Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 22

یوشع نے دروازے پر دستک دی حالانکہ دروازہ کھلا ہوا تھا ۔حیدر آفندی جو شاید کسی سے فون پر محو گفتگو تھے ۔اسے دیکھتے ہی ٹیرس کی طرف چل دیے ۔
کیا بات ہے آج تو سردار صاحب بڑے موڈ میں لگ رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع مسکراتا ہوا راشدہ بیگم کے قریب آیا
یہاں سب ہی موڈ میں ہیں سوائے میرے _ راشدہ بیگم نے ایک ناراض نگاہ یوشع پر ڈالی اور کمرے سے باہر جانے لگیں۔ اماں سائیں اس حویلی میں واحد آپ ہی تھیں جو بالکل نارمل گفتگو کرتی تھیں مگر اب میں نے یہ محسوس کیا ہے کہ آپ کی گفتگو میں بھی طنز شامل ہونے لگا ہے یوشع نے انہیں پیار سے پکڑتے ہوئے صوفے پر بیٹھا یا
مجھے یقین نہیں آتا کہ تم میرے بیٹے ہو کبھی ماں کی فکر نہیں ہوئی تمہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ راشدہ بیگم نے گلہ کیا
آپ کی ہی تو فکر کر رہا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع نے کہتے ہوئے ان کے کندھوں پر سر رکھا
وہ تو میں دیکھ ہی رہی ہوں بتول سے شادی نہ کر کے تمہیں میری کتنی فکر ہے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ راشدہ بیگم نے سوالیہ انداز میں جواب دیا۔
آپ کو بتول سے ہزار گنا اچھی بہو لا کر دوں گا یہ میرا آپ سے وعدہ ہے _ یوشع نے کندھے سے سر اٹھاتے ہوئے ان کے آگے اپنا ہاتھ کیا بتول سے اچھی کوئی ہو ہی نہیں سکتی راشدہ بیگم نے انکار کیا
چلیں مرضی ہے آپ کی میرا کیا ہے میں تو بتول ساتھ بھی گزارا کر لونگا ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
اللہ کا شکر گزار بندہ ہوں مگر پھر آپ کو ہی برا لگے گا
یوشع نے کھڑے ہوتے ہوئے اپنے ہاتھ پشت پر باندھے ۔
مجھے کیوں برا لگے گا بلکہ سب سے زیادہ مجھے ہی اچھا لگے گا اگر تمہاری اور بتول کی شادی ہوگئی تو راشدہ بیگم کو یوشع کی بات پر حیرت ہوئی۔
کبھی آپ نے سوچا ہے کہ اگر بتول آپ کی بہو بنی تو اس کا اس حویلی میں کیا مستقبل ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
بتول کا اس حویلی میں وہی حشر ہو گا جو معذرت کے ساتھ آپ کا ہوتا رہا ہے ۔
اس بیچاری کو آپ کی طرح نہ شوہر کی محبت ملے گی نہ حویلی میں عزت ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
عجیب خاتون ہیں آپ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
بتول کو اپنی بیٹی کہتی ہیں اور اسے اپنی نظروں کے سامنے ہی ذلیل ہوتا دیکھنا چاہتی ہے یوشع نے افسوس سے سر ہلایا
یوشع مجھے پریشان مت کرو اور بات بالکل سیدھی کرو۔ یہ تم گھما پھرا کے باتیں کرتے ہو یہ مجھے سمجھ نہیں آتیں راشدہ بیگم سچ مچ پریشان ہو گئیں تھیں۔
اماں سائیں آپ ٹھنڈے دل و دماغ سے ذرا میری بات سنیں۔
اگر بتول کی مجھ سے شادی ہوئی تو بڑی سرکار اس کا جینا حرام کر دی گئی ۔اسے زندگی بھر خوشیاں نہیں ملیں گی۔
اور وہ خود اتنی ڈرپوک ہے کہ اپنے حق کے لیے بڑی سرکار کے سامنے ڈٹ نہیں سکتی ۔
رہی میری بات تو میں اس کی کوئی مدد نہیں کر سکوں گا کیونکہ میں بڑی سرکار کے خلاف جا ہی نہیں سکتا یوشع نے راشدہ بیگم کو ڈرایا جو حقیقت میں ڈر بھی گئیں تھیں۔
لیکن اگر ہم اس کی شادی کہیں باہر کردیں تو وہ لوگ ہماری بتول کو سر آنکھوں پر بٹھائیں گے ۔آخر اتنے بڑے گھرانے کی بیٹی ہے مذاق تھوڑی ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
پھر وہاں وہ مہارانی بن کر رہے گی ۔اپنی مرضی سے اپنی زندگی گزارے گی ۔کوئی اس کے آگے اُف تک نہیں کرے گا ۔
اب آپ کی مرضی ہے ۔میں تو ابھی بڑی سرکار سے کہہ کر اس ساتھ نکاح کر لیتا ہوں ۔میرا کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع نے سرسری انداز میں کہا
اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ تم جس لڑکے سے شادی کروگے وہ بڑی سرکار کے آگے ڈٹ جائے گی ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
جبکہ ابھی تک اس حویلی میں کوئی ایسا شخص نہیں جو ان کے آگے بول سکے۔ چاہے ان کے سر میں چاندی ہی کیوں نہ آ گئی ہو
راشدہ بیگم نے گلاس وال سے پار حیدرآفندی کو دیکھتے ہوئے کہا
اس کی آپ بالکل فکر نہ کریں اس دنیا میں بڑی بڑی ڈھیٹ لڑکیاں موجود ہیں۔ جنہیں اپنی بےعزتی اور دوسرے کی عزت سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔اور اگر پڑے بھی تو زیادہ دیر تک اثر نہیں رہتا یوشع نے باقاعدہ قہقہہ لگایا
یقین مانیں مجھے لگتا تھا کہ لڑکیوں کو ڈرانا بہت آسان ہے ۔مگر پھر میری ملاقات ایک ایسی لڑکی سے ہوئی جو خود کچھ بھی نہیں ہے پر وہ دوسروں کا بھی کچھ نہیں چھوڑتی۔
یوشع کو یوں بات بات پر کھل کر ہنستا دیکھ کر راشدہ بیگم کو شدید حیرت ہوئی ۔
یوشع تم ٹھیک ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ راشدہ بیگم نے بے ساختہ پوچھا
اس نے مجھے ٹھیک ہی کہاں رہنے دیا ہے بہت ہی کوئی ڈھیٹ اور گندی لڑکی ہے یوشع کہتا ہوا دوبارہ صوفے پر بیٹھ گیا
گندی
مطلب ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ راشدہ بیگم کو اب یوشع کی ذہنی حالت پر شک ہو رہا تھا
گندی نہ کہوں تو اور کیا کہوں ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
پتا اس کی حرکتوں پر دل کرتا ہے کہ اسے مار کر تہہ خانے میں بغیر نماز جنازہ اور کفن کے دفنا دوں مگر یوشع کہتا کہتا بے بس سا ہو گیا
مگر کیا ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ راشدہ بیگم کو اب تجسس ہوا کہ آخر اس لڑکی میں ایسا کیا ہے جو یوشع بے بس ہو رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
مگر مجھ سے اسے مارا ہی تو نہیں جا رہا ناااااا _ یوشع نے بے بسی سے صوفے کے ہینڈل پر مکا مارا تو پھر تم اسی سے شادی کیوں کرنا چاہتے ہو جب کہ تم اس سے اتنے بیزار بھی ہو ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ راشدہ بیگم یوشع کا بالکل انوکھا روپ دیکھ رہی تھی آپ کے لیے
بڑی سرکار کے لیے کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ وہ آپ دونوں کو بہت “سوٹ” کرے گی یوشع اچانک شوخ ہوا ۔
یہ کیا بات ہوئی۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ راشدہ بیگم کو حیران دیکھ کر یوشع مسکرایا
اب ہر کام بندہ اپنے لئے تو نہیں کرتا ناااااااا
ایک بار وہ اس حویلی میں آجائے میں آپ کو لکھ کر دیتا ہوں ایسی رونق لگے گی جس کا آپ نے کبھی تصور بھی نہیں کیا ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
ویسے یہ آج کس سے اتنی لمبی بات کر رہے ہیں مجھے ان ساتھ بات کرنا تھی یوشع نے اپنی بات کے آخر میں وال گلاس کے پیچھے کھڑے حیدر آفندی کے بارے میں پوچھا
تم سب کے سب میری سمجھ سے باہر ہو۔ باپ ساری زندگی کیا کرتا رہا ہے مجھے کچھ معلوم نہیں ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
اور اب بیٹا بھی وہی کرنے لگا ہے۔ جاکر خود پوچھ لو راشدہ بیگم الجھی الجھی سی بتول کے کمرے کی طرف چل پڑیں۔
بابا سائیں بس کریں مجھے آپ سے بات کرنی ہے یوشع نے ٹیرس پر قدم رکھتے ہوئے اونچی آواز میں کہا تاکہ دوسری طرف جو بھی ہو وہ کال بند کر دے ۔
بات کرنی ہے یا بتانی ہے حیدر آفندی نے کال بند کرتے ہوئے پوچھا جس پر یوشع کندھے اچکاتا وہاں پڑے لکڑی کے جھولے پر بیٹھ گیا
تم دونوں بھائی کیا ہو ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ پرانے زمانے میں اگر تم دونوں بھائیوں جیسی کوئی حرکتیں کرتا تھا تو لوگ کہتے تھے ان پر سایہ ہے حیدرآفندی نے یوشع کی طرف دیکھتے ہوئے افسوس کیا جبکہ یوشع، عکاشہ کے ذکر پر مسکرا دیا
میرا تو خیر پتہ نہیں مگر چھوٹا کمال ہے آپ مانیں یا نہ مانیں
یوشع کے جواب پر حیدرآفندی کے ہونٹوں کو مسکراہٹ چھو گئی ۔
بے غیرت ہو دونوں کے دونوں _ ایک نے مجھے تنگ کر رکھا ہے تو دوسرے نے ماں کا جینا حرام کیا ہوا ہے ۔ حیدر آفندی نے اپنا غصہ نکالا مطلب آپ اس وقت میری بات سننے کے موڈ میں نہیں ہیں ۔۔۔۔۔۔؟؟ یوشع نے آئی برو اچکا کر پوچھا تمہیں باپ کی ضرورت ہے میرے خیال سے تو تم خود اپنے باپ ہو _ حیدرآفندی نے سوالیہ نظروں سے دیکھا ظاہری سی بات ہے اب باپ کے خانے میں نام تو لکھنا ہے نااااا اپنا تو لکھنے سے رہا یوشع کے جواب پر حیدر آفندی نے پاس پڑا کشن اٹھا کر اسے مارا جسے وہ سہولت سے کیچ کر کے ہنسنے لگا
🪄🪄🪄🪄🪄
ماہم نے آہستہ آہستہ آنکھیں کھولیں تو اسے اپنا دماغ سن سا لگ رہا تھا روشنی آنکھوں میں چبھ رہی تھی ۔
بیٹا آرام سے آنکھیں کھولو اور میری طرف دیکھو شاباش زبیر صاحب کی آواز کانوں میں پڑتے ہی ماہم کو حوصلہ ہوا ۔
ماہم کو ہوش میں آتا دیکھ کر حرم اور زبیر صاحب کے چہرے پر خوشی کی لہر دوڑ گئی ۔
یار پلیز آئندہ ایسا کچھ مت کرنا تم میری اکلوتی سہیلی اور بہن ہو
حرم نے نم آواز میں کہا
میں آپ دونوں سے شرمندہ ہوں سوری بس بہت زیادہ غصہ آ گیا تھا تو _ ماہم نے لاغر آواز میں جواب دیا چپ بالکل چپ
زیادہ بولنے کی ضرورت نہیں ہے اور ہسپتال میں بولنا تو ویسے بھی منع ہوتا ہے ۔حرم نے اس کا ہاتھ نرمی سے پکڑا
شکر ہے اللہ کا کہ تم بچ گئی ہو ورنہ میں روز محشر اپنی بہن کو کیا منہ دیکھا تھا زبیر صاحب نے ماہم کے ماتھے پر پیار کیا تو اس کے آنسو بہنے لگے
میری وجہ سے آپ لوگوں کو خامخواہ اتنی پریشانی ہوئی ہے ماہم اب اپنے کیے پر بہت شرمندہ تھی ۔
ہمیں تو خیر جو پریشانی ہوئی ہے وہ اپنی جگہ مگر “اُسے” جو پریشانی ہوئی ہے اس کا مت پوچھو ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حرم نے کھڑکی سے باہر کھڑے عکاشہ کو دیکھ کر کہا
کیا مطلب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ زبیر صاحب اور ماہم نے ایک ساتھ پوچھا
کچھ نہیں بابا آپ اب جا کر مسز آفندی کا شکریہ ادا کریں اور جو ڈاکٹرز نے ماہم کی دوائیں لکھیں تھیں وہ بھی لے آئیں
حرم کے کہنے پر زبیر صاحب صرف ہلاتے روم سے باہر نکل گئے۔
چلو اب ہم دونوں آرام سے باتیں کرتے ہیں ۔ویسے یہ کتنا آرام دہ کمرہ ہے ۔ حرم نے سٹول پر بیٹھتے ہوئے ادھر ادھر دیکھا جبکہ ماہم اپنے بینڈیج والے ہاتھ کو گھور رہی تھی
اپنی انگلیوں کو تھوڑی تھوڑی دیر بعد حرکت دیتی رہو ڈاکٹر نے کہا ہے حرم نے ماہم کی نگاہوں کا مرکز دیکھ کر کہا
میں تمہیں بہت ڈرپوک سمجھتی تھی مگر تم ڈرپوک ہونے کے ساتھ ساتھ بے وقوف بھی ہو یہ مجھے اب پتا چلا ہے ۔
اگر عکاشہ پر غصہ تھا تو اس کا سر پھاڑ دیتیں۔ اپنے آپ کو یوں تکلیف دینا کونسی عقلمندی ہے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حرم نے دکھ سے کہا
اس کا نام بھی میرے سامنے مت لو
ماہم نے نقاہت ذدہ آواز میں جواب دیا
ویسے خون کچھ کچھ اپنا اثر دکھا رہا ہے _ حرم نے اپنی مسکراہٹ دبائی جس پر ماہم نے اسے گھورا جوس پیو گی۔ ۔۔۔۔۔؟؟؟ حرم نے پوچھتے ہوئے ٹیبل پر پڑا جوس کا ڈبہ اٹھا کر اسے گلاس میں ڈالا یہ مسز آفندی کو کس نے بتایا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ماہم کے پوچھنے پر حرم نے جوس والا گلاس کی طرف بڑھایا میں نے بتایا ہے اور کس نے بتانا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ بمہ ان کے ہونہار کے کارنامے کے
حرم نے گلاس میں سٹرا ڈال کر ماہم کے لبوں ساتھ لگائی۔ چند گھونٹ بھر کر ماہم نے کلاس پیچھے کر دیا ۔
نہیں بتانا چاہیے تھا _ ان کا کیا قصور ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ماہم کو افسوس ہوا انہی کا تو قصور ہے ایسا بیٹا پیدا کرنے کی آخر ضرورت ہی کیا تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟حرم نے اونچی آواز میں اپنا غصہ نکالا جسے کمرے میں داخل ہوتے عکاشہ نے بخوبی سنا۔
ضرورت تھی اگر یہ بیٹا وہ پیدا نہ کرتیں تو خون آپ کے فائق نے دینا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عکاشہ کی آواز پر دونوں نے چونک کر اسے دیکھا
دیکھو مس موسلادھار عرف بچی کھچی تمہاری ان رگوں میں میرا خون گردش کر رہا ہے جو میں اپنی مرضی سے دینا نہیں چاہتا تھا ۔
مگر مجبوری خیر میں صرف یہ بتانے آیا تھا کہ میں تمہاری اس حرکت سے بالکل بھی متاثر نہیں ہوا ہوں ۔اگر آئندہ ایسی کوشش کرو تو دل لگا کر کرنا تاکہ مجھے تمہارے “قُلوں” کے چنے کھانا نصیب ہوں عکاشہ کہتا ہوا باہر نکل گیا جبکہ حرم کا حیرت کے مارے منہ کھل گیا ۔ اس نے مجھے خون دیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟ ماہم نے ہلتے دروازے کو دیکھ کر پوچھا ہاں مجبوری تھی کیونکہ تمہارا بلڈ گروپ مل ہی نہیں رہا تھا اور تمہیں خون کی سخت ضرورت تھی تو ہم نے گدھے کو ہی باپ بنا لیا
حرم کے جواب پر ماہم کو غصہ آیا
باپ بنانے کی کیا ضرورت تھی ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ماہم نے کہتے ساتھ ہی اپنی آنکھیں بند کر لیں
یعنی تمہارے خیال سے ہمیں “پیا” بنانا چاہیے تھا _ حرم تیزی سے کہتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی مبادہ ماہم اسے کوئی چیز نہ مار دے ۔ میں آپ اور آپ کے بیٹے کا دل سے شکر گزار ہوں۔ آپ نے ہماری مشکل وقت میں بہت مدد کی ہے ۔ زبیر صاحب مسز آفندی کے قریب کھڑے شکریہ کے کلمات ادا کر رہے تھے ۔ کوئی بات نہیں انسان ہی انسان کے کام آتا ہے اور ماہم تو مجھے بہت اچھی لگتی ہے
مسز آفندی نے خوش دلی سے جواب دیا جس پر زبیر صاحب سر ہلاتے سٹور سے ماہم کی دوائیاں لینے چل دیئے۔
مجھے فی الحال دیر ہو رہی ہے۔ جب ماہم کو ہوش آیا تو میری طرف سے اسے ضرور پوچھنا۔ میں اب چلتی ہوں۔ مسز آفندی نے حرم کو محبت سے اپنے ساتھ لگاتے ہوئے کہا
وہ بلکل ہوش میں ہے۔ آخر اس کی رگوں میں اب خون کس کا ہے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عکاشہ نے سینے پر ہاتھ باندھتے ہوئے حرم کی جگہ جواب دیا
اس کی رگوں میں اس کے باپ کا خون ہے مسز آفندی نے دانت پیسے
باپ کا خون “تھا” جسے اس نے باپ کا مال سمجھ کر ضائع کردیا مگر اب میرا “ہے “_ پوری دو بوتلیں میں نے اسے اپنے خون کی دی ہیں۔ آپ انکار نہیں کر سکتیں
عکاشہ بگڑا
ٹھیک ہے میم آپ گھر جا کر آرام کریں میں اسے آپ کا پیغام دے دوں گی حرم نے دونوں ماں بیٹے کے درمیان کشیدگی کے ڈر سے فورا کہا
مسز آفندی سر ہلاتی ہوئی عکاشہ کے ہمراہ پارکنگ ایریا کی طرف چل دی جبکہ حرم نے عکاشہ کی پشت کو افسوس سے دیکھا
🪄🪄🪄🪄🪄
تقریبا ایک ہفتہ ہونے کو آیا تھا مگر یوشع کی طرف سے مکمل خاموشی تھی جو اب امثال کو پریشان کر رہی تھی۔
یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ میرا پیغام پڑھ کر بھی وہ خاموش رہے۔ نہیں ایسا نہیں ہو سکتا۔ اچھا یا برا آخر کچھ تو رسپونس آنا چاہیے تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
امثال اپنے آپ سے ہی سوال جواب میں اتنی مصروف تھی کے اس ننھی کے پاس آ کر بیٹھنے کا پتہ ہی نہ چلا
تم کب آئیں ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ امثال نے اپنے پاس بیٹھی ننھی کو حیرت سے دیکھا
جب آپ اپنے آپ سے باتیں کر رہیں تھیں
ننھی خوب ہنسی جب کہ امثال نے اسے گھورا
اچھا دانت نکالنا چھوڑو اور مجھے یہ بتاؤ کہ تم نے وہ سب کچھ اچھی طرح دیکھ کر لکھا تھا ناااااا مثال نے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا جس پر وہ گردن ہلانے لگی
باجی اگر اس سردار نے ہماری باتیں نہ مانیں تو
ننھی کی معصومیت پر امثال کو خوب پیار آیا
تو کچھ بھی نہیں ہوگا ۔ تم پریشان مت ہو امثال نے اس کا سر تھپکا تبھی دروازے پر دستک ہوئی
باجی میں دیکھو۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ننّھی نے پوچھا
نہیں تم اندر جاؤ میں دیکھتی ہوں
امثال کہتی ہوئی اپنا دوپٹہ سر پر درست کرتی دروازے کی طرف چل دی ۔
آپ خیریت ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ سے امثال نے آدھ کھلے دروازے سے جھانک کر دیکھا تو نوید کو کھڑا پایا ۔
جی میں بھی یہی پوچھنے آیا تھا کہ خیریت ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ نوید کے سوال پر امثال نے اسے نا سمجھی سے دیکھا
جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے ماسٹر جی کی کسی بھی بچی کی لکھائی گندی نہیں ہے اور آپ کی تو خیر کیا ہی بات ہے نوید کی تعریف پر امثال کو بات سمجھ آنے لگی
مجھے پتا ہے
امثال نے اقرار کیا
پھر وہ پرچہ کس سے لکھوایا تھا اور کیوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟
اتنی گندی لکھائی ۔۔۔۔۔؟؟؟ مجھ سے بھی پڑھی نہیں جا رہی تھی سائیں نے اسے کیا پڑھنا تھا ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ نوید کا جواب اسے حقیقت میں پریشان کر گیا
میں نے وہ پرچہ کسی اور سے لکھوایا تھا تاکہ ابا کو پتہ نہ چلے امثال نے جواب دیا
پرچہ ماسٹر جی کی موجودگی میں ہی آپ نے مولوی صاحب کو دیا تھا نااااا پھر ڈر کیسا ۔۔۔۔۔؟؟؟ نوید کو اس وقت امثال پر شدید غصہ آیا
ہاں مگر ابا کو یہ تو معلوم نہیں نہ کہ اس میں کیا لکھا ہے
کس نے لکھا ہے _ اور کیوں لکھا ہے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ امثال کا جواب تسلی بخش نہیں تھا پھر بھی نوید خاموش ہوگیا خیر میں آپ کو صرف یہ بتانے آیا تھا کہ سائیں بالکل خاموش ہوگئے ہیں اور یہ خاموشی کسی طوفان کا پیش خیمہ ہوسکتی ہے لہذا احتیاط کیجئے گا ۔ نوید کہتا ہوا رکا نہیں بلکہ فورا پلٹ گیا جب کہ امثال اپنی سوچوں میں گم چارپائی پر آ کر بیٹھ گئی ۔ تبھی اس کی نظر سامنے کھیلتے ہوئے سفید بکری کے بچے پر پڑی تو وہ خود بخود مسکرا دی۔ 🪄🪄🪄🪄🪄🪄 نوید کو یوشع نے انتہائی ایمرجنسی میں حویلی بلوایا تھا ۔پتہ نہیں کیوں مگر یوشع کا انداز ایسا تھا کہ نوید ڈر گیا تھا ۔جس وقت اس کی جیپ حویلی میں داخل ہوئی اس وقت ہلکی ہلکی بارش بھی ہو رہی تھی۔ سائیں آپ نے مجھے یاد کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ مردان خانے میں قدم رکھتے ہیں نوید نے عاجزی سے پوچھا تم سے بابا سائیں بات کرنا چاہتے ہیں یوں یوشع نے حیدر آفندی کی طرف اشارہ کیا اور خود موبائل میں مصروف ہوگیا
اگر ذرا بھی ہماری بیٹی کو تکلیف دی یا ہمیں اس کی آنکھوں میں دیکھ کے سائے نظر آئے تو ہم ایک دفعہ بھی یہ نہیں سوچیں گے کہ تم ہمارے کیا لگتے ہو۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
بلکہ تمہیں سیدھا تہہ خانے میں پہنچا دیں گے نہ کفن کی زحمت گوارا کی جائے گی اور نہ نماز جنازہ کی حیدر آفندی کی باتیں نوید کو کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی جب کہ یوشع کی مسکراہٹ ماحول کو سنسنی خیزی سے بچا رہی تھی
جی سائیں میں سمجھا نہیں نوید نے گلا صاف کیا ۔
سمجھے تو ہم نہیں حیدر آفندی نے سخت لہجے میں جواب دیا
یوشع تم نے مولوی صاحب اور گواہوں کا انتظام کرلیا ہے حیدر آفندی نوید کو ہکابکا چھوڑ کر یوشع سے مخاطب ہوئے۔
جی بابا سائیں سب ہوگیا ہے وہ اس وقت ڈرائنگ روم میں آپ کے منتظر ہیں یوشع کی نظریں اس وقت نوید کے چہرے پر تھی جب کہ وہ پسینے میں ڈوب رہا تھا چلو پھر نیک کام میں دیر کیسی ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حیدر آفندی نے انہیں چلنے کا اشارہ کیا اور خود سب سے پہلے مردان خانے سے باہر نکل آئے اگر تمہارا مراقبہ ختم ہو جائے تو اکرم سے اپنے کپڑے لے کر فورا ڈرائنگ روم میں پہنچو۔ اس سے پہلے کہ میرا ارادہ بدل جائے
یوشع نے نوید کے کندھے پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا
نوید اس وقت عجیب جزبات کا شکار تھا خوشی اور حیرت دونوں ایک ساتھ اس پر حملہ آور تھے
وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ کیا کرے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ لہذا اس نے سب سے پہلے اپنے رب کا شکر ادا کرنے کے لیے اپنی قمیض کے بازو فولڈ کئیے
سفید جالی دار پردے کے ایک طرف بڑی سرکار ، بتول اور راشدہ بیگم موجود تھیں۔
جبکہ دوسری طرف نوید، یوشع ،حیدر آفندی ،مولوی صاحب اور دیگر لوگ تھے ۔
حیدر آفندی کے اشارے پر مولوی صاحب نے نکاح پڑھانا شروع کیا پھر کچھ دیر بعد ایجاب اور قبول کا مرحلہ طے پایا اور خیر و عافیت سے نوید اور بتول کا نکاح ہوگیا۔
اب تمہیں بیٹی دے دی ہے تو گلے بھی لگا ہی لیتے ہیں _ حیدر آفندی نے مصنوعی غصے سے کہتے ہوئے نوید کو گلے لگا کر نکاح کی مبارک باد دی پھر یوشع نے اسے گلے لگایا اگر میں “نکاح” کروا سکتا ہوں تو اس بات کا یقین آنکھیں بند کر کے کر لو کہ “طلاق” کرانا میرے بائیں ہاتھ کا کام ہے ۔میں بہت فسادی ہوں ۔احتیاط کرنا اسے خوش رکھنا یوشع مبارک باد کم اور دھمکا زیادہ رہا تھا ۔
سائیں اسے میں آپ کی طرف سے مبارکباد سمجھو نوید نے پیچھے ہوتے ہوئے پوچھا
جی بالکل یوشع نے پیچھے ہوتے ہوئے مٹھائی کا ٹکڑا اٹھا کر اپنے منہ میں ڈالا
بتول خوش تھی تو راشدہ بیگم بھی بہت خوش تھیں جبکہ بڑی سرکار ناگواری سے دونوں کو دیکھ رہی تھیں۔
تم دونوں تو ایسے خوش ہو رہی ہو جیسے اس کا نکاح ایک “کامے” ساتھ نہیں بلکہ کسی شہزادے ساتھ ہوا ہو بڑی سرکار کے طنز کو اچھی طرح محسوس کرتے ہوئے بتول مسکرائی ۔
کبھی کبھی ایک “کاما” بھی شہزادے سے زیادہ نمبر لے جاتا ہے
بتول نے دل میں سوچا مگر بڑی سرکار کو جواب نہیں دیا
نوید کا دل اب بتول سے ملنے کو بے قرار ہو رہا تھا مگر بتول کی ناراضگی کا سوچ کر وہ چپ تھا۔
سائیں کیا میں مل سکتا ہوں۔۔۔۔۔۔؟؟؟ کافی دیر اپنے آپ سے الجھنے کے بعد نوید نے ہچکچاتے ہوئے یوشع سے پوچھا
ابھی تو میں تم سے ملا ہوں۔ نکاح ہوتے ہی کیا یاداشت چلی گئی ہے ؟؟؟ یوشع نے جان بوجھ کر نا سمجھی سے نوید کو دیکھا
سائیں میرا مطلب ہے بتول بی بی سے نوید نے سر کھجاتے ہوئے آہستہ آواز میں کہا
میرا نہیں خیال کہ وہ تم سے ابھی ملنا چاہے گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع کے جواب پر نوید بجھ سا گیا
آپ ایک بار بی بی سے پوچھ تو لیں ۔شاید وہ ملنا چاہ رہی ہوں نوید نے امید سے کہا
اچھا چلو میں کوشش کرتا ہوں ویسے مجھے نہیں لگتا کہ وہ ملنا چاہے گی یوشع مسکراتا ہوا اندر کی طرف بڑھ گیا
بتول بی بی وہ نوید تم سے ملنا چاہ رہا تھا مگر میں نے صاف منع کردیا ہے آخر تم اس سے ناراض ہو تو کیوں ملو گی۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع اپنی مسکراہٹ کنٹرول کرتا ہوا بتول سے کہنے لگا
میں بھلا کیوں نہیں ملوں گی ۔میں تو اس سے ناراض نہیں ہوں بتول نے فورا جواب دیا مگر پھر شرمندہ ہو گئی
اچھااااااااا یوشع نے اچھا کو خوب لمبا کیا
تو کیا میں اس کو یہاں بھیج دوں ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع نے سنجیدہ لہجے میں پوچھا
نہیں میں نے ایسا تو نہیں کہا بتول اب کی بار مسکرا ئی ۔
ملنے کو دل بھی کر رہا ہے اور مان بھی نہیں رہی۔ یہ کیا بات ہوئی ۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع میں نے حیرت سے پوچھا
چلو منع کر دیتے ہیں ہمارا کیا ہے _
ویسے کل کلاں کو ہم پر گلہ مت کرنا کہ ہم نے ملنے نہیں دیا ۔۔۔۔۔؟ یوشع کہتا ہوا باہر چلا گیا۔
🪄🪄🪄🪄🪄
جاری ہے.