Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 15

امثال جب سے گھر آئی تھی کچھ گم صم سی تھی۔ یوشع کی باتیں اسے ہضم نہیں ہو رہی تھیں ۔
یہ کیا بات ہوئی بھلا _ کہاں میں کہاں وہ کوئی جوڑ ہے _ یقینا میرا مذاق اڑایا ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ مگر ہو سکتا ہے کہ سیریس ہوں اور میرے ساتھ بدلے کی نیت سے ایسا کرنا چاہ رہے ہوں۔ میں نے خود کئی بار ناولز میں پڑھا اور ڈراموں میں دیکھا ہے ۔یہ بڑے لوگ ایسا ہی کرتے ہیں توبہ مجھے تو اب بہت ڈر لگ رہا ہے ۔ میں ایسا کیا کروں کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ اللہ جی میرے “نخرے” کا بھرم بھی رہ جائے اور اس سے شادی بھی نہ ہو ۔بس کچھ ایسا کر دیں امثال اپنے بھائی کے پاؤں پر تیل سے مساج کرتی ہوئی مسلسل سوچ رہی تھی
میرے خیال سے مجھے ابا کو کہہ دینا چاہیے کہ میں شادی کے لیے تیار ہوں۔ انہوں نے اس دن پوچھا تو تھا ۔ہاں یہ ٹھیک رہے گا
امثال نے دل میں سوچتے ہوئے اپنے معذور بھائی کی طرف دیکھا
اگر میرا بھائی بھی اپنے قدموں پر کھڑا ہوتا تو کیا ہی بات تھی۔ مگر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
امثال کبھی اپنے بھائی کی طرف دیکھتی تو کبھی اپنی چھوٹی بہنوں کی طرف _ میرے بعد ان کا کیا ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ امثال کی سوچوں کا رخ دروازے پہ ہوتی دستک نے اپنی طرف موڑا یہ اس وقت کون آگیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ امثال نے جلدی سے تیل کی بوتل بند کی اور دروازہ کھولنے کے لئے چل دی ۔ آپ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ دروازہ کھولتے ہی نوید کو اپنی دہلیز پر دیکھ کر امثال کو عجیب لگا ابا تو اس وقت سکول میں ہوتے ہیں اور میرے خیال سے مجھ سے زیادہ یہ بات آپ جانتے ہیں امثال کے طنز پر نوید نے سر ہلایا
مجھے ماسٹر جی سے نہیں بلکہ تم سے بات کرنی ہے کیا میں اندر آ سکتا ہوں ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ نوید نے کچھ ہچکچاتے ہوئے اجازت طلب کی
مگر اس وقت ابا گھر پر نہیں ہیں اور مجھ سے آپ کو کیا کام ہو سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
یہاں سے ہی بتا دیں۔ میں سن رہی ہوں _ امثال کے جواب پر نوید نے ایک گہرا سانس لیتے ہوئے اپنے اردگرد کا جائزہ لیا دیکھو اس طرح دروازے پر کھڑے ہو کر بات کرنا اچھی بات نہیں لگتا ہے ہمسائے دیکھ رہے ہیں۔پتہ نہیں وہ کیا سوچیں گے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ تم میری بات سمجھنے کی کوشش کرو۔میں تمہارا زیادہ وقت نہیں لوں گا نوید نہیں چاہتا تھا کہ کوئی بھی اسے اس کی دہلیز پر کھڑا دیکھے
امثال بالکل عام سے نقوش رکھنے والی سادہ سی لڑکی ہے پھر یوشع سائیں کو اس میں ایسا کیا نظر آیا کہ ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ نوید نے اپنی سوچ پر سر جھٹکا
اگر تم مجھ پہ اعتبار کرو تو ایک راز کی بات تم سے کرنی ہے اس میں ہم دونوں کا فائدہ ہے نوید اپنی بات اسے سمجھانے سے قاصر تھا
میرے فائدے سے آپ کا کیا تعلق ہے۔۔۔۔۔۔۔؟؟
آپ یہاں سے تشریف لے جائیں۔ ویسے ابا آپ کے بارے میں بہت اچھی رائے رکھتے ہیں اور میں نہیں چاہتی کہ وہ رائے آج کے بعد خراب ہو _ امثال نے جتلاتے ہوئے دروازہ بند کرنا چاہا جسے نوید نے ہاتھ سے روکا دیکھو ایک بار میری بات سن لو میں بھی بہت مجبور ہوں نوید نے التجا کی جس پر امثال نے راستہ چھوڑ دیا اور ایک سائیڈ پر دیوار کے ساتھ لٹکی کلہاڑی پاس کھڑی ہو گی۔
ڈرو نہیں ہے تمہیں کچھ نہیں کہوں گا _ نوید نے اسے یوں کلہاڑی پاس کھڑا دیکھ کر کہا دراصل بات کچھ یوں ہے کہ پھر نوید نے امثال کو یوشع ، ماسٹر جی اور آخر میں آج بڑی سرکار سے ہونے والی تمام گفتگو تفصیل سے بتا دی۔
یہ سب امثال کے لئے کسی دھماکے سے کم نہیں تھا کہ کون کون اس کے بارے میں کیا کیا سوچ رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔؟؟
آپ مجھے یہ سب کیوں بتا رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ اپنی حیرت کو کنٹرول کرتے ہوئے امثال نے پوچھا
کیونکہ میں _ میں کسی اور سے محبت کرتا ہوں ۔ نوید چاہ کر بھی بتول کا نام نہیں لے سکا مجھے آپ کی کسی بات پہ اعتبار نہیں ہے ہوسکتا ہے کہ آپ مجھ سے جھوٹ بول رہے ہوں اپنے کسی فائدے کے لئے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ امثال کو نوید پر شک ہوا اگر میں جھوٹ بول رہا ہوں تو آپ آج ماسٹر جی سے پوچھ لیجئے گا کہ کیا میں ان کے پاس یوشع سائیں کا پیغام لیکر نہیں آیا تھا نوید کے اس قدر اعتماد پر امثال مزید پریشان ہوگی
دیکھو ہم دونوں اس مسئلے کا حل نکال سکتے ہیں اگر تم میری بات مان لو۔
پھر تم اپنی مرضی سے زندگی گزار سکتی ہو بصورت دیگر تمہیں میرے ساتھ بڑی سرکار کے مطابق زندگی گزارنا پڑے گی جو میرا نہیں خیال تم پسند کرو گی ۔
مجھے محبت نہیں ملے گی اور تمہارا بھی تو کچھ نہ کچھ نقصان ضرور ہوگا۔ آخر تم نے بھی اپنی زندگی کو لے کر کچھ خواب دیکھے ہونگے۔ نوید نے امثال کو قائل کیا
آپ کیا چاہتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ کچھ دیر سوچنے کے بعد امثال نے پوچھا
پہلے تم وعدہ کرو کہ یہ بات صرف ہم دونوں کے درمیان رہے گی اور تم کسی کو نہیں بتاؤ گی نوید کے پوچھنے پر امثال نے سر ہلایا
میں چاہتا ہوں کہ تم _
اپنی بات کے آخر میں نوید نے امثال کو دیکھا جو اب کافی مطمئن نظر آ رہی تھی ۔
🪄🪄🪄🪄
عدن اپنے آفس میں بیٹھی عکاشہ کے بارے میں سوچ رہی تھی کیونکہ آج کل گھر میں مکمل اداسی تھی تبھی اس کی نظر کوریڈور سے گزرتی ماہم اور حرم پر پڑی ۔
ان دونوں کو دیکھتے ہی عدن آفس سے نکل کر باہر سیڑھیوں میں آگئی پاس سے گزرتے ہوئے اخلاقاً ان دونوں نے عدن کو سلام کیا
آپ لوگ شاید کلاس لینے جا رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عدن نے سر ہلا کر سلام کا جواب دیا اور پوچھا
نہیں میم ہم تو اب کینٹین کی طرف جا رہے تھے اب ہماری کوئی کلاس نہیں ہے ۔ ماہم نے مسکرا کر جواب دیا
اچھا اور آپ لوگوں کی پڑھائی کیسی چل رہی ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عدن نے ماہم کو دیکھتے ہوئے خاص طور پر پوچھا
میں ان دنوں تو کچھ خاص نہیں
پیپرز شروع ہونے والے ہیں تو بس دہرائی وغیرہ ماہم نے بھی تفصیلاً جواب دیا
عکاشہ تو گاؤں جا کر بیٹھ ہی گیا ہے اپنے بابا کے پاس عدن یہ بتاتے ہوئے کہ وہ اپنے بابا پاس گیا ہے بہت خوشی محسوس کر رہی تھی۔
جی ہاں ہمیں فائق نے بتایا تھا۔ حرم نے بھی اسی خوش مزاج سے جواب دیا
تم لوگ تو بہت خوش ہو گے بہت تنگ کرتا تھا تمہیں ہے نااااا مگر میں اس کے بغیر بہت اداس ہوں ۔ عدن نے پھیکی سی مسکراہٹ ساتھ پوچھا
نہیں میم اب ایسی بھی کوئی بات نہیں ہے۔ ہم کلاس فیلوز ہیں تو “تھوڑا بہت” چلتا ہے
حرم کے “تھوڑا بہت” کہنے پر ماہم نے اسے حیرت سے دیکھا
وہ جو ہمارے ساتھ کرتا ہے تمہارے خیال سے وہ “تھوڑا بہت” ہے ماہم نے دل میں سوچا
میرا تو سارا دن اس کے بغیر بہت اداس گزرتا ہے اور ایک وہ ہے وہاں جا کر بیٹھ گیا ہے
عدد نے بے خیالی میں اپنے دل کی بات ان سے دوبارہ شیئر کی ۔
میم آپ کا کیا ایک ہی بیٹا ہے ۔۔۔۔۔؟؟؟ ماہم کو عدن سے ہمدردی ہوئی ۔
ہاں _ وہ ایک ہی ہے مگر مجھے کبھی ایک نہیں لگا ۔عدن مسکرائیں آپ شاید اسے بہت زیادہ مس کر رہی ہیں ۔۔۔۔۔؟؟؟ ماہم نے اندازہ لگایا شاید نہیں میں یقینًا اسے بہت زیادہ یاد کر رہی ہوں مگر وہ وہاں بہت مست ہے کسی کی پرواہ ہی نہیں کرتا عدن کے کہنے پر حرم کو بہت دکھ ہوا
میم یہ بیٹے ایسے ہی ہوتے ہیں کسی کی پروا نہیں کرتے۔ میرا بھائی بھی چین چلا گیا ہے حالانکہ ماما بابا اسے وہاں بھیجنا نہیں چاہتے تھے پھر بھی وہ چلے گئے حرم کی اداسی پر ماہم نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر تسلی دی عدن کا ابھی مزید ان دونوں سے باتیں کرنے کو دل کر رہا تھا جب آفس میں ان کا فون بجنے لگا چلو پھر بات ہوتی ہے مجھے اچھا لگا تم دونوں سے باتیں کر کے عدن معذرت کرتی ہوئی اپنے آفس کی طرف پلٹ گئی
میم اسے بہت زیادہ یاد کر رہی ہیں مگر نواب زادےکو کسی کی پرواہ ہو تب نااااا کتنے دن ہوگئے ہیں یہاں سے گئے ہوئے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ماہم نے عدن کی پشت کو دیکھتے ہوئے کہا کتنے دن ہو گئے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حرم نے شرارت سے ماہم سے پوچھا بکو مت ، میں تو میم کے لئے کہہ رہی تھی
ماہم نے اسے ایک گھوری سے نوازا
ماہم اگر میں آج تم سے ایک بات پوچھوں تو کیا تم مجھے سچ سچ جواب دو گی ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حرم نے کچھ رک کر سوال کیا
یہ تمہیں مجھ سے اجازت لینے کی کب سے ضرورت پڑ گئی ہے۔ جس طرح سارا دن بکواس کرتی ہو ویسے ہی کرو ناااااا _ ماہم کھلکھلا کر ہنس دی مرو اب نہیں پوچھنا پھر بہت اصرار کرنے پر بھی حرم میں کچھ نہیں پوچھا
عدن جب تک آفس میں داخل ہوئیں ان کا فون بج بج کر بند ہوچکا تھا ۔اس سے پہلے کہ وہ اپنا موبائل اٹھا کر نمبر چیک کرتیں دوبارہ فون بجا اور اس پر “خوشی کالنگ ” کا لفظ جگمگایا
کیسی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عدن نے جیسے ہی کال اٹینڈ کی حیدر کی آواز سنائی دی
بالکل بھی ٹھیک نہیں ہوں۔ اب آپ میرا بیٹا واپس کر دیں۔ عدن نے اداسی سے جواب دیا
بس صرف بیٹا ہی چاہئے آپ کو حیدر شرارت سے مسکرائے کیونکہ عکاشہ کی وجہ سے وہ آج کل بہت خوش تھے ۔
اگر بیٹے کے ساتھ اس کا باپ بھی مل جائے تو میں خوشی سے مر نہ جاؤں
عدن کے حسرت بھرے لہجے پر حیدر خاموش ہو گے ۔
آپ ہر دفعہ مجھے لاجواب کر دیتی ہیں ایسا نہ کیا کریں _ حیدر کے لہجے میں التجا تھی سوری اور یہ بتائیں کہ عکاشہ کو واپس کب تک بھیج رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
میری اب بس ہوگئی ہے عدن نے فوراً معذرت کی کیونکہ وہ حیدر کو ناراض نہیں کرسکتی تھی ۔ عدل مجھے آپ کی یہ بات بہت اچھی لگتی ہے کہ آپ ہمیشہ بہت space دے کر بات کرتی ہیں اگلے بندے کو تنگ یا پریشان نہیں کرتیں حیدر کی تعریف پر وہ مسکرا دیں۔
رہی بات عکاشہ کی تو میرا دل ہی نہیں کر رہا اسے اپنی نظروں سے دور کروں۔ ایک رونق سی حویلی میں لگ گئی ہے۔
اور پتہ اس کی “مسکراہٹ” مجھے بالکل آپ جیسی لگتی ہے مجھے اس سے آپ کی خوشبو آتی ہے حیدر ایک جزب میں بولتے جارہے تھے جب کہ عدن کی آنکھیں بھیگنے لگیں
اور مجھے اس کی “آنکھیں” بالکل آپ جیسی لگتی ہیں مجھے بھی اس سے آپ کی خوشبو آتی ہے
عدن کے جواب پر حیدر نے قہقہ لگایا
یعنی اب آپ ادلے کا بدلہ دے رہی ہیں۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حیدر نے شرارت سے پوچھا
نہیں تو _ میں تو صرف یہ بتا رہی ہوں کہ مجھے بھی وہ آپ جیسا لگتا ہے۔ کاش آپ بھی میرے پاس آ جائیں ہمیشہ کے لئے عدن نے اپنی خواہش بتائی۔
تو آپ ایسا کریں کہ کسی عامل سے مجھ پر تعویذ کروا دیں تاکہ میں آپ کے قدموں میں آ جاؤں حیدر نے عدن کو اداسی سے بچانے کے لیے کہا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ آجکل عدن اکیلی اور تنہائی کا شکار ہیں۔
“میں نے مناسب ہی نہ سمجھا عامل تک رسائی—
اب محبوب بھی قدموں میں لاؤں تو مر نہ جاؤں؟”
میں باتوں میں کبھی بھی آپ سے نہیں جیت سکتا آپ نے مجھے لاجواب کر دیا ہے
عدن کے شعر پر حیدر مکمل خاموش ہوگئے ۔کیونکہ اب بولنے کا مقصد ہی ختم ہوگیا تھا ۔
🪄🪄🪄🪄🪄
اس وقت حویلی کے تمام افراد لیونگ روم میں بیٹھے مونگ پھلی کھا رہے تھے ۔
عکاشہ یہ جو تم موم پھلی کھا رہے ہو یہ ہماری اپنی زمینوں کی ہے ۔ اس کا ذائقہ اور رنگ ہی جدا ہے ۔حیدر نے پیار سے عکاشہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جو بڑے مزے سے یوشع ساتھ نیچے کارپٹ پر بیٹھا تھا
اسے کیا پتا اپنوں کی محبت _ یہ تو اپنے باپ دادا سے بھی بے خبر ہے بڑی سرکار کے یوں بولنے پر عکاشہ مسکرایا
یعنی شکار خود ہی پھسنے کو ہر وقت تیار رہتا ہے ۔ اب میں کیا کروں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عکاشہ نے دل میں سوچا
اگر اپنے محبت دیں گے تو میں ضرور لوں گا بلکہ میرا تو یہاں سے اب جانے کو دل ہی نہیں کر رہا ہے ۔
کیوں نااااا بھائی یاررررر میں یہاں ہی رہ جاؤں تاکہ اپنے باپ دادا کی تاریخ بھی اچھے سے معلوم کر سکوں کہ میرا تعلق کس بڑے خاندان سے ہے۔ عکاشہ نے یوشع کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
عکاشہ کے اس سوال پر جہاں دو لوگ خوش تھے وہیں دو پریشان
جبکہ بتول بالکل ایسے بیٹھی تھی جیسا کہ وہاں موجود ہی نہ ہو۔
کوئی ضرورت نہیں ہے ہمیں یا اس حویلی کو تمہاری تم واپس اپنی ماں پاس لوٹ جاؤ اور دوبارہ کبھی ادھر کا رخ نہ کرنا ۔ہماری چپ کو ہماری کمزوری مت جانو بڑی سرکار کی گرجدار آواز پر حیدر اور یوشع ان کی طرف متوجہ ہوئے
ٹھیک ہے آپ کہتی ہیں تو میں چلا جاتا ہوں مگر ایک شرط پر عکاشہ نے اب بڑی سرکار کی طرف اپنا رخ کیا
ہم جائیداد میں سے ایک پھوٹی کوڑی بھی نہیں دیں گے ۔یہ حویلی
یہ زمین _ یہ شان و شوکت صرف اور صرف میرے یوشع کا حق ہے۔ بڑی سرکار کا جواب عکاشہ کی سوچ کے عین مطابق تھا
مجھے جائیداد یا زمین نہیں چاہیے۔ میں بھائی یار کی طرح پینڈو نہیں ہوں۔
شہری ماں کا شہری بچہ ہوں ہاں مگر ایک چیز ہے جو مجھے بہت پسند آئی ہے ۔پر مجھے افسوس ہے آپ لوگ وہ مجھے دے نہیں سکیں گے عکاشہ نے اپنا سر کھجاتے ہوئے ہمدردی سے کہا تم نے پہلی دفعہ کچھ مانگا ہے بولو کیا چاہیے تمہیں میں دوں گا ۔۔۔۔۔۔؟؟ اس سے پہلے کہ بڑی سرکار کچھ کہتی حیدر آفندی بیچ میں بول پڑے
آپ تو رہنے ہی دیں ۔آپ سے جو کچھ مجھے اور میری ماں کو چاہیے وہ آپ کبھی نہیں دے سکتے ۔لہذا میری اور بڑی سرکار کی ڈیل میں مت بولیں
عکاشہ نے حیدر آفندی کو ٹوکا تو بڑی سرکار نے سر اکڑا کر حیدر آفندی کو دیکھا ہم تو سائل کو بھی دروازے سے خالی ہاتھ نہیں لوٹا تے ۔ تم تو پھر مہمان بن کر آئے ہو۔ بولو کیا چاہیے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ بڑی سرکار کی بات پر عکاشہ نے یوشع کو دیکھا دونوں کی مسکراہٹ یہ ثابت کر رہی تھی کہ پلان بالکل درست جا رہا ہے۔ سوچ لیں شاید مجھے کچھ قیمتی چاہئے ہو ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عکاشہ نے بڑی سرکار کو مزید پکا کیا۔ ہم جو کہتے ہیں اس سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹتے ۔ چاہے کئی سال گزر جائیں۔ یقین نہ ہو تو اپنے باپ سے پوچھ لو ۔ بڑی سرکار کی بات پر حیدر آفندی کی مسکراہٹ سمٹی جو عکاشہ کو دیکھ کر ان کے چہرے پر تھی مجھے یہ گاؤں اور اس گاؤں کے رہنے والے حویلی اور حویلی کے رہنے والے بہت پسند آئے ہیں۔
میں چاہتا ہوں کہ آپ اپنی اکلوتی “پوتی” کی شادی بھائی کی بجائے مجھ سے کر دیں۔ تاکہ کبھی کبھی میں بھی یہاں آ سکوں۔ اس طرح میرا آپ ساتھ رشتہ جڑ جائے گا ۔
ویسے بھی بات تو ایک ہی ہے چاہے یوشع حیدر سے شادی ہو یا پھر عکاشہ حیدر سے _ عکاشہ کی بات پر بتول اور یوشع نے سر جھکا لیا جبکہ راشدہ بیگم ، بڑی سرکار اور حیدر آفندی کو سانپ سونگھ گیا ۔ یہ کیا کہہ رہے ہو ۔وہ تمہاری ہونے والی بھابھی ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حیدر فندی کو سب سے پہلے ہوش آیا۔ “ہونے والی” کیا ہوتا ہے یہاں تو “ہوتی ہے” کو لوگ نہیں پوچھتے
عکاشہ کا اشارہ عدن کی طرف تھا ۔
حیدر آفندی اپنے غصے کو قابو کرتے باہر نکل گئے کیونکہ وہ عکاشہ کو کچھ نہیں کہنا چاہتے تھے مگر یہ بات ان کی برداشت سے باہر تھی ۔
حیدرآفندی کے باہر نکلتے ہی بڑی سرکار نے یوشع کی طرف دیکھا جیسے اس کی رائے جاننا چاہ رہی ہوں۔
میں تو آپ کے حکم کا غلام ہوں مگر بڑی سرکار اگر دیکھا جائے تو عکاشہ کی بات میں کوئی عیب نہیں ہے _ یوشع کے جواب پر راشدہ بیگم کا پورا منہ کھل گیا بہو تم اور بتول اپنے کمرے میں جاؤ اور مجھے بات کرنے دو
راشدہ بیگم نے یوشع کو کچھ کہنے کے لئے اپنا منہ کھولا ہی تھا کہ بڑی سرکار نے روک دیا
ہاں اب بولو کیا کہنا چاہتے ہو ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ان کے جاتے ہی بڑی سرکار نے یوشع سے پوچھا
عکاشہ تم بھی باہر لان میں جاؤ میں ابھی آتا ہوں _ یوشع نے عکاشہ کو بھی باہر بھیجا آپ جانتی ہیں کہ مجھے بتول کچھ خاص پسند نہیں اور جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے تو آپ بھی اسے پسند نہیں کرتیں۔ ہم اس کی شادی خاندان سے باہر اس لیے نہیں کر سکتے تھے کیونکہ ہماری جائیداد باہر چلی جائے گی۔ پہلے تو ہمارے پاس کوئی دوسری آپشن نہیں تھی اس لیے میں مان گیا تھا مگر اب تو ہے۔ جائیداد اس صورت میں بھی خاندان سے باہر نہیں جائے گی ۔ اور بتول آپ کی نظروں سے دور بھی ہو جائے گی یوشع کی بات بڑی سرکار نے مسکراتے ہوئے سر ہلایا جیسے اس نے ان کے دل کی بات کی ہو ۔
اور میری بات کا بھرم بھی رہ جائے گا کہ ہم کسی کو خالی ہاتھ نہیں لوٹتاتے بڑی سرکار کی بات پر یوشع نے انہیں داد دی۔
ٹھیک ہے بتول کی شادی تمہاری جگہ عکاشہ سے کر دیتے ہیں۔ مجھے بھی کوئی اعتراض نہیں ہے
بڑی سرکار کی حامی پر یوشع نے سکھ کا سانس لیا۔
آدھا کام ہوا ہے اور آدھا ابھی باقی ہے جو زیادہ خطرناک ہے یوشع نے باہر آتے عکاشہ کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے لاڈ سے کہا تم حویلی والے بہت سازشیں ہوتے ہو ۔ہمارے شہر میں تو صاف صاف کہہ دیتے ہیں کہ “نہیں کرنی شادی” یوں ڈرامے کرنے کی نوبت نہیں آتی ہے عکاشہ نے سر نفی میں ہلایا اسے یہ سب اچھا نہیں لگ رہا تھا
ہمیں روایات کی پاسداری کرنی پڑتی ہے _ اور بزرگوں کو راضی بھی رکھنا پڑتا ہے ۔ سرداری بھی ہاتھ سے نہ جائے اور لڑکی بھی مل جائے
یوشع نے اپنے دھیان میں بول تو دیا تھا مگر اس کے آخری فقرے پر عکاشہ چونکا
ایک منٹ
ایک منٹ “لڑکی بھی مل جائے” کون سی لڑکی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟
اسے تو تم اپنے ہاتھوں سے کسی اور کو دے رہے ہو
عکاشہ کے سوال پر یوشع ہوش میں آیا اور ھنسنے لگا
ہے کوئی میرے آس پاس بہت پاس
دل کے قریب مگر بہت بدتمیز یوشع نے دل پہ ہاتھ رکھتے ہوئے رازداری سے عکاشہ کے کان میں سرگوشی کی
اسے بتمیززز کہہ رہے ہیں جو دل کے قریب ہے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عکاشہ نے حیرت سے پوچھا
ہاں کیونکہ وہ مجھے “برا” سمجھتی ہے ۔ یوشع نے ہنستے ہوئے جواب دیا تو آپ اچھے ہیں
اس قسم کی حرکتوں کے باوجود بھی عکاشہ کا اشارہ اس کی شادی کنسل کرنے کی طرف تھا۔
مانا کہ ہم برے ہیں مگر “وہ ” کہے تو برا لگتا ہے یوشع نے پیار سے عکاشہ کو مکا مارا
ہائے پسلی ٹوڑ دی ۔ لوگ عشق میں نہر نکالتے ہیں اور آپ مجھے اس دنیا سے نکالنے کی تیاری کر رہ غکاشہ کی دہائی پر یوشع نے پھر اسے اپنے ساتھ لگا لیا اور چکر لگانے لگا
اب میں سمجھا یہ سب ڈرامہ بلکہ ڈرامہ سیریل اس کے لیے ہے
عکاشہ نے سوالیہ انداز میں پوچھا
نہیں بتول کے لیے بھی ہے _ یوشع بالکل سنجیدہ تھا ۔ مجھے بیرون ملک سے منگوانے کے یہی “دو” مقصد تھے ۔۔۔۔۔۔؟؟ عکاشہ نے کنفرم کیا نہیں “دو” اور بھی ہیں یوشع کے جواب پر عکاشہ نے رک کر اسے دیکھا
سب پتہ چل جائے گا مگر آہستہ آہستہ آہستہ یوشع کہتا ہوا اور عکاشہ کو لے کے لان سے اندر کی طرف بڑھ گیا
🪄🪄🪄🪄🪄
یہ سب کیا ھو رہا ھے کوئی مجھے بھی تو بتائیے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
آپ نے مجھے تربیت کا طعنہ دیا تھا اب دیکھی اپنی لاڈلی کی راشدہ بیگم شدید غصے میں حیدر آفندی سے مخاطب تھی
اس حویلی میں اتنی اونچی آواز صرف بڑی سرکار کی ہی ہوتی ہے اور کسی عورت کو اجازت نہیں بتول میری ہی بہو بنے گی اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ یوشع ہو یا عکاشہ۔ ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حیدر آفندی کے مطمئن انداز پر راشدہ بیگم مزید غصے میں آ گئیں۔
آپ کو فرق نہیں پڑتا مگر مجھے بہت فرق پڑتا ہے
میں بتول کو اس حویلی سے کہیں نہیں جانے دوں گی
سمجھا آپ نے _ راشدہ بیگم کو بتول بہت عزیز تھی پھر وہ کیسے اسے عدن کو دے سکتی تھیں۔ ۔۔۔۔؟؟؟ راشدہ بیگم آپ شاید بھول رہی ہیں کہ آپ کس سے مخاطب ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟ حیدر آفندی نے تھوڑا سا اپنے الفاظ پر زور دیا جی مجھے پتا ہے کہ میں کس سے بات کر رہی ہو ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ دیکھیں میں نے آپ سے کبھی کچھ نہیں مانگا ۔آج میں بتول مانگتی ہوں۔ بتول مجھے اپنی بیٹی کی طرح پیاری ہے میں اس کی جدائی برداشت نہیں کر سکوں گی راستہ بیگم غمزدہ ہوئی جس پر حیدر آفندی نے ٹھنڈی آہ بھری
اچھا میں بتول سے بات کرتا ہوں پھر دیکھتے ہیں کہ کیا ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حیدر آفندی بھی کچھ پریشان دکھائی دے رہے تھے تبھی یوشع نےکھلے دروازے پر دستک دی
راشدہ بیگم نے اسے ایک ناگوار نظر سے دیکھا جبکہ وہ مسکراتا ہوا ان کے پاس آ گیا
تم میں غیرت نہیں ہے اور اس بات کا مجھے شدید دکھ ہے _ راشدہ بیگم کہتی ہوئی باہر چلی گئی بولو کیا کہنے آئے ہو ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حیدر آفندی نے اس کے بولنے سے پہلے ہی سوال کر دیا اس دن آپ نے میری اور بڑی سرکار کی تمام باتیں آرام سے سن لیں تھی ۔لہذا اب ایسا ظاہر نہ کریں کہ آپ کو کچھ بھی معلوم نہیں یوشع کے جواب پر حیدر آفندی نے مسکراتے ہوئے اسے گھورا
تم مجھ پر الزام لگا رہے ہو مجھے چوری چھپے دوسرے کی باتیں سننے کا شوق کبھی بھی نہیں رہا جبکہ دل میں وہ اپنے بیٹے پر حیران تھے
میں کسی پر الزام نہیں لگا رہا بس یہ چاہتا ہوں کہ بتول خوش رہے اور
یوشع نے جان بوجھ کر بات ادھوری چھوڑی
اور تم بھی خوش ہو جاؤ _ حیدر آفندی اس کے باپ تھے کیسے بیٹے کی بات کا مطلب نہیں سمجھتے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ جو تم چاہتے ہو وہ بہت مشکل ہے
حیدر آفندی نے اسے حقیقت سے روشناس کرایا
جانتا ہوں _ اگر آپ میرا کام کر دیں گے تو میں بھی آپ کے لئے آسانی پیدا کروں گا ۔ورنہ آپ جانتے ہیں کہ بڑی سرکار میری کسی بات سے انکار نہیں کرتیں
یوشع نے اٹھتے ہوئے اپنی چادر جھاڑ کر کندھے پر ڈالی
دھمکی دے رہے ہو ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حیدر آفندی نے اس سے پوچھا
دھمکی نہیں دے رہا بتا رہا ہوں بہت فسادی بیٹا ہے آپ کا _ یوشع جتلاتی نظروں سے حیدر آفندی کو دیکھ کر پلٹ گیا
🪄🪄🪄🪄🪄
جاری ہے