Do Dil By Amna Mehmood Readelle50150 Last Episode (Pt 1)
Rate this Novel
Last Episode (Pt 1)
پولنگ بوتھ پر اس وقت بہت رش لگی ہوئی تھی ۔نوید کی ڈیوٹی خاص طور پر یوشع نے پولنگ بوتھ پر اس لیے لگا رکھی تھی کہ اسے پل پل کی خبر ملتی رہے ابھی بھی وہ اسے ہی فون کرنے لگا تھا کے امثال کو کمرے میں داخل ہوتا دیکھ کر رکا ۔
اب تمہیں کیا ہوا ہے ۔ تم نے کیوں منہ لٹکا رکھا ہے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع کے پوچھنے پر امثال چپ چاپ بیڈ پر بیٹھ گئی۔
امثال کے یوں بیٹھنے پر یوشع نے اس کے آگے چٹکی بجائی۔
آپ نے کہا تھا اگر مجھے بڑی سرکار کچھ کہیں تو میں آپ کو “گالیاں” نکال سکتی ہوں ۔۔۔۔؟؟؟ امثال کے سوال پر یوشع کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا
ہاں کہا تو تھا _ یوشع نے تحمل سے جواب دیا مجھے آج پھر بڑی سرکار نے بہت بےعزت کیا ہے اور اب مجھے ان پر شرید غصہ آ رہا ہے ۔ میں نے بھی ویسی ہی گالیاں نکالنی ہیں جیسی انہوں نے مجھے نکالی تھیں۔ امثال نے ضدی لہجے میں فرمائش کی۔ امثال کیا تم واقعی ہی مجھے گالیاں نکالو گی ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع نے شہادت والی انگلی اپنے سینے پر رکھتے ہوئے پوچھا ہاں تو آپ نے خود ہی بولا تھا امثال کے جواب پر یوشع عش عش کر اٹھا
ویسے اگر بندہ جذبات میں آ کر کچھ ایسا ویسا بول ہی دے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ تم اس پر عمل کرنے بیٹھ جاؤ ۔
تم اپنا غصہ کسی اور طریقے سے بھی نکال سکتی ہو _ یوشع نے اس کا لال سرخ چہرہ دیکھتے ہوئے تجویز دی۔ مثلاً ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ امثال نے پوچھا مثلاً ووٹ ڈال کر مجھے جتا کر _ یوشع کی تجویز پر امثال نے اسے تمسخر سے دیکھا میں نے بھی یہی کہا تھا کہ ہم سب جاکر ووٹ ڈالتے ہیں مگر بڑی سرکار نے کہا کہ اس حویلی کی عورتیں یو باہر جاکر ووٹ نہیں ڈالتیں. اسی بات پر تو میں نے اپنی بےعزتی کروائی ہے ۔۔۔۔۔۔ امثال نے منہ بنایا۔ اچھااااا مگر اس میں منہ بنانے والی کیا بات ہے ۔۔۔۔۔؟
میرے خیال سے تمہیں تو اس جواب پر خوش ہونا چاہیے تھا یوشع نے اسے محبت سے چھوا
خوشی کس بات پر _ میرے تکرار کرنے پر انہوں نے مجھے گالیاں نکالیں ہیں ۔امثال نے یوشع کا ہاتھ غصے سے پیچھے کیا
انہوں نے تمہیں حویلی کی عورتوں میں شامل کیا ہے یہ بات خوشی کی نہیں تو اور کیا ہے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
دیکھو امثال اگر گلاس آدھا پانی سے بھرا ہے تو ہمیں اس بات پر خوش ہونا چاہیے کے گلاس میں پانی ہے ۔ نہ کہ جو آدھا گلاس خالی ہے اس پر دکھ کریں یوشع نے ہمیشہ کی طرح لفظوں کا جال بنا۔
آپ یہ کتابی باتیں میرے ساتھ نہ کیا کریں امثال نے شکل بنائی۔
تو پھر کیا کیا کروں ۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع نے آبرو اچکا کر پوچھا
میں نے ووٹ ڈالنے جانا ہے ۔میں نے کبھی ووٹ نہیں ڈالا امثال نے ضد کی۔
ہممممم اچھا میں بڑی سرکار سے پوچھتا ہوں۔ یوشع نے کچھ سوچتے ہوئے کہا
وہ تو صاف منع کر دیں گئیں۔ امثال کو سخت مایوسی ہوئی
اچھا کرتا ہوں کچھ یوشع کہتا ہوا کمرے سے باہر جانے لگا
اگر میرے ووٹ کے بغیر جیتے تو میں کبھی آپ کو معاف نہیں کروں گی یوشع نے امثال کی اس عجیب وغریب دھمکی پر اسے پلٹ کر دیکھا
ہاں نااااا یہ کیا بات ہوئی ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
لوگوں کے ووٹ حاصل کرنے کے لیے آپ نے گھر گھر جا کر انہیں کہا اور جو ووٹ گھر میں تڑپ رہے ہیں ان کی کوئی ویلیو ہو نہیں امثال کہتی ہوئی بیڈ پر آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئی۔
اچھا چلو اپنی چادر لے کر نیچے آؤ یوشع کو اس وقت امثال پر ٹوٹ کر پیار آیا۔ وہ اسے ناراض نہیں دیکھ سکتا تھا۔جب کہ امثال خوشی خوشی الماری سے اپنی چادر نکالنے لگی ۔
میرا شہزادہ بس ابھی تھوڑی دیر میں “ایم این اے” بن جائے گا ۔ پھر ہر ٹی وی چینل پر تیرا ہی انٹرویو چل رہا ہوگا۔
ایم این اے تو کوئی بھی بن سکتا ہے ۔ مگر اتنا خوبصورت ، پڑھا لکھا اور خاندانی ایم این اے شاید ہی کوئی ہو ۔
یوشع نے جیسے ہی بڑی سرکار کے کمرے میں قدم رکھا انہوں نے اسے دیکھ کر خوشی سے کہا
آپ کا یہ خوبصورت ، پڑھا لکھا اور خاندانی ایم این اے آپ کے ووٹ کے بغیر نہیں بن سکتا ۔
میرا ایمان ہے کہ اگر آپ نے ووٹ ڈالا تو میں ہار جاؤں گا یوشع کی بات پر بڑی سرکار کچھ پریشان نہیں ہوگی
یوشع ہماری حویلی کی عورتیں یوں عوامی جگہ پر نہیں جایا کرتیں بڑی سرکار کے جواب پر یوشع نے انہیں گھورا
مطلب آپ مجھے ووٹ نہیں دیں گی ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع نے ناراضگی سے پوچھا
مگر میں اکیلی بڑی سرکار نے سوچتے ہوئے یوشع کو دیکھا
آپ ایسا کریں اماں سائیں اور امثال کو بھی ساتھ لے لیں۔ آخر ملکہ باہر نکلے گی تو اس کی خادمیں بھی ساتھ ہونی چاہیے یوشع کیا جواب پر بڑی سرکار ہسنے لگیں۔
مجھے تیری یہی باتیں اچھی لگتی ہیں کہ تم میرے “مرتبے” اور “رتبے” کا ہمیشہ خاص خیال رکھتا ہے۔
چل بلا اپنی ماں اور اس نکمی کو بڑی سرکار کی اجازت پر یوشع نے نوکرانی کو اشارہ کیا
🪄🪄🪄🪄🪄🪄
ماما دیکھیں بھائی جیت گئے ہیں عکاشہ نیوز چینل پر چلتی خبر دیکھ کر چلایا۔
مجھے تو پہلے ہی یقین تھا کہ یوشع جیت جائے گا ۔ ہائے کتنا پیارا لگ رہا ہے عدن نے ٹی وی پر نظر آتی یوشع کی تصویر کو دیکھتے ہوئے کہا
چلو جی حد ہو گئی ۔ یہ تصویر تو بہت پرانی ہے۔ جو آپ آگے بھی کئی دفعہ دیکھ چکی ہیں عدن کے تبصرے پر عکاشہ نے وضاحت کی۔
ابھی کچھ دیر میں وہ بھائی کا لائیو انٹرویو کریں گے۔ پھر صدقے واری جانا عکاشہ نے عدن کو تازہ صورت حال سے آگاہ کیا ۔ اتنی دیر میں یوشع کے گاؤں کا منظر ٹی وی والے دکھانے لگے جہاں اس وقت جشن کا سماں تھا ۔
ناظرین آپ دیکھ سکتے ہیں کہ کس طرح یہاں کے لوگ اپنے سردار کے جیتنے پر خوشی کا اظہار کر رہے ہیں ۔اس وقت اس جھوٹے سے گاؤں میں عید کا سماں ہے ۔ نیوز اینکر مسلسل گاؤں کی گہماگہمی پر تبصرہ کر رہے تھے ۔
آئیے اب ہم آپ کو جوان اعلی تعلیم یافتہ اور آج کے کامیاب ایم این اے سردار یوشع حیدر آفندی سے ملواتے ہیں۔
جیسے ہی کیمرے کی آنکھ نے یوشع کے چہرے کا احاطہ کیا اس کا چمکتا دمکتا چہرہ ٹی وی سکرین کی زینت بنا
آپ کیسا محسوس کر رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ اینکر نے سوال کیا
ظاہر سی بات ہے کوئی بھی انسان اپنی کامیابی پر خوش ہی ہوتا ہے اور میں بھی ابھی بہت خوش ہوں ۔
اپنے روایتی لباس میں ملبوس سنجیدہ سا یوشع آج بےحد خوش نظر آ رہا تھا
آپ اپنی کامیابی کو کس کے نام کرتے ہیں ۔۔۔۔۔؟؟؟ کمپیئر کے سوال پر عدن نے چونک کر سکرین کی طرف دیکھا
میری تمام کامیابیوں کے پیچھے “ماں” کا ہاتھ ہے یوشع کا جواب عدن کو سرشار کر گیا۔
آپ زیادہ خوش نہ ہوں وہ بڑی سرکار کی بات کر رہے ہیں عکاشہ نے عدن کے چہرے کو دیکھتے ہوئے طنز سے کہا
اس نے لفظ “ماں” استعمال کیا ہے جو میں بھی ہوں عدن اب پورے انہماک سے اس کا انٹرویو سننے لگیں تھیں۔
یوشع نے رسمی سوالوں کے جوابات دیتے ہیں حویلی کا رخ کیا ۔جسے جیتنے کی خوشی میں دلہن کی طرح سجایا گیا تھا ہر طرف رنگ برنگے کھانے پک رہے تھے۔
حیدر آفندی نے یوشع کو دیکھتے ہی اپنے سینے سے لگایا
تم نے آج کمال ہی کردیا ہے حیدر آفندی کی خوشی ان کے چہرے سے عیاں تھی
یوشع باپ کو ملنے کے بعد حویلی کے اندرونی حصے میں داخل ہوا تو اس کا استقبال بڑی سرکار اور راشدہ بیگم نے کیا
یوشع نے راشدہ بیگم کو اپنے ساتھ لگاتے ہوئے سرگوشی کی.
یہ کامیابی آپ کے نام اماں سائیں اور بڑی سرکار کی طرف بڑھ گیا. یوشع نے احترام اور محبت سے ان کے پاؤں چھوئے.
تم نے میرا نام کیوں نہیں لیا جبکہ تمہاری ہر کامیابی کا سہرہ ہمارے سر ہے….. ؟؟؟
باوجود انتہائی خوشی کے بڑی سرکار نے گلہ کیا.
کیا آپ میری ماں نہیں ہیں….؟؟ ؟
میں تو آپ کو اپنی “ماں” سمجھتا ہوں اور آپ کے نام ہی اپنی کامیابی کی ہے یوشع کے سوال پر بڑی سرکار خوش ہو گئیں.
تو اب سچ مچ کا سیاستدان بن گیا ہے ان کے مصنوعی پر یوشع نے ہنستے ہوئے انھیں اپنے ساتھ لگا لیا.
بڑی سرکار کے اشارے پر ملازمہ نے مٹھائی سے بھری پلیٹ ان کے آگے کی تو یوشع نے بڑی سرکار کا منہ میٹھا کروانے کے بعد راشدہ بیگم کو بھی اپنے ہاتھوں سے مٹھائی کھلائی.
ان دونوں کو مٹھائی کھلاتے ہوئے اسے امثال کا خیال آیا جو یہاں موجود نہ تھی. اس کا خیال آتے ہی یوشع ہاتھ میں برفی کی ٹکری لے کر سیڑھیاں چڑھنے لگا.
کمرے کا دروازہ احتیاط سے کھولا مگر آگے خالی کمرہ اس کا منہ چڑھا رہا تھا لہذا احتیاط بیکار گئی.
یوشع نے مایوسی سے خالی کمرے کو دیکھا پھر ڈریسنگ روم، روش روم اور آخر میں ٹیرس کا رخ کیا.
جہاں امثال بڑی دلچسپی سے نیچے ہوتے ہنگامے دیکھ رہی تھی. کبھی وہ اس حویلی کو دور سے دیکھ کر ترسا کرتی تھی اور آج امثال بہت خوشی سے حویلی کی رونقیں دیکھ رہی تھی کہ اسے اپنے قریب ایک خوشبو کا احساس ہوا.
اس سے پہلے کہ وہ مڑتی یوشع نے جلدی سے برفی اس کے منہ میں ڈالی.
تمہیں میرے جیتنے کی خوشی نہیں ہوئی. تم کیوں نیچے میرا انتظار نہیں کر رہی تھی…..؟، ؟
میں نے تمہاری غیر موجودگی کو بہت محسوس کیا ہے. یوشع نے اس کا رخ اپنی طرف کرتے ہوئے پوچھا
آپ میرا نام بھی تو لے سکتے تھے آخر میری وجہ سے ہی تو آپ جیتے ہیں اگر میں ووٹ نہ ڈالتی تو ہار جاتے نااااا ؟؟؟ امثال نے یاد دلایا.
ہاں تو میں نے بھی تمہارا نام ہی لیا ہے یوشع کے جواب پر امثال نے اسے حیرت سے دیکھا
آپ نے اپنی کامیابی ماں کے نام کی ہے بیوی کے نہیں امثال نے دہرایا.
میں نے “اپنی ماں” کا لفظ استعمال نہیں کیا صرف “ماں” کا کیا ہے اور تم میرے بچوں کی “ماں” ہو گی یوشع کے جواب پر امثال نے سر نفی میں ہلایا. نیچے بھی سب کو اسی طرح کا “چُونا” لگایا ہو گا…..؟؟ امثال کے جواب پر یوشع کا قہقہ گونجا تم مجھے جاننے لگی ہو یوشع کہتا ہوا ریلنگ ساتھ ٹیک لگا کر کھڑا ہو گیا.
تم میری بیوی ہو اور تمہارا حق نہیں بنتا کہ مجھ پر شک کرو…..؟؟ یوشع نے نیچے نظر مارتے ہوئے کہا
میں نے تو “شک” کیا ہی نہیں _ مجھے تو “یقین” ہے کہ آپ نے لفظ “ماں” کا بھرپور فائدہ اٹھایا ہے. امثال کا جواب یوشع کو لاجواب کر گیا دونوں کے درمیان ایک ذومعنی خاموشی چھا گئی. یوشع ساتھ نیچے لان میں رنگ برنگے برقی قمقموں کو دیکھنا امثال کو بہت اچھا لگ رہا تھا. مگر یوشع کے موبائل فون کی گھنٹی نے دونوں کو ایک دوسرے کے سحر سے نکالا یوشع سکرین پر چھوٹی ماما کا نام جگمگاتا دیکھ کر مسکرایا. اب انھیں بھی لفظ “ماں” کا چونا لگانا امثال کہتی ہوئی کمرے میں چلی گئی جبکہ یوشع ان سے مبارک باد اور دعائیں لینے لگا.
🪄🪄🪄🪄🪄
میں آج بہت خوش ہوں. حیدر آفندی نے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے با آواز بلند کہا شاید آج پہلی بار ایسا ہوا تھا کہ حیدر آفندی نے راشدہ بیگم کو خود سے مخاطب کیا تھا
آپ کو بیٹے کے جیتنے کی بہت خوشی ہے نااااا راشدہ بیگم نے بستر ٹھیک کرتے ہوئے نارمل سے انداز میں پوچھا تمہیں نہیں ہے کیا تمہارا بھی تو بیٹا ہے ……؟ ؟؟ حیدر آفندی نے حیرت سے پوچھا نہ وہ میرا بیٹا ہے اور نہ ہی مجھے آپ جیسی خوشی محسوس ہو رہی ہے آگے بھی مجھ سے دور تھا. اب اور بھی ہو جائے گا. راشدہ بیگم کہہ کر پلٹنے لگیں کہ حیدر آفندی نے انھیں روکا یہ کیسی باتیں کر رہی ہو….. ؟؟ سہی کہہ رہی ہوں. وہ یا تو آپ کا بیٹا ہے یا بڑی سرکار کا یا پھر راشدہ بیگم کی تیسری آپشن حیدر آفندی بخوبی سمجھتے تھے.
راشدہ تم کیوں خود کمپلیکس میں مبتلا کر رہی ہو… ؟؟
ایسا کچھ نہیں ہے وہ تم سے بہت محبت کرتا ہے اور میں اس بات کا گواہ ہوں _ حیدر آفندی کو راشدہ بیگم کی سوچ پر دکھ ہوا. اور آپ کیا آپ بھی محبت کرتے ہیں….؟؟ راشدہ بیگم کے سوال پر حیدر آفندی اپنی نظروں کا زاویہ بدل گئے
جو باتیں ہم دونوں کے درمیان پہلے سے طے ہیں ان کو میرے خیال سے دہرانے کی ضرورت نہیں.
مگر باحثیت بیوی میں کبھی نہیں چاہو گا کہ تم احساس کمتری کا شکار ہو. اس حویلی اور یوشع پر تمہارا پورا حق ہے. بلکہ بڑی سرکار کے بعد تم ہی اس سب کی مالک ہو.
میں نے ہمیشہ تمہاری عزت اور احترام کا خیال رکھا یے. باقی سمجھوتے کی شادیاں ایسی ہی ہوتیں ہیں _ حیدر آفندی نے بات ختم کی تو راشدہ بیگم چپ چاپ کمرے سے باہر نکل گئیں. تم سے محبت کرنا میرے بس کی بات نہیں تھی مگر میں نے کبھی تمہارے حقوق میں کوئی کوتاہی نہیں کی ہے حیدر آفنندی ابھی راشدہ بیگم کے بارے میں ہی سوچ رہے تھے کہ ان کا فون بجا اور بند ہو گیا ۔ انہیں مس کال صرف ایک ہی نمبر سے آتی تھی ۔
کیسی ہو ۔۔۔۔۔؟؟؟ حیدر آفندی نے فورا کال بیک کرتے ہوئے پوچھا
حیدر آپ کو بہت مبارک ہو۔ عدن نے خوشی سے مبارکباد دی ۔
شکریہ حیدرآفندی کے لہجے میں عجیب سی اداسی تھی جسے فورا عدن نے محسوس کیا کیا ہوا آپ کیوں اداس ہے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ میں تو سوچ رہی تھی کہ آپ بہت خوش ہوں گے عدن کے پوچھنے پر وہ مسکرانے لگے
مجھے کوئی خوش رہنے ہی نہیں دیتا تو میں کیا کروں ۔۔۔۔۔؟؟؟
عدن میں ہار گیا ہوں تم دونوں کے درمیان پنڈولیم کی طرح جھولتے ہوئے ۔ حیدر آفندی کا جواب عدن کو بھی سنجیدہ کر گیا
راشدہ نے آپ سے کچھ کہا ہے ۔۔۔۔۔؟؟؟ عدن نے آہستہ سے پوچھا
وہ صرف ایک ہی بات کہتی ہے جب کہ وہ اس کا جواب خود بھی اچھی طرح جانتی ہے ۔
خیر آپ ان باتوں کوچھوڑیں اور یہ بتائیں کہ عکاشہ کی تاریخ لینے کب جانا ہے ۔۔۔۔۔؟؟حیدر آفندی نے موضوع بدلا
جب اس کے بابا اور بھائی آئیں گے اور ہاں اس دفعہ میری بہو کو بھی ساتھ لانا آگے ہی مجھے آپ نے شادی میں شرکت نہیں کرنے دی۔ عدن نے گلہ کیا
آپ سب جانتی تو ہیں۔ میں بڑی سرکار کو مزید دکھ نہیں دے سکتا۔ آگے ہی وہ مجھے نا فرمان بیٹا سمجھتی ہیں۔ حیدر نے بے بسی سے جواب دیا
آپ ایک دم سیریس نہ ہو جایا کریں میں نے مذاق کیا تھا ۔بس جلدی سے چکر لگائیں ویسے بھی یوشع نے حلف اٹھا نے تو آنا ہی ہے ۔عدن کی بات پر حیدر نے حامی بھر لی۔
🪄🪄🪄🪄🪄
بھائی یاررررر جلدی سے آ جاؤ مجھے بھی پارلیمنٹ دیکھنے کا بہت شوق ہے ۔ میں نے بھی آپ کی حلف برداری میں شرکت کرنی ہے عکاشہ کی فرمائش پر یوشع مسکرایا تیرے سوا میں اور کس کو ساتھ لے کر جاؤں گا ایک ہی تو میرا بھائی ہے یوشع کے جواب پر عکاشہ دل سے خوش ہوا
ویسے خاصی اچھی بات ہے۔ آپ کے بقول آپ کی تین مائیں ہیں۔ اور بھائی صرف ایک عکاشہ کے سوال پر یوشع نے قہقہ لگایا
اب اس بارے میں تو میں کچھ کر نہیں سکتا مگر تجھے چاچو کہنے والے زیادہ ہوں گے یہ وعدہ ہے یوشع کا جواب عکاشہ کو حیران کر گیا
کیا یہ ایک سیاسی وعدہ ہے ۔۔۔۔۔؟؟؟ عکاشہ آبرو اچکائی۔
نہیں فی الحال تو یہ ایک بھائی کا وعدہ ہے یوشع مستقل خوشگوار موڈ میں تھا
پھر کب آرہے ہیں ۔۔۔۔۔؟؟؟ عکاشہ نے پوچھا
میں بابا اورامثال کچھ دنوں تک شہر آ رہے ہیں۔ یوشع نے اپنا پروگرام بتایا
اس دفعہ آپ اپنے کام کے ساتھ ساتھ میرا بھی ایک کام کریں گے ۔عکاشہ نے قدر سنجیدہ لہجے میں کہا
ہاں وہ بھی تو کرنا ہے یوشع نے شادی کی طرف اشارہ کیا
نہیں وہ تو ہو ہی جائے گا ۔ مجھے کچھ اور کام بھی ہے “ماں” کے بارے میں عکاشہ کے جواب پر یوشع مکمل سنجیدہ ہوگیا ۔
کیا کام ہے ۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع نے اب کی بار مکمل سنجیدگی سے پوچھا
مجھے ان کی آنکھوں میں ہمیشہ یہ حسرت نظر آتی ہے کہ انہیں حویلی میں ان کا مقام ملے اور وہ مقام آپ انہیں دلائیں گے یوشع کو عکاشہ سے اتنی سنجیدگی کی امید نہ تھی۔
میں ابھی تک حویلی میں اپنی بیوی کو اس کا مقام نہیں دلا سکا تو چھوٹی ماما کو کیسے دلا سکتا ہوں۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع کا جواب عکاشہ کو خاموش کر گیا ۔
دیکھو عکاشہ یہ حویلی اور اس کے مکین فلحال بڑی سرکار کے اشاروں پر چلتے ہیں ۔
وہ ایک کمزور اور بوڑھی عورت ہیں۔ میں یا بابا جب چاہیں انہیں ایک سائیڈ پر کر سکتے ہیں ۔ مگر ہمارا مذہب ، ضمیر اور معاشرتی اقتدار ہمیں اس سب کی اجازت نہیں دیتے ۔
ان کو مان ہے کہ ان کے آگے کوئی نہیں بول سکتا ۔وہ جو بھی کہیں گی وہی ہوگا ۔ تو کیا فرق پڑتا ہے اگر ہم ان کا مان رکھ لیتے ہیں۔۔۔۔۔۔؟؟؟
اگر تمہیں یہ دکھ ہے کہ چھوٹی ماما کو حویلی میں ان کا مقام نہیں ملا تو میرے بھائی مجھے بھی اس بات کا دکھ ہے کہ میری ماں کو بابا کے دل میں وہ مقام نہیں ملا جو چھوٹی ماما کا ہے ۔
لیکن میں نے اس بنا پر کبھی چھوٹی ماما سے نفرت نہیں کی کہ انہوں نے میری ماں کے حق پر ڈاکہ ڈالا ہے ۔
بڑوں کو ان کے حال پر چھوڑ دینا چاہیے وہ جو کرتے ہیں انہیں خود بھی بھگتنا پڑتا ہے ۔
کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ہر کسی کی زندگی میں محرومیاں ہوتی ہیں۔ ہماری زندگی مکمل نہیں ہوسکتی ۔یہ قدرت کا قانون ہے۔
جب تک بڑی سرکار زندہ ہیں تب تک تو میں اس بارے میں کچھ نہیں کر سکتا مگر جب وہ نہ رہی تب میں وعدہ کرتا ہوں اگر میں زندہ رہا تو چھوٹی ماما کو اس حویلی میں خود لاؤں گا ۔
یوشع کا جواب عکاشہ نے مکمل خاموشی سے سنا ۔ اتنی خاموشی سے کہ یوشع کو شک ہوا کہیں وہ چلا تو نہیں گیا۔
عکاشہ تم سن رہے ہو ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع کے پکارنے پر وہ ہنکار بھر گیا ۔
اداس مت ہو وقت کے ساتھ ساتھ سب خودبخود ٹھیک ہوجاتا ہے۔ یوشع نے تسلی دی
آپ کی زندگی تو مکمل ہے ہر اعتبار سے آپ کو کیا فرق پڑتا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عکاشہ نے ماں کے دکھ میں یوشع کو بول تو دیا مگر پھر خود ہی اسے اپنی جلد بازی کا احساس ہوا
میری زندگی میں بھی دکھ ہیں۔ چلو کچھ شیئر کرتا ہوں ۔اس لیے نہیں کہ تم مجھ سے ہمدردی کرو بلکہ اس لیے کہ تمہیں اندازہ ہو میں کوئی آسمان سے نہیں اترا ہوا ۔
بڑی سرکار مجھ سے یہ امید رکھے ہوئے ہیں کہ میں ایم این اے بننے کے بعد امثال کو طلاق دے دوں گا جو کہ میرے لیے ناممکن ہے مگر بڑی سرکار کی بات ٹالنا میرے بس کی بات نہیں ۔
اماں سائیں سمجھتی ہیں کہ میں بڑی سرکار اور بابا کا بیٹا ہوں۔ مجھے ان سے محبت ہی نہیں ہے ۔جب کہ میں ہمیشہ ان کے لئے بابا اور بڑی سرکار سے بات کرتا رہا ہوں اسی لیے حویلی چھوڑ کر بھی کہیں نہیں جاتا کہ کوئی ان ساتھ برا سلوک یا زیادتی نہ کرے ۔
امثال سمجھتی ہے کہ وہ غریب ہے تو میں نے اس کے ساتھ زبردستی کی ہے اپنی ضد اور انا میں آ کر _ وہ مانتی ہی نہیں کہ مجھے اس سے محبت ہے ۔۔۔۔۔؟؟؟ مجھے یہ تینوں عورتیں بے حد عزیز ہیں اور یہ تینوں عورتیں ہی آپس میں ایک دوسرے کو پسند نہیں کرتیں۔ اور میرا اکلوتا بھائی یہ سمجھتا ہے کہ میں اس کی ماں جو مجھے بھی اپنی ماں جیسی لگتی ہے اس کو اس کا مقام جان بوجھ کر نہیں دلا رہا ۔ ان سب رشتوں میں جو مجھ سے محبت کے دعویدار بھی ہیں میں بالکل اکیلا ہوں یوشع کے دکھ اور سنجیدہ لہجے پر عکاشہ کو شدید شرمندگی ہوئی ۔
آپ نے اپنے دکھ تو بتا دیئے کبھی مجھ سے پوچھا ہے کہ مجھے آج کل کس بات کا دکھ ہے ۔۔۔۔؟؟ عکاشہ نے بھی اتنی ہی سنجیدگی سے سوال کیا
تمہیں کس بات کا دکھ ہے ۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع واقعی ہی حیران تھا
مجھے اس بات کا بہت دکھ ہے کہ میری شادی دیر سے ہو رہی ہے اور آپ اس دیر کی وجہ ہیں کیونکہ ماما اپنے بڑے بیٹے کے بغیر چھوٹے کی شادی کر ہی نہیں سکتیں ۔۔۔۔؟؟؟ عکاشہ نے ماحول کو اداسی سے نکالنا چاہا
شادی کے بعد بھی بہت سارے مسائل ہوتے ہیں ۔ شکر کرو تمہیں وہ سب نہیں دیکھنا پڑیں گے تم اس معاملے میں مجھ سے زیادہ خوش قسمت ہو_ یوشع کو اپنی شادی یاد آگئی۔ ہائے مس موسلادھار کو آپ نہیں جانتے۔ عکاشہ نے سرد آہ بھری اسے تو نہیں مگر تمہیں تو جانتا ہوں یوشع نے قہقہہ لگایا
بھائی یار یہ غلط بات ہے اپنے بندے کا ساتھ دیں مخالف پارٹی کو چھوڑیں۔ آگے ہی ماما اس کا ساتھ ایسے دیتی ہیں جیسے میں ان کا داماد ہوں اور وہ بیٹی ہو۔عُکاشہ نے شکایت لگائی۔
میں امثال کو اسی لیے ساتھ لا رہا ہوں تاکہ اس وہ عدن ماما کو دیکھیے۔ میری ذاتی خواہش ہے کہ اس میں عدن ماما جیسی صفات پیدا ہوجائیں۔ یوشع نے حسرت کی
اور میری ذاتی خواہش یہ ہے کہ ماہم میں مجھ جیسی صفات پیدا ہو جائیں۔ آخر میں نے اسے اپنا خون دیا ہے۔ عکاشہ کی بات پر یوشع نے بے ساختہ قہقہ لگایا اور ہنستا ہی چلا گیا
🪄🪄🪄🪄🪄
