Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 8

نوید ڈسپنسر سے اپنی پٹی کروا کر باہر جا رہا تھا جب نظر ماسٹر صاحب پر پڑی ۔
ماسٹر جی آپ یہاں _ نوید نے جھک کر سلام کرتے ہوئے پوچھا برخوردار مجھے چھوڑو اور یہ بتاؤ کہ تمہیں سر پر کیا ہوا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ماسٹر جی نے ہمیشہ کی طرح شفقت سے جواب دینے کے بعد نوید کی خیریت پوچھی بس وہ اچانک سڑک پر پتھرآ گیا تھا تو جیپ میرے کنٹرول سے باہر ہوگئی _ نوید نے مسکراتے ہوئے جواب دیا
اپنا خیال رکھا کرو تم بہت اچھے ہو اور تم جیسے نوجوانوں کی ہمارے گاؤں کو بہت ضرورت ہے ماسٹر جی نے پیار سے کہا
وہ آج یوشع سائیں آپ سے ملنے آپ کے گھر گئے تھے مگر پتہ چلا کہ آپ گھر پر موجود نہیں ہے خیریت تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
نوید نے یوشع سائیں کے جانے کی اطلاع انتہائی خوبصورتی سے ماسٹر جی تک پہنچائیں
یوشع سائیں میرے گھر کیوں آئے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ماسٹر جی کو کسی انہونی کا احساس ہوا
ویسے ہی وہ ہر کسی سے آپ کے بارے میں سن کر لگتا ہے کہ آپ کی شخصیت سے متاثر ہوگئے ہیں
نوید نے ماسٹر جی کی پریشانی کو ختم کرنے کے لیے ہلکے پھلکے انداز میں جواب دیا
اچھا
ماسٹر جی نے گہری سوچ میں ڈوبی آواز ساتھ کہا
آپ یہاں کیسے آئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ نوید نے پوچھا
وہ رات میں امثال کو بچھو نے کاٹ لیا تھا اتنا سخت بخار رہا اس لیے صبح ہسپتال لایا ۔
بخار تو ابھی بھی ہے مگر پہلے سے فرق ہے ماسٹر جی کی بات پہ نوید نے سر ہلایا ابھی بھی تمہارے ساتھ یوشع سائیں ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ نہیں انہیں تو میں ڈیرے پر اتار آیا تھا ادھر سرکاری ہسپتال میں وہ کیسے رہ سکتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ماسٹر جی کے سوال پر نوید نے جواب دیا اچھا اچھا
ماسٹر جی کے جاتے ہیں نوید کا دماغ ایک بار پھر بتول کی طرف چلا گیا
آخر ایسا بی بی نے کیا کیا ہوگا جو یوشع سائیں یوں مجھ سے پوچھ رہے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
اتنا سمجھایا تھا میں نے انہیں مگر یہ امیر اور خوبصورت لڑکیاں اتنا کند ذہن کیوں ہوتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
نوید اپنی سوچوں میں گم ہسپتال کی سیڑھیاں اترنے لگا
🪄🪄🪄🪄🪄
حرم ایک کپ چائے بنا دو حارث نے کمرے میں جھانکتے ہوئے کہا وہ تو ممانی ساتھ بازار گئی ہے کیا میں بنا دو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ماہم نے ڈرتے ڈرتے پوچھا نیکی اور پوچھ پوچھ _ اس میں بھلا پوچھنے والی کیا بات ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
بنا کر لا دو میں نے تو چائے ہی پینی ہے چاہے تم بناؤ یا حرم _
حارث کی بات پر وہ مسکراتی ہوئی چائے بنانے چلی گئی
دادو کیا ہو رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حارث نے تخت پوش پر تقریبا گرنے والے انداز میں بیٹھتے ہوئے اس سمیرا بیگم سے پوچھا
کچھ نہیں بوڑھے بندے نے کیا کرنا ہوتا ہے سوائے پرانی یادوں کے دادو نے پیار سے حارث کے سر پر ہاتھ پھیرا تبھی ماہم چائے بنا کر لے آئی
اتنی جلدی بنا لائی ہو _ کیا پہلے سے بنی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حارث نے چائے کا ایک گھونٹ بھرا اور ماہم کی طرف دیکھا اچھی نہیں بنی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ماہم نے بے چارگی سے پوچھا اس چائے کو اچھی کہنا زیادتی ہو گا _ یہ تو بہت زبردست بنی ہے _ حارث کے جواب پر ماہم کا مرجھایا ہوا چہرہ کھل اٹھا سچی ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ماہم نے جوش سے پوچھا مچی _ یقین نہیں آتا تو دادو سے پوچھ لو۔ کیوں دادو چائے کیسی بنی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
میری بیٹی کے ہاتھ میں بہت ذائقہ ہے دادو نے پیار سے ماہم کی طرف دیکھا
وہ میں نے آپ کو سوری بولنا تھا
ماہم نے حارث کے ہاتھ سے چائے کا کپ لیتے ہوئے آہستہ آواز میں کہا
سوری ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
یہ کیا بات ہوئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
میں سمجھا کہ تم میرا شکریہ ادا کروں گی ۔کیونکہ میں نے نہ صرف خود بلکہ دادو سے بھی تمہاری چائے کی تعریف کروائی ہے
حارث نے مصنوعی خفگی سے جواب دیا
وہ میری وجہ سے آپ کو اتنا جرمانہ دینا پڑا۔ میں اس لئے آپ سے معافی مانگنا چاہ رہی تھی۔آئندہ ایسی غلطی نہیں کروں گی _ ماہم نے شرمندگی سے سر جھکایا جس پر حارث نے افسوس سے اپنا سر نفی میں ہلایا تم میرے لئے بالکل حرام جیسی ہو اور نقصان تو کسی سے بھی ہوسکتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ میرے سے بھی ہوسکتا ہے آئندہ ایسی بات مت بولنا سمجھی حارث کے جواب پر ماہم کے چہرے پر ایک دم رونق آگئی بالکل ایسے ہی رہا کرو۔ یہ دنیا رونے والوں کو زیادہ رولاتی ہے اور اس نے ماہم کے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرا
میں چاہتا ہوں تم بالکل حرم کی طرح ہو جاؤ اپنے حقوق کے لیے لڑا کرو مجھ سے اور بابا سے اپنی مرضی کی چیز لینے کے لئے ضد کیا کروں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
حارث کی بات پر سمیرا بیگم نے بھی تائیدی نگاہ سے ماہم کو دیکھا
اور تم نے آج اتنی اچھی چائے بنائی ہے تو تمہارا انعام بنتا ہے حارث نے پانچ سو کا نوٹ نکال کر ماہم کو دیا یہ میرے پیچھے یہاں پر کیا ہو رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ اتنی دیر میں کلثوم بیگم حرم ساتھ اندر داخل ہوئیں اور ماہم کو حارث سے پیسے لیتا دیکھ کر بھڑک اٹھی ہمارے ساتھ تو ہنستے بولتے ہوئے اس لڑکی کو موت پڑتی ہے
اور اب کیسے خوش ہو رہی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ممانی کی بات کا مطلب سمجھتے ہوئے ماہم جلدی سے کچن میں برتن رکھنے چلی گئی
ماما پلیز _ حارث نے روکنا چاہا تم تو اپنا منہ بند ہی رکھا کرو ابھی میں کچھ کہنے ہی لگتی ہوں کہ تم وکالت کے لیے پہلے کھڑے ہو جاتے ہو کلثوم بیگم کی بات پر حرم نے انگلی کے اشارے سے حارث کو چپ رہنے کا کہا اچھا چھوڑو ان باتوں کو یہ بتاؤ کیا خریداری کی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ سمیرا بیگم نے کلثوم سے کہا
حرم اپنی دادو کو دکھا دو کہ ہم کیا شاپنگ کر کے لائے ہیں۔ کیوں کہ میرا تو موڈ اس لڑکے نے آتے ہی خراب کردیا ہے کلثوم بیگم پاؤں پٹختی ہوئی اپنے کمرے کی طرف چل پڑی جبکہ حرم نے ان کے جاتے ہی کچن میں برتن دھوتی ماہم کو بلایا اور سب کو خریداری دکھانے لگی 🪄🪄🪄🪄🪄 میں کسی بھی صورت یوشع سے شادی نہیں کروں گی _ اور میری مدد بھی کوئی نہیں کرے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟
لہذا جو کچھ بھی کرنا ہے مجھے خود ہی کرنا ہے اور جلدی کرنا ہے
ایسا کرتی ہوں میں یہاں سے بھاگ جاتی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
بتول نے سوچتے ہوئے الماری سے اپنا قیمتی سامان اور کالی شیشوں والی چادر نکالی اور حویلی کے خفیہ راستے کی طرف چل پڑی
بتول اس حویلی کے چپے چپے سے واقف تھی کیونکہ اس کا بچپن اس حویلی میں کھیل کود کر ہی گزرا تھا
رات کے اس پہر شدید اندھیرا تھا مگر کیونکہ بتول کو یہ راستہ زبانی یاد تھا اس لئے وہ سیدھا چلتی ہوئی حویلی سے باہر نکل آئی۔
یہ خفیہ راستہ حویلی اور ڈیرے کو آپس میں ملاتا تھا اور اس راستے کو بنانے کا مقصد یہ تھا کہ اگر کبھی ڈیرہ یا حویلی میں کوئی مسئلہ ہو تو آسانی سے دونوں جگہوں کے درمیان رابطہ ہو سکے ۔
اب اسے نوید کی “خوش قسمتی” کہیں یا بتول کی “بدقسمتی” مگر ڈیوٹی پر آج نوید موجود تھا قدموں کی چاپ سے چونکا
کون ہے وہاں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ نوید نے ایک راہداری کی طرف ٹارچ سے روشنی ڈالی۔
یہ راستہ حویلی سے آتا تھا اس لیے نوید سخت الفاظ استعمال نہیں کرسکتا تھا
کتوں کے بھونکنے اور روشنی کی وجہ سے بتول کی جان نکل گئی _ کیا مجھے واپس لوٹ جانا چاہیے۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ اس نے خوفزدہ ہوتے ہوئے خود سے پوچھا نہیں نہیں _ مجھے زندگی اپنی مرضی سے گزارنے کا پورا اختیار ہے۔ اس لیے مجھے ہمت کرنا ہوگی ۔
یہاں کوئی ملازم ہی ہوگا اور اسے میں سنبھال لوں گی ۔میں صبح ہونے سے پہلے پہلے شہر پہنچ جاؤں گی بتول نے دل میں اپنے آپ کو تسلی دی اندھیرے میں نوید کو جو سایہ باہر نکلتا دکھائی دیا اس نے نوید کے چھکے چھڑا دیے۔ بی بی جی آپ
اس وقت اور یہاں نوید جتنا حیران ہوتا اتنا ہی کم تھا
نوید تم نوید کے برعکس بتول کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ خوش ہو یا نوید کو دیکھ کے پریشان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
آپ اس وقت ڈیرے پر کیا لینے آئی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ نوید نے پریشانی سے پوچھا اور ساتھ ہی ساتھ پیچھے مڑ کر دیکھا کہ کہیں کوئی اور ملازم تو نہیں دیکھ رہا
میں تم سے ملنے آئی ہوں کیونکہ تم تو آتے نہیں ہو اور یہ تمہارے سر پر کیا ہوا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
بتول نے نوید کے سر پر بندھی پٹی دیکھ کر پوچھا
بی بی اب واپس جائیں میں صبح ملنے ضرور آؤں گا نوید کو اس وقت بتول کو ڈیرے پر کھڑا دیکھ کر پسینے آ رہے تھے
نوید یہ میں ہوں بتول مگر تمہیں تو ایسے پسینے آ رہے ہیں جیسے تم نے کوئی چڑیل دیکھ لی ہو
بتول اپنی ہی بات پر خود ہی ہنسی جبکہ نوید نے اپنے ماتھے پر موجود ننھے قطرے ہاتھ سے صاف کیے
بی بی آپ یہاں سے چلی جائیں۔ آپ کو اندازہ نہیں ہے کہ آپ کا یہ قدم کتنی بربادی لائے گا نوید نے التجا کی نہیں میں واپس لوٹنے کے لئے نہیں آئی نوید کو دیکھنے کے بعدبتول میں ہمت آ گئی تھی اور سارا ڈر کہیں بھاگ گیا۔
اچھا آپ اس وقت کہاں جا رہی ہیں اور کس کے ساتھ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ نوید کے پوچھنے پر بتول مسکرانے لگی
تمہارے ساتھ جا رہی ہوں اور مولوی صاحب کے پاس نکاح کرنے کے لیے بتول کی بات پر نوید کو لگا وہ کوئی خواب دیکھ رہا ہے ۔
بی بی آپ کو احساس ہے کہ آپ کیا بولتی جا رہی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
تم نے خود ہی کہا تھا کہ جب سارے زمانے کے سامنے کہہ سکیں تب آنا میں آپ کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑے ہوں گا _
بتول نے نوید کو اس کی بات یاد دلائیں
مگر اس کے لئے گھر سے بھاگنے کی کیا ضرورت ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ہم اس مسئلے کا کوئی بہتر حل نکال سکتے ہیں
آنکھوں میں تم سے شادی کرنا چاہتی ہوں۔ تم مجھے بہت اچھے لگتے ہو اور بڑی سرکار میری شادی زبردست یوشع سے کرانا چاہتی ہیں (بتول کی بات پر نوید کو صبح یوشع کی گفتگو یاد آگئی)
بہت معذرت مگر میں ایسا کچھ نہیں کروں گا
میں کسی بیوقوفی میں آپ کا ساتھ نہیں دوں گا۔
اس لئے نہیں کہ مجھے ڈر لگتا ہے بلکہ اس لئے کہ آپ کا خیال ہے نوید نے معذرت کی
اچھا ٹھیک ہے پھر میرے اور تمہارے راستے آج سے جدا ہیں میں سمجھوں گی کہ میں نے ایک “نامرد” سے محبت کی تھی
بتول نے اسے غصہ دلایا مگر بے سود
بتول نے نفرت اور دکھ سے آنکھوں میں لائے آنسو بے دردی سے صاف کیے اور ڈیرے سے باہر جانے لگی تبھی نوید ان کے آگے کھڑا ہوگیا ۔
دیکھیے بی بی آپ اور یوشع سائیں کی شادی میں اللہ کی طرف سے کوئی بھلائی ہوگی آپ جذباتی نہ ہوں۔
میں آپ کے قابل نہیں ہوں ۔آپ سمجھتی کیوں نہیں ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ نوید میں ایک بار پھر سمجھانے کی کوشش کی
چاہتی ہوں کہ میری طرح کا نقصاں ہو تجھے
اور پھر میں بھی کہوں “اس میں بھلائی ہوگی”
بتول نے دل میں سوچتے ہوئے نوید کے چہرے کی طرف دیکھا
آپ یہاں سے باہر نہیں جاسکتیں۔ میں حویلی کی عزت کو اس طرح برباد ہوتا نہیں دیکھ سکتا۔
بہت معذرت مگر آپ واپس لوٹ جائیں ۔مجھے سختی پر مجبور مت کریں ۔نوید کے راستہ روکنے پر بتول کو غصہ آگیا ۔
نوید میرے آگے سے ہٹ جاؤ _ بتول نے تقریبا چیختے ہوئے کہا
تو نوید نے نہ چاہتے ہوئے بھی بتول کے منہ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔
آپ کیوں اپنا تماشا بنانے پر تلی ہوئی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ نوید نے آہستگی سے بتول کے منہ سے ہاتھ آیا اور نظریں جھکا لیں
میں اس گستاخی پر معذرت خواہ ہوں نوید نے ایک نظر اپنے ہاتھ کی طرف دیکھا
اچھا میں کچھ کرتا ہوں آپ ادھر بیٹھیں نوید نے موبائل پر میسج کرتے ہوئے بتول کو چارپائی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا
اور ڈیرے میں ادھر ادھر چکر کاٹنے لگا جبکہ بتول ابھی بھی اپنے منہ سے اس کا لمس محسوس کر رہی تھی
پانچ منٹ بھی نہیں گزرے ہوں گے کہ یوشع سلیپنگ ڈریس پہنے ڈیرے میں داخل ہوا
یوں اچانک یوشع کو ڈیرے پر دیکھ کر بتول نے نوید کی طرف دیکھا جو گردن جھکا گیا مطلب صاف تھا کہ “یہ کام اس کا ہے”۔
چٹاخ
اس سے پہلے کہ یوشع بتول تک پہنچتا بتول نے پوری طاقت سے نوید کے گال پر تھپڑ مارا
تھپڑ کی آواز پورے ڈیرے میں گونجیجبکہ یوشع بتول کو اپنے ساتھ گھسیٹتا ہوا حویلی کی جانب لے گیا
میں آپ سے بہت شرمندہ ہوں مگر آپ کی بہتری کے لیے یہ بہت ضروری تھا آپ بہت معصوم ہیں اور بےوقوف بھی نوید نے اپنی گال پر ہاتھ رکھتے ہوئی آسمان کی طرف دیکھا
“زندگی دو دلوں کی کہانی ہے اور کبھی کبھی __
وہ دل کبھی نہیں مل پاتے”
🪄🪄🪄🪄🪄
جاری ہے