Do Dil By Amna Mehmood Readelle50150 Episode 2
Rate this Novel
Episode 2
نوید نے گاڑی آفندی ہاؤس کے سامنے روکی. وہ جتنا یہاں آنے سے کتراتا تھا قسمت اتنا ہی ُاُسے اِس دہلیز پر لے آتی تھی.
جلدی سے سامان اتارو وہ ملازموں کو کہتا ہوا گھڑی پر ٹائم دیکھنے لگا جب نظر غیر ارادی طور پر اوپر اٹھی جہاں ابھی ابھی کسی نے کھڑکی پر پردہ گرایا تھا.
باؤ نوید آپ کو بتول بی بی یاد کر رہیں ہیں _ اس سے پہلے وہ گاڑی میں بیٹھتا ملازم نے آ کر پیغام دیا. نوید کو جتنی جلدی یہاں سے نکلنے کی تھی شاید اس سے کہیں زیادہ جلدی کسی کو اس سے ملنے کی تھی نہ چاہتے ہوئے بھی اس سے اندر کی طرف قدم بڑھا دئے.
اتنے دنوں بعد آئے ہو پھر بھی ملے بغیر ہی جا رہے تھے ………. ؟
نیم بند دروازے سے بتول نے شکوہ کیا جبکہ حسب عادت نوید نوید سر جھکائے فاصلہ پر کھڑا تھا.
بی بی کوئی کام ہوا کرے تو پیغام بھجوا دیے کریں میں حاضر ہو جایا کروں گا اپنے جذبات کو کنٹرول کرتے ہوئے آہستہ مگر بےلچک آواز میں جواب دیا. کام سے کیا مراد ہے …….. ؟ مجھے تمہیں دیکھنا ہوتا ہے. اتنے دنوں سے ہم تڑپ رہے تھے _ بتول نے دروازے کا پردہ ختم کرتے ہوئے جواب دیا.
نوید نے ایک نظر اس ماہ جبین کو دیکھا اور دوبارہ سر جھکا لیا.
تم خود کو سمجھتے کیا ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ہمیں تم سے محبت ہو گئی ہے ورنہ ہم تم جیسوں کو بتول نے قدرے چیخ کر جملہ ادھورا چھوڑا
ہو گی وہ شانے اچکا کر جانے لگا
ہو گی سے کیا مطلب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟
مجھے تم سے “محبت” ہے. وہ اُس کا گریبان پکڑ کر چلائی.
اور زور سے” چلائیں” اتنے زور سے کے سارا گاؤں سنے پھر میں یقین کروں گا اس نے اپنا گریبان چھڑاتے ہوئے نرمی سے طنز کیا جس پر وہ بجھ سی گئی
کیوں کیا ہوا ختم ہو گئی محبت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟
وہ اس کا جھکا سر دیکھ کر ہنسا
بی بی یہ “محبت” آپ کے بس کی بات نہیں. محبت چھپ چھپ کر نہیں ہوتی.
یہ جو آپ مجھ سے کرتی ہیں نااااااا چوری چھپے ۔ یہ گناہ ہے گناہ جسے آپ محبت کا نام دیتیں ہیں ۔
اور معزرت میں اس “گناہ” میں آپ کا ساتھ نہیں دے سکتا وہ جانے کے لیے پلٹا
جس دن سب کے سامنے مجھ سے “محبت” کا اقرار کر سکیں اس دن بتائیے گا.
میں” چٹان” کی طرح آپ کے ساتھ کھڑا ہوں گا۔ مگر یوں چوری چھپے نہیں۔
سنو ہمارے خاندان میں باہر شادی کا رواج نہیں ۔میں مجبور ہوں وہ مدہم آواز میں بولیں جیسے خود سے بھی شرمندہ ہوں.
” حیرت ہے آپ کے خاندان میں باہر شادی کرنے کی اجازت نہیں مگر مُحبت کی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ “
میں آپ کی “بہادری” کی داد دیتا ہوں۔ نوید نے تالی بجائی اور طنزاً مسکراتا ہوا چل پڑا۔
پھر کب آؤ گے ……… ؟؟؟ بےتابی سے پوچھا گیا.
میں ہر بار آخری بار سمجھ کر آتا ہوں مگر ایک نظر بتول کے اترے ہوئے چہرے کو دیکھتا وہ تیزی سے باہر کی جانب چل پڑا.
” فرق تھا ہم دونوں کی مُحبت میں ، مُجھے اُس سے ہی تھی اور اُسے مُجھ سے بھی تھی!۔ “
وہ اس کی پشت کو دھندلی آنکھوں سے دیکھتے ہوئے سوچنے لگی۔
کیوں میرا امتحان لیتیں ہیں ………. ؟
ہم غریب لوگ، کچے گھروں میں رہنے والے اتنے مہنگے خواب afford نہیں کر سکتے.
نوید نے سٹیرنگ پر ہاتھ مارتے ہوئے گاڑی سٹارٹ کی اور ایک زخمی نظر اس کھڑکی پر ڈالی جہاں ابھی بھی کوئی کھڑا تھا.
🪄🪄🪄🪄🪄
یونی کی چہل پہل اپنے عروج پر تھی. نئی صبح نیا سمسٹر اور نئے فیلوزززز
اپنی دھن میں ببل چباتا اسے پتہ ہی نہیں چلا کہ کیسے وہ پروفیسر شہاب الدین سے ٹکرا گیا …….. ؟؟؟
سوری سر وہ غلطی سے سر کھجاتے ہوئے عکاشہ نے معزرت کی جبکہ اس کا مسکراتا چہرہ کہیں سے بھی شرمندہ نظر نہیں آ رہا تھا.
برخوردار ہماری عمر میں نظر کا کمزور ہونا سمجھ آتا ہے مگر تمہاری عمر میں تو لوگ اڑتی چڑیا کہ پر گن لیتے ہیں پھر اتنا بڑا “گینڈا نما” پروفیسر نظر نہ آنا تشویش کی بات ہے.
پروفیسر صاحب کے طنز کو سمجھتے ہوئے عکاشہ نے لاڈ سے بازو ان کے گرد حائل کیے اور کہا
مسئلہ “نظر” کا نہیں “نیت” کا ہے. جو کسی پر بھی خراب ہو سکتی ہے. چاہیے پھر کوئی “پری” ہو یا “گینڈا” _ ساتھ ہی ایک بھرپور قہقہ لگایا. کبھی تو شرمندہ ہو جایا کرو. تمہاری ماں کا خیال نہ ہو تو ابھی کھڑے کھڑے یونی سے نکال دوں. اتنی مشکوک حرکتیں کرتے ہو . پروفیسر شہاب نے اس کا بازو پیچھے کیا. ویسے یہ جملہ بزات خود مشکوک ہے کہ تمہاری ماں کا خیال نہ ہو تو ………… ؟؟؟ عکاشہ نے آنکھ دبائی اور اپنی گری کتابیں اٹھا کر جانے لگا مگر پھر کچھ سوچ کر پلٹا اب آپ وہ کہہ ہی دیں جو ہر دفعہ گفتگو کے آخر میں مجھے کہتے ہیں جس سے مجھے اندازہ ہو جاتا ہے کہ آپ کی طرف سے اب خدا حافظ ہے تاکہ پھر میں جاؤں ……… ؟؟؟ عکاشہ کی بات پر پروفیسر شہاب الدین نے اپنی عینک درست کی اور باآوازِ بلند اسے “الو کا پٹھا” کہا الو کا پٹھا اور وہ بھی میں دونوں ہی خوبصورت ہوتے ہیں اس لیے مجھے بلکل برا نہیں لگتا جب آپ مجھے ایسا کہتے ہیں.
“آئی لو یو پروفیسر شہاب الدین” ویسے کیا میں آپ کو پیار سے” شابو” بول سکتا ہوں …………. ؟؟؟ عکاشہ اور پروفیسر کی تکرار پر لطف اندوز ہوتے کتنے ہی سٹوڈنٹ ان کے گرد جمع ہو گئے تھے. عکاشہ بس کرو یہ ڈرامہ روز ہی کسی نہ کسی ساتھ لگا لیتے ہو مس شمع کا پیریڈ شروع ہونے والا ہے. ماہم نے بھیڑ کراس کرتے ہوئے عکاشہ سے کہا یار میرا دل اس “موم بتی” کی کلاس لینے کو نہیں کرتا. اس سے تو یہ “شابو” زیادہ مزے کا ہے _ عکاشہ کے جواب پر ماہم نے اپنا سر تھام لیا. جبکہ سٹوڈنٹس “شابو شابو” کے نعرے لگانے لگے
آج تو ضرور تمہیں چانسلر کی طرف سے کال آئے گی. ماہم نے دل میں سوچا مگر منہ سے کچھ نہ کہا کیونکہ کہنا فضول تھا.
اچھا سر آپ کو چھوڑ کر کہیں بھی جانے کو میرا دل نہیں کرتا پر کیا کروں …………..؟؟؟
مجبور ہوں، چلتا ہوں عکاشہ کے اس قدر جذباتی ڈائیلاگ پر جہاں پروفیسر صاحب غصے سے لال ہوئے وہیں سٹوڈنٹس نے سیٹیاں بجائیں.
تیری تو پروفیسر صاحب ضبط کی انتہا پر تھے چہرہ لال سرخ.
ارے یہ کیا ………. ؟ پروفیسر صاحب تو غصے سے لال ہو رہے ہیں ……. ؟ ایک سٹوڈنٹ نے شرارت کی.
جی نہیں وہ غصے سے لال نہیں ہو رہے بلکہ میرے ” اظہارِ محبت” پر ان کی گالیں بلش کر رہیں ہیں.
مشرق کی یہی تو خوبصورتی ہے کہ لڑکیاں تو لڑکیاں ہمارے مرد بھی بہت شرمیلے ہوتے ہیں.
عکاشہ کے جملے نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور سٹوڈنٹ سچ مچ پروفیسر کو دیکھ کر ہنسنے لگے اور وہ مزہد لال ہو گئے.
جبکہ اس ساری سچویشن سے ماہم گھبرا کر رونے والی ہو گئی تھی.عکاشہ نے اسے افسوس بھری نظروں سے دیکھا.
ایک تو اس لڑکی کو ہر وقت رونے کا موقع چاہیے.
اوئے “مس موسلاھار” تجھے کیا ہوا ہے ……. ؟ عکاشہ نے اس کے آگے چٹکی بجائی
مجھے تو ڈر لگ رہا ہے کہیں لڑائی ہی نہ ہو جائے یہ سٹوڈنٹس کی ہوٹنگ سے پروفیسر صاحب شدید غصے میں آ گئے ہیں.
ماہم بی بی تمہاری اطلاع کے لیے عرض ہے کہ یہ ایک پرائیویٹ یونی ہے یہاں سٹوڈنٹس کی ویلیو پروفیسرز سے زیادہ ہے.
عکاشہ کی بات پر ماہم نے سر نفی میں ہلایا.
ویسے تم جنازوں پر کیوں نہیں جاتی ……… ؟؟؟ اچھا خاصا منافع بخش کاروبار ہے عکاشہ کی بات پر ماہم نے اسے حیرت سے دیکھا
تم انسان نہیں بن سکتے ……. ؟ ماہم جلدی جلدی بھیڑ سے نکل رہی تھی.
مجھے انسان بن کر کیا ملے گا ……. ؟ شرارتی مسکراہٹ سے پوچھا گیا
تمہیں کچھ ملے نہ ملے مگر ہم سب کو “سکون” مل جائے گا _ ماہم کے جواب پر عکاشہ نے ہنستے ہوئے راستے میں پڑے چھوٹے سے پتھر کو اپنے جوگر سے ٹھکر لگائی. اب مصیبت عکاشہ کو بلاتی تھی یا عکاشہ مصیبت کو مگر جو بھی تھا پتھر سیدھا سامنے سے آتی ہوئی مس شمع کی عینک پر لگا. ماہم نے یہ منظر دیکھتے ہی سوالیہ نظروں سے اسے گھورا جیسے پوچھ رہی ہو کہ اب یہ کیا تھا _ جس پر وہ کندھے اچکا کر رہ گیا.
تمہارے ساتھ چلنا بھی گناہ ہے جبکہ وہ مسکرا دیا جیسے اس کا قصور ہی نہ ہو. 🪄🪄🪄🪄🪄 راشدہ بیگم آپ کا صاحبزادہ کہاں ہے _ کتنے دنوں سے نظر نہیں آیا نہ کھانے پر نہ ناشتے پر _ حیدر آفندی نے بڑی سرکار کے پاس بیٹھتے ہوئے پوچھا.
سائیں آپ کو تو پتہ ہے کہ آج کل شکار کا موسم ہے اور وہ کتنا شکار کا دیوانہ ہے راشدہ بیگم نے ڈرائے فروٹس کی ٹوکری حیدر آفندی کے آگے کی.
لگتا ہی نہیں ہے کہ یہ لڑکا آکسفورڈ کا پڑھا ہوا ہے حیدر آفندی نے افسوس سے سر ہلایا.
حیدر اس میں افسوس والی کیا بات ہے …….. ؟؟؟
اس کا دادا بھی شکار کا شوقین تھا اور وہ اپنے دادا پر گیا ہے. بہادر دادا کا بہادر پوتا بڑی سرکار نے گردن اکڑاتے ہوئے فخرسے کہا اماں آپ کی بات بجا ہے لیکن _ ابھی حیدر آفندی نے اتنا ہی کہا تھا کہ بڑی سرکار نے ہاتھ کے اشارے سے انھیں مزیش بولنے سے منع کیا.
تم چاہتے ہو کہ میرا پوتا تمہارے اس شہری چوزے کی طرح ماں کا پلو پکڑ کر چلے. پتہ نہیں تمہارا ہے بھی کہ نہیں بڑی سرکار کے لہجے میں حقارت تھی.
کتنی بار کہا ہے یہ جملہ نہ بولا کریں _ میرے خون کو گالی مت دیا کریں آپ کے کہنے پر چھوڑ تو دیا ہے اب میرا جینا حرام تو نہ کریں حیدر آفندی غصہ ضبط کرتے باہر کی طرف نکل گئے.
اگر تجھ میں کوئی خوبی ہوتی تو یوں یہ اس “بال کٹی مرغی” کا غم نہ منا رہا ہوتا.
میں نے حیدر کو تیرے تک محدود کرنے کے لیے کیا کیا نہیں کیا مگر تو بڑی سرکار نے افسوس سے راشدہ بیگم کی طرف دیکھا جو سر جھکائے بیٹھیں تھیں.
وہ عورت ہی کیا جو اپنے خاوند کو قابو نہ کر سکے خاندان میں تیری جیسی دوسری کوئی عورت خوبصورت نہیں نگر تجھ سے حیدر جیسا سیدھا سادہ انسان قابو نہ ہوا. جو عورتیں اپنے خاوندوں پر قابو نہیں رکھتیں ان کے شوہر ایسے ہی دوسری غیر خاندانی عورتیں لے اڑتیں ہیں. میرا تو کسی بھی صورت اس مرغی کے بچے کو اپنے یوشع کا حق نہیں مارنے دوں گی بڑی سرکار نے راشدہ بیگم کو ہمیشہ کی طرح کوستے ہوئے کہا
ابھی تک تو کوئی ایسا پیدا نہیں ہوا جو یوشع حیدر آفندی کا حق مار سکے. مستقبل کا میں کچھ کہہ نہیں سکتا یوشع جو ابھی ابھی سٹنگ روم میں داخل ہوا تھا بڑی سرکار کی بات کا جواب دیتے ہوئے ان کے ہاتھ چومنے لگا
میرا شہزادہ بلکل میرا شیر ہے تو یوشع کو دیکھتے ہی بڑی سرکار کی آنکھوں میں ایک عجیب سے چمک ابھری تھی.
جو راشدہ بیگم کو بلکل پسند نہیں آئی کیونکہ بڑی سرکار کی یہی باتیں یوشع میں غرور بھر رہیں تھیں.
مستقبل میں بھی میرے بیٹے جیسے کوئی نہیں ہو گا کیونکہ اس دنیا میں ایک ہی ہے “یوشع حیدر آفندی” آفندی خاندان کا اکلوتا چشم و چراغ دادی کی بات پر یوشع نے مسکراتے ہوئے اپنا سر ان کی گود میں رکھا.
کیا میرا بیٹا بھی نہیں ……… ؟ ؟ ؟ یوشع کے سوال پر بڑی سرکار کھل کر مسکرائیں.
ہاں اسے اجازت ہے بڑی سرکار نے محبت سے یوشع کا ماتھا چوما اور اس منظر کو اندر آتی بتول نے ناگواری سے دیکھا تم آج کتنے دنوں بعد ہمیں اپنی شکل دکھا رہی ہو بڑی سرکار نے قدرے غصے سے بتول کی طرف دیکھا جو اب راشدہ بیگم کے برابر بیٹھ چکی تھی.
سارا دن حویلی میں فارغ ادھر ادھر پھرتی رہتی ہو _ بور نہیں یو جاتی یوشع بھی اسے دیکھتے ہوئے اٹھ بیٹھا جبکہ بڑی سرکار کو یوں یوشع کا بتول سے بات کرنا سخت ناگوار گزرا.
کرنے کو کچھ ہے ہی نہیں تو _ بتول اپنے لیے دادی کی نظروں میں ناپسندیدگی دیکھتے ہوئے بولی. تم نے کتنا پڑھا ہے ……… ؟؟؟ یوشع نے کچھ سوچتے ہوئے پوچھا یہاں گاؤں کے سکول سے ہی میٹرک کیا ہے پھر بڑی سرکار نے آگے پڑھنے نہیں دیا جبکہ چاچو حیدر چاہتے تھے کہ میں پڑھوں.
بتول نے ڈرتے ڈرتے آہستہ آواز میں جواب دیا.
حیدر کا بس چلے تو اس گاؤں کی تمام لڑکیوں کو اپنی “دُم کٹی مرغی” کی طرح بنا دے بڑی سرکار نے یوشع کا لحاظ کرتے ہوئے اپنا غصہ دبایا. راشدہ تم زرا کچن میں رات کے کھانے کا انتظام دیکھو اور بتول کو بھی ساتھ لے جاؤ _ بڑی سرکار نے منظر سے پوتی اور بہو کو غائب کیا.
یوشع جب تجھے پتہ ہے کہ بتول تیری بچپن کی منگ ہے تو کیوں اسے اتنا منہ لگاتا ہے …….. ؟؟؟
مجھے شادی سے پہلے تیرا اس سے یوں مخاطب ہونا بلکل پسند نہیں اگر میرے مرحوم بیٹے کی خواہش نہ ہوتی تو کبھی بھی میں بتول جیسی لڑکی سے تیری شادی نہ کرتی.
بڑی سرکار کی بات پر یوشع نے اپنے کندھے پر چادر درست کی اور جیب سے موبائل-فون نکال کر استعمال کرنے لگا
🪄🪄🪄🪄🪄
موبائل-فون کب سے بج رہا تھا مگر وہ کبھی بھی اپنے لیکچر کے دوران کال اٹینڈ نہیں کرتیں تھیں.
کلاس سے باہر آتے ہی انھوں نے پرس سے اپنا فون نکالا مگر مسڈ کالز جس نمبر سے آئیں تھیں وہ ناقابلِ یقین تھا.
کچھ دیر فون کو دیکھنے کے بعد انھوں نے اس نمبر پر ایک “مس بل” دی کیونکہ کال کرنے کی اجازت نہ تھی.
آنکھیں اپنی ناقدری پر ماتم کنعاں تھیں. چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتیں وہ کب آفس میں داخل ہوئیں انھیں خود بھی اندازہ نہ ہوا.
ایک بار پھر موبائل کی بلیک سکرین کو دیکھا جو شاید اُن کا حال اور مستقبل بیان کر رہا تھا.
ابھی آنکھیں مایوسی کا لبادہ اوڑھنے ہی لگیں تھیں کہ ایک بار پھر اسی نام سے سکرین چمک اٹھی.
جب فاصلے زیادہ ہو جائیں تو اپنی عزیز ترین ہستی سے بھی بات کرتے ہوئے ہچکچاہٹ ہوتی ہے.
عدن آپ آج اتنی چپ کیوں ہیں _ کیا ہوا ہے _ پریشان ہیں ……… ؟؟؟
ایک ہی سانس میں کئی سوال پوچھ ڈالے _ پہلے مجھے یقین تو کر لینے دیں کہ آپ نے آج پورے تین مہینے بعد مجھے یاد کیا ہے. عدن کے گلہ پر حیدر آفندی نے ایک گہرا سانس خارج کیا. آپ سب جانتی ہیں. میں نے کبھی جھوٹ تو نہیں بولا _ حیدر کی مدہم آواز نے ان کی سماعتوں کو گویا بصارت بخشی.
کچھ چاہیے کسی چیز کی ضرورت ہے کوئی کمی تو نہیں ایک بار پھر اس مہربان آواز نے پوچھا
بس ملنے آجائیں آپ کی ضرورت ہے مجھ سے مزید یہ کمی برداشت نہ ہو گی.
عدن _ حیدر آفندی یہاں ہی بے بس ہو جاتے تھے.
نہیں آئیں گے مجھے معلوم ہے مگر آپ کا بیٹا اب باغی ہو رہا ہے. اس کے لیے ہی آ جائیں. ایک آخری کوشش بلانے کی عدن نے دل کو حوصلہ دیا.
اچھا پھر بات کروں گا اور آنے کی کوشش بھی مگر وعدہ نہیں اپنا خیال رکھنا.
تمہارا تھا اور تمہارا ہی رہوں گا جہاں بھی رہوں __ حیدر آفندی کی آواز اب سپیکر میں نہیں تھی مگر عدن اس آخری جملے پر ہی ٹھہر گئیں تھیں.
🪄🪄🪄🪄
