393.4K
34

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Ek Hai Aafat) Episode 17

شاہ ہاوس***
“ہم سب بڑوں نے ایک فیصلہ کیا ہے جو آپ سبکو بتانا ہے”۔
شام چائے کے لیئے ریا نے سب گھر والوں کو اکٹھا کیا۔۔ جب سب آگئے تو احرار صاحب نے کہا۔۔۔
“رکے نانا جی”۔۔
عیشی سیڑھیوں سے چینخ کے بولی تو سب نے اسے دیکھا۔۔
“کیا ہوا بچے؟”۔۔
عیشی تیز تیز سیڑھیاں اترنے لگی تو احرار صاحب نے پوچھا۔۔۔
“وہ وہاں آپکی آواز نہیں آنی تھی نا۔”
عیشی معصومیت سے بولی تو سب نے سر پکڑا۔۔
“اب سب آگئے ہیں نانا جی اب بتائیں”۔۔
عیشی کے بیٹھتے ہی امان نے پوچھا۔۔
“گھر میں منال کا رشتہ آیا تھا اور سب نے غور کیا تو ہمیں مناسب لگا اور منال بچے کو بھی کوئ اعتراض نہیں ہیں ہے تو ہم نے ہاں کردی سنڈے کو منال کی منگنی ہے آپ میں سے جس نے جو کرنا ہے دوستوں کو بلانا یا کوئ اور پلان ہے تو آزادی ہے کر سکتے ہیں فنکشن گھر میں ہی ہے مجھے کوئ بدمزگی نہیں چاہیئے”۔۔
احرار صاحب نے اپنا فیصلہ سنایا تو ضرار نے آنکھیں پھاڑے عیشی مشی کو دیکھا جبکہ انکی حالت بھی مختلف نا تھی وہ دونوں امان کو گھور رہی تھی جو دکھ کے ہمدان کو دیکھ رہا تھا۔۔ جبکہ ہمدان ایسے رلیکس تھا جیسے کچھ ہوا ہی نہیں ہو۔۔۔ منال کی آنکھیں پانیوں بھری تھی جسے دیکھ کے حنان نے سر جھکا لیا۔۔۔
سب سے پہلے منال اٹھ کے کمرے میں گئ۔۔اسکے پیچھے ہی ضرار بھی عیشی مشی کو گھورتا منال کے کمرے میں چلاگیا۔۔۔ بڑھے سب فنکشن کا ڈسکس کرنے لگے تو حنان اٹھ کے گھر سے نکل گیا۔۔ جبکہ عیشی مشی خطرناک تیور لیئے ابھی بھی امان کو گھور رہی تھی۔۔۔
کچھ دیر بعد ہمدان فون سنتا باہر نکلا تو امان بھی فورأ اسکے پیچھے باہر آگیا ۔۔۔
“آپ نے تو کہا تھا سب ٹھیک کردے گے پھر یہ کیا ہے؟” ۔
ہمدان جیسے ہی فون سن کے واپس مڑا تو امان اسکا راستہ روک کے بولا ہمدان نے سکون سے بازو سینے پہ باندھے۔۔
“میں نے کل تمھاری بات سنی اور اس پہ بہت سوچا جو حنان نے کیا یعنی خود منو کو انکار اسکے بعد میں حنان کو منو کے قابل نہیں سمجھتا ۔۔۔ کیونکہ منو میری بہن ہے اور میں نہیں چاہتا کہ اپنی بہن کو کسی ایسے سے بیاہوں جو اسکی حفاظت نا کر سکے۔۔۔”
ہمدان سکون سے بولا تو امان نے بے بسی سے لب کاٹے ہمدان کی بات بھی ٹھیک تھی مگر دوسری طرف اسکا دوست بھائ تھا۔۔ وہ ہمدان جتنا سخت دل نہیں بن سکتا تھا۔۔۔
امان کے پیچھے آتی عیشی مشی نے بھی ہمدان کی بات سن لی تھی اور روتی صورت بنا کے ایک دوسرے کو دیکھا۔۔۔
“بھائ وہ بہت محبت کرتا ہے منو سے”۔۔
امان نے اپنی طرف سے ایک اور کوشش کی مگر ہمدان کی سنجیدہ نظریں دیکھ کے گڑبڑا گیا۔۔۔
“ہنن محبت۔۔ اسکو محبت نہیں کہتے اور اگر محبت کرتا تو سٹینڈ لیتا۔۔ تمھیں کیا لگتا ہے وہ گھر بات کرتا تو اسکی بات نا مانی جاتی۔۔ جبکہ اچھے سے جانتے ہو ہمارے پیرنٹس فرینڈلی ہیں۔۔ وہ تھا ہی بزدل اور یہی اسکی سزا ہے۔۔ خیر ابھی منگنی میں پورے پانچ دن ہیں۔۔باقی کام میں دیکھ لوں گا ۔۔ خواتین کو کچھ شاپنگ کرنی ہوگی وہ تم کرا دینا۔۔۔”
ہمدان سکون سے کہتا چلا گیا تو امان نے انگلیاں بالوں میں پھنسائ۔۔
“آپ نے تو کہا تھا آپ سب دیکھ لے گے۔۔ بجائے خود کچھ کرنے کے دانی بھائ کو بتا دیا۔۔ انکا تو کام بن گیا ہے سبکو رلانا۔۔میں خود ہی دیکھ لیتی ہوں۔۔ یہ منگنی کسی صورت نہیں ہونے دوں گی۔”۔۔
عیشی امان کے سامنے جاتے دونوں ہاتھ کمر پہ رکھ کے بولی تو امان نے حیرت سے بہن کو دیکھا اسنے تو ایسے کبھی بات نہیں کی تھی۔۔۔مگر آج منو اور حنان کے لیئے وہ بھائ سے لڑھ رہی تھی۔۔ اور کل انجیکشن والی بات پہ ہمدان سے بھی اچھی خاصی ناراض تھی۔۔۔
“تم کچھ نہیں کرو گی عیشی خدا کا واسطہ ہے یہ ان دونوں کا اپنا فیصلہ ہے ۔۔ یہ ایسے ہی ہونا ہے تم دور رہو اس سے “۔۔
امان نے اسے حنان والی بات بتائ پھر ہاتھ جوڑ کے کچھ بھی الٹا سیدھا کرنے سے روکا۔۔۔ تو عیشی نے دکھ سے اسے دیکھا اور پاوں پٹختی اندھر چلی گئ۔۔ اسکے پیچھے ہی مشی بھی پاوں پٹخ کے امان کو دیکھتے اندھر چلی گئ تو امان نے حیرت سے دونوں نمونیوں کو دیکھا جو ایک دوسرے کو کاپی کرنا اپنا فرض سمجھتی تھی۔۔۔
💗💗💗💗💗💗
“آپی “۔۔
منو کمرے میں آئ اور دروازہ بند کرتی بیڈ کے کونے پہ بیٹھ کے رونے لگی اور ہاتھ منہ پہ دبا کے رکھے سسکی کو روکا۔۔ تب ہی ایک دم سے دروازہ کھولتا ضرار اندھر آیا اور منو کو دیکھ کے بولا تو اسنے جلدی سے آنسو صاف کیئے ۔ اور مسکرا کے ضرار کو دیکھا جو سنجیدگی سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔
اس سے پہلے کے منو کچھ بولتی پاس آتے ہی ضرار نے منو کو گلے لگایا۔۔ ان دونوں بہن بھائ میں ایسا رشتہ نا تھا۔۔ مگر آج ضرار نے اچانک اسے گلے لگایا تو وہ خود کو روک نا سکی اور بھائ کے گلے لگ کے پھوٹ پھوٹ کے رونے لگی۔۔
“بسس بہت ہوا میں ایسا کوئ فیصلہ نہیں ہونے دوں گا جس سے میری بہن کی آنکھوں میں آنسو آئے۔۔ میں ابھی جاکے دادا جی سے بات کرتا ہوں ۔۔یہ منگنی نہیں ہوگی۔۔ آپکی شادی وہاں ہی ہوگی جہاں آپکا دل چاہے گا۔۔ “
ضرار منال کے آنسو صاف کئے۔۔ اسکی آنکھیں بھی سرخ ہو رہی تھی۔۔ اپنے آپ کو رونے سے روکتا وہ منال کا چہرہ ہاتھ کے پیالوں میں لیئے بولا۔۔
“نہیں ضاری میں خوش ہوں ماما نے مجھ سے پوچھا تھا۔۔ میں نے خود یہ فیصلہ کیا ہے۔ بس تم سب سے دور جانے کا سوچ کے میرا دل بھر آیا “۔۔
منال نے جلدی سے ضرار کو روکا اور آنکھیں صاف کرتی مسکرا کے بولی۔۔ تو ضرار نے دکھ سے بہن کو دیکھا۔۔ وہ کچھ نہیں بولا کہ سب جانتا ہے کیونکہ وہ بہن کا بھرم نہیں توڑنا چاہتا تھا۔۔
دروازے سے سر اندھر کیئے عیشی مشی نے بھی اپنے آنسو صاف کیئے اور آہستہ سے دروازہ بند کرتی اپنے کمرے میں آگئ۔۔
💗💗💗💗💗💗💗
رات کھانے پہ سب موجود تھے بڑھے سب تو نارمل تھے مگر بچے سارے بے چین تھے۔۔ منو کو ضرار زبردستی کھانے پہ لے آیا تھا ۔۔ اسکو دیکھ کے حنان نے سر جھکا لیا تھا۔۔ جسے ہمدان اور امان دونوں نے محسوس کیا تھا۔۔ جبکہ عیشی مشی کو حنان پہ بہت غصہ تھا۔۔
“ارے حنان بھائ وہ دیگچی پکڑائے ذرہ “۔۔
منال کے بیٹھتے عیشی حنان کو دیکھ کے بولی۔جو آخری کرسی پہ بیٹھا تھا اور پچھلے ٹیبل پہ دیگچی پڑھی تھی جس میں ہماہ نے سالن بنایا تھا ۔۔
“کیوں؟”۔۔
سب نے حیران ہوکے عیشی کو دیکھا اور حنان نے بھی حیرت سے پوچھا۔۔
“ارےےے کیا آپ نے دن کو نانا جی کی بات نہیں سنی سنڈے کو آپکی بہن کی منگنی ہے اور آج منو آپی دیگچی چاٹے گی تاکہ سنڈے کو بارش ہو موسم اچھا رہے۔۔ ورنہ اتنی گرمی میں کہا خاک انجوائے ہوگا”۔۔
عیشی کافی جتا کے مسکراتے ہوئے بولی۔۔ جبکہ اسکے بھائ کہنے پہ منال نے حنان کو دیکھا جو بت بنا بیٹھا تھا ۔۔ اور ہمدان حنان کی شکل دیکھ کے ہنسی روک رہا تھا۔۔
حنان تو خیالوں کی دنیا میں کھو گیا جہاں دو چھوٹے چھوٹے بچے اسے مامو مامو کہتے اسکے ساتھ چمٹ رہے تھے۔ اور منال اور ذنبیل ساتھ کھڑے مسکرا رہے تھے کہ ان سے ملو حنان یہ تمھارے بھانجے ہیں ۔
“ارے دے بھی اب”۔۔
عیشی اونچا سا بولی تو حنان خیالوں سے باہر نکلا اور گلہ تر کرتے ہوئے برا سا منہ بنا کے دیگچی عیشی کو پکڑائ ۔۔ جبکہ باقی سب سر پکڑے بیٹھے تھے کہ اب کونسا نیا کیڑا عیشی کے دماغ میں گھس گیا ہے۔۔
“بس کرو عیشی یہ سب فرسودہ ہے آرام سے کھانا کھاو اور منو کو بھی کھانے دو”۔۔
رشی عیشی کو ڈانٹ کے بولی مگر عیشی ان سنا کرکے منو کی پلیٹ سائیڈ پہ کرتی دیگچی رکھ کے آنکھوں کے اشارے سے بولی کے کھاو۔۔۔
“بس بہت ہوگیا عیشی “۔۔
منو بے بسی سے سبکو دیکھ رہی تھی جب رشی غصے سے بولی اور دیگچی منو کے منہ کے آگے سے اٹھائ ۔۔ عیشی نے کچھ بولنا چاہا مگر رشی نے ہاتھ اٹھا کے روک دیا اور دیگچی کچن میں رکھ آئ۔۔ تو منو نے سکون کا سانس لیا ۔ اور باقی سب نے کھانا شروع کیا۔۔۔ جبکہ عیشی برے برے منہ بنانے لگی۔۔
💗💗💗💗💗💗💗
“آج جمعرات ہے تو میں سوچ رہی ہوں آج ہی منو کو لے جاتے ہیں اور شاپنگ کر آتے ہیں۔ کل جمعہ ہے اور جمعہ کے دن باہر جانا بہت ہی مشکل ہو جاتا ہے۔۔۔ پھر ہفتے کو مہمان آنا شروع ہوجائیں گے دعوت بھی دینی ہوگی۔۔ تو ٹائم نہی ملے گا”۔۔
ناشتے کے وقت رشی نے کہا تو سب نے اتفاق کیا۔۔۔ اور عیشی مشی کو بھی اسی لیئے کالج سے روک لیا گیا۔۔ اب امان اور ہمدان نے انکو شاپنگ پہ لے کے جانا تھا۔۔
ضرار اور عارب گھر پینٹ کرا رہے تھے اور کھانے وغیرہ کے انتظامات شاہ اور عازب کے ذمے تھے جبکہ ڈیکوریشن ساری حنان نے کروانی تھی اسی سلسلے میں وہ باہر گیا تھا۔۔
احرار صاحب مہمانوں کی لسٹ بنا رہےتھے۔۔۔


“آہہم عیشی ادھر آو یار یہ شرٹ پریس کردو ماما کو بولا بھی تھا دوسری کردی انہوں نے”۔۔
ناشتے کے بعد سب اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہوگئے تو ہمدان شرٹ اٹھائے نیچے آیا اور ادھر ادھر زری کو ڈھونڈنے لگا مگر وہ کہی نظر نا آئ ۔۔کچھ دیر بعد اسے کچن سے باہر آتی عیشی دکھی تو وہ شرٹ لیئے اسکے پاس آیا اور شرٹ دیکھاتے بیزار سا بولا۔۔۔
“خوش ہوگئے اب آپ۔۔ مل گیا سکون دو معصوم لوگوں کے دل توڑ کے۔۔۔ اب جشن منائیں۔۔بہت خوشی ہوتی ہے نا دوسروں کو رلا کے ۔۔ اللہ کرے وہ میسنی سارہ آپکو بھی نا ملے پھر پتا چلے گا یہ دکھ ہنننن۔۔۔ اور اور یہ شرٹ جاکے اس میک اپ کی فیکٹری کو کہے پریس کرکے دے”۔۔
عیشی تو کل سے ہمدان پہ شدید غصہ تھی اور جیسے ہی موقع ملا پھٹ پڑھی۔۔ جبکہ ہمدان منہ کھولے اسکو دیکھ رہا تھا۔۔ جو ایک ہاتھ کمر پہ رکھے دوسرا اسکے سامنے نچا نچا کے بول رہی تھی۔۔۔ اور آخر میں جاتے ہوئے مڑی اور ہمدان کے ہاتھ سے شرٹ لے کے ایک نظر دیکھی پھر اسکے ہاتھ میں پٹختے ہوئے وہاں سے چلی گئ۔۔ اور ہمدان ابھی بھی منہ کھولے اسکو جاتا دیکھتا رہا۔۔پھر جب وہ کمرے میں جاکے بند ہوگئ تو سر نفی میں ہلاتا مسکراتا ہوا دوبارا زری کو ڈھونڈنے لگا ۔۔۔
💗💗💗💗💗💗💗💗
“نانا جی ہم نے اپنی فرینڈ کو بھی بلانا ہے آپ اسکا نام بھی لکھیں اور ہمارے ساتھ دعوت دینے جائیں گے”۔۔
احرار صاحب لسٹ بنا رہے تھے جب مشی آکے پاس بیٹھی اور لسٹ دیکھتی بولی۔۔۔
“ٹھیک ہے آپ چلی جانا بچے”۔۔
احرار صاحب مسکرا کے بولے تو مشی بھی خوش ہوگئ۔۔
“مگر کس کے ساتھ جاوں گی”۔۔
خوشی میں اچانک مشی کو یاد آیا اور وہ منہ بنا کے بولی ۔۔
“کہاں جانا ہے بھئ “۔۔
عازب کمرے میں آتا بولا تو مشی اسے دیکھ کے مسکرانے لگی ۔۔
“بڑھے پاپا ہماری کالج فرینڈ ہے نازلی اسکو بھی بلانا ہے مگر دعوت دینے کس کے ساتھ جاوں “۔۔
مشی نے اپنی پریشانی بتائ۔۔
“تو اس میں کیا ہے تمھاری تائ جائیں گی دعوت دینے اپنی کچھ فرینڈز کو تم بھی ساتھ چلی جانا ہمدان گاڑی میں لے جائے گا تم لوگ بھی دعوت دے آنا۔۔”۔۔
عازب نے حل بتایا تو مشی خوشی سے سر ہلانے لگی۔۔
“میں بھی جاوں گی”۔۔
عیشی کمرے میں آتی بولی اور احرار صاحب کے ساتھ بیٹھ گئ۔۔احرار صاحب نے مسکرا کے اپنے دائیں بائیں جانب بیٹھیں اپنی لاڈلی بیٹی کی بچیوں کو دیکھا اور دونوں کو پیار کیا۔۔ تو دونوں بچوں کی طرح مسکرانے لگی۔۔ اس وقت دونوں کی بالکل معصوم بچیاں لگ رہی تھی۔۔۔
💗💗💗💗💗💗
شاپنگ پہ بھی عیشی نے ہمدان سے بات نہیں کی اور منال نے بھی بے دلی سے شاپنگ کی جبکہ باقی سب نے خوب دل لگا کے ہر چیز خریدی۔۔ اور رات کے وقت تھک ہار کے واپس آئے۔۔۔
اگلے دن جمعہ تھا اور گھر میں سب مصروف تھے۔۔


“رکے ذنبیل بھائ مجھے آپ سے بات کرنی ہے”۔۔
ذنبیل ہمدان نے ملنے اسکے گھر آیا تو عیشی نے اسے اکیلے دیکھ کے آواز دی اور اسے لے کے گارڈن میں آگئ۔۔
“کیا بات کرنی تھی؟”
گارڈن میں آتے ہی سیمنٹ کے بنے بینچ پہ بیٹھتے ذنبیل نے پوچھا جبکہ عیشی ادھر ادھر دیکھ کے کنفرم کر رہی تھی کہ کوئ دیکھ تو نہیں رہا۔۔۔
“آپکو بتانا تھا آپکے ساتھ دھوکہ ہو رہا ہے”
عیشی کچھ سوچ کے جلدی سے بولی تو ذنبیل نے آنکھیں چھوٹی کرکے غور سے اسے دیکھا ۔۔
“کونسا دھوکہ”
ذنبیل نے پوچھا تو عیشی نے خود کو تیار کیا۔۔
“منال آپی نارمل نہیں ہیں مین وہ نارمل بیہیو نہیں کر سکتی۔۔۔ کبھی وہ خاموش ہو جاتی ہیں کبھی نارمل نہیں رہتی۔۔ یہاں تک کے بیمار بھی ہوجاتی ہیں۔۔ اور آپکا تو بزنس ہے آپکو تو لوگوں سے ملنا ہوتا ہے فیملی پارٹیز ہوتی ہیں ایسے میں آپکو مسلہ ہوگا”
عیشی نے ایسے اعتماد سے جھوٹ بولا کہ ذنبیل تو کیا شیطان بھی حیران رہ گیا😜۔۔
ذنبیل صدمے سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔ اور عیشی دل ہی دل میں خوش ہو رہی تھی کہ اب تو ذنبیل پکا شادی سے انکار کردے گا۔۔
“عیشی تم یہاں کھڑی ہو آدھے گھنٹے سے تمھیں ڈھونڈ رہی ہوں جلدی چلو تیار نہیں ہونا کیا جمعے کی نماز کے بعد نازلی کے گھر دعوت دینے جانا ہے”
مشی وہاں آتی بولی تو عیشی ذنبیل کو بائے کہتی مشی کے ساتھ اندھر چلی گئ۔۔ جبکہ ذنبیل ابھی تک عیشی کی باتوں پہ حیران سا کھڑا تھا۔۔۔
💗💗💗💗💗💗💗
“تم رو رہے ہو”۔۔
مشی ضرار کو کھانے کے لیئے بلانے آئ تو وہ ٹیرس پہ کھڑا تھا۔۔جب مشی کو لگا کہ وہ رو رہا ہے تو سامنے آتی وہ حیرانی سے بولی۔۔ضرار نے فورأ اپنی آنکھیں صاف کی۔۔۔
“نہیں تو پاگل میں کیوں رونے لگا”۔۔
ضرار نے زبردستی مسکراتے ہوئے کہا۔۔
“مجھے پتا ہے منو آپی کے جانے کا سوچ کہ تم سیڈ ہو”
مشی رینگ پہ ہاتھ رکھ کے بولی تو ضرار نے بغور اسے دیکھا۔۔
“شکر ہے مشی تم ببل چباتے ہوئے نہیں اٹکتی ورنہ مجھے لگا تھا تم یہ بات بھی ایسے ہی کہو گی۔۔۔آہہہم ۔۔۔
مجھے پٹا ہے منو آپی کے جانے کا شوچ کے ٹم شیڈ ہو”۔۔
مشی کو اسکی بات سے ہٹانے کے لیئے ضرار نے کھنکار کے گلہ صاف کرتے اسکی نقل اتاری اور
ہنسی دبائ کیونکہ مشی ببل چبا رہی تھی۔۔
“تم ہو ہی بتمیز+ڈفر+لوفر ۔۔بہت مزہ آئے اگر گرو یہاں سے تمھارے دماغ کے ڈھیلے پرزے صحیح ہو جائیں اسی بہانے”۔۔
مشی ضرار کو دیکھ کے بولی تو اس نے دل میں ہی شکر ادا کیا کہ وہ اپنی بات سے ہٹ گئ ہے ورنہ اسنے جان نہیں چھوڑنی تھی۔۔
“ہاں گرتے ہوئے تمھیں بھی ساتھ لے جاوں گا تاکہ تمھاری یہ ہکلی سٹپنی ٹائٹ ہوجائے۔”
ضرار نے نچلا لب دانتوں میں دبا مسکراہٹ دباتے کہا تو مشی نے غصے سے اسے مکا مارا۔۔
“تمھیں پتا ہے تم ہو ہی ایک نمبڑ کے فضول انسان ضڑاڑ کے بچے جاو مڑو میڑے کو نہیں پتا”۔۔
غصے میں مشی کی زبان پھسل گئ تو ضرار نے زوردار قہقہہ لگایا۔۔اسکے ہسنے پہ مشی غصے سے اسکو مکا مارتی وہاں سے چلی گئ
۔ جبکہ ضرار دیر تک ہنستا رہا۔۔ اب اسکا موڈ فریش ہو چکا تھا۔۔ پہلے والی اداسی دور دور تک نظر نہیں آرہی تھی۔۔۔
💗💗💗💗💗💗💗
“چلیں آنی ہم تیار ہوگئے ہیں”۔۔
جمعہ کی نماز کے بعد زری تیار ہوکے ہال میں آئ تبھی عیشی مشی وہاں آئ اور عیشی دوپٹہ سیٹ کرتی بولی۔۔ زری نے مسکرا کے اسے دیکھا اور ان دونوں کے ساتھ باہر آئ جہاں ہمدان گاڑی کے پاس کھڑا انکا ویٹ کر رہا تھا۔۔
“تم نے تو کہا تھا کہ فرنٹ سیٹ تم سے کوئ نہیں چھین سکتا”۔۔
گاڑی کے پاس آتے ہی عیشی نے فرنٹ ڈور اوپن کرکے زری کو بیٹھنے کا کہا جب وہ بیٹھ گئ تو عیشی گھوم کے دوسری سائیڈ آئ اور جیسے ہی بیٹھنے لگی ۔ہمدان نے اسکے پاس جھکتے اسے یاد دلایا۔۔ مشی بھی گاڑی میں بیٹھ چکی تھی۔۔
“ہاں کہا تھا۔۔ مگر پھر میں نے سوچا کہ فرنٹ سیٹ میں صرف اپنے ہیرو کے ساتھ بیٹھوں گی۔۔بس ہر ایک کے ساتھ نہیں “۔۔
عیشی نے آنکھیں گھوما کے ناراضگی کا احساس دلاتے ہوئے کہا تو ہمدان نے مسکراہٹ دبائ اور سمجھنے والے انداز میں سر ہلایا۔۔ عیشی کے بیٹھتے ہی ہمدان نے دروازہ بند کیا تو عیشی نے اسے گھورا اور دروازہ کھول کے خود بند کیا۔ ہمدان نے ہنستے ہوئے سر نفی میں ہلایا کہ اسکا کچھ نہیں ہو سکتا۔۔ پھر ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی ۔۔اور گاڑی سٹارٹ کرکے گھر سے باہر نکالی۔۔
انکا پلان پہلے شزا کے گھر جانے کا تھا اسے انوائٹ کرکے نازلی کے گھر جانا تھا۔۔۔
شزا کے گھر زری ہی گئ تھی۔۔عیشی مشی گاڑی میں ہی رہی۔۔ ہمدان عیشی سے بات کرنے کی کوشش کرتا مگر وہ اگنور کر رہی تھی۔۔ اسے سخت غصہ تھا ہمدان پہ کیونکہ اسکی وجہ سے حنان اور منال دونوں سیڈ تھے۔۔۔
💗💗💗💗💗💗💗
“اب اس طرح بیٹھنے سے کیا ہوگا جب موقع تھا تب تو بھیگی بلی بن گئے تھے”۔۔
امان کام کر کر کے تھک ہار کے جب چھت پہ آیا تو حنان یہاں کھڑا ڈوبتے سورج کو دیکھ رہا تھا۔۔۔جب سے حنان نے منال کو خط والی سچائ بتائ تھی اسکے بعد سے امان آج حنان سے بات کر رہا تھا۔۔۔
“یار مان تو تو میرے زخموں پہ نمک نا چھڑک آگے تیری بہن کم ہے کیا جو آتے جاتے مجھے احساس دلاتی ہے کہ منو بہن ہے میری۔۔ اب تو میرا دماغ بھی اسکو بہن سمجھنے لگا ہے”۔۔
حنان منہ بنا کے بولا تو اسکی شکل دیکھ کے امان کو دکھ ہوا مگر اسکا لہجہ دیکھ کے ہنسی آئ۔۔
“ہاں تو اچھا ہے نا جتنی جلدی قبول کرلو ۔۔تاکہ کل کو اپنے بھانجے بھانجیوں کے اچانک مامو کہنے پہ دورہ نا پڑھے تمھیں”۔۔
امان نے ہنسی چھپا کے سنجیدگی سے کہا تو حنان نے روتی صورت بنا کے اسے دیکھا۔۔۔
“ہاہاہاہاہاہا مزاق کر رہا ہوں یار ۔۔ موڈ صحیح کرلو جو ہوتا ہے بہتری کے لیئے ہوتا ہے”۔۔
امان نے اسکا کندھا تھپتھپاتے ہوئے کہا تو حنان نے سر ہلا کے دوبارا ڈوبتے سورج کو دیکھا اب جہاں سورج کی جگہ سرخی پھیل گئ تھی۔۔۔
💗💗💗💗💗💗
“السلام علیکم آنٹی میں عیشال شاہ ہوں نازلی کی دوست۔۔اسنے آپکو بتایا ہوگا ہمارا”۔۔
نازلی کے گھر آتے ہی عیشی نے بیل دی تو ایک خوبصورت ہی عورت دروازہ کھولنے آئ ۔۔عیشی نے اپنا تعارف کرایا۔۔ جبکہ زری مشی اور ہمدان ابھی پیچھے تھے۔۔
“وعلیکم السلام بیٹا مجھے بتایا ہے نازلی نے آو آپ اندھر اکیلی آئ ہو کیا؟”۔۔
سلام کا جواب دیتے ہی انہوں نے مسکرا کے اسے ویلکم کیا پھر اس سے پوچھا تب ہی زری مشی اور ہمدان بھی آگئے۔۔
“السلام علیکم بریرہ تم یہاں۔۔ کب واپس آئ یورپ سے”۔۔
سامنے آتے ہی زری نے بریرہ کو دیکھا تو حیرت سے پوچھا پھر خوشی سے گلے ملی۔۔بریرہ کی حالت بھی کچھ مختلف نا تھی۔۔
“وعلیکم السلام زرتاشہ میں کچھ سال پہلے ہی واپس آئ تھی۔۔واو یہ تمھاری بیٹیاں ہیں”۔۔
بریرہ خوشی سے اسے ملی اور انہیں اندھر آنے کا کہا ساتھ ہی بتایا۔۔ جبکہ ہمدان مشی اور عیشی حیرانی سے ان دونوں خواتین کو دیکھ رہے تھے۔۔
“نہیں یہ رشی کی بیٹیاں ہیں عیشال شاہ اور مشال شاہ ۔۔ اور یہ میرا بیٹا ہے ہمدان شاہ ۔۔ بچوں ان سے ملو یہ آپکی پھپھو بھی ہیں اور خالہ بھی۔۔ بریرہ۔۔یہ عازب کے مامو کی بیٹی ہیں”۔۔
زرتاشہ نے ان سب کا آپس میں تعارف کرایا۔۔تو سب خوشی سے ایک دوسرے کو ملے۔۔
“ما شاہ اللہ بہت پیارا بیٹا ہے آپکا ۔۔ اور رشی کی بیٹیاں بالکل رشی جیسی ہیں۔۔ “
بریرہ خوشی سے ملی تو عیشی مشی مسکرا دی۔۔
“السلام علیکم۔۔”
۔۔بریرہ نے انہیں ڈرائینگ روم میں بٹھایا تب ہی وہاں نازلی آئ اور سبکو سلام کیا۔۔ زری سے ملنے کے بعد وہ تینوں گلے ملی ۔۔ نازلی انکو اپنے گھر دیکھ کے بہت خوش ہوئ تھی۔۔۔
“یہ میں بیٹی ہے نازلی۔۔”۔۔
بریرہ نے اپنی بیٹی کا تعارف کرایا تو زری مسکرا کے اس سے ملی۔۔ زری کو نازلی بہت اچھی لگی معصوم سی ۔۔ کیونکہ ابھی اسنے صرف اسکی شکل ہی دیکھی تھی حرکتیں نہیں😜😜۔۔۔
“السلام علیکم۔”
کچھ دیر بعد بریرہ کی ملازمہ چائے اور دیگر لوازمات کی ٹرالی لے کے آگئ تو نازلی نے سبکو سرو کیا۔۔ تب ہی وہاں خازق آگیا اور سبکو سلام کیا۔۔اسکو دیکھ کے عیشی کا منہ کھل گیا وہ بالکل ہیرو جیسا تھا۔ خوبصورت ہینڈسم۔۔
“یہ میرا بڑا بیٹا ہے خازق۔۔ابھی اسکی ایجوکیشن کمپلیٹ ہوئ ہے اور اس نے آرمی جوائن کی ہے۔۔۔ اور بیٹا ان سے ملو یہ رشتے میں تمھاری خالہ ہی لگتی ہیں۔۔ عازب مامو کی بیوی ہیں یہ”
بریرہ نے خازق کا تعارف کرایا۔۔ تو وہ بھی سر کو خم دیتا زری سے ملا پھر ہمدان سے ملا۔۔ اس سارے عرصے میں عیشی خازق کو حسرت سے دیکھتی رہی کیونکہ وہ آرمی یونیفارم میں تھا۔۔ اور اسکا ایسے دیکھنا ہمدان کو ایک آنکھ نا بھایا ۔۔
“آپ یہاں”
خازق ہمدان سے ملا تو حیرت سے پوچھا۔۔
“آپ لوگ جانتے ہیں ایک دوسرے کو؟”۔۔
خازق کے ایسے پوچھنے پہ بریرہ نے سوال کیا۔۔
“آہہ جی وہ خازق اور میں ایک ہی یونیورسٹی میں پڑھتے تھے تو ہیلو ہائے تھی”۔۔
ہمدان نے مسکرا کے کہا تو سب نے سر ہلایا۔۔ کچھ دیر ادھر ادھر کی باتیں ہوئ پھر انکو منگنی کی دعوت دے کے وہ لوگ رخصت ہوئے۔۔ اس سارے عرصے میں ہمدان جلد از جلد عیشی کو وہاں سے لے جانا چاہتا تھا۔۔۔
سارے رستے ہمدان کا موڈ آف رہا اور اسکی وجہ عیشی تھی جو آنکھیں پھاڑے خازق کو گھور رہی تھی۔۔
💗💗💗💗💗💗💗
“ہائےےےےے مشی نازلی کتنی میسنی ہے نا ایک بار بھی نہیں بتایا اسکا بھائ آرمی میں ہے اور اتنا ہینڈسم ہے اففف “۔۔
اگلے دن گھر میں صحن ڈیکوریٹ کیا جا رہا تھا۔۔ عیشی مشی چھت پہ بیٹھی چاکلیٹ جوس پی رہی تھی جب عیشی جوش سے بولی۔۔ تو مشی نے سر پکڑا کیونکہ کل سے عیشی نے یہی رٹ لگا رکھی تھی۔۔
“بس کردو عیشی چیک کرو اپنی حرکتیں۔۔ ایسے کوئ بات کرتا ہے کسی لڑکے کے بارے میں”۔۔
مشی نے اسکو ٹوکتے ہوئے کہا تو عیشی نے نظریں گھمائ ۔۔
“ہننن تمھیں کیا پتا وہ یونیفارم میں بالکل ہیرو جیسا لگ رہا تھا “۔۔
عیشی خیالوں میں کھوئ بولی تو مشی نے سر جھٹکا۔۔۔
“بھئ یہ کس ہیرو کی بات ہو رہی تھی۔۔؟
ہمدان چھت پہ آیا اور عیشی کی بات سن کے بولا۔۔
“خازق کی”۔۔
عیشی فورأ بولی اور ساتھ ہی اپنی غلطی کا احساس ہوتے ہی زبان دانتوں تلے دبا لی اور آنکھیں زور سے میچ لی پھر تھوڑی سی آنکھ کھول کے ہمدان کو دیکھا جسکا چہرہ سنجیدہ دکھ رہا تھا۔۔ پہلے والی مسکراہٹ اور نرمی کہی نظر نہیں آرہی تھی۔۔۔مشی بھی لب چباتی ہمدان کو دیکھ رہی تھی۔۔
“آج کے بعد خبردار جو تم نے ایسے بات کی تو”
ہمدان نے سنجیدگی سے کہا تو عیشی نے آنکھیں کھول کے اسے دیکھا ۔۔اور مشی دوبارا جوس پینے لگی۔۔
“میں نے تو یہی بولا کہ وہ بالکل ہیرو جیسا لگ رہا تھا”۔۔
عیشی منہ بنا کے بولی تو ہمدان نے مٹھیاں بینچی۔۔ اسے عیشی کی کل والی بات یاد آئ کہ وہ فرنٹ سیٹ پہ اپنے ہیرو کے ساتھ بیٹھے گی۔۔
“میں نے کہہ دیا نا آج کے بعد تم ایسے بھی نہیں بولو گی۔۔”
ہمدان نے سنجیدگی سے کہا ۔۔
“کیوں “
عیشی کے سوال کرنے پہ ہمدان نے آنکھیں بند کرکے خود کو کچھ سخت کہنے سے روکا اور غصہ کنٹرول کرتے گہرا سانس لیا ۔۔
“عیشی پر بات پہ بچوں کی طرح ضد کیوں کرتی ہو جب کہا ہے نہیں تو سمجھ کیوں نہیں آتا تمھیں’۔۔
ہمدان بے بسی سے بولا تو عیشی کو یاد آیا وہ اس سے ناراض ہے۔۔
“کروں گی اور آپ نا یہ روب جاکے اس کچھ لگتی سارہ پہ جمائے میں نہیں ڈرنے والی”۔۔
عیشی دونوں بازو سینے پہ باندھے منہ پھیر کے بولی۔۔
“سٹاپ اٹ عیشی ۔۔میرا کوئ تعلق نہیں ہے سارہ سے تو اسے فضول میں مت لایا کرو جب بات ہماری ہو رہی ہے تو اسکا کیا کام درمیان میں اب اگر تم نے کوئ بات کی تو”۔۔
ہمدان تھوڑا سختی سے بولا تو عیشی کا دماغ گھوم گیا اسے پہلے ہی ہمدان پہ بہت غصہ تھا۔۔
“تو کیا کریں گے آپ مجھے بھی رلائیں گے جیسے منو آپی اور حانی بھائ کو رلا رہے ہیں۔۔ نہیں مانتی آپکی بات اور مانو بھی کیوں ۔۔ کس حق سے روک رہے ہیں آپ؟ “۔۔
عیشی بھی بگڑھ کے بولی تو مشی جوس کا گھونٹ منہ میں رکھے ہی اسے دیکھنے لگی۔۔ جبکہ ہمدان بھی حیران ہوا عیشی نے پہلی دفعہ ایسے بات کی تھی۔۔
“اچھی لگتی ہو تم مجھے۔۔ ابھی سے نہیں بہت پہلے سے ۔۔اور نہیں برداشت ایسے کسی اور کا تم ذکر کرو آئ سمجھ۔۔۔اب اگر بات کی تو”۔۔
غصے میں ہمدان کے منہ میں جو آیا بول گیا۔۔ مگر جب عیشی کو دیکھا جو آنکھیں پھاڑے منہ کھولے اسے دیکھ رہی تھی۔۔اور مشی کے منہ سے جوس فوارے کی صورت باہر نکلا تو۔۔ہمدان نے لب کاٹا اور بالوں میں انگلیاں چلانے لگا۔۔ غلطی کا احساس ہوتے ہی اس نے خود کو کوسا کہ یہاں آیا ہی کیوں تھا۔۔ اس سے پہلے کہ عیشی کچھ بولتی ہمدان جلدی سے نیچے چلا گیا۔۔ عیشی مشی نے حیرانگی سے اسے جاتے دیکھا پھر ایک دوسرے کو۔۔۔ ہمدان کے الفاظ عیشی کے دماغ میں ہتھوڑے تو بالکل نہیں بجا رہے تھے😂۔۔۔ وہ حیران تھی کہ ہمدان بھاگا کیوں۔۔ کیونکہ وہ ہمدان کے الفاظ ابھی بھی کسی اور وے میں لے گئ تھی کہ جیسے ہمدان نے منو کے لیئے حنان کو ریجکٹ کیا تو اسے بھی بہن سمجھ کے بول گیا😂😜( ہائےےے بچارہ ہمارا ہمدان کتھے جا متھا لایا😜)۔۔۔
💗💗💗💗💗💗
جاری ہے۔۔۔