Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 30


تم اپنی اوقات مت بھولو اگر میں ایک دفعہ کچھ کہا کرو تو مان لیا کرو ورنہ مجھے صرف ایک سیکنڈ لگے گا تمہیں تمہاری اوقات یاد دلانے میں _ بڑی سرکار نے اپنی چادر کندھے پر درست کرتے ہوئے حقارت سے امثال کو دیکھا میری اور آپ کی اوقات میں کچھ خاص فرق نہیں ہے آپ یوشع کی دادی ہیں اور میں اس کی بیوی امثال کا جواب اور اطمینان بڑی سرکار کو آگ لگا گیا
لڑکی تمہاری اتنی ہمت کہ تم میرے ساتھ اپنا مقابلہ کرو ۔ ابھی اسی وقت اگر میں یوشع سےکہوں تو وہ تمہیں فارغ کر دے گا۔ پھر دیکھوں گی کہ تمہاری اوقات کیا رہ جائے گی ۔۔۔۔۔؟؟؟ بڑی سرکار نے امثال پر اپنا رعب ڈالتے ہوئے کہا
اچھا مگر مجھے ایسا نہیں لگتا امثال کا لہجہ چیلنجنگ تھا ۔ اپنی بکواس بند کرو اور یوشع کو آنے دو ۔ پھر دیکھنا میں تمہارا کیا حشر کرتی ہوں ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ بڑی سرکار نے امثال کی طرف سے اپنا رخ موڑ لیا آنے دو سے کیا مراد ہے آپ بڑی سرکار ہی حکم کریں وہ خود آ جائے گا کام ہی کیا ہے اسے سارا دن دوسروں پر رعب ڈالنے کے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
امثال کے منہ سے یوں یوشع کا ذکر سن کے بڑی سرکار کو آگ لگ گئی ۔
لڑکی منہ سنبھال کر بات کرو۔ میں جتنا تمہیں نظر انداز کر رہی ہوں تم اتنا ہی سر چڑھ رہی ہو ۔ اگر دوبارہ یوشع کا ذکر اتنی بدتمیزی سے کیا تو بولنے کے قابل نہیں رہو گی بڑی سرکار نے دھاڑتے ہوئے نوکر کو آواز دی
یوشع کو کہو ابھی اسی وقت میرے پاس آئے بڑی سرکار نے نوکر کو کہتے ہوئے بےچینی سے کمرے میں چکر لگایا جب کہ نوکر ایسے غائب ہوا جیسے تھا ہی نہیں ۔
پتا نہیں یہ لوگ اس بوڑھی عورت سے اتنا ڈرتے کیوں ہے ۔۔۔۔۔؟؟؟ امثال نے بڑی سرکار کو دیکھتے ہوئے دل میں سوچا
بڑی سرکار اس وقت یوشع سائنس ڈیرے پر موجود ساتھ والے گاؤں سے آئے ہوئے لوگوں سے الیکشن کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔ میں نے آپ کا پیغام دے دیا ہے۔ وہ فارغ ہوتے ہی آ جائیں گے _ ملازم کے جواب پر امثال نے قہقہ لگایا بس اتنی ہی اوقات ہے ۔ وہ تو نہیں آیا اور آپ کہہ رہیں تھیں میرے کہنے پر طلاق دے دے گا امثال اس وقت بڑی سرکار کو تپا رہی تھی اس چیز سے بے خبر کہ یوشع اس کا کیا حال کرے گا ۔۔۔۔۔؟؟؟
بڑی سرکار کی آنکھوں میں انگارے دہکنے لگے جبکہ امثال دیوار ساتھ کھڑی مسکرا رہی تھی۔
یوشع ابھی اسی وقت میرے کمرے میں آؤ بڑی سرکار نے یوشع کو کال کرتے ہوئے حکم دیا اور فون بند کر کے بیڈ پر اچھال دیا
میں نے صرف اور صرف اپنے شہزادے کی خاطر تم جیسی لڑکی کو برداشت کیا ہے اور تم سمجھی کہ تم میں کچھ خاص ہے بڑی سرکار نے تفاخر سے امثال کی طرف دیکھا
خاص تو ہے امثال نے اپنے بال کان کے پیچھے کرتے ہوئے فخر سے کہا پانچ منٹ بھی پورے نہیں گزرے تھے کہ یوشع آندھی طوفان بنا کمرے میں داخل ہوا ۔ بڑی سرکار خیریت آپ نے اتنی ایمرجنسی میں بلایا ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع نے اندر داخل ہوتے ہی بڑی سرکار سے پوچھا تمہیں میرا پیغام نہیں ملا تھا یا بڑی سرکار نے جان بوجھ کر جملہ ادھورا چھوڑا ۔
ملا تھا مگر وہ کچھ لوگ بیٹھے تھے ۔ معذرت خوا ہوں غلطی ہے میری _ آئندہ نہیں ہوگا ۔ یوشع نے معذرت خواہ لہجہ اپناتے ہوئے ان کا ہاتھ چوما۔ وہاں سے میرے جوتے نکال کر لاؤ بڑی سرکار نے الماری کی طرف اشارہ کیا جبکہ یوشع کو شدید حیرت ہوئی کہ اس کام کے لیے بڑی سرکار نے مجھے اتنی ایمرجنسی میں بلوایا ہے۔
مگر پلٹتے ہی اس کی نظر دیوار ساتھ کھڑی امثال پر پڑی تو اسے کچھ کچھ کہانی سمجھ میں آئی ۔
یہ لیں یوشع نے جوتے بڑی سرکار کے پاؤں میں رکھے ۔
انہیں صاف کرو بڑی سرکار کے کہنے پر یوشع نے اپنی چادر سے ان کے جوتے صاف کیے تو امثال اپنی جگہ ساکت ہوگئی ۔
یوشع اس لڑکی کو یہ غلط فہمی ہے کہ تم میرے کہنے پر اسے طلاق نہیں دو گے بڑی سرکار کی بات کا مطلب یوشع کو بخوبی معلوم تھا ۔ آپ کہیں تو ابھی اسی وقت طلاق دے دیتا ہوں ۔ یوشع نے شدید غصے سے امثال کو دیکھا جب کہ امثال کی حیرت زدہ آنکھوں میں آنسو آنے لگے ۔ کیوں لڑکی اب کیا خیال ہے کیا اب بھی تمہاری اور میری اوقات برابر ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ امثال منہ سے کچھ نہیں بولی مگر تیزی سے کمرے سے باہر نکل گئی۔ آپ اس کے منہ مت لگا کریں۔ کہاں وہ اور کہاں آپ آپ کا مرتبہ اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ آپ اس کے منہ لگیں۔ میں حاضر ہوں۔ جو بھی کہنا ہوتا ہے مجھ سے کہا کریں۔
یوشع نے بڑی سرکار کے بگڑتے موڈ کو دیکھ کر نرمی کا مظاہرہ کیا ۔
اس لڑکی کو جلد از جلد فارغ کر دو _ بڑی سرکار نے بھی وہی فرمائش کی جو کچھ دن پہلے راشدہ بیگم نے کی تھی ۔ بس الیکشن کا انتظار ہے ۔ آپ پریشان نہ ہوں میں دیکھ لیتا ہوں۔ یوشع وے ان کے پاؤں کو معافی کے انداز میں ہاتھ لگایا جس پر بڑی سرکار نے اس کا کندھا تھپکا۔ 🪄🪄🪄🪄🪄🪄 الیکشن کمپین پورے عروج سے جاری تھی۔ ابھی بھی یوشع کا انٹرویو ایک نیوز چینل پر چل رہا تھا ۔ بلیک تھری پیس سوٹ پہنے ، کلائی میں قیمتی گھڑی گھماتے ہوئے وہ سنجیدہ چہرے ساتھ کمپئر کو جواب دے رہا تھا ۔ ویسے اس بندے کو دیکھ کر کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا کہ یہ شخص اندر سے کتنا چھچھورا ہے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عکاشہ نے کافی کا کپ منہ ساتھ لگاتے ہوئے کہا اپنی بات کر رہے ہو یا یوشع کی ۔۔۔۔۔؟؟؟ مجھے تو اس میں حیدر کی جوانی نظر آرہی ہے عدن نے پہلے غصہ سے بعد میں مسکراتے ہوئے ٹی وی کو دیکھا ۔
جو انسان “بکری” کے پیچھے پورا گاؤں چھان مارے اور ایک معمولی سی لڑکی سے اپنی بےعزتی کروانے پر فخر محسوس کرے ۔
آپ کے خیال سے وہ چھچھورا نہیں تو اور کیا ہے ۔۔۔۔۔؟؟؟
دوسرا یہ جو آپ کے ہاں خوبصورتی کا معیار ہے نااااا “حیدر آفندی” تو میری مانیں پہلی فرصت میں کسی آنکھوں کے سپیشلسٹ کے پاس چکر لگا لیں یقین مانیں کافی افاقہ ہوگا عکاشہ نہیں منہ بناتے ہوئے ٹی وی کی طرف دیکھا تم سے تو بات کرنا ہی فضول ہے ۔اپنی بولتی بند کرو اور مجھے اس کا انٹرویو سننے دو ۔ کتنا پیارا لگ رہا ہے اور بات کرنے کا انداز تو دیکھو ۔۔۔۔۔؟؟؟ عدن نے محبت سے چور لہجے میں کہا انداز تو دیکھو کیا دیکھوں ۔۔۔۔۔؟؟؟ عکاشہ چڑا۔
جس طرح گانے والی عورتیں اپنی انگوٹھیاں باربار انگلیوں میں گھماتے ہوئے لوگوں کو جثلا رہی ہوتی ہیں کہ یہ کتنی قیمتی ہیں ۔۔۔۔۔؟
ویسے ہی آپ کا وہ “سوتیلا شہزادہ” اپنی گھڑی گھما گھما کر لوگوں کی توجہ حاصل کر رہا ہے ۔
بھئی غلطی سے اگر اچھی گھڑی خرید لی ہے تو برداشت کرو مگر کہاں یہ تو ہضم ہی نہیں ہو رہا عکاشہ کی باتیں عدن کو بہت بری لگیں۔ عکاشہ تم ٹھیک ہو دن با دن تمہاری باتیں عجیب سے عجیب تر ہوتی جا رہیں ہیں۔ عدن نے پریشانی سے اسے دیکھا
میں بالکل ٹھیک ہوں ۔ بس مجھے آپ کے اندر یہ جو “آفندی فیملی” کی محرومی بولتی ہے نااااا شدید بری لگتی ہے ۔ ماما باہر آجائیں اس غلام گردش سے عکاشہ کے جواب پر عدن خاموش ہو گئی۔
آپ نے کچھ خاص ہے جو حیدر آفندی آپ کے پاس آئے۔ ان میں کچھ خاص نہیں جو آپ ان پر مرتی جاتی ہیں۔
بس کریں اب ان کی ہر چیز یہاں تک کہ “سوتیلی اولاد” کو بھی آپ سر آنکھوں پر بٹھاتی ہیں تو مجھے غصہ آتا ہے۔ عکاشہ نے عدن کو افسردہ دیکھ کر قدرے نرم لہجے میں کہا یوشع میرا بھی تو بیٹا لگتا ہے عدن نے عجیب سی نظروں سے عکاشہ کو دیکھا
“بیٹا ہونے” اور “بیٹا لگنے” میں بہت فرق ہے ۔ اگر اتنا ہی وہ آپ کا “سگا” ہے تو حویلی میں آپ کو کیوں نہیں لے جاتا ۔۔۔۔۔؟؟؟
ڈنکے کی چوٹ پہ اعلان کیوں نہیں کرتا کہ آپ اس کی چھوٹی ماما ہیں۔ بولیں ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عکاشہ کے کسی سوال کا جواب عدن پاس نہ تھا لہذا وہ خاموش ہو گئیں۔
آپ میری ماما ہیں اور میں آپ کا بیٹا _ بس مجھ پہ توجہ دیا کریں کیونکہ مجھے توجہ کی شدید ضرورت ہے۔ عکاشہ نے عدن کو اداس دیکھ کر فوراً اپنے ساتھ لگا لیا تمہیں پر تو میری ساری توجہ ہے۔ کل ہی میری زبیر صاحب سے فون پر بات ہوئی ہے ۔ وہ بتا رہے تھے کہ ان کا بیٹا واپس آ رہا ہے۔ پھر وہ اپنی دونوں بیٹیوں کی شادی دھوم دھام سے اکٹھی کریں گے عدن نے محبت سے عکاشہ کو اپنے سے جدا کیا ۔
مطلب خوب جہیز آئے گا ۔ میری طرف سے ایک “سپورٹس بائیک” بتا دیجئے گا باقی جو آپ کو چاہیے ہو آخر باہر سے کمائی کر کے “سالے صاحب” آرہے ہیں۔ مذاق تھوڑی ہے ۔ عکاشہ کے چہرے پر شرارت رقص کر رہی تھی
عکاشہ “ہم” جہیز نہیں لے رہے ہیں
عدن نے یاد دلایا
“ہم” نہیں “آپ”_ آپ جہیز نہیں لے رہیں مگر میں تو لوں گا مجھے ہر صورت اپنی بائیک چاہیے عکاشہ نے ضدی لہجہ اپنایا
اچھا ہم تمہیں سپورٹس بائیک لے دیتے ہیں اب ٹھیک ہے _ عدن کی بات پر اس نے اپنی آنکھیں گھمائیں ۔ آپ لوگوں سے تو میں “ڈبل کیبن گاڑی” لونگا پھر میں گلگت ،ہنزہ جاؤں گا۔ کتنا مزہ آئے گا عکاشہ نے اپنی خوشی کا اظہار کیا
افففففف میں بھی کس کے ساتھ اپنا سر کھپا رہی ہوں _ عدن کہتی ہوئی لیونگ روم سے باہر چلی گئی جبکہ ٹی وی پر یوشع کا انٹرویو چلتا دیکھ کر عکاشہ نے یوشع کا نمبر ڈائل کیا۔ 🪄🪄🪄🪄🪄🪄 امثال جب سے واپس آئی تھی اپنے کمرے میں بچھے نرم و گداز قالین پر بیٹھی رو رہی تھی. اسے آج اپنی اوقات کا اسی معنوں میں اندازہ ہوا تھا. اسے یوشع پر ایک ان دیکھا یقین تھا کہ وہ اسے کچھ نہیں کہہ سکتا مگر طلاق امثال کو یوشع سے محبت نہیں تھی پھر بھی دونوں کے درمیان ایک خاموش رشتہ تھا “مان” کا _ جو آج اس نے توڑ دیا تھا. آنسو تواتر سے بہہ رہے تھے. وہ یوشع کو چھوڑ کر جانا نہیں چاہتی تھی کیوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟ ؟؟ کیا وہ اس آرام سکون کی عادی ہو گئی تھی یا یوشع سے محبت اس بات کا جواب اس کے پاس خود بھی نہیں تھا.
ابھی وہ اپنی سوچوں میں گم تھی کہ یوشع نے دھڑام سے دروازہ کھولا اور جارحانہ عزائم ساتھ اس کی طرف بڑھا.
کیا مسئلہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟
کیوں مجھے چین سے جینے نہیں دے رہی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟
اگر میں خاموش ہوں تو اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ میں تمہاری طرف سے بے خبر ہوں.
اپنے زبان کو قابو میں رکھا کرو ورنہ میں اسے کاٹ دوں گا. منع کیا تھا ناااا کہ بڑی سرکار کے آگے خاموش رہنا یوشع نے امثال کو ایک جھٹکے سے اپنے سامنے کھڑا کیا مگر اس کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر ٹھٹھکا
یہ سہی ہے. غلطی بھی اپنی اور رونا بھی خودی واہ امثال بی بی تم تو میرے اندازے سے زیادہ سمارٹ نکلی ہو. یوشع نے اس کی بھیگی بھیگی آنکھوں پر طنز کیا.
بس کے اور کچھ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ امثال کا لہجہ ہر طرح کے جزبات سے عاری تھا.
اور کیا سننا چاہتی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟ یوشع نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا
طلاق مجھے طلاق چاہیے جتنی تیزی سے یہ الفاظ امثال کے منہ سے نکلے تھے اُس سے کئی زیادہ تیزی سے یوشع کا ہاتھ امثال کی گال پر اپنی چھاپ چھوڑ گیا تھا.
جتنا مارنے والا بےیقین تھا اتنا ہی مار کھانے والا دونوں ہی ایک دوسرے سے نظریں چرا گئے
یوشع نے خود کو نارمل کرنے کے لیے ٹیرس کا رخ کیا. جبکہ امثال نے آنکھیں بند کرتے ہوئے دیوار ساتھ ٹیک لگا لی.
“وہ میری آنکھوں کی تحریر پڑھ نہ سکا
جو کہہ رہا تھا کہ تعلیم یافتہ ہوں میں…”
کچھ دیر کمرے میں مکمل خاموشی رہی پھر اس خاموشی میں امثال کی ہلکی ہلکی سسکیاں شامل ہونے لگیں. رفتہ رفتہ ان میں تیزی آنے لگی.
چپ بلکل چپ خبردار جو تمہاری آواز نکلی. ایک تو غلط کام کرتی ہو دوسرا پھر مانتی بھی نہیں.
اس دن بھی سمجھایا تھا کہ میرے بڑوں ساتھ بتمیزی نہیں کرنی مگر تمہارے اس دماغ میں میری باتیں آتی ہی نہیں ہیں یوشع نے گھنٹوں کے بل اس کے سامنے بیٹھتے ہوئے کہا
بڑے بڑے ہی ہوتے ہیں. ان کا ہم پر بہت احسان ہوتا ہے اس لیے ہم ان کے آگے سر نہیں اٹھا سکتے.
آج میں پہلی اور آخری بار بتا رہا ہوں کہ بڑی سرکار میں میری جان بستی ہے. ان ساتھ دوبارہ بتمیزی مت کرنا.
میں برداشت نہیں کر سکتا کہ کوئی بھی ان کے آگے بتمیزی کرے اگر وہ کچھ غلط بھی کہہ دیا کریں تو برداشت کر لیا کرو. یوشع نے سمجھاتے ہوئے امثال کا ہاتھ پیچھے کیا.
میرا تم پر ہاتھ اٹھانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا مگر تم حرکتیں ہی ایسی کرتی ہو
حویلی والوں کا غصہ مجھ پر نکال لیا کرو مجھے گالیاں دے سکتی ہو مار سکتی ہو مگر میرے بڑوں کا احترام تم پر لازم ہے یوشع نے شرمندگی سے اپنی گردن جھکاتے ہوئے امثال کو اپنے ساتھ لگایا. ہمدردی ملتے ہی وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی.
سوری آئندہ ایسا نہیں ہو گا یہ لاشعوری طور پر ہوا ہے
یوشع کے پاس اپنی صفائی دینے اور معزرت کے لیے مناسب الفاظ نہ تھے.
دیکھو امثال ہر رشتے کی اپنی ایک الگ جگہ ہوتی ہے اور اسی جگہ اچھا لگتا ہے. سورج کی اپنی اہمیت ہے اور چاند کی اپنی _ بلکل ایسے ہی میری زندگی میں بڑی سرکار کی اپنی اہمیت ہے اور تمہاری اپنی مگر یہ جو تم دونوں آپس میں مقابلہ کرنے لگتی ہو اچھا نہیں کرتیں.
میں نہ تمہیں چھوڑ سکتا ہوں اور نہ ان کے بغیر میرا گزارا ہے. میں حیدر آفندی نہیں کہ محبوبہ کے لیے ماں سے لڑوں. ان کے پاس بیٹھنا چھوڑ دوں _ یوشع نے آہستہ آہستہ امثال کے بال سنوارتے ہوئے سمجھایا. اُن کے سامنے تو بڑی فرمانبرداری دکھائی جا رہی تھی یوشع کی بات پر امثال نے نم آواز اور سرخ آنکھوں سے گلہ کیا.
انھیں بھی سمجھاتا ہوں مگر وہ بڑی ہیں انھیں میں حکم نہیں دے سکتا تم تو چھوٹی سی ہو تم پر میں حکم چلا سکتا ہوں. یوشع نے اس کے آنسو پونجھے
یہ تو نا انصافی ہے امثال نے گلہ کیا.
ہے تو مگر آئندہ کوشش کروں گا کہ نہ ہو یوشع نے بات کو سمیٹا.
مجھے اپنے گھر جانا ہے امثال نے روٹھے سے انداز میں فرمائش کی جسے رد کرنا مشکل تھا.
اچھا ٹھیک ہے میں ڈرائیور کو کہہ دیتا ہوں وہ تمہیں ماسٹر جی کے گھر چھوڑ آئے گا.
مگر یاد رکھو وہ تمہارا گھر نہیں یہ ہے اور رات تک واپس آ جانا تمہارے بغیر مجھے اپنا کمرہ اب اچھا نہیں لگتا یوشع نے محبت سے اس کا گال تھپکا جہاں ابھی بھی اس کے تھپڑ کا واضح نشان موجود تھا. 🪄🪄🪄🪄🪄 نوید دیکھو میں نے آج تمہارے لئے کچھ خاص بنایا ہے بتول نے انتہائی پرجوش لہجے میں اندر داخل ہوتے ہوئے نوید سے کہا جب کے بتول کی بات پر نوید کے تاثرات یکدم ڈھیلے پڑے۔
بی بی آپ میرے لیے کچھ بھی خاص نہ بنایا کریں کیونکہ آپ خود میرے لیے بہت خاص ہیں۔ نوید کہتا ہوا سوفے پر بیٹھ گیا ۔
اور دل میں سوچنے لگا نا جانے آج کیا کھانا پڑے گا بقول بی بی کے آج جو کچھ خاص بنا ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
پہلے تم مجھے بتول کہو یہ کیا بی بی کرتے رہتے ہو ۔۔۔۔۔؟؟؟ بتول نے ناراضگی سے نوید کو دیکھا
میرے نزدیک آپ کو نام سے بلانا آپ کی شان میں گستاخی ہے اور میں یہ گستاخی نہیں کر سکتا نوید کا جواب کچھ خاص بتول کو پسند نہیں آیا مگر وہ جلد از جلد اپنی کوکنگ نوید کو دکھانا چاہتی تھی اس لیے چپ چاپ کچن میں چلی گئی ۔
یہ دیکھیں ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ بتول نے ایک باؤل نوید کے آگے میز پر رکھا تو وہ سیدھا ہو کر بیٹھ گیا
بی بی یہ کیا ہے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ نوید نے نا سمجھی سے باؤل میں موجود چیز بقول بتول ” ڈش” کو دیکھا
تم بتاؤ نااااا ۔۔۔۔۔؟؟؟ بتول نے کمر پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا اس کی شکل سے لگ رہا تھا کہ وہ بہت دیر سے محنت کر رہی تھی ۔
پہلے آپ ادھر آئیں میرے پاس آ کر بیٹھیں نوید نے بتول کا ہاتھ پکڑتے ہوئے اسے اپنے پاس بٹھایا
اب بتائیں کہ آپ نے یہ کیا بنایا ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ نوید نے اپنی آسانی کے لئے پوچھا
خاصی لمبی بات ہو جائے گی بس تم کھا کر بتاؤ کہ یہ کیسا بنا ہے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ بتول نے دوبارہ باؤل کی طرف ستائشی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا
نہیں، مجھے اس چیز میں ذرا برابر بھی دلچسپی نہیں ہے۔ آپ نے سارا دن اس پر کیوں برباد کیا ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
آرام کیوں نہیں کیا ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
(تاکہ اب میں بھی آرام کر سکتا اُدھر اس کے کزن نے الیکشن میں حصہ لے کر مجھے تھکا دیا ہے اور ادھر بی بی کی کوکنگ نے ) نوید نے سوچتے ہوئے بتول کو دیکھا
اچھا اگر تم ضد کرتے ہو تو بتا دیتی ہوں ۔شادی کے بعد ایک رسم ہوتی ہے نااااا میٹھا بنانے والی تو میں نے سوچا کہ کچھ میٹھا بنا لوں۔
پہلے میں نے “زردہ چاول” بنانا شروع کیے ۔ پر مجھ سے ان میں غلطی سے پانی زیادہ ڈل گیا۔
تو میں نے انھیں ٹھیک کرنے کے لیے ان میں دودھ ڈال دیا تاکہ “کھیر” بن سکے ۔
مگر پھر دودھ سوکھنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا تو میں نے دو چمچ “کسٹرڈ پاؤڈر” کے ڈال دیئے ۔
مجھے رنگ اچھا نہیں لگ رہا تھا تو میں نے تھوڑا سا “چاکلیٹ پاؤڈر” بھی ڈال دیا ۔
بتول نے آخر میں ایسے گردن اکڑائی جیسے کوئی بہت کمال کی “سویٹ ڈش ” بنائی ہو۔
ہممممم یعنی آپ نے ایک ساتھ ہی تمام “سویٹ ڈشیں” بنا لیں۔نوید کی مسکراہٹ معنی خیز تھی
ہاں ہوا کچھ ایسا ہی ہے ویسے میں نے ایسا چاہا نہیں تھا پہلے خیال آیا کہ پھینک دوں مگر پھر بڑی سرکار کہتیں ہیں کہ رزق کو ضائع کرنا بری بات ہے۔ تو روک گئی بتول نے پر سوچ انداز میں نوید کو دیکھا ویسے آپ کا پہلا خیال ہی درست تھا مگر بڑی سرکار کسی کا بھلا کہاں ہونے دے سکتی ہیں ۔۔۔۔۔؟؟؟ نوید دل میں سوچتا ہی رہ گیا پھر میں نے سوچا کہ “ٹریفل” بھی تو ایسے ہی تیار ہوتا ہے تم نے کھایا ہے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟ بتول کے اچانک سوال پر نوید چونکا نہ کھایا ہے اور نہ کھانا چاہتا ہوں ۔ نوید نے فوراً انکار کیا ۔بی بی کا کیا بھروسہ کل وہ بنانے لگ جائیں۔ اچھا کھاؤ ناااا بتول نے محبت سے ایک چمچ باؤل سے نکال کر نوید کے آگے کی ۔
نوید کبھی بتول کو دیکھتا تو کبھی چمچ میں موجود چوکلیٹی مادے کو ایک شرط پر کھاؤں گا ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
کہ آئندہ آپ میرے لئے کچھ بھی نہیں بنائیں گئی ۔مجھے بالکل اچھا نہیں لگتا یوں آپ کا میرے لیے کوکنگ کرنا ۔
آپ بتول آفندی کیوں میرے لئے اپنا دن برباد کرتی ہیں ۔۔۔۔۔؟؟؟
میں تو سادہ سا بندہ ہوں عام سی غذائیں کھاتا ہوں ۔آپ سارا دن رنگ برنگے کھانے بنا بنا کر تھکتی رہتی ہیں تو مجھے بہت شرمندگی ہوتی ہے ۔
آگے ہی یہ سب کچھ آپ کے ماں باپ کا دیا ہوا ہے ۔ میں نے دیا ہی کیا ہے آپ کو ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ نوید کی بات پر بتول نے افسوس سے اپنا سر ہلایا
یہ سب چیزیں میرے ماں باپ نے میرے آرام کے لیے دی ہیں تم پر کوئی احسان نہیں کیا بتول نے منھ بنایا
اچھا تو پھر ایک اور کام کریں ایک “باورچی” بھی منگوا لیں تاکہ میری پیاری بیوی یوں سارا دن کچن میں خوار نہ ہو ۔
(اور میری جان بھی ان “لیبارٹری ٹیسٹوں” سے چھوٹ جائے ) نوید کی بات پر بتول نے مسکراتے ہوئے اسے دیکھا
چچا سائیں نے باورچی بھی مجھے مالی اور ملازمہ کے ساتھ دیا تھا مگر میں نے منع کر دیا
کیوں کہ میں تمہیں اپنے ہاتھوں کا بنا کھانا کھلانا چاہتی ہوں بتول کے جواب پر نوید نے ایک نظر پھر اس چوکلیٹ نما میٹھے کو دیکھا
بی بی اس کی شکل کچھ عجیب سی نہیں ہے ۔۔۔۔؟؟؟ نوید نے پوچھا
تو تم آنکھیں بند کر کے کھا لو نااااا چلو آنکھیں بند کرو۔ بتول نے مشورہ دیتے ساتھ ہی حکم بھی دے دیا
جیسے ہی نوید نے وہ چمچ کھائی۔ آنکھیں کھول کر بتول کو ایسے دیکھا جیسے پوچھ رہا ہو میرا کیا قصور ہے ۔۔۔۔۔؟؟؟
کیسی ہے ۔۔۔۔۔؟؟؟ بتول نے جوش سے پوچھا جبکہ نوید اسے ہاتھ کے اشارے سے پیچھے ہٹاتا ہوا کچن میں جاکر سنک پر جھک گیا
کیا ہوا ۔۔۔۔۔؟؟؟ بتول کو سمجھ نہیں آئی کہ نوید اس طرح کیوں بھاگا
بی بی آپ نے اس میں چینی ڈالی تھی ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ نوید نے اپنا سانس بحال کرتے ہی سوال کیا
ہاں تو “سویٹ ڈش” میں چینی ہی ڈالی جاتی ہے ۔ بتول نے بڑی سمجھداری سے جواب دیا
چینی والا ڈبہ کونسا ہے ۔۔۔۔۔؟؟؟ نوید نے تحمل سے پوچھا
یہ ہے _ بتول نے ایک ڈبہ نوید کے آگے کیا ذرا منہ کھولیں نوید نے ڈبے میں سے چند دانے نکال کر بتول کے منہ میں ڈالے
ارے یہ تو نمک ہے مطلب میں نے نمک بتول کی حیرت سے آنکھیں پھیل گئیں یہ ڈش کوئی شخص آنکھیں بند کرکے بھی نہیں کھا سکتا نوید کہتا ہوا اپنے کمرے میں چلا گیا
یہ کیسے ہو سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ میں نے خود چینی ڈالی تھی ۔
نمک کب اتنا موٹا ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔؟؟؟ بتول مسلسل بولے جا رہی تھی جبکہ نوید کے منہ کا ذائقہ بدستور خراب تھا
🪄🪄🪄🪄🪄