Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Last Episode (Pt 3)


شکر ہے کہ عکاشہ بالکل ٹھیک ہے ورنہ ایک دفعہ تو ہم سب ڈر گئے تھے۔ حرم نے برائیڈل روم میں داخل ہوتے ہوئے بآواز بلند کہا
مجھے تو پہلے ہی یقین تھا کہ کوئی ڈرامہ ہی ہوگا _ ماہم نے اپنا جھمکا دوست کرتے ہوئے حرم کو جواب دیا ارے کیسی لڑکی ہو اگر سچ مچ اسے کچھ ہو جاتا تو ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حرم کو ماہم پر شدید حیرت ہوئی تم ابھی تک اس ڈرامے باز سے واقف نہیں ہوئی کہ وہ کیا چیز ہے ۔۔۔۔۔؟؟ سوائے ڈرامے کرنے اور ڈائیلاگ بولنے کے کوئی تیسرا کام ہے جو وہ پوری ایمانداری سے کرتا ہے ۔ماہم نے سنجیدگی سے پوچھا بہرحال جو بھی ہے لگ “پیار” رہا ہے ۔حرم نے فضول بحث سمیٹتے ہوئے عکاشہ کی تعریف کی۔ میرے سے بھی زیادہ ماہم نے دکھی سی شکل بنا کر پوچھا
نہیں تم تو میری جان ہو تم سے زیادہ کیسے پیارا لگ سکتا ہے ۔۔۔۔۔؟؟؟
مگر پیارا تو وہ بھی ہے ۔حرم کے کہنے پر ماہم مسکرا دی۔
فائق نہیں آیا ۔۔۔۔؟؟؟ ماہم کو اچانک فائق کا خیال آیا
نہیں اس نے نوکری کے لئے کراچی اپلائی کیا تھا وہاں سے اسے کال آگئی ہے حرم نےافسردہ سے لہجے میں بتایا پیپرز سے پہلے ہی ماہم کو حیرت ہوئی۔
ہاں اس کا تعلیمی ریکارڈ اچھا ہے ۔ شاید اسی لیے ان لوگوں نے اسے بلایا ہے _ حرم کے جواب پر ماہم نے سر ہلایا تبھی کلثوم بیگم اندر داخل ہوئی۔ چلو جلدی سے اسے باہر لے کر آؤ وہ لوگ رخصتی کا کہہ رہے ہیں ۔ کلثوم بیگم کے کہنے پر حرم ایکدم اداس ہو گئی۔ ارے تم کیوں رونے والی شکل بنا رہی ہوں جسے رونا چاہیے اس کی خوشی تو دیکھو ۔۔۔۔۔؟؟؟ اور خوش کیوں نہ ہو اتنے امیر لوگوں میں جا رہی ہے ساری بارات “کرولا لینڈکروزر _ اور مرسڈیز” پر آئی ہے۔کلثوم بیگم نے آج کا دن بھی نہیں چھوڑا اور عادت کے مطابق طنز کر کے نکل گئی ۔ امی کی عادت کا تو پتہ ہی ہے تم پلیز ان کی باتوں کو دل پر مت لینا ۔حرم شرمندہ سی ماہم کو اٹھانے لگی۔ ہممممم تم پریشان نہ ہو میں انہیں بہت اچھے سے جانتی ہوں۔ ماہم کہتے ہوئے حرم کی مدد سے کھڑی ہو گئی۔ پھر دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھتے ہوئے گلے لگا لیا تو حرم چھم چھم رونے لگی۔
رو کیوں رہی ہو ۔ میں کونسا دور جا رہی ہوں ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
ویسے بھی ابھی ہم نے یونی میں روز ملنا ہے ۔کم ازکم پیپر تک تو پکا ہے ماہم نے تسلی دی جب کہ اس کا اپنا دل بھی اداس تھا تبھی زبیر صاحب اندر داخل ہوئے ۔ ابّا آپ حرم نے فورا اپنے آنسو صاف کیے اور پیچھے ہٹی وہ اپنے ابا کو اداس نہیں کرنا چاہتی تھی ۔
میں نے تمہارے حق میں بہترین فیصلہ کیا ہے ۔ وہاں بھی یہاں کی طرح ان کی بیٹی بن کر رہنا اور کوشش کرنا کہ تمہارے شوہر کو تم سے کوئی شکایت نہ ہو زبیر صاحب نے نم آواز میں کہتے ہوئے اسے ہی پیار کیا۔
جی ماموں میں ایسا ہی کروں گی (مگر شوہر کی شکایت کے بارے میں کچھ کہہ نہیں سکتی) ماہم نے آدھا جملہ دل میں سوچا
چلو بھئی اپنی بہن کو لے چلو باہر سب انتظار کر رہے ہیں۔ زبیر صاحب نے اپنے پیچھے کھڑے ہارون کو دیکھ کر حکم دیا
ماہم میں نے تمہیں ہمیشہ حرم کی طرح سمجھا ہے ۔کبھی بھی کوئی مسئلہ ہو تو پہلے کی طرح بے دھڑک مجھے بول دینا ۔ میں کل بھی تمہارا بھائی تھا۔ آج بھی ہوں اور ہمیشہ رہوں گا۔
ہارون کی باتوں پر ماہم کا دل سچ مچ بھر گیا ۔ مگر اس نے اپنے جذبات کو کنٹرول میں رکھا۔ وہ خود رو کر اپنے محبت کرنے والے رشتوں کو دکھی نہیں کرنا چاہتی تھی ۔پھر حرم اور ہارون اسے لے کر ہال میں داخل ہوئے ۔
ہائے یہ اپنی مس موسلادھار ہی ہے۔ بھائی یارررر پتا کرو کہیں ایسا نہ ہو کہ لڑکی دکھائی اور ہو اور دے اور رہے ہوں۔ آج کل یہ بہت ہو رہا ہے عکاشہ نے ماہم کو دیکھتے ہوئے یوشع کے کان میں سرگوشی کی
تیرے سسرال میں ماہم نام کی ایک ہی لڑکی تھی ۔ جس کا تجھ سے نکاح ابھی ابھی ہوا ہے۔ آپ اپنا منہ بند رکھیں مہربانی ہوگی یوشع نے بظاہر مسکراتے ہوئے عکاشہ کو ٹوکا ۔
لو جی جہاں ہر میدان میں ترقی ہوئی ہے وہاں میک اپ آرٹسٹ بھی “آئن سٹائن” بن گئے ہیں۔ اچھی خاصی لڑکی کو کیا بنا دیتے ہیں اوکاشا کے بڑبڑانے پر یوشع نے ادھر ادھر دیکھا کہ کون کون سن رہا ہے مگر سب کا دھیان اس وقت دلہن پر تھا ۔ عکاشہ باقی بکواس گھر جاکر کر لینا یوشع نے عکاشہ کے کندھے پر مسکراتے ہوئے ہاتھ رکھا
گھر پر بھی کہا بکواس کرنے دیتے ہیں۔ ماما ہر وقت ڈانٹتی رہتی ہیں۔ یارررر بھائی آج کے دن ماما کو مجھ سے دور رکھنا مہربانی ہوگی _ عکاشہ نے مسکین سی شکل بنائی آج تو میں خود بابا اور ماما سے بچ رہا ہوں ۔ بس یہ تیری شادی خیریت سے ہو جائے۔ میں کل ہی امثال کو لے کر حویلی چلا جاؤنگا ۔تیرے بہت “پھڈے” ہیں میں ان میں پڑنا نہیں چاہتا یوشع نے عکاشہ کو جواب دیا تو اس کا منہ بن گیا تب تک ماہم بھی اسٹیج کے بالکل قریب پہنچ گئی ۔
چل اپنی بیگم کو اسٹیج پر چڑھنے میں مدد دے _ یوشع نے عکاشہ کے کان میں کہا شکریہ جب وہ وہاں سے یہاں تک آ سکتی ہے تو خود ہی اوپر بھی آجائے گی۔ ویسے بھی وہ سالا ساتھ ہے نااااا اس کی مدد کے لیے _ عکاشہ نے کندھے اچکاتے ہوئے انکار کیا عکاشہ سارے کیمرے ادھر ہی ہیں۔ لوگ دیکھ رہے ہیں۔ یوشع نے سمجھایا تو ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عکاشہ نے دوبدو پوچھا اس طرح اچھا نہیں لگتا یوشع نے اسے گھورا۔
اب آئے گا مزہ جب آپ سب مل کر میری بےعزتی کر رہے ہوتے ہیں اور بقول آپ کے آج بابا بھی اس کے سامنے میری بےعزتی کرنے کا پورا ارادہ رکھتے ہیں۔ تو پھر مجھ سے بھی کوئی امید نہ رکھیں کہ میں آپ کی عزت کا باعث بنوں گا عکاشہ کی ڈھیٹائی پر یوشع چپ ہو گیا
ماہم نے جیسے ہی اسٹیج پر پاؤں رکھا اس کا بیلنس خراب ہو گیا اس سے پہلے کہ وہ گرتی عکاشہ نے اسے آگے بڑھ کر تھام لیا اور اسٹیج پر بیٹھنے میں اس کی مدد کی جس پر سارا ہال سیٹیوں اور تالیوں سے گونج اٹھا
آپ کیوں پکڑا گرنے دیتے ۔۔۔۔۔؟؟ یوشع نے بھرپور مسکراہٹ چہرے پر سجاتے ہوئے طنز کیا
خود تو آپ جوتیاں بند کرنے کو ہر وقت تیار رہتے ہیں ۔اس لیے اب آپ کا طنز بنتا نہیں عکاشہ کے جواب پر یوشع اسٹیج سے نیچے اتر آیا پھر کچھ تصویروں کے بعد ماہم کی رخصتی ہوگئی ۔
🪄🪄🪄🪄🪄
میری بات تمہیں کافی عجیب لگے مگر ایک اچھی بیوی اپنے شوہر کو ایسے سنبھالتی ہے جیسے ایک ماں اپنے نومولود بچے کو اور پھر نتیجہ بھی ایک جیسا ہی نکلتا ہے. یعنی جتنی محبت تم شروع میں دو گی آگے زندگی میں چل کر بونس سمیت حاصل کرو گی.
عدن نے محبت سے ماہم کو سمجھایا جس پر وہ بس مسکرا کر رہ گئی.
عکاشہ کو صرف ماں کی محبت ملی ہے بلکہ سچ پوچھو تو ما‍ں کی بھی پوری نہیں ملی. اس وجہ یہ ہے کہ مجھے ڈر تھا کہ کہیں میرے لاڈ پیار سے یہ بگڑ نہ جائے…..؟؟
(یعنی ابھی وہ آپ کو بگڑا ہوا نہیں لگتا….؟؟؟ ماہم نے عدن کی بات پر دل میں سوچا مگر منہ سے کچھ نہیں کہا)
عکاشہ کو اپنے ننھال یا باپ سمیت اُس کے خاندان سے محبت نہیں ملی. اس لیے اس کی شخصیت میں کافی بگاڑ ہے. مگر مجھے یقین ہے کہ تم اس کی شخصیت میں مثبت تبدیلیوں کا باعث بنو گی…..؟؟؟
عدن نے ایک مان ساتھ ماہم کو دیکھا جس پر اس بے سر ہاں میں ہلایا.
ابھی عدن کا لیکچر جاری تھا کہ عکاشہ اندر داخل ہوا اور اپنی ماں کی طرف خشگمین نظروں سے دیکھا.
نہ آج آپ کو حیدر آفندی کی یاد نہیں ستا رہی….؟؟؟ وہ باہر بیٹھے بور ہو رہے ہیں اور میں اندر عکاشہ کہتا ہوا ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا ہو گیا جبکہ عکاشہ کو یوں عدن سے بات کرتا دیکھ کر ماہم کو عجیب سا احساس ہوا.
میں بس جا ہی رہی تھی عدن کہتیں ہوئیں اپنی کلائی سے کنگن اتارنے لگیں.
یہ کیا کر رہیں ہیں…..؟ ؟؟ عکاشہ نے فوراً انھیں ٹوکا
تم اب اپنا منہ بند بھی کر لو کہ آج کے دن بھی ڈانٹ کھانا ضروری ہے عدن نے غصے سے عکاشہ کی طرف دیکھتے ہوئے ماہم کا ہاتھ پکڑا.
یہ مجھے حیدر نے لے کر دیے تھے ابھی عدن نے اتنا ہی کہا تھا کہ عکاشہ کا صبر جواب دے گیا.
آپ کو ہر “چیز” حیدر نے ہی لے کر دی ہے “میرے” سمیت _ مگر “یہ” ( عکاشہ نے ماہم کی طرف اشارہ کیا ) میں نے لے کر دی ہے اس لیے اسے منہ دکھائی بھی میں ہی دوں گا. آپ اپنے “کنگن” اپنے پاس رکھیں ورنہ مجھے اپنی “شادی شدہ” زندگی یہ جملہ سنتے گزارنا پڑے گی کہ یہ تو مجھے حیدر نے لے کر دیے تھے جو میں نے تمہاری بیگم کو دے دیے عکاشہ نے ماہم کا ہاتھ عدن کے ہاتھوں سے نکالتے ہوئے کہا
انتہائی بتمیزززز ہو عدن نے ناراضگی سے کہتے ہوئے منہ موڑ لیا.
میم پلیززز آپ ناراض نہ ہوں ماہم نے پریشان سی آواز میں روکنا چاہا چپ کرو بےوقوف کہیں کی وہ آگے ہی جانے کے لیے تیار نہیں اور رہتی کسر تم نکال دو _ عکاشہ نے ماہم کو جھڑکا تو عدن نے اسے گھورا. میں جا رہی ہوں. اسے ڈاٹنے کی ضرورت نہیں ہے عدن نے بیڈ سے اٹھتے ہوئے قدرے برہم لہجے میں کہا
بہت شکریہ عکاشہ سر کو خم دیتا انھیں بائے بائے کرنے لگا جبکہ وہ چپ چاپ کمرے سے باہر چلی گئیں.
جانتی تھیں کہ اس سے بحث فضول ہے. عدن کے جاتے ہی عکاشہ نے جلدی سے دروازہ لاک کیا.
شکر ہے کہ ماما چلی گئیں ہیں ورنہ تو مجھے ان کا کوئی پروگرام نہیں لگ رہا تھا. عکاشہ نے پلٹتے ہوئے تشکر بھرے لہجے میں کہا
ویسے یہ ماں سے بات کرنے کا خاصا برا طریقہ ہے…… ؟؟؟
میں سمجھتی تھی کہ تم صرف یونی میں ہی ایسی حرکتیں کرتے ہو گا مگر ماہم نے اسے افسوس سے دیکھا جو اب بلکل اس کے سامنے بیٹھا اسے دلچسپی سے دیکھ رہا تھا.
اگر اب تم نے میرے خلاف ایک بھی جملہ بولا تو میں تمہیں منہ دکھائی نہیں دوں گا جو میں نے اتنی مشکل سے صرف اور صرف تمہارے لئے بچا کر رکھی ہے ۔
یاد رکھو تمہاری منہ دکھائی کوئی عام چیز نہیں ہے ۔۔۔۔۔؟؟؟
رہی بات میری ماں کی تو تم ابھی انہیں جانتی نہیں ہو۔ اگر میں ان سے اس طرح بات نہ کیا کروں تو وہ مجھے “حیدر نامہ” سنا سنا کر ہی مار دیں۔
چھوڑو ماما کے بارے میں تو میں پھر تمہیں تفصیل سے بتاؤں گا ابھی فی الحال تم مجھے اپنا یہ مہندی والا ہاتھ دو ۔
بلکہ ایسا کرو کہ تم اندازہ لگاؤ کہ میں تمہیں منہ دکھائی میں کیا دے رہا ہوں ۔۔۔۔۔؟؟؟ عکاشہ نے پرجوش لہجے میں پوچھا
ڈائمنڈ رنگ ہوگی ماہم نے اس کے جملے میں لفظ “قیمتی” سے اندازہ لگایا
نہیں یہ تو عام سی بات ہے آج کل ہر کوئی اپنی بیوی کو زیادہ تر یہی دے رہا ہے ۔ عکاشہ نے سر نفی میں سر ہلایا
بریسلٹ ما ہم نے کچھ دیر سوچنے کے بعد کہا
نہیں بالکل بھی نہیں ویسے بھی تم نے دونوں ہاتھوں میں اتنا کچھ تو پہنا ہوا ہے بریسلیٹ کہاں پہنو گی۔۔۔۔۔۔؟؟؟
مجھے نہیں پتہ عکاشہ کے جواب پر ماہم نے بات ختم کی ۔
اچھا بس پھر ایک آخری کوشش کرو عکاشہ نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالتے ہوئے کہا
گولڈ چین ماہم نے عکاشہ کے ہاتھ کی طرف دیکھا
ایک تو تم لڑکیاں جیولری سے باہر نہیں نکلتیں عکاشہ نے اپنی بن مٹھی ماہم کی مہندی لگی ہتھیلی پر رکھی۔
تو پھر کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ماہم نے عکاشہ کی طرف دیکھتے ہوئے بیزاری سے پوچھا
یہ ایک نہایت ہی قیمتی اور نایاب چیز ہے عام بندہ تو اسے حاصل کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا ۔ عکاشہ کا انداز ایسا تھا کہ ما ہم کو بھی تجسس ہونے لگا کہ ایسا کیا ہے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
دیکھو تم اب جلدی سے مجھے منہ دکھائی دے بھی دو اور تجسس ختم کرو
ماہم کو اب غصہ آنے لگا تھا
پہلے تم شرمانے کی ایکٹنگ تو کرو کیونکہ آج کل کی لڑکیوں میں شرم رہ ہی نہیں گئی ۔
کیسے منہ پھاڑ کر اپنی منہ دکھائی مانگ رہی ہو ۔۔۔۔۔؟؟؟ عکاشہ اب ماں ہم کو تنگ کرنے کے موڈ میں تھا
ٹھیک ہے میں ایک بے شرم لڑکی ہوں ۔اب میرا ہاتھ چھوڑو۔ مجھے منہ دکھائی نہیں چاہیے ۔ماہم اپنا ہاتھ چھڑاتے ہوئے بیڈ سے اٹھنے لگی
اچھا تو تم نے ہار مان لی ہے ویسے تو بڑی “لائق” بنی پھرتی ہو “فائق” کی بھابھی صاحبہ عکاشہ نے اسے روکتے ہوئے کہا
ہاں جی میں ہار گئی ہوں۔ مجھے نہیں معلوم تمہارے اس ہاتھ میں کون سی “نایاب” چیز ہے ۔جس سے بد قسمتی سے تم نے میری منہ دکھائی کے لئے پسند کیا ہے ۔ماہم کے طنز پر عکاشہ مسکرانے لگا
دیکھو میں نے بہت سوچا کہ تمہیں کیا دوں ۔۔۔۔۔؟؟؟
میں تمہیں منہ دکھائی میں کچھ ایسا دینا چاہتا تھا جو آج تک کسی نے اپنی دلہن کو نہ دی ہو تاکہ وہ یادگار بن جائے ۔
پھر بہت “ریسرچ” کرنے کے بعد میں نے چیز کا انتخاب کیا ۔یقین مانو کہ صبح تم جس جس کو اپنی منہ دکھائی کے بارے میں بتاؤں گی وہ حیرت زدہ رہ جائے گا ۔کہو تو میں لکھ کر دے دیتا ہوں ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
عکاشہ نے ماہم کی آنکھوں میں زور دیتے ہوئے دیکھا جہاں حیرت تھی۔
پہلے تو تمہیں “مبارک” ہو کہ تم نے منہ دکھائی پر “ریسرچ’ کی حالانکہ پڑھائی کے معاملے میں تم اس لفظ “ریسرچ” سے ناآشنا ہو ۔
دوسرا تم لکھ کر مت دینا کیونکہ پھر پڑھنے کا مسئلہ ہو جائے گا ماہم کے جواب پر عکاشہ نے باقاعدہ قہقہ لگایا
چلو پھر آنکھیں بند کرو کیوں کہ میں جانتا ہوں کے “تحفہ” دیکھ کر تمہارے ہوش اڑ جائیں گے ۔۔۔۔۔؟؟؟ عکاشہ کے انداز میں کچھ ایسا تھا کہ ماہم چونکی
عکاشہ پلیززز میں آج بہت تھک گئی ہوں اگر کوئی چوہا ، چپکلی ہے تو یہ مذاق کسی اور دن ادھار رکھ لو ماہم کو عکاشہ کی آنکھوں میں شرارت دکھائی دے رہی تھی
حد کرتی ہوں یاررررر اب میں تمہیں منہ دکھائی میں چوہا دوں گا ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عکاشہ نے مصنوعی ناراضگی سے ماہم کو دیکھا
آنکھیں بند کرو عکاشہ کے کہنے پر ماہم نے نہ چاہتے ہوئے بھی اپنی آنکھیں بند کر لیں ۔
چلو اب کھول بھی دو عکاشہ کے لہجے میں خوشی اور شرارت دونوں ہی نمایاں تھیں۔
جیسے ہی ماہم نے آنکھیں کھلیں اپنی ہتھیلی پر “دو عدد چلغوزے ” دیکھ کر حیران رہ گئی ۔
دیکھا ہوش اڑ گئے ناااااا بھئی بہت مہنگے ہو گئی ہیں۔ مشکل سے تمہارے لیے دو ہی حاصل کر سکا ہوں۔ چلو شاباش اب اپنے ان خوبصورت مہندی والے ہاتھوں سے مجھے یہ کھول کر دو ۔ آخر اتنی محنت سے میں نے ڈرائی فروٹ کی دکان سے چوری کیے تھے۔ ماما نے کہا تھا اپنی “پاکٹ منی” سے اس کے لئے منہ دکھائی کا تحفہ لینا اس سے محبت بڑھتی ہے ۔ مگر میری پاکٹ منی تو میرے لئے ہی تھوڑی پڑ جاتی ہے تمہارے لئے کیا خریدتا ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عکاشہ نے اپنی مجبوری بتائی۔ اتنے بڑے باپ کے بیٹے ہو کر یوں فقیروں والی باتیں کرتے ہو ماہم کے طنز پر عکاشہ بالکل سیریس رہا ۔
اب کیا تم بھی مجھے “حیدر نامہ” سنایا کروں گی ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عکاشہ نے خشگمین نظروں سے گھورتے ہوئے کہا
حیدر نامے کا تو پتہ نہیں مگر میری پوری کوشش ہے کہ آج کم از کم تمہیں کچھ نہ سناؤ ماہم کہتی ہوئی بیڈ سے اٹھنے لگی کہاں جا رہی ہو پہلے مجھے یہ چھیل کر تو دو ۔۔۔۔۔؟؟؟ عکاشہ نے اسے بیٹھے اٹھتا دیکھ کر کہا جس پر ماہم نے جلدی سے دونوں چلغوزے چھیل کر عکاشہ کی ہتھیلی پر رکھ دیے ۔ میری قدر کرو لڑکی ورنہ مجھ جیسے شوہر تو لڑکیاں ڈھونڈتی پھرتی ہیں _ عکاشہ نے جتلایا
(پیارے شوہر ڈھونڈا انہیں جاتا ہے جو نایاب ہوں آپ جیسے تو دس روپے کے دو آجاتے ہیں_ ماہم نے دل میں کہا کیونکہ وہ اونچا بول کر مصیبت سر نہیں لینا چاہتی تھی)کہ شکریہ یار میں ویسے ہی ڈر رہا تھا کہ کہیں تم خود ہی نہ کھا لو وہ اب بیڈ پر نیم دراز ماہم کو دیکھ رہا تھا جبکہ ماہم نے بیڈ سے اترتے ہوئے زور سے تکیہ عکاشہ کے منہ پر مارا اور خود ڈریسنگ روم میں چلی گئی۔
“عورت صرف اپنی مرضی کے مرد سے ذلیل ہونا پسند کرتی ہے اور مرد اپنی بیوی سے ذلیل ہونا زیادہ پسند کرتا ہے ۔”
عُکاشہ نے بڑبڑاتے ہوئے تکیہ اپنے سر کے نیچے رکھا اور آنکھیں بند کر لیں
🪄🪄🪄🪄🪄
حیدر ہمارے “دو دل” تھے عدن نے حیدر کے کندھے پر سر رکھتے ہوئے اپنے دن بھر کی تھکن اتاری
ہاں انسان کی اولاد اس کے “دل” ہی ہوتے ہیں
حیدر نے کھوئے سے لہجے میں جواب دیا
دل دھڑکتے ہیں تو ماں باپ کی عمر دراز ہوتی رہتی ہے ۔کاش یہ بات اولاد کو سمجھا آ جائے عدن نے سر اٹھاتے ہوئے حیدر آفندی کو دیکھا
ہاں ایسا ہی ہے ۔ پہلے ہم دونوں کے ” دو دل ” تھے ۔ اب یو شع اور عکاشہ کے “دو دل” ہیں ۔
اصل میں محبت بنتی ہی “دو دلوں” کے اندر ہے۔ “ایک دل” تو زندہ نہیں رہ سکتا ۔اسے زندہ رہنے اور دھڑکن کرنے کے لئے “دوسرے دل” کی ضرورت ہوتی ہے ۔یہ ساری کائنات ” دو دل ” پر چل رہی ہے حیدر آفندی بھی نیم دراز لیٹے عدن کو دیکھ رہے تھے ۔
“اکیلا دل” سخت ہو جاتا ہے جیسے بڑی سرکار کا جب تک بابا سائیں زندہ تھے وہ اتنی سخت مزاج نہ تھیں۔
میں ان کا “ایک دل” تھا اور بھائی “دوسرا دل “جب ان کی وفات ہوگئی تو میں اکیلا رہ گیا ۔
پھر مجھے تم مل گئی تو میرے “دو دل” مکمل ہو گے مگر بڑی سرکار کا “دل اکیلا” ہی رہا انہوں نے یوشع میں اپنا دل دھڑکتا محسوس کیا اور یوشع سچ مچ ان کے دل کی دھڑکن بن گیا
حیدر آفندی آج بہت سنجیدہ تھے اور عدن فرصت سے انہیں سن رہی تھی ۔
بولیے آپ چپ کیوں ہو گے حیدر میں سن رہی ہوں ۔۔۔۔۔؟؟ حیدر کے چپ ہونے پر عدن نے انہیں بلایا
عدن میرے دل میں جو جگہ پہلے دن تمہاری لیے تھی اب بھی وہی ہے۔
مگر راشدہ بیگم اور بڑی سرکار بھی جگہ رکھتی ہے وہ جیسی بھی ہے مگر میری “زندگی” اور “ذات” کا حصہ ہیں۔ راشدہ بیگم کی بدولت ہی اللہ نے مجھے یوشع جیسا بیٹا دیا حیدرآفندی کچھ پل کے لیے رکے ۔
میں تمہیں حویلی لے کر نہیں جا سکتا ۔میرے خیال سے تمہیں یہ حقیقت اب مان لینی چاہیے اور فضول بحث کے پیچھے اپنے آپ کو دکھی نہیں کرنا چاہیے
حیدر آفندی کے سمجھانے پر عدن مسکرائیں
حیدر آج کے بعد میں آپ سے حویلی والا گلہ کبھی نہیں کروں گی کیونکہ اب میں بھی ساس ہوں تو مجھے بڑی سرکار درست لگ رہی ہیں ۔
فرض کریں کہ میرا اکلوتا بیٹا عکاشہ محبت کی شادی کرکے چلا جاتا تو میرا کیا بنتا ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
جب تک ہم خود دوسروں کی جگہ پر نہیں آجاتے ہم اسے محسوس نہیں کر سکتے کہ وہ کس تکلیف سے گزر رہا ہے _ عدن کی جواب پر حیدر آفندی نے محبت سے ان کا ماتھا چوما۔ عدن مجھے آپ کی انہی باتوں سے محبت ہے کہ آپ بات فورا مان لیتی ہیں ۔ ضد نہیں کرتیں۔ بہت لچک ہے آپ میں مجھے آپ سے شدید محبت ہے اور اس محبت پر فخر بھی ہے۔
آج اس چھوٹے سے فلیٹ میں “دو دل” دھڑک رہے تھے ۔
🪄🪄🪄🪄🪄
لوگ نہیں بدلتے وقت بدلتا ہے ۔ چیزیں بدلتی ہے مگر سمجھدار وہی ہے جو ضد نہیں کرتا اور جھک جاتا ہے۔ وہی پھل پاتا ہے اور کوئی بھی کبھی بھی برا نہیں رہتا۔ ہر شخص کسی نہ کسی کے لئے “مسیحا”اور کسی کے لئے “عذاب” ہوتا ہے۔کیونکہ ہر شخص دوہری شخصیت رکھتا ہے یوشع نے امثال کی طرف دیکھتے ہوئے اسے سمجھایا جو گاڑی سے باہر گزرتی ہوئی چیزوں کو غور سے دیکھ رہی تھی ۔ بڑوں سے گھروں میں رونق ہوتی ہے۔ ہماری حویلی کی رونق “بڑی سرکار” ہیں۔ امثال مجھے تو سوچ کر ہی “ہول” اٹھتے ہیں کہ جس دن وہ نہ رہیں تو کیا ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟ یوشع ایک دم اداس ہو گیا جس پر امثال کو احساس ہوا کہ اس کی زندگی میں بڑی سرکار کی کیا اہمیت ہے۔ میں پوری کوشش کروں گی کہ اماں سائیں اور بڑی سرکار کو مجھ سے کوئی شکایت نہ ہو امثال کے جواب پر یوشع کو خوشگوار حیرت ہوئی
اور مجھے ۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع نے اپنے بارے میں پوچھا
آپ کی خیر ہے امثال میں شرارت کی کیوں میری کیوں خیر ہے ۔۔۔۔۔؟؟ یوشع نے اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے پوچھا اس لئے کہ کوئی “دل” مجھے بھی چاہئے جس پر میں اپنا غصہ اتار سکوں اور آپ نے تو اجازت بھی دے رکھی ہے
امثال کے جواب پر یوشع نے اسے مصنوعی غصے سے دیکھا
اجازت کی تو ایسی کی تیسی _ یوشع کے جواب پر امثال کھلکھلا کر ہنس دی۔ 🪄🪄🪄🪄🪄 چچا سائیں میں چاہتی ہوں آپ نوید کو کوئی کاروبار شروع کر دیں۔ مجھے ان کا یوں سب کے سامنے سر جھکا کر چلنا پسند نہیں ہے ۔ آپ میری بات کا غلط مطلب مت لیجئے گا مگر میری جائیداد جو بابا کی طرف سے مجھے ملی ہے اس میں سے کچھ حصہ نوید کو دے دیں بتول نے آہستہ مگر مضبوط لہجے میں حیدرآفندی سے کہا
راشدہ بیگم دیکھ رہی ہو یہ بتول جو کل تک سادہ سی بات نہیں کہہ سکتی تھی آج کس طرح بول رہی ہے ۔۔۔۔۔؟؟؟ حیدرآفندی نے مسکراتے ہوئے راشدہ بیگم کو دیکھا جو واقع ہی حیران تھی ۔
اسے یہ اعتماد اس کے شوہر نے دیا ہے اور رہی بات جائیداد کی تو بھائی صاحب کی جتنی بھی جائیداد ہے اس کی تم اکلوتی وارث ہو ۔ تم نہ بھی کہتی تو میں نے اور یوشع نے یہی سوچا تھا کہ تمہیں تمہاری جائیداد دے دی جائے گی _ حیدر آفندی کا جواب بتول اور راشدہ کے لیے کسی دھماکے سے کم نہ تھا۔ مگر بڑی سرکار ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ راشدہ بیگم نے فورا یاد دلایا آپ ان کی فکر نہ کریں وہ جانیں اور ان کا لاڈلا حیدر آفندی نے بات ختم کی اور اٹھ کر جانے لگے تو بتول ان کے سامنے کھڑی ہو گئی
چچا سائیں میں باہر کے ملک گھومنے پھرنے جانا چاہتی ہوں _ بتول کی خواہش پر انہوں نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا بندوبست کر دیتے ہیں اور کچھ ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حیدر آفندی کی اس قدر شفقت پر بتول کی آنکھوں میں آنسو آگے۔ یہ سچ تھا کہ حیدر آفندی اور راشدہ بیگم شروع سے ہی بتول پر مہربان تھے چچا سائیں کیا میں آپ کو بابا سائیں بلا سکتی ہوں۔۔۔۔۔۔؟؟؟ بتول کی بات پر حیدر آفندی بت بن گئے ۔ انہیں شروع سے ہی بیٹی کی خواہش تھی ۔جو آج بتول نے بغیر کہے پوری کردی تھی ۔حیدر آفندی نے اسے فرط جذبات میں آ کر اپنے سینے سے لگا لیا میں تمہارا بابا ہی ہوں مگر تم نے بہت دیر کردی کہنے میں حیدر آفندی کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو گر رہے تھے جبکہ راشدہ بیگم نم آنکھوں سے مسکرا دیں۔
آج میری فیملی پوری ہوگئی ہے دو شیطان اور ایک پیاری سی بیٹی حیدر آفندی نے کہتے ہوئے بتول کو اپنے سے جدا کیا ۔
اب آپ بیٹوں ساتھ زیادتی کر رہے ہیں ۔۔۔۔۔؟؟؟ راشدہ بیگم کو برا لگا جس سے بتول اور حیدر آفندی نے بے ساختہ قہقہ لگایا
🪄🪄🪄🪄
پھر تم نے کیا سوچا ہے ۔۔۔۔۔؟؟؟ بڑی سرکار نے اپنے سامنے بیٹھے یوشع حیدر سے پوچھا
یوشع جو اس وقت کالے لباس اور کیمل کلر کی چادر میں اسی رنگ کی طرح اداس لگ رہا تھا خاموش رہا ۔
جواب دو تم کب تک اس لڑکی کو طلاق دے رہے ہو ۔۔۔۔۔؟؟ بڑی سرکار نے ایک بار پھر گرجدار آواز میں کہا
وہ میں یوشع کچھ ہچکچایا
تم نے کہا تھا کہ الیکشن کے بعد اس لڑکی کو چھوڑ دو گے مگر ابھی تک تم نے اس بات پر عمل نہیں کیا کیوں۔۔۔۔۔؟؟؟
کیا تمہیں مجھ سے محبّت نہیں رہی یا تم بھی اپنے باپ کی طرح ایک لڑکی کی خاطر ماں کو بھول گئے ہو ۔۔۔۔۔؟؟؟
بڑی سرکار کی بات یوشع کے دل میں ایسے لگی جیسے کسی نے خنجر گھونپ دیا ہو
ایسا کچھ بھی نہیں ہے جیسا آپ سوچ رہی ہیں ۔مجھے کل آپ سے جتنی محبت تھی آج اس سے بھی زیادہ ہے مگر ۔۔۔۔۔؟؟؟
مگر کیا ۔۔۔۔۔؟؟؟ بڑی سرکار نے یوشع کا جائزہ لیتے ہوئے پوچھا
میں آپ کی حکم عدولی کا سوچ بھی نہیں سکتا آپ کہتی ہیں تو میں ابھی اسی وقت اسے طلاق دے دیتا ہوں مگر پھر میرا کیا ہوگا ۔۔۔۔۔؟؟؟
میرا “دل” اور “زندگی” دونوں ویران ہو جائیں گے کیا آپ میری محبت میں اس لڑکی کو قبول نہیں کر سکتی ۔۔۔۔۔؟؟؟
بڑی سرکار مجھے وہ لڑکی اچھی لگنے لگی ہے آپ اسے میری خاطر معاف کر دیں وہ ساری زندگی آپ کے پاؤں دھو کر پیئے گی میں وعدہ کرتا ہوں آپ سے یوشع ایک دم بڑی سرکار کے پاؤں میں بیٹھ گیا
یوشع مجھے تم سے حیدر والی امید بلکل نہیں تھی بڑی سرکار نے گرجتے ہوئے یوشع کا ہاتھ پیچھے کیا جو اس نے ان کے پاؤں پر رکھا ہوا تھا
آپ ناراض نہ ہوں میں ابھی اسی وقت اسے طلاق دے دیتا ہوں ۔ یوشع کہہ کر تیزی سے کمرے سے باہر نکلنے لگا تو بڑی سرکار نے اسے پکارا
مجھ سے زیادہ محبت ہے یا اس لڑکی سے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع کو اس سوال کی پوری امید تھی۔
مجھے صرف آپ سے محبت ہے ۔ کسی اور سے مجھے فرق نہیں پڑتا جبکہ یوشع کا لہجہ اور آنکھیں اس کا ساتھ نہیں دے رہی تھی ۔ اور مجھے بھی صرف تم سے محبت ہے اس لیے تم مجھ سے جھوٹ مت بولو بڑی سرکار کے جواب پر یوشع نے سر جھکا لیا کیونکہ اس وقت اس کی آنکھیں شدید لال ہو رہی تھی ۔
تمہیں سات خون بھی معاف ہیں۔ میں نے تمہارے صدقے اس لڑکی کو بخشا بس اسے کہنا کہ میرے سامنے مت آیا کرے _ بڑی سرکار کی بات یوشع کو تپتے صحرا سے برستے بادل کے نیچے لے آئی۔ بڑی سرکار آپ بہت اچھی ہیں۔ آپ نے ہمیشہ میری خوشیوں کا خیال رکھتا ہے یوشع نے کہتے ہوئے انہیں گلے لگا لیا جبکہ انہوں نے پیار سے یوشع کے سر پر ہاتھ پھیرا ۔
زندگی آسان تو نہیں مگر خوشیوں بھری لگنے لگی تھی یوشع نے دل میں سوچتے ہوئے آسمان کی طرف دیکھا ۔
🪄🪄🪄🪄🪄