Do Dil By Amna Mehmood Readelle50150 Episode 25
Rate this Novel
Episode 25
بتول آجکل حویلی کے ماحول کی وجہ سے پھر بہت اداس رہنے لگی تھی ۔ اوپر سے راشدہ بیگم کو دیکھ دیکھ کر اسے یوشع پر بہت غصہ آرہا تھا ۔
کیا فائدہ اتنے پڑھے لکھے ہونے کا جب بندہ گدھے کا گدھا ہی رہے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
بتول نے یوشع کو دل ہی دل میں کوسا تبھی گیٹ پر نوید کی جیپ کا ہارن سنائی دیا۔ جسے سنتے ہی وہ جلدی سے کھڑکی تک جا پہنچی
نوید جان بوجھ کر بار بار ہارن دے رہا تھا مگر ابھی تک اسے کھڑکی پر کوئی نظر نہیں آیا تھا ۔
عجیب لڑکی ہے جب ہمارے درمیان کوئی رشتہ نہ تھا تو ہر وقت مجھے نظر آتی تھی اور اب _ جتنا دل کر رہا ہے ملنے کو مگر اچھا کوئی بات نہیں نوید سوچتا ہوا حویلی میں داخل ہوا ۔
باؤ نوید آپ کو بی بی سائیں نے بلایا ہے _ گاڈ کے کہنے پر نوید اپنے خیالات سے باہر آیا ۔ جانتا ہوں نوید کو دل میں کہیں امید تھی کہ شاید بتول نے بلایا ہو مگر یہاں پہنچ کر وہ امید بھی دم توڑ گئی ۔
بی بی سائیں آپ نے مجھے یاد کیا ہے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ نوید نے مودب انداز میں راشدہ بیگم کے سامنے کھڑے ہو کر پوچھا
ہاں نوید آؤ بیٹھو راشدہ بیگم کے اشارے پر وہ قریب پڑے کاؤچ پر بیٹھ گیا نظریں ہنوز نیچی تھیں۔
نوید تم اب اس گھر کے فرد ہو۔ اس لیے میں نے تم سے ایک ضروری بات پوچھنی تھی امید ہے کہ تم میری بات کا بالکل سچ سچ جواب دو گے ۔۔۔۔۔؟؟؟ راشدہ بیگم کے پر تفتیش انداز پر نوید نے انہیں چونک کر دیکھا
مجھے یہ بتاؤ کہ تمہیں کس نے بتول بی بی ساتھ نکاح کے لئے کہا تھا یوشع یا حیدر سائیں ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
راشدہ بیگم کے پوچھنے پر نوید سوچ میں پڑگیا کہ اب کیا جواب دے ۔۔۔۔۔؟؟؟
میں جانتی ہوں تم بہت وفادار ہو ۔مگر میرے لیے اس سوال کا جواب جاننا بہت ضروری ہے۔تاکہ میں اندازہ کر سکوں کہ تمہاری “لگامیں” کس کے ہاتھ میں ہیں۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
راشدہ بیگم کے سوال پر نوید نے ایک گہرا سانس خارج کیا ۔اب وہ کیا بتاتا کہ “لگامیں” کس کے ہاتھ میں ہے۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
یوشع سائیں نے کہا تھا نوید نے بہت سوچ سمجھ کر یوشع کا نام لیا ۔
مجھے تو یہ لڑکا اپنا بیٹا ہی نہیں لگتا ۔ کبھی آفندی فیملی کے کسی مرد نے آج تک یہ حرکت نہیں کی جو اس نے کی ہے ۔ بھلا کوئی اپنی منگیتر کی شادی کسی دوسرے سے ہونے دیتا ہے اور یہ یوشع راشدہ بیگم نے افسوس سے دل میں سوچا
نوید تم جانتے ہی ہو کہ بتول اس “حویلی’ اور اس کی “آسائشوں” کی کتنی عادی ہے وہ کسی عام جگہ نہیں رہ سکتی تو راشدہ بیگم نے اپنی بات کہتے ہوئے نوید کے چہرے کو غور سے دیکھا
میں سمجھ سکتا ہوں مگر میرے پاس کوئی اچھی رہائش انہیں دینے کے لئے نہیں ہے ۔
میں ڈیرے پر ہی زیادہ تر رہتا ہوں ۔ میری فیملی کے بارے میں آپ مجھ سے زیادہ اچھی طرح جانتی ہیں ۔
چھوٹا سا ایک “مکان” ہے جسے مکان کہنا غلط ہوگا چھوٹا سا ایک “جھونپڑا” ہے۔
آپ لوگوں کا ہی نوکر ہوں ۔بڑے سائیں اور یوشع سائیں کے علاوہ بڑی سرکار جو کچھ دے دیتی ہیں اسی میں گزر بسر کر رہا ہوں۔
ایسے حالات میں میں بھلا “بی بی سائیں” کو کیا دے سکتا ہوں ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ہمیشہ سے صاف گو نوید اب بھی سچائی سے بولا
اسی لیے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ بتول کو حویلی سے کہیں نہیں بھیجا جائے گا اور اس میں مجھے تمہاری مدد چاہیے امید ہے تم “نہ” نہیں کرو گے راشدہ بیگم کی بات پر نوید کو اپنا سانس رکتا ہوا محسوس ہوا ۔
یعنی “وہ” مل کر بھی مجھے کبھی نہیں ملے گی نوید نے دکھ بھری نظروں سے راشدہ بیگم کی طرف دیکھا
ہم تو بی بی سائیں آپ کے نوکر ہے ۔آپ “حکم” کریں یہ “مدد” کا لفظ آپ کے منہ سے اچھا نہیں لگتا نوید کے جواب پر راشدہ بیگم دل سے مسکرائیں ۔
میں یوشع سے بات کر لوں گی تم بھی اس پر کوئی اعتراض مت کرنا ۔ راشدہ بیگم نے مسکرا کہ نوید کی طرف دیکھا
اس پر کس پر ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ نوید نے دل میں کہا مگر زبان سے پوچھا نہیں
بی بی سائیں اب مجھے اجازت ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ نوید کچھ دیر خاموشی کے بعد چپ چاپ کھڑا ہو گیا ۔
بتوں سے ملنا چاہو گے راشدہ بیگم کے اس طرح پوچھنے پر نوید نے انہیں بے یقینی سے دیکھا
اگر نہیں ملنا چاہتے تو کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مگر بتول کو شاید تم سے کوئی بات کرنا تھی۔ راشدہ بیگم نے اپنی جگہ سے کھڑے ہوتے ہوئے کہا
میں تو نوکر ہوں۔ انکار کا سوال ہی نہیں بنتا اب کی بار نوید کے لہجے میں خوشی تھی جس پر راشدہ بیگم نے اسے دوبارہ بیٹھنے کا اشارہ کیا
میں بتول کو بھیجتی ہوں۔ یوشع اور حیدر تو حویلی میں نہیں ہیں۔ مگر بڑی سرکار اپنے کمرے میں موجود ہیں رشتہ بیگ نے اپنے طور پر ممکنہ خطرے سے آگاہ کیا اور اندر چلی گئیں ۔
نوید کو اپنی خوشی میں پرواہ کہاں تھی کہ وہ کیا کہہ کر گئیں ہیں ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
کالے رنگ کے علاقائی فراک پر مختلف رنگوں سے بیل بوٹے بنے تھے ۔سر پر شیشوں والی کالی چادر تھی جو نوید کو اس گورے مکھڑے پر شروع سے ہی بہت پسند تھی ۔ سر ہلانے پر کانوں میں جھمکے ہلکورے لے رہے تھے ۔پاؤں میں بے آواز کھسہ بتول کو آج پہلی بار نوید اتنے غور سے دیکھ رہا تھا۔
کیسے ہو ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ نوید کو یوں اپنی طرف بے خودی سے دیکھتے ہوئے بتول نے پوچھا
آپ کے سامنے ہوں دیکھ لیں نوید نے ہوش میں آتے ہی اپنے اوپر ہنستے ہوئے جواب دیا
میں نے تمہیں اس لئے بلایا تھا کہ بتا سکوں میں تم سے ناراض ہوں بتول نے اک ادا سے کہتے ہوئے لکڑی کے جھولے (جس پر کچھ دیر پہلے راشدہ بیگم بیٹھی تھی) کی طرف دیکھا ۔
اب میں نے کیا کیا ہے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ نوید نے حیرانگی سے پوچھا
مجھے یہی تو تم سے گلہ ہے کہ تم کچھ نہیں کرتے بتول کہتی ہوئی جھولے پر بیٹھ گئی ۔
طعنہ سمجھو یا گلہ ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ نوید نے بتول کے سامنے کھڑے ہوتے ہوئے پوچھا
گلہ بتول نے فورا جواب دیا۔
سزا ملے گی یا معافی ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ نوید کو کچھ حوصلہ ہوا
معافی تو نہیں دوں گی آخر بڑی سرکار کی پوتی ہوں وہ بھی اکلوتی بتول نے اپنی مسکراہٹ دبائی۔
منظور لیکن غلطی بتا دیں تو آئندہ خیال رکھوں گا نوید نے کمر پر ہاتھ باندھتے ہوئے کہا اب وہ خوش لگ رہا تھا۔
تم نے مجھے اپنے محبوب ساتھ نکاح کی “مبارکباد” نہیں دی اور نہ ہی کوئی “تحفہ” بتول بہت سنجیدگی سے کہہ رہی تھی جب کہ نوید حیران کھڑا اسے دیکھ رہا تھا
کیا سچ میں یہی بات ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ نوید کے سوال پر بتول نے سر ہاں میں ہلایا تو اس کے جھمکے بھی ہلنے لگے
“آپ نخرے کی بات کرتے ہیں ہمارے تو جھمکے بھی بہت بھاری ہیں”
پھر تو میرا گلہ بھی بنتا ہے کیونکہ مجھے بھی کسی نے مبارکباد اور تحفہ نہیں دیا نوید کو اب بتول کی شرارت سمجھ آنے لگی تھی
ہمارے ہاں مبارک باد لڑکے والوں کی طرف سے آتی ہے اور تحفے کے طور پر ہم پورے کے پورے آپ کے ہوئے ابھی بھی کسی تحفے کی ضرورت باقی ہے کیا ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
بڑے افسوس کی بات ہے بتول نے منہ بنایا جس پر پہلی بار نوید کھلکھلا کر ہنسا
ہنستے رہا کرو بہت پیارے لگتے ہو بتول نے بے ساختہ کہا تو نوید ایک دم چپ ہو گیا
میرا شمار شاید cold blooded لوگوں میں ہوتا ہے جن میں جذبات نہ ہونے کے برابر پائے جاتے ہیں ۔مجھے باتوں کے جال بنانے نہیں آتے کیونکہ میں اپنی اور آپ کی حیثیت سے بخوبی واقف ہوں۔
بتول غور سے اسے سن رہی تھی جو شروع سے ہی “تعریف یا محبت کی باتوں” سے دشمنی رکھتا تھا ۔
مگر مجھے اپنی بیوی کی خوشیاں اس کی عزت اپنی جان سے زیادہ پیاری ہے۔ ہر جگہ اور ہر معاملے میں وہ مجھے اپنا ساتھی پائے گی ۔
میرے دل میں، میرے گھر میں، اس کے علاوہ نہ کوئی تھا اور نہ کبھی ہوگا نوید کہتا ہوا قدم بقدم بتول کے قریب ہوا ۔
محبت میں نے کی ہے تم نے نہیں لہذا تم ہر قسم کے وعدوں اور قسموں سے آزاد ہو ۔ہاں مگر تعریف تو کرنا پڑے گی بتول کو اپنا آپ بہت معتبر لگ رہا تھا ۔
“محبت واجب تھی ہم پر جو ہم نے کر ڈالی تم سے
وفا فرض ہے تم پر دیکھتے ہیں ادا کرتے ہو یا قضاء ۔۔؟”
نکاح مبارک بتول نے آہستہ سا نوید کی طرف دیکھ کر کہا جس پر اس نے اپنا سر ہلکا سا ہلایا
🪄🪄🪄🪄🪄🪄
کیا ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
اس بدتمیز کی اتنی ہمت کے منہ اٹھا کر رشتہ ہی بھیج دیا۔ مجھے تو یقین ہی نہیں آ رہا ہے ۔حد ہے ویسے ماہم کا غصہ کسی طور کم نہیں ہو رہا تھا ۔
میرے خیال سے اس نے منہ اٹھا کر رشتہ بھیجا نہیں بلکہ خود لے کر آیا ہے وہ بھی اپنے ماں باپ ساتھ رہی بات کہ یقین نہیں آ رہا تو میڈم یہ جو آپ کے آگے مزے مزے کی چیزیں رکھی ہیں یہ وہی لے کر آئے تھے۔ حرم نے چسکے لیتے ہوئے بادام والی برفی منہ میں رکھی۔
حرم تمہیں مجھ سے ذرا “ہمدردی” نہیں ہورہی کہ میں اس جیسے لاپرواہ اور بے حس انسان ساتھ کیسے زندگی گزاروں گی ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔؟؟؟ ماہم نے رونے والی شکل بنائی
مجھے تم سے “ہمدردی” نہیں بلکہ “محبت” ہے اور تم اس کے ساتھ بہت ہی مزے کی ایڈونچر لائف گزاروں گی حرم اب فروٹ کی طرف ہاتھ بڑھا رہی تھی
خبردار تمہیں اب مزید کچھ نہیں ملے گا ماہم نے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ مارا۔
کیوں وجہ ۔۔۔۔۔؟؟ حرم نے منھ بنایا تمہیں پہلے میرا کام کرنا ہوگا وہ یہ ہے کہ ماموں کو منع کر دو اس رشتے کے لئے مجھے اس سے شادی نہیں کرنی _ ماہم نے کچھ سوچتے ہوئے کہا سوری میں اس سلسلے میں تمہاری کوئی مدد نہیں کر سکتی کیونکہ بابا اس رشتے سے بہت خوش اور مطمئن ہے ۔ ہاں لیکن اگر تم عکاشہ سے خود بات کرو تو تمہارا مسئلہ حل ہوسکتا ہے حرم نے مزے سے اسے مشورہ دیا
یہ جو تم دبا دبا سا مسکرا کر مجھے یہ جتلا رہی ہو کہ میں اس نمونے سے بات نہیں کر سکتی تو تم غلط ہو ماہم کے بیان پر حرم نے اسے داد دیتی نظروں سے دیکھتے ہوئے اپنا موبائل اس کی گود میں پھینک دیا
خیر اب مجھے اتنی جلدی بھی نہیں ہے ماہم نے موبائل کو دیکھتے ہوئے بہانہ بنایا تم جتنی دیر کرو گی اتنا ہی اپنا نقصان کروں گی کیونکہ بابا اور دادو “ہاں “کرنے کے لیے بے قرار ہیں۔ بھلا ایسا “نمونہ رشتہ” روز روز کہاں ملتا ہے ۔۔۔۔۔؟؟؟ حرم نے قہقہ لگایا میں مانوں سے کہوں گی میرے سے پہلے حرم کی شادی کریں پھر میں کرونگی ماہم کی بات پر حرم نے ایک سرد آہ بھری
فائیو بیچارہ اتنے امیر ماں باپ کی اولاد نہیں جتنا تمہارا نمونہ ہے ۔وہ ابھی اپنی پڑھائی مکمل کرے گا پھر جاب کی تلاش میں مارا مارا “پیاسے کوے” کی طرح پھرے گا۔
پھر کہیں جا کر کوئی سستی سی نوکری اسے ملے گی اور جب تک ہماری شادی ہو گی تب تک عکاشہ کے “دو نئے ماڈل” اس دنیا میں آ چکے ہوں گے _ حرم افسوس سے کہتی آخر میں شوخ ہوئی ۔ ماموں میرے پوچھے بغیر “ہاں” نہیں کر سکتے اور میں منع کر دوں گی ماہم نے مان سے کہا
ماہم بی بی آپ کی یاداشت کافی کمزور ہوگئی ہے ۔آپ نے خود ہی انہیں اجازت دی تھی کہ جہاں مناسب لگے وہاں کر دیں ۔اس وقت فرمانبرداری کا بھوت چڑھا ہوا تھا۔ اب بھگتو _ حرم کی یاد دلانے پر ماہم نے منھ بنایا مجھے کیا پتا تھا کہ یہ نمونہ بھی آئے گا ماہم نے سوچتے ہوئے کہا
چلو شاباش اب اسے کال کرو کہیں ایسا نہ ہو کہ بابا اسے ہاں کردیں _ حرم نے فورا فون کی طرف اشارہ کیا نہیں ابھی میرا ارادہ نہیں ہے ماہم کے انکار کرنے پر حرم نے بھرپور قہقہہ لگایا
تم اور عکاشہ کو خود کال کرو اس دن سورج کہیں اور سے نکلے گا حرم کہتی ہوئی اپنا موبائل اٹھانے لگی
بکواس بند کرو اور مجھے اس کا نمبر ملا کردو ۔ میں اس سے ڈرتی نہیں ہوں ماہم اب بالکل سیریس تھی ۔
سوچ لو کہیں تمہارا “بی پی” لو نہ ہوجائے _ حرم میں اسے پکا کیا تم ملا کر دے رہی ہوں یا میں تمہارا “بی پی” ہائی کر دوں۔ ماہم کے کہنے پر حرم نے عکاشہ کا نمبر ڈائل کیا جو دوسری بل پر ہی رسیو ہو گیا ۔ جی مس چونا فرمائیں کیسے یاد کیا ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عکاشہ آج یوشع اور حیدر آفندی کے جاتے ہی عدن ساتھ یونی آ گیا تھا ۔ میری چھوڑو اور یہ بتاؤ تم اس وقت کہاں ہو ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حرم نے ماہم کو دیکھتے ہوئے پوچھا جو کچھ کنفیوز سی لگ رہی تھ یونی ہوں مسز آفندی زبردستی اپنے ساتھ لے آئی ہیں۔ عکاشہ نے اکتاہٹ سے جواب دیا اچھا اگر تم فری ہو تو ماہم تم سے بات کرنا چاہ رہی تھی حرم کی بات پر عکاشہ کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا
تم سن رہے ہو نااااا _ حرم نے عکاشہ کی خاموشی پر اسے دوبارہ پکارا ہاں ہاں سن رہا ہوں ۔ویسے کمال ہے۔ مس موسلادھار کے بھی “پَر” نکل آئے ہیں دیکھا تم نے میرے خون کا اثر عکاشہ نے اپنی حیرت پر قابو پاتے ہوئے کہا جب کہ حرم نے سر نفی میں ہلا تے ہوئے فون ماہم کو دے دیا۔
میں نے تمہیں یہ کہنا تھا کہ میں تم سے “بالکل شادی” نہیں کرنا چاہتی۔ اس لیے تم منع کر دو ماہم کو کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ کیا اور کیسے کہے ۔۔۔۔؟؟؟
جب کہ اس کی بات پر عکاشہ اور حرم اپنی اپنی جگہ ہنسی کنٹرول کر رہے تھے ۔
میں نے آج تک “بالکل شادی” جیسا لفظ نہیں سنا اس کا مطلب کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟
عکاشہ کے پوچھنے پر ماہم کو شرمندگی ہوئی کہ یہ میں نے کیا کہا ہے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
بات سمجھ آگئی ہے نااااا اتنا کافی ہے ۔زیادہ پھیلنے کی ضرورت نہیں_ ماہم نے بہادری کا مظاہرہ کیا جس طرح حرم نے اسے داد دی ۔ تم “بالکل شادی” نہیں کر سکتی مگر “شادی” تو کر سکتی ہو نااااا دوسرا تم شادی نہیں کرنا چاہتی اور “نہ” میں کرو کیوں ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
میں ایک مشرقی لڑکا ہوں ۔میرے ماں باپ جو بھی “بکری بھیڑ” لے دیں گے ساری زندگی اس کے ساتھ گزارا کر لونگا عکاشہ نے اپنی ہنسی کو کنٹرول کرتے ہوئے کہا
بکری ، بھیڑ ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ماہم نے بے یقینی سے پوچھا
ہاں سوری وہ “بکری” بھائی یار کی ہے تو “بھیڑ” میری ہو گی نااااا عکاشہ کے جواب پر ماہم کو سمجھ نہیں آئی کہ اب کیا کہے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
ویسے میں سوچ رہا تھا کہ اب تو تمہیں مجھ سے بات کرتے ہوئے شرم آئے گی۔ کم از کم آدھا دوپٹہ تو کھا ہی لیا کرو گی ۔
مگر آج کل کی لڑکیوں کو شرم کہاں آتی ہے۔ تم سے یہ امید نہ تھی عکاشہ نے افسوس کا اظہار کیا
شرم گئی بھاڑ میں میں تو تم سے گریزاں ہوں سمجھے ۔۔۔۔۔؟؟؟ ماہم نے غصے سے کہا
“تو اگر مجھ سے گریزاں ہے تو چل ساتھ میرے
میں تجھے بھاڑ کی دہلیز پر چھوڑ آتا ہوں”
عکاشہ نے ہنستے ہوئے شعر پڑھا جس پر ماہم نے غصے سے فون حرم کو دے دیا۔
🪄🪄🪄🪄🪄
بڑی سرکار دس گاڑیوں کے حفاظتی قافلے اور بے شمار تحائف ساتھ اس وقت گاؤں کی گلیوں سے گزر رہی تھیں۔
لوگ گھروں سے باہر نکل کر دیکھنے لگتے تو بڑی سرکار یوشع کے نام کا صدقہ ان لوگوں میں نوٹوں کی شکل میں بانٹ دیتیں۔
جس کی وجہ سے لوگوں کا رش گلیوں کی دونوں طرف بڑھتا جا رہا تھا ۔
دیکھو بہو اپنی آنکھیں کھول کر دیکھو کہ جہاں سے “پیر بانو” گزرتی ہے لوگ اس کی شان و شوکت دیکھنے کے لیے گھروں سے نکل آتے ہیں بڑی سرکار نے کروفر سے اپنے برابر بیٹھی راشدہ بیگم کی طرف دیکھا جی بڑی سرکار با مشکل راشدہ بیگم نے ان کی ہاں میں ہاں ملائی
سارا گاؤں حیران و پریشان تھا کہ یہ قافلہ کہاں اور کیوں جا رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
امثال روز کی طرح آج بھی اس وقت اپنے جانوروں کو پانی پلانے اور چارہ ڈالنے میں مصروف تھی ۔ جب دور سے آتی گاڑیوں کا شور سنائی دیا۔
تجسس کے مارے اس نے دروازہ کھولا تو منہ بھی ساتھ ہی کھل گیا۔ سامنے سے آتی اتنی ساری چمک دھمک والی گاڑیاں اور گاؤں کے بہت سے لوگ اس سے پہلے کہ وہ کچھ سمجھتی ایک بلیک کلر کی گاڑی بالکل اس کے سامنے آ کر رکی۔ یہ گاڑی کم از کم یوشع کی نہیں ہے ابھی وہ اپنی سوچوں میں گم تھی کہ بڑی سرکار ایک ملکہ کی طرح گارڈ کے دروازہ کھولنے پر باہر نکلیں ۔
بڑی سرکار پر نظر پڑتے ہی امثال کو یقین نہیں آیا کہ یوشع نے اس کی شرط اتنی آسانی سے مان لی ہے ۔
حالانکہ اس نے ایسا صرف اس لئے لکھا تھا کہ بڑی سرکار کا آنا نا ممکنات میں سے تھا جو اب ممکن لباس اوڑھے اس کی آنکھوں کے سامنے تھا ۔
پاؤں مٹی سے بھرے جن میں چپل تک نہ تھی _ رنگ برنگی شلوار قمیض جو میلی تھی سر پر ایک پھٹا سا ڈوپٹہ اوڑھے _ بڑی سرکار کے علاوہ راشدہ بیگم اور بتول حیران تھیں۔ بتول نے بےیقینی سے راشدہ بیگم کی طرف دیکھا جو خود بھی اسی کی طرح حیرت کے سمندر میں غوطہ زن تھیں۔ یہ لڑکی اور یوشع راشدہ بیگم نے منہ سے یہ الفاظ رک رک کر نکالے
ابھی کل تک تو تمہیں اس لڑکی سے بڑی ہمدردی ہو رہی تھی بڑی سرکار نے طنز کیا اے لڑکی تمہارا باپ کہاں ہے اسے بلاؤ ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ بری سرکار نے آگے بڑھتے ہوئے امثال کو مخاطب کیا جبکہ اردگرد گھروں کی چھتوں پر لوگ ایسے چڑھے ہوئے تھے جیسے چاند رات کو چاند دیکھنے چڑھتے ہیں ۔ آپ اتنی باخبر خاتون ہیں۔ اسی لئے تو “بڑی سرکار” کہلاتی ہیں مگر افسوس آپ کو اتنا معلوم نہیں کہ ابا جان اس وقت سکول ہوتے ہیں امثال کا اطمینان بھرا جواب بتول اور راشدہ بیگم کو حیران کر گیا جبکہ بڑی سرکار کی مسکراہٹ ان کے ہونٹوں پر جوں کی توں موجود تھی ۔
لڑکی تم اپنی ہوش میں تو ہو کہ تم کس سے بات کر رہی ہو ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ راشدہ بیگم نے اپنی حیرت پر قابو پاتے ہوئے امثال کو ڈانٹا
آپ نے شاید سنا نہیں میں نے انہیں “بڑی سرکار” کہہ کر ہی مخاطب کیا ہے _ امثال آرام سے دروازے کے بیچ کھڑی ہوئی گفتگو کر رہی تھی جیسے محلے سے کوئی عورت آئی ہو۔ بدتمیز بھی ہو راشدہ بیگم نے ناگواری سے منہ موڑا۔
آگے سے ہٹو ، ہمیں راستہ دو _ بڑی سرکار نے ہاتھ کے اشارے سے اسے پیچھے ہٹنے کا کہا اندر اس وقت کافی گند پھیلا ہوا ہے۔ آپ بے ہوش بھی ہو سکتی ہیں ۔میری مانیں تو آپ اپنی اس خوشبودار گاڑی میں ہی بیٹھ کر ابا کا انتظار کر لیں یا اپنے کسی ملازم کو لینے کے لئے بھیج دیں۔ امثال کی باتیں بتول کے لیے بھی حیران کن تھی۔ کہاں حویلی کے مرد بھی اس “پیر بانو” نامی بلا سے ڈرتے تھے اور کہاں یہ جاھل سی لڑکی انہیں باتیں سنا رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ رشتہ ہمیشہ گھر جاکر ہی مانگا جاتا ہے۔ ہٹو آگے سے بڑی سرکار نے اب کی بار اپنے ازلی سرد لہجے میں کہا
مرضی ہے امثال کے راستہ چھوڑنے پر وہ لوگ اندر داخل ہوئے ۔بتول نے ایک طائرانہ سی نظر اس گھر پر ڈالی۔
اس گھر سے تو کئی گناہ صاف ستھرا اور بڑا حویلی کا مویشی خانہ تھا اس نے دل میں سوچا
اب آپ آ ہی گئے ہیں تو کمرے میں تشریف لے آئیں _ امثال نے اپنے گھر کا واحد صاف ستھرا کمرہ کھولا کمرہ واقع ہی صاف ستھرا تھا چارپائیاں لگی ہوئی تھیں جن پر کڑھائی والی چادریں بچھیں تھیں۔ بڑی سرکار کے حکم پر ڈرائیور گاڑی لے کر ماسٹر کو لینے گیا ۔ معذرت میں آپ لوگوں کی کوئی خدمت نہیں کر سکتی ہوں امثال کہتی ہوئی کمرے سے جانے لگی تبھی بڑی سرکار بول پڑیں۔
خدمت تو تمہیں اب ہماری کرنی پڑے گی اور وہ بھی ساری زندگی _ تم نے سوچا بھی نہیں ہوگا جو تمہارے ساتھ ہونے والا ہے ۔بڑی سرکار کا لہجہ کافی سرد تھا جس پر راشدہ بیگم اور بتول کانپ سی گئیں۔ سوچا تو خیر آپ نے بھی میرے بارے میں نہیں ہوگا ۔اکثر ہم ان لوگوں کے بارے میں نہیں سوچتے جو ہم سے ٹکرا جاتے ہیں اور ٹکرانے کے بعد پتہ چلتا ہے کہ ٹکرائے کس سے ہیں۔ ۔۔۔؟؟ رہی بات خدمت کی تو وہ میں ضرور کروں گی آخر آپ میرے سسرال کی سب سے باعزت اور معمر خاتون ہیں۔ امثال کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک تھی جسے بتول نے محسوس کیا۔ اس لڑکی میں ایک کشش تھی وہ مختلف بھی بہت زیادہ جتنا بتول اس پر غور کر رہی تھی اتنا ہی وہ حیران ہو رہی تھی ۔
حویلی کی دیواریں بہت موٹی ہیں اور تہہ خانے بہت گہرے آواز تک باہر نہیں جاتی۔ بندہ تو بہت دور کی بات ہے۔ بڑی سرکار نے اسے ڈرانا چاہا ۔
بالکل صحیح کہا آپ نے پھر بھی دیکھیں آپ سب ہمارے اس چھوٹے سے گھر میں بیٹھے ہیں ۔جہاں سے آواز اور بندہ دونوں ہی آرام سے آ جا سکتے ہیں ۔
آپ کی گفتگو پتہ نہیں کون کون سن رہا ہوگا اور کیا کیا سوچ رہا ہوگا ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
پوتے کو الیکشن میں “کامیاب” کرانا ہے یا “جوتے” لگوانے ہیں _ امثال کی بات پر بڑی سرکار غصے سے کھڑی ہو گئیں۔ لڑکی منہ سنبھال کر بات کرو راشد بیگم اور بتول بھی اب غور سے امثال کو دیکھ رہی تھیں۔
میں بھی آپ کو یہی مشورہ دوں گی کہ منہ سنبھال کر بات کریں۔ میں اس وقت اپنے باپ کے “گھر” میں کھڑی ہوں آپ کی “حویلی” میں نہیں ۔
دوسرا میں نے آپ کو بتایا تھا کہ میں بہت ” بدتمیز اور منحوس” ہوں۔ حیرت ہے اتنی سمجھدار بڑی سرکار ایک منحوس کو اپنے گھر لے جانا چاہتی ہیں ۔
سوچیں اگر یہ منحوس آپ کا بیٹا کھا لگی تو ۔۔۔۔۔؟؟؟
الیکشن میں امیدوار مارے بھی تو جاتے ہیں ۔۔۔۔۔؟؟؟
امثال کی بات پر بڑی سرکار سمیت راشدہ بیگم اور بتول کانپ گئیں۔
اللہ نہ کرے کہ میرے یوشع کو کچھ ہو راشدہ بیگم نے دل پر ہاتھ رکھا جبکہ بڑی سرکار نے بمشکل خود پر کنٹرول کیا کیوں کہ باہر واقع ہی لوگوں کا جم غفیر اکٹھا تھا ۔
انہیں کچھ کچھ امثال کی چال سمجھ آنے لگی تھی۔ اتنی دیر میں ماسٹر جی کانپتے کانپتے اندر داخل ہوئے ۔بڑی سرکار کو اپنے گھر میں دیکھ کر انھیں پسینے آ رہے تھے ۔
آپ آپ مجھے بلا لیتی میں آ جاتا۔ نوکر ہوں ،خادم ہوں آپ کا ماسٹر جی کی عاجزی پر امثال کو بہت دکھ ہوا جب کہ بڑی سرکار مسکرا دیں۔
آج سے تمہاری یہ بیٹی میری یوشع کی امانت ہے ہم اسی جمعے کو بارات لے کر آئیں گے تم پریشان نہ ہونا سارے انتظامات بھی ہم خود ہی کر لیں گے ۔
بڑی سرکار نے جملہ ادا کرتے ہی باہر کا راستہ لیا جب کہ انھیں ماسٹر جی کی “ہاں”یا “نہ” کی کوئی پرواہ نہیں تھی ۔
آپ شاید جلدی میں ہیں ورنہ ابا کا جواب ضرور سنتی امثال کی آواز پر وہ رکیں مگر پلٹی نہیں ۔
اس کی اتنی مجال نہیں کہ یہ “نہ” کرے __ بڑی سرکار نے مڑ کر ماسٹر جی کو دیکھا
واقعی ہی ابا کی نہ سے کیا فرق پڑتا ہے۔۔۔۔۔؟؟؟
فرق تو دلہن کی نہ سے پڑتا ہے سوچیں اگر میں بھرے مجمعے میں نہ کر دوں تو ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
امثال جتنا بڑی سرکار کو بھڑکانا چاہتی تھی اس نے بھڑکا دیا تھا ۔
🪄🪄🪄🪄🪄🪄
