Do Dil By Amna Mehmood Readelle50150 Episode 14
Rate this Novel
Episode 14
زبیر صاحب میں تو کہتی ہوں اب اپنی بھانجی کو رخصت کر ہی دوں تم نے اس کا ساری زندگی کے لیے ٹھیکہ تو نہیں لے رکھا ہے۔
مجھے ہر وقت اپنے حارث کی فکر رہتی ہے ۔کہیں ایسا نہ ہو وہ اسے لے اڑے اور میں دیکھتی رہ جاؤں کلثوم بیگم نے الماری میں کپڑے رکھتے ہوئے کہا تم ہر وقت اس کے پیچھے کیوں پڑی رہتی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ رہی بات حارث کی شادی کی تو میری دلی خواہش تھی کہ میں اپنی بھانجی کو اپنی بہو بناؤں جو حارث کے انکار پر دم توڑ گئی ہے لہذا بے فکر رہو _ زبیر صاحب نے اخبار پڑھتے ہوئے جواب دیا
شکر ہے حارث نے کچھ تو عقل سے کام لیا _ اب تم دیکھنا میں اپنے بیٹے کے لئے چاند جیسی دلہن لاؤں گی ۔ سارا محلہ اور خاندان والے دیکھتے رہ جائیں گے _ کلثوم بیگم کے چہرے اور زبان کے رنگ ہی بدل گئے ۔
وہ دیکھیں گے یا نہیں ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا مگر ہم سب تمہاری “شامت” اس کے ہاتھوں ضرور دیکھیں گے زبیر صاحب نے انتہائی آہستہ آواز میں جواب دیا
کیا کہا آپ نے _ کلثوم بیگم نے زبیر صاحب سے اخبار چھینتے ہوئے جارحانہ انداز میں پوچھا وہ میں کہہ رہا تھا کہ _ زبیر صاحب نے اتنا ہی کہا تھا کہ حارث اندر داخل ہوا
آؤ حارث میاں _ آج تو تم میرے لئے رحمت کا فرشتہ بن کر آئے ہو زبیر صاحب کے مسکرانے پر حارث بھی ہنستا ہوا ان کے برابر بیٹھ گیا
ہاں جی تم سب فرشتے ہو۔ بس تم لوگوں کو میں ہی بری لگتی ہوں۔ جس دن نہ رہی لگ پتا جائے گا کلثوم بیگم غصہ کرتی جانے لگیں کہ حارث نے ان کا ہاتھ پکڑ کر بٹھا لیا
اماں یہ تو زیادتی ہے ۔ آپ ذرا ذرا سی بات پر اتنی بڑی دھمکی دیتی ہیں۔ ہم سب تو آپ سے مزاق کرتے ہیں تاکہ گھر میں رونق لگی رہے ۔ ورنہ یہ بات تو ابا بھی اچھے سے جانتے ہیں کہ آپ کے بغیر ہماری زندگی کچھ نہیں ہے حارث کی بات ہے زبیر صاحب نے سر ہلایا
ویسے حارث میاں آج کس کام سے آئے ہو جو اماں کو اتنا مکھن لگایا جا رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
میں تو دوسری شادی کی حسرت قبر میں ہی لے جاؤں گا کیونکہ ان کو کچھ ہونا نہیں اور سہرا میرے سر پر سجنا نہیں ۔زبیر صاحب کی بات پر کلثوم بیگم جو ابھی ابھی نرم پڑیں تھیں پھر بھڑک اٹھیں۔
دیکھا تم نے اس شخص کی حرکتیں ارے تمہارے بیٹے کے سر پر سہرا سجانے کے دن ہیں تمہارے نہیں کلثوم بیگم نے پہلے حارث اور پھر زبیر صاحب کی طرف دیکھ کر کہا
اچھا آپ دونوں ذرا خاموش ہو کر میری بات سنیں مجھے کمپنی کی طرف سے چین جانے کی آفر آئی ہے۔بہت ہی اچھا سیلری پیکج مل رہا ہے ۔
میری اپنی بھی یہی خواہش ہے کہ میں دو سال کے لئے چلا جاؤں ۔بس آپ لوگوں کی اجازت چاہیے _ حارث نے اپنی بات مکمل کر کے دونوں کی طرف دیکھا جو اس کی بات پر ذرا بھی خوش دکھائی نہیں دے رہے تھے ۔
ابا کم از کم آپ تو اس طرح مت کریں حارث نے زبیر صاحب کے گھٹنے پر ہاتھ رکھا
دو سال ہم تمہارے بغیر کیا کریں گے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
ایک ہی بیٹا ہے میرا نہیں مجھے کچھ نہیں چاہئے تم جتنا کما لیتے ہو وہی بہت ہے ۔ کلثوم بیگم کہتی ہوئی کمرے سے باہر چلی گئی جب کہ زبیر صاحب نے دوبارہ اخبار کھول لیا ۔
ابا _ حارث نے بلانا چاہا مگر زبیر صاحب نے اپنے چہرے کے آگے اخبار کر لی۔
🪄🪄🪄🪄🪄
عکاشہ میں نے آپ کے آگے ہاتھ جوڑے تھے کہ بڑی سرکار کے آگے اپنا منہ بند رکھنا ۔
مگر آپ تو آپ ہیں کہاں کسی کی بات سنائی دیتی ہے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع نے بھڑکتے ہوئے عکاشہ سے پوچھا
میں نے انہیں کچھ نہیں کہا میں تو اپنے آپ سے باتیں کر رہا تھا مجھے خود کلامی کی عادت ہے۔ عکاشہ نے معصوم شکل بنائی اور سلیپر اتار کر بیڈ پر نیم دراز ہو گیا۔ یہ میرا کمرہ ہے یوشع نے اسے یوں لیٹا دیکھ کر بتانا ضروری سمجھا
تو میں نے کب کہا ہے کہ میرا ہے عکاشہ اب کمبل سیدھا کر رہا تھا تمہارے لئے مہمان خانہ سیٹ کرایا ہے ۔ وہاں جا کر مرو نااااااا یوشع نے کمبل کھینچا
میں اس سجے سنورے کمرے میں اکیلا نہیں سو سکتا یا تو آپ میرے ساتھ سوئیں یا پھر کسی اور کا بندوبست کر دیں۔
وہ کیا ہے نااااااا میں اپنی ماں کا سب سے چھوٹا بچہ ہوں اور اکیلے سونے سے مجھے ڈر لگتا ہے ۔ دوسرا آپ جناب جب ہمارے گھر آتے ہیں تو اپنی یاداشت پر زور دیں کہ کس کے ساتھ سوتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عکاشہ نے کمبل واپس اپنے اوپر لیا تمہارے فلیٹ میں کمرے ہی “دو” ہے تو مجبورا مجھے تمہارا کمرہ شیئر کرنا پڑتا ہے ۔ مگر حویلی میں ایسی کوئی مجبوری نہیں ہے لہذا شرافت سے اپنے کمرے میں جاؤ _ یوشع نے ایک بار پھر کمبل کھینچا
اگر میں سکون سے سو نہ سکا جس کا مجھےسو فیصد یقین ہے تو آج اس حویلی میں مجھے کوئی سو کے دکھائے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عکاشہ چیلنج کرتا بستر سے نیچے اترا۔ او بھائی ٹھہر جا اتنا غصہ اچھا نہیں ہوتا _ تو مہمان ہے اور تیری فرمائش سر آنکھوں پر سو جا جہاں تیرا دل کرتا ہے وہیں سو جا یوشع نے پیار سے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرا جس پر عکاشہ مسکرا دیا
اتنی جلدی تو اچھی بیویاں بھی نہیں مانتی جتنی جلدی بھائی یار آپ مان جاتے ہیں ۔
I loveeeee youuuuuuuu
عکاشہ فلائنگ کس اچھالتا دوبارہ بستر پر لیٹ گیا۔ جبکہ یوشع اس وقت کو کوس رہا تھا جب اس مصیبت کو خود لے کر آیا تھا۔
ابھی یوشع ٹھیک سے صوفے پر لیٹا بھی نہیں تھا کہ عکاشہ ایک دم اٹھ بیٹھا
بھائی یارررررر تم نے نہ تو مجھے کزن سے ملوایا ہے اور نہ ہی وہ خاص وجہ بتائی ہے جس کی وجہ سے تم آج صوفے پر لیٹے ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟ عکاشہ کے پوچھنے پر یوشع نے اسے خطرناک تیوروں سے گھورا
مجھے پوری امید ہے کہ ہم دونوں میں سے ایک بھی آج رات “فوت” ہونے والا نہیں لہذا صبح بات کریں گے ۔
اب میں بہت تھک گیا ہوں۔ سارا دن ڈرائیونگ نے اتنا نہیں تھکایا جتنا تیری باتوں نے میرا “بیڑہ غرق” کیا ہے ۔
پتا نہیں چھوٹی ماما تجھے کیسے برداشت کرتی ہیں ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع کہتا ہوا دوبارہ لیٹ گیا۔
تو کس نے کہا تھا ڈرائیونگ کرنے کو ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عکاشہ نے بڑ بڑاتے ہوئے کمبل اوپر لیا
بس دل کیا تھا اپنے بھائی کو خود ڈرائیو کر کے گھر لاؤں _ (کہاں پتا تھا وہ بھائی بھائی کم اور بندر زیادہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ) یوشع نے دل میں سوچا ایک تو پنجاب کے لوگ جذباتی بہت ہیں۔ اگر بندے کو گاڑی چلانا نہیں آتی تو اتنا رعب ڈالنے کی کیا ضرورت تھی۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ کہہ دیتے عکاشہ یاررررر مجھے گاڑی چلانا نہیں آتی۔ عکاشہ نے لیٹے لیٹے طنز کیا
مجھے گاڑی چلانا آتی ہے مگر کیونکہ بابا سائیں نے ڈرائیور رکھ کر دیا ہوا ہے تو کافی وقت سے لمبا سفر نہیں کیا ۔
اور ویسے بھی میں نے گاڑی خود اس لیے ڈرائیو کی تھی کہ “تمہیں اچھا لگے گا” _ یوشع نے وضاحت دی۔ مگر مجھے پھر بھی اچھا نہیں لگا پوچھو کیوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عکاشہ نے گردن اوپر کر کے یوشع کو دیکھا جو اسے ہی گھور رہا تھا شب بخیر یوشع نے اس سے مزید بحث کو ختم کیا اور کمبل منہ تک اوڑھ لیا
بھائی یاررررر اتنی بے رخی یہ تو تم ہو ورنہ میں تو کسی کو منہ بھی نہیں لگاتا عکاشہ مزید باتیں کرنے کے موڈ میں تھا نئی جگہ تھی اسے نیند نہیں آ رہی تھی۔
مہربانی مگر مجھے اصلیت معلوم ہے وہ تمہیں منہ نہیں لگاتی۔ کتنے سکون میں ہوگی ۔۔۔۔۔۔۔؟؟
” اب وہ فُرصت سے سوچتی ہوگی ، کِس مُصیبت سے جان چُھوٹی ہے! ۔ “
یوشع نے کمبل کے اندر سے ہی آواز لگائی تو عکاشہ کا دھیان فورا ماہم کی طرف چلا گیا
بھائی یارررر بس ایک آخری بات عکاشہ نے کہتے ساتھ بیڈ سے سیدھا صوفے پر چھلانگ لگائی جبکہ اس اچانک حملے پر یوشع کی چیخ نکل گئی
تم کتنی فضول حرکتیں کرتے ہو ۔ مجھے آج احساس ہو رہا ہے۔ چھوٹی ماما کی ہر شکایت تمہارے بارے میں بالکل جائز ہے یوشع غصہ کرتے ہوئے اٹھ بیٹھا
یاررررر بھائی کیسے پتہ چلتا ہے کہ کوئی لڑکی آپ کے دل پر قبضہ کر چکی ہے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ مطلب عشق محبت وغیرہ
عکاشہ کے پوچھنے پر یوشع کو پہلا خیال “امثال” کا آیا جس پر وہ خود بھی حیران ہوا ۔
اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتا دروازہ نوک ہوا اور حیدر آفندی اندر داخل ہوئے
بستر کس کے لیے خالی چھوڑا ہے اور چیخ کیسی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ وہ دونوں کو صوفے پر بیٹھا دیکھ کر بولے
آپ بھی آ جائیں صوفے میں بڑی گنجائش ہے۔
عکاشہ نے حیدر آفندی کے لئے جگہ بنائی اور پھر وہی ہوا جس کا کبھی یوشع نے سوچا بھی نہیں تھا
یعنی حیدر آفندی عکاشہ اور یوشع کے درمیان بیٹھے اپنے بچپن اور لڑکپن کی شرارتیں بتانے لگے
🪄🪄🪄🪄🪄
مجھے سمجھ نہیں آرہی جب میں نے منع کیا تھا کہ وہ بکری کا بچہ میری اجازت کے بغیر کسی کو نہیں دینا تو پھر کیوں دیا ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ڈیرے پر بکری کے بچے کو نہ پاکر یوشع کا غصہ آسمانوں سے باتیں کر رہا تھا
سرکار ہم نے نہیں دیا وہ باؤ نوید نے دیا ہے نوکروں نے اپنی جان بچاتے ہوئے نوید کو آگے کیا
باؤ نوید تمہیں آجکل مرنے کا زیادہ شوق چڑھا ہوا ہے حالانکہ کے تمہارے گھوڑی چڑھنے کے دن ہیں یوشع نے پلٹ کر نوید کی طرف دیکھا
سائیں غلطی کی معافی چاہتا ہوں مگر وہ ماسٹر جی کی بیٹی آئی تھی بہت منتیں کر رہی تھی۔
میں نے بتایا تھا کہ آپ کی اجازت نہیں پھر وہ آپ سے ملنے کی ضد کرنے لگی مگر آپ حویلی تھے _ نوید نے تفصیل بتائی۔ حویلی تھا قبرستان تو نہیں تھا کہ تم بلا نہیں سکتے تھے۔ اگر آئندہ وہ لڑکی میرا پوچھے یا مجھ سے ملنا چاہے تو اسی وقت مجھے بتانا یوشع کہتے کہتے رکا وہ جذبات میں بہہ رہا تھا
میں اس بکری یا لڑکی سے کوئی دلچسپی نہیں رکھتا مگر آج کے بعد اگر تم لوگوں نے میری حکم عدولی کی تو جان سے جاؤ گے یوشع نے کہتے ہوئے نوکروں کوجانے کا اشارہ کیا
باؤ نوید پھر کیا سوچا ہے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ نوکروں کے جاتے ہیں یوشع نے نوید کو مخاطب کیا
سائیں جو آپ کا حکم نوید نے سنجیدہ لہجے میں جواب دیا
میں تمہیں آج عکاشہ سے ملوا دوں گا ۔پھر تم دونوں دیکھ لو کہ کیا کب اور کیسے کرنا ہے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
بس میرا کام ہونا چاہیے _ یوشع کہتے ہوئے ڈیرے سے باہر نکل آیا یہ مجھے اتنا غصہ کیوں آ رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع نے جیپ کے بونٹ پر زور سے ہاتھ مارا امثال بی بی تم اچھا نہیں کر رہی ۔میں اچھا بندہ نہیں ہوں میرے سے دور رہو۔ تمہارے لئے یہی بہتر ہے ۔ یہ کیا کہ بار بار مجھے ڈسٹرب کرنے آ جاتی ہوں۔۔۔۔۔۔؟؟؟ اتنا بڑا گاؤں ہے خبردار جو اب میرے راستے میں آئی تو یوشع نے وسیع و عریض کھیتوں پر نظر ڈالتے ہوئے سوچا
🪄🪄🪄🪄🪄
ہیلو مس چُونا کیسی ہیں آپ ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حرم نے جیسے ہی کال اٹینڈ کی عکاشہ کی آواز نے اس کا استقبال کیا
ہم نے سوچا تم اب تک اوپر پہنچ چکے ہو گے لہذا تم پر فاتحہ بھی پڑھ دی تھی لیکن تم تو حیات ہو حرم نے طنز کیا
ہم سے کیا مراد ہے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ اپنی گندی سوچ کو اس سے منسوب مت کرو میں جانتا ہوں وہ ایسا نہیں سوچ سکتی۔ عکاشہ کے حتمی لہجے پر حرم ٹھٹھکی۔
تم اسے مجھ سے زیادہ نہیں جانتے حرم نے دعوی کیا
اچھا دفع کرو یہ بتاؤ تم لوگ میرے بغیر کیسے بور زندگی گزار رہے ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟ سوچا تم لوگوں کی خیریت ہی دریافت کر لوں عکاشہ نے تازہ ہوا کو انجوائے کرتے ہوئے پوچھا
بہت شکریہ مگر ہم آج کل یونی نہیں جا رہے ہیں وجہ یہ ہے کہ میرا بھائی چین جا رہا ہے تو ہم سب بہت اداس ہیں حرم اپنی بات کے آخر میں خود ہی اداس ہو گی ۔
ہممممم مطلب صاف کہو ناااااا میرے بغیر یونی میں دل نہیں لگ رہا ۔ عکاشہ نے مذاق کیا
ہاں یہ تو ہے آرام سکون سے دن گزرتا ہے نہ کوئی مصیبت نہ پریشانی خود پر حیرت ہوتی ہے کہ ہم یونی میں ہی ہیں ۔حرم کے جواب پر عکاشہ نے سر نفی میں ہلایا وہ مس موسلادھار ٹھیک ہے۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟ عکاشہ کے پوچھنے پر حرم نے ماہم کی طرف دیکھا جی بالکل ٹھیک ہے۔ برتن دھو رہی ہے پھر کھانا بنائے گی وہ کیا ہے ناااا ہم اس کو رخصت کرنے کی تیاری کر رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔؟؟ حرم کی بات پر ماہم نے اسے گھور کر دیکھا جب کہ حرم نے اسے چپ رہنے کا اشارہ کیا یعنی تم اس موسلادھار کی شادی کرنے لگے ہو زبردست _ مجھے ضرور بلانا ۔ میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ کون اس “ڈیم” کو لے کر جا رہا ہے ۔۔۔۔۔۔؟؟ عکاشہ نے طنز کیا کیوں نہیں ضرور اگر تم نہ بھی کہتے تو میں نے تمہیں ضرور بلانا تھا پوچھو نااا کیوں ۔۔۔۔۔۔؟؟ حرم نے چسکا لیا
میں پاگل ہوں جو پوچھوں گا ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حرم بی بی عقل ہے مجھ میں عکاشہ کی بات پر حرم نے منھ بنایا
پلیز پوچھو ناااااا _ حرم نے ضد کی۔ بالکل بھی نہیں کبھی نہیں عکاشہ نے کال کاٹ دی
تم نے اس کے ساتھ جھوٹ کیوں بولا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟ عکاشہ کی کال بند کرتے ہی ماہم نے پوچھا
میں کچھ جاننا چاہ رہی تھی مگر شاید میں غلط تھی حرم سوچتی ہوئی کچن سے باہر چلی گئی جبکہ ماہم اس کی بات کا مطلب سمجھ کر مسکرا دی
🪄🪄🪄🪄🪄🪄
نوید کو جب سے یوشع کا پیغام ملا تھا وہ بے چینی سے ڈیرے کا چکر لگائے جا رہا تھا.
کیا بات ہو سکتی ہے. مجھے کیوں بلایا ہے اور وہ نیا مہمان، مجھے کیوں لگ رہا ہے کہ کوئی گڑ بڑ ہونے والی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟
اب یوشع سائیں کیا کرنا چاہتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
جبکہ وہ تمام حقیقت سے آگاہ بھی ہیں پھر نوید کو چکر کاٹتے اب خود چکر آنے لگے تھے.
کیا ہی اچھا ہو وہ میری اور بتول بی بی کی شادی خود اپنے ہاتھوں سے کر دیں ایک لمحے کہ لیے بتول کا ساتھ اسے فرحت بخش گیا.
اور اگر بڑی سرکار کو ان تمام باتوں کا پتہ چل گیا پھر صورت حال کتنی خوفناک ہو سکتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
میری تو خیر ہے مگر بتول بی بی اس سے آگے سوچنا اس کے بس کی بات نہ تھی.
باؤ نوید آپ کو بڑی سرکار نے یاد کیا ہے ابھی وہ اپنی سوچوں میں گم تھا کہ ملازم کے پیغام نے اس کے رہتے سہتے اوسان بھی خطا کر دیے
یہ اچانک اب انھیں کیا ہوا ہے کہیں کچھ علم تو نہیں ہو گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ نوید نے کچھ سوچتے ہوئے یوشع کا نمبر ڈائل کیا
سائیں حویلی سے مجھے بڑی سرکار نے یاد کیا ہے حکم کریں کدھر پہلے حاضری دوں .۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟ ؟؟
ٹھیک ہے باؤ نوید تم پہلے بڑی سرکار سے مل لو. میں بعد میں بات کرتا ہوں ابھی ویسے بھی چھوٹے ساتھ مصروف ہوں.
یوشع نے کہتے ساتھ ہی کال کاٹ دی جبکہ نوید یوشع کے خشک لہجے کو محسوس کرتا مزید خوف زدہ ہو گیا.
حویلی میں قدم رکھتے ہوئے آج پہلی بار نوید کا دل کانپا تھا.
بڑی سرکار آپ نے مجھ ناچیز کو یاد کیا ہے نوید نے با ادب کھڑے ہوتے ہوئے پوچھا
ہاں بیٹھو بڑی سرکار کے اشارے پر نوید پاس پڑی کرسی پر بیٹھ گیا
ہم نے تمہیں کبھی نوکر نہیں سمجھا بڑی سرکار نے جتلایا اور یہ بات نوید کا مزید سر جھکا گئی.
آج ہم تم سے ایک ذاتی کام کہنا چاہتے ہیں. بولو کرو گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟
بڑی سرکار کی نظریں اور لہجہ ایسا تھا کہ نوید انکار کر ہی نہیں سکتا تھا.
آپ کا حکم سر آنکھوں پر، میری اوقات ہی کیا ہے جو انکار کروں ۔نوید کے جواب پر بڑی سرکار بے ساختہ مسکرا دیں
یہ ماسٹر کی بیٹی دیکھنے میں کیسی لگتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ بڑی سرکار کے سوال پر نوید نے ایک جھٹکے سے سر اوپر اٹھایا
جی ٹھیک ہے نوید نے نہ کبھی کسی لڑکی کی تعریف کی تھی اور نہ اس کی طبیعت ایسی تھی اس لیے بمشکل جملہ ادا کیا
میرا مطلب تھا کہ وہ اتنی بڑی ہو گئی ہے کہ اس کی شادی کی جاسکے بڑی سرکار کے پوچھنے پر نوید نے سر ہلایا
میں چاہتی ہوں تم اس لڑکی سے چپ چاپ نکاح کر کے شہر چلے جاؤ _ نکاح اور تمہاری رہائش کا سارا خرچہ ہم دیں گے مگر اس بات کا علم یوشع کو بھی نہ ہو۔ بڑی سرکار کی بات کسی “بم” کی طرح نوید کے سر پر پھٹی۔ یہ سب میرے ساتھ کیا ہو رہا ہے لگتا ہے میں پاگل ہو جاؤں گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ بڑی سرکار بھی وہی چاہتی ہیں جو ماسٹر صاحب چاہتے ہیں مگر میں اور یوشع سائیں _ نوید مسلسل اپنی جوتیوں پر موجود گرد کو دیکھ رہا تھا
مجھے جلد نکاح کی خبر دو اب تم جاسکتے ہو اور ہاں اگر ہمارا راز تم نے فاش کیا تو سزا بتانے کی مجھے ضرورت نہیں پڑے گی بڑی سرکار نے جاتے جاتے تنبیہہ کی
نوید جتنے بوجھل دل ساتھ آیا تھا اس سے کئی گناہ زیادہ بوجھ لے کر واپس مڑا ۔
ایک نظر بند کھڑکی کو دیکھا شاید اس کھڑکی کے بند ہونے پر اس کی قسمت بھی اس پر بند ہو گئی تھی ۔
ابھی اور کتنی مسافت باقی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
دل کی خواہش _ ایک بار وہ چہرہ ہی دیکھ لے۔ مگر کچھ دیر اپنی جیپ میں بیٹھنے کے بعد اس نے ڈرائیونگ شروع کی ۔ سارے راستے اسے بتول کی باتیں یاد آتی رہی تھیں کہ “کاش تمہیں بھی میری طرح کسی سے عشق ہو “۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ 🪄🪄🪄🪄🪄🪄🪄 تو آپ ہیں بتول آفندی عکاشہ نے اس سادہ سی لڑکی کو ایک نظر سر سے پاؤں تک دیکھا جس کی آنکھیں کافی اداس تھیں۔
جی مجھے ہی بتول کہتے ہیں آپ شاید حیدر چچا کے “دوسرے بیٹے” ہیں _ بتول نے عکاشہ کو دیکھتے ہوئے پوچھا جی نہیں میں ان کا “دوسرا بیٹا” نہیں ہوں عکاشہ کی آنکھوں میں شرارت تیر رہی تھی۔
پھر آپ ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ بتول نے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا
میں ان کا “چھوٹا بیٹا” ہوں _ عکاشہ کے جواب پر بتول حیرت زدہ سی ہوئی اتنی دیر میں یوشع کمرے میں داخل ہوا یہ ہماری یعنی ہم دونوں کی مشترکہ اکلوتی کزن ہے بتول آفندی یوشع نے بآواز بلند عکاشہ سے تعارف کروایا
یارررررر بھائی _ اب میرا تعارف بھی تو کرائیں نااااا عکاشہ نے مسکراتے ہوئے بتول کو دیکھا
یہ میرا دوسرا _ ابھی یوشع نے اتنا ہی کہا تھا کہ بتول بول پڑی دوسرا نہیں “چھوٹا بھائی” ہے عکاشہ حیدر مجھے ابھی انہوں نے خود بتایا ہے
بتول کی تیزی پر یوشع حیران جبکہ عکاشہشہ ہنسنے لگا
ہاں تو بتول بی بی آپ کو یاد ہے نااااا کہ میں نے آپ سے کیا کہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ جیسے ہی یوشع نے بات شروع کی بتول کا رنگ ایک دم اڑ گیا
یاررررر بھائی _ تمہیں شرم نہیں آتی معصوم پلس اکلوتی کزن کو خوفزدہ کرتے ہوئے ۔عکاشہ کو بتول پر ترس آیا یہ جو معصوم سی اکلوتی کزن ہے نااااا آپ پہلے ان کا کارنامہ بھی سن لیں۔ پھر رائے دیجئے گا۔ یوشع نے بتول پر طنز کیا جس پر سر نیچے کر گئی
میری یعنی آپ کے اس بھائی کی شادی بڑی سرکار نے ہم دونوں کی اس مشترکہ اکلوتی کزن سے طے کی ہے ۔
مگر یہ جناب ہمارے ایک نوکر ساتھ رات کے اندھیرے میں بھاگنے کی پوری کوشش کر رہی تھی ۔
وہ تو بھلا ہو اس نوکر کا جس نے مجھے اطلاع کر دی ورنہ _ یوشع نے عکاشہ کو تفصیل بتائی جبکہ اپنی اس تذلیل پر بتول کے آنسو نکل آئے یارررررر کزن مجھے تم سے بہت ہمدردی ہے اگر محبت کرنا ہی تھی تو کسی شیر دل سے کرتی ۔
اس چوہے سے محبت کرنے سے بہتر ہے کہ تم اس شیر سے شادی کر لو عکاشہ نے اپنی رائے دی۔
دوسرا آپ کو بھی یوں اس طرح انہیں رلانے کا حق نہیں غلطی تو کسی سے بھی ہو سکتی ہے عکاشہ نے یوشع سے کہا جو مسلسل بتول کو گھور رہا تھا
میں نے یہ جان بوجھ کر کہا ہے تاکہ بتول آفندی کو اندازہ ہو کہ اپنے لئے ایسے الفاظ سننا آسان نہیں اور وہ یہ حرکت دوبارہ کرنے کا کبھی نہ سوچیں یوشع نے اپنے رویے کی وضاحت دی۔
اب آتے ہیں اس “خاص مقصد” کی طرف جس کے لیے میں تمہیں یہاں لایا ہوں ویسے تو یہ کام میں خود بھی کر سکتا تھا مگر پھر بڑی سرکار کو دکھ ہوتا
میں انہیں دکھ نہیں دے سکتا لہذا تم یہ کام کرو گے یوشع نے عکاشہ کو دیکھا جو مزے سے اپنے پاؤں ہلا رہا تھا اور مجھے یہ کام کرنے سے کیا ملے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عکاشہ نے شرارت سے یوشع کو دیکھا تمہیں کیا ملے گا یہ بات بعد میں سوچتے ہیں مگر پہلے اس کزن کا سوچنا ہے کیونکہ میری اور اس کی شادی میں صرف چند دن باقی ہیں یوشع کی بات پر عکاشہ نے حیرت سے دونوں کو دیکھا
میری مانو تو تم دونوں شادی کر ہی لو _ اتنے کم دنوں میں مزید کسی پنگے میں پڑنے کی کیا ضرورت ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ویسے بھی تم دونوں ایک دوسرے ساتھ اچھے لگ رہے ہو عکاشہ کی بات پر یوشع اور بتول نے ایک دوسرے کو دیکھا
کمینے تو میری مدد کے لیے آیا ہے یا بڑی سرکار کی یوشع نے اسے ایک مکا اسے رسید کیا
بڑی سرکار کی تو میں ایسی مدد کروں گا کہ وہ مجھے دعائیں دیں گی ۔بھائی آپ ان کی فکر مت کریں عکاشہ نے اپنا بازو سہلایا اور یوشع کے یوں مارنے پر ایک دم اسے ماہم یاد آگئی
تم دونوں فی حال خاموشی سے میری بات سنو یوشع نے انگلی اٹھا کے دونوں کو خاموش رہنے کا کہا
محبت کرنے کا شوق ہے مگر ہمت نہیں تو بندہ ایسے کام ہی نہ کرے ۔
بتول اگر تم نے اب کوئی گڑبڑ کی تو آئندہ مجھ سے امید مت رکھنا یوشع نے اپنی بات شروع کرنے سے پہلے بتول کو سمجھایا
پھر اپنے موبائل سے یوشع نے نوید کو کال کرکے آنے کا کہا اور دونوں کی طرف متوجہ ہو گیا ۔
🪄🪄🪄🪄🪄
آج دل کافی ہلکا پھلکا تھا ۔ تازہ ہوا میں پھولوں کی بھینی بھینی خوشبو آ رہی تھی۔ یوشع جیپ لے کر گاؤں کی طرف جا رہا تھا مگر پھر اچانک ندی کا رخ کیا
کچھ دیر خاموشی سے ندی کے پانی کو دیکھا بہار کی آمد آمد تھی نئی کونپلیں پھوٹ رہیں تھیں۔
کیا واقعی محبت کی کونپلیں اس بہار کے ساتھ میرے دل میں بھی پھوٹ رہی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
کیا امثال اس قابل ہے کہ میں اس سے محبت کروں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
اگر مجھے امثال سے ہی محبت کرنا تھی تو بتول میں کیا خرابی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
کیا میں اس سے صرف اس لئے شادی نہیں کر رہا کہ وہ نوید کو پسند کرتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
یا امثال اس کی وجہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
یوشع کے دماغ میں اس وقت سوالوں کا سمندر ٹھاٹھیں مار رہا تھا ۔
وہ ندی پر سکون کی تلاش میں آیا تھا مگر تنہائی ملتے ہی وہ مزید الجھ گیا
یوشع نے ندی سے واپسی پر جیپ کو ڈیرے کی طرف موڑا۔ شاید دل کو دل سے راہ ہوتی ہے راستے میں اسے امثال سرسوں کے کھیتوں میں کھڑی نظر آ گئی مگر اس دفعہ وہ اکیلی نہیں تھی بلکہ دو اور لڑکیاں بھی اس کے ساتھ تھیں۔
یوشع نے اس کے قریب جیپ روک کر بار بار ہارن دیا ۔مگر اس نے ایک بار بھی نگاہ اٹھا کر نہیں دیکھا بالآخر یوشع کو خود ہی باہر نکلنا پڑا
بہری ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ اتنی دیر سے میں ہارن دے رہا تھا بندہ کم از کم دیکھ ہی لیتا ہے کہ کون ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
امثال جو سرسوں کے کھیت سے پیلے پھول چن رہی تھی یوشع کی آواز پر پلٹی۔
بہری میں نہیں یہ دونوں ہیں۔ دوسرا میرا کوئی رشتہ دار گاڑی نہیں رکھتا تو مجھے کیا ہزار لوگ گزرتے ہیں کیا میں اپنا کام چھوڑ کر سب کو دیکھتی رہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ امثال کہتی ہوئی دوبارہ کام کرنے لگی
تم صرف مجھے ہی نخرے دکھاتی ہوں یا سب کے ساتھ ایسا ہی رویہ ہے تمہارا یوشع اس کے برابر پگڈنڈی پر بیٹھ گیا
آپ حویلی والے لوگ اچھے نہیں ہوتے۔ اس لیے دور رہا کریں۔ ویسے بھی کتنا عجیب لگتا ہے اتنے بڑے پڑھے لکھے “یوشع حیدر آفندی” غریبوں سے بےعزتی کرواتے ہوئے ۔
امثال کی بات پر یوشع کو غصہ تو بہت آیا مگر اس کے منہ سے اپنا نام سن کر بہت اچھا لگا
ارے واہ تمہیں تو میرا پورا نام آتا ہے ویسے مجھے تمہارے منہ سے اپنا نام سننا بہت اچھا لگا ہے یوشع کی بات پر امثال نے اسے حیرت سے دیکھا
اور اپنی بےعزتی کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے میں نے صرف نام تو نہیں لیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ امثال اب اس کی طرف منہ کر کے کھڑی تھی
یوشع پگڈنڈی سے چھلانگ لگا کے اس کے برابر کھڑا ہو گیا جس پر ایک لمحے کیلئے امثال کے چہرے پر خوف کا سایہ لہرایا
یہ جو تم میرے سامنے اتنی زبان چلاتی ہو اس کی وجہ پتہ کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع نے امثال کے ہاتھوں سے سرسوں کے پیلے پھول لیے
اس کی وجہ یہ ہے کہ تم اچھی طرح جانتی ہو کہ میں تمہیں کچھ نہیں کہوں گا اور نہ ہی کوئی نقصان پہنچاؤں گا یوشع نے ہاتھ میں پکڑے پھول امثال پر اچھال دیے۔
جس دن میں برا بنا “امثال بی بی” __ تم میرے سائے سے بھی پناہ مانگو گی بےعزتی کرنا تو بہت دور کی بات ہے ۔ یوشع کا لہجہ ایک دم سخت ہوا تو امثال کو اس سے خوف آیا
مفت کے ساگ توڑ کر کھانے والوں کو اتنے نخرے سجتے نہیں مگر تم پر اچھے لگتے ہیں پتا ہے کیوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع نے اپنے ہاتھ جھاڑتے ہوئے پیچھے باندھے
کیونکہ تم مستقبل میں “امثال یوشع حیدر آفندی” بننے والی ہو اور تمہارے نام کے ساتھ یہی نام سجتا بھی ہے اسی لئے تمہارے نخرے مجھے اچھے لگتے ہیں ۔
یوشع امثال کی حیرت زدہ شکل پر مسکراہٹ اچھالتا واپس پلٹ گیا کیونکہ آج اسے اپنے تمام سوالوں کے جواب مل گے تھے
🪄🪄🪄🪄🪄🪄
جاری ہے
