Do Dil By Amna Mehmood Readelle50150 Episode 16
Rate this Novel
Episode 16
بتول کا دل آج بہت خوش تھا یہ احساس ہی بہت خاص ہوتا ہے کہ جسے آپ اپنے ساتھ دیکھنا چاہیں وہ ہمیشہ کے لئے آپ کا ساتھی بن جائے ۔
اپنے خیالوں میں گم مستقبل کے خواب بننے میں مصروف بتول کو پتہ ہی نہیں چلا کہ کب حیدر آفندی اسے لان میں بیٹھا دیکھ کر اس کے پاس چلے آئے ۔
بیٹا سائیں اتنی سردی ہو رہی ہے اور آپ یوں باہر بیٹھی ہیں خیریت ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حیدر آفندی نے پیار سے بتول کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا
چچا سائیں آپ یوں اچانک _ مجھے آپ کے آنے کا علم ہی نہیں ہوا بتول کچھ شرمندہ ہوئی ۔
کوئی بات نہیں میں سمجھ سکتا ہوں کہ آپ آج کل کس ذہنی اذیت سے گزر رہی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
حیدرآفندی کی بات پر بتول کو شدید حیرت ہوئی وہ تو آج کل جتنا خوش تھی کبھی پہلے نہیں رہی پھر چچا سائیں کس ذہنی اذیت کی بات کر رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
یوشع یا عکاشہ میرے لئے دونوں ہی ایک جیسے ہیں ۔یوشع کو بہت سارے لوگوں کا پیار بچپن سے ملا ہے ۔مگر عکاشہ نے صرف اپنی ماں کی محبت دیکھی ہے۔ میں چاہتا ہوں تمہاری شادی اس سے ہو جائے۔
عدن بہت ہی نفیس اور اچھی طبیعت کی خاتون ہے ۔یقین جانو اس میں روایتی عورتوں والی کوئی بات نہیں عدن کے ذکر پر حیدر آفندی کے چہرے پر عجیب سی چمک تھی جسے بتول نے واضح محسوس کیا چچا سائیں آج ایک بات پوچھوں اگر آپ برا نہ منائیں تو مجھے بے انتہا خوشی ہوگی ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ بتول کے ذہن میں اچانک ایک سوال آیا
پوچھو بیٹا سائیں میں تمہیں ضرور جواب دوں گا۔ ویسے بھی اب تم اس گھر میں مہمان ہو۔حیدر آفندی خلاف معمول آج بہت خوشگوار موڈ میں تھے ۔
آپ کو عدن آنٹی کہاں اور کیسے ملی تھی ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ بتول کے سوال پر وہ مسکرا دیئے
بیٹا سائیں یہ تو بہت ہی پرانی بات ہے یاد کرنا پڑے گی _ ان کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی۔ مگر آپ کی مسکراہٹ دیکھ کر تو نہیں لگتا کہ آپ کو یہ بات یاد کرنا پڑے گی بتول کی بات پر وہ مزید اپنی مسکراہٹ چھپا نہ سکے اور کھل کر ہنس پڑے
ہاں یہ الگ بات ہے کہ آپ مجھے بتانا نہیں چاہتے۔ چلیں کوئی بات نہیں بتول کی اداسی پر انہوں نے اسے پیار سے اپنے ساتھ لگایا
میں اور عدن پہلی بات لندن کے ایک پارک میں ملے تھے ۔وہ اپنی “سکالرشپ” پر وہاں “پی – ایچ – ڈی” کرنے گئی تھی اور میں حیدرآفندی نے اپنے سینے پر انگلی رکھی
اور میں سدا کا نالائق گھومنے پھرنے یعنی سیر کرنے گیا تھا وہ پارک میں بہت اداس بیٹھی تھی اس کے پیسے اور ڈاکومنٹ گم گئے تھے ۔حیدر آفندی اپنے ماضی کے دریچے کھول رہے تھے جس پر انہوں نے کبھی بھی گرد پڑنے نہیں دی تھی
پھر ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ بتول کو بہت اچھا لگ رہا تھا کیونکہ وہ بھی اسی کشتی کی مسافر تھی جس کشتی کے حیدر آفندی ملاح تھے ۔
پھر میں نے اس کی مدد کی۔ اس کی رہائش کا بندوبست کیا۔ اس کے ڈاکومنٹس بنوا کر دیے۔ وہ میری بہت شکر گزار تھی۔
وہ اکثر مجھے اپنے کام کے وقت یاد کرتی اور میں دوڑا چلا جاتا ۔مجھے اس کی مدد کرنا اچھا لگتا تھا ۔ ہم دونوں ایک دوسرے کو پسند کرنے لگے ۔کسی نہ کسی بہانے ایک دوسرے سے ملتے ۔
حیدر آفندی ہنسے پھر پتہ ہی نہیں چلا کہ کب یہ پسندیدگی محبت میں تبدیل ہو گی ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حیدر آفندی نے ڈھلتے سورج کو دیکھ کر اداسی سے کہا
آپ دونوں میں سے محبت کا اقرار پہلے کس نے کیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ بتول کے سوال پہ حیدر آفندی میں اسے گھور کر دیکھا
تمہارا کیا خیال ہے کس نے کیا ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حیدر آفندی نے بتول کا سوال اسی پر الٹ دیا۔
یقیناً عدن آنٹی نے بتول ایک دم پرجوش ہوئی ۔
ہاں بالکل درست مجھے آج بھی وہ صبح یاد ہے جب پارک میں واک کرتے ہوئے میں نے اسے بتایا تھا کہ میں کچھ دنوں تک پاکستان واپس لوٹ جاؤں گا ۔ اس کا چہرہ ایک تم اداس ہو گیا تھا آنکھیں پانیوں سے بھرنے لگیں گالا لال سرخ حیدرآفندی اس طرح نقشہ کھینچ رہے تھے جیسے عدن ان کے بالکل سامنے بیٹھی ہو۔
پھر ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ بتول کی دلچسپی بڑھتی جا رہی تھی
پھر کیا وہ بیچاری رات بھر نہیں سوئی اور دوسرے دن صبح صبح ہی میرے فلیٹ پر آ گئی۔
کہنے لگی “میں آپ کے بغیر نہیں رہ سکتی مجھے اس ملک میں ڈر لگتا ہے ۔آپ مجھے اکیلا چھوڑ کر مت جائیں “ میں آپ کے بغیر کیا کروں گی ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حیدر آفندی اس کی معصومیت پر مسکرائے ۔
میں نے کہا “صرف اس لیے نہ جاؤں کہ آپ کو ڈر لگتا ہے اور آپ کو میری مدد کی ضرورت ہے”_ میرے پوچھنے پر وہ چپ کر گئی۔ بس اس کی اس ادا پر میں نے اپنے ویزے سے کی معیاد بڑھا دی وہ “پی – ایچ – ڈی” کرتی رہی اور میں اس کے مسئلے حل _ حیدر آفندی خود پر ہنسے جس دن اس کی “پی – ایچ – ڈی” مکمل ہوئی وہ بہت خوش تھی اور میں اسے دیکھ کر خوش تھا۔ میں نے پوچھا کیا گفٹ لو گی ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ کہنے لگی “اگر آپ مجھے کوئی تحفہ دینا چاہتے ہو تو زیادہ مت سوچنا قیمتی اور مہنگی چیزوں کی تلاش مت کرنا بس ایک سادہ سی شال خریدنا اور میرے کندھوں پر ڈال کر بولنا _ تم آج سے میری ہو “۔ مطلب ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ اس کا جواب میں سمجھ گیا تھا پھر بھی انجان بنا ۔ مطلب یہ کہ “بس آپ کا نام چاہیے ” یہ وہ جملہ تھا جو مجھے حیران کر گیا ۔
میرے دل کی بات اس کے دل تک کیسے پہنچی یہ بات آج تک مجھے سمجھ نہیں آئی ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حیدرآفندی نے اپنی حیرت کا اظہار کیا اچھا پھر آگے کیا ہوا ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ بتول کو تجسس ہوا ۔ پھر میں نے بڑی سرکار سے بات کی تو وہ نہیں مانیں حیدر آفندی کے چہرے سے ایک دم مسکراہٹ غائب ہو گئی۔
کیوں وہ اتنی پیاری تو ہے پھر ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ بتول کی بات پر حیدر آفندی حیران ہوئے
تمہیں کیسے پتا کہ وہ خوبصورت ہے تم نے تو کبھی اسے دیکھا ہی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حیدر آفندی کے سوال پر بتول کچھ شرمندہ سی ہوئی
وہ عکاشہ جو خوبصورت ہے آپ کہتے ہیں نااااا کہ اپنی ماں پر گیا ہے _ بتول نے وضاحت دی تو حیدرآفندی نے سر ہلایا اگر تم اس سے پوچھو تو وہ کہے گی کہ عکاشہ اپنے باپ پر گیا ہے۔ وہ ایسی ہی ہے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ میری دیوانی پاگل _ حیدر آفندی اب بہت سنجیدہ تھے مگر لہجہ زخمی سا تھا۔ عدن ایک معمولی گھرانے سے تعلق رکھتی تھی ۔اپنی ذہانت پر وہ باہر پڑھنے گئی ۔بڑی سرکار کو نہ تو اس کا خاندان پسند تھا اور نہ مالی حیثیت ایک اور سب سے بڑا اعتراض یہ تھا کہ وہ لڑکی ہو کر اکیلی بیرون ملک پڑھنے کیسے گئی۔۔۔۔۔۔؟؟؟
میں ایک اعتراض دور کرتا تو وہ دوسرے اعتراض کو لے کر بیٹھ جاتیں۔
وہ دن میری زندگی کے سب سے اذیت ناک تھے ۔ایک طرف بڑی سرکار نے ضد لگا رکھی تھی تو دوسری طرف عدن میں دونوں کے درمیان پھنس گیا تھا ۔ حیدر آفندی بتاتے ہوئے کسی گہری سوچ میں ڈوب گئے
پھر ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ بتول نے بازو ہلایا
پھر میں اس کی محبت کے آگے ہار گیا اور میں نے اپنے خاندان اور بڑی سرکار سے زندگی میں پہلی بار “بغاوت” کرتے ہوئے اس سے لندن میں شادی کر لی ۔
ہماری شادی کا علم جب عدن کے گھر والوں کو ہوا تو وہ ناراض ہوگئے اور اس سے ہر طرح کا تعلق توڑ لیا اس نے میری محبت میں بہت قربانی دی ہے جس کا مجھے مرتے دم تک افسوس رہے گا ۔حیدر آفندی شدید دکھی نظر آ رہے تھے
اور جب بڑی سرکار کو پتہ چلا تو گویا ایک طوفان ہی کھڑا ہوگیا انہوں نے مجھے فورا واپس آنے کا کہا اور ساتھ ہی ساتھ “طلاق” کا مطالبہ بھی رکھ دیا
میں عدن کو لے کر پاکستان واپس آیا مگر میں اسے حویلی نہیں لا سکتا تھا اس وقت میری حیثیت بہت کمزور تھی میں مالی طور پر بڑی سرکار پر منحصر تھا ۔
اور حویلی کے سب ہی لوگ میرے اپنے والد تمہارے بابا سائیں سب میرے خلاف تھے ۔ میں مجبور تھا۔ لہذا عدن کو اپنے ایک دوست کی فیملی پاس چھوڑ آیا۔
حویلی آتے ہی مجھے اپنی غلطی کا شدید احساس ہوا جو میں نے عدن سے شادی کرکے کی تھی ۔ ان لوگوں نے مجھے جذباتی ،مالی ہر طرح کا بلیک میل کیا ۔میرا دماغ کام کرنا چھوڑ گیا ۔
میں نے سب کی باری باری منتیں کیں مگر کوئی نہیں مانا بالآخر تمہارے باپ کو میری حالت پر ترس آ گیا ۔
انہوں نے بڑی سرکار سے اتنی رعایت لے دی کہ میں اسے طلاق نہ دو باقی میں عدن کو کبھی حویلی نہیں لے کر آؤں گا اور نہ ہی اسے ملنے جاؤں گا۔
وقتی طور پر میں نے یہ باتیں مان لیں مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مجھے اپنی بیوقوفی پر شدید غصہ آنے لگا
تو آپ چوری چھپے ملنے چلے جاتے ناااااا ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ بتول کے مشورے پر وہ ہنسے
میں ایسا ہی کرتا تھا ۔مہینے میں ایک آدھ بار اس سے ملنے چلا جاتا مگر اس کی بے تابی مجھے خوشی کی بجائے مزید شرمندہ کر دیتی۔
پھر بڑی سرکار نے میری شادی زبردستی راشدہ بیگم سے کرادی ۔ میں نے شادی سے پہلے انہیں ساری بات تفصیل سے بتائی کہ میرے گھر میں تو وہ رہ سکتیں ہیں مگر میرے دل میں نہیں _ لہذا سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں مگر انہوں نے کوئی اعتراض نہیں کیا ۔ جیسے تیسے میرا وقت گزرنے لگا پہلے یوشع اور بعد میں عکاشہ پیدا ہوا عکاشہ کی پیدائش پر عدن بہت رنجیدہ ہو گئی۔ اب اسے میری ضرورت تھی کیونکہ راشدہ پاس تھے مگر عدن بالکل اکیلی تھی ۔
میں نے تب تک اپنے قدم کافی جما لئے تھے ۔اب مجھے مالی طور پر بڑی سرکار کی محتاجی نہیں تھی۔
میں نے عکاشہ کی پیدائش پر عدن کو ایک خوبصورت سا فلیٹ گفٹ کیا۔پھر ہم تینوں وہاں شفٹ ہو گے ۔وہ چند ماہ میری زندگی کے خوشگوار ترین دن تھے ۔ہم نے جیسا سوچا تھا ویسے زندگی گزارنا شروع کی _ حیدر آفندی جوش سے سب بتا رہے تھے جبکہ بتول چپ چاپ سن رہی تھی ۔ مگر پھر ہماری خوشیوں کو کسی کی نظر لگ گئی پہلے میرے بابا سائیں اور بعد میں تمہارے والد اس دنیا سے چل بسے۔
بڑی سرکار بالکل اکیلی رہ گئی ۔حویلی _ جائیداد زمینیں بڑی سرکار ان سب کو اکیلے نہیں سنبھال سکتی تھی انہیں میری ضرورت تھی ۔آخر وہ میری ماں تھی مجھے مجبور واپس آنا پڑا ۔ بڑی سرکار نے مجھے میرے باپ اور بھائی کے “جنازے” پر بھی صرف اسی شرط پر شامل ہونے دیا کہ میں عدن کو کبھی حویلی نہیں لاؤں گا حیدرآفندی اب بہت آہستہ بول رہے تھے
میں نے ماں اور عدن میں سے ایک کو چننا تھا میں ہر مہینے باقاعدگی سے عدن کو خرچہ بھیجتا رہتا تھا۔ گو کہ اسے میرے پیسوں کی ضرورت نہیں تھی۔ وہ خود ایک یونی میں پڑھا رہی تھی مگر اس طرح میرے دل کی کچھ تسلی ہو جاتی تھی حیدرآفندی نے کسی مجرم کی طرح اپنی گردن جھکا لی
آپ آخری بار ان سے کب ملے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ بتول کے سوال پر انہوں نے سر اٹھایا
دس سال پہلے _ بہت کرب سے جواب دیا پھر کیوں نہیں ملے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ بتول کو حیرت ہوئی راشدہ بیگم کی شکایت پر بڑی سرکار نے قسم دی کہ اگر آئندہ تم اس سے ملے تو “میرا مرا ہوا منہ دیکھو گے” بس پھر میں نے جدائی کو گلے لگا لیا ۔
پہلے بھی کونسا میں روز جاتا تھا ۔ یہاں کی خاصی ذمہ داریاں تھیں مجھ پر _ حیدر آفندی ہارے ہوئے لگ رہے تھے۔ وہ اب بھی آپ سے اتنی ہی محبت کرتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ بتول کے سوال پر حیدرآفندی نے اپنا موبائل کھول کے اس کے آگے کردیا جہاں وٹس ایپ پر ان کی تصویر چمک رہی تھی۔ اور آپ ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ بتول کے پوچھنے پر وہ کھڑے ہو گے ۔ مرد کبھی محبت نہیں کرتا وہ محبت کر ہی نہیں سکتا ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ اسے گھر سنبھالنا ہوتا ہے خاندان کی بقا کے لیے لڑنا ہوتا ہے _ اپنے گھر والوں کے لیے سخت فیصلے لینے ہوتے ہیں انہیں مالی مستحکم کرنا ہوتا ہے ۔
وہ محبت کر ہی نہیں سکتا اگر وہ محبت کرے گا تو یہ کام کون کریں گے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
حیدر آفندی پتہ نہیں خود پر طنز کر رہے تھے یا بڑی سرکار پر مگر آج بتول کو نوید کی تمام باتیں سمجھ آگئیں تھیں۔
کہ وہ بالکل ٹھیک تھا وہ محبت کر ہی نہیں سکتا تھا وہ مرد تھا ۔
چچا سائیں مجھے بھی کسی سے بہت محبت ہے عدن آنٹی کی طرح حیدر آفندی جانے کے لئے مڑے تھے جب بتول کی بات کرنٹ کھا کر پلٹے
🪄🪄🪄🪄🪄
اس وقت میرا دل کر رہا ہے کہ اس “بتول کی بچی” کا گلا دبا دوں جب میں نے سختی سے منع کیا تھا کہ اپنی طرف سے بونگی نہیں مارنی ۔
جیسا کہا ہے بالکل ویسا ہی کرنا ہے مگر _ یہ لڑکیاں سمجھتی ہیں کہ ان کے دماغ میں بہت عقل ہے اگر عقل ہوتی تو کیا وہ لڑکیاں ہوتیں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع شدید غصے میں جیپ کے بونٹ پر بیٹھا عکاشہ سے باتیں کر رہا تھا ۔ مجھے تو یہ حویلی والے بالکل سمجھ نہیں آرہے ۔عجیب لوگ ہیں بھئی اگر لڑکی “ڈائیلاگ” بھول گئی ہے تو اس میں اتنا غصہ کرنے والی کونسی بات ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟ عکاشہ نے ببل چباتے ہوئے سرسری انداز میں جواب دیا
“ڈائیلاگ کے بچے” اس نے سب کچھ سچ سچ بابا سائیں کو بتا دیا ہے اور ابھی تھوڑی دیر میں جو کلاس ہماری ہو گی تم نے ویسے کلاس کبھی یونی میں نہیں لی ہوگی یوشع نے غصے سے عکاشہ کو دیکھا
میں یونی میں کلاس لیتا نہیں ہوں بلکہ _ عکاشہ کی شرارت پر بریک تب لگی جب نوید کی جیپ ان کے قریب آ کر رکی۔ یوشع سائیں آپ کو حیدر سائیں ڈیرے پر بلا رہے ہیں ۔وہ کافی غصے میں لگ رہے ہیں نوید نے سر جھکاتے ہوئے احترام سے اطلاع دی
باؤ نوید فلحال تم اپنی یہ شکل میرے سامنے سے گم کرو _ ایسا نہ ہو کہ میں اپنے ہاتھوں سے اپنی کزن کو شادی سے پہلے ہی پیوہ کر دوں۔ یوشع کے جواب پر عکاشہ نے اپنی مسکراہٹ دباتے ہوئے ہاتھ کے اشارے سے نوید کو جانے کا کہا تجھے بہت ہنسی آرہی ہے یوشع نے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھتے ہوئے عکاشہ پر طنز کیا جو اس کے برابر بیٹھا گنگنا رہا تھا
“اے محبت تیرے انجام پر رونا آیا” گانا گاتے ہوئے وہ مصنوعی رو بھی رہا تھا ۔
عکاشہ اپنا منہ بند کر لے ۔ اس سے پہلے کہ میں تجھے جیپ سے باہر پھینک دو ابھی وہ عکاشہ کو غصے ہو ہی رہا تھا کہ ایک بکری کا بچہ اچانک اس کی جیپ کے آگے آگیا۔
یوشع نے بمشکل اسے بچایا مگر بکری کے پیچھے امثال کو بھاگتا دیکھ کر اس کا غصہ مزید بڑھ گیا
ایک منٹ میں ابھی آیا یوشع نے عکاشہ کو کہتے ہوئے جیپ سڑک کنارے لگائی اور باہر نکلا مجھے کوئی ضروری کام نہیں ہے ۔بے شک ایک گھنٹہ لگا کر آرام سے آنا عکاشہ کے جواب پر یوشع نے پوری طاقت سے جیپ کا دروازہ بند کیا جس کا مطلب تھا کہ وہ شدید غصے میں ہے ۔
چل مسٹر عکاشہ ذرا اپنی مس موسلادھار کی خبر لے ۔کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ تجھے مکمل ہی بھول جائے اور پتہ کر آج کہاں کہاں بارش ہو رہی ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عکاشہ نے خود کلامی کرتے ہوئے حرم کا نمبر ڈائل کیا
ہیلو مس چونا عکاشہ نے کال اٹینڈ ہوتے ہی اپنی دھن میں حرم کو مخاطب کیا
یہ کسی مس چونا کا نمبر نہیں ہے حرم کی جگہ ماہم کی آواز سن کر وہ سیدھا ہو کر بیٹھا
ارے واہ آپ کے منہ میں بھی زبان آگئی ہے ۔میری غیر موجودگی میں کیسے کیسے لوگوں کے پر نکل آئے ہیں ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عکاشہ نے اسے چھڑا اور وہ سچ مچ چھڑ بھی گئی
میرے منہ میں پیدائشی طور پر زبان موجود ہے _ ماہم کا جواب عکاشہ کو مزہ دے گیا ۔ اچھا پھر مجھے کیوں ان دو سالوں میں پتہ نہیں چل سکا کہ آپ کے منہ میں زبان ہے ؟؟؟ عکاشہ نے سوچنے کی ایکٹنگ کی
کیوں کہ میں اپنی زبان صرف بولنے کے لئے استعمال کرتی ہوں _ ماہم کا طنز سمجھتے ہوئے عکاشہ نے سیٹی بجائی یہ سب قیامت کی نشانیاں ہیں جب لڑکیاں زبان چلانے لگیں عکاشہ کو مزہ آ رہا تھا تپ کر ہی وہ بول تو رہی تھی ۔
عکاشہ کام کی بات کرو ۔کیوں فون کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ماہم نے جلدی سے پوچھا
اور اگر کوئی کام نہ ہو تو پھر ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ آپ کو فون کرنا منع ہے ۔
جی بالکل میں فون بند کرنے لگی ہوُں۔ ماہم نے دھمکی دی تم فون بند نہیں کر سکتی کیونکہ یہ تمہارا نہیں ہے۔ جس کا ہے پہلے اسے بلاؤ عکاشہ نے حرم کا پوچھا
وہ تو اس وقت کلرک آفس گئی ہوئی ہے ۔ماہم کے جواب پر عکاشہ چونکا
کیوں _ خیریت ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ جی آپ کے کارنامے کی وجہ سے ہی جرمانہ جو رہ گیا تھا وہ جمع کرانا ابھی باقی تھا ماہم اپنے غصے کو دباتی ہوئی بولی جبکہ عکاشہ نے قہقہ لگایا
ویسے میں تمہیں کبھی بھولوں گا نہیں ؟؟؟ عکاشہ نے جتلایا جی بالکل آپ بھولنے والی چیز نہیں ہیں ماہم نے تصدیق کی
اچھا میرے بغیر اداس تو نہیں ہوگی یونی تو سنی سنی نہیں لگتی ہر وقت میرا انتظار تو نہیں رہتا ؟؟؟ عکاشہ اس وقت فل ماہم کو تنگ کرنے کے موڈ میں تھا جی ہر طرف امن و امان ہے اور ہم ذہنی اور جسمانی سکون محسوس کر رہے ہیں۔ لہذا آپ جہاں ہیں وہیں آرام سے رہیں اور ہمیں یہاں رہنے دیں ۔ماہم کے جواب پر پہلی بار عکاشہ کو غصہ آیا سوچ لو اگر میں کبھی واپس نہ آیا تو ۔۔۔۔۔؟؟؟ عکاشہ کے اس طرح پوچھنے پر ماہم کو عجیب سا احساس ہوا تو کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ماہم نے آہستہ سی آواز میں پوچھا سوچ اگر کبھی ایسا ہو کہ تم مجھے آج کے بعد کبھی نہ دیکھ سکوں نہ سن سکوں میں وہاں چلا جاؤں جہاں سے کوئی کبھی واپس نہیں آتا تو تمہیں کیسا لگے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عکاشہ کے اس اچانک سوال پر ماہم پریشان ہوگی
عکاشہ تم کہاں ہو ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ماہم نے انتہائی فکر مندی سے پوچھا جس پر عکاشہ نے قہقہ لگایا
میں اس وقت بالکل خیریت سے جیپ میں بیٹھا ہوں اور بھائی کسی سے ملنے تھوڑی دیر کے لئے باہر گئے ہیں تو میں نے سوچا کیوں نہ آپ کے ساتھ وقت گزارا جائے آخر آپ میرے بغیر اداس ہوں گئی ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عکاشہ کے جواب پر ماہم کو شدید غصہ آیا
جہنم میں جاؤ تم اور جہنم میں جائیں تمہاری ڈرامے بازیاں _ ماہم کے دل میں جو ابھی ابھی ہمدردی کا جذبہ عکاشہ کے لیے پیدا ہوا تھا وہ ایکدم انتقال کر گیا۔اتنی دیر میں اسے دور سے حرم آتی ہوئی نظر آئی۔ رکو یوشع نے امثال کو پیچھے سے آواز دی جس پر امثال کے دل کی دھڑکن تیز ہوئی کیونکہ اب وہ یوشع کے خیالات اپنے بارے میں جانتی تھی ۔
یہ کیا بندروں کی طرح پورے گاؤں میں بھاگتی پھرتی ہو گھر پر آرام سے بیٹھ نہیں سکتیں ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع کا سانس پھولا ہوا تھا
میں گھر میں آرام سے ہی بیٹھتی ہوں اور یہ بندروں کیا ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
آپ پڑھے لکھے ہیں کسی اچھی چیز سے تشبیہ نہیں دے سکتے امثال نے اپنے جذبات کو کنٹرول کرتے ہوئے ازلی روکھے پن سے پوچھا
امثال یوشع اس وقت آگے ہی بہت الجھا ہوا تھا اس پر امثال کی زبان درازی مزید غصہ دلا گئی ۔
اگر غلطی سے میرا نام یاد ہو ہی گیا ہے تو یوں ہر وقت پکارنے کا فائدہ ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ امثال کے سوال پر یوشع کا دل کیا اسے ایک زور دار تھپڑ لگا دے
اگر تم میرے آگے زبان چلانے سے باز نہ آئی تو قسم سے میں بہت برے سے پیش آؤں گا۔ میری بات چپ چاپ مان لیا کرو۔ بحث نہ کیا کرو اس میں تمہارا ہی فائدہ ہے ۔میں اس علاقے کا سردار ہوں یہ بات یاد رکھا کرو یوشع نے انگلی اٹھا کر وارننگ دی
یوشع کو یوں غصے سے بولتا دیکھ کر امثال کے چہرے پر ایک دم اداسی چھا گئی اور وہ چپ چاپ وہاں سے جانے لگی۔
آئندہ میں تمہیں یوں گاؤں میں بھاگتا نہ دیکھو سمجھی یوشع دوبارہ اپنی جیب کی طرف بڑھ گیا ۔یوشع کو واپس آتا دیکھ کر عکاشہ نے کال بند کر دی ۔
آپ اتنی ایمرجنسی میں کہاں گئے تھے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع کے سخت اثرات دیکھ کر عکاشہ نے پوچھا
بکری ذبح کرنے یوشع نے چڑ کر جواب دیا اسے اپنا کھیل خراب ہوتا دکھائی دے رہا تھا
ارے واہ آپ نے کبھی بتایا نہیں کہ آپ یہ کام بھی کر لیتے ہیں۔ بھائی یاررررر آپ کتنے ٹیلنٹڈ ہیں عُکاشہ نے اس شرارت بھرے لہجے میں داد دی جس پر یوشع نے جیپ کو بریک لگائی
تم پیدل ڈیرے جاؤ گے یا میں جاؤں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع نے پوچھا
سوری عکاشہ باہر دیکھنے لگا تو یوشع نے دوبارہ جیپ سٹارٹ کی ۔
🪄🪄🪄🪄🪄
گدھے الو کے پٹھے _ تم دونوں نے مجھے کیا سمجھ رکھا ہے کیا لگتا ہوں میں تمہارا ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حیدر آفندی نے سخت غصے میں چکر لگاتے ہوئے پوچھا جب کہ وہ دونوں سر جھکائے چارپائی پر بیٹھے تھے
یوشع تم میرے باپ ہو یا میں تمہارا باپ ہوں ۔بولو _ ؟؟؟ دونوں کو خاموش دیکھ کر حیدر آفندی نے یوشع کو مخاطب کیا کیونکہ وہ عکاشہ کو کچھ کہہ نہیں سکتے تھے مصدقہ اور آخری اطلاع کے مطابق آپ ہمارے باپ ہیں یوشع حیدر کو چپ دیکھ کر عکاشہ نے اس کی مشکل آسان کی ۔
عکاشہ آپ چپ رہیں ابھی ہم یوشع سے بات کر رہے ہیں _ حیدرآفندی نے اپنے غصے کو قابو کرتے ہوئے عکاشہ سے کہا ابھی میں زندہ ہوں اور میرا دماغ بھی بالکل ٹھیک کام کر رہا ہے ۔پھر سارے مسئلے تم خود اکیلے کیوں حل کر رہے ہو۔ وہ بھی اتنے غلط طریقے سے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ اتنے ڈرامے کرنے کی کیا ضرورت تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ مجھے بتا دیتے میں خود دیکھتا اس مسئلہ کو حیدرآفندی اب یوشع کے بالکل سامنے بیٹھ گئے تھے
یہ مسئلہ آپ سے حل ہونے والا نہیں تھا اسی لیے نہیں بتایا بالآخر یوشع نے اپنی جگہ سے کھڑے ہوتے ہوئے جواب دیا
کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حیدر آفندی نے اتنے زور سے پوچھا کہ ان کی آواز کی گونج پوری ڈیرے میں سنائی دی
جی بابا سائیں یہ مسئلہ آپ حل نہیں کر سکتے تھے۔ اگر کرسکتے تو آپ کا اپنا مسئلہ آج تک یوں لٹک نہ رہا ہوتا ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
یوشع کے جتلانے پر حیدر آفندی کا ہاتھ ہوا میں بلند ہوا مگر یوشع کے گال پر پڑنے سے پہلے ہی رک گیا
اگر میں آپ کو بتاتا تو آپ یقینا اماں سائیں اور بڑی سرکار سے بات کرتے بتول کو طعنے سننے پڑتے اور بڑی سرکار” نہ” کر دیتیں۔
اور آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ اگر وہ ایک بار کسی کام کے لیے “نہ ” کردیں تو مرحوم دادا سائیں بھی قبر سے اٹھ کر آ جائیں تو وہ بھی ان سے ہاں نہیں کہلوا سکتے ۔
لہذا مجھے یہ سارا ڈرامہ رچانا پڑا _ یوشع اب پیچھے ہاتھ باندھے بالکل سنجیدہ کھڑا تھا جب کہ عکاشہ ببل چبانے میں مصروف تھا اس معصوم کو بیچ میں کیوں گھسیٹا ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حیدر آفندی نے عکاشہ کی طرف اشارہ کیا معصوم اور یہ ایک رات اس کے ساتھ گزاریں _ لگ پتہ جائے گا کہ کون کتنا معصوم ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع نے اپنا غصہ نکالا یوشع کیابکواس کر رہے ہو ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ میں تمہارا باپ ہوں اور یہ چھوٹا بھائی ذرا اپنے مشورے پر غور کرو۔ حیدرآفندی کی بات پر عکاشہ منہ نیچے کیے ہنس رہا تھا جبکہ یوشع کو بھی احساس ہوا کہ اس نے کیا کہا ہے ۔
تو اس کا مطلب میں یہ سمجھوں کہ یہ سب تم بتول کے لیے کر رہے ہو ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حیدرآفندی نے پوچھا
ہاں ظاہر سی بات ہے _ یوشع نے کندھے اچکائے تو پھر یہ ماسٹر کی بیٹی کہاں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟حیدر آفندی نے یوشع سے پوچھا مگر جواب عکاشہ نے دیا بکری کے بچے ساتھ پورے علاقے میں کھیل کود کر رہیں ہیں ۔ میں نے خود آج پہلی بار دیکھا ہے۔ ویسے اس فسادی سے اچھی ہے کم ازکم کھیلوں میں تو دلچسپی رکھتی ہے۔ عکاشہ کے جواب پر حیدر آفندی نے اپنی مسکراہٹ دبائی جبکہ یوشع نے اس کا بازو مروڑ دیا ۔ کمینے ذلیل _ تجھے تو میں جیپ میں چھوڑ کر گیا تھا پھر میرا پیچھا کیوں کیا ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع نے اس سے پوچھا جب کہ عکاشہ چیخا میری آنکھیں دور تک دیکھتیں ہیں ۔اب میں کیا کروں ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ویسے بھی میری جگہ کوئی اور بھی ہوتا تو سمجھ جاتا “سردار یوشع حیدر آفندی ” صرف ایک بکری کے پیچھے تو جانے سے رہے عکاشہ نے دہائی دیتے ہوئے جواب دیا
حیدرآفندی دونوں بھائیوں پر مسکراتے ہوئے ڈیرے سے باہر نکل گئے کیونکہ اب انہوں نے بہت سے الٹے کام سیدھے کرنے تھے وہ ماضی کی غلطیوں کو دہرانا نہیں چاہتے تھے جبکہ ڈیرے کے باہر تک بھی یوشع اور عکاشہ کے لڑنے کی آوازیں آ رہی تھیں
🪄🪄🪄🪄🪄
جاری ہے۔
