“میم میں نے کہا دوپٹہ “
“ہاں ہاں اسنے کہا باقی تو پورا تمھیں دولہن بنا چکی ہوں اب بتاو گھونگھٹ بھی نکال دوں کیونکہ قاضی اور تمھارا نامعلوم دولہا کسی بھی وقت آنے والے ہونگے۔۔ ہاں بہن کرا دو گھونگھٹ بھی۔۔ اور ایسا کرو فوٹو شوٹ سیٹ بھی تم ہی بک کرا دو تاکہ تمھاری بے چین روح کو شانتی ملے۔۔ معصوم دولہے کی بہن کو یہ 1980 کی ہیروئن بنا کے” ۔
ابھی بیوٹیشن کچھ بولتی کہ نازلی اسکی بات کاٹ کے بولی۔۔ بیوٹیشن نا سمجھی سے بریرہ کو دیکھنے لگی جس نے چپ رہنے کا اشارہ کیا۔۔اور نازلی کی بات پہ بڑھی مشکل سے ہنسی روکی۔۔
“آپ ایسا کریں دوپٹہ شولڈر پہ سیٹ کردیں جلدی کریں سب تیار ہیں”۔۔
بریرہ بیوٹیشن کو دیکھ کے بولی تو وہ جی اچھا کہتی جلدی جلدی اپنے کام میں لگ گئ۔۔ پانچ منٹ بعد نازلی مکمل تیار تھی۔۔ بریرہ نے بے اختیار اسکی نظر اتاری۔۔ وہ پیچ کلر کے شرارہ میں بالوں کو ایک سائیڈ کرل کرکے سیٹ کیئے بہت پیاری لگ رہی تھی۔۔ نفاست سے کیا گیا میک اپ اسے مزید خوبصورت بنا رہا تھا۔۔ پیچ کلر کی ہیل پہنے وہ جب کھڑی ہوئ تو لڑکھڑا گئ۔۔ بوقت بیوٹیشن اور بریرہ نے اسے سنبھال لیا۔۔
“دیکھا کہا تھا نا میں نے آپ سے۔۔اب وہاں میں سارہ بھابھی کو سیٹج پہ لا کے فنکشن انجوائے کروں گی یا خود سہارے سے چلوں گی۔۔”
نازلی روتی صورت بنا کے بولی۔۔
“کچھ نہیں ہوتا نازلی تم تھوڑا چلو تو پاوں کو عادت ہوجائے گی فکر نا کرو اور اب چلو پہلے ہی بہت دیر ہو چکی ہے”۔۔
بریرہ نے اسے کہا اور ساتھ باہر لے آئ سب نے اسکی تعریف کی۔۔ خازق بھی سفید شلوار قمیض میں بہت ہینڈسم لگ رہا تھا۔۔ بریرہ نے دونوں بچوں کا صدقہ دیا اور گاڑیاں مارکی کی طرف روانہ ہوئیں۔۔
😱😱😱😱😱😱😱😱
“کتنی دیر ہے بھئ؟ “۔۔
حرم کمرے میں آکے بولی جہاں سارہ کو تیار کیا جا رہا تھا۔۔
“یہ بس ہوگیا”۔۔
بیوٹیشن سارہ کے ہاتھوں پہ پھولوں کے گجرے پہناتے ہوئے بولی۔اور پھر باہر نکل گئ۔۔
“سارہ میری جان ابھی تک مام سے ناراض ہو کیا “۔۔
سارہ جو غیر مرئ نقطے پہ نظریں گاڑے بالکل خاموش بیٹھی تھی ۔۔ حرم کی بات پہ ایک نظر حرم کو دیکھا تو اسکا دل تڑپ گیا۔۔ ہلکے گلابی رنگ کے فراک میں جس پہ گولڈن کلر کا کام بہت نفاست سے ہوا تھا۔۔ بہت پیاری لگ رہی تھی۔۔ سرخ آنکھیں بجھابجھا چہرہ۔۔ سوگوار حسن۔۔وہ بلا شبہ بہت حیسن تھی ہیزل گرے آنکھیں اسکی ذنبیل پہ گئ تھی۔۔ جو سرخ ہوکے بھی سیدھا دل میں لگ رہی تھی۔۔ اسکا چہرہ دیکھ کے حرم کی آنکھیں نم ہوگئ۔۔
“نہیں میں کسی سے ناراض نہیں آپ پریشان نا ہو”۔۔
دوبارہ نظریں موڑ کے سارہ بولی تو اسکی آواز بے حد بھاری تھی۔۔
“سارہ”۔۔
“مام پلیز میں نے کہا نا ٹھیک ہوں میں آپ پریشان مت ہو۔۔ چلے دیر ہو رہی ہے۔۔بھائ اور ڈیڈ ویٹ کر رہے ہیں ہمارا”۔۔
حرم نے کچھ بولنا چاہا تو سارہ نے ایک دم اسے خاموش کرا دیا۔۔پھر اپنا کلچ اٹھاتے کھڑی ہوئ اور سپاٹ لہجے میں کہتے آگے بڑھی ۔۔ حرم نے بھی گہرا سانس لیا اور چہرے پہ مسکراہٹ سجھا کے باہر نکلی ۔۔ مگر سارہ کا چہرہ ہنوز سنجیدہ تھا۔۔ اسکو ایسے دیکھ کے ذنبیل نے افسوس سے حرم کو دیکھا جس نے نظریں چرا لی۔۔
“ما شاہ اللہ سارہ بیٹی بالکل شہزادی لگ رہی ہے”۔۔
شزا کی ماما سارہ کا ماتھا چومتے بولی مگر وہ خاموش رہی۔۔۔ کچھ دن پہلے ذنبیل نے گھر شزا کے بارے میں بات کردی تھی۔۔ حرم کو کوئ اعتراض نہیں تھا۔۔ وہ سزا کے گھر ذنبیل کا رشتہ لے کے گئ۔۔ تو انہوں نے بھی بیٹی کی خوشی دیکھتے ہوئے خوشی خوشی ہاں کردی۔۔ مگر ابھی وہ منگنی نہیں کرنا چاہتے تھے۔۔ آج شزا نے اس فنکشن میں ذنبیل لوگوں کی طرف سے شرکت کی تھی۔۔
💔💔💔💔💔💔💔💔
“یہ تم ایسے جاو گی”۔۔
گاڑی میں بیٹھتے ہی ہمدان کی نظر عیشی پہ پڑھی جو یلو کلر کی سمپل سی شرٹ کے ساتھ ٹراؤزر پہنے ہوئے تھی۔۔ بلو کلر کا سٹالر گلے میں لپٹے۔۔ کرلی بالوں کی پونی ٹیل بنائے۔۔ بالکل تھوڑے سے میک اپ پہ وہ نارمل حلیہ میں تھی۔۔ ہمدان کی بات پہ مشی ضرار اور امان حنان نے بھی مڑ کے عیشی کو دیکھا ۔۔
“میں نے تو اسے بہت کہا کچھ
اور پہن لو مگر یہ سنتی ہی کب ہے”۔۔
منال آہستہ سے بولی۔۔ مگر حنان نے جیسے ہی اسے دیکھا وہ لب چباتی خاموش ہوگئ اور نیچے دیکھنے لگی ۔۔ اسکی ایسی حالت دیکھ کے سب نے زوردار قہقہہ لگایا۔۔ اپنی بے اختیاری پہ حنان بھی شرمندہ ہوگیا۔۔
“ہاں تو کیا ہے میں اس میں سکون محسوس کر رہی ہوں “۔۔
عیشی لاپرواہ انداز میں بولی تو ہمدان نے ماتھا پیٹا۔۔ کیونک عیشی کو سمجھانا مشکل نہیں نا ممکن تھا۔۔
💝💝💝💝💝💝💝💝
رشی لوگوں کی گاڑیاں مارکی پہنچ چکی تھی جہاں سارہ اور بریرہ لوگ پہلے ہی موجود تھے ۔۔ سارہ تو برائڈل روم میں تھی۔۔ جبکہ نازلی لاکھ منع کرنے کے باوجود سب کے ساتھ مہمانوں کو ویلکم کرنے کھڑی تھی ۔
“ہی ہی ہی ہی دیکھو مشی ہمارا ویلکم دولہن خود کر رہی ہے”۔۔
سامنے نازلی کو سب سے ملتے اور گجرے پہناتے دیکھ کے عیشی نے مشی کے کان میں سرگوشی کی۔
“چپ کر جاو عیشی مجھے تو آج کا دن اپنی زندگی کا آخری دن لگ رہا ہے۔۔ اور یہ مارکی اپنی جائے موت لگ رہی ہے۔۔ پہلے تو ہمیں یہی مار دے گی۔۔ دور دورررر تک یاد نا آنے والی کسی نیکی کے سبب ہم اس سے بچ بھی گئے تو مان بھائ پکا ہمیں چھت سے پھینک دے گے۔۔ یا سمندر میں پھینک آئیں گے”۔۔
مشی روتی صورت بنا کے بولی تو عیشی نے بیزاری سے اسکی شکل دیکھی۔۔اور اسے حوصلہ دیا کہ کچھ نہیں ہوتا پھر گھسیٹتی ہوئ ساتھ لے گئ۔۔ نازلی سے دونوں ملی۔۔تو نازلی نے انہیں مٹھائ کھلا کے گجرے پہنائے۔۔ سب نازلی کو دیکھ کے معانی خیزی سے مسکرا رہے تھے جس سے نازلی بہت کنفیوزڈ ہو رہی تھی۔۔
“ہنننن یہ بن بتوڑی تیار تو ایسے ہوئ ہے جیسے اسکی منگنی ہو۔۔ اللہ معاف کرے اتنا میک اپ ۔ توبہ توبہ اسکے پلے جو پڑھے گا اسے ایڈوانس میں بربادی مبارک”
نازلی سبکو خوشی سے ویلکم کرتی امان کو اگنور کرکے آگے بڑھی تو امان نے اسے گھور کے دل میں سوچا اور سر جھٹکا😂۔۔
“ہننن کالا سوٹ پہن کے خود کو ہیرو سمجھ رہا ہے۔۔ حقیقت میں تو صدقے کے کالے بکرے بھی اس سے بہتر لگتے ہیں۔۔ اس بچاری کی تو قسمت ہی پھوٹی ہوگی جو اس سے بیاہی جائے گی”۔۔
امان کو غصے سے گھورتے دیکھ کے نازلی نے دل میں سوچا اور پاوں پٹختی اندھر چلی گئ۔۔ جبکہ اسکو ایسے پاوں پٹختا دیکھ کے امان نے اسکی نقل اتاری۔۔
“ہننن کالی چمگادڑ کا نیو پیک “۔۔
منہ میں بڑبڑاتے وہ بھی حنان لوگوں کی طرف چلا گیا جو سب سے مل رہے تھے۔۔جبکہ دور کھڑی عیشی انکے فیس ایکپریشن دیکھ کے دل ہی دل میں ہنس ہنس کے لوٹ پوٹ ہو رہی تھی۔۔
😜😜😜😜😜😜😜😜
“واہ آج تو تمھاری بولتی بالکل بند ہے کہی زبان او ایل ایکس تو نہیں کردی”
سارہ کو جیسے ہی خازق کے پاس لاکے بٹھایا گیا۔۔ اسکو خاموش دیکھ کے خازق نے کان کے پاس جاکے سرگوشی کی تو سارہ نے غصے سے اسے دیکھا۔۔
“اپنی خیر مناو بیٹا ابھی تو میری صرف بولتی بند ہے تمھاری تو میں سانس بند کروں گی”۔۔
سارہ دانت پیس کے بولی تو خازق نے بنا کسی کی پروا کیئے زوردار قہقہہ لگایا۔۔
“خازق بیٹا کچھ خیال کریں آپ دولہا ہیں”۔۔
بریرہ نے بظاہر مسکراتے ہوئے وارنگ دیتی آنکھوں سے کہا تو خازق کے لب خاموش ہوئے اور اس نے آس پاس دیکھا سب انہیں ہی دیکھ رہے تھے۔۔
شرمندگی سے مسکراتے ہوئے سر کھجاتے اسے فوٹوگرافر کو آواز دی اور فوٹو شوٹ سٹارٹ کرا دیا تاکہ سب کا ذہن بھٹ جائے۔۔۔۔
💝💝💝💝💝💝💝💝
“آپ یہاں کھڑے ہیں میں آپکو پورے ہال میں ڈھونڈ رہی تھی”۔۔
جیسے ہی انکا فوٹو شوٹ شروع ہوا تو عیشی نے پورے ہال میں نظر دوڑائ اسے ہمدان کہی بھی نظر نہیں آیا۔۔ تو وہ اسے ڈھونڈتی ہوئ باہر آگئ۔۔ تب ہی ہمدان اسے دور رینک پہ بازو رکھ کے کھڑا نظر آیا۔۔ وہ اندھر آیا ہی نہیں تھا۔۔ عیشی جب اسکے پاس آئ تو وہ کسی گہری سوچ میں تھا۔۔ عیشی اسکے سامنے ہاتھ ہلا کے بولی تو ہمدان نا سمجھی سے اسے دیکھنے لگا۔۔۔
“تم یہاں کیا کر رہی ہو؟”۔۔
ہمدان نے نرم آواز میں پوچھا
” اندھر فوٹو شوت ہو رہا ہے سبکا۔ آپکو بھی سب بولا رہے ہیں تو میں آپکو لینے آئ ہوں”
عیشی لاپرواہی سے کندھے اچکا کے بولی تو ہمدان نے حیرت سے اسے دیکھا۔۔
“تم پاگل ہو کیا یار فوٹو شوٹ ہو رہا ہے اور تم مجھے ڈھونڈنے آگئ اور یہ دوپٹہ سر پہ رکھو”۔۔
ہمدان حیرانی سے بولا اور آخر میں اسکے گلے میں لٹکے سٹالر کی طرف اشارہ کرکے بولا تو عیشی نے نا سمجھی سے اسے دیکھا پھر آہستہ سے سٹالر سر پہ رکھ لیا ۔۔ ہمدان نے دل پہ پتھر رکھتے منہ موڑ لیا ۔۔ اور وقت اسے ہر چیز بے معانی لگ رہی تھی۔۔ شدید ضبط سے اسنے ہونٹ میچ لیئے۔۔
“میں جانتی ہوں دانی بھائ اس وقت آپ پہ کیا گزر رہی ہوگی۔۔مگر آپ فکر نا کریں اللہ پاک آپکو بہترین سے نوازیں گے۔۔”۔۔
عیشی اسکے بازو پہ ہاتھ رکھ کے ہمدردانہ لہجے میں بولی تو ہمدان نے حیرت سے اسے دیکھا مگر بولا کچھ نہیں۔۔
“اب چلیں بھی ورنہ سب کیا سوچیں گے”۔۔
اسکا بازو دونوں ہاتھوں سے پکڑ کے ساتھ کھینچتے
ہوئے بولی اور اندھر لے آئ۔۔ ہمدان بے بسی سے اندھر آیا۔۔مگر سامنے کا منظر دیکھ کے اسے سو واٹ کا جھٹکا لگا۔۔
“یہ ی یہ سا سارہ اور خازق “۔۔
ہمدان بس اٹک اٹک کے اتنا ہی بولا تھا کہ عیشی نے دکھ سے اسے دیکھا۔۔۔
“دانی بھائ سنبھالیں خود کو آپ تو بہت بہادر ہیں نا۔۔ اور دیکھے وہ تو میک اپ میں بھی چمگادڑ لگ رہی ہے اللہ پاک آپکو کیوٹ سی پری دیں گے”۔۔
عیشی دوبارہ ہمدردی سے بولی۔۔تب ہی ضرار اور مشی بھی انکے پاس اگئے ۔۔۔
“سارہ اور خازق کی منگنی او مائے گاڈ۔۔ یہ پاگل عیشی سارہ کو سمجھ رہی ہے افف”۔۔
ایک دم ہمدان کو سب سمجھ آگیا۔۔اسے اب یہ سمجھ نہیں لگ رہی تھی۔۔ہنسے یا روئے😂۔۔ پاگل عیشی کی بات کا اپنے سے مطلب سمجھ کے وہ پورا ہفتہ اداس رہا تھا۔۔ جبکہ یہاں تو اسے ڈبل خوشی ملی تھی۔۔اسکے دل میں دو ہی ڈر تھے۔ایک یہ کے خازق کا رشتہ عیشی سے نا ہوجائے۔۔اور دوسرا یہ کے سارہ کا رشتہ اسکے گھر والے اس سے نا کردیں 😂۔۔ اچانک سارا بوجھ دل و دماغ سے ہٹ گیا اور ہمدان کو سب اچھا لگنے لگا۔۔ وہ بتا نہیں سکتا تھا اس وقت وہ کتنا خوش تھا۔۔ عیشی کی طرف دیکھ کے وہ بے اختیار مسکرایا۔ مگر ایک دم اسکے دل میں خیال آیا کہ عیشی خازق کو پسند کرتی تھی وہ کیوں خاموش ہے۔۔ یہ سوچ آتے ہی اس نے پریشانی سے عیشی کو دیکھا۔۔۔
“مجھے لگتا ہے صدمہ دانی بھائ کے دماغ پہ اثر کر گیا ہے۔۔ دیکھو نا تبی تو کبھی مسکرانے لگ جاتے ہیں اور کبھی پریشان ہو جاتے ہیں”۔۔
عیشی مشی اور ضرار سے سرگوشی کرتے ہوئے بولی۔۔وہ تینوں ہمدان کو ایسے گھور رہے تھے جیسے وہ کوئ نئ مخلوق ہو۔۔
“تم لوگ کھڑے کیوں ہو آو انکے ساتھ پکس بنواتے ہیں”۔۔
ہمدان ان تینوں کو دیکھ کے بولا اور پھر سٹیج کی طرف بڑا ۔۔
“لگتا ہے ہمدان بھائ بھی تمھاری طرح غم انجوائے کرنے والے ہیں”۔۔
ضرار بچارگی سے بولا۔۔ تو عیشی مشی نے ایک دوسرے کو دیکھا اور پھر ہمدان کے پیچھے سٹیج پہ آگئ۔۔
سارہ نے جیسے ہی نظریں اٹھائ سامنے سے ہمدان آتا دیکھائ دیا۔۔ سکائے بلو کلر کے کاٹن کے شلوار قمیض میں چہرے پہ ہمیشہ والی نرمی اور مسکراہٹ سجھائے۔۔
اسکو دیکھتے ہی سارہ کی آنکھ سے ایک آنسو ٹوٹ کے گرا جسے وہ کمال مہارت سے چھپا گئ۔۔
💝💝💝💝💝💝💝💝
سارہ اور خازق کی منگنی کی تقریب شروع ہو چکی تھی۔۔ بریرہ اور حرم نے دونوں کو انگوٹھیاں پکڑائ ۔۔ دونوں نے ایک دوسرے کو انگوٹھی پہنائ تو سب نے خوب ہوٹنگ کی۔۔
“آہممم سب لوگ متوجہ ہو میں بہت ضروری علان کرنے لگا ہوں”۔۔
احرام صاحب سٹیج پہ جاکے بولے تو سب انکی طرف متوجہ ہوئے۔۔ نازلی بھی سٹیج پہ کھڑی حیرانی سے انہیں دیکھ رہی تھی۔۔ اسے ابھی بریرہ نے سٹیج پہ بھلایا تھا۔۔اور اسکے سر پہ دوپٹہ دے دیا۔۔
“اصل میں ہمارے دو بچے ایک دوسرے سے شادی کے خواہش مند ہیں۔۔مگر شرم کی وجہ سے ہمیں بتا نا سکے۔۔ ممکن تھا انکی محبت کا انجام جدائ ہو جاتا اگر میری شہزادیاں عیشال شاہ اور مشال شاہ بروقت ہمیں آگاہ نا کرتی( احرار صاحب مسکراتے ہوئے بول رہے تھے۔۔ بڑھے سب بھی مسکرا رہے تھے۔۔جبکہ باقی سب انکی بات سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے۔۔ مگر مشی کا ڈر کے مارے برا حال تھا۔۔اور عیشی تو ساری سچویشن کو انجوائے کر رہی تھی ) اب ہم نے سوچا ہے اپنے بچوں کی آج منگنی کر دیتے ہیں۔یہ ان کے لیئے سرپرائز ہے ۔کیونکہ میری نواسیاں چاہتی تھی انہیں سرپرائز کریں۔۔ جی تو اس شاہی جوڑی کا نام ہے۔۔۔(احرار صاحب بولتے ہوئے چپ ہوئے اور سبکو مسکرا کے دیکھا ) امان شاہ اور نازلی شاہ”۔۔
“کیااااااااااااا😱”۔۔۔
احرار صاحب کے بولتے ہی امان اور نازلی کو جھٹکا لگا۔۔دونوں نے اتنے زور سے کیا بولا کہ ایک دم پورے ماحول پہ سکوت طاری ہوگیا۔۔ جبکہ احرار صاحب نازلی کی چینخ سن کے اپنی جگہ سے اچھل گئے۔۔ مشی نے تو باقائدہ عیشی کا بازو پکڑ کے کانپنا شروع کر دیا۔۔اور ان دونوں کے چہرے دیکھ کے اب تو عیشی کا دل بھی اچھل گیا۔۔۔
💝💝💝💝💝💝💝💝
جاری ہے۔۔۔
