Do Dil By Amna Mehmood Readelle50150 Episode 21
Rate this Novel
Episode 21
بتول خوشی خوشی لان میں چکر لگا رہی تھی۔ آج کتنے دنوں بعد وہ اپنے کمرے سے باہر نکلی تھی ۔سب کچھ اچانک بہت اچھا لگنے لگا تھا۔ وہ ننگے پاؤں گھاس پر آہستہ آہستہ چہل قدمی کرنے میں مصروف تھی کہ گیٹ پر حیدر آفندی کی مرسڈیز کے ہارن پر رکی۔
چچا سائیں آگئے _ بتول نے دل میں سوچتے ہوئے اپنا دوپٹہ درست کیا حیدرآفندی اپنی پوری شان و شوکت ساتھ گاڑی سے باہر نکلے ۔ تمام ملازم انھیں دیکھتے ہی با ادب کھڑے ہو کر سلام کرنے لگے ۔ اس سے پہلے کہ وہ حویلی کے اندرونی حصے میں داخل ہوتے ۔لان میں ہرا ڈوپٹہ دیکھ کر رکے ۔ آپ یہاں کیا کر رہی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حیدر آفندی نے بتول کے قریب آتے ہوئے پیار سے پوچھا سلام چچا سائیں بتول نے سلام کیا
وعلیکم السلام _ آج تو بڑی خوش نظر آ رہی ہو۔ حیدر آفندی نے اسے اپنے ساتھ لگاتے ہوئے کہا جس پر بتول نے سر ہلایا کوئی خاص وجہ ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حیدر آفندی نے مسکراتے ہوئے پوچھا وہ یوشع نے پھر بتول نے ان کی غیر موجودگی میں ہونے والی بڑی سرکار کے ساتھ ساری گفتگو دہرا دی اور یوشع کا فیصلہ بھی سنایا ۔
اچھا تو یہ بات ہے۔ ہماری بیٹی اس فیصلے سے خوش ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
حیدر آفندی کے پوچھنے پر بتول نے سر جھکا لیا مگر اس کی گالوں پر موجود سرخی اس کی خوشی کا پتہ دے رہی تھی ۔
تمہاری چچی تو اس بات پر بہت ناراض ہوں گئی ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حیدر آفندی کو اچانک راشدہ بیگم کا خیال آیا
وہ تو بہت غصے میں ہیں کہہ رہیں تھیں “آنے دیں حیدر کو میں ان سے بات کروں گی ” بتول کی فکرمندی پر حیدر مسکرائے
میرے ہوتے ہوئے تم بالکل فکر مت کرو ۔میں اس سب کو دیکھ لوں گا حیدر نے بتول کے سر پر ہاتھ پھیرا اور اندر جانے لگے مگر پھر کچھ سوچ کر رکے ۔
فلحال تو تم میرے لئے دعا کرو کیونکہ بڑی سرکار کو منانا بہت مشکل ہے حیدر آفندی کی بات پر بتول ہنس دی۔
بڑی سرکار اپنے کمرے میں ڈریسنگ ٹیبل کے آگے بیٹھیں تیار ہو رہیں تھیں۔
دروازے پر دستک کا انداز بتا رہا تھا کہ کون ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
مگر وہ جان بوجھ کر خود کو مصروف ظاہر کرتیں انگلیوں میں انگوٹھیاں پہننے لگیں۔
حیدر آفندی نے تین بار دستک دینے کے بعد دروازہ کھولا تو سامنے ہی بڑی سرکار کو اکیلا دیکھ کر دکھ کا سانس لیا ۔
کیوں آئے ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ بڑی سرکار نے حیدر کو اپنے قریب آتا دیکھ کر تلخی سے پوچھا
بچہ ماں پاس کیوں آتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حیدر نے محبت سے ان کے گرد اپنے بازو حائل کرتے ہوئے سر پر پیار دیا
اچھا اب تمہیں ممتا کی محبت یاد آ گئی اس دن “وہ” گھاس چرنے گئی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ بڑی سرکار نے نفرت سے بازو اپنے کندھوں سے ہٹائے اور کھڑی ہوگئیں۔
اماں سائیں اب جانے بھی دیں آخر کب تک ناراض رہیں گی ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ مجھ سے آپ کی ناراضگی برداشت نہیں ہوتی حیدر آفندی نے کہتے ہوئے بیڈ پر پڑی گرم چادر اٹھا کر انہیں پہنائی
لہجے میں بڑی شیرنی گھلی ہوئی ہے ۔کیا پلاتی رہی ہے وہ تمہیں ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ بڑی سرکار نے اپنے کندھوں پر چادر درست کرتے ہوئے پوچھا جس پر حیدر کھل کے مسکرا دیئے
اماں سائیں آپ جیلس ہو رہی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ انہوں نے چھیڑا
جیلس ہوتی ہے میری جوتی دوبارہ مجھے اس سے کمپئر کرنے کی کوشش مت کرنا۔
نے ایک ہی ہوں۔ میرے ماں باپ نے میرا نام “پیر بانو”جب کہ شوہر نے “بڑی سرکار” رکھا ہے میرا مقابلہ کوئی معمولی عورت نہیں کر سکتی _ بڑی سرکار نے غرور سے اپنی گردن اکڑائی۔
ہم بھی تو آپ کو اماں سائیں کہتے ہیں ہمارا ذکر ہی نہیں حیدر آفندی نے گلہ کیا۔
کہتے تو ہو مگر سمجھتے نہیں ہو بڑی سرکار نے بھی اپنا دکھ بیان کیا
اچھا اب معاف کر دیں۔ آئندہ نافرمانی نہیں ہوگی حیدر نے بڑی سرکار کے آگے گھٹنوں کے بل جھکتے ہوئے معافی مانگی
میری اجازت کے بغیر اب تم اس سے نہیں ملو گے بڑی سرکار کی سوئی پھر اسی جگہ جا رکی ۔
آپ اس بات کو چھوڑ کیوں نہیں دیتیں ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حیدر نے پاؤں کو ہاتھ لگاتے ہوئے کہا
یعنی تم اس سے ملتے رہو گے پھر معافی کا کیا فائدہ ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ بڑی سرکار ایک قدم پیچھے ہٹیں۔
اماں سائیں اب میں بوڑھا ہو گیا ہوں ۔اب تو رحم کریں۔ میں بہت تھک گیا ہوں ماں اور بیوی کے درمیان حیدر کی لاچارگی پر بڑی سرکار کو اپنے بیٹے پر ترس آیا۔
اچھا ٹھیک ہے نیچے سے اٹھو۔ ہمیں تم سے کچھ ضروری باتیں کرنی ہیں۔ بڑی سرکار کے نارمل لہجے پر حیدر نے سکھ کا سانس لیا اور صوفے پر بیٹھ گئے۔
اماں سائیں خیریت کیا بات ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حالانکہ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ کیا بات ہے پھر بھی انجان بنے۔
ہمیں تم سے بتول کے بارے میں ایک بات کرنی ہے ۔بلکہ “بات” نہیں ایک “فیصلہ” سنانا ہے اور پتا یہ فیصلہ یوشع نے کیا ہے ۔
مجھے تم سے زیادہ یوشع پر فخر ہے ۔وہ بالکل میری طرح سوچتا اور فیصلہ کرتا ہے ۔وہ جانتا ہے کہ لوگوں کو انکی اوقات میں کیسے رکھنا ہے _ بڑی سرکار کے لہجے میں یوشع کے لئے فخر تھا
الو کا پٹھا حیدر آفندی نے دل میں اسے گالی سے نوازا ۔
جی بڑی سرکار آپ بالکل ٹھیک کہہ رہی ہیں جب کہ منہ سے اقرار کیا
اگر آپ کو اس کے فیصلے پر کوئی اعتراض نہیں تو بھلا مجھے کیا ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حیدر کہتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے
مجھے تم سے یہی امید تھی اب یہ بات اپنی بیوی کو بھی اچھی طرح سمجھا دینا _ بڑی سرکار کے کہنے پر حیدر آفندی سر ہلاتے جانے کے لیے کھڑے ہوئے بیٹھو ابھی ایک اور بات بھی رہتی ہے اور تمہیں اتنی جلدی کیوں ہے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ بڑی سرکار نے طنز کیا جب کہ حیدر آفندی دوسری بات کے بارے میں سوچنے لگے وہ یوشع الیکشن لڑنا چاہتا ہے تو بڑی سرکار نے بات شروع کی جیسے جیسے وہ بات بتاتی جارہی تھیں ویسے ویسے حیدر آفندی حیرت کے سمندر میں ڈوبے جا رہے تھے ۔
بڑا ہی کمینہ ہے باپ کے آنے کا انتظار بھی نہیں کیا اور ساری پلاننگ خود ہی کر لی۔اسے تو باپ کی ضرورت ہی نہیں ۔یہ تو خود سب کا باپ ہے حیدرآفندی دل میں سوچتے ہوئے مسلسل سر ہلا رہے تھے ۔
🪄🪄🪄🪄🪄🪄
اس وقت ماسٹر جی کے صحن میں یوشع اور نوید کے علاوہ مولوی صاحب اور کچھ یوشع کے خاص بندے گواہوں کی صورت میں موجود تھے
مولوی صاحب نکاح شروع کریں یوشع کی آواز پر سب نے اسے دیکھا اور پھر مولوی صاحب نے نکاح پڑھانا شروع کیا ۔
کچھ دیر بعد انہوں نے دلہن کی اجازت اور سائن کی غرض سے نکاح نامہ ماسٹر صاحب کی طرف بڑھایا ۔
ماسٹر جی ذرا جلدی کیجئے گا مجھے اور بھی بہت کام ہیں یوشع نے ماسٹر جی کی سستی کو دیکھتے ہوئے طنز کیا
ماسٹر جی ، مولوی اور گواہوں کے ساتھ امثال کے کمرے میں داخل ہوئے جہاں اس کے باقی بچے بھی موجود تھے ۔
بیٹا آپ کو یوشع حیدر آفندی ولد حیدر آفندی اپنے نکاح میں منظور ہیں۔
نہیں مولوی صاحب کے پہلی بار پوچھنے پر ہی امثال نے با آواز بلند انکار کیا جس پر کمرے میں سناٹا چھا گیا
امثال کی انکار پر یوشع نے کمرے کی طرف دیکھا جبکہ نوید منہ نیچے کرتا ہوا مسکرانے لگا
ٹھیک ہے اگر وہ نہیں مانتی تو زبردستی کی ضرورت نہیں ہے یوشع کہتا ہوا کھڑا ہوگیا جبکہ یوشع کی بات پر نوید کی مسکراہٹ سمٹی۔ باقی ملازم بھی یوشع کے کھڑے ہوتے ہی جانے کے لیے تیار ہوگئے ۔
امثال کے انکار پر مولوی صاحب نے ایک نظر ماسٹر جی کو دیکھا اور باہر جانے لگے ۔
رکیں مجھے کچھ کہنا ہے _ امثال نے مولوی صاحب کو باہر جاتا دیکھ کر پکارا
آپ انہیں یہ دے دیجئے گا امثال نے کاغذ کا ایک ٹکڑا مولوی صاحب کی طرف بڑھایا جب کہ ماسٹر جی نے حیرانی سے امثال کی اس حرکت کو دیکھا
امثال یہ کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ انہوں نے حیرت زدہ سا پوچھا جب کہ مولوی صاحب گواہوں کے ساتھ باہر نکل گئے
ابا آپ پریشان کیوں ہیں میں کوئی بے وقوف ہوں ۔۔۔۔۔؟؟؟ امثال نے مولوی صاحب کے جاتے ہیں منہ پر لیا ڈوپٹہ پیچھے الٹا اور سکھ کا سانس خارج کیا
وہ جی یہ وہ انہوں نے مولوی صاحب کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیسے امثال کو مخاطب کریں ۔
یوشع کا موڈ خراب ہو چکا تھا اس لیے مولوی صاحب کو یوں مخاطب کرنے پر ایک ناراض نظر ان پر ڈالتا باہر کی طرف بڑھ گیا
آپ یہ پرچہ مجھے دے دیں نوید نے کہتے ساتھ ہی وہ پرچہ مولوی صاحب کے ہاتھ سے لے لیا اور انھیں فیس ادا کرتا ہوا یوشع کے پیچھے ہی چل دیا ۔
جیسے ہی یوشع کی جیپ اور گاڑیاں ماسٹر جی کے گھر سے روانہ ہوئیں آس پاس کے لوگوں نے انہیں حیرت سے دیکھا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے ہمسائے ماسٹر جی کے گھر پر جمع ہونے لگے ۔
گاڑی میں مکمل خاموشی تھی۔ نوید چور نظروں سے یوشع کو بار بار دیکھ رہا تھا ۔جو شاید کسی کو فون کرنے میں مصروف تھا اور ماتھے پر شکن واضح تھی ۔
سائیں یہ پرچی ماسٹر صاحب کی بیٹی نے دی ہے اس کا کیا کرنا ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ڈیرے پر جیپ روکتے ہوئے نوید نے پوچھا جس پر یوسف نے ایک حقارت بھری نظر اس پرچی پر ڈالی اور نیچے اترنے لگا مگر پھر دروازہ کھولتے ہوئے تجسس کے مارے رکا۔
کیا لکھا ہے اس میں ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع نے پاؤں نیچے رکھتے ہوئے پوچھا
سائیں میں نے نہیں پڑھی نوید نے سعادت مندی سے جواب دیا جس پر یوشع دوبارہ جیپ میں بیٹھ گیا
لاؤ _ نوید کے ہاتھ سے پرچی لیتے ہوئے جیسے ہی یوشع نے اس کاغذ کے ٹکڑے کو کھولا اس کے تاثرات بدلنے لگے اور یہ دیکھ کر نوید کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا
اگر سائیں کو مجھ پر شک ہوگیا تو میرا کیا بنے گا ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ نوید نے دل میں سوچا
نوید یوشع نے نوید کو پکارا تو نوید کو اپنا دل کانوں میں دھڑکتا ہوا محسوس ہوا
ج جی سائیں نوید نے ہکلاتے ہوئے یوشع کو جواب دیا
تم دونوں ایک ہی سکول کے پڑھے ہوئے ہو ناااااا ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع نے پوچھتے ہوئے وہ کاغذ کا ٹکڑا نوید کی طرف بڑھایا جبکہ نوید یوشع کے سوال پر حیران رہ گیا
جی سائیں بمشکل ہوش سنبھالتے نوید نے جواب دیا۔
نکاح میرا کینسل ہوا ہے اور حواس تمہارے معطل ہو رہے ہیں کیا بات ہے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ نوید کے رویے پر یوشع نے اسے شکی نظروں سے دیکھا
کچھ نہیں سائیں وہ بس ایسے ہی نوید نے فورا اپنے تاثرات بدلے
کہیں تمہیں یہ ڈر تو نہیں لگ گیا کہ اب میری شادی بتول سے ہوگی ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع نے چسکا لیا
نہیں سائیں ایسی کوئی بات نہیں ہے ۔ میں جانتا ہوں آپ اپنے فیصلوں سے نہیں مکرتے نوید کی گیم اسی پر الٹ گئی تھی اب وہ مکمل گم صم سا ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا تھا ۔
مجھے یہ پرچہ پڑھ کر دو کچھ دیر کی خاموشی کے بعد یوشع نے حکم دیا
میں نے ساری زندگی اتنی گندی لکھائی نہیں دیکھی جتنی اس “بی بی نخرے والی” کی ہے ۔
کچھ سمجھ نہیں آرہا کہ کیا لکھا ہے اور کس زبان میں لکھا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
اگر یہ پرچہ کسی آثار قدیمہ والے کو دیا جائے تو وہ سمجھے گا کہ یہ 320 ق م کے زمانے کا کوئی رسم الخط ہے ۔
کیا تم لوگوں کی لکھائی پر سکول میں توجہ نہیں دی جاتی ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع کے تبصرے پر نوید حیران رہ گیا
سائیں ہمارے سکول میں تو لکھائی پر خاص توجہ دی جاتی ہے ۔سب بچوں کو پانچویں کلاس تک تختی لکھائی جاتی ہے ۔
اور تختی لکھنے والوں کی لکھائی بہت خوبصورت اور صاف ہوتی ہے نوید کے جواب پر یوشع نے اسے طنزاً مسکرا کر دیکھا
جی بالکل وہ تو میں دیکھ ہی رہا ہوں ماسٹر جی کے گھر سے واپسی پر یوشع پہلی بار کھل کر ہنسا تھا ۔
مجھے نہیں لگتا کہ یہ امثال نے خود لکھا ہوگا اتنی گندی لکھائی اس کی ہو ہی نہیں سکتی نوید نے پرچے پر نظر مارتے ہوئے خود کلامی کی جسے یوشع نے بخوبی سنا ۔
کیا تم سے بھی نہیں پڑھا جا رہا ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع نے سوالیہ نظروں سے نوید کی طرف دیکھا جو کچھ دقت کا شکار تھا ۔
سائیں وہ اصل میں نوید نے کچھ بولنا چاہا مگر یوشع نے اس کے ہاتھ سے پرچہ چھین لیا ۔
اب یہ وہ خود آکر ہی پڑھے گی یوشع کہتا ہوا جیپ سے اتر کر ڈیرے پر چلا گیا جبکہ نوید نے اپنا سر پکڑ لیا
بیوقوف لڑکی_ نوید نے سٹیرنگ پر زور سے مکہ مارا
“چاہے لاکھوں میں بھٹکتی رہے کملی کی طرح
چاہے اک شخص پر اڑ جائے نگاہ کی مرضی”
یہ لڑکی مجھے کیسے پسند آ گئی اتنی گندی لکھائی یوشع نے اپنے آگے پرچہ کرتے ہوئے سوچا اور پھر اسے اپنے قریب ہی جلتی ہوئی آگ میں پھینکنے لگا مگر پھر کچھ سوچ کر جیب میں رکھ لیا ۔
🪄🪄🪄🪄🪄
عکاشہ کبھی تو سنجیدہ ہو جایا کرو ۔دیکھو اس لڑکی کا بہت خون بہہ گیا ہے۔ اگر تم ایک بوتل خون دے دو گے تو تمہیں کیا فرق پڑ جائے گا ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
جب کہ اس لڑکی کی جان بچ جائے گی عدن مسلسل عکاشہ کو خون دینے کا کہہ رہی تھیں۔
میں کیوں دوں خون ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
آگے ہی مجھ میں خون کی بہت کمی ہے۔ میرے اندر کون سا اضافی خون ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
ویسے بھی سینڈوچ کھا کھا کر بندے کے اندر کتنا خون بن سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
آپ خود ہی سوچیں ذرا عکاشہ نے عدن کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
عکاشہ خون دینے سے اپنی صحت بھی اچھی رہتی ہے اور ثواب بھی ملتا ہے عدن نے سمجھانا چاہا
شکریہ مسز آفندی اگر آپ کو اس کا اتنا ہی دکھ ہو رہا ہے تو گاؤں سے حیدر آفندی کو بلا لیں مگر مجھے معاف کر دیں۔
بامشکل گاؤں میں کھا پی کر جو صحت بنائی ہے وہ اسے دے دو ارے واہ عکاشہ نے پینٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالتے ہوئے کندھے اچکائے
مجھے افسوس ہے کہ تم میرے ہی بیٹے ہو عدن نے دکھ سے عکاشہ کی طرف دیکھا سوری ماما مگر مجھے بھی یہی دکھ بچپن سے ہے کہ آپ میری ماں ہیں اور آپ کو میری ہی کوئی پرواہ نہیں ۔ یاد ہے پچھلے سال بھی آپ کے کہنے پر ایک عورت کو خون دیا تھا ۔وہی جس کا بعد میں بیٹا ہوا تھا یاد آیا ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
عکاشہ کے یاد دلانے پر عدن کو یاد آیا کہ اس کی کولیگ کو ڈلیوری میں خون کی ضرورت تھی تو عدن نے عکاشہ سے کہہ کر ایک خون کی بوتل دلائی تھی
ہاں یاد ہے مگر وہ تو کافی پرانی بات ہے اب تم پھر خون دے سکتے ہو _ عدن نے جواب دیا مگر چوٹیں بالکل نئی ہیں عکاشہ نہ غصے سے جواب دیا
مطلب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عدن نے اسے حیرانگی سے دیکھا
اپنی طرف سے “جوان” اور میری طرف سے “بوڑھی” خاتون اگر آپ کو یاد ہو تو اس عورت کے میاں اور گھر والوں نے مجھے کتنا مارا تھا ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
بقول آپ کے خون دینے کی نیکی کرنے پر عکاشہ نے منہ چڑایا
تم نے بات ہی اتنی غلط کی تھی تمہاری مار تو بنتی تھی اچانک یاد آنے پر عدن مسکرانے لگیں۔
آپ دنیا کی واحد ماں ہیں جو اپنے بچے کی مار پر خوش ہورہی ہیں۔ قسم سے اگر میں ماں ہوتا تو کوئی میرے بچے کو ہاتھ لگا کر دکھاتا عکاشہ غصے سے عدن کے آگے پیچھے چکر لگا رہا تھا
اگر تم کسی کی اولاد کو اپنا خون کہو گے تو وہ تمہیں ماریں گے ہی گلے لگانے سے تو رہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عدن ہنس رہی تھی
تو میں نے اس بچے کی ماں کو خون دیا تھا۔ اس کی رگوں میں میرا خون تھا۔ اس میں کیا غلط ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عکاشہ اب عدن کے برابر بینچ پر بیٹھ گیا تھا
خون دینے اور خون ہونے میں بڑا فرق ہے۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
“یہ میرا خون ہے” یہ جملہ صرف اولاد کے لیے بولا جاسکتا ہے ۔جیسے تم حیدر کا خون ہو۔
مگر ہم جسے خون دیتے ہیں وہ ہمارا خون نہیں ہوتا جیسے لوگ اپنی بیوی کو بھی خون دیتے ہیں ۔
بیوی تو اولاد نہیں ہوتی کتنے لوگ اپنی بیوی کو اپنا خون دے کر بچاتے ہیں عدد نے پیار سے عکاشہ کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے سمجھایا
بے وقوف گدھے الو کے پٹھے اس قسم کے لوگوں نے “مرد برادری” کا امیج خراب کر دیا ہے ۔ بھئی اگر تمہیں دوسرا موقع مل رہا ہے تو کیوں ضائع کرتے ہو۔۔۔۔۔۔؟؟؟ نئی چیز نہیں ہوتی ہے اور پرانی چیز پر جتنی مرضی محنت کر لیں پرانی ہی رہتی ہے ۔ مگر یہاں تو سب کو “دیوداس” بننے کا شوق ہے عکاشہ نے سر نفی میں ہلایا جب کہ عدن تو بالکل حیرت کی مورت بنی اسے دیکھ رہی تھی ۔
اچھا آخری بار میرے کہنے پر ماہم کو خون دے دو پھر نہیں کہوں گی_ عدن کو عکاشہ کی سوچ پر غصہ تو بہت آیا مگر فی الحال وہ موقع کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے اسے سمجھانے لگیں۔ دیکھو تمہارے خون سے اس بچی کی جان بچ جائے گی عدن نے لجاجت سے کہا
اچھی خاصی پڑھی لکھی خاتون ہیں۔ پھر بھی ایک جوان جہان لڑکی کو “بچی بچی” کہہ رہی ہیں۔
لڑکی بولیں ناااا یہ بچی کا لفظ ہم لڑکے استعمال کرتے ہیں وہ بھی ایسی لڑکی کے لئے عکاشہ مزید کچھ کہنے لگا تھا مگر زبیر صاحب کو قریب آتا دیکھ کر چپ ہو گیا ۔
بیٹا آپ میری بچی کو خون دے رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ زبیر صاحب نے قریب آتے ہی نہایت شفقت سے پوچھا
(پھر بچی عکاشہ زیرلب بڑبڑایا)
جی یہ دے رہا ہے عکاشہ کے بولنے سے پہلے ہی عدن بول پڑیں ۔
بیٹا آپ کا مجھ پر بہت بڑا احسان ہے ۔اللہ تعالی آپ کو خوش رکھے ۔اصل میں اس کا بلڈ گروپ آسانی سے نہیں ملتا اگر میرا بیٹا یہاں ہوتا تو میں آپ کو زحمت نہ دیتا اس کا بلڈ گروپ اور ماہم کا ایک ہی ہے ۔
زبیر صاحب کی آواز نم تھی۔ اور وہ آنکھوں میں بےبسی اور نمی کے ساتھ شکریہ کے کلمات ادا کرتے پلٹ گئے ۔
نکال لو ظالموں سارا نکال لو _ ایک مزاق کی اتنی بڑی سزا چھوڑوں گا نہیں میں اسے دیکھ لینا عکاشہ مسلسل بڑبڑاتے ہوئے زبیر صاحب کے پیچھے چل رہا تھا
مجھے سمجھ نہیں آتی پہلے صرف ڈراموں ، فلموں اور ناولز میں ایسا ہوتا تھا کہ ہیروئن کو صرف کسی خوبصورت امیر اکلوتے لڑکے کا خون ہو راس آتا تھا مگر اب حقیقت میں بھی ایسا ہی ہونے لگا ہے۔
آپ خون کیوں نہیں دیتیں ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عکاشہ مسلسل عدن ساتھ چلتا ہوا بول رہا تھا جب کہ عدن کے چہرے پر مسکراہٹ اور ایک اطمینان تھا ۔
پہلے ہم آپ کا بلڈ سیمپل لیں گے نرس نے بتایا
بالکل نہیں اتنا خون نہیں ہے مجھ میں کہ سیمپل لے لے کر ضائع کردیں۔
میرا بلڈ گروپ “او نیگیٹو” ہی ہے آپ بس ڈریپ لگائیں۔ عکاشہ بیزاری سے کہتا ہوا بیڈ پر بیٹھ گیا
سوری مگر ہم پہلے آپ کا بلڈ ٹیسٹ کریں گے اور تب تک آپ کو جوس وغیرہ پی لیں نرس نے عکاشہ کے بلڈ کا سمپل لیتے ہوئے کہا
شکر ہے کسی کو تو میرے کھانے پینے کا خیال آیا عکاشہ عدن پر ایک جتلاتی نظر ڈالتا کمرے سے نکل گیا
یہ آپ کا سوتیلا بیٹا ہے ۔۔۔۔۔؟؟؟ نرس نے عکاشہ کے رویے پر عدن سے پوچھا
نہیں یہ میرا سگا بیٹا ہے۔سوتیلا تو بہت ہی فرماں بردار ہے عدن کہتی ہوئی عکاشہ کے پیچھے چل دی جبکہ نرس نے حیرت سے دونوں ماں بیٹے کو سنا۔
عکاشہ مزے سے پائن ایپل کا جوس پینے میں مصروف تھا کہ اس کا موبائل بجا۔
اسے کہتے ہیں دل کو دل سے نہیں بلکہ بھائی کو بھائی سے راہ ہوتی ہے عکاشہ نے فون اٹینڈ کرتے ہی کہا جس پر یوشع مسکرا دیا
کیوں کیا ہوا ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع نے ڈیرے پر موجود اپنے پسندیدہ سفید گھوڑے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے پوچھا
لمبی کہانی ہے دوسرا میں اس وقت جوس پی رہا ہوں تیسرا فون آپ نے کیا ہے لہذا پہلے آپ کا حق ہے کہ بتائیں کیا ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عکاشہ کے جواب پر یوشع نے ایک سرد آہ بھری
کیا بتاؤں کہ کیا ہوا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع نے گھوڑے کو دیکھتے ہوئے حسرت سے کہا
بکری بھاگ گئی عکاشہ کے پوچھنے پر آس پاس بیٹھے لوگوں نے اسے حیرت سے دیکھا جبکہ یوشع نے بے ساختہ قہقہہ لگایا
بس یہی سمجھ لو اور پھر یوشع نے اسے تمام بات تفصیل سے بتا دی جسے سن کر عکاشہ ہنسنے لگا
میری ذاتی رائے ہے کہ “اگر آپ کو کبھی کسی لاپروا سے محبت ہو جائے تو بیٹھ کر پہلے یہ طے کر لیں کے گرنا کس حد تک ہے”
مگر میرے خیال سے آپ تو ان کے پاؤں میں لیٹ ہی گئے ہیں عکاشہ نے ہنستے ہوئے جوس کا آخری گھونٹ بھرا
جبکہ یوشع اب چارپائی پر نیم دراز ہو کر اپنا بازو سر کے نیچے رکھ چکا تھا ۔
تیرا ہنسنا بنتا ہے ہنس لے یوشع کی آواز پر عکاشہ کی ہنسی کو بریک لگی
ابھی میں نے اپنا دکھ نہیں بتایا پھر فیصلہ کرنا کہ کس کا ہنسنا بنتا ہے ۔۔۔۔۔؟؟؟ اس کے بعد عکاشہ نے ماہم ساتھ کیے مذاق سے لے کر خون دینے تک سب بتا دیا
یوشع کو اتنا مزا آیا کہ وہ ہنستا ہوا اٹھ بیٹھا اور اپنا غم بھول کر ہشاش بشاش ہو گیا
نہیں یار تیرا دکھ مجھ سے زیادہ ہے ۔مجھے تجھ سے شدید ہمدردی ہے ۔بلا اتنے مذاق پر کون خون دیتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع ہنستا بھی جا رہا تھا
بھائی یاررررر ابھی تو آپ “نشو” کی طرح رو رہے تھے پھر اچانک “منورظریف” کیسے بن گئے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عکاشہ نے طنز کیا
تیرا دکھ سن کر یوشع اب بھی ہنس رہا تھا ۔
آپ میرا خون ہیں پھر بھی مجھ پر ہنس رہے ہیں عکاشہ نے جوش دلایا
سوری میں حیدر آفندی کا خون ہوں اور تم چپ چاپ جا کر خون دو ۔ چھوٹی ماما بالکل ٹھیک کہہ رہی ہیں خون دینے سے ثواب ملتا ہے ۔یوشع آخر میں سنجیدہ ہوا ۔
“تم جو غیروں سے ملے، تمھیں غیرت نہیں آئی” _ عکاشہ نے کہتے ساتھ ہی فون کاٹ دیا کیونکہ عدن کی کال آ رہی تھی اور وہ جانتا تھا کہ کیوں ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
🪄🪄🪄🪄🪄
جاری ہے
